میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ملزم خواتین کے حقوق اور جنسی امتیاز

مغرب نام نہاد جنسی مساوات کے نعروں کے ذریعے مردوزن کی طبقاتی کشمکش کو تو فروغ دے رہا ہے لیکن صنفی امتیازات کی فطرت کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو اسلام نے مردوزن کے مثالی مساوی حقوق و فرائض کے باوصف الگ الگ دائرہ کار کی صورت قائم رکھی ہے۔ البتہ اسلام نے طبقاتی تقسیم سےقطع نظر مرد و زن کی شخصیت کا پہلو ضرور ملحوظ رکھا ہے۔ یعنی تقویٰ و کردار کی بنیاد پر ملت میں "شخصیت" کو بھی اہمیت دینی چاہئے۔ حسن اتفاق سے زیرِ بحث موضوع پر "وضعی قوانین" کے اندر شخصیت و کردار کی ادنیٰ سی جھلک بھی موجود ہے جو اگرچہ اردو الفاظ میں نمایاں نہیں ہو سکی لیکن متذکرہ قانون کے اندر "خاتون" کے لئے جو انگریزی لفظ "Lady" استعمال کیا گیا ہے اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایسی رعایت صرف شریف زادیوں کے لئے ہو۔ آوارہ عورتوں کے لئے نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں شریف (طیبہ) اور آوارہ (خبیثہ) کے بعض فقہی احکام مختلف ہیں۔ اسی وضاحت کی روشنی میں خواتین کی عدالتوں میں حاضری کا جائزہ بصیرت افروز ہو گا۔ ان شاءاللہ (مدیر)

اسلام کے آفاقی اصولوں سے متصادم طرزِ زندگی کی بدولت آج ہم اخلاقی طور پر تنزل کی آخری سرحدوں کو چھو رہے ہیں۔ قوت برداشت بھی تیزی سے جواب دیتی جا رہی ہے اور جوش انتقام میں اندھا ہو کر کچھ عناصر نے خواتین کے احترام اور عزت کے اس لافانی سبق تک کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ جو آج سے چودہ سو برس قبل اس کائنات کے آخری پیغمبر نے انسانیت کو دیا تھا۔ حال ہی میں وطن عزیز میں کچھ ایسے افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ جن میں مقدمات کا سامنا کرنے والی ملزم خواتین کو مخالف فریق کی طرف سے تشدد اور بے عزتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کے رد عمل میں مغربی افکار کے تحت قائم ہونے والی خواتین کی بہت سی این جی اوز نے صدائے احتجاج بلند کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقدمات میں ملوث خواتین کو عدالتوں میں حاضری کا استثناء حاصل ہونا چاہئے۔ اس کے برعکس بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ خواتین کے عدالتی استثناء کا مطالبہ مذکورہ این جی اوز کو زیب نہیں دیتا۔ کیونکہ یہ خود ان کے منشور کے خلاف ہے۔ جو ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشابہ عورتوں کے مساوی حقوق اور آزادی کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔ ان حلقوں کا اصرار ہے کہ اگر عورتیں مردوں کے مساوی حقوق چاہتی ہیں تو انہیں مردوں کی طرح تمام انتظامی اور معاشرتی ناہمواریوں میں بھی برابر کا حصہ دار ہونا چاہئے اور جنس کی بنیاد پر رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

اس ساری صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریق اس سلسلے میں جذباتی پن کا شکار ہیں یہ درست ہے کہ عورتوں کی آزادی کا نعرہ لگانے والی این جی اوز کو یہ زیب نہیں دیتا کہ مقدمات میں ملوث صرف خواتین پر تشدد کی قابل مذمت قرار دیں اور ان مردوں کو سہولت سے نظر انداز کر دیں جن کا خون آب ارزاں کی طرح ایسے ہی حالت میں آئے روز بہایا جاتا ہے۔

دونوں حلقوں کے موقف سے قطع نظر ہمیں چاہئے کہ ہم موجودہ قانون کی روشنی میں اس اہم مسئلے کا جائزہ لیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان میں جو فوجداری قوانین رائج ہیں، وہ بنیادی طور پر انگریز سرکار نے ہمیں دئیے ہیں۔ انگریز معاشرے میں عورتوں کے پردہ نشین ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ نہ ہی یورپ کے کسی قانون میں پردہ نشین خواتین کے لئے کسی رعایت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ لیکن متحدہ ہندوستان میں جب فوجداری قوانین لاگو کئے گئے تو تعزیراتی قوانین میں دفعہ 205 خصوصی طور پر شامل کی گئی۔ جس میں فوجداری مقدمات میں ملوث پردہ دار خواتین کے لئے عدالت میں حاضری سے استثناء کو جائز قرار دیا گیا۔ قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ خود اپنے معاشرے میں پردہ دار خواتین کا تصور نہ ہونے کے باوجود انگریز حکمرانوں نے متحدہ ہندوستان کے معاشرتی رسوم و رواج کا خیال رکھا اور مسلمان پردہ دار خواتین کی عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملزم پردہ نشین خواتین کو عدالت میں حاضری سے استثناء کا حق دیا۔ یہ بات اپنی جگہ کہ انہوں نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکنے سے اور اپنی خواتین کی چادر اور چار دیواری کا حق غصب ہونے پر اشتعال میں آنے سے روکنے کے لئے یہ قانون وضع کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون نہ صرف موجود ہے۔ بلکہ بھارت اور پاکستان کی عدالتوں نے اس میں مزید وسعت پیدا کی ہے۔ موجودہ صورت حال کا مختصر مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 205 میں مجسٹریٹ صاحبان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی پردہ (صفحہ نمبر 4 پی ڈی ایف فائل میں مِس ہے)

انہیں عدالتوں میں حاضری سے حتی الامکان حد تک مستثنیٰ رکھا جائے۔ اس کیس میں عدالت عالیہ نے ماتحت عدالتوں میں خواتین کو حاضری میں معافی نہ دینے کے واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ مجسٹریٹ صاحبان کو مندرجہ ذیل صورتوں میں حاضری معافی سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔

(ا)اگر ان کی اپنی سوچ کے مطابق ملزمہ پردہ دار خاتون نہیں ہے۔

(ب) اگر اسی معاشرتی درجے کی ایک پردہ دار ملزمہ عدالت میں پیش ہو رہی ہو اور دوسری استثناء طلب کرے۔

(ج) جب کسی غیر پردہ دار خاتون نے کسی ایسی معزز گھرانے میں شادی کر لی جس کی خواتین پردے کی پابندی کرتی ہیں۔ چاہے وہ خود طوائف زادی ہی کیوں نہ ہو اسی فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ اگر مجسٹریٹ یہ سمجھے کہ چونکہ ایک خاتون پولیس کی تحویل میں ہونے کے دوران عدالت میں پیش ہوتی رہتی ہیں لۃذا اب بھی اس کی حاضری میں کوئی مضائقہ نہیں تو یہ سوچ غلط ہو گی۔ کیونکہ پولیس تحویل میں پیش ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ وہ خاتون اپنی آزادانہ مرضی سے عدالت میں حاضر ہوتی رہی ہے۔

کلکتہ ہائیکورٹ نے تو پردہ نشین ملزم خواتین کے معاملے میں حیرت انگیز حد تک استثنائی رعایت کو جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر مجسٹریٹ پردہ دار ملزم خاتون کی عدالتی شناخت کو ضروری خیال کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے اس پردہ دار ملزمہ کی شناخت کی کاروائی ملزمہ کے گھر ہی میں تکمیل پذیر ہو سکے۔ اور وہ بھی اس اہتمام کے ساتھ کہ ملزمہ کے سماجی مرتبے، طرزِ زندگی اور خاندانی عادات و رسوم کے ساتھ ساتھ چادر اور چار دیواری کا پورا پورا احترام بھی ملحوظ نظر رہے اور اس کے پردے میں کسی طرح کی ناجائز مداخلت نہ ہو۔ (حوالہ 16 کلکتہ لاء ٹائمز، صفحہ 91)

کراچی ہائی کورٹ نے 1963ء میں ایک کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ اگر ایک مجسٹریٹ نے کسی خاتون ملزمہ کو حاضری سے استثناء دے رکھا ہے اور فیصلہ ہونے سے قبل یہ مقدمہ کسی انتظامی مجبوری کی وجہ سے کسی دوسرے مجسٹریت کی عدالت میں منتقل ہو جاتا ہے تو پردہ دار ملزمہ کو نئی عدالت میں بھی ذاتی حاضری سے حسب سابق استثناء حاصل رہے گا اور عدالت کی تبدیلی سے استثناء کے سابقہ عدالتی حکم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا (پی ایل ڈی 1963ء کراچی صفحہ 831)

اعلیٰ عدالتوں نے پردہ دار ملزمہ کی عدم حاضری میں بھی اس کے قانونی حقوق کی پاسبانی کے لئے تسلسل کے ساتھ یہ لازم قرار دیا ہے کہ ہر ضروری تاریخ پر مقدمہ کی کاروائی ملزمہ کے وکیل یا مختار کی موجودگی میں چلائی جائے۔ کوئی بھی ایسی شہادت جو پردہ دار ملزمہ کے وکیل یا مختار کی عدم موجودگی میں قلمبند کی جائے گی وہ غیر قانونی ہو گی اور اسے ملزمہ کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا نہ اس کی بنیاد پر اسے کوئی سزا دی جا سکتی ہے۔ (پی ایل جے 1980ء سپریم کورٹ آزاد کشمیر صفحہ 1)

اسی طرح فیصلے کے روز بھی، اگر عدالت پردہ نشین ملزمہ کو بری کرنا چاہتی ہے یا محض جرمانہ کی سزا دینا چاہتی ہے تو اس کی عدالت سے حاضری کی معافی قائم رہے گی، ہاں اگر عدالت اس نتیجہ پر پہنچے کہ پردہ نشین ملزمہ پر الزام پوری طرح ثابت ہو چکا ہے اور اسے سزائے قید سنا کر جیل بھیجا ضروری ہے۔ تو فیصلے کے روز حاضری معافی کو ختم کر کے ملزمہ کو ذاتی طور پر عدالت میں فیصلہ سننے کے لئے طلب کرنے کی مجاز ہو گی۔ (اے آئی آر 1927ء رنگ پور صفحہ 73)

مجسٹریٹ کی عدالت اگر کسی پردہ نشین خاتون کی حاضری سے استثناء کی درخواست کو مسترد کر دیتی ہے تو اس صورت میں خاتون ہائی کورٹ میں اس استرداد کے خلاف نگرانی دائر کر سکتی ہے۔ نگرانی کی سماعت کرنے کے بعد پردے اور خاندانی اطوار ثابت ہونے پر ہائیکورٹ نگرانی کو منظور کر کے متعلقہ مجسٹریٹ کو حکم جاری کرے گی کہ پردہ دار ملزمہ کو حاضری سے استثناء دے دیا گیا ہے لہذا اسے عدالت میں ذاتی حاضری پر مجبور نہ کیا جائے۔ (اے آئی آر 1927ء الہ آباد صفحہ 149)

اس ساری بحث کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے رویوں میں شدت کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ رائج الوقت قانون کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اپنے جذباتی موقف پر نہ صرف اصرار کرنے کی عادت میں مبتلا ہو چکے ہیں بلکہ اسے نافذ کرنے کے لئے تشدد تک پر کمربستہ ہو جانے سے گریز نہیں کرتے۔ ہمیں خوشی ہے کہ مغرب زدہ خواتین کی این جی اوز نے خواتین کی عزت و احترام کی بحالی کے لئے جنس کی بنیاد پر رعایتوں کے لئے آواز بلند کی ہے۔ اس طرح انہوں نے عورت کے اس مرتبے اور مقام کو تسلیم کر لیا ہے جو اسلام نے اس جنس لطیف کے لئے مقرر کیا ہے۔