ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اکتوبر
1996
٭ وحدت نصاب اور نظام تعلیم کے لئے تمام دینی مدارس کو وفاق المدارس السلفیہ کے نظام کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے۔
٭ دینی مدارس کے فضلاء کی تدریب و تربیت کے لئے حسب حال متنوع مختصر نصاب تشکیل دئیے جائیں۔
٭ ائمہ و خطباء کے لئے تربیتی اور رابطہ پروگرام مرکز خود وضع کرے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے شعبہ نظامت تعلیمات کی دعوت پر 13 مارچ 1996ء کو پاکستان بھر کے اہل حدیث مدارس / جامعات کا ایک عظیم الشان کنونشن 106 راوی روڈ لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ اس کنونشن میں سفارشات کو منظم کرنے اور ان کے مطابق لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے مدارس کی نمائندہ ایک مجلس قائمہ (Monitoring Committee) کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ خواتین مدارس کو منظم کرنے کے لئے نظامت تعلیم ہی کے زیر نگرانی علیحدہ تنظیمی طریق کار اختیار کیا گیا تھا جس کے مطابق خواتین مدارس کنونشن کے انعقاد کے بعد سے ان کے باضابطہ ماہانہ اجلاس ہو رہے ہیں۔ بہرصورت مردانہ مدارس کی مجلس قائمہ کا مورخہ 24 اگست بروز ہفتہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں اہم اجلاس مولانا عبدالرحمین مدنی ناظم تعلیمات مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی صدارت میں صبح 11 بجے منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے سرکردہ جامعات و مدارس کے مندوبین نے شرکت کی۔
  • اکتوبر
1996
مولانا محمد عبدہ الفلاح
خاندان کا تعارف
اندرونِ ہند صوبہ بہار کو قلب کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس سرزمین نے بڑے بڑے صوفیاء، شعراءِ عظام اور کبار محدثین اور فقہاءِ اعلام کو جنم دیا ہے جنہوں نے صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بیرونِ ہند میں بھی ناموری حاصل کی ہے۔ علمائے صادقپور کا تعلق بھی اسی صوبہ سے ہے۔ جو تحریکِ مجاہدین کے حاملین سے تھے اور سید نذیر حسین دہلوی کا تعلق بھی اِسی خطہ سے ہے جو اس مقالہ میں ہمارے موضوعِ سخن ہیں۔
سلسلہ نسب
سید صاحب کے جد اعلیٰ سید احمد شاہ جاجنیری، قطب الدین ایبک (602 تا 607) کے زمانہ میں سلطنت میں واردِ ہند ہوئے اور "شاہجان آباد" میں سکونت پذیر ہو گئے۔ اسی دور میں صوبہ بہار کے راجہ اندروہ دون (والیِ اور ماین) نامی نے مسلمانوں کو گاؤ کشی سے حکما روک دیا اور خلاف ورزی پر بعض مسلمانوں کو شہید بھی کر دیا تو قطبُ الدین ایبک نے اس کے خلاف فوج کشی کا حکم دے دیا اور مولانا نور الدین کی زیر قیادت ساٹھ ہزار کا لشکرِ جرار روانہ کیا۔ اس لشکر کے ایک سرمایہ کے سپہ سالار یہی سید احمد شاہ جاجنیری تھے جنہوں نے فتح یابی کے بعد موضع ایکساری (صوبہ بہار) میں سکونت اختیار کر لی۔ اسی جرنیل کی نسل سے سید جواد علی کے اجداد تھے جو موضع بلتھوا میں رہنے لگے جو سورج گڑھ (پرگنہ) سے پانچ چھ میل کی مسافت پر واقع ہے۔ (الحیاة بعد المماة)
اسی خاندان کے افراد علم و فضل میں ممتاز چلے آتے ہیں اور سید بایزید سے لے کر عہدہ قضاء پر فائز المرام رہے ہیں چنانچہ قاضی سید عبدالنبی کی سند قضاۃ پر عالمگیر کی دستخطی (1009ھ) اور قاضی محمد سالم کی سند پر شاہ عالم شاہ کی مہر (1175ھ) ثبت ہے۔(1) 
حضرت میاں صاحب کے جد اعلیٰ سید احمد جاجنیری کے متعلق صاحب "الحیاۃ والمماۃ" لکھتے ہیں کہ ان کا مزار موضع ندیانواں میں ہے لیکن راقم الحروف نے جونپور کے قبرستان کی ایک تصویر دیکھی ہے جس میں ایک قبر پر ایک تختی لگی ہوئی ہے جس پر "سید احمد جاجنیری" لکھا ہوا ہے اور یہ قبرستان قدیم اولیاء کے قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔ اختر اورینوی لکھتے ہیں: (2)
  • اکتوبر
1996
عبدالرشید عراقی
برصغیر پاک و ہند میں خاندان ولی اللہی (حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (م 1176ھ) نے قرآن و حدیث کی نشر و اشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اور ان کی خدمات کا علمی شہرہ ہند اور بیرون ہند پہنچا۔ جیسا کہ ان کی تصانیف سے ان کی علمی خدمات اور ان کی سعی و کوشش کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے انتقال کے بعد ان کے چاروں صاجزادگان عالی مقام حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م 1239ھ)، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی (م 1243ھ)، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی (م 1249ھ) اور مولانا شاہ عبدالغنی دہلوی (م 1227ھ) نے اپنے والد بزرگوار کے مشن کو جاری رکھا۔
ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے اور مولانا شاہ عبدالغنی کے صاجزاہ مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی (ش 1246ھ) نے تجدیدی و علمی کارناموں میں انقلاب عظیم برپا کر دیا۔ آپ کی کتاب "تقویۃ الایمان" نے لاکھوں بندگان الہٰ کو کتاب و سنت کا گرویدہ بنا دیا۔ اور اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب اب تک لاکھوں کی تعداد میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔
حضرت شاہ اسماعیل شہید کے بعد محی السنۃ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں (م 1307ھ) کے قلم اور شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م 1320ھ) کی تدریس نے مسلمانان ہند کو بڑا فیض پہنچایا۔ علامہ سید سلیمان ندوی (م 1373ھ) تراجم علمائے حدیث ہند مؤلفہ ابویحییٰ امام خان نوشہروی (م 1386ھ) کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ
"بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہل حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کر رہے تھے۔ شیخ حسین یمنی (م 1327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اور دہلی میں میاں نذیر حسین دہلوی کی مسند درس بچھی ہوئی تھی اور جوق در جوق طالبان حدیث مشرق و مغرب  سے ان کی درسگاہ کا رخ کر رہے تھے۔"
  • اکتوبر
1996
عبدالرؤف ظفر
اللہ تعالیٰ کی محبت کا اہل اور اس کے تعلق کا مستحق بننے کے لئے ہر مذہب نے ایک ہی تدبیر بتائی ہے کہ اس مذہب کے شارع اور طریقہ کے بانی کی تعلیمات پر عمل کیا جائے لیکن اسلام نے اس سے بہتر تدبیر یہ بھی اختیار کی ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ سب کے سامنے رکھ دیا ہے جس کو محفوظ طریقے سے ہر دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی کیا گیا ہے۔ اور اس عملی مجسمے کی پیروی اور اتباع کو خدا کی محبت کے اہل اور اس کے تعلق کے مستحق بننے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ ﴿٣١﴾ (1)
"کہہ دیجئے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا"
قرآن مجید میں ایک اور جگہ آیا ہے:
 لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ  ﴿٢١ (2)
"ضرور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"
انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ ملتا ہے۔ اس بات کا اقرار تو کافر بھی کرتے ہیں۔
چنانچہ برصغیر میں پٹنہ کے مشہور مبلغ ماسٹر حسن علی ایک رسالہ "نور اسلام" نکالتے تھے جس میں انہوں نے اپنے ایک تعلیم یافتہ ہندو دوست کی رائے لکھی کہ اس نے ایک دن ماسٹر صاحب سے کہا کہ "میں آپ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا سب سے بڑا کامل انسان تسلیم کرتا ہوں" ماسٹر صاحب نے پوچھا" ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا سمجھتے ہو؟" اس نے جواب دیا کہ "محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کسی دانائے روزگار کے سامنے ایک بھولا بھالا بچہ بیٹھا ہو، میٹھی میٹھی باتیں کر رہا ہو" انہوں نے دریافت کیا کہ "تم کیوں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کو دنیا کا کامل انسان جانتے ہو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جو تاریخ نے کسی ایک انسان میں یکجا کر کے نہیں دکھائے۔(3)
  • اکتوبر
1996
صوبیدار لطیف اللہ
توبہ کا مفہوم
توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ پھر سے بنظر عنایت اس کی طرف مائل ہو گیا۔(1)
جب کہا تاب العبد تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ "(رجع الى طاعة ربه)" سرکشی چھوڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بن گیا اور اگر تاب کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو پھر معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نادم اور شرمسار بندے کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کا قصور معاف فرما دیا۔(2)
جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اول: اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔
دوسرے: اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا۔
تیسرے: آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو وہ توبہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض زبان سے "اللہ توبہ" کے الفاظ بول دینا نجات کے لئے کافی نہیں جب تک یہ تینوں چیزیں  جمع نہ ہوں یعنی گزشتہ پر ندامت اور حال میں اس کا ترک اور مستقبل میں اس کے نہ کرنے کا عزم و ارادہ۔(3)
  • اکتوبر
1996
اسحاق زاہد
(سعودی عرب کے نائب مفتی اعظم کے جوابات)

مجلہ "الفرقان" جو جمعیت احیاء التراث الاسلامی، کویت سے ہر ماہ شائع ہوتا ہے، نے گذشتہ دنون سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد صالح العثیمین حفظہ اللہ سے ایک خصوصی انٹرویو کیا اور ان سے چند اہم نوعیت کے سوالات کئے جنہیں ہم افادہ عام کے لئے اُردو میں پیش کر رہے ہیں۔
(1)الفرقان: کیا جہاد افضل ہے طلبِ علم؟
العثیمین: اس کا جواب مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جہاد شرعی کا اصل مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ جب یہ حقیقت طے ہو چکی تو ہم لوگوں کے احوال کا جائزہ لے کر ان میں سے بعض کو تو جہاد کا حکم دیتے ہیں اور کچھ کو طلب علم کا، کیونکہ بہادر، جراءت مند، مضبوط جسم اور صاحبِ رائے کے لئے جہاد افضل ہے اور ادلہ شرعیہ سے استخراج مسائل کرنے والے اور صاحبِ عقل و دانش کے لئے طالبِ علم۔
یہ بات آپ کے علم ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے طلب علم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ہم پلہ قرار دیا ہے، چنانچہ فرمان الہیٰ ہے:
ترجمہ: "اور یہ مناسب نہیں کہ (ہر لڑائی میں) سب کے سب مسلمان نکل کھڑے ہوں، ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہر فرقے میں سے کچھ لوگ نکلیں تاکہ (جو لوگ نہیں نکلے اور مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ گئے) وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب ان کی قوم کے لوگ (جہاد) سے لوٹ کر آئیں تو ان کو سنا دیں تاکہ وہ بچے رہیں" (التوبہ: 122)
(2) الفرقان: قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت کے متعلق کیا حکم ہے؟
العثیمین: میں قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت کو جائز سمجھتا ہوں۔ بشرطیکہ رکن اسمبلی اپنی رکنیت کے ذریعے (حکومت کے) کسی شر کو روکنے یا (پارلیمنٹ میں) خیر و بھلائی کی کسی بات کو پہنچانے کی امید رکھتا ہو، کیونکہ ایسی اسمبلیوں میں نیک لوگ جس قدر زیادہ ہوں گے اتنا ملک و قوم کو شر سے محفوظ اور آزمائش سے دور رکھنا ممکن ہو گا، اور رہی احترام آئین پر حلف برداری تو رکن اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اس نیت سے حلف اٹھائے کہ وہ آئین کا احترام کرے گا بشرطیکہ وہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی"
  • اکتوبر
1996
زاہد الراشدی
اس سلسلہ میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے "فیض الباری علی صحیح البخاری" میں فقہی مذاہب کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ کنواری لڑکی ولی کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی بلکہ ولی کی اجازت اور رضا کی صورت میں بھی ایجاب و قبول کا اختیار لڑکی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے یہ ذمہ داری ولی سر انجام دے گا۔
2۔ احناف میں سے حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی رضا  کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی البتہ ولی کی رضا اور اجازت کی صورت میں ایجاب و قبول وہ خود کر سکتی ہے۔
3۔ امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتی ہے البتہ اسے اس طرح اپنا نکاح کرنے کی صورت میں "کفو" کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا اور اگر اس نے ولی کی اجازت کے بغیر "غیر کفو" میں نکاح کر لیا تو ولی کو نہ صرف اعتراض کا حق ہے بلکہ وہ تنسیخ نکاح کے لئے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
# فقہ جعفریہ کے مطابق باکرہ کے لئے باپ یا دادا کی اجازت ہونا احتیاط واجب ہے (جامعۃ المنتظر، لاہور)
4۔ "کفو" کا مفہوم فقہائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ کسی لڑکی کا نکاح ایسی جگہ نہ ہو جہاں لڑکی کا ولی اور اہل خاندان اپنے لئے عار محسوس کریں۔ "کفو" کے اسباب فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اپنے اپنے عرف اور ذوق کے مطابق مختلف بیان کئے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی اور اس کا خاندان جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں کے عرف اور معاشرتی روایات کے مطابق جو بات بھی ان کے لئے باعث عار سمجھی جاتی ہو وہ "کفو" کے اسباب میں شامل ہو گی کیونکہ "کفو" کی علت سب فقہاء نے "دفع ضرر عار" بیان کی ہے اور عار کے اسباب ہر معاشرہ اور عرف میں مختلف ہوتے ہیں۔
  • اکتوبر
1996
عبدالرحمن مدنی
نکاح جو ایک خاندان کو تشکیل دیتا ہے، انبیاء کی سنت ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اہمیت دی کہ نکاح سے بے رغبتی کو اپنی ملت سے خروج قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسلام کے عائلی نظام کے اصولی مباحث کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں اس کی سیر حاصل تفصیلات موجود ہیں۔ خود تعامل امت بھی اس مقدس "رسم" کو تحفظ دئیے ہوئے ہے۔ مغربی سامراج کی اس قلعہ پر بیرونی یلغار کے علاوہ اندرون مشرق بھی اس کے ایجنٹ طرح طرح سے اسلامی تہذیب و ثقافت کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں جس کا ایک حربہ خاندانوں میں منظم شادیوں کے بجائے معاشقے لڑا کر شریف گھرانوں کی بچیوں کی عصمت دری ہے۔ پھر بعض سادہ لوح لوگوں کو "دعوت کی نام نہاد آزادی" کے نعرہ سے ہمنوا بنانے کے لئے فقہائے امت میں اختلافات کا شوشہ بھی چھوڑا جاتا ہے حالانکہ کوئی دانا بینا مسلمان مفرور کی شادی کی حمایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسی عرف شرعی کے پیش نظر سطور ذیل میں اسلام کے عائلی نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظام کے جزوی مسائل کے لئے کتب احادیث کے متعلقہ ابواب ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ (مدیر)
  • اکتوبر
1996
غازی عزیر
"نسخ" کی لغوی تعریف
لغت میں "نسخ" کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی ہیں "ازاله" یعنی زائل کر دینا، اسی سے یہ محاورہ مستعمل ہے: "نسخت الشمس الظل" یعنی سورج نے سایہ کو زائل کر دیا۔ دوسرے معنی میں نقل کرنا یا تحویل، جیسا کہ محاورہ ہے: "نسخت الكتاب" یعنی میں نے کتاب نقل کر لی گویا ناسخ یعنی نقل کرنے والے نے منسوخ کو یعنی جس سے اس نے نقل کی، ختم کر کے رکھ دیا یا اسے کوئی اور شکل دے دی۔ اسی طرح بولا جاتا ہے: "مناسخات في المواريث" یعنی وارث سے دوسرے کو مال منتقل کرنا اور "نسخت ما في الخلية من العسل والنحل الى أخرى"(1)
"نسخ" کی اصطلاحی تعریف
نسخ کی اصطلاحی تعریف کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ علامہ زین الدین عراقی و سخاوی رحمہما اللہ فرماتے ہیں:
"اصطلاحا هو رفع الشارع الحكم السابق من احكامه بحكم من احكامه "(2)
"اصطلاح میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ شارع علیہ السلام نے پہلے کوئی حکم دیا، پھر بعد میں دوسرا حکم دے کر اس پہلے حکم کو ختم یا زائل کر دیا"
پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"والمراد بارتفاع الحكم قطع تعلقه بالمكلفين والا فالحكم قديم لا يرتفع "(3)
یعنی "حکم کے رفع ہونے سے مراد مکلفین کا اس حکم سے تعلق کٹ جانا ہے ورنہ قدیم حکم رفع نہیں ہو گا"
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "نسخ هو بيان انتهاء الحكم"(4) یعنی "انتہاء حکم کے بیان کو نسخ کہتے ہیں" آں رحمہ اللہ نے ایک اور مقام پر نسخ کو "رفع الحکم"(5) سے تعبیر کیا ہے۔
آمدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"النسخ عبارة عن خطاب الشارع المانع من استمرار ما ثبت من حكم خطاب شرعى سبق" (الاحکام للآمدی ج3 ص 155)
یعنی "نسخ شارع کا وہ خطاب ہے جس کے ذریعہ سابقہ خطاب شرعی سے ثابت حکم کا استمرار ختم کر دیا جاتا ہے"
علامہ ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"یہ کہنا کہ ایک حکم نے دوسرے حکم کو منسوخ کر دیا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کی زیادہ صحیح تعبیر یہ ہو گی کہ ایک حکم کے بعد دوسرا حکم نازل ہوا"(6)
  • اکتوبر
1996
ظفر علی راجا
ملزم خواتین کے حقوق اور جنسی امتیاز

مغرب نام نہاد جنسی مساوات کے نعروں کے ذریعے مردوزن کی طبقاتی کشمکش کو تو فروغ دے رہا ہے لیکن صنفی امتیازات کی فطرت کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو اسلام نے مردوزن کے مثالی مساوی حقوق و فرائض کے باوصف الگ الگ دائرہ کار کی صورت قائم رکھی ہے۔ البتہ اسلام نے طبقاتی تقسیم سےقطع نظر مرد و زن کی شخصیت کا پہلو ضرور ملحوظ رکھا ہے۔ یعنی تقویٰ و کردار کی بنیاد پر ملت میں "شخصیت" کو بھی اہمیت دینی چاہئے۔ حسن اتفاق سے زیرِ بحث موضوع پر "وضعی قوانین" کے اندر شخصیت و کردار کی ادنیٰ سی جھلک بھی موجود ہے جو اگرچہ اردو الفاظ میں نمایاں نہیں ہو سکی لیکن متذکرہ قانون کے اندر "خاتون" کے لئے جو انگریزی لفظ "Lady" استعمال کیا گیا ہے اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایسی رعایت صرف شریف زادیوں کے لئے ہو۔ آوارہ عورتوں کے لئے نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں شریف (طیبہ) اور آوارہ (خبیثہ) کے بعض فقہی احکام مختلف ہیں۔ اسی وضاحت کی روشنی میں خواتین کی عدالتوں میں حاضری کا جائزہ بصیرت افروز ہو گا۔ ان شاءاللہ (مدیر)