1. محترم مدیر ماہنامہ 'محدث' لا ہور السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
'محدث' ایک ایسا جریدہ ہے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات کو خالص علمی انداز میں دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کر رہا ہے ۔ اللھم زد فَزِد! (آمین)
'محدث'ان رسائل میں شامل ہے جو صائب الفکر اور مستقیم العمل افراد کی تیاری کے لئے بامقصد محنت کررہے ہیں لیکن اس کا انداز بہرحال جدا اور اپنی جگہ بڑا مفید اور اہم ہے۔
دورِ حاضر میں جب کہ اِلحاد، دین بیزاری اور حیا دریدگی کی سیاہی عام ہوتی جا رہی ہے، 'محدث'جیسے نورِ وحی کو عام کرنے والے رسائل پہاڑی پر روشن چراغ کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔حوالے اور استفادے کے لحاظ سے یہ پرچہ میرے قلمی اور تبلیغی کام کے لئے اہم معاون کی حیثیت رکھتا ہے ۔مشربہ علم و حکمت لائبریری سے استفادہ کرنے والی خواتین اور طالبات بھی اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی ہیں ۔
اس کے سرپرست و بانی، مدیرمحترم اور دیگر تمام معاونین کے لئے فکری وقلبی نیز علمی و عملی استقامت کے لئے ربّ ِکریم سے دعاگو ہوں۔ (اُمّ عبد ِمنیب، اعوان ٹاؤن، لاہور)

2. محترم چیف ایڈیٹر ، حافظ عبد الرحمٰن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
جنوری 2011ء کی سردہواؤں میں جناب محمدعطاء اللہ صدیقی کا ایمانی روح کوگرمانے اور جذبات کو تڑپادینے والامضمون 'محدث' میں پڑھنے کا موقع ملا۔ صدیقی صاحب کے قلم کی جولانیوں سے ٹپکنے والے الفاظ جو اوّل تا آخر، سر تاپا غلامی مصطفیﷺ کا چوغہ پہنے ہوئے تھے، زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ ہم بے جان سہی مگر سرکارِ مدینہﷺکی عظمت اور آپ کی حرمت پرکٹ مرنےکے لیے بے قرار ہیں۔ جناب محمدعطاء اللہ صدیقی نے دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص محمد مصطفیٰ ﷺ کے چاہنے والوں او ران کی راہوں میں دیدہ و دل فرشِ راہ کرنے والوں کے جذبات کو اپنی قلم کی مہارت سے جو ان پر اللہ کی خاص دین ہے،اس مضمون میں بڑے اچھے طریقے پر بیان کرنےکی سعی فرمائی ہے۔ ان کی اس تحریر نے مسلمانوں کے دلوں میں محمد مصطفیﷺ کے متعلق عزت و احترام کے جذبات کو جلابخشی اور آتش محبت کو دوچند کردیا ہے۔
یہ سعادت ماہنامہ 'محدث'کے حصہ میں آئی کہ سب سے پہلے ان حالات کا صحیح تجزیہ کرتے ہوئے اس مجلہ نے شاندار اور ایمان پرور مضامین کو شائع کرکے پاکستان بھر کے جرائد میں دفاعِ منصب ِرسالت کے میدان میں سبقت حاصل کی ہے۔ جہاں تک عاصمہ جہانگیر کے کردار کا تعلق ہے تو وہ اس قدر شرم ناک ہے کہ حیا اور شائستگی اس بات کی اجازت نہیں دیتی اور اس کے بیان کا حق زبان وقلم سے ادا نہیں ہوسکتا۔
صدیقی صاحب کی یہ تشبیہ کہ راج پال کی روح اور فکر ابھی مری نہیں بلکہ زندہ ہے، واقعی چوکنا کردینے والی ہے۔ 59سال کے فرق کے باوجود حالات اور واقعات بالکل یکساں اورایک جیسے ہیں۔تعزیرات 1860ءکی دفعہ 295سے لے کرموجودہ 295سی تک کے سفر میں باقی کرداروں سے صرفِ نظر،اس وقت کے زندہ کردار کے رویے سے بحث کرنا انتہائی ضروری تھا۔ ناشر راج پال کی موت کے بعد اسی طرح یہ سلسلہ اب آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر اس وقت بھی قانونی پیچیدگیوں کی آڑ نہ لی جاتی اور جج کنور سنگھ قانون کی غلط تشریح نہ کرتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی مگر حالات ایک مرتبہ پھر اسی ڈگر پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسی کے نتیجہ میں لادین لوگوں کو پہلے 'آفاقی اشتمالیت'لکھنے کی جرأت ہوئی۔ ایک قادیانیت نواز وکیل، قادیانی شوہر والی اورمذہب سے بے زار، شرم وحیا سے عاری، مغرب نواز اور دریدہ دہن عورت کا وہ بیان کیسے بھلایا جاسکتا ہے جو اس نے جنابﷺ کی شان کے متعلق دیا تھا۔اور وہ دن ضرور آئے گا کہ مملکت اسلامیہ میں شان رسالت میں زبانیں دراز کرنے والوں کو لگام دی جائے گی۔
ایک مرتبہ پھر میں مضمون نگار او رادارہ محدث کو مبارکباد دینے پر مجبور ہوں کہ ایسے حالات میں حق کا علم بلند کرنا ، بالخصوص جب کہ عالمی حالات اور پاکستانی حکمران اس بات کو سننے کے روا دار نہیں ہیں، ان حالات میں باطل کا تعاقب اور قوانین اِسلامیہ کو نرم کرنے سے بچانے میں مجاہدانہ کردار ادا کرنا ایک قابل رشک فریضہ ہے۔ ہم اُمید رکھتے ہیں کہ آپکی قیادت میں یہ مجلہ آئندہ اپنی انہی روایات پر ہمیشہ کاربند رہے گا۔ ان شاء اللہ (ابورجال)