اس ملک کے تھانوں میں روزانہ ایسی ہزاروں ایف آئی آر درج ہوتی ہیں جن میں مقتول کے ورثا کتنے بے گنا ہوں کانام درج کرواتے ہیں، اُنہیں قتل میں ملوث کرتے ہیں، ان کے خلاف موقع کے جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں ۔ ملک کے مہنگے ترین وکیلوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔ ہو سکتا ہے ، ان میں ایسے وکیل بھی شامل ہوں جو انسانی حقوق کے علمبردار بھی ہوں ۔ یہ وکیل اپنے مؤکل کی اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے کہ اس کے زیادہ سے زیادہ دشمنوں کو پھانسی گھاٹ کا منہ دیکھنا پڑے، اُن کو ہزاروں داؤ پیچ سے گواہ کھڑے کرنے، خاص طریقے سے بیان دینے اور بیان میں مخصوص الفاظ بولنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں ۔
ایسے مقدمات روزانہ عدالتوں میں چالان ہو کر جاتے ہیں جن میں بے گناہوں کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے۔ پھر اس دن اس کامیاب وکیل کا چمکتا دمکتا چہرہ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے جب وہ ایک یا ایک سے زیادہ بےگنا ہوں کو پھانسی کی کوٹھڑی تک پہنچا آتا ہے۔ قتل کے مقدموں میں میرے ملک میں یہ رواج عام ہے ۔ اس عام رواج کی گواہی پنجاب ہائی کورٹ کا چالیس کی دہائی کا وہ فیصلہ ہے جس میں ججوں نے کہا ہے کہ اس خطے کے لوگوں کا نزعی یعنی عین مرتے وقت ریکارڈ کئے جانے والے بیان پربھی یقین نہ کرو۔ کیونکہ یہ موت کو سامنے دیکھتے ہوئے بھی جھوٹ بول کر اپنے بے گناہ دشمنوں کے نام قاتلوں کی فہرست میں شامل کرواتے ہیں ۔
میرے شہر گجرات کے ایک گاؤں کا مشہور واقعہ ہے کہ دو خاندانوں کی دشمنی مدتوں سے چل رہی تھی، کئی قتل ہو چکے تھے ۔ ان میں سے ایک خاندان کابوڑھا شخص اس قدر ضعیف اور کمزور ہو گیا تھاکہ گھر والوں نے اس کی چارپائی کے بیچ سوراخ کر دیا تھا تاکہ رفع حاجت وغیرہ کر سکے، کیونکہ وہ اُٹھنے سے معذور ہو چکا تھا۔ ایک دن اُس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں مر تو رہا ہوں میری موت سے فائدہ اُٹھاؤ۔ بیٹوں نے حیرت سے پوچھا: وہ کیسے ؟ کہنے لگا: مجھے ڈیرے پر لے جاؤ، وہاں دو تین دن رکھو، پھر مجھے قتل کرو اور دشمنوں پر پرچہ درج کروادو۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ پرچہ درج ہوا، موقع کے جھوٹے گواہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر عدالتوں میں بیان دیتے رہے اور بے گناہ پھانسیوں پر جھول گئے ۔
ایسے واقعات ہر صوبے، ضلع اور شہر میں روزانہ ہوتے ہیں ۔ سارے شہر کو علم ہوتا ہے کہ یہ بے گناہ پھانسی پر جھولنے جا رہے ہیں ۔ لیکن جھوٹی گواہیوں اور پولیس کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں یہ سب ہورہا ہوتا ہے اور گذشتہ ایک صدی سے ہوتا آ رہا ہے ۔ لوگ موت کی آغوش میں جاتے ہیں اور پولیس اور وکیلوں کے رزق کا سامان مہیا ہوتا رہتا ہے ۔ یہ سب ظلم و بربریت ہر کسی کے علم میں ہے لیکن آج تک کوئی انسانی حقوق کا علمبردار، کوئی سپریم کورٹ،ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ بار کا صدر غصے میں آنکھیں لال کر کے، بینر اُٹھا کر، جلوس نکالتے ہوئے یا میڈیا کے سامنے گرجتے ہوئے یہ نہیں بولا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۳۰۲ کو ختم کیا جائے ۔ یہ ظلم ہے، اس سے بے گناہ لوگوں کو پھانسیاں ہوتی ہیں ۔ جو عدالت میں پھانسی سی بچ جاتا ہے، اُسے گھات میں بیٹھے دشمن مار دیتے ہیں ۔ گذشتہ ۶۲ سال کی تاریخ میں کسی انسانی حقوق کی انجمن کونہ یہ بے گناہ لوگ یاد آئے اور نہ ہی تعزیراتِ پاکستان کا' کالا قانون' دفعہ ۳۰۲۔
تعزیراتِ پاکستان کی اس دفعہ کے علاوہ انسداد ِمنشیات کے بھی سخت قوانین اس ملک میں رائج ہیں ۔ ان قوانین کا معاملہ عجیب ہے ۔ جو بڑے بڑے منشیات کے سمگلر اور اڈے چلانے والے ہیں، سب کے سب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملی بھگت سے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں اور کارکردگی دکھانے کے لیے کسی بھی معصوم کی کار میں یا اُس کے سامان میں دھوکہ دہی سے منشیات رکھ کر پکڑوایا جاتا ہے، یہاں تک کہ حج پر جانے والے معصوم حاجیوں کوبھی فریب سے مال دیا جاتا ہے۔ اس سارے دھندے میں بعض دفعہ ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے پولیس عام لوگوں کی جیب میں ہیروئن کی پڑیاں اور چرس کے پتے رکھ کر پکڑتی ہے اور ایسا مضبوط کیس بنایا جاتا ہے کہ اُنہیں لمبی قید اور کبھی کبھی سزائے موت بھی ہو جاتی ہے ۔ ایسی حرکتیں کسی سے دشمنی نبھانے کے لیے بھی کی جاتی ہیں۔ یہاں بھی پولیس کا 'رزق' چلتا ہے اور وکیلوں کا دھندا بھی۔ لیکن کسی نے آواز بلند نہیں کی کہ انسدادِ منشیات کے کالے قانون کو ختم کرو، اس لیے کہ اس کی وجہ سے بے گناہ لوگ تختہ دار پر پہنچ رہے ہیں!!
پاکستان کا ضابطہ فوجداری پولیس کو تفتیش کا اختیار دیتا ہے اور ایک طریقہ بتاتا ہے ۔ ایف آئی آر درج ہوتے ہی گرفتار کرلو۔ ناقابل ضمانت جرم ہو تو ملزم بے گناہ ہی کیوں نہ ہو کئی سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے پڑا سڑتا رہتا ہے ۔ تفتیشی افسر رشوت سے ، بددیانتی سے یا سیاسی دباؤ سے جس طرح کا کیس بنائے، جس کو چاہے ملوث کرے ۔ اور مظلوم بے چارہ روزِ اوّل یعنی ایف آئی آر کے درج ہونے کے دن سے تھانوں، حوالاتوں اور جیلوں میں تشدد برداشت کرنا،ظلم سہنا اور اپنی قسمت کو کوستا رہتا ہے۔
لیکن آج تک کسی انسانی حقوق کے ترجمان، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ بار کے صدر نے چیخ چیخ کر یہ اعلان نہیں کیا،یہ مطالبہ نہیں دہرایاکہ قتل، اقدامِ قتل،دہشت گردی یا منشیات وغیرہ کے مقدمات اس وقت تک نہ رجسٹر کئے جائیں ۔ ایس ایچ او ایف آئی آر نہ کاٹے جب تک عدالت اس کی تحقیق نہ کرلے کہ کسی کو غلط طور پر دشمنی کی بنیاد پر یا سیاسی دباؤ کی وجہ سے ملوث تو نہیں کیا گیا۔ ایسا سب کچھ اس ملک میں سالوں سے ہوتا آ رہا ہے ۔ تھانے، کچہریاں، عدالتیں اور وکیلوں کے دفاتر اسی طرح آباد ہیں اور روز بے گناہ لوگ تعصب، دشمنی، سیاسی چپقلش اور غنڈہ گردی کی وجہ سے تختہ دار پر بھی لٹکتے ہیں اور لمبی جیلیں بھی کاٹتے ہیں ۔ کوئی ان کے دُکھ میں نہیں روتا، ان کا درد بیان نہیں کرتا۔ کسی جاوید غامدی یا عاصمہ جہانگیر کو اس گلے سڑے اور بدبودار انگریز کے نافذ کردہ اینگلوسیکسن قانون کی ان مسلسل نا انصافیوں پر احتجاج کی توفیق نہیں ہوتی!!
البتہ جیسے ہی معاملہ میرے نبیﷺ کی حرمت اور اس کی عزت و توقیر کا آ جائے تو یہ ساری زبانیں کھل جاتی ہیں ۔ یہ اس اُمت کی آخری متاع عزیز ہے ۔ گناہگار ہو، عصیاں میں لتھڑا ہو لیکن اس اُمت کا سادا سا مسلمان سیدالانبیاﷺکی شان میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتا۔ میں آسیہ کے کیس کے مندرجات اور تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن مجھے اتنا علم ہے کہ آسیہ جیسی کئی عورتیں اور کئی سو مرد ایسے ہیں جنہیں خاندانی دشمنی اور ریاستی مشینری کی بددیانتی کی وجہ سے آج بھی ایسی سزاؤں کا سامنا ہے ۔ لیکن تمسخر اُڑانے کے لئے، اسلام کی تضحیک کرنے کے لیے میرے پیارے رسولﷺ کی ذات ہے جو ان روشن خیالوں کوملتی ہے ۔ سزا معاف کروانے کے دعوے کرنے والے گورنر کو شاید لطف آتا ہے کہ ہم نے اس حوالے سے لوگوں سے سید الانبیاﷺ کی محبت چھین لی ہے ۔ اُنہیں شاید علم نہیں کہ اس بہانے وہ قانون کا مذاق نہیں بلکہ اللہ کی اس محبت کا تمسخر اُڑاتے ہیں جو وہ میرے پیارے رسولﷺ سے فرماتا ہے ۔ اس سے صرف اس کے غضب اور عذاب کو دعوت دی جاتی ہے۔
آسیہ شاید توہین کی مرتکب ہو نہ ہو، اس کو اسلام سے بغض کی وجہ سے میڈیا ایشو بنانے والے ضرور توہین کے مرتکب ہیں اور اس جرم کی سزا۲۹۵سی نہیں، اللہ خود دیتا ہے ۔ ایک بار رسول اللہﷺ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے لوگوں نے اشارہ بازی شروع کی اور کہا یہ شخص کہتا ہے کہ اس کے پاس جبرائیل علیہ السلام آتا ہے (نعوذ باللہ)۔ جبرائیل علیہ السلام خود تشریف لائے اور ان لوگوں کی جانب انگلی سے اشارہ کیا تو ان کے جسموں سے خون بہنے لگا اور ایسی بدبو آئی کہ کوئی ان کے قریب نہ جاتا۔
قبیلہ بنو نجار کا ایک شخص مسلمان ہوا، کاتب ِوحی مقرر ہوا، پھر نصرانی ہو گیا اور رسول اللہﷺ کا مذاق اُڑاتا کہ میں نے وحی میں بہت باتیں شامل کیں جن کا اُنہیں پتہ نہ چلا۔ کچھ دنوں بعد اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ لوگوں نے دفن کیا، لاش کو زمین نے قبول نہ کیا، صبح باہر پڑی تھی۔ اگلی صبح اور نیچے دفن کیا پھر ایسا ہوا، پھر کیا آخر لاش ویرانے میں پھینک دی گئی۔جوکوئی جس نیت سے ایسے معاملات کو اُچھال رہا ہے ، اس کا حال اللہ جانتا ہے اور مقدمہ وہاں درج ہو چکا ہے ۔ بس عذاب کا انتظار کرو کہ اس کی پکڑبہت شدید ہے!!
(سلمان تاثیر کے قتل سے چند روزپہلے قومی اخبارات میں شائع ہونیوالی ایمان افروز تحریر)