Mohaddis-344-Feb2011

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رسولِ کریمﷺکی عزت، عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کاجزوِلاینفک ہے اور حب ِرسولﷺایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔ عصر حاضر میں کفار ومشرکین کی جانب سے نبوت ورسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کئےجارہے ہیں، دراصل یہ ان کی شکست خوردگی اور تباہی و بربادی کے ایام ہیں۔ آسیہ مسیح نے جو رسول اللہﷺ کی ذاتِ ستودہ صفات پر گستاخانہ حملے کئے، اس کے بچاؤ کے لئے بعض دانشورانِ سوء اور نام نہاد مفکرین و متجددین الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاپر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں او ریہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ گستاخِ رسول کی سزا کا ذکر قرآن میں نہیں ہے،تو اس سلسلے میں ہماری معروضات درج ذیل ہیں:
کیا احکام شریعت کے لئے قرآنِ کریم ہی کافی ہے؟
ایسے لوگ منکرینِ حدیث سے تعلق رکھتے ہیں اور حقیقۃً قرآنِ مجید، فرقانِ حمید کی تعظیم سے عاری اور کورے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ قرآن حکیم میں جس چیز کاذکرہو،صرف اسے ہی مانا جائے گا، احادیث و سننِ ثابتہ کو مدنظر نہ رکھا جائے گا، پھر بدعملی کی راہ ہموار ہوجائے گی، کیونکہ ارکانِ اسلام کا حکم تو اللہ کے قرآن میں موجودہے ،لیکن ان کی تفصیل سے قرآنِ حکیم خاموش ہے:
مثلاًاللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں اقامت ِصلوۃ کا حکم دیا ہے اورسورۃ النساء کی آیت نمبر 103 میں فرمایا ہے:﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتـٰبًا مَوقوتًا ١٠٣ ﴾.... سورة النساء
''بلاشبہ نمازمؤمنین پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔''
اللہ تعالیٰ نے اس کی فرضیت اور اَوقات کا مجمل طور پر ذکر کیا ہے اور اس کی تفسیر نہیں بتائی۔نمازوں کی تعداد، اوران کے ابتدائی و انتہائی اوقات،ادائیگی کا طریقہ کار، اس کی شرائط و لوازمات وغیرہا، قرآن میں بیان نہیں کیے تو کیا پانچوں نمازوں اور اس کی ادائیگی کے طریقۂ کار کاانکار کردیا جائے گا کہ قرآنِ کریم میں اس کا بیان نہیں ہوا؟
اسی طرح مسافر، مریض، بچوں اور عورتوں کے نماز کے حوالے سے احکام کا قرآن حکیم میں ذکر نہیں۔ اگر انسان فوت ہوجائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟اس کے غسل، کفن ودفن اور نمازِ جنازہ کے احکام کا ذکر اللہ کے قرآن میں نہیں ہے تو کیا جب ایسے افراد وفات پاجائیں تو ان کی لاشوں کو اسی طرح گلنے سڑنے دیا جائے اور اگر زمین کے اندر دفنانا ہے تو گڑھا کھود کر اوپر مٹی ڈال دی جائے؟ جنازہ نہ پڑھا جائے!صرف قرآن حکیم کو ہی دلیل شرعی ماننے والوں کا کیا یہی انجام ہونا چاہئے؟
ایتائے زکوٰۃ کا حکم بھی قرآن پاک میں ہے، لیکن کس کس مال پر زکوٰۃ فرض ہے اور کتنی فرض ہے اور کب ادائیگی کرنا ہے۔ رقم پر کتنی زکوٰۃ ہے؟ گائے، اونٹ، بھیڑ بکری کا نصابِ زکوٰۃ کیا ہے؟ سونا چاندی اور کرنسی کا کیا حساب ہے؟ اللہ کا قرآن اس سے بھی خاموش ہے۔
فریضۂ حج کا ذکر تو قرآن میں ہے لیکن حج کیسے ہوگا، اس کی حدود، فرائض اور طریقہ کار کیا ہے؟ حج کہاں سے شروع ہوگا؟ حج کے مہینے تو قرآن کی رو سے معلوم ہیں تو کیا شوال وذیقعد میں ہی حج ہوگا یا ذوالحج کے مہینے میں ہوگا؟احرام کیسا ہوگا، احرام کی حالت میں کون کون سے اُمور کا ارتکاب حرام ہے۔ طواف کا حکم ہے ، طواف میں کل کتنے چکر ہیں اور کہاں سے شروع کریں گے او رکہاں ختم کریں گے، اس پر اللہ کا قرآن خاموش ہے۔ الغرض قرآنِ پاک میں بے شمار احکام میں ان کی تفصیلات سے قرآن خاموش ہے تو کیا ان اُمور کا انکار کردیا جائے گا صرف اس بنیاد پر کہ ان کا حکم قرآن میں نہیں ہے؟
اہل اسلام کے ہاں اللہ کے قرآن کےساتھ ساتھ رسول اللہ1 کی سنت و حدیث بھی شرعی دلیل و برہان ہے۔ قرآن کو سنت و حدیث سے علیحدہ کرکے سمجھنا اہل باطل اور صراطِ مستقیم سے گمراہ لوگوں کا شیوہ ہے۔
٭ خلیفۃ المسلمین عمر بن خطاب نے فرمایا:
«سیأتي أناس سیجادلونکم بشبهات القرآن، خذوھم بالسنن فإن أصحاب السنن أعلم بکتاب اللہ»1
''عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو تمہارے ساتھ قرآنِ حکیم کےشبہات کے ساتھ جدال کریں گے تو ان کو سنت کےساتھ پکڑکرنا، اس لئے کہ سنن والے اللہ کی کتاب کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔''
٭ خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا:
«لا عذر لأحد بعد السنة في ضلالة رکبھا یحسب أنها ھدی»2
''سنت کے بعد کسی کے پاس گمراہی کو ہدایت سمجھ کر اس کا مرتکب ہونےکا کوئی عذر وبہانہ نہیں ہے۔''
٭ امام اسمٰعیل بن عبیداللہ دمشقی فرماتےہیں:
«''ینبغي لنا أن نحفظ ماجاءنا عن رسول اللہ ﷺ فإن اللہ یقول:﴿ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ﴾.... سورة الحشر" فھو عندنا بمنزلة القرآن''»3
''ہمارے لئے لازم ہےکہ اللہ کے رسولﷺسے جو کچھ بھی آئے، اُسےمحفوظ کرلیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''اور جو کچھ رسولﷺتمہیں دے دیں، اسے لےلو اور جس چیز سے وہ تمہیں منع کردیں، اس سےباز آجاؤ۔'' تو (اللہ کے رسولﷺ کی احادیث وسنن) ہمارے نزدیک قرآن کی منزلت پر ہیں۔ ''
٭ امام حسان بن عطیہ ابوبکر شامی جو ثقہ تابعی ہیں، فرماتے ہیں:
«کان جبریل ینزل علی رسول الله ﷺ بالسنة کما ینزل علیه بالقرآن و یعلّمه إیاها کما یعلّمه القرآن»4
''جبریل علیہ السلام رسول اللہﷺ پر سنت لے کر اسی طرح اُترتے تھے جیسے آپﷺ پر قرآن کے ساتھ نازل ہوتے تھے اورجیسے آپﷺ کو قرآن تعلیم دیتے تھے، اسی طرح سنت کی تعلیم بھی دیتے تھے۔''
اس مختصر سی توضیح سے یہ بات آشکارا ہوگئی کہ نام نہاد متجددین کا ٹی وی اور ریڈیو وغیرہ پر یہ واویلا کرناکہ گستاخِ رسول کی سزا کا ذکر قرآن میں نہیں ہے، واضح طورپر سنت اور حدیث کی مخالفت کی دلیل ہے۔ ایسے منکرین کو مسلمانوں کانمائندہ ظاہر کرنا اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ زیادتی اور ظلم ہے۔جبکہ یہ مسلمہ امر ہے کہ قرآن و سنت ہی اُمت ِمسلمہ کے تمام مسائل کے لئے اتھارٹی ہیں۔
قرآنِ کریم میں شاتم رسول کی سزا کا تذکرہ
گستاخ رسول کی سزا کا تذکرہ کئی ایک آیاتِ قرآنیہ میں مذکور ہے۔ ا س کے لئے قرآنِ پاک کو غوروفکر اورتفکر و تدبر سےپڑھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ جل مجدہٗ نے فرمایا:
1.﴿وَإِن نَكَثوا أَيمـٰنَهُم مِن بَعدِ عَهدِهِم وَطَعَنوا فى دينِكُم فَقـٰتِلوا أَئِمَّةَ الكُفرِ‌ إِنَّهُم لا أَيمـٰنَ لَهُم لَعَلَّهُم يَنتَهونَ ١٢ أَلا تُقـٰتِلونَ قَومًا نَكَثوا أَيمـٰنَهُم وَهَمّوا بِإِخر‌اجِ الرَّ‌سولِ وَهُم بَدَءوكُم أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ أَتَخشَونَهُم فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشَوهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ١٣ قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُر‌كُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ‌ قَومٍ مُؤمِنينَ ١٤ وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم وَيَتوبُ اللَّهُ عَلىٰ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ١٥ ﴾.... التوبة
''اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرداروں سے قتال کرو۔ بے شک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ کیا تم ان لوگوں سے نہیں لڑوگے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اوررسولﷺکو نکالنے کا ارادہ کیا اور اُنہوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو تو اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔ ان سے قتال کرو، اللہ اِنہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور اُنہیں رسوا کرے گا او ران کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مؤمنوں کے سینوں کو شفا دے گا او ران کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے اور کمال حکمت والا ہے۔''
ان آیاتِ بینات میں اللہ تعالیٰ نے نقضِ عہد کے مرتکبین اوردین اسلام میں طعن کرنے والے جیسے: اللہ کی گستاخی یا اللہ کے رسول کی گستاخی یا اسلا م کے کسی بھی مسئلے پر طعن وتشنیع سے کام لینے والے او راللہ کے رسولﷺکو مکہ مکرمہ سے نکالنے کا پروگرام بنانے والے لوگوں سے قتل و قتال کا حکم دیا ہے۔
کفارِ مکہ نے دارالندوہ میں جمع ہوکر نبی کریمﷺ کی شانِ باکمال میں گستاخی کرتے ہوئے تین کاموں میں سے ایک کام کے کرگزرنے کا پروگرام بنایا ۔یا آپ کو قتل کیا جائے یا قید کردیا جائے یا مکہ سے نکال دیا جائے، جیسا کہ اس سے پچھلی سورۃ الانفال کی آیت نمبر 30 میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دیا ہےتو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
جس شخص کے دل میں محبت ِرسولﷺموجزن ہے، اُسے یہ آیات پکار پکار کر بتا رہی ہیں کہ اخراج الرسول، قتل الرسول اور اثبات الرسول کا ارادہ رکھنے والے گستاخوں کے ساتھ اللہ نے قتال کا حکم دیا ہے اور ذکر فرمایا ہے کہ ایمان والے لوگوں کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ اُن گستاخوں کو عذاب دینا اور رسوا کرنا چاہتا ہے اور جو لوگ ان گستاخوں کے خلاف صف بستہ ہوجائیں گے، ان کی نصرت و مدد اللہ تعالیٰ خود فرمائے گا او ران کے قتل پر اللہ ایمان والوں کے سینوں کو شفا او رٹھنڈک پہنچائے گا او ران کے دلوں کا غیض و غضب دور کرے گا، کیونکہ گستاخانِ رسول کو قلع قمع کرنے سے اہل ایمان کو سکون و اطمینان ملتا ہے اور دلوں کا غصہ اُترتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کی تشریحات درج ذیل ہیں:
1. امام ابواسحٰق ابراہیم بن سری زجاج (المتوفی 311ھ) رقم طراز ہیں:
«وھذہ الأیة توجب قتل الذي اذا أظھر الطعن في الإسلام لأن العھد معقود علیه بأن لایطعن فإذا طعن فقد نکث»5
''یہ آیت ِکریمہ ذمی (یہودی، عیسائی)کے قتل کو واجب کرتی ہے، جب وہ اسلام میں طعن کا اظہار کرے۔ اس لئے کہ اس کے ساتھ اس بات پر عہد تھا کہ وہ طعن و تشنیع سے کام نہیں لے گا، جب اس نے طعن کیا تو اس کا عہد ٹوٹ گیا۔''
یعنی جب کوئی یہودی یا عیسائی مسلمانوں کے ملک میں ذمی بن کر رہتا ہے اور جزیہ و ٹیکس اَدا کرتا ہے تو مسلمان اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس کامسلمانوں کے ساتھ عہد و پیمان ہوتا ہے کہ وہ دین اسلام پرطعن نہیں کرے گا۔ جب وہ دین پر طعن کرتا ہے جیسے اللہ کے رسولﷺ کی ذاتِ گرامی کو دشنام دینا وغیرہ تو پھرمسلمانوں پر اس کی حفاظت لازم نہیں رہتی۔ وہ نقض عہد کا مرتکب ہوجاتا ہے او راس کو قتل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔
2. امام فخر الدین رازی راقم ہیں:
«المسألة الثالثة: قال الزجاج ھذہ الآیة توجب قتل الذمي إذا أظهر الطعن في الإسلام لأن عهدہ مشروط بأن لا یطعن فإن طعن فقد نکث ونقض عھدھم»6
''تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ امام زجاج  نے فرمایا: یہ آیت ِکریمہ ایسے ذمی کے قتل کو واجب کرتی ہے جب وہ اسلام میں طعن کا اظہار کرے۔ اس لئے کہ اس کا عہد اس بات کے ساتھ مشروط تھا کہ وہ طعن سے کام نہیں لے گا۔ تو اگر وہ طعن کرے تو اس نے عہد و پیمان توڑ دیا۔''
علامہ رازی نے امام زجاج کی بات کو نقل کرکے برقرار رکھا اور اس کی تائید فرما دی۔ آج کے تجدد پسند طبقہ کی اگر آنکھیں بند ہیں او راُنہیں یہود و نصاریٰ کی امدادقرآن فہمی سے عاری کئے ہوئے ہو، لیکن متکلم زمان او راپنے دور کے مایہ ناز مفکر علامہ رازی کو تو قرآن حکیم سے ایسے گستاخ یہودیوں اور عیسائیوں کا قتل واضح طور پردکھائی دے رہا ہے۔
3. امام ابن کثیر دمشقی  اس آیت ِکریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
«وطعنوا فی دینکم'' أي عابوہ وانتقصوہ ومن ھاھنا أخذ قتل من سب الرسول صلوات اللہ و سلامه علیه أو من طعن في دین الإسلام أو ذکرہ بتنقص»
''اور اللہ کا فرمان ''اور وہ تمہارے دین میں طعن کریں''یعنی اس میں عیب نکالیں اور تنقیص کریں۔ یہیں سے شاتم رسولﷺ کے قتل کا حکم اخذ کیا گیا ہے یا جو بھی شخص دین اسلام میں طعن کرے یا تنقیص کے ساتھ اس کا تذکرہ کرے۔ ''
4. قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی فرماتے ہیں:
«إذا طعن الذمي في الدین انتقض عهدہ لقوله ''وإن نکثوا أیمانهم۔۔۔۔۔ فقاتلوا أئمة الکفر'' فأمر اللہ بقتلھم وقتالھم إذا طعنوا في دینکم»7
''جب ذمی دین میں طعنہ زن ہو تو اللہ کے فرمان ﴿وَإِن نَكَثوا أَيمـٰنَهُم.....أَئِمَّةَ الكُفرِ‌ .... ١٢''اور اگر وہ اپنی قسمیں توڑ ڈالیں '' ''اَئمہ کفر سے لڑائی کرو''کے مطابق اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ جب وہ تمہارے دین میں طعن کریں تو اللہ نے ان کے ساتھ قتل و قتال کا حکم دیا ہے۔
5. امام ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی رقم طراز ہیں:
«أکثر العلماء علی أن من سب النبي ﷺ من أھل الذمة أو عرض واستخف بقدرہ أو وصفه بغیر الوجه الذي کفر به فإنه یقتل....»8
''اکثر علما کا یہی کہنا ہے کہ اہل ذمہ (یہود و نصاریٰ) میں سے جو شخص نبی کریمﷺ کو گالی دے یا تعریض کرے یا آپ کی قدر ہلکی جانے یا اپنے کفر کے علاوہ کسی چیز سے آپ کو موصوف کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔ ہم اسے ذمہ یا عہد و پیمان نہیں دے سکتے۔''
پھر امام قرطبی نے اس مسئلہ میں ڈھیل اختیار کرنے والے لوگوں کا ذکر کرکے دلائل وبراہین کے ساتھ ان کی تردید کی ہے۔
6. علامہ علاء الدین علی بن محمد المعروف بالخازن (المتوفی725ھ) نے اپنی تفسیر لباب التأویل في معاني التنزیل جو 'تفسیر خازن' کے نام سے معروف ہے۔ اس میں اس آیت کے تحت مذکورہ بالا مسئلہ تحریر کیا ہے۔9
7. امامِ جلیل محی السنۃ حسین بن مسعود بغوی (المتوفی 516ھ) اپنی تفسیر معالم التنزیل المعروف تفسیر بغوی میں بھی اسی موقف کے حامی ہیں۔10
8. امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن جوزی (المتوفی 597ھ) اپنی تفسیر زاد المسیر في علم التفسیر میں بھی اسی کے مؤید ہیں۔11
9. علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد نسفی (المتوفی 710ھ) نے اپنی تفسیر مدارك التنزیل وحقائق التأویل میں ذمی کے واجب القتل ہونے کا یہ مسئلہ بیان کیا ہے۔12
10. امامِ ماتریدیہ ابومنصور محمد بن محمد سمرقندی (المتوفی 333ھ) نے بھی اہل الذمہ کے نقض عہد پر ان کے قتل کے مسئلہ کو درج بالا آیت کے تحت ذکر کیا ہے۔13
تلك عشرة کاملة
مذکورہ بالا آیت ِکریمہ اور معروف اَئمہ مفسرین کے حوالہ جات سے یہ بات بالکل عیاں اور ظاہر و باہر ہوجاتی ہے کہ ایسا یہودی و عیسائی جو گستاخِ رسول ہوکردین اسلام میں طعنہ زنی کرے، وہ واجب القتل ہے۔ جن لوگوں نے آنکھوں پر معاونت ِنصاری او رحب ِیہود کی پٹی باندھ رکھی ہو، اُنہیں قرآن حکیم میں سے کہاں گستاخِ رسول کی سزا نظر آئے گی؟ قرآن حکیم کی آیاتِ بینات سے اللہ تعالیٰ اہل ایمان اوراللہ اور رسولﷺ کے محبان کو شفا عطا فرماتا اور بصیرت کی عظیم شاہراہ سے نوازتا ہے اورجن متجددین ، متفلسفین، ملحدین اور ضالین و مضلین نے دشمنانِ دین کی زبان بولنا ہو اور ان کی حمایت میں راگنی الاپنی ہو اُنہیں قرآن کی آیات سے کچھ نظر نہیں آتا۔
2. قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ الَّذينَ يُؤذونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَ‌ةِ وَأَعَدَّ لَهُم عَذابًا مُهينًا ٥٧ وَالَّذينَ يُؤذونَ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنـٰتِ بِغَيرِ‌ مَا اكتَسَبوا فَقَدِ احتَمَلوا بُهتـٰنًا وَإِثمًا مُبينًا ٥٨ ﴾.... سورة الاحزاب
''بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے اور وہ لوگ جو ایمان دار مردوں اور ایماندار عورتوں کو ایذا دیتے ہیں بغیر کسی گناہ کے جو اُنہوں نے کمایا ہو تو یقیناً اُنہوں نےبہتان باندھا اور صریح گناہ کا بوجھ اُٹھایا ہے۔''
مندرجہ بالا آیت ِکریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی کریمﷺ او راہل ایمان کو ایذا دینے والوں کا ذکر کیا ہے اور ایمان والوں کی ایذا اور رسول اللہﷺ کی ایذا میں فرق ذکر کیا ہے۔اہل ایمان کو بلا وجہ اذیت دینے کو بہتان اور واضح گناہ قرار دیا جبکہ نبیﷺ کی ایذا پر دنیا و آخرت کی لعنت اور ذلیل کرنے والا عذاب ذکر فرمایا۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی گستاخی عام مومنوں کی گستاخی کی طرح نہیں ہے۔
پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالی کو ایذا ، تکلیف اور ضرر کوئی نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی اس کو کوئی ضرر لاحق ہوسکتا ہے تو پھر کیوں فرمایا: جولوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں؟ اللہ کی طرف ایذا کی نسبت کرنا دراصل بالخصوص اس کے رسولﷺ کو ایذا دینا ہے یعنی رسول اللہﷺ کی ایذا و تکلیف کو اللہ اپنی ایذا فرماتا ہے کیونکہ وہ تو قاہر،غالب اور ہر چیز پر قادرِ مطلق ہے او راس بات کی قرآنِ حکیم میں کئی ایک اَمثلہ وارد ہوئی ہیں جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿إِن تَنصُرُ‌وا اللَّهَ يَنصُر‌كُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم  ٧ ﴾..... سورة محمد
''اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔''
اس آیت ِکریمہ میں اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کو اپنی طرف منسوب کرنے سے مراد اس کا دین اور اس کے انبیاء علیہم السلام اوراولیاء کرام رحمہم اللہ اجمعین ہوتے ہیں۔ یعنی اللہ کے دین کی مدد، اللہ کے انبیا کی مدد ، اللہ کے اولیا کی مدد کرنا درحقیقت اللہ کی مددکرنا ہے۔ایسے ہی اللہ کے رسولﷺ کو اذیت وتکلیف دینا اللہ کو اذیت و تکلیف دینے کے مترادف ہے۔
1. امام عزالدین عبدالرزاق بن رزق اللہ رسفی (متوفی 661 ھ) رقم طراز ہیں:
«أن المعنی یؤذون نبي الله فجعل أذی نبیه أذی له تشریفًا لمنزلته»14
''یقیناً اس آیت ِکریمہ میں اللہ کو تکلیف دینے کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کے نبی ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں تو اللہ نے مقام و مرتبہ عطا فرماتے ہوئےاپنے نبیﷺ کی تکلیف کو اپنی تکلیف قرار دیا ہے۔''
لعنت سے مراد: نیز اس آیت ِکریمہ میں گستاخِ رسول کو ملعون قرار دیا اور اس کے لئے رسوا کن اور ذلت آمیز عذاب و سزا کا بیان فرمایا۔اس آیت میں گستاخانِ رسول پر جو دنیا اور آخرت کی لعنت کا ذکر کیا گیا ہے تو یہاں لعنت سے کیا مراد ہے؟
2. امام ابن جوزی فرماتے ہیں:
«ولعنھم في الدنیا بالقتل والجلاء وفي الآخرة بالنار»15
''دنیا میں لعنت سے مراد قتل او رجلا وطنی کی سزا او رآخرت میں آگ کی سزا ہے۔''
امام عبدالرزاق رسفی فرماتے ہیں:
«لعنتھم في الدنیا القتل والجلاء وفي الآخرة عذاب النار»16
''دنیا میں لعنت سے مراد قتل و جلاوطنی اور آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔''
راقم الحروف کے نزدیک ان کو 'دنیا میں لعنت' سے مراد قتل کی سزا دینا ہے، کیونکہ ایذائے رسول کی یہی سزا نبی کریمﷺ نے متعین فرمائی ہے او رقرآن پاک کا سیاق و سباق اسی کی تائید کرتاہے۔ملاحظہ فرمائیے قرآنِ کریم کا سیاق وسباق:
قرآنِ حکیم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ احزاب کی 56 نمبر آیت میں رسول اللہﷺ پر صلاۃ و سلام کا ذکر فرمایا ،پھر آیت نمبر 57 میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ایذا دینے والوں کا ذکر کرکے دنیا و آخرت کی لعنت اور ذلیل کرنے والے عذاب اور سزا کا بیان فرمایا۔ پھر آیت نمبر 58 میں اہل ایمان کو ایذا دینے والوں کا ذکر کرکے اس کو بہتان اور صریح گناہ قرار دیا ۔آیت نمبر 59 میں نبی کریمﷺ کی بیویوں، بیٹیوں او رایمان والوں کی عورتوں کے پردے کا ذکر کیاتاکہ اُنہیں ایذا نہ دی جائے۔ آیت نمبر 60 میں ایسی حرکات سے باز نہ آنے والے منافقوں کا ذکر کیا اور ناشائستہ حرکات کرنے والے او رپروپیگنڈہ کرنے والے لوگوں پر آپ کے تسلط کا ذکر کیا اور نمبر 61 میں فرمایا :﴿مَلعونينَ أَينَما ثُقِفوا أُخِذوا وَقُتِّلوا تَقتيلًا ٦١ ﴾.... سورة الاحزاب"  یعنی '' اللہ اور اس کے رسولﷺکے گستاخان ملعون ہیں، جہاں بھی پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور بُرے طریقے کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔'' اور آیت نمبر 62 میں پھر اسے اللہ کی سنت او رقانون قرار دیا گیا ہے یعنی توہین رسالت کے بارے قانونِ الٰہی یہی ہے کہ ایسے ناپاک ملعون لوگ بُری سزا کے حقدار اور واجب القتل ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 56 سے لے کر آیات 62 تک کا مفہوم ومراد یہی ہے۔
'اَذیت' سے مراد:نبی کریمﷺ نے جب کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا حکم نامہ جاری کیا تو اس کی علت اور وجہ یہ بیان کی کہ فإنه قد آذٰی اللہ ورسوله ''اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اذیت دی ہے۔''17
11. بعض لوگ کہتے ہیں کہ کعب بن اشرف یہودی نے رسول اللہﷺکے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور آپ کے خلاف اہل مکہ کی معاونت کی، اس لئے اس کے قتل کا حکم جاری کیا گیا۔
یاد رہے کہ کعب یہودی نقض عہد کے ساتھ ساتھ رسول اللہﷺ کی ہجو اور توہین کابھی مرتکب تھا ،اسی لئے آپ نے فرمایا: «فإنه قد آذٰی اللہ ورسوله»
٭ امام مازری  فرماتے ہیں:
«إنما قتله کذلك لأنه نقض عهد النبي ﷺ وهجاه وسبه وکان عاهده أن لایعین علیه أحدًا ثم مع أهل الحرب معینًا علیه»18
''کعب بن اشرف کو اس لئے قتل کیا کہ اس نے نبی کریمﷺکے عہد کو توڑا۔ آپ ﷺ کی توہین کی اور آپ کو گالی دی او راس کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپﷺکے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا پھر وہ آپﷺکے خلاف اہل حرب کا معاون ہوگیا۔''
٭ محی السنۃ امام بغوی  فرماتے ہیں:
«وکان کعب بن الأشرف ممن عاھد رسول اللہ ﷺ أن لا یعین علیه أحدًا ولا یقاتله ثم خلع الأمان ونقض العھد ولحق بمكة وجاء معلنًا معاداةً النبي یھجوہ في أشعارہ ویسبه، فاستحق القتل لذلك»19
''کعب بن اشرف یہودی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رسول اللہﷺکے ساتھ معاہدہ کررکھا تھا کہ وہ آپ کے خلاف کسی کی مدد نہیں کریں گے اور نہ ہی آپﷺ سے لڑیں گے۔ پھر اس نے امان ترک کی اور عہد توڑا اور مکہ چلا گیا اور اعلانیہ نبی کریمﷺسے عداوت کرتے ہوئے آیا اور اپنے شعروں میں آپﷺ کی توہین کرتا اور گالیاں بکتا تھا اس لئے واجب القتل ہوگیا۔''
لہٰذا کعب بن اشرف کو صرف نقضِ عہد کی سزا نہیں دی گئی بلکہ وہ گستاخِ رسول تھا اور اَشعار میں آپﷺکو گالیاں بکتا اور ہذیان گوئی کرتا تھا اور ویسے بھی رسول اللہﷺ کی توہین سے نقض عہد ہوجاتا ہے جیسا کہ پیچھے مفصل باحوالہ بحث گزر چکی ہے اور اس کی تائید درج ذیل روایات سے بھی ہوتی ہے:
1. کعب بن مالک بیان کرتے ہیں :
«أن کعب بن الأشرف الیهودي کان شاعرًا وکان یهجو رسول الله ﷺ و یحرض علیه کفار قریش في شعره ...... فأمر الله تعالی رسوله والمسلمین بالصبر علی ذلك والعفو عنهم ففیهم أنزل الله جل ثناءه ﴿وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا اَذًى كَثِيْرًا﴾.... سورة آل عمران" وفیهم أنزل الله:﴿ وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِه﴾.... سورة البقرة " فلما أبیٰ کعب بن الأشرف أن ینزع عن أذی رسول اللہ ﷺ وأذی المسلمین وأمر رسول اللہ ﷺ سعد بن معاذ أن یبعث رهطاً لیقتلوہ ....»20
''کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا اور رسول اللہﷺکی شان میں بکواس کرتا تھا۔ اور اپنے شعروں میں قریش کے کافروں کو آپﷺکے خلاف بھڑکاتا تھا۔ رسول اللہﷺمدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ملے جلے لوگ تھے۔ ان میں وہ مسلمان بھی تھے جنہیں رسول اللہﷺکی دعوت نے جمع کردیا تھا اور ان میں مشرکین بھی تھے جو بت پوجتے تھے اور اُن میں یہودی بھی تھے جو ہتھیاروں او رقلعوں کے مالک تھے اور وہ اوس و خزرج قبائل کے حلیف تھے۔ رسول اللہﷺ کی جب مدینہ تشریف آوری ہوئی تو آپﷺنے سب لوگوں کی اصلاح کا ارادہ فرمایا۔ایک آدمی مسلمان ہوتا تو اس کا باپ مشرک ہوتا۔ کوئی دوسرا مسلمان ہوتا تو اس کابھائی مشرک ہوتا اور رسول اللہﷺ کی آمد مبارک پرمشرکین اور یہودانِ مدینہ آپﷺ کو اور آپ کے صحابہ کرام کو شدید قسم کی اذیت سے دوچار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺاور مسلمانوں کو اس پر صبر و تحمل اور ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا۔
انہی کے بارے اللہ جل شانہ کا فرمان نازل ہوا۔ ''اور یقیناً تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی او ران لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی اِیذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلا شبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔ ''
اور انہی لوگوں کے بارے میں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی ''بہت سارے اہل کتاب چاہتے ہیں، کاش وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لئے حق خوب واضح ہوچکا سو تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قدرت والا ہے۔''
جب کعب بن اشرف رسول اللہﷺاور مسلمانوں کو اذیت دینے سے باز نہ آیا تو رسول اللہﷺنے سعد بن معاذ کو حکم دیا کہ اس کے قتل کے لئے لشکر روا نہ کرو۔''
2. حافظ ابن حجر عسقلانی  نے امام حاکم کی الإکلیل کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فقد أذانا بشعرہ وقوّی المشرکین»21
''اس نےہمیں اذیت دی اور مشرکوں کو تقویت پہنچائی ہے۔ ''
3. ابن حجر فرماتے ہیں کہ امام ابن اسحٰق نے عبداللہ بن عباس سے بیان کیا کہ
«إن النبي ﷺ مشٰی معهم إلی بقیع الغرقد ثم وجههم فقال: انطلقوا علی اسم الله: اللهم اَعِنْهم»22
''بلا شبہ نبی کریمﷺان کے ساتھ بقیع غرقد تک چلے، پھر ان کو متوجہ کرکے فرمایا: ''اللہ کے نام پرروانہ ہوجاؤ۔اے اللہ ان کی مدد فرما!''
یعنی محمد بن مسلمہ وغیرہ کو جب کعب کے قتل کے لئے روانہ فرمایا تو آپﷺان کے ہمراہ بقیع غرقد تک خود تشریف لے گئے اور اللہ کے نام پر اُنہیں روانہ کیا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا فرمائی۔
پہلے شاتمانِ رسول کے لئے مسلمانوں کو عفو ودرگزر کرنے کا حکم تھا !
امام بیہقی  نے دلائل النبوة میں کعب بن مالک کی جس روایت کا ذکر فرمایا، اس میں گستاخانِ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بارے صبر و تحمل کے متعلقہ دو قرآنی آیات کا ذکر ہے۔ ایک آیت ِکریمہ سورۃ آل عمران اور دوسری سورۃ البقرۃ میں ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تاحکم ثانی ان کے عفو ودرگزر کامعاملہ تھا پھر اللہ وحدہ لا شریک نے ان کے ساتھ قتل و قتال کا حکم فرمایا۔
خود امام بیہقی  نے دلائل النبوۃمیں باب باندھا ہے:
«مبتدأ الإذعان بالقتال وما ورد بعدہ في نسخ العفو عن المشرکین وأهل الکتاب بفرض الجهاد»23
اسی طرح السنن الکبریٰ کی کتاب السیر باب مبتدأ الإذن بالقتال بھی ملاحظہ کریں۔اعلانِ قتال کی ابتدا اور اس کے بعد مشرکوں اور یہود و نصاریٰ کی معافی، جہاد کی فرضیت سے منسوخ ہوگئی۔اس باب میں امام بیہقی  نے پھر اس عفو و درگزر کے نسخ کے دلائل بیان فرمائے جن میں سے ایک مفصل صحیح حدیث وہ ذکر کی ہے جسے اُسامہ بن زید نے بیان کیا کہ
''رسول اللہﷺ اس گدھے پر سوار تھے جس پر فدک کی بنی ہوئی مخمل کی چادر پر زین کسی ہوئی تھی اور اُسامہ بن زید رسول اللہﷺکے پیچھے سوار تھے۔ آپ بنو حارث بن الخزرج میں واقعہ بدر سے پہلے سعد بن عبادہ کی عیادت کے لئے چلے تھے۔آپ کا گزر ایک مجلس کے پاس سے ہوا جس میں عبداللہ بن اُبی بن سلول بھی تھا اور اس وقت ابھی عبداللہ بن اُبی بن سلول نے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا۔اتفاق سے اس مجلس میں مسلمان، بت پرست ، مشرکین او ریہودی ملے جلے بیٹھے تھے۔ او رمسلمانوں میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب مجلس کو سواری کے پاؤں سے اُڑنے والے غبار نے ڈھانپ لیا تو عبداللہ بن اُبی نے اپنی ناک کو چادر سے چھپا لیا پھر کہنےلگا۔ تم ہمارے اوپر غبار نہ ڈالو۔ اللہ کے رسولﷺنے سلام کیا، پھر رُکے۔ سواری سے اُترے اور اُنہیں اللہ کے دین کی دعوت پیش کی او ران پر قرآنِ کریم پڑھا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا: ارے میاں! تم جو بات کہہ رہے ہو، اس سے بہتر بات کوئی نہیں۔ اگریہ حق ہے تو تم ہماری مجلس میں آکر ہمیں تکلیف نہ دو، اپنے گھر واپس پلٹ جاؤ اور جو آدمی تمہارے پاس آئے، اسے یہ کہانی سنانا۔ عبداللہ بن رواحہ کہنے لگے: جی ہاں یارسول اللہﷺ! آپ ہماری مجالس میں آیا کریں ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں۔ بس پھر مسلمان، مشرکین اور یہودی ایک دوسرے کو گالی گلوچ کرنے لگے۔ قریب تھا کہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے۔ آپﷺ مسلسل اُنہیں خاموش کراتے رہے یہاں تک کہ وہ چپ ہوگئے۔ پھر اللہ کے رسولﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور سعد بن عبادہ کے پاس پہنچ گئے۔ آپﷺنے انہیں کہا: ''«أیا سعد ألم تسمع ما قال أبو حباب یرید عبداللہ بن أبي قال: کذا وکذا''»
''اے سعد !کیا تم نے نہیں سنا جو اَبوحباب نے کہا؟ اس سے آپﷺ کی مراد عبداللہ بن اُبی تھا۔ آپﷺنے فرمایا: اس نے ایسی ویسی باتیں کی ہیں۔ سعد بن عبادہ کہنے لگے: «یارسول اللہ اعف عنه واصفح فو الذي علیك الکتاب لقد جاء اللہ بالحق الذی أنزل علیك ولقد اصطلح أھل ھذہ البحیرة علی أن یتوجھوہ فیعصبوہ بالعصابة فلما ردّ اللہ بالحق الذی أعطاك شرق بذلك، فذلك الذي فعل به ما رأیت»
''اے اللہ کے رسولﷺ!اس کو معاف کردیں اور درگزر فرمائیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی یقیناً اللہ تعالی حق لے آیا ہے جو اس نے آپﷺ پرنازل کیا او ریقیناً اس مدینہ کی بستی والے اس حق کی طرف متوجہ ہونے اور اپنی برادری کے ساتھ اس کی مدد کرنے کو تیار ہوگئے۔ جب اللہ نے اس حق سے اسے پھیر دیا جو اس نے آپﷺ کو عطا کیا تو اس نے ازراہِ حسد اس سے انکارکیا اور جو کرتوت اس نے کیا، آپﷺنے دیکھ لیا ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے درگزر کیا او رمعاف کردیا۔آپ اور آپﷺ کے صحابہ کرام مشرکوں اور یہود و نصاریٰ سے درگزر کرتے تھے اور ان کی تکالیف پر صبر کرتے تھے،جیساکہ اللہ نے حکم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَتَسمَعُنَّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ مِن قَبلِكُم وَمِنَ الَّذينَ أَشرَ‌كوا أَذًى كَثيرً‌ا وَإِن تَصبِر‌وا وَتَتَّقوا فَإِنَّ ذ‌ٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ‌ ١٨٦ ﴾.... سورة آل عمران ''او ریقیناً تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی او ران لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر اور تقویٰ اختیارکرو تو بلا شبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔'' اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَدَّ كَثيرٌ‌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَو يَرُ‌دّونَكُم مِن بَعدِ إيمـٰنِكُم كُفّارً‌ا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ فَاعفوا وَاصفَحوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّهُ بِأَمرِ‌هِ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ١٠٩ ﴾.... سورة البقرة
''بہت سارے اہل کتاب چاہتے ہیں کاش وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ حق ان کے لئے خوب واضح ہوچکا۔ سو تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کمال قدرت والا ہے۔''
اس کے بعد اُسامہ بن زید اپنی اس طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں:
«وکان رسول اللہ ﷺ یتأول في العفو ما أمرہ اللہ عزوجل به حتی أذن اللہ فیھم فلما غزا رسول اللہ ﷺ بدرًا و قتل اللہ به من قتل من صنادید قریش»
''نبی کریمﷺ درگذر سے کام لیتے تھے جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا، یہاں تک کہ جب ان کے بارے اللہ نے آپ کو اجازت دی۔ پھر جب آپ نے غزوۂ بدر لڑا اور اللہ تعالیٰ نے اس غزوے میں جن قریش کے کافر سرداروں کو قتل کرنا تھا، قتل کرا دیا۔''
پھر عبداللہ بن اُبی او را س کے بت پرست مشرک ساتھیوں نے کہا: یہ ایسا دین ہے جو غالب ہوکر رہے گا تو اُنہوں نے آپﷺکے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرلی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔''24
٭اسی طرح امام ابن ابی حاتم رازی  نے اُسامہ بن زیدسےمختصراً یہی روایت بیان کی ہے:
«کان النبي ﷺ وأصحابه یعفون عن المشرکین وأھل الکتاب کما أمرھم اللہ ویصبرون علی الأذی قال اللہ تعالی: ﴿وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا اَذًى كَثِيْرًا﴾ قال: وکان رسول اللہ ﷺ یتأول في العفو ما أمرہ اللہ به حتی أذن اللہ فیھم»25
''نبی اکرمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام مشرکوں اور یہود و نصاریٰ سے اللہ کے حکم کے مطابق عفو و درگزر کرتے اوران کی تکالیف پر صبر کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور آپ یقیناً ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور اُن لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ، ایذا اور تکلیف دہ باتیں سنو گے۔''اُسامہنے کہا: رسول اللہﷺ ان سے عفو و درگزر سے کام لیتے تھے جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا، یہاں تک کہ ان کے بارے اللہ نے اجازت دے دی۔''
امام ابن کثیر فرماتے ہیں: وهٰذا إسناد صحیح یہ سند صحیح ہے۔
تفسیر ابن کثیر میں حتی أذن الله فیهم کے بعد یہ الفاظ ہیں:«بالقتل فقتل اللہ به من قتل من صنادید قریش» ''یہاں تک کہ اللہ نے ان کےمتعلق قتل کی اجازت دے دی پھر قریش کے سرداروں میں سے جن کو قتل کرنا تھا، اللہ نے قتل کردیا۔''
ان احادیث ِصحیحہ میں حتی أذن الله فیهم یہاں تک کہ ان کے متعلق اللہ نے اجازت دے دی، سے مراد قتال کی اجازت ہے۔
٭ حافظ ابن حجر عسقلانی  لکھتے ہیں:
«قوله: (حتی أذن اللہ فیھم) أي في قتالھم أي فترك العفو عنهم»26
''حدیث میں حتی أذن الله فیهم سے مراد ان کے ساتھ عفو و درگزر کو ترک کرکے قتال کرنے کی اجازت مراد ہے ۔''
٭شیخ الاسلام زکریا انصاری رقم طراز ہیں:
«حتی أذن فیهم'' أي في قتالهم فترك العفو عنهم»27
'' اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ان کفار یہود و نصاری اور مشرکین کے بارے میں قتال کی اجازت دے دی تو آپﷺ نے ان کے ساتھ معافی و درگزر کو ترک کردیا۔''
سورہ آلِ عمران کی مذکورہ بالا آیت ِکریمہ کی تفسیر صحیح حدیث سے واضح ہوگئی کہ عفو ودرگزر اور معافی کا حکم قتال فی سبیل اللہ کا حکم آنے سے قبل کا معاملہ تھا جب جہاد و قتال والا حکم آگیا تو پھر گستاخانِ اللہ او ررسولﷺکی معافی والا معاملہ منسوخ ہوگیا او ران کے قتل وقتال کا حکم وارد ہوگیا۔
اسی طرح مندرجہ بالا بحث میں سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 109 کا ذکر بھی آیا ہے:
٭ حبر الامہ ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباسسے اس کی یہ تفسیر مروی ہے:
﴿فَاعفوا وَاصفَحوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّهُ بِأَمرِ‌هِ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ١٠٩ ﴾.... سورة البقرة ''معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے، یقیناً اللہ تعالی ہر چیز پر کمال قدرت والا ہے۔'' یہ عفوو درگزر کا حکم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ منسوخ ہوگیا:﴿فَاقتُلُوا المُشرِ‌كينَ حَيثُ وَجَدتُموهُم.....٥''مشرکوں کو قتل کرو جہاں بھی تم ان کو پاؤ۔''
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿قـٰتِلُوا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَلا بِاليَومِ الءاخِرِ‌ وَلا يُحَرِّ‌مونَ ما حَرَّ‌مَ اللَّهُ وَرَ‌سولُهُ وَلا يَدينونَ دينَ الحَقِّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صـٰغِر‌ونَ ٢٩ ﴾.... سورة التوبة
''اور ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ تعالی اور قیامت والے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جنہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے حرام قرار دیا ہے او رنہ ہی دین حق کو اختیار کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جو کتاب دیئے گئے یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں او روہ ذلیل وخوار ہوں۔''
ابن عباس فرماتے ہیں: «فنسخ هذا عفوہ عن المشرکین»28
''اس نے مشرکوں کے بارے میں آپ کی معافی کو منسوخ کردیا ہے۔''
٭ امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
«وکذا قال ابوالعالیة والربیع بن أنس وقتادہ والسدي إنما منسوخة بآیة السیف ویرشد إلی ذلك أیضاً قوله تعالی حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ»29
''یہی قول ابوالعالیہ، ربیع بن انس، قتادہ اور سدی کا ہے کہ آیت ِسیف کے ساتھ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے او راس کی راہنمائی اللہ تعالی کا یہ فرمان﴿ حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ﴾ بھی کرتا ہے کہ ''یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے''یعنی﴿ حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ﴾ کا ارشاد گرامی بھی اس کے منسوخ ہونے پر دلیل ہے۔''
٭سورۃ البقرۃ کے مذکورہ مقام سے پہلے آیت نمبر 104 میں مشرکین او ریہود کی شانِ رسالت میں گستاخی کا ذکر ہے۔اِرشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقولوا ر‌ٰ‌عِنا وَقولُوا انظُر‌نا وَاسمَعوا وَلِلكـٰفِر‌ينَ عَذابٌ أَليمٌ  ١٠٤ ﴾.... سورة البقرة
''اےایمان والو تمرَاعِنَا مت کہو اور انْظُرْنَا کہو اور سنو۔ اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔''
یہودی اور مشرک لفظ راعنا کو بگاڑ کر راعیناوغیرہ بنا دیتے یعنی ہمارا چرواہا۔ یا او راس قسم کے توہین آمیز کلمات و معانی اختیارکرتے تو اللہ نے اہل ایمان کو تعلیم دیتے ہوئے فرمایا راعنا کی بجائے اُنظرنا کہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کا استعمال ہی درست قرار نہیں دیا جس سےتوہین رسالت کا پہلو نکلتا ہو۔ اور ایسےگستاخوں کے لئے عذابِ الیم کی وعید بیان کی اور تاحکم ثانی صبر وتحمل اور معافی و درگزر کا حکم دیا جو بعدازاں سیف والی آیات کےساتھ منسوخ کرکے گستاخوں کی سزا قتل تجویز کی۔
٭اور اسی گستاخی کاذکر سورۃ النساء کی آیت نمبر 46 میں کیا کہ وہ نبیﷺ کی توہین بھی کرتے او ردین اسلام میں طعنہ زن ہوتے ہیں ۔ وہاں پر بھی اللہ نے ان پر اپنی لعنت کا ذکر کیا اور ملعونین کی سزا کے بارے پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ واجب القتل ہیں۔
اسی بات کی تفصیل امام مفسرین ابن جریر طبری  نے اپنی تفسیر ''جامع البیان عن تاویل آی القرآن''المعروف بہ تفسیر طبری:2‎‎‎/423، 424 میں بیان کی ہے۔ او ریہ بھی یاد رہے کہ سورہ توبہ قرآن حکیم کی وہ سورت ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئی جیسا کہ براء بن عازب سے مروی ہے کہ ''وآخر سورة نُزلت براءة''30
لہٰذا اب کفار و مشرکین ، یہود و نصاری اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کریں او ردین اسلام میں طعن و تشنیع سے کام لیں تواُنہیں معافی نہیں دی جائے گی ان کا علاج صرف اسلام کی تلوار ہے۔ ایسے افراد واجب القتل ہیں، انہیں اللہ کی زمین پر زندہ رہنے کا حق نہیں ہے۔
٭بعض احادیث ِصحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے گستاخوں کے قتل و ذبح کا حکم آپﷺ کو مکہ میں ہی معلوم ہوچکا تھا ،لیکن اس کی باقاعدہ تنفیذ مدینہ طیبہ میں آکر ہوئی، جیساکہ عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے :
''اُن سے عروہ بن زبیر نے کہا: مجھے کسی ایسے سخت واقعہ کے متعلق خبر دو جومشرکین نےرسول اللہﷺ کے ساتھ روا رکھا ہو اور ان کی عداوتِ رسالت کا آئینہ دار ہو۔ تو بتانے لگے کہ میں ان میں موجود تھاکہ ایک دن قریش کے چوہدری حطیم میں جمع ہوئے او راُنہوں نے رسول اللہﷺ کا ذکر کیا او رکہنے لگے: جتنا ہم نے اس شخص پر صبر کیا ہے، کسی او رپر کبھی ایسا صبر ہم نے نہیں دیکھا۔ اس نے ہمارے دانشوروں کو بے وقوف کہا اور ہمار باپ دادا کو بُرا بھلا کہا او رہمارے دین پر عیب لگایا او رہماری جماعت کو منتشر کیا اور ہمارےمعبودوں کو گالی دی۔ ہم نے اس کے بارے بہت زیادہ صبر کرلیا ہے۔اسی دوران وہاں سے رسول اللہﷺ کا گزر ہوا۔ آپ چلتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ حجراسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے جب آپ کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو وہ آپ کی باتوں میں عیب جوئی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارہ کرنے لگے تو میں نے اس بات کے اثرات نبی مکرم ﷺکے چہرۂ مبارک پر پہچان لئے پھر آپ آگے گزر گئے۔ پھر جب دوسرے چکر پر ان کے پاس سے گزرے تو اُنہوں نے پہلے جیسی حرکت کی۔ پھر میں ناگواری کے اثرات آپ کے چہرے پر پہچان گیا۔ پھر آپ آگے گزر گئے۔ پھر جب تیسرے چکر پر آپ ان کے پاس سے گزرنے لگے تو اُنہوں نے پہلے جیسی پھر حرکت کی۔ آپﷺنے فرمایا:«تسمعون یا معشر قریش! أما والذي نفس محمد بیده لقد جئتکم بالذبح» ''اے قریش کے گروہ! تم سنتے ہو، اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے یقیناً میں تمہارے پر ذبح کا حکم لے کر آیا ہوں'' اور ایک روایت میں ہے : «ما أرسلت إلیکم إلا بالذبح وأشار بیده إلی حلقه» ''نہیں میں تمہاری طرف بھیجا گیا مگر ذبح کے حکم کےساتھ اور آپ نے اپنے حلق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔31
اس صحیح حدیث سے بھی واضح ہوگیا کہ گستاخانِ رسول اور شاتمانِ نبی کی سزا یہی ہے کہ انہیں ذبح کردیا جائے اور قرآن حکیم کی رو سے وہ بُری طرح قتل کردیئے جائیں۔نبی اکرمﷺ کو مکہ کی زندگی میں کفار و مشرکین کی طرف سے بہت ستایا گیا۔مصائب و آلام سے دوچار کیا گیا اور ایذارسانی او رگستاخی کی کافروں نے حد کردی اور کعبۃ اللہ میں کبھی آپ کے اوپر حالت ِنماز میں اونٹنی کی بچہ دانی لاکر ڈال دی جاتی32 کبھی آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گھونٹا 33جاتا الغرض ہر طرح سے گستاخی کا ایک تسلسل تھا۔ لیکن ابتدا میں آپ کو صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا حکم تھا۔ پھر اس کے بعد اس حکم کو منسوخ کرکے ایسے گستاخوں کے لئے قتل و قتال کا حکم آگیا ۔اس کی مزید تفصیل کے لئے امام بیہقی کے 'دلائل النبوة'اور السنن الکبریٰ کی کتاب السیر باب ماجاء فی نسخ العفو عن المشرکین اور امام شافعی کا 'الرسالہ'وغیرہ ملاحظہ کریں۔
مذکورہ بالا تفصیل سے درج ذیل نکات واضح ہوتے ہیں:
1. اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اذیت دینا حرام ہے۔
2. رسول اللہﷺ کو اذیت دینا اللہ تعالیٰ کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔
3. اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اذیت دینے والے ملعون ہیں۔
4. اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اذیت دینے والوں کے لئے دنیا او رآخرت دونوں جہانوں میں سزا اور عقاب ہے۔
5. ان گستاخوں کی سزا عام مسلمانوں کو اذیت دینے سے کہیں بڑھ کر او رعلیحدہ ہے۔
6. اہل ایمان پر بہتان تراشی صریح گناہ اور اذیت دینا حرام ہے۔
7. ان ملعونوں کی یہ سزا ہے کہ جہاں پائے جائیں بُری طرح قتل کردیئے جائیں۔
8. نبی کریم ﷺنے کعب بن اشرف یہودی کے قتل کی علت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینا بیان کی ہے۔
9. کعب بن اشرف یہودی نقض عہد و پیمان اور نبی کریمﷺکے دشمنوں کا مددگار اور اپنے شعروں میں آپ کی گستاخی کرنے والا تھا، اللہ اور اس کے رسولﷺ کاکھلا دشمن تھا۔
10. آپﷺکے صحابہ نے اس کے قتل کا ذمہ لیا اور حُب رسولﷺ کا مظاہرہ گستاخ رسول کو قتل کرکے کیا۔
11. نبیﷺنے گستاخوں کےقتل کاحکم نامہ بھی جاری کیا اوراس کیلئے لشکرخود روانہ کیا۔
12. اس لشکر کو اللہ کے نام پر روانہ فرمایا او راللہ تعالیٰ سے ان کی مدد کے لئے دعا بھی کی۔
13. جب آپﷺ مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ملے جلے لوگ تھے۔مسلمان، یہودی اورمشرکین مدینہ میں قیام پذیر تھے۔
14. آپﷺنے اپنی تشریف آوری پر بلا امتیاز سب کی خیر خواہی اور اصلاح کا ارادہ فرمایا۔
15. آپﷺ کی آمد مبارک پر مشرکین اور یہود نے آپ کو اذیت دی بلکہ اذیت کی حد کردی۔
16. ابتدا میں اللہ تعالیٰ نےان کی ایذا رسانی اور گستاخی پر صبروتحمل اور عفو و درگزر کا حکم فرمایا اور اس صبروتحمل اور عفو و درگزر کی غایت حکم ثانی تک رہی جو کہ حتی یأتي الله بأمره کی نص قطعی سے واضح ہے۔
17. جب کعب بن اشرف رسول اللہﷺ اورمسلمانوں کو اذیت پہنچانے سے باز نہ آیا تو پھر نبیﷺنے سعد بن معاذ کو حکم دیا کہ اس کے قتل کے لئے لشکر روانہ کریں۔
معلوم ہوا کہ گستاخانِ رسول کے ساتھ ابتدائے زمانہ میں عفوودرگزر او ران کی تکالیف او رایذا رسانی پر صبر و تحمل کا حکم تھا۔ لیکن بعد میں قتل کی اجازت وارد ہوئی، تبھی اللہ کےرسولﷺنے کعب بن اشرف کے قتل کے لئے لشکر روانہ کیا۔
ساری تفصیل سے پتہ چلا کہ اللہ کے قرآن میں گستاخِ رسول کی سزا کا قانون موجود ہے او رمعافی دینے والے حضرات کے موقف کابھی ردّ ہوگیا کہ یہ ابتدائی دور میں معاملہ تھا، بعد میں قتل کا حکم آچکا۔ لہٰذا گستاخ رسول خواہ یہودی ہو یا عیسائی ، ہندو ہو یا مسلم، جب گستاخی کا ارتکاب کرے گا تو واجب القتل ہے،حد قتل کی معافی نہیں ہوگی۔ بالخصوص توہین رسالت پر، کیونکہ رسول اللہﷺ کی گستاخی عام لوگوں کی طرح نہیں ہے۔ اس کے ساتھ بہت سارے حقوق مل جاتے ہیں، جیسے:
1. اللہ کا حق :جب کوئی شخص اللہ کے رسول ﷺکی گستاخی کامرتکب ہوتا ہے تو اس نے اللہ کے سب سے بڑے ولی کی گستاخی کرکے اللہ سے اعلانِ جنگ کیا ہے۔
2. اس نے اللہ کی کتاب اور اس کے دین میں طعن کیا ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور کتاب کی صحت رسالت و نبوت کی صحت پر موقوف ہے۔ توہین رسالت کرکے وہ دین اسلام اور کتاب اللہ کی توہین کا بھی مرتکب ہوا ہے۔
3. یہ اللہ کی اُلوہیت میں بھی طعن ہے۔اس لئے کہ رسالت و نبوت پر طعن و تشنیع اللہ کی اُلوہیت میں تشنیع ہے جس نے اپنے نبی اور رسولﷺ کو مبعوث کیا ۔ رسول کی تکذیب اللہ کی تکذیب ہے ،اللہ کے نبی کے حکم و معنی کا انکار اللہ کے حکم کا انکار ہے۔
4. یہ تمام اہل ایمان کے حق پر ڈاکہ اور سب و شتم ہے۔اس لئے کہ تمام اہل ایمان رسول اللہﷺ اور آپ سے پہلے تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام پر بلا امتیاز ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے رسالت و نبوت کی توہین کرکے تمام اہل ایمان کو تکلیف دی جاتی ہے۔نبوت و رسالت کی گستاخی اہل ایمان کے ہاں ان کے والدین ، عزیز و اقارب، آباء و ابنا، خاندان و برادری کی گستاخی سے کہیں بڑھ کر ہے، کیونکہ نبی کریمﷺ کی عزت وحرمت اہل ایمان کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔34
ان آیات بینات کے علاوہ بھی بہت ساری آیات اس مسئلہ کے متعلق وارد ہیں جن کا ذکر کرنا طوالت کا باعث ہے۔ تفصیل کے لئے 'الصارم المسلول علی شاتم الرسولﷺ'از شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ  اور 'توہین رسالت کی شرعی سزا' از شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز  وغیرہما ملاحظہ کریں۔
توہین رسالت کی سزا : احادیث کی روشنی میں
کتب ِاحادیث و سنن میں اس موضوع پرکئی ایک احادیث ِصحیحہ و آثارِ حسنہ موجود ہیں۔ کعب بن اشرف یہودی کے قتل کے بعد نبی کریمﷺ نے ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق جسے سلام بن ابی الحقیق بھی کہا جاتا ہے ، کے قتل کی اجازت دی۔
1. کعب بن اشرف کا قتل : اس بارے میں پیچھے كافی تفصیل گزر چکی ہے۔
2. ابو رافع کا قتل: امام بخاری ؒ نے صحیح بخاری35 میں اس روایت کو مفصل ذکر کیا ہے۔
٭امام المغازی وامیرالمومنین فی الحدیث امام محمد بن اسحٰق  فرماتے ہیں:
«ولما انقضی شأن الخندق وأمر بنی قریظة وکان سلام بن أبي الحقیق وهو أبو رافع فیمن حزب الأحزاب علی رسول الله ﷺ وکانت الأوس قبل أحد قتلت کعب بن الأشرف في عداوته لرسول اللہ ﷺ وتحریضه علیه استأذنت الخزرج رسول اللہ ﷺ في قتل سلام بن أبي الحقیق وھو بخیبر فأذن لھم.»36
''جب غزوۂ خندق اور بنو قریظہ کے یہود کامعاملہ پورا ہوگیا۔سلام بن ابی الحقیق ابو رافع یہودی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رسول اللہﷺکے خلاف اتحادیوں کو جمع کیا تھا۔ اُحد سے پہلے اَوس قبیلے کےلوگوں نے کعب بن اشرف کو رسول اللہﷺ کی عداوت اور لوگوں کی وجہ سےقتل کیا تھا توخزرج والوں نے ابورافع یہودی کے قتل کی اجازت رسول اللہﷺسے طلب کی اور اس وقت ابو رافع خیبر میں تھا تو آپﷺنے اس کے قتل کی اجازت دی۔''
٭اور امام حاکم کی الإکلیلاور امام ابن اسحٰق کی السیرة النبويةمیں ہے کہ
''جس لشکر کو رسول ﷺنے ابورافع یہودی کے قتل کے لئے روانہ کیا تھا، ان میں عبداللہ بن عتیک، عبداللہ بن انیس، ابوقتادہ، حارث بن ربعی اور مسعود بن سنان شامل تھے۔''37
٭ابورافع کے قتل کا سبب بھی ایذائے رسول تھا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:
«وکان أبو رافع یؤذی رسول الله ﷺ ویعین علیه»38
''ابورافع رسول اللہﷺ کو اذیت دیتا اور آپ کے خلاف تعاون کرتا تھا۔''39
٭ ابن حجر عسقلانی نے ذکر فرمایا ہے کہ
''عروہ فرماتے ہیں ابورافع غطفان وغیرہ مشرکینِ عرب کو رسول اللہﷺکے خلاف بہت زیادہ مالی معاونت کرتا تھا۔''
اس سے معلوم ہوا کہ اذیت ِرسول اور رسالتِ مآبﷺکے خلاف لوگوں کو اُبھارنے اور مالی سپورٹ کرنے کی وجہ سے ابورافع یہودی کو قتل کیا گیا۔ پھر اس سے اوس و خزرج کے قبائل کا گستاخانِ رسول کے تعاقب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا عزم بھی معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا رسول اللہﷺکے خلاف بولنے والی زبان، دشمنانِ رسالت کے معاونین خواہ مالی سپورٹر ہوں یا زبانی کلامی، واجب القتل ہوجاتے ہیں۔ آج مسلمانانِ عالم کو گستاخان رسول کے تعاقب میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حریص اور میدانِ کارزار میں کود جانے کا کردار اَدا کرنے کی شدید حاجت و ضرورت ہے۔
3. شاتمہ کا قتل: عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک نابینے کی اُمّ ولد تھی جو نبی کریمﷺ کو گالیاں بکتی اور آپ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتی تھی۔ وہ نابینا صحابی اسے منع کرتا تھا، وہ باز نہ آتی تھی۔ اسے ڈانٹتا تھا وہ سمجھتی نہ تھی۔ ایک رات جب وہ نبی کریمﷺ کی بدگوئی کرنے لگی تو اُس نے برچھا پکڑا تو اسے اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اُس پر اپنا بوجھ ڈالا اور اسےقتل کردیا۔ جب یہ بات نبی کریمﷺ کو معلوم ہوئی تو آپﷺنے فرمایا:«ألا اشهدوا إن دمها هدر»40
''خبردار، گواہ ہوجاؤ اس لونڈی کا خون ضائع و رائیگاں ہے۔''
علامہ البانیؒ اس حدیث کے بارے فرماتے ہیں: إسنادہ صحیح علی شرط مسلم41 ''اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔''
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ1 کی ذاتِ گرامی کو سب و شتم کرنے والی عورت بھی ہو تو اسے معافی نہیں دی جائے گی اس کو قتل کیا جائے گا اور اس کا خون رائیگاں اور بے کار ہوگا، کوئی قصاص و بدلہ نہیں او رنہ ہی دیت ہے۔
علامہ شمس الحق عظیم آبادی ؒ فرماتے ہیں:
«وفیه دلیل علی أن الذمي إذا لم یکف لسانه عن اللہ ورسوله فلا ذمة له فیحل قتله»42
''اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ذمی جب اللہ اور رسولﷺکے بارے اپنی زبان بند نہیں کرتا تو اس کا کوئی عہد و پیمان نہیں اس کا قتل حلال ہوجاتا ہے۔''43
4. مشرکہ شاتمہ کا قتل:عمیر بن اُمیہ کی ایک بہن تھی اور عمیرجب نبی کریمﷺ کی طرف نکلتے تو وہ اُنہیں رسول اللہﷺکے بارے اذیت دیتی اور نبی کریمﷺ کو گالیاں بکتی اور وہ مشرکہ تھی۔ اُنہوں نے ایک دن تلوار اُٹھائی پھر اس بہن کے پاس آئے، اسے تلوار کا وار کرکے قتل کردیا۔ اس کے بیٹے اُٹھے، اُنہوں نے چیخ و پکار کی اور کہنے لگے کہ ہمیں معلوم ہے، کس نے اسے قتل کیا ہے؟ کیا ہمیں امن و امان دے کرقتل کیا گیا ہے؟ اور اس قوم کے آباء و اجداد اور مائیں مشرک ہیں۔ جب عمیر کو یہ خوف لاحق ہوا کہ وہ اپنی ماں کے بدلے میں کسی کو ناجائز قتل کردیں گے تو وہ نبی کریمﷺکے پاس گئے اور آپ کوخبر دی تو آپﷺنے فرمایا: «أقتلت أختك»کیا تم نے اپنی بہن کوقتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہاں۔آپﷺنے کہا: «ولم؟» تم نے اسے کیوں قتل کیا تو اُنہوں نے کہا: «إنها کانت تؤذینی فیك» ''یہ مجھے آپ کے بارے میں تکلیف دیتی تھی۔'' تو نبی ﷺنےاس کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا تو اُنہوں نے کسی اور کو قاتل بنایا۔ پھر آپﷺنے ان کو خبر دی اور اس کا خون رائیگاں قراردیا تو اُنہوں نے کہا: ہم نے سنا اور مان لیا۔''44
5. گستاخِ رسول ابو جہل کا انجام: سیدنا عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا: میں بدر والے دن صف میں کھڑا تھا۔ میں نے اپنے دائیں بائیں جانب نظر ڈالی تو دیکھا کہ میرے دونوں طرف دو نوجوان انصاری لڑکے کھڑے ہیں۔ میں نے تمنا کی: کاش !میرے نزدیک کوئی طاقتور اور مضبوط آدمی ہوتے۔ ا ن میں سے ایک مجھے میرے پہلو میں ہاتھ مار کرکہنے لگا:
«یا عم! هل تعرف أباجهل؟» ''چچا !کیا تم ابوجہل کو پہچانتے ہو؟''میں نے کہا: ہاں ، بھتیجے!تمہیں اس کی کیا غرض ہے؟ اُس نے کہا :«أُخبرت أنه یسبّ رسول الله ﷺ والذي نفسي بیده لئن رأیته لا یفارق سوادي سواده حتی یموت الأعجل منا»
''مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رسو ل اللہﷺ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے اتنی دیر تک جدا نہیں ہوگا جب تک ہم میں سے جس کو جلدی موت آنی ہے، آجائے۔''
عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ مجھے اس نوجوان لڑکے کے جذبات پر بڑا تعجب ہوا۔پھر مجھے دوسرے لڑکے نے بھی اسی طرح پہلو میں ہاتھ مارا او راُس جیسی بات کہی۔ اتنے میں میری نظر ابوجہل پر پڑی۔ وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا۔ میں نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ ابوجہل ہے جس کے بارے میں تم دونوں سوال کررہے تھے۔ابن عوف کہتے ہیں: وہ دونوں جلدی سے اس کی طرف دوڑے اور دونوں نے اس پر تلوار کا وار کیا یہاں تک کہ اسے جہنم رسید کردیا۔ پھر وہ رسول اللہﷺکےپاس آئے اور آکر آپ کو خبر دی۔ آپﷺ نے پوچھا «أیکما قتله؟»تو دونوں میں سے کس نے اس کو قتل کیا ؟ اُن دونوں میں ہر ایک کہنے لگا: ''أنا قتلته''میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپﷺنے فرمایا: «هل مسحتما سیفیکما؟» ''کیا تم دونوں اپنے تلواریں صاف کردی ہیں؟ اُنہوں نے کہا: نہیں آپﷺنے ان دونوں تلواروں پر نظر دوڑائی اور فرمایا: «کلاکما قتله»تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے اور ابوجہل کا پہنا ہوا سامان وغیرہ معاذ بن عمرو بن الجموع کو عطا کردیا۔
اور وہ دونوں نوجوان لڑکے معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفراء تھے۔45
اورصحیح البخاري46 میں ہے کہ عبداللہ بن عوف کہتے ہیں: «فأشرت لهما إلیه فشدّا علیه مثل الصقرین حتی ضرباه وهما ابنا عفراء»
''میں نے ابوجہل کی طرف ان دونوں کو اشارہ کیا ۔وہ دونوں لڑکے دو عقابوں کی طرح اس پر شدت سے ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ اسے واصل جہنم کردیا او روہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔''
6. یہودیہ کا قتل:اس کی تائید سیدنا علی کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے :
«أن یهودیة کانت تشتم النبي ﷺ وتقع فیه فخنقها رجل حتی ماتت فأبطل رسول الله ﷺ دمها»47
''بلا شبہ ایک یہودیہ عورت نبی کریمﷺ کو گالیاں دیا کرتی اور آپ کے بارے میں نازیبا کلمات کہا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی تو اللہ کے رسولﷺنے اس کا خون باطل قرار دیا۔''
اس روایت کے بارے میں علامہ البانیؒ نے فرمایا ہے: إسناده صحیح علی شرط الشیخین48 ''اس کی سند بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔''
یہ حدیث ہم نے بطور ِشاہد اور تائید ذکر کی ہے۔
7. حدقتل صرف مرتکب ِتوہین رسالت کے لیے: ابوبرزہ کہتے ہیں: میں ابوبکر صدیق کے پاس تھا، وہ کسی آدمی پر بہت زیادہ ناراض ہوئے۔ میں نے کہا: اے خلیفۃ الرسول! مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن مار دوں۔ میری اس بات نےان کا غصہ ختم کردیا۔ ابوبکر صدیقاُٹھے اور گھر چلے گئے اور مجھے پیغام بھیجا او رکہا: تم نے ابھی ابھی کیاکہا تھا۔ میں نے کہا: مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیں۔کہنے لگے: اگر میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا تو کیا واقعی تم یہ کام کرگزرتے۔ میں کہا: ہاں۔ تو ابوبکر صدیق نے فرمایا:« لا والله ما کانت لبشر بعد محمد ﷺ»49
''نہیں۔ اللہ کی قسم! محمد ﷺکے بعد کسی بشر کو یہ مقام حاصل نہیں۔''
8. توہین رسالت کے مرتکب عیسائی کو سزا:کعب بن علقمہ کہتے ہیں کہ غرفہ بن الحارث کندی کے پاس سے ایک عیسائی گزرا تو اُنہوں نے اسے اسلام کی دعوت پیش کی تو اُس عیسائی نے رسول اللہﷺ کی اہانت کی۔غرفہ کندی نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اس کی ناک پھوڑ دی۔یہ کیس عمرو بن العاص کے پاس لایا گیا تو عمرو فرمانے لگے: ہم نے ان کو عہد و پیمان دیا ہے (یعنی ان کی حفاظت ہم پر لازم ہے) غرفہ کندی نے فرمایا:
«معاذ الله أن نکون أعطیناهم علی أن یظهروا شتم النبي ﷺ إنما أعطیناهم علی أن نخلی بینهم وبین کنائسهم یقولون فیها ما بدا لهم وأن لا نحملهم مالا یطیقون وإن أرادهم عدد قاتلناهم من ورائهم ونخلی بینهم و بین أحکامهم إلا أن یاتوا راضین بأحکامنا فنحکم بینهم بحکم الله وحکم رسوله وإن غیبوا عنا لم لفرض لهم فیها»
''اللہ کی پناہ! ہم ان کو اس بات پر عہد و پیمان دیں کہ وہ نبی کریم ﷺ پر سب و شتم کا اظہار کریں۔ ہم نے ان کو اس با ت کا عہد دیا ہے کہ ہم اُنہیں ان کے گرجا گھروں میں چھوڑ دیں وہ اپنے گرجا گھروں میں جو کہنا ہے کہیں اور ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالیں او راگر کوئی دشمن ان کا قصد کرے تو ہم ان کے پیچھے ان سے لڑائی لڑیں اور اُنہیں ان کے احکامات پر چھوڑ دیں،اِلا یہ کہ وہ ہمارے احکامات پر راضی ہوکر آئیں تو ہم ان کے درمیان اللہ اور اس کے رسول ﷺکے حکم کے مطابق فیصلہ کریں او راگر وہ ہم سے غائب ہوں تو ہم ان کے پیچھے نہ پڑیں۔''
عمرو بن العاص نے فرمایا: صدقتَ ''تم نے سچ کہا''50
عبداللہ بن مبارک ؒنے اس کی متابعت کررکھی ہے۔51
مذکورہ بالا احادیث ِصحیحہ سے ثابت ہوا کہ شاتم رسول اور دشنام طرازی کرنے والے گستاخ کا علاج قتل ہے۔ نبی کریم ﷺنے اور آپ کے صحابہ کرام نے ایسے لوگوں سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اُنہیں قتل کیا۔ اور عفو و درگزر کا حکم مدینے کی ابتدائی زندگی میں تھا۔ نبی کریمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ان کی اذیتوں اور گالی گلوچ پرصبروتحمل سے کام لیتے رہے۔ پھر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی جانب سے ان کا علاج قتل و قتال تجویز کیا گیا۔لہٰذا شاتم الرسول کو بالخصوص قتل کی سزا سے معافی نہیں دی جاسکتی۔ اگر کوئی غیر مسلم پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلے تو اس کی توبہ کا فائدہ عنداللہ تو ہوسکتا ہے ،لیکن دنیا میں حد کی معافی نہیں ہوگی۔
محدثین کرام ﷭ نے کتب ِاحادیث میں کتاب الحدود قائم کرکے شاتم رسول کی سزا قتل بیان کی ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں کیا اور یہ بات کتاب و سنت کے دلائل کی رو سے قوی اور مضبوط ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی لچک نہیں ہے!

حوالہ جات
1. شرح اُصول اعتقاد أهل السنةوالجماعة:1‎‎‎/90(202)مسند الدارمي:1‎‎‎/241 (121) الشریعة للآجري:1‎‎‎/175(99)،جامع بیان العلم وفضله(1927)،الفقیه والمتفقه (608)

2. کتاب السنة للإمام محمد بن نصر المروزي (84) ص247

3. كتاب السنة للمروزي:90، ذم الكلام للهروي:2‎‎‎/149،150 (225)، الکفایة في علم الروایة (17)

4. كتاب السنة للمروزي (91)، الکفایة في علم الروایة(17)، شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (99)، الفقیه والمتفقه (269)، ذم الکلام(224)، الابانة لابن بطة (219)، مسند الدارمي:588

5. معاني القرآن و إعرابه:2‎ ‎‎/351، دارالحدیث، القاهرة

6. التفسیر الکبیر :5‎ ‎‎/535، دار إحیاء التراث العربي:15 ‎‎‎/234، ایران

7. أحکام القرآن:2‎ ‎‎/356، دارالکتاب العربي

8. الجامع لاحکام القرآن:8‎ ‎‎/54

9. ملاحظہ ہو:7‎ ‎‎/339،ط، دارالکتاب العلمية، بیروت

10. 2‎ ‎‎/272، ادارہ تالیفات أشرفیة، ملتان

11. 2 ‎‎‎/240، دارالکتاب العربي بتحقیق عبدالرزاق مہدي

12. 1 ‎‎‎/667، مکتبة رحمانیة، لاهور

13. تأویلات أھل السنة2‎ ‎‎/388، مؤسسة الرسالة، بیروت

14. رموز الکنوز في تفسیر الکتاب العزیز:6‎ ‎‎/193، مکتبة الأسدي، المکة المکرمة

15. تفسیر زاد المسیر:3‎ ‎‎/483

16. رموز الکنوز:6‎ ‎‎/194

17. صحیح البخاري(2510،1303،4037)، صحیح مسلم (1801)، سنن أبی داود (2768) السنن الکبری للبیہقي:7‎ ‎‎/40 و9‎ ‎‎/81، شرح السنة للبغوي:11‎ ‎‎/43 :2692،المستدرك للحاکم:3‎ ‎‎/434 (5841)

18. شرح صحیح مسلم للنووي:12 /136، دارالکتب العلمیة، بیروت

19. شرح السنة:11 ‎‎‎/45، المکتب الإسلامي

20. دلائل النبوة للبیہقي :3‎ ‎‎/197 واللفظ له، سنن أبوداود (3000) الترمذي بحوالہ فتح الباري شرح صحیح البخاري:9‎ ‎‎/96

21. فتح الباري :9‎ ‎‎/96

22. فتح الباري :9 ‎‎‎/97 بسندٍ حسن

23. 2‎ ‎‎/576

24. دلائل النبوة:7‎ ‎‎/576 ،578، صحیح البخاري (4566) مع فتح الباري:10‎ ‎‎/17،صحیح مسلم:116 ‎‎‎/1798، مسنداحمد:5‎ ‎‎/202، تاریخ مدینة لعمر بن شبه: 1‎ ‎‎/358، السنن الکبری للنسائي (7502)، مسند الشامیین (268)، المصنف لعبد الرزاق(9784) تفسیر ابن کثیر: 2‎ ‎‎/160 ،161، تفسیر الدرّ المنثور: 1‎ ‎‎/557

25. تفسیر ابن أبی حاتم الرازي:3‎ ‎‎/834(4618) تفسیر ابن کثیر:2‎ ‎‎/160

26. فتح الباري:10‎ ‎‎/20

27. تحفة الباري بشرح صحیح البخاري :5‎ ‎‎/48

28. ملاحظہ ہو: صحیفة علي بن أبي طلحة في تفسیر القرآن ص86 ، السنن الکبری للبیہقي:9‎ ‎‎/11،دلائل النبوة للبیہقي:2‎‎ ‎/582، تفسیر ابن کثیر:1‎‎ ‎/335، التفسیر الطبري:2‎‎‎ /424، تفسیر الدر المنثور:1‎‎‎ /558 )علامہ سیوطی نے اسے ابن جریر طبری، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اوردلائل النبوۃ للبیہقی کی طرف منسوب کیا ہے)

29. تفسیر ابن کثیر:1 ‎‎‎/336

30. صحیح البخاري مع فتح الباري: 10‎ ‎‎/161(4654)، تفسیر ابن کثیر: 3‎‎ ‎/346

31. مسند الإمام أحمد:11 ‎‎‎/610(7036)، صحیح ابن حبان(1685)، مسند أبي یعلی:13 ‎‎‎/325 (7339) بتحقیق حسین سلیم أسد، المصنف ابن ابي شیبة: كتاب المغازي:14‎‎ ‎/297 (18410)، دلائل النبوة لأبي نُعیم الأصبہاني:1‎ ‎‎/209 (159)، دلائل النبوة للبیہقي:2‎ ‎‎/275، 276، تغلیق التعلیق لابن حجر العسقلاني :4‎ ‎‎/86، مجمع الزوائد:6‎ ‎‎/10 بتحقیق عبد اللہ محمد الدرویش، خلق أفعال العباد للامام البخاري (234) 86، 87، فتح الباري :8‎‎‎ /575، امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں کتاب مناقب الانصار باب ما لقي النبي ﷺ وأصحابه من المشرکین بمكة نمبر (3856)حدیث کے تحت اس روایت کی طرف توجہ دلائی ہے۔

32. صحیح البخاری:240

33. صحیح البخاری :3856

34. ملاحظہ ہو: الصارم المسلول علی شاتم الرسول لابن تیمیة:4‎ ‎‎/531، 532

35. صحیح البخاري: کتاب المغازي، باب قتل أبي رافع 4038 ، 4039، 4040

36. السیرة النبویة لابن إسحق: ص430، البدایة والنہایة:4‎ ‎‎/340، دلائل النبوة للبیہقي:4‎ ‎‎/33، فتح الباری:9‎ ‎‎ /103

37. فتح الباري :‎9‎ ‎‎/103

38. الرقم:4039

39. فتح الباري:9‎ ‎‎/104

40. سنن أبي داود (4361)، سنن النسائي (4075)،سنن الدارقطني:3‎ ‎‎/112، 113 و4‎ ‎‎/217، المطالب العالیة (2046)، إتحاف الخيرة المھرة للبوصیری(4610)

41. إرواء الغلیل:5‎ ‎‎/92

42. عون المعبود:4‎ ‎‎/226

43. نیز دیکھیں: فتح الودود في شرح سنن أبي داود لأبي الحسن السندي:4‎ ‎‎/276

44. المعجم الکبیر17‎ ‎‎/64(124)، مجمع الزوائد:6‎ ‎‎/398 (10570)، أسد الغابة:4‎ ‎‎/273، الإصابة:4‎‎ ‎/590

45. صحیح مسلم:42‎ ‎‎/1752، صحیح البخاري (3141) مع فتح الباري:7‎ ‎‎/422، مسند أحمد: 3‎ ‎‎/207(1672)، صحیح ابن حبان(4840) 11‎ ‎‎/172، مسند أبي یعلی (866) 2‎ ‎‎/170، المستدرك علی الصحیحین للامام الحاکم:3‎‎‎ /425، السنن الکبری للبیهقي:6‎ ‎‎/305، 306، البحر الذخار المعروف بمسند البزار:3‎‎ ‎/225 (1013)، مسندالشاشي:(248)1‎‎‎/279

46. رقم الحديث:3988

47. سنن أبي داود (4362)، السنن الکبری للبیہقي:7‎‎ ‎/60، 9‎ ‎‎/200، 9‎ ‎‎/375

48. إرواء الغلیل:5‎ ‎‎/91، تحت رقم 1251

49. سنن أبي داؤد (4363) سنن النسائي (4073) ذخیرة العقبی في شرح المجتبی :32‎ ‎‎/27، السنن الکبری للنسائي (3520 تا 3526)،مسند أحمد(54) 446-448، المستدرك :4‎ ‎‎/354 کتاب المختارة (20تا26)، مسند أبي بکر الصدیق للمروزي (66، 67)، مسند أبي یعلی (74-77) وفي نسخة (81،82)، مسند أبي داؤد الطیالسي(4)، مسندالبزار (49)، تہذیب الکمال:15 ‎‎‎/443، مسندحمیدي(6) امام حاکم نے اسے شیخین کی شرط پرصحیح کہا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔

50. السنن الکبری للبیہقي:9‎‎ ‎/375 بتحقیق اسلام منصور عبد الحمید‎ي وقال:حسن: 9‎‎‎/600 ط.قدیم،المعجم الأوسط:9‎‎‎/341، 342 (8743)، مجمع الزوائد (10569)ط قدیم:6‎‎/260،وقال:فیه عبداللہ صالح کاتب اللیث وقد وثق وفیه ضعف وبقیة رجاله ثقات

51. ملاحظہ ہو: المطالب العالیة (2048) اتحاف الخیرة المھرة للبوصیري (4690) وغیرہ، الإصابة في تمییز الصحابة ص1035، أسد الغابة:4‎‎ ‎/323،الاستیعاب في معرفة الأصحاب:3‎ ‎‎/320