4 جنوری 2011ء کی شام 5 بجے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں قتل کردیا گیا۔قتل کے فوراً بعد گرفتار ہونے والے ممتاز قادری کا موقف یہ تھا کہ اس نے یہ قتل خالصتاً ذاتی نیت اور اِرادے سے کیا ہے، اور سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ اس نے 'قانونِ امتناع توہین رسالت' کو 'کالا قانون' کہا اور توہین رسالت کے مجرموں کی تائید اور پشت پناہی کی۔ نئے عیسوی سال کے آغاز پر اس اہم ترین واقعہ نے دنیا بھر کو پاکستان کی طرف متوجہ کردیا اور اندرون وبیرونِ ممالک بڑی تکرار سے کہا جانے لگا کہ پاکستانی معاشرہ انتہاپسندی کی طرف مائل ہے۔ اس معاشرے سے برداشت اور رواداری ختم ہوتی جارہی ہے۔ کیا محض کسی ایک مظلوم عورت کی تائید کردینا اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسا کرنے والے کو جینے کے حق سے محروم کردیا جائے؟ اگر کوئی شخص کسی قانون کے بارے میں مخالفانہ رائے رکھتا او راس پر شدید تنقید کرتا ہے تو دلیل واستدلال سے اس کا جواب دینے کی بجائے بندوق اورگولی کی زبان سے اس کا خاتمہ کیوں کردیا جاتا ہے؟
سلمان تاثیرکے اس سنگین قتل نے ملک بھر میں ایک نظریاتی جنگ کو شروع کردیا اور ٹی وی واخبارات پر موجود جدت پسند طبقہ نے بہانے بہانے سے اس قتل کے خلاف طرح طرح کے سوالات پیدا کئے۔ روا داری کی ہر دم دوسروں کو تلقین کرنے والا یہ طبقہ اس موقعہ پر شدید عدم برداشت کا مظاہرہ کرتا نظر آیا، اور اپنی تحریروں میں بالخصوص انہوں نے جو زبان استعمال کی اور جیسے الزامات دہرائے، اس سے ان کی عدم برداشت کا پول کھل گیا۔ بعض ایسے بھی تھے جو اس معاملے کی سنگینی محسوس کرکے عذرآرائیاں کرنے لگے جبکہ انگریزی میڈیا کے بعض انتہا پسندوں نے عبرت نہ پکڑتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کو تکرار سے سیاہ قانون بلکہ 'ڈریکولین لاء' کہنے کی جسارتیں بھی کیں۔
پاکستان میں یہ ایک محدود مگر متحرک وبااثر اقلیت کا رد عمل تھا جو اِن سطور میں بیان کیا گیا ، دوسری طرف بیشتر عوام الناس نے نہ صرف اس قتل کو سراہا، بلکہ قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھولوں کےہار بھی پیش کئے۔ سینکڑوں وکلا نے عدالت میں پیشی کے موقع پر اس کے حق میں نعرہ بازی کی، پشاور کے تین سو وکلا نے اس کا کیس مفت لڑنے کی پیش کش کی، راولپنڈی اور اسلام آباد بار نے ممتاز قادری کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ کراچی میں تحریک ناموسِ رسالت کی کال پر عوام الناس کے ایک سیل رواں نے عظیم الشان ریلی نکالی۔ ممتاز قادری کے والد کی رہائی کے موقع پر ہزاروں لوگوں نے ان کا ایسا شاندار استقبال کیا کہ تاحد نگاہ افراد ہی افراد دکھائی دیتے تھے۔ اس کے علاوہ 36 دینی وسماجی جماعتوں نے لاہور میں 30 جنوری کو ریلی اور عظیم احتجاجی جلسہ کیا۔
اب جب کہ اس وقوعہ قتل پر کئی روز گزرچکے ہے، توجذبات اور ردعمل سے مغلوب ہونے کی بجائے اس امر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ایک طرف اس موقعہ پر سیکولر لابی کی طرف سے اُٹھائے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے تو دوسری طرف سلمان تاثیر کے قتل اور ممتاز قادری کے اقدام کے بارے میں اسلامی شریعت سے رہنمائی لی جائے کہ اسلام ایسا معتدل ومتوازن دین اس اہم قانونی مرحلہ پر ہماری کیا رہنمائی کرتاہے؟ زیرنظر مضمون میں اُن اعتراضات وشبہات کو موضوع بنایا گیا ہے جو میڈیا پر بطورِ خاص ان دنوں اس واقعہ کے حوالہ سے نمایاں ہوئے:
کیا پاکستانی معاشرہ انتہاپسندی کی جانب گامزن ہے؟
اس سلسلے میں جو تشویش اندرون وبیرونِ ملک سب سے زیادہ پھیلتی نظر آئی، وہ یہی ہے ۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے لیکن اس کی حقیقت یہ نہیں جسے ہمارے میڈیا میں نمایاں کیا جارہا ہے کہ پاکستان کے مذہبی طبقات میں انتہاپسندی فروغ پارہی ہے۔ درحقیقت پاکستان ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد سے عالمی قوتوں کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔ گذشتہ دس سال کے عرصے میں پاکستان میں اسلام اور اہل اسلام کو بطورِ خاص نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغانستان بظاہر امریکہ کا ہدف ہے لیکن حقیقی نشانہ پاکستان ہے، جس سےایٹمی قوت ہونے کے ناطے کھلم کھلا جنگ جوئی کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔ اوباما کی 'پاکستان فرسٹ پالیسی' اب ایک کھلی حقیقت بن چکی ہے۔ پاکستان پر جو سماجی، تعلیمی، ثقافتی اور اقتصادی یلغار جاری ہے، اس کا ایک پہلو قانون توہین رسالت بھی ہے جو امریکہ کی امداد کے ساتھ اکثر ایک شرط کے طور پرموجود رہا ہے۔ گذشتہ دس برس کے واقعات نے پاکستان کے عوام سے لے کر خواص تک میں ایک شدید ردعمل کی کیفیت پیدا کی ہے۔ ظلم وستم یا مسلمہ اقدار کو پامال کرنے کے حوالے سے یہی ردّعمل کبھی طالبان کی صورت میں سامنے آتا ہے تو کبھی لال مسجد کی صورت میں۔ لاہور میں 27 جنوری کو ایک امریکی ریمونڈڈیوس کے ہاتھوں تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت نے قومی میڈیا میں جو نمایاں جگہ پائی ہے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو بطورِ خاص مقتولین کے ورثا سے ملاقات کرکے ان کو تسلی دینا پڑی ہے ‎، اس سے ایسے واقعات کی حساسیت کا پتہ چلتا ہے کہ ان سالوں میں امریکہ کی بڑھتی مداخلت اور حکومت سے جاری مفاہمت کو عوام کس تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اس انتہاپسندی کو بڑھانے میں مشرف حکومت کا بڑا کردار ہے جس کے ایک نمائندہ پرویز مشرف کے مقرر کردہ گورنر سلمان تاثیر بھی تھے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد سے یہ انتہا پسندی ہماری سیاست کا ایک لازمی حصہ بن گئی ہے جس کی ایک نمایاں مثال گورنر پنجاب اور ن لیگ کی باہمی انتہاپسندانہ سیاست اور بیان بازی بھی رہی ہے۔ سیاست کے ایوانوں میں یہی انتہا پسندی کبھی ن لیگ اور ایم کیو ایم کے مابین سنگین الزامات کی صورت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ امریکی تسلط او رجارحیت کے اس دور میں ہمارے معاشرے کا عام آدمی غربت کی چکی میں پس کررہ گیا ہے۔یہ مظلومیت اور بداعتمادی پاکستان ہی نہیں، پورے عالم اسلام کی پہچان بنتی جارہی ہے کہ یہاں کے حکمران عوام کی خواہشات کے برعکس اُن پر مسلط ہیں ۔ اور عالمی قوتیں اپنے ملکوں میں عوامی خواہشات کی پاسداری کے دعووں کے باوجود عالم اسلام کے ایسے مطلق العنان حکمرانوں کو نہ صرف اپنی ہر طرح کی تائید سے نواز رہی ہیں بلکہ اُن سے ایسے معاہدے کررہی ہیں جو مسلم عوام اور ان کے نظریات واقدار پر مزید ظلم وستم ڈھانے کے مترادف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات میں انتہاپسندی کو پروان چڑھاتے چڑھاتے حکمران جماعت کا کوئی فرد اپنی پیدا کردہ آگ میں جل جائے تو معاشرے کے متاثر طبقوں میں اس کے ساتھ وہ ہمدردی بھی نظر نہیں آتی جو ہرمقتول کا ایک انسانی حق ہوا کرتی ہے۔اگر پاکستان کا لادین اور مقتدر طبقہ اس انتہاپسندی کا شاکی ہے تو پاکستان کے عوام پر جبروستم کی سیاست کا خاتمہ کرکے، ان کی مرضی اور پاکستان کے مقصد کے عین مطابق سنجیدہ اورٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، وگرنہ حکمران عالمی قوتوں سے اپنے مفادات کے حصول کے لئے گٹھ جوڑ کرتے رہیں گے اور عوام اپنے دائرہ اختیار میں اپنی مرضی کریں گے۔
اگر آج پاکستان کے حکمران پاکستان کا حقیقی منظرنامہ دیکھنا چاہتے ہیں تو توہین رسالت کے قانون اور اس سلسلہ میں حکومتوں کے کردار پر ملک بھر میں ریفرنڈم کرا کے دیکھ لے، ممتاز قادری کے اقدام قتل اور سلمان تاثیر کے واقعہ پر عوامی ریفرنڈم کرائے۔ ڈرون حملوں پر ریفرنڈم کرا کے دیکھے، امریکی مداخلت پر ریفرنڈم کرائے تو رائے عامہ کی کثرت سے اُن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
پاکستان میں زندگی کے ہر میدان میں جاری دس سالہ جارحیت کے بعد ایک انقلاب دستک دے رہا ہے جو کبھی طالبان کی صورت میں دین کے نام کا سہارا لیتا ہے تو کبھی وکلا تحریک کی صورت میں سیاسی بدعنوانیوں کا راستہ روکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ہمیں پاکستانیوں کو جائز حقوق دینے ہوں گے، وگرنہ جبر کا سلسلہ جوابی ردعمل کی صورت میں جاری رہ کر پاکستانی معاشرے کو تباہ وبرباد کردے گا۔
یہاں قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ اس انتہاپسندی کی قیادت روایتی مذہبی طبقے نہیں کر رہا بلکہ اس غم وغصہ کا حالیہ مظہر مغربی نظام تعلیم کے فیض یافتہ ایک نوجوان ممتاز قادری میں نظر آیا ہے۔ اخبارات میں آیا ہے کہ ممتاز قادری عام پاکستانی نوجوانوں جیسے رجحانات اور کردار کا حامل ہے، اور دینی مدارس یا دینی تنظیمیں جنہیں مغرب زدہ لوگ فرسٹریشن کا شکار قرار دے کر نظر انداز کردیتے ہیں، ان میں قادری کا شمار نہیں ہوتا۔
حکومت کے لئے فکر مندی کا پیغام یہ ہے کہ اگر یہ انتہاپسندی راسخ العقیدہ لوگوں سے بڑھ کر پورے معاشرے میں سرایت کرچکی ہے تو پھر حکومت اس کاعلاج چند لوگوں کو نشانہ بنا کر نہیں کرسکتی۔ اس کے لئے حکومت کو معاشرے سے ظلم وجبر اور تشدد و جارحیت کا خاتمہ کرنا ہوگا، اس کے لئے عملی اورٹھوس اقدامات بروے کار لانا ہوں گے۔ رواداری کی یک طرفہ تلقین ، بے کار وعظ کے سوا کچھ نہ ہوگی!!
الغرض پاکستان کا یہ الم ناک منظر نامہ حکمران طبقہ اور مغرب زدہ اقلیت کے انتہاپسند اقدامات کا ہی ردّعمل ہے۔ سلمان تاثیر نے قانون توہین رسالت کو 'سیاہ قانون' کہہ کر جس انتہاپسندی کو اختیار کیا تھا، اُسی کے ردعمل کا وہ شکار ہوگیا!!
سلمان تاثیر کا قتل کیا ایک مظلوم عورت آسیہ مسیح کی مدد کی سزا ہے؟
اگر ہمارے حکمران عوام میں ہونے والے کسی ظلم کے خلاف ان کی داد رسی کے لئے کھڑے ہوں تو یہ ایک قابل قدر امر ہے اور ہر شریف انسان اس کی تائید کرے گا، لیکن افسوس ہمارے حکمرانوں کا ماضی اس کردار سے آشنا نہیں۔ درحقیقت سلمان تاثیر نے کسی مظلوم عورت کی مدد نہیں کی، بلکہ ایسی عورت جو نہ صرف توہین رسالت بلکہ توہین قرآن اور توہین ازواجِ مطہرات کی مرتکب ہے اور کئی بار اس کا اعتراف کرچکی ہے، سیشن کورٹ کے جج نے سال بھر کی تفصیلی سماعت کے بعد اس کو توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور موت کی سزا سنائی ہے، ایسی عورت کو سلمان تاثیر نے بری قرار دے کر ، توہین رسالت کے خلاف اپنے داخلی رجحانات کی نشاندہی اور پاکستان کے عدالتی نظام پر بے اعتمادی کا برملا اظہار کیا ہے۔ اور بعدازاں یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں جو کچھ کرتا ہوں، اس پر یقین رکھتا ہوں۔ گورنر تو قانون کا محافظ اور سربراہِ مملکت کا نمائندہ ہوتا ہے لیکن یہی صوبے کا قانونی سربراہ اگر قانون شکنی کو اپنی پہچان بنا لے اور عدالتی نظام کو بھی پس پشت ڈال دے تو عوام الناس کے لئے اس سے کیا پیغام ملتا ہے۔یہ سلمان تاثیر ہی تھے، جنہوں نے گذشتہ سال بسنت کے موقع پر قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کے باوجود کھلم کھلا یہ کہا تھا کہ میں تو گورنر ہاؤس میں پتنگ بازی کروں گا !!
اگر آسیہ مسیح توہین رسالت کے علاوہ کسی اور جرم کی مرتکب ہوتی تو سلمان تاثیر اس کو کبھی معصوم اور مظلوم بی بی قرار نہ دیتے۔ ان کا یہ صفائی نامہ اور اپنی بیٹیوں اور بیوی کے ہمراہ جاکر اس سے اظہارِ ہمدردی کرنے کا پروٹو کول آسیہ مسیح کو قطعاً حاصل نہ ہوتا۔توہین رسالت کے واضح ارتکاب اور مکرر اعتراف کے باوجود آسیہ کے بارے میں معمولی سی ذہنی خلش اور نفرت کا بھی پیدا نہ ہونا گورنر کے دل میں دینی غیرت و حمیت کے خاتمے کی دلیل ہے۔ایسے ہی موقع پر اللہ نے قرآنِ کریم میں یہ تعجب آمیز انداز اختیار کیا ہے:
﴿قُل أَبِاللَّهِ وَءايـٰتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ٦٥ ﴾.... التوبة
''کیاتمہیں تمسخر اور استہزا کے لئے اللہ ، اس کی آیات اور اس کا رسول ہی ملتے ہیں۔''
کیاسلمان تاثیر نے ایک قانون کوہی 'کالا قانون' قرار دیا تھا؟
اخبارات میں سیکولر دانشور اور ٹی وی کے اینکر پرسن بڑی تکرار سے یہ بات دہرا رہے ہیں کہ سلمان تاثیر نے کالا قانون تو محض ایک پاکستانی قانون کو قرار دیا تھا، شریعت اسلامیہ کو تو نعوذ باللہ کالا قانون نہیں کہا تھا۔
سلمان تاثیر کا قانون توہین رسالت کے بارے جو رویہ تھا، اور آسیہ مسیح کی صفائی کے بارے جو موقف تھا، وہ اخبارت میں تکرار سے شائع ہوتا رہا ہے۔ ان کی رو سے سلمان نہ صرف اس قانون کو 'کالا قانون' قرار دیتے رہے بلکہ علماے کرام کے بارے میں بھی یہ کہتے کہ ''میں ان کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں، ان کے فتووں کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتا اور جو کہتا ہوں، اس پر دلی ایمان رکھتا ہوں۔''سلمان تاثیر نے آسیہ مسیح کی بریت کے بارے میں 20 نومبر کو شیخوپورہ جیل میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں توہین رسالت کے قانون کو تکرار کے ساتھ 'ظالمانہ قانون' بھی قرار دیا۔ان ہفوات کے بارے میں یہ نکتہ طرازی کرنا کہ یہ شریعت ِاسلامیہ کی توہین نہیں، بلکہ چند انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی توہین ہے، جس کی سنگین سزا نہیں ہوسکتی، ایک عذرِ لنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔اوّل تو یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے جس کا موقف جمہوری دعویٰ کے مطابق عوام الناس کی رائے سمجھا جاتا ہے۔ ان بیانات میں عوامی رائے کی تذلیل پائی جاتی ہے۔ یہ اس دستور اور قانون کی بھی توہین ہےجس کی پاسداری اور احترام کا حلف اٹھا کرہی گورنر جیسے اہم منصب پر فائز ہوا جاسکتا ہے۔گورنر جو کسی صوبے کا آئینی سربراہ ہے، وہ ملک کے نظام عدل کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس اہم منصب پر بیٹھ کر پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین اور نظامِ عدل کی توہین شروع کردے تو اس سے عوام میں کیسی قانون پسندی کو رواج ملے گا؟ جہاں تک 295 سی میں درج قانون توہین رسالت کی بات ہے جو صرف تین سطروں پر مشتمل ہے، تو یہ کوئی انسانی قانون نہیں بلکہ قرآن وسنت کا براہِ راست تقاضا اورشریعت کے عین مطابق ہے۔ اس کی اصلاح پہلے وفاقی شرعی عدالت کے فاضل جج صاحبان نےملک بھر کے جید علما ے کرام کی تفصیلی معاونت سے کی،پھرپاکستان کے دونوں ایوانوں نے 1992ء میں متفقہ منظوری دے کر اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔قانونِ امتناع توہین رسالت کا متن حسب ِذیل ہے:
''جو کوئی الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا نقوش کے ذریعہ، یا کسی تہمت، کنایہ یا در پردہ تعریض کے ذریعے بلا واسطہ یا بالواسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی توہین کرے گا تو اسے موت کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔''
مذکورہ بالا قانون اسلامی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔اس کو 'انسانی قانون' قرار دینا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص نعوذ باللہ قرآنِ کریم کی توہین کرنے کے بعد کہے کہ میں نے تو اس کتاب کی توہین کی ہےجسے پرنٹنگ مشین نے چند سو صفحات پرشائع کیا تھا۔
شریعت کے متعدد احکام علما اورفقہاے کرام اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں ۔ کیاان احکام کا محض اس بنا پر انکار کردیا جائے کہ یہ ہو بہو قرآن یا رسول کریم ﷺکے اپنے الفاظ نہیں ہیں؟ ان حالات میں شریعت ِ اسلامیہ پر عمل کیسے کیا جائے؟ قرآن کے کسی حکم کو جب ہم اپنے الفاظ میں بولیں گے تو کیا محض اس بولنے کی بنا پر وہ قرآنی حکم نہیں رہ جائے گا۔
جب قانون توہین رسالت اور شریعتِ اسلامیہ کے مقصود ومدعا میں معمولی فرق بھی نہیں ہے ، اور ماضی میں جو معمولی فرق تھا، اس کو طویل عدالتی جدوجہد کے بعد رفع کردیا گیا ہے توپھر یہ دعویٰ کیا حقیقت رکھتا ہے کہ میں تو چند انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی مخالفت کررہا ہوں؟ پاکستان میں کسی قانون کو شریعت ِاسلامیہ کے عین مطابق کرنے کی جو زیادہ سے زیادہ ممکنہ اورمعیاری ترین صورت ہے، قانون توہین رسالت ان تمام معیارات کو سوفیصد پورا کرتا ہے۔اس کے بعد اس کو چند انسانوں کا قانون کہہ کر تختہ تمسخر و مذاق نہیں بنایا جاسکتا بلکہ اسے شریعت ِاسلامیہ کی ہی توہین قرار دیا جائے گا۔
کوئی مسلمان شریعت کے کسی ایک مسلمہ حکم کے انکار سے ہی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، کجا یہ کہ شریعت کے کسی مسلمہ حکم کو'کالا قانون' کہہ کر اس کی توہین بھی کی جائے۔یہی وجہ ہے کہ سلمان تاثیر کے ان بیانات پر اخبارات میں شائع ہوچکا ہے کہ پاکستان کے علما کی اکثریت نے 30 نومبر کوہی اس کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا۔
قانون توہین رسالت موجود ہے، ممتاز قادری کو عدالت سے رجوع کرنا چاہئے تھا
کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری کو اپنے تئیں کوئی سنگین اقدام کرنے سے بہتر تھا کہ وہ قانون کا سہارا لیتا اور اگر کہیں شرعاً کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے تھا۔ جہاں تک ممتاز قادری کے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں ایک سے زیادہ رائے ہوسکتی ہیں، اور شریعتِ اسلامیہ میں بھی یہی واحد حل نہیں ہے کہ کوئی مسلمان اُٹھ کر سلمان تاثیر کو قتل کردیتا۔ تاہم عدالت سے رجوع کرکے آسیہ مسیح یا سلمان تاثیر کو توہین رسالت کی سزا دلوانے کا مطالبہ کرنے والے لوگ بھی خیالوں اور واہموں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اوّل تو اُنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس قانون کی تاریخ نفاذ 1992ء سے اَب تک توہین رسالت کے 986 کیس درج ہوئے ہیں، لیکن آج تک کسی کو توہین رسالت کی سزا نہیں ہوسکی۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کا ارتکاب ایسے ملعونوں کوکافرانہ قوتوں کی آنکھ کا تارا بنادیتا ہے، ان کو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا اور کفر کا پورا طائفہ اپنا لاؤ لشکر لے کر اس کی حمایت میں کھڑا ہوجاتا ہے۔ایسے بدبختوں اور ان کے خاندانوں کوعیسائی مشنری ادارے اور مغربی این جی اوز سپانسر کرتے اور ان کے تحفظ کے لئےعالمی قوتوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔جیسا کہ پوپ کے حالیہ بیانات، آسیہ کے لئے دعا اور پاکستان پر دباؤ اس ملاقات کا نتیجہ ہیں جو وزیر اقلیتی اُمور شہباز بھٹی نے براہ راست ویٹی کن میں جاکر لابنگ اور جوڑتوڑ کے نقطہ نظر سے کی۔ ہماری عدالتیں بھی آغاز میں تو ان کو سزا دے لیتی ہیں، لیکن جونہی ان پر پریشر پڑتا ہے تو اعلیٰ عدالتوں کے لئے اپنے فیصلوں پر ڈٹے رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں 1994ء میں رحمت اور سلامت مسیح کا کیس بالکل واضح ہے، جن کو سیشن کورٹ سے سزائے موت کے بعد ہائیکورٹ میں اس کی اپیل کے مراحل اس سرعت سے طے کئے گئے اور اس کے فوراً بعد ان کو بیرونِ ملک جرمنی روانہ کردیا گیا کہ مزید کسی قانونی پیش قدمی کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔
جہاں تک سلمان تاثیر کی ممکنہ براہ ِ راست توہین رسالت اور اس کی سزا کا تعلق ہے تو یہ بھی یادر ہنا چاہئے کہ پاکستان کے دستور کی دفعہ 248 کی رو سے صدر، گورنر اور وزرا کو عدالتی باز پرس سےاستثنا حاصل ہے جو شریعت ِاسلامیہ کے سراسر خلاف ہے۔ جب اسلام کی مقدس ترین ہستی سید المرسلین محمدﷺ اور آپ کی محبوب بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا اور خلفاے راشدین کو عدالتی باز پرس سے کوئی استثنا حاصل نہیں تو پھر مسلمانوں کا ایک ذیلی حکمران کس بنا پر قانون سے بالا تر ہونے کا استحقاق حاصل کرتا ہے؟
دراصل امتناعِ توہین رسالت کا حقیقی قانون نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیرمسلموں کی اہم ضرورت ہے۔اوّل تو اس قانون کے ذریعے نبی کریم ﷺکی اہانت اور دیگر مذاہب کی توہین ایک قابل سزا جرم بن جاتی ہے۔ ثانیاً، برصغیر کی ماضی قریب کے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ اس قانون کی غیرموجوگی یا غیر مؤثر ہونے کے دوران قانون کو ہاتھ میں لے کر گستاخِ رسول کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ اس قانون کی عدم تاثیر مسلم عوام کو کسی گستاخ رسول کا خاتمہ خود کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ غاز ی علم الدین شہید کے ہاتھوں واصل جہنم ہونے والا لاہور کا راج پال ہو یا کراچی کا نتھو رام، اُن کا قتل انہی حالات میں ہوا جب یہ قانون موجود نہیں تھا۔اور سلمان تاثیر کے حالیہ قتل کے پیچھے بھی اس قانون کے غیرمؤثر ہونے کی بنیادی وجہ موجود ہے۔ یہی بات مجاہد ناموسِ رسالت جناب محمد اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب میں بھی لکھی ہے :
''قانون توہین رسالت ان تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے خلاف فردِ جرم ثابت نہ ہو۔ورنہ ماضی میں بھی مسلمان سرفروشوں نے ایسے موقعوں پر قانون کو ہاتھ میں لیا اور گستاخانِ رسول کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس قانون کے پاکستان میں نافذ ہونے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایسے ملزم کی سزا کا معاملہ افراد کے ہاتھوں کے بجائے عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آگیا ہےجو تمام حقائق اور شہادتوں کابغور جائزہ لےکر جرم ثابت ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو مستوجب ِسزا قرار دے گی۔''
جناب قریشی صاحب نے قانون سازی ہوجانے کے بعد اس امر کو پاکستان کے لئے خوش کن قرار دیا ہے لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قانون سے کھلم کھلا مذاق کیا جاتا ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی سرعام توہین کی جاتی ہے۔یہاں تو قانون موم کی ایسی ناک ہے جس کو ہرطرف موڑا جاسکتا ہے۔این آر او کے فیصلے سے کیا گیا مذاق ایک کھلی حقیقت ہے۔ سلمان تاثیر کے قتل کے روز ق لیگ کے ایم این اے وقاص اکرم سے کیپٹل ٹاک میں انٹرویو کیا گیا، ان کے چچا بھی اسی طرح اپنے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے تھے۔وقاص اکرم جو برسراقتدار ایم این اے ہیں ، کا کہنا تھا کہ سالہا سال کے عدالتی عمل کے بعد ہماری عدالتوں نے تمام مجرموں کو بری کردیا اور ہم اپنے چچا کے قاتلوں کو سزا دلوانے سے قاصر ہیں۔ اس سے بڑھ کر پاکستان کے نظامِ عدل کا اور نوحہ کیا ہوسکتا ہے؟ سلمان تاثیر کا قتل موجودہ عدالتی نظام کے غیرمؤثر ہونے کی دلیل اور عوام کے اس پر بے اعتمادی کا استعارہ ہے۔ اگر پاکستان کے نظامِ عدل میں یہ قوت ہوتی اوروہ شریعت ِاسلامیہ کی رہنمائی پر کاملاً استوار ہوتا تو واقعتاً آج ممتاز قادری کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت قطعاً پیش نہ آتی اور اسلامیانِ پاکستان شاتمان رسول کو اس عدالتی نظام سے سزا دلوانے کاہی راستہ اختیار کرتے۔
پاکستان میں گذشتہ دنوں دہشت گردی اور اجتماعی قتل وغارت کے اس قدر سنگین واقعات پیش آئے کہ اگر کسی مغربی ملک میں ایسا کوئی ایک بم دھماکہ بھی ہوجاتا تو پوری حکومت مستعفی ہوجاتی۔ ان بم دھماکوں کے ذریعے پاکستانی قوم پر اجتماعی ہلاکت وغارت گری مسلط کردی گئی ہے، عوام اپنی لاشیں اُٹھا اُٹھا کر نڈھال ہیں او رظلم سہنے والوں کی آنکھیں رنج وغم سے پتھرا چکی ہیں، اس کے باوجودکسی ایک واقعہ میں کسی ایک مجرم کوبھی قرارِ واقعی سزا نہ دی گئی۔ دہشت گردی کی عدالتیں اور وسیع وعریض نظامِ عدل کی ناکامی کی اس سے بڑی کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ اس کے بجائے ان مجرموں کی روزانہ میل ملاقات، عدالتی حاضریاں اور پیشیاں،گواہیاں ایسا مذاق ہے جس کو دیکھ کر متاثر ہ فرد کا خون کھولتاہے۔ اس نظا مِ عدل کی کسمپرسی کا اندازہ تو اس سے لگائیے کہ گورنر پنجاب جیسے بڑے عہدے کے فرد کو برسرعام قتل کردیا گیا، مجرم نے اعتراف بھی کرلیا اور معاملہ بڑا واضح ہے لیکن چار ہفتے ہونے کو آئے ہیں، اور فیصلہ کا دور دو رتک کوئی امکان نہیں۔ ہر طرف ابہام ہی ابہام اور تاخیر ہی تاخیر ہےحالانکہ فیصلہ میں تاخیر بھی تو انصاف کا قتل ہے۔ اس انگریز پرور نظامِ عدل سے مسلم معاشرے کبھی چین وسکون حاصل نہ کرسکیں گے۔ اگر دہشت گردی کے کسی حقیقی مجرم کو سرعام پھانسی دے کر عبرت کا نشان بنا دیا جاتا تو آج پاکستان میں عوام کا خون اور معاشرے کا چین سکون اتنا اَرزاں نہ ہوتا۔
جب قانون موجود ہی نہ ہو، قانونی استثنا حاصل ہو یا سنگین جرم کے باوجود مظلومین کے لئے داد رسی کے دروازے بند ہوں اور انصاف میں بلاجواز تاخیر ہورہی ہو تو ایسے حالات میں توہین رسالت ایسا حساس مسئلہ ہے کہ مسلم عوام قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ غازی علم دین شہید کو بھی قانون سے داد رسی کی کوئی اُمید نہ تھی، جانے سے قبل باپ سے مکالمہ کرکے گیا اور اس کے باپ نے اس کو قتل کی سزا سے خبردار کردیا تھا، لیکن اس نے حب ِرسولﷺ میں شاتم رسول کے ایک معاون راج پال کو، جس نے 'رنگیلا رسول 'شائع کی تھی،قانون کو ہاتھ میں لیتےہوئےجہنم واصل کردیا۔ او ریہ ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے کہ اس نازک موقع پر لاہور میں علامہ اقبال نے مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کی۔ قائد اعظم جو اس وقت چوٹی کے مسلم وکیل تھے، اُنہیں علم دین شہید کےاقدامِ قتل کے دفاع کے لئے انہوں نے بلایا۔ قائد اعظم لاہور ہائیکورٹ میں ایک ہی بار پیش ہوئے او روہ غازی علم دین کے دفاع کا مقدمہ تھا۔ علم دین کو معافی تو نہ ملی اور پھانسی کی سزا ہوگئی لیکن اس سے برصغیر کے مسلمانوں کا جوش وجذبہ شعلہ جوالا کا روپ دھار گیا۔علامہ اقبال کی قیادت میں مسلمانوں کے پرزور مطالبے پر غازی علم دین کی میت کو میانوالی جیل سےلاہور منتقل کیا گیا۔ لاہور میں مسلمانوں کی نمائندہ شخصیات نے اس معاملہ میں عوامی جذبات کی قیادت کی، علامہ اقبال کو علم دین کا جنازہ پڑھانے کی دعوت دی گئی ۔مولانا ظفر علی خاں نے علم دین کو قبر میں اُتارا اور محب ِرسول اقبال علیہ الرحمہ نے یہ تاریخ ساز جملہ کہا کہ
''ترکھانوں کا بیٹا ‎، پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گئے۔''
آج موقع بے موقع 'قائد اعظم کے پاکستان' کی بات کی جاتی ہے۔ ان کی مزعومہ روشن خیالی کو دلیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مقتول گورنر نے بھی آسیہ مسیح کو معصوم قرار دینے والی پریس کانفرنس میں تین بار قائد اعظم کا حوالہ دے کر پاکستان کو روشن خیال بنانے کی بات کی ہے۔ تحریک ِپاکستان کی قیادت بشمول قائد اعظم کا اس معاملے میں موقف تو بالکل واضح ہے، توہین رسالت ایسے حساس مسئلہ پر قانون کو ہاتھ میں لینا تو کجا، جبکہ اس پر کوئی قانون ہی موجود نہ تھا،قتل کے مجرم کا پرزور دفاع قائد کے دلی جذبات کا بہترین عکاس ہے۔ سب بخوبی جانتے ہیں کہ جناح ایسے مقدمہ کی وکالت کی کبھی حامی نہ بھرتے جس سے وہ متفق نہ ہوتے۔ علامہ اقبال نے اُنہیں علم دین کے دفاع کی دعوت بھی دی اور تحریک ِپاکستان کی قیادت کی دعوت بھی دی ۔ قیام پاکستان سے 18 برس قبل یہ واقعہ اس قومی رجحان اور ضرورت کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے جس کےلئے پاکستان کی دھرتی حاصل کی گئی۔
علم دین شہید کے مقدمہ کے چند سال بعد،مارچ1934ء میں کراچی میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں نتھورام نامی ہندو کو 'ہسٹری آف اسلام' میں توہین رسالت کے ارتکاب پر ایک باغیرت مسلم نوجوان غازی عبد القیوم نے عین کمرۂ عدالت میں جج کے سامنے ذبح کردیا تھا۔ یہ واقعہ بھی بڑا ایمان افروز ہے جس میں قانون کو ہاتھ میں لیا گیا تھا۔اس موقعہ پر بھی اہل کراچی نے عبد القیوم کی حمایت میں ایک عظیم الشان جلوس نکالا اور کراچی کے عمائدین لاہور میں علامہ اقبال کے پاس حاضر ہوئے اور اُن سے کہا کہ وائسرائے ہند سے آپ عبد القیوم کی سزا میں تخفیف کا مطالبہ کریں۔ علامہ اقبال نے پوچھا کہ'' کیا عبد القیوم گھبرا گیا اوراس کے قدم ڈگمگا گئے ہیں؟ اس کو کہو کہ میں جنت کو اس سے چند قدم کے فاصلے پر دیکھ رہا ہوں۔'' کراچی کے لوگوں کے مکرر مطالبے پر علامہ اقبال نے ایک تاریخ ساز رباعی کہی جو 'ضرب ِکلیم' میں 'لاہور وکراچی' کے نام سے موجود ہے:
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر وقیمت میں ہے خون جن کاحرم سے بڑھ کر
ہماری عدلیہ کو ممتاز قادری کے مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے، مسلمانان برصغیر کے جذبہ ایمانی، غیرت ملی اور بانیانِ پاکستان کی اس تاریخ ساز رہنمائی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔
سلمان تاثیر کے جرم کی سنگینی
سلمان تاثیر کی سزائے قتل پر شریعت اسلامیہ میں ایک سے زیادہ آرا ہیں جن کی تفصیل ممتاز قادری کے اقدام کی شرعی حیثیت کے ضمن میں پیش کی جائے گی۔ تاہم اسلام جو جدید نظام ہائے عدل سے بڑھ کر ایک ایسا بھر پور اور مکمل عادلانہ نظام ہےجس کی قانونی جزئیات اور دقیق تصورات عالمانہ گہرائی اور گیرائی سے مالا مال ہیں، اس میں جرم کی سزا کا تعین جرم کی نوعیت کے عین مطابق کیا جاتا ہے، نیزاس میں کسی جرم کے ردّعمل میں ہونے والےجرم کی سزا کا تعین پہلے جرم کی روشنی میں ہوتا ہے۔
سلمان تاثیر نے توہین رسالت ایسے حساس شرعی قانون کو کالا قانون قرار دیا، کھلم کھلا یہ ہفواتی دعویٰ کیا، ایک انتہائی ذمہ دار عہدے پر فائز ہوتے ہوئے کیا، اور توہین رسالت کی مجرمہ کی اپنے پورے کنبہ کے ساتھ تائید کی، اس کو معصوم قرار دیتے ہوئے اس سے اظہارِ ہمدردی کیا،اس کے جرم کو اپنے ذمہ لے لیا اور اس کو معافی کی ضمانت دی۔ جس کا اس کے سوا کیا مطلب ہے کہ اس نے توہین رسالت کے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرکے اُنہیں قانونی پازپرس اور گرفت سے بالا تر کرنے کی کوشش کی۔ ان حقائق کو دیکھا جائے تو سلمان تاثیر کایہ جرم محض شریعت کے کسی حکم کے انکار تک محدود نہ تھا، بلکہ شریعت ِاسلامیہ کی اہم ترین شخصیتﷺ کی توہین کی تائید، اس تائید پر اصرار اور عملاً اس کے مرتکبوں کی حمایت تھا اور ظاہر ہے کہ یہ سب کوئی چھوٹے جرائم نہیں !
احادیث میں عکل او رعرینہ کے بادیہ نشینوں کا قصہ آتا ہے جو نبی کریم ﷺکے پاس اسلام سیکھنے کے لئے آئے۔ جب مدینہ کی آب وہوا ان کو راس نہ آئی توآپ نے اپنے چرواہے کے ساتھ اُنہیں بیت المال کے اونٹوں کا دودھ پینے کی تلقین کی۔ مدینہ کے مضافات میں کچھ دن رہنےکے بعد جب یہ لوگ صحت یاب ہوگئے تو جاتے ہوئے آپ کے چرواہے کو قتل کردیا اور بیت المال کے اونٹ ہنکا کر لے گئے۔ آپﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صحابہ کو اُنہیں پکڑنے کو بھیجا اور گرفتار ہونےکے بعد رحمۃ للعالمین نے اُنہیں دردناک سزا سنائی، جو اسلامی تاریخ کی ایک سنگین سزا ہے:
1. اس جرم کے مرتکبین کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے جائیں، اور ان کو داغ کر خون کو تھمنے نہ دیا جائے۔
2. ان کی آنکھوں میں آگ پر تپائی ہوئی سلاخیں پھیری جائیں، جبکہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ گرم سلاخوں سے اُن کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں۔
3. تپتی ریت پر ان کو تڑپنے کے لئے چھوڑ دیاجائے۔
4. ان کی پیاس کی شدت یہ تھی کہ زمین کو کاٹتے اور چاٹتے تھے، لیکن ان کو پانی نہ دیا گیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔
عکل اور عرینہ کے لوگوں کی یہ دردناک سزا محض ارتداد کی نہیں بلکہ اس میں احسان فراموشی، مسلم چرواہے کا قتل، بیت المال کے اونٹوں کو ہنکا کر لے جاناوغیرہ تمام جرائم کی سزا شامل تھی جو رحمتہ للعالمینﷺ کی عدالت سے صادر ہوئی۔یہ واقعہ درجنوں احادیث میں بیان ہوا اور سنداً متواتر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم کی سنگینی کی بنا پر اس کی شرعی سزا میں بھی شدت پیدا ہوجاتی ہے۔
شریعتِ اسلامیہ کا ایک معروف اُصول یہ بھی ہے جو اس فرمانِ نبوی میں بیان ہواہے:
«كل أمتي معافى إلا المجاهري»ن (المعجم الصغير للطبراني: 2 /237)
''میری ساری اُمت کو معافی دی جاسکتی ہے مگر کھلم کھلا گناہ کرنے والے کو نہیں۔''
چوری چھپے زناکاری کرنے والے کی بہ نسبت اس زناکار کا جرم زیادہ سنگین ہے جو عوام الناس میں کھلم کھلا اور ڈنکے کی چوٹ پر اس فعل بد کا ارتکاب کرتا ہے۔ چوری کی سزا قطع ید ہے، لیکن دھونس اور دہشت گردی سے مال چرانے والے پر اسلام نے حرابہ کی سنگین تر سزا عائد کی ہے۔مزید برآں اہم ذمہ داری پر فائز شخص کا جرم بھی بڑا ہوتا ہے۔
سلمان تاثیر کے قتل نے بہت سے تلخ حقائق کو ظاہر کیا ہے۔ممتاز قادری نے صرف اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اپنے بھرپور غم و غصہ کا اظہار اس پر 26 گولیوں کا برسٹ مار کر کیا ہے۔ سلمان کے محافظوں نے اس کو نہ روک کر اوراقدامِ قتل کے بعد اس پر کسی جارحیت نہ کرکے بہت سے پیغامات دیے ہیں۔کسی دفاعی یا جوابی گولی کے بغیر ممتا ز کو گرفتار کرنے میں بہت سی عبرتیں پوشیدہ ہیں۔ کیا ممتاز قادری کی کوئی ذاتی دشمنی گورنر سے تھی جس کے لئے اس نے یہ بے دردانہ رویہ اختیار کیا۔ان محافظوں کی اس سے وہ کونسی دلی ہم دردی تھی کہ اُنہوں نے اس پر معمولی سی جارحیت بھی نہ کی اور محافظوں کی جانب سے کسی گولی یا معمولی مزاحمت کا بھی سامنا نہ کرنا پڑا۔ وقوعہ قتل کا یہ نقشہ قتل سلمان تاثیر کے جرم اور اس کے بارے میں رائے عامہ کو ظاہر کرتا ہے۔
سلمان تاثیر کا جنازہ نہ پڑھنے کے بارے میں علمائے کرام میں پائی جانے والی شدید تشویش بھی اسی عمومی تاثر کو ظاہر کرتی ہے جس میں سلمان تاثیر کا جرم اگر براہِ راست اہانت رسول نہیں تو توہین رسالت مآب کی معاونت، سرپرستی او رتائید ضرور تھا جو انتہائی سنگین جرائم ہیں۔ ذاتِ رسالت سے مسلمان کا تعلق چونکہ قانونی سے زیادہ جذباتی محبت کا متقاضی ہے، اس بنا پر علماءکرام سلمان تاثیر کے جنازے سے کنارہ کش رہنے کو ہی ترجیح دیتے رہے۔
ممتاز قادری کو ملنے والی اپنائیت بھی مسلمانوں کے نبی کریمﷺ سے والہانہ عقیدت اور محبت کا ایک پہلو ہے کہ وہ ایسے کسی بھی شخص سے جو تقدیس رسالت کی حفاظت کیلئے جان تک قربان کردینے کو تیار ہو، ایک گہری محبت اور اپنائیت رکھتے ہیں۔ سلمان تاثیر مقتول ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی سے محروم ہوا اور ممتاز قادری قانون کو ہاتھ میں لینے کے باوجود محبت کا حصہ وصول کررہا ہے، یہ مسلمانان پاکستان کے اپنے نبی مکرمﷺ سے گہری وارفتگی اور دلی محبت کا آئینہ ہے۔اللہ تعالیٰ ملت ِاسلامیہ کے حب ِرسول میں اسقدر اضافہ فرمائے کہ آپکی شان میں دریدہ دہنی کرنے والوں پر دلی رعب مسلط ہوجائےاور وہ محبوب الٰہی کے تقدس کو پامال کرنے کے مکروہ خیال سے بھی عبرت پکڑیں۔ (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)