میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

امام اسحاق بن راہویہ:امام اسحاق بن راہویہ کا شمار ان اساطین امت میں ہوتا ہے جنھوں نے دینی علوم خصوصاً تفسیر حدیث کی بے بہا خدمات سر انجام دیں۔آپ کے اساتذہ میں امام عبداللہ بن مبارک (م181ھ) امام وکیع بن الجراح اور امام یحییٰ بن آدم کے نام ملتے ہیں۔امام اسحاق بن راہویہ کو ابتداء ہی سے علم حدیث سے شغف تھا۔لیکن اس کے ساتھ ان کو تفسیر وفقہ میں دسترس تھی۔خدا داد استعداد وصلاحیت اورقوت حافظہ سمیت حدیث کے ساتھ ان کے شغف وانہماک نے ان کو تبع تابعین کےزمرے میں ایک ممتاز حیثیت کا مالک بنا دیاتھا ۔ممتاز محدثین کرام ان کے فضل وکمال اور تبحر علم کے معترف تھے۔خطیب بغدادی ؒ لکھتے ہیں۔کہ سنت کو زندہ کرنے میں اسحاق بن راہویہ کا بہت حصہ ہے۔

عادات اخلاق اور زہد وتقویٰ کے اعتبار سے وہ بہت ممتاز تھے اور علمائے کرام نے ان کےصدق وصفا،ورع وتقویٰ اور خشیت الٰہی کا اعتراف کیا ہے۔

امام اسحاق بن راہویہ فقہ میں ایک مسلک کے بانی تھے جسے اسحاقیہ کے نام سے پکارا جاتا ہے حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں۔

اسحاق بن راہویہ امام وقت تھے ایک گروہ ان کی تقلید کرتا تھا اور ان کے مسلک کے مطابق مسائل کا استنباط اور اجتہادکرتاتھا۔

امام اسحاق بن راہویہ نے 77 برس کی عمر میں238ھ میں انتقال کیا۔

امام قتیبہ بن سعید:امام قتیبہ بن سعید ثقفی 150ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے اساتذہ میں امام مالک بن انس امام وکیع بن الجراح اور امام لیث بن سعد کے نام ملتے ہیں۔23 سال کی عمر میں سماع حدیث کے لئے سفر کیا علمائے کرام نے ان کے علم وفضل اور تبحر علم کا اعتراف کیا ہے۔علامہ عبدالحئی بن العماد الحنبلی لکھتے ہیں۔ إليه المنتهى في الثقة ثقات میں ان کا آخری درجہ تھا۔

اور حافظ شمس الدین ذہبی نے ان کو الشیخ الحافظ محدث خراسان لکھا ہے۔اما قتیبہ بن سعید نے 2شعبان 240 ھ میں 91 سال کی عمر میں وفات پائی۔

امام احمد بن حنبل ؒ:۔اما احمد بن حنبل ؒ 164ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے۔تین سال کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوا۔بچپن میں قرآن مجید حفظ کیا۔اس کے بعد تحصیل علم کےلئے کوفہ ،بصرہ،مکہ ،مدینہ،یمن ،شام،اورجزیرہ کاسفر کیا۔آپ کے اساتذہ میں امام ابو یوسف ابو حازم واسطی اور امام محمد بن ادریس شافعی کے نام ملتے ہیں۔

40سال کی عمر میں (204ھ) میں انہوں نے حدیث کا درس دینا شروع کیا۔یہ بھی ان کاکمال اتباع سنت تھا کہ انہوں نے عمر کے چالیسویں سال جو سن نبوت ہے علوم نبوت کی اشاعت شروع کی۔

امام احمد بن حنبلؒ کی زندگی زہد وتوکل میں یکتائے روزگار تھی۔تواضح ومسکنت میں بھی آپ اپنی مثال آپ تھے۔مسئلہ "خلق القرآن" میں ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے تمام عالم اسلام ان کی شہرت سے معمورتھا۔علمائے کرام اور معاصرین نے ان کے علم وفضل حفظ وضبط،عدالت وثقاہت زہد ورع اور تقویٰ وطہارت کااعتراف کیا ہے۔امام ابو نعیم اصفہانی (م430ھ) نے امام یحییٰ بن معین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ۔

میں نے امام احمد بن حنبل ؒ جیسا متقی نہیں دیکھا۔میں 50 سال ان کے ساتھ رہا۔انہوں نے کبھی ہمارے سامنے اپنی صلاح وخیر پر فخر نہیں کیا۔

امام احمد بن حنبل ؒ کی تصانیف میں مسند احمد بن حنبل ؒ سب سے زیادہ مشہور ہے۔یہ حدیث کا سب سے ضخیم مجموعہ ہے۔اس میں 700 صحابہ کرامرضوان اللہ عنھم اجمعین کی روایات ہیں۔

امام احمد بن حنبل ؒ نے 77سال کی عمر میں 12 ربیع الاول 214ہجری میں بغداد میں انتقال کیا۔نماز جنازہ میں آٹھ لاکھ مرد اور 60ہزار عورتیں شامل تھیں۔

تلامذہ:۔

امام بخاریؒ کے تلامذہ اور مستفدین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔امام محمد بن یوسف فربریؒ جو امام بخاری ؒ کے ارشد تلامذہ میں تھے کہ روایت ہے کہ 90 ہزار آدمیوں نے الجمامع الصحیح البخاری کو امام صاحب سے براہ راست سناتھا۔اور ان کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔دنیائے اسلام کے مختلف گوشوں کے آدمی اس میں شریک ہوتے تھے۔امام صاحب کے تلامذہ میں بڑے پایہ کے محدثین کرام شامل ہیں۔

امام مسلم:۔

امام مسلم بن حجاج 204ھ میں خراسان کے شہر نیشاپور میں پیداہوئے۔امام صاحب کامولد ومسکن "نیشا پور" اس وقت علم وفن کامرکز تھا۔چنانچہ امام صاحب نے ابتدائی تعلیم علمائے نیشا پور سے حاصل کی۔بعد ازاں تحصیل حدیث کے لئے عراق،حجاز،شام،مصر،تشریف لے گئے۔اور ہر جگہ اساطین فن سے استفادہ کیا۔امام اسحاق بن راہویہ(م238ھ) جیسے بلند پایہ محدث آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔امام مسلم ؒ کے علم وفضل ،عدالت وثقاہت،زہد ورع اور تبحر علمی کا اعتراف ارباب سیر اورعلمائے کرام نے کیا ہے امام اسحاق بن راہویہ (م228ھ) جو کہ آپ کے استاد ہیں انہوں نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ:۔ اي رجل يكون هذا " خدا جانے کس بلا کا یہ شخص ہوگا۔"

امام مسلم ؒ اخلاق وعادات میں بہت ممتاز تھے۔ ساری عمر کسی کی غیبت نہیں کی۔اوراپنے اساتذہ وشیوخ کا بہت ا حترام کرتےتھے۔خصوصاً امام بخاریؒ کا بے حد احترام کرتے تھے۔امام مسلم کے مسلک کے بارے میں علمائے کرام میں اختلاف ہے۔محی السنہ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں (1307ھ) نے انہیں شافعی بتایا ہے۔

امام صاحب کی تصانیف میں الجامع الصحیح المسلم سب سے زیادہ مشہور ہے اور اس کو سب سے زیادہ شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی۔اس کانام ہمیشہ الجامع الصحیح البخاری کے بعد لیا جاتا ہے۔اما م مسلم ؒ نے اس کتاب میں ان احادیث کو درج کیا ہے جن کی صحت پر مشائخ وقت کو اتفاق تھا۔امام مسلم ؒ نے 25 رجب 261ھ کو نیشا پور میں انتقال کیا۔

امام ابو حاتم رازیؒ:۔

امام ابو حاتم ؒ رازی 190ھ میں پیدا ہوئے۔فن جرح وتعدیل کے بہت بڑے امام تسلیم کئے جاتے ہیں۔ان کی زندگی کی خصوصیات میں یہ امر مشہور ہے کہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں پیدل سفر کرتے تھے۔اور خودفرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک ہزار میل پیدل سفر کیا۔امام بخاریؒ کے ارشد تلامذہ میں ان کاشمار ہوتاہے۔بڑے صاحب فضل وکمال تھے۔ارباب سیر اور علمائے کرام نے ان کے علم وفضل،تبحرعلم،اور جلالت قدر کااعتراف کیا ہے امام ابو حاتم رازی ؒ نے شعبان 277ھ میں انتقال کیا۔

امام ابو عیسیٰ ترمذیؒ:۔

امام ابو عیسیٰ ترمذیؒ 205 ھ میں پیدا ہوئے۔امام صاحب نے جب ہوش سنبھالا تو اس وقت علم حدیث شہرت کے انتہائی درجے کو پہنچ چکا تھا۔بالخصوص خراسان اور ماوراالنہر کے علاقے تو مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔اور امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کی مسند علم بچھ چکی تھی۔امام ترمذیؒ نے تحصیل حدیث کے لئے مختلف ملکوں کاسفر کیا۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں کہ:۔

ﻃﺎﻑ ﺍﻟﺒﻼﺩ ﻭﺳﻤﻊ ﺧﻠﻘﺎ ﻛﺜﻴﺮﺍ ﻣﻦ ﺍﻟﺨﺮﺍﺳﺎﻧﻴﻴﻦ, ﻭﺍﻟﻌﺮﺍﻗﻴﻴﻦ, ﻭﺍﻟﺤﺠﺎﺯﻳﻴﻦ

"امام ترمذیؒ نے خراسان،عراق،اورحجاز کاسفر کیا اور ہرجگہ اساطین فن سے استفادہ کیا۔"

امام بخاری ؒ کے علاوہ امام مسلم ؒ بھی آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔اور امام ابوداؤد سجستانی بھی امام ترمذی ؒ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔یعنی ائمہ صحاح ستہ میں تین محدثین کرام کو آپ کے استادہونے کاشرف حاصل ہے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (1239ھ)فرماتے ہیں۔

امام ترمذی ؒ امام بخاریؒ کے مشہور تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں۔اور مسلم وابوداؤد اور ان کے شیوخ سے بھی روایت کرتے ہیں۔علم حدیث کے طلب میں بصرہ،کوفہ،واسط،رے،خراسان اور حجاز میں بہت سال گزارے۔

امام ترمذیؒ کاحافظہ بہت قوی تھا اور اس کے ساتھ زہد وتقویٰ میں بھی بہت ممتاذ تھے۔حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م1239ھ) لکھتے ہیں کہ:

"یعنی زہد وتقویٰ اس وجہ سے حاصل تھا کہ اس سے زیادہ کا تصورہی نہیں کیا جاسکتا۔اور خوف الٰہی سے بکثرت گریہ زاری کرتےتھے۔یہاں تک کہ آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔"

امام ترمذی ؒ کے مسلک کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔امام ترمذیؒ امام بخاری ؒ کے شاگردتھے ا س لئے ان پر مجتہدانہ رنگ غالب تھا۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں۔

وكان صاحب الحديث أيضا قد ينسب إلى أحد المذاهب لكثرة موافقته

یعنی محدثین کو کسی امام کی کثرت موافقت کی وجہ سے اسی مذہب کی طرف منسوب کردیا جاتا تھا"

مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے انہیں شافعی لکھا ہے۔

امام ترمذی کی تصانیف میں جامع الترمذی،کتاب العلل،اور شمائل ترمذی بہت مشہور ہیں۔الجامع ترمذی آپ کی بہت مشہور تصنیف ہے۔صحاح ستہ میں شامل ہے۔الجامع الترمذی کے مطالعہ سے اما م ترمذیؒ کی وسعت نظر ،کثرت اطلاع اور وقت فہم کا پتہ چلتا ہے اور اس کے ساتھ جامع ترمذی کے مطالعہ سے محدثین کی بے تعصبی اور ان کے دائرہ عمل کی وسعت کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔

"الجامع "اسی کو کہاجاتا ہے۔کہ جس میں آٹھ قسم کے مضامین ہوں یعنی(1) سیر۔(2) آداب(3) تفسیر(4) عقائد(5) متن(6) احکام(7) اشراط(8) مناقب چونکہ ان آٹھوں قسم کے مضامین پر مشتمل ہے اس لئے اس کو ا لجامع کہاجاتا ہے ۔جامع ترمذیؒ کے بارے میں علمائے کرام کا یہ فیصلہ ہے کہ جس گھر میں یہ کتاب ہو گویا اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرمارہے ہیں۔الجامع الترمذی کی علمائے کرام نے بہت سی شرحیں لکھی ہیں۔امام ترمذیؒ نے 279ح میں انتقال کیا۔

امام محمد بن نصر مروزی ؒ:۔

امام محمد بن نصر مروزی ؒ 203ھ میں پیدا ہوئے۔امام بخاری ؒ کے علاوہ امام اسحاق بن ر اہویہ ؒ بھی آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ امام محمد بن نصر مروزی نے جن اساتذہ وشیوخ سے استفادہ کیا ۔حافظ ابن حجرعسقلانیؒ نے اس کی فہرست تہذیب التہذیب میں درج کی ہے۔

امام مروزی کو علم وفن سے فطری ذوق تھا۔طلب حدیث کے لئے آپ نے مختلف اسلامی ممالک کا سفرکیا۔خطیب البغدادی لکھتے ہیں۔

وحل الي سائر الامصار في طلب العلم"

آپ نے طلب علم کے لئے مختلف ممالک کا سفر کیا"

حافظ ابن جوزی ؒ لکھتے ہیں۔کہ امام محمد بن نصر مروزی نے طلب علم کے لئے مختلف شہروں کا سفر کیا۔اور خراسان ،حجاز،عراق۔شام ومصر کے علماء سے استفادہ کیا۔

علمائے کرام نے ان کے علمی تبحر ،حفظ وضبط،عدالت وثقاہت کا اعتراف کیا ہے۔امام ذہبی ؒ نے ان کو راسخا ً فی الحدیث لکھا ہے۔امام ابن صبان نے ان کو جامع وضابط،صاحب علم لکھا ہے۔اور اس کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ آپ احادیث کے مطالب کے حافظ اور مدافع تھے۔

امام مر وزی کو امام محمد بن ادریس شافعیؒ سے بڑا تعلق تھا۔ان کے نامور تلامذہ سے فقہ کی تحصیل کی تھی۔اور اسی مسلک فقہ سے وابستہ تھے۔علامہ عبدالحئی بن المعاد الفیصلی لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ کے سوانح میں کوئی شخص ان کا ہمسر نہیں تھا امام محمد بن نصر مروزی نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ:۔صاحب التصاتيف الكثيرة والكتب الجميعةیعنی وہ متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔

حافظ ابن کثیر ؒ(م774ھ) لکھتے ہیں۔ وصنف الكتب المفيدة الحافلة النافعة، یعنی"انہوں نے نفیس کتابیں لکھی ان کی تالیفات میں مسند کتاب القسامہ،کتاب تعظیم الصلواۃ کتاب رفع الیدین اور کتاب قیام اللیل کے نام لکھے ہیں۔امام محمد بن نصر مروزی نے 294ھ میں سمر قند میں انتقال کیا۔

امام نسائیؒ:۔امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب نسائی 215ھ میں خراسان کے شہر "نساء" میں پیداہوئے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔15سال کی عمر میں تحصیل علم کے لئے سفر کا آغازکیا۔سب سے پہلے بلخ پہنچے اور امام قتیبہ بن سعید ثقفی سے استفادہ کیا ۔جیسا کہ امام ذہبیؒ لکھتے ہیں۔

ورحل إلى قتيبة بن سعيد وله خمس عشرة سنة سنة ثلاثين يقول: أقمت عنده سنة وشهرين سب سے پہلے امام قتیبہ کی خدمت میں سفر کرکے گئے جب کہ عمر 15 سال تھی اور ان کے پاس 14 ماہ قیام رہا۔

ان کے علاوہ دوسرے اساتذہ وشیوخ سے بھی استفادہ کیا۔حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ امام نسائیؒ نے خراسان،عراق،حجاز،جزیرۃ،شام،مصر وغیرہ کا سفر کیا۔اور ہرجگہ اساطین فن سے استفادہ کیا۔

تحصیل تعلیم کے بعد امام نسائی ؒ نے مستقل طور پر مصر میں سکونت اختیار کی۔اور وفات سے ایک سال قبل مصر سے سکونت ترک کرکے دمشق میں آباد ہوگئے۔حضرت شاہ عبدالحق ؒ محدث دہلوی لکھتے ہیں۔

"مصر میں مستقل طور پرسکونت اختیار کی۔اور ان کی تصانیف اسی اطراف میں پھیلیں اور بہت سے لوگوں نے امام صاحب ؒ سے اخذ حدیث کیا ہے۔آخری زندگی زی قعدہ 302ھ میں مصر سے دمشق گئے تھے۔

امام نسائی ؒ کے اساتذہ میں سے امام بخاری ؒ کے علاوہ امام اسحاقؒ بن راہویہ اور امام ابو داؤدؒ سجستانی 275ھ کے نام بھی ملتے ہیں۔

امام نسائی ؒ زہد اورورع میں یکتائے روزگار تھے۔ان کے علم وفضل،جلالت اور تبحر علمی کا علمائے کرام نے اعتراف کیا ہے۔علامہ ابن خلکان ؒ نے امام عصر في الحديث کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے امام دارقطنی(م385ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ۔

أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي النسائي ، المتوفى ... مقدَّمٌ على كل من يُذكر بهذا العلم من أهل عصره ابو عبدالرحمٰن نسائیؒ اپنے زمانے کے تمام محدثین (بخاری ومسلم کے بعد) بلند وبالاتھے۔

امام نسائی ؒ کے مسلک کے بارے میں بھی علمائےکرام میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ ائمہ مجتہدین میں سے کس کے مسلک کی طرف ان کا انتساب ہے۔حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں۔

"او شافعی مذہب بود چنانچہ مناسک اوبرآں دلالت می کند"

آپ شافعی مذہب تھے۔جیسا کہ ان کے مناسک اس پر دلالت کرتے ہیں۔

محی السنہ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں نے بھی امام نسائی کو شافعی لکھا ہے۔اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے نزدیک بھی امام نسائیؒ شافعی مذہب کے پابند تھے۔لیکن مولانا سید انور شاہ کشمیری نے ان کو حنبلی مذہب کا پابند بتایا ہے۔

امام نسائیؒ کی تصانیف بہت ہیں لیکن ان کی سب سے مشہور کتاب سنن نسائی ہے اور سنن کے نام سے آپ کی دو کتابیں ہیں۔سنن کبریٰ۔سنن صغریٰ۔صحاح ستہ میں سنن صغریٰ شامل ہے۔علمائے کرام نے سنن نسائی کے بہت سے محاسن وفضائل بیان کیے ہیں۔حافظ سماوی(م902ھ) محدث ابن الاحمر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ:۔

انه أشرف المصنفات كلها وما وضع في الاسلام مثله.

اس فن کی تمام مصنفات سے افضل ہے۔اور اسلام میں اس کی مانند کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔

امام نسائیؒ نے 13صفر 303میں 88 سال کی عمر میں انتقال کیا۔اور مکہ معظمہ میں صفا مروہ کے درمیان دفن ہوئے۔

امام ابن خذیمہ:۔امام ابن خزیمہ جن کی کنیت ابو بکراور نام محمد بن اسحاق بن خزیمہ تھا۔223ھ میں خراسان کے شہر نیشا پور میں پیدا ہوئے۔ امام بخاری ؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔تحصیل علم کے لئے آپ نے بغداد،بصرہ،کوفہ،شام،حجاز،عراق،مصر اور واسطہ کے سفر کیے۔اور ہر جگہ کے علمائے کرام ومشائخ سے استفادہ کیا۔

امام ابن خزیمہ ؒ کا شمار اکابر محدثین اور ائمہ فن میں ہوتا ہے احادیث اور دیگر علوم اسلامیہ پر ان کی نظر گہری تھی۔علمائے کرام اور ارباب سیر نے ان کے علم وفضل، عدالت وثقات،حفظ وضبط،زہد وورع ودین وتقویٰ اور تبحر علمی کااعتراف کیا ہے۔حافظ ذہبی ؒ لکھتے ہیں۔"

وانتهت إليه الإمامة والحفظ في عصره بخراسان"

حافظ ابن حبان(م354ھ) حافظ ابن خزیمہ کے بارے میں فرماتے ہیں۔"روئے زمین پر احادیث وسنن کے صحیح الفاظ اور زیارات کی یاداشت رکھنے والا ان کی مانند کوئی اور شخص نہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سنن واحادیث کا تمام ذخیرہ ان کی نگاہوں کےسامنے ہوتا ہے۔امام ابن خزیمہ ؒ ائمہ اربعہ کی طرح ایک مذہب کے امام اوررکن تسلیم کئے جاتے تھے۔اور ان کے متبعین ان کے پیروی کرتے تھے وہ مقلد کی بجائے خود امام مستقل اور صاحب مذہب تھے۔امام ابن خزیمہ نے صحیح حدیثوں کا انتخاب کرکے ایک کتاب مرتب کی۔جو صحیح ابن خزیمہ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔اس کا شمار حدیث کی اہم کتابوں میں ہوتا ہے حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں۔

من أنفع الكتب ٍصحیح ابن خزیمہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں ہے۔علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے صحیح ابن خزیمہؒ کو صحیح ابن حبان سے زیادہ معتبر بتایا ہے اور لکھا ہے کہ امام ابن خزیمہ ؒ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے۔ اور ادنیٰ شبہ پر بھی توقف سے کام نہیں لیا۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے صحیح ابن خزیمہ پر مفید حواشی لکھے تھے۔امام ابن خزیمہ ؒ نے 2زی قعدہ ھ311کو انتقال کیا۔

امام صالح بن محمد جزرہ:۔

205ھ میں پیدا ہوئے۔امام بخاریؒ کے علاوہ امام یحییٰ بن معین اور امام احمد بن حنبل ؒ سے بھی استفادہ کیا۔266ھ میں مستقل طورپر بخارا میں سکونت اختیار کی حاکم بخارا ان کی بڑی توقیر تعظیم کرتاتھا۔علمائے کرام نے ان کی عدلت وثقاہت،حفظ وضبط،زہد وتقویٰ،اور تبحر علمی کااعتراف کیا ہے۔293ھ میں بخارا میں انتقال کیا۔

اما م بخاریؒ کا غیر معمولی حافظہ:۔

امام صاحب فطرتاً قوی الحافظہ تھے۔فطرت کی اس فیاضی سے انہوں نے فن حدیث کی تحصیل میں بہت فائدہ اٹھایا۔استاد سے جو حدیث سنتے فوراً سینے پر نقش ہوجاتی۔بچپن میں 70ہزار حدیث زبانی یاد تھیں علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانیؒ(م923ھ) لکھتے ہیں۔کہ امام صاحب کا اپنا یہ بیان ہے کہ مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث اور 2 لاکھ غیر صحیح روایات یاد ہیں۔

امام صاحب کے حافظہ کا ایک مشہور واقعہ ہے۔کہ جب آپ بغداد تشریف لائے تو علمائے کرام نے ان کے حافظے کا امتحان لینا چاہااور دس آدمیوں کو دس دس احادیث زبانی یاد کرائیں۔جن کی سندیں انہوں نے بدل دی تھیں۔وہ احادیث ان دس آدمیوں نے باری باری امام صاحب کو سنائی اور ہر حدیث پر امام صاحب نے لا ادري(میں نہیں جانتا)فرمایا۔جب دس کے دس آدمی اپنی اپنی حدیثیں سنا چکے تو امام صاحب نے ہر حدیث کو اس کی اصلی سند کے ساتھ اصلی متن کے ساتھ ملاکر ترتیب وار سنا دیا۔لوگ سن کر دنگ رہ گئے۔اور آپ کے علم وفضل کالوہا ماننا پڑا۔اور علمائے کرام کو یہ کہنا پڑا کہ:

محمد بن إسماعيل آية من آيات الله في بصره ونفاذه من العلم.

"یعنی محمد بن اسماعیل بخاری بصیرت علمی اور علوم میں تبحر کی وجہ سے خدا کی ایک نشانی ہیں۔

انسائیکلو پیڈیا کے مصنفین نے بھی امام بخاریؒ کے حافظہ کا اعتراف کیا ہے۔اور لکھا ہے کہ"امام بخاریؒ کا حافظہ واستخصار اس غضب کا تھا کہ معاصرین ائمہ تک کو وہ ایک کرامت نظر آتا تھا۔

امام صاحب کے فضل وکمال کی شہرت اس سے پہلے وہ فارغ التحصیل ہوں دور دور تک پہنچ چکی تھی۔ حفظ حدیث میں ان کا پایہ اس قدر بلندتھا کہ بڑے بڑے محدثین مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔اس لئے ان کی تیزی ذہن اور قوت حافظہ کا عام طور پر اعتراف کیاجاتاتھا۔ان کے زمانے کے وہ علمائے کرام جن کے گردوبیش ایک بڑی جماعت تلامذہ کی رہتی تھی۔اور وہ فضل وکمال کے لحاظ سے خود امام فن کی حیثیت رکھتے تھے۔ان کے کسی مجموعہ حدیث کو امام صاحب صحیح تسلیم کرتے تو فخریہ فرماتے۔

"ہماری ان حدیثوں کو امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ نے صحیح تسلیم کیا ہے۔"

اخلاق وعادات اورطرز معاشرت:۔

اما م صاحب کی مقدس زندگی میں بعض ایسی شائستہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جن سے بڑے بڑے نادار لوگوں کا اخلاقی دامن خالی ہے۔ان کی طبیعت حد درجہ غیور،خود دار اور بے تکلف تھی۔پوری زندگی کسی امیر خلیفہ کے دربار میں حاضری نہیں دی۔اور نہ کسی قسم کا دنیوی فائدہ حاصل کیا۔پوری زندگی سادگی اورقناعت میں بسر کردی۔ان کے والد علامہ اسماعیل نے کافی رقم ترکہ میں چھوڑی تھی۔جو آپ نے راہ خدا میں خرچ کردی۔انکساری ان میں حد درجہ تھی۔رواداری بہت زیادہ تھی۔اور بے تعصبی میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے۔مجلس درس میں طلباء کی جماعت جوق در جوق ان کے درس میں شریک ہوتی تھی اور بڑے بڑے پایہ کے محدث بھی ان کے حلقہ تلامذہ میں شامل تھے۔

ان کی مجلس درس کبھی مسجد اور کبھی ان کے مکان پر منعقد ہوتی تھی۔ان کے تلامذہ میں امام مسلم بن حجاج،امام ابو عیسیٰ ترمذی،اور امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب جیسے محدث نظر آتے ہیں،جو ارکان صحاح ستہ کے تین جلیل القدر ستون ہیں۔امام ابن خذیمہ ،امام محمد بن نصر مروزی اور امام صالح بن محمد جزرہ جو آگے چل کر خود بہت بڑے محدث اور مصنف ہوئے۔امام صاحب کے عام شاگردوں میں داخل ہیں۔

صبروقناعت کا یہ عالم تھا کہ بسا اوقات دو یا تین بادام پر گزارہ کرتے۔

امام شاہ ولی اللہ دہلوی (1176ھ) کہتے ہیں۔

كان قليل الا كل جدا مفرد في الجود"بسا اوقات آپ کو دو یا تین بادام پر ایک دن گزارنا پڑا۔"

امام بخاری کے بارے میں شیوخ ومعاصرین کااعتراف :۔

امام بخاری ؒ فضل وعلم،جلالت قدر،ذہانت وفطانت،حفظ و ضبط،زہد تقویٰ وطہارت،اورتبحر علمی کا اعتراف نہ صرف ان کے معاصرین اور متاخرین نے کیا بلکہ آپ کے اساتذہ وشیوخ نے بھی آپ کے علم وفضل اور تبحرعلمی کا اعتراف کیا ہے۔امام صاحب کی مدح میں علماء کے اتنے اقوال ہیں کہ بقول حافظ ابن حجر عسقلانی ۔ فذلك البحر الذي لا ساحل له سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لئے۔

استاد کی جو رائے تلمیذ کے بارے میں معتبر اور صحیح ہوتی ہے۔وہ کسی دو سرے کی نہیں ہوسکتی۔استاد اپنے تلمیذ کی ہر حرکت وعادت سے واقف ہوتاہے۔اور تلمیذ کے ذوق وشوق اور تعلیم میں توجہ وانہماک وغیرہ سے بھی واقف ہوتاہے۔اس لئے استاد کی رائے دوسرے آدمیوں کے مقابلے میں زیادہ وزنی ہوتی ہے۔

شیوخ کااعتراف:۔

امام قتیبہ بن سعید ثقفی جو امام بخاری ؒ کے علاوہ امام مسلمؒ ابو داؤدؒ وترمذیؒ اور نسائیؒ کے بھی استاد ہیں ۔فرماتے ہیں۔"میں فقہاء محدثین ،زہاد،عباد کی خدمتوں میں راتوں رہا ۔

اور ایک زمانے تک ان کی خوشہ چینی کی لیکن جب سے میں نے ہوش سنبھالا،محمد بن اسماعیل(امام بخاریؒ) جیسا جامع کمالات نہیں دیکھا۔

امام احمد بن حنبل ؒ جو ایک مذہب کے رکن مانے جاتے ہیں۔فرماتے ہیں۔

"خراسان کی زمین نے امام بخاریؒ جیسا کسی کو پیدا نہیں کیا۔امام محمد بن بشار(م248ھ) فرماتے ہیں۔"میں امام بخاریؒ کی وجہ سے برسوں فخر کرتاہوں۔"امام احمد بن اسحاق (م242ھ) فرماتے ہیں کہ:

"جو شخص چاہے کہ سچے اور واقعی فقیہ کو دیکھے تو وہ محمد بن اسماعیل بخاریؒ کو دیکھے اما م عبداللہ بن محمد مسندی (م229ھ) فرماتے ہیں کہ:

"امام بخاریؒ امام ہیں جو ان کو امام تسلیم نہ کرے اسے متہم سمجھو اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں تین امام ہیں۔ان میں اول امام بخاریؒ ہیں۔

معاصرین کی آراء:۔

معاصرین کی آراء بھی بہت وزن رکھتی ہیں۔امام صاحب کے بارے میں آپ کے معاصرین نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ آپ ملاحظہ فرمائیں۔امام ابو حاتم رازی ؒ(م277ھ) فرماتے ہیں کہ:۔

"خراسان میں امام بخاریؒ جیسا کوئی احفظ نہیں ہوا۔اور نہ خراسان سے عراق کی طرف امام بخاریؒ جیسا کوئی ذی علم آیا۔

امام عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی فرماتے ہیں۔کہ میں حرمین،حجاز،شام،عراق سب جگہ پھرا،اورعلماء سے ملاقات کی۔لیکن امام بخاریؒ جیسا جامع کسی کو نہیں پایا۔امام بخاریؒ ہم سے کہیں بڑھ کر عالم اور طالب حدیث تھے۔

امام صالح بن جزرہ۔(م293ھ) فرماتے ہیں۔

ما رايت خراسان انهم من محمد بن اسماعيل البخاري واحفظ للحديث"میں نے خراسان میں امام محمد بن اسماعیل بخاری جیسا حافظ حدیث نہیں دیکھا"

متاخرین کی آراء:۔

علماء متاخرین نے بھی امام بخاریؒ کے فضل وعلم،جلالت شان اورتبحر علمی کااعتراف کیا ہے۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں۔

ولو فتحت باب ثناء الأئمة عليه ممن تأخر عن عصره لفنى القرطاس ونفذت الأنفاس فذاك بحر لا ساحل له یعنی"امام بخاریؒ کی مدح میں اگر متاخرین کے اقوال نقل کرنے شروع کروں،تو کاغذ ختم ہوجائے اور عمر صرف ہوجائے متاخرین کی مدح سرائی بحر پایاں ہے۔

علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی فرماتے ہیں:۔

"امام بخاریؒ حدیثوں کے پرکھنے والے اہل بصیرت واہل شہرت ہیں۔امام ہیں اہل اسلام کے لئے حجت ہیں علمائے ثقات نے ان کی فضیلت کا اعتراف کیا ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی صاحب المختار شارح ورد المختار امام صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں:۔

"یعنی امام بخاریؒ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں۔کہ حضرت کی امت میں ایک ایسا بے نظیر شخص پایا گیا ہے بے مثل ہے جس کا وجود ایک نعمت کبریٰ ہے جو امیر المومنین فی الحدیث ہیں سلطان المومنین ہیں۔امام ہیں ،مجتہد ہیں۔ناقد وبصیر ہیں۔اور ان کی جلالت وتدابیر،حفظ پر اتقان پر تمام دنیا کے ثقہ لوگوں نے اتفاق کیا ہے۔

امام بخاری مسشرقین کی نظر میں:۔

امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کی جلالت قدر،حفظ وضبط،اور تبحر علمی کااعتراف مستشرقین نے بھی کیا ہے۔انسائیکلو پیڈیا برناٹیکا کے مصنفین لکھتے ہیں۔کہ جب امام بخاری ؒ اپنے خاندان کے ساتھ حج کو گئے تو بخارہ سے مکہ تک راستہ میں حدیثوں کی سماعت کرتے گئے۔اس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے فن کے مستند امام ہوگئے۔ان کا حافظہ اور استخصار اس غضب کاتھا کہ ان کے معاصرین کو ایک قیامت نظر آتاتھا۔

امام بخاریؒ پر دور ابتلاء وآزمائش:۔

ہجری 250 میں امام محمد بن اسماعیل بخاری نیشا پور تشریف لے گئے نیشاپور خراسان کا مشہور شہر تھا۔جس کے بارے میں علامہ سبکی فرماتے ہیں۔

(قد كانت نيسابور من أجل البلاد وأعظمها، ولم يكن بعد بغداد مثلها،

نیشا پور اسقدر بڑے اور عظیم الشان شہروں میں سے تھا کہ بغداد کے بعد اس کی نظیر نہ تھی۔

نیشا پور اس زمانے میں علم حدیث کا مرکز تھا۔امام محمد بن یحییٰ ذیلی استاد امام مسلم بن الحجاج صاحب صحیح المسلم کا مولد ومسکن یہی نیشا پور تھا اور ان کے علم وفضل نے نیشا پور کو دور دور تک مشہور کردیا تھا۔ایسی حالت میں امام صاحب کانیشا پور جانا اور بڑے بڑے علمائے کرام اور محدثین کی موجودگی میں اپنے فضل وکمال کا سکہ بٹھانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

امام بخاری ؒ جب نیشا پور پہنچے تو آپ کا والہانہ استقبال کیا۔اور اس کے بعد امام صاحب ؒ نے نیشا پور میں حدیث کی مجلس درس قائم کی اور علمائے کرام اور طالبان حدیث جوق در جوق آپ کی مجلس درس میں حاضر ہوتے۔اور آپ کی معلومات حدیث سے مستفیض ہوتے۔امام مسلم جو آپ کے تلمیذ رشید تھے آپ کی جامعیت اورتبحر علمی سے اس قدر متاثر تھے ۔ایک دن فرمایا!" وأشهد أنه ليس في الدنيا مثلك میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ جیسا آدمی دنیا میں پیدا نہیں ہوا۔"

امام محمد بن یحییٰ زیلی(م258ھ) جو نیشا پور کے بلند پایہ محدث تھے۔اور امام مسلم ؒ (261ھ) کے استاد تھے۔انہوں نے اپنے تلامذہ کو حکم دیا تھا کہ امام صاحب کی مجلس میں حاضر ہو اکریں اور ان کے علم وفضل سے مستفید ہواکریں۔لیکن ان سے کسی قسم کی اختلافی مسئلہ پر گفتگو نہ کی جائے۔جس کی بدولت مجھ میں اور امام احمد بن اسماعیل بخاریؒ میں رنجش ہوجائے۔اور غیر اقوام کو اہل سنت کے اختلاف پر ہنسی اڑانے کا موقع ہاتھ آجائے۔

دوسرے دن امام محمد بن یحییٰ ذیلی اپنی جماعت کے ساتھ امام صاحب کی مجلس درس میں پہنچے۔اتفاق سے وہی صورت پیش آگئی۔جس کا انہیں خوف تھا کہ ایک شخص نے امام صاحب سے سوال کیا یا ابا عبداللہ! قرآن کے جو الفاظ ہماری زبان سے نکلتے ہیں کیا وہ مخلوق نہیں ۔سوال کے اصلی الفاظ یہ تھے۔ لفظي بالقران مخلوق ام لا امام بخاری ؒ خاموش رہے۔اس نے دوبارہ سوال کیا۔تو امام صاحب نے فرمایا کہ:

القرآن كلام الله غير مخلوق ولفظي بالقرآن الفاظنا و الفاظنا من افعالنا وافعالنا مخلوقة

قرآن کلام الٰہی اور غیر مخلوق ہے۔اور جو الفاظ ہماری زبان سے نکلتے ہیں وہ ہمارے ہیں اور ہمارے الفاظ ہماری زبان کی ایک حرکت ہے اس لئے ہمارا ایک فعل ہے اور افعال مخلوق ہیں۔

امام بخاری ؒ نے ان مختصر لفظوں میں در حقیقت اس بحث کا فیصلہ کردیا تھا۔ظاہر ہے کہ اگرقرآن کا مفہوم نفس کلام ہے۔تو کلام اللہ خدا کی ایک صفت ہے۔اور خدا کی صفت کیونکرکلام ہوسکتی ہے۔اگر وہ الفاظ مراد ہیں۔جو ہماری حادث زبانوں سے نکلتے ہیں تو چونکہ وہ مخلوق کا ایک فعل ہے لہذا ان کے مخلوق ہونے میں کلام نہیں۔

لیکن اس دقیق جواب کو عوام نہ سمجھ سکے۔اس لئے اس واقعہ کو اس قدر بڑھایا اور شہرت دی۔کہ امام صاحب کی ہر دلعزیزی میں فرق آگیا۔لیکن جو لوگ باریک بین اور نکتہ رس تھے۔وہ اس جواب کے تہہ تک پہنچ گئے۔اور پہلے سے زیادہ وقعت دینے لگے انہی لوگوں میں امام مسلم ؒ بھی تھے۔انہیں جب معلوم ہوا کہ امام زیلی بھی امام بخاریؒ کے مخالفین کے ساتھ اور اس کے ساتھ امام ذیلی لفظي بالقران مخلوق کے قائل ہیں تو امام مسلم سخت برآشفتہ ہوئے۔اور تمام نوشتے اونٹوں پر لاد کر واپس کردیئے۔جن میں امام زیلی کی تقریریں قلمبند تھیں۔

امام بخاریؒ سے لوگوں نے عرض کی،کہ آپ اپنے قول سے رجوع کرلیں۔تو آپ نے فرمایا!ایسا بغیر دلیل کے نہیں ہوسکتا تو لوگ امام صاحب کے اس جواب سے واپس چلے گئے۔

امام بخاریؒ کا مسلک:۔

امام بخاریؒ کے مسلک کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہے۔کبار محدثین کے ساتھ ہمیشہ سے یہ معاملہ رہا ہے کہ مختلف مسلک والوں نے اپنے اپنے مسلک کا پیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے یہی معاملہ امام بخاریؒ کے ساتھ ہوا۔علامہ تقی الدین سبکی نے آپ کو شافعی لکھا ہے۔اور محی السنۃ مولانا سید نواب صدیق حسن خان نے بھی علامہ تقی الدین سبکی کی تائید کی ہے۔اور امام صاحب کو ائمہ شافعیہ میں شمار کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے نزدیک امام بخاری ؒ کے مباحث فقیہ کا غالب حصہ امام شافعی کے مسلک سے ماخوذ ہے علامہ ابن القیم کی تحقیق یہ ہے کہ امام بخاریؒ حنبلی تھے۔لیکن علامہ طاہر الجزاری کہتے ہیں کہ امام بخاری ؒمجتہد مطلق تھے۔علامہ سید انورشاہ کشمیری کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ مجتہد مطلق تھے۔

واعلم أن البخاري مجتهد لا ريب فيه، وما اشتهر أنه شافعي، فلموافقته إياه

"آپ بلاشبہ مجتہد مطلق تھے اورآپ کے متعلق یہ مشہور نہیں کہ آپ شافعی تھے۔اور آپ نے مسائل مشہورہ میں امام شافعیؒ کے مسلک کی پیروی کی ہے۔(1)

جمہور علماء حدیث وفقہ کا فیصلہ یہ ہے کہ اما م بخاریؒ مجتہد مطلق تھے۔شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ:۔

امام المحدثین امام الفقہ تھے اور اہل اجتہاد سے تھے۔

جلا وطنی اور انتقال:۔

نیشا پور سے امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ واپس اپنے وطن بخارا آگئے تو لوگوں نے آپ کے خلاف بھڑکانے کے لئے مختلف مقامات سے حاکم بخارا خالد بن احمد زیلی کو خطوط لکھے خطوط لکھنے والوں میں محدث نیشا پور امام محمد بن یحییٰ ذیلی بھی شامل تھے۔حاکم بخارا بھی امام صاحب سے ناراض تھا۔تو اس نے امام صاحب کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کا ایک بہانہ تلاش کیا۔اور وہ یہ کہ امام صاحب کو کہلا بھیجا کہ آپ میرے بچوں کو "الجامع الصحیح البخاری"اور "تاریخ کبیر" میرے گھر پر آکر پڑھایا کریں امام صاحب نے جواب میں فرمایا۔

اس سے علم کی توہین ہوتی ہے بچے میرے درس میں آکر پڑھا کریں۔اس کے جواب میں حاکم بخارا نے کہامیرے بچے آپ کے درس میں آسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس وقت کوئی د وسرا طالب وہاں موجود نہ ہو۔امام صاحب نے یہ شرط بھی منظور نہ کی۔اس جواب سے حاکم بخارا ناراض ہوگیا۔اور آپ کو بخارا سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔چنانچہ امام صاحب بخارا سے نکل کر سمر قند پہنچے اور یہاں آپ نے یکم شوال 252ھ کو 62سال کی عمر میں انتقال کیا بخارا سے نکلتے وقت امام بخاری نے حاکم بخارا کے حق میں بدعا کی اور فرمایا:۔

اللهم أرهم ما قصدوني به في أنفسهم, وأولادهم

"اے اللہ جس بات کا مجھ پر ان لوگوں نے ارادہ کیا تو وہی بات ان کو انہیں کی ذات اور اولاد میں دکھا۔"

چند روز بعد اس دعا کا یہ اثر مرتب ہوا۔کہ خالد بن یحییٰ ذیلی حاکم بخارا کے بارے میں طاہر معدودیں کی طرف سے(جو اس وقت خراسان پر حکمران تھے) یہ حکم پہنچا کہ خالد بن یحییٰ کو گدھے پر بٹھا کر تشہیر کی جائے اور بعد تشہیر قید کیا جائے۔انجام یہ ہوا کہ قید خانہ ہی میں اس کی وفات ہوئی۔دیدی کہ خون ناحق برواو شمع ر ا

"چند اں اماں نداد کہ شب راسحرکند"

امام بخاریؒ کے دو شعر:۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری ؒ شاعر نہ تھے۔لیکن کبھی کبھی منظوم کلام سے دلچسپی لے لیا کرتے تھے۔اور ان کی زبان سے نصیحت آمیز اشعار موزوں ہوجاتے تھے۔جس کو شاعری نہیں کہتے اور نہ اس پر(فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ) صادق آتا ہے۔امام ابو عبداللہ حاکم سے مروی ہے کہ میں نے امام بخاری کے درج ذیل دو شعر بخظ مسملی لکھے ہوئے دیکھے۔