میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

نور قلب وجگر بھی ہوتی ہے
اور نظر فتنہ گر بھی ہوتی ہے۔
بات کو صرف رائیگاں نہ سمجھ
بات جادو اثر بھی ہوتی ہے
زندگی کا کہیں سراغ نہ ہو
زندگی یوں بسر بھی ہوتی ہے
رات الفت میں گردرہ سے نہ ڈر
گرد رہ راہبر بھی ہوتی ہے
شام غم کو تودائمی نہ سمجھ
شام غم کی سحر بھی ہوتی ہے
عقل کے رو برو ہواجو ہوا
عقل یوں بے خبر بھی ہوتی ہے
ماند پڑ جائے بجلیوں کی چمک
آہ۔یوں جلوہ گر بھی ہوتی ہے
جس کی جانب نظر نہیں اٹھتی
ایک ایسی نظر بھی ہوتی ہے
جو دوا ہو برائے درد سر
وہ دوا دردسر بھی ہوتی ہے
موت جس کا نہیں کوئی چارہ
موت خود چارہ گر بھی ہوتی ہے
ہر کسی راہ پر نہ چل اے دوست
رہ کوئی پر خطر بھی ہوتی ہے
زندگی کو طویل کر نہ خیال
زندگی مختصر بھی ہوتی ہے
قبر باغ بہشت بھی عاجز
قبر تار سفر بھی ہوتی ہے