میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور اور جلیل القدر صحابی ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا ذاد ہیں۔

منفرد خصوصیات:۔

واقعہ فیل سے بارہ تیرہ برس قبل آپ کی ولادت کعبہ مشرف کے اندر ہوئی ۔اور یہ ایک ایسی منفرد اور بے نظیر خصوصیت ہے جو پوری کائنات میں آپ کے سوا کسی د وسرے کو حاصل نہیں۔واقعہ یوں ہے کہ آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ حاملہ تھیں۔چند قریشی عورتوں کے ہمراہ بیت اللہ شریف کی زیارت کے لئے تشریف لے گئیں۔وہیں شدت سے درد شروع ہوگیا۔باامر مجبوری انہیں کعبہ کے اندر لے جایا گیا،اللہ کے حکم سے اسی موقعہ پر وہیں حکیم مولود ہوئے،نیچے بچھائے ہوئے کپڑے وغیرہ جو آلودہ ہوئے وہ زم زم کے حوض پردھوئے گئے۔مصعب کا بیان ہے کہ جب اسلام غالب آیا تو ان دنوں قریش کی مشہور مشورہ گاہ"دارالندوہ" انہی (حکیم) کے زیرتصرف تھا۔انہوں نے وہ مکان حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ ایک لاکھ درہم میں فروخت کردیا۔طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے وہ تمام رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی تھی۔ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قریش کی ایک اہم جگہ فروخت کردی ہے تو کہنے لگے :۔کہ"تقویٰ کے علاوہ ایسی تمام خوبیاں برباد ہیں"

حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے دانا،عقل مند،فاضل،متقی،رئیس اورمستغنی قسم کے انسان تھے۔آپ فتح مکہ کے روزقبولیت اسلام سے سرفراز ہوئے۔یعنی آپ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہونے والوں میں سے ہیں۔

آپ خود اورآپ کے بیٹے عبداللہ ،خالد،یحییٰ اور ہشام صحابی ہیں۔آپ مولفۃ القلوب میں سے ہیں۔اسلام قبول کیا تو اس کا حق بھی خوب اداکیا۔جنگ بدر میں کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں کے مقابلے میں آئے شکست کھا کر واپس ہوئے اورجان بچائی۔

بیان آتا ہے کہ جب آپ قسم اٹھاتے توفرمایا کرتے" لا والذي نجاني يوم بد

کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے بدر کے دن نجات دی اور بچا لیا۔

نیکی اور سخاوت:۔

آپ شروع ہی سے بڑے نیک اور سخی تھے۔آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دور جاہلیت میں جو اچھے کام کیاکرتاتھا۔کیا مجھے ان کا بھی اجروثواب ملے گا؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم جو نیک اعمال پہلے کرچکے ہو تمھیں ان کا اجروثواب بھی ملےگا۔(صحیح البخاری مع الفتح 301/3 باب من تصدق فی الشرک ثم اسلم وصحیح مسلم باب حکم عمل الکافر اذا اسلم بعدہ 141/2)

صحیح مسلم ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:قسم اللہ کی،میں نے جو اچھے اعمال دور جاہلیت میں کئے تھے اب دوبارہ کروں گا۔چنانچہ آپ نے قبل از اسلام ایک سوغلام آزاد ،اور ایک سو اونٹ صدقہ کئے تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوبارہ اسی قدرغلام اور اونٹ صدقہ کیے۔

حج کےلئے تشریف لے گئے تو آپ کے ہمراہ سو اونٹ،سو غلام اور ایک ہزار بکریاں تھیں۔اونٹوں پر شاندار قسم کی چادریں ڈالی ہوئی تھیں۔حج کے روز میدان عرفہ میں وہ سب اونٹ اور بکریاں صدقہ اورتمام غلام آزاد کردیئے۔ان غلاموں کی گردنوں میں چاندی کی تختیاں تھیں۔جن پر یہ الفاظ کندہ تھے:۔

عتقاء الله عن حكيم بن حزامکہ یہ تمام غلام حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے لوجہ اللہ آزاد ہیں۔

استغناء

حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا، آپ نے مجھے دیا میں نے دوبارہ سوال کیا تو آ پ نے دے دیا،میں تیسری بار مانگا تو بھی آپ نے دے دیا اور فرمایا:۔

حکیم! یہ مال بڑا خوشنما اور پسندیدہ ہوتاہے۔جو شخص اسی سخاوت نفس کے ساتھ یعنی لالچ کے بغیر حاصل کرے،اس کے لئے اس میں برکت ہوتی ہے۔اور جو شخص اسے لالچ کے ساتھ حاصل کرے اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہوتی۔اور اس کی مثال اسی کی سی ہے جو کھاتا جائے اور سیر نہ ہو۔اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے یعنی لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔میں (حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے یہ سن کرکہا!

"قسم اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق دےکر مبعوث کیا ہے میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہ مانگوں گا۔"

آپ اپنے اس عہد پر آخر تک قائم رہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو مال دینے کے لئے بلاتے تو آپ لینے سے انکار کردیتے۔حضر ت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی آپ کو بلایا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطیہ لینے سے انکار کردیا ۔تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے۔

"لوگو!گواہ رہنا کہ میں مال فے میں سے حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حصہ انہیں دیتا ہوں وہ از خود لینے سے انکاری ہیں۔(یعنی حصے کی ادائیگی میں ہماری طرف سے کوئی کوتاہی نہیں یہ خود نہیں لینا چاہتے)چنانچہ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے کچھ نہ مانگا۔(صحیح البخاری 335/3 ۔حدیث نمبر 1472)

وفات:۔

آپ کی وفات 54ح بزمانہ خلافت حضرت معاویہ مدینہ منورہ میں بلاط الفاکھہ اور زقاق الصواغین کے قریب واقع ان کے مکان میں ہوئی بیان کیا جاتا ہے کہ بوقت وفات آپ کی زبان پر لاالٰہ الا اللہ کے کلمات جاری تھے اورفرماتے تھے۔

قد كنت أخشاك ، وأنا اليوم أرجوك .کہ یا اللہ میں تو تجھ سے ڈرتا تھا لیکن آج مجھے تجھ سے حسن انجام کی امید ہے۔

ایک اور عجیب اتفاق:۔

وفات کے وقت آپ کی عمر ایک سو بیس برس تھی۔عجیب ا تفاق ہے کہ آپ نے نصف عمر جاہلیت (کفر) میں اورنصف عمر بحالت اسلام بسر کی۔

آپ کی ولادت فی الکعبہ کے متعلق اہل علم کی تصریحات:۔

اہل علم نے کعبہ میں آپ کی ولادت کے متعلق تصریح کی ہے۔بعض نے تو اس حد تک صراحت سے لکھا ہے کہ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی دوسرا شخص بیت اللہ میں مولود نہیں ہوا۔

شیعہ حضرات امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی بھی ولادت کعبہ میں ہوئی تھی۔مگر کسی مستند حوالے سے ان کے بارے میں یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکی۔

1۔امام مسلم بن حجاج ؒ کی شہادت:۔

امام موصوف اپنی مایہ ناز کتاب "صحیح مسلم" میں فرماتے ہیں۔

وُلِد حكيم في جوف الكعبة ، وعاش مئة وعشرين سنة . (باب ثبوت اخیار المجلس للمتبایعین 176/10)

کہ حکیم بن حزام کی ولادت کعبہ مشرفہ کے اندر ہوئی اور انہوں نے ایک سو بیس سال عمر پائی۔

2۔امام سیوطی کی شہادت مولده : وُلِد حكيم في جوف الكعبة

(تدریب الراوی طبع جدید 358/2)

3۔وُلِد حكيم في جوف الكعبة (ریح النسرین للسیوطی ص49) کہ حکیم کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔

4۔امام نوویؒ کی شہادت:۔

امام موصوف شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں۔

ومن مناقبه أنه ولد في الكعبة! قال بعض العلماء ولا يعرف أحد شاركه في هذا

کہ حکیم بن حزام کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ "کوئی دوسرا شخص اس خصوصیت میں ان کاشریک نہیں۔"

" وُلِد حَكِيم بن حزام رضي الله عنه ولد فِي جَوف الْكَعْبَة ، وَلَا يعرف أحد ولد فِيهَا غَيره ، وَأما مَا رُوِيَ عَن عَلّي رَضي اللهُ عَنهُ أَنه ولد فِيهَا فضعيف (تہذیب الاسماء اللغات للنووی 166/1)

کہ حکیم کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی کوئی دوسرا شخص اس کے اند مولود نہیں ہوا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو یہ بات بیان کیجاتی ہے۔ تو یہ قول اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔

قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ: كَانَ مَوْلِدُ حَكِيمٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَة (تدریب 359/2 وتہذیب 448/2)

سمعت علي بن غنام العامري يقول: ( ولد حكيم بن حزام في جوف الكعبة دخلت أمه الكعبة فمخضت فيها فولدت في البيت (المستدرک للحاکم 482/3)

ان دونوں قولوں کا مفہوم بھی یہی ہے کہ حکیم بن حزام کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔

8۔مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں۔

وَكَانَتْ وَلَدَتْ ... مَا كَانَ تَحْتَهَا مِنَ الثِّيَابِ عِنْدَ حَوْضِ زَمْزَمَ ، وَلَمْ يُولَدْ قَبْلَهُ ، وَلا بَعْدَهُ فِي الْكَعْبَةِ أَحَدٌ (المستدرک للحاکم 483/3)

کہ ان کی والدہ انھیں کعبے کے اندر جنم دیا۔ان سے پہلے اور بعد کوئی بھی کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا۔

اس پر امام حاکم لکھتے ہیں کہ کہ اس آخری بات میں مصعب کو وہم ہوا۔ متواتر روایات سے ثابت ہے کہ امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب کی بھی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی تھی۔(ملاحظہ ہو المستدرک 483/3)

9۔قال شیخ الاسلام:۔

ولا يعرف ذلك لغيره. وأما ما روي أن عليا ولد فيها فضعيف (تدریب الراوی 360/2)

شیخ الاسلام فرماتے ہیں:۔ کہ یہ خصوصیت ان کے علاوہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔مستدرک میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو منقول ہے وہ ضعیف ہے۔

10۔ابن عبدالبرؒ کی شہادت:۔

آپ فرماتے ہیں:کہ حکیم کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔(الاستعیاب 363/1)

11۔ ولد حكيم فى جوف الكعبة، ولا يُعرف أحد ولد فيها غيره، وأما ما روى أن على بن أبى طالب، رضى الله عنه، ولد فيها، فضعيف عند العلماء. (عنوان التحابہ ص62)

کہ حکیم کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی اور کوئی دوسرا شخص اس خصوصیت میں ان کا شریک نہیں حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔

12۔ حكيم بن حزام يقول ولدت قبل قدوم أصحاب الفيل بثلاث عشرة سنة (خلاصہ تہذیب الکمال ص90)

کہ حکیم کی ولادت عام الفیل سے تیرہ برس قبل کعبہ کے اندر ہوئی۔