میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اسلام نے روز اولین سے اسلام کی برتری اور ضرورت کا اعلان کیا،کیونکہ علم کے بغیر نہ دین کا کوئی معاملہ سنور سکتا ہے۔نہ دنیاکا اسلام سے پہلے حصول علم کا حق ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوتا تھا۔عام آدمی اس نعمت سے محروم تھا۔اسلام ہی پہلا مذہب ہے جس نے یہ اعلان کیا کہ حصول علم ہر انسان کا مسلم حق ہے خواہ امیر ہو یا غریب،عربی ہو یاعجمی ،ارشاد ہے:۔

طلب العلم فريضة على كل مسلم

"کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پ فرض ہے"

اسلام کے سب سے پہلے اعلان کا پہلا لفظ "اقراء" تھا اقراء کا مطالبہ تعلیم وتعلم اور تحریر وکتابت کی ضرورت واہمیت کو دنیا پر روشن کرنے کے لئے کیا گیا ارشاد ہے۔

﴿اقرَ‌أ بِاسمِ رَ‌بِّكَ الَّذى خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الإِنسـٰنَ مِن عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقرَ‌أ وَرَ‌بُّكَ الأَكرَ‌مُ ﴿٣﴾ الَّذى عَلَّمَ بِالقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الإِنسـٰنَ ما لَم يَعلَم ﴿٥﴾... سورةالعلق

"کہ پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے۔پڑھیے اور آپ کا رب بڑاکریم ہے۔جس نے قلم کے زریعہ سے علم سکھایا۔انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔غور کیجئے ان آیات میں نعمت علم کو نعمت تخلیق سے زیادہ برتر وافضل بتایاگیا ہے۔

قرآن مجید میں تخلیق آدم کے واقعے میں بھی علم کی برتری کا بیان ہے۔اس لئے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ایک ایسی خصوصیت بخش دی گئی تھی کہ جو تمام فضائل پر بھاری تھی۔اور یہی خصوصیت حضرت آدمؑ کو خلافت الٰہی کا حقدار بنانے والی تھی کونسی خصوصیت؟ارشاد ہے:

﴿وَعَلَّمَ ءادَمَ الأَسماءَ كُلَّها ثُمَّ عَرَ‌ضَهُم عَلَى المَلـٰئِكَةِ فَقالَ أَنبِـٔونى بِأَسماءِ هـٰؤُلاءِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ﴿٣١﴾... سورةالبقرة

"کہ سکھائے آدمؑ کو نا م سارے پھر سامنے کیا ان کو فرشتوں پر،پھر کہا بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر ہوتم سچے۔"

علم اور اس کے مشتقات کا ذکر قرآن مجید میں سینکڑوں مرتبہ آیا ہے۔اور بار بار علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم افضل الرسل ہیں۔معلم انسانیت ہیں ۔آپ پر بھی خدا کا حکم ہو اکہ اپنے لئے فروانی علم کی ہمیشہ دعا کرتے رہیں ارشاد ہے:

قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا "اے میرے رب میرا علم بڑھا دیجئے"

اہل علم کا مقام ومرتبہ قرآن مجید میں ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے۔

﴿قُل هَل يَستَوِى الَّذينَ يَعلَمونَ...﴿٩﴾... سورةالزمر

"کہہ دیجئے کیا برابر ہوتے ہیں۔وہ لوگ کہ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو کہ نہیں جانتے"

ایک مقام پر اہل علم کی علو مرتبت کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیاہے۔

﴿يَر‌فَعِ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَالَّذينَ أوتُوا العِلمَ دَرَ‌جـٰتٍ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ‌ ﴿١١﴾... سورةالمجادلة

کہ"اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درجات بلندکرےگا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیاگیا۔"

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ علم حاصل کرنے کو اولین اہمیت دی جنگ بدر کے موقع پر اسیران بدر کی رہائی کے لئے ایک صورت یہ بھی رکھی گئی کہ قیدیوں میں سے پڑھے لکھےلوگ دس دس ان پڑھ لوگوں کو پڑھا سکھا دیں(8)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات میں حصول علم اور تعلیم کو بہت اہمیت اور فضیلت دی گئی ہے۔حتیٰ کہ عالم کو عابد پر فضیلت حاصل ہے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔

فضلُ العَالِم على العَابِدِ كَفَضْلِي على أدْناكم". (9)

ایک مقام پر حصول علم کی فضیلت اس طرح بیان کی گئی ہے۔

الكلمة الحكمة ضالة المؤمن فحيث وجدها فهو أحق بها. (10)

"کہ کلمہ حکمت مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں سے اسے مل گئی وہی اس کا زیادہ مستحق ہے۔"

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموات میں علم حاصل کرنے کو اعمال صالحہ کی مختلف شکلوں سے تشبیہ دی گئی ہے ارشاد ہے جو شخص علم کےلئے نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتے ہیں اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں اور آسمان وزمین کی ہر شے اس کے لئے دعاء مغفرت کرتی ہے۔حتیٰ کہ پانی میں مچھلیاں اس کےلئے دعا کرتی ہیں۔(11)

اسلام نے کائنات کی اشیاء کو دیکھنے ،ان کی کیفیات وماہیت کو سمجھنے اور ان پرغوروفکر کرنے کی بار بار ترغیب دی ہے اور جو لوگ ا پنے حواس،عقل وخرد،اور مشاہدات تدبر وتفکر کے لئے استعمال نہیں کرتے انہیں قرآن نے چوپایوں سے تشبیہ دی ہے ارشاد ہے:۔

﴿لَهُم قُلوبٌ لا يَفقَهونَ بِها وَلَهُم أَعيُنٌ لا يُبصِر‌ونَ بِها وَلَهُم ءاذانٌ لا يَسمَعونَ بِها أُولـٰئِكَ كَالأَنعـٰمِ بَل هُم أَضَلُّ أُولـٰئِكَ هُمُ الغـٰفِلونَ ﴿١٧٩﴾... سورةالاعراف

"کہ ان کے دل ہیں لیکن وہ اس سے نہیں سمجھتے،ان کےپاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے نہیں دیکھتے ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے نہیں سنتے،یہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔اور یہی لوگ غافل ہیں۔

حکمت:لفظ حکمتہ انگریزی کے لفظ SCIENCE کا ہم معنی ہے۔یہ لفظ قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔مختلف علماء نے لغوی اعتبارسے اس کے معنی مختلف کیے ہیں۔ان میں سے حق بات پر پہنچنا،عدل وانصاف،علم وحلم وغیرہ زیادہ معروف ہیں(13)

جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولاجائے مثلا علیم حکیم تو اس کے معنی تمام اشیاء کی پوری معرفت ایجاد کے ہوتے ہیں۔غیر اللہ کے لئے بولا جائے تو موجودات کی صحیح معرفت اور نیک اعمال کے ہوتے ہیں۔(14)

حکمت کے ان تمام معنی کا مدعا یہ ہے کہ سائنس اسلام کے منافی نہیں بلکہ اسلام نے اسے ایک عظیم نعمت قرار دیا ہے۔ارشاد ہے:۔

﴿وَمَن يُؤتَ الحِكمَةَ فَقَد أوتِىَ خَيرً‌ا كَثيرً‌ا...﴿٢٦٩﴾... سورةالبقرة

کہ جسے حکمت (اشیاء کی معرفت صحیح بصیرت اور صحیح قوت فیصلہ) دی گئی اسے خیر کثیر مل گئی گویا اسلام ہمیں حکمت یعنی اشیاء کے حقائق کو سمجھنے اور ان میں تدبر وتفکر کا درس دیتاہے۔اور اس مادی دنیا کے لذات اور نعمتوں سے(جو حلال ہیں) استفادہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

تفکر:۔چیز یامعاملے میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ غور کرنا اور عقل ونظر سے کام لینے کا نام تفکر ہے۔(16)

تدبر:۔معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کو تدبر کہتے ہیں(17)

قرآن مجید کی متعدد آیات میں انسان کو تدبر وتفکر کی دعوت دی گئی ہے اسے اپنی تخلیق یعنی بناوٹ پر نظر ڈالنے اورزمین وآسمان کی پیدائش پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ارشاد ہے۔:۔

﴿وَفى خَلقِكُم وَما يَبُثُّ مِن دابَّةٍ ءايـٰتٌ لِقَومٍ يوقِنونَ ﴿٤﴾... سورة الجاثية

کہ"تمہاری پیدائش اور چوپائیوں کی افزائش نسل میں اہل یقین کے لئے نشانیاں ہیں"اس طرح ایک جگہ ارشاد ہے:۔

﴿أَوَلَم يَنظُر‌وا فى مَلَكوتِ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ وَما خَلَقَ اللَّهُ مِن شَىءٍ ...﴿١٨٥﴾... سورةالاعراف

"کیا انہوں نے آسمانوں کی بادشاہت پر اور جو چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں نظر نہیں ڈالی گردش لیل ونہار کی طرف غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے سمندر کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔اور یہ کہ پانی زمین اور زمین پر بسنے والوں کی بقا کے لئے ایک جزو لانیفک ہے۔ارشاد ہے:۔

﴿إِنَّ فى خَلقِ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ وَاختِلـٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ‌ وَالفُلكِ الَّتى تَجر‌ى فِى البَحرِ‌ بِما يَنفَعُ النّاسَ وَما أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّماءِ مِن ماءٍ فَأَحيا بِهِ الأَر‌ضَ بَعدَ مَوتِها وَبَثَّ فيها مِن كُلِّ دابَّةٍ وَتَصر‌يفِ الرِّ‌يـٰحِ وَالسَّحابِ المُسَخَّرِ‌ بَينَ السَّماءِ وَالأَر‌ضِ لَءايـٰتٍ لِقَومٍ يَعقِلونَ ﴿١٦٤﴾... سورةالبقرة

"آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مرده زمین کو زنده کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔"

پانی انسان،حیوان،نباتات،اور کائنات کی ہر چیز کی بقا کےلئے ایک جزو لانیفک ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت وافر مقدار میں پیدا فرمائی ہے۔اس نعمت اور جن اشیاء کی حیات کاانحصار اس نعمت پر ہے۔اس کی طرف غور وفکرکی دعوت دی جارہی ہے۔ارشاد ہے۔:۔

﴿هُوَ الَّذى أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً لَكُم مِنهُ شَر‌ابٌ وَمِنهُ شَجَرٌ‌ فيهِ تُسيمونَ ﴿١٠﴾ يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّر‌عَ وَالزَّيتونَ وَالنَّخيلَ وَالأَعنـٰبَ وَمِن كُلِّ الثَّمَر‌ٰ‌تِ إِنَّ فى ذ‌ٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّر‌ونَ ﴿١١﴾... سورةالنحل

"وہی تمہارے فائدے کے لیے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ۔ اسی سے وه تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے بےشک ان لوگوں کے لیے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں"

شہد کو قرآن مجید" شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ " کہتا ہے۔جدید طب بھی اس کی مسلمہ افادیت کوجدید طب بھی اس کی مسلمہ افادیت کو تسلیم کرتی ہے۔قرآن مجید اس سلسلہ میں مذید تحقیق کی دعوت اس انداز سےدیتا ہے،ارشاد ہے:

﴿وَأَوحىٰ رَ‌بُّكَ إِلَى النَّحلِ أَنِ اتَّخِذى مِنَ الجِبالِ بُيوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ‌ وَمِمّا يَعرِ‌شونَ ﴿٦٨﴾ ثُمَّ كُلى مِن كُلِّ الثَّمَر‌ٰ‌تِ فَاسلُكى سُبُلَ رَ‌بِّكِ ذُلُلًا يَخرُ‌جُ مِن بُطونِها شَر‌ابٌ مُختَلِفٌ أَلو‌ٰنُهُ فيهِ شِفاءٌ لِلنّاسِ إِنَّ فى ذ‌ٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّر‌ونَ ﴿٦٩﴾... سورةالنحل

"آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا ۔اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی ره، ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت بڑی نشانی ہے۔"

اسلام مظاہر قدرت کا مطالعہ اور تحقیق مسلمانوں پر لازم قرار دیتا ہے۔کیونکہ اس سے نہ صرف رموز کائنات کا انکشاف ہوتا ہے بلکہ رب العالمین کی معرفت نصیب ہوتی ہے۔اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے تسخیرکائنات کے بارے میں رہبانی ذہن پر ضرب کاری لگائی اور نظریہ تفکر وتدبر پیش کرکے کائنات کی اشیاء سے استفادہ اللہ تعالیٰ کی صنعت کاری کی پہچان اور اس کی معرفت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

جدید علوم:۔اسلام اپنے پیروکاروں کی زندگی کےہر موڑ پر ان کی راہنمائی کرتا ہے۔مسلمانوں کی زندگی کے افعال واعمال کا تعلق خواہ دنیا سے وہ یا آخرت سےدین اسلام کے لئے واضح اور بین احکام پیش کرتا ہے۔انسانی زندگی کی ترقی اور کامیابی کا انحصار حصول علم اور تحقیق وجستجو پر مبنی ہے۔اس لئے اسلام نے حصول علم کو ہر کلمہ گو کے لئے فرض کر دیا ہے۔اور تحقیق وریسرچ تدبر وتفکر اورعقل وخرد سے کام لینا مومن کا اوڑھنا بچھونا قرار دیا ہے۔

جدید سائنس میں فلیات،علم حیوانات،نباتات،علم طب،جغرافیہ،علم حساب،علم ہندسہ،علم الارض ،جہازسازی وغیرہ بہت اہم ہیں۔قرآن مجید میں ان تمام علوم کی طرف اور ان کے علاوہ دوسرے علوم کی طرف واضح اشارات ملتے ہیں۔اب یہ انسان پرچھوڑ دیاگیاہے۔کہ وہ اپنی خداداد عقل سے کام لے کر اس بحر ذخار میں کس قدر موتی چنتا ہے۔اور قرآن مجید نے جس تدبر وتفکر کی دعوت دی ہے وہ اس پر کس قدر عمل کرتا ہے۔

فلکیات:۔شمس وقمر اور ستارے وسیارے علم فلکیات کے مباحث میں اہم ارکان ہیں۔قرآن مجید نے ان کی اہمیت اور ان پر غور وفکر کی دعوت اس وقت دی تھی۔جب انسان آج کے ترقی یافتہ دور کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آج کا سائنسدان جو چاند کو مسخر کرنے اور دوسرے ستاروں پر کمند ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔اس کا سارا علم قرآن مجید کی رہین منت ہے۔کیونکہ قرآن مجید ہی پہلی الہامی کتاب ہے۔جس نے بنی نوع انسان کو ان اجرام فلکی کی مفصل مطالعہ کی دعوت دی ہے ارشاد ہے:

﴿وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الشَّمسَ وَالقَمَرَ‌ دائِبَينِ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ ﴿٣٣﴾... سورةابراهيم

"اسی نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے لئے مسخر کردیا۔"

سورج ساکن ہے یا متحرک؟سائنس دانوں میں مسئلہ متنازع فیہ رہا ہے حتیٰ کہ سائنس دان اس بات کے قائل ہوگئے کہ کائنات کی ہرچیز متحرک ہے قرآن مجید نے یہ مسئلہ آج سے چودہ سو سال پہلے حل فرمایا ارشاد ہے:۔

وَالشَّمسُ تَجر‌ى لِمُستَقَرٍّ‌ لَها ذ‌ٰلِكَ تَقديرُ‌ العَزيزِ العَليمِ ﴿٣٨﴾ وَالقَمَرَ‌ قَدَّر‌نـٰهُ مَنازِلَ حَتّىٰ عادَ كَالعُر‌جونِ القَديمِ ﴿٣٩﴾ لَا الشَّمسُ يَنبَغى لَها أَن تُدرِ‌كَ القَمَرَ‌ وَلَا الَّيلُ سابِقُ النَّهارِ‌ وَكُلٌّ فى فَلَكٍ يَسبَحونَ ﴿٤٠﴾... سورة يس

"اور چاند کی ہم نے منزلیں مقررکر رکھی ہیں، یہاں تک کہ وه لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے (39) نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں"

علم البحر:۔

﴿اللَّهُ الَّذى سَخَّرَ‌ لَكُمُ البَحرَ‌ لِتَجرِ‌ىَ الفُلكُ فيهِ بِأَمرِ‌هِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ﴿١٢﴾... سورةالجاثية

"اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجالاؤ"

یہی مضمون قرآن مجید کی دوسری صورتوں میں بھی آیا ہے۔(25)

علم ریاضیات:۔

﴿هُوَ الَّذى جَعَلَ الشَّمسَ ضِياءً وَالقَمَرَ‌ نورً‌ا وَقَدَّرَ‌هُ مَنازِلَ لِتَعلَموا عَدَدَ السِّنينَ وَالحِسابَ ... ﴿٥﴾... سورة يونس

"وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ "

ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا:۔

﴿وَجَعَلنَا الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ ءايَتَينِ فَمَحَونا ءايَةَ الَّيلِ وَجَعَلنا ءايَةَ النَّهارِ‌ مُبصِرَ‌ةً لِتَبتَغوا فَضلًا مِن رَ‌بِّكُم وَلِتَعلَموا عَدَدَ السِّنينَ وَالحِسابَ...﴿١٢﴾... سورةالإسراء

"ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بےنور کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور اس لئے بھی کہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو"

علم آثار قدیمہ:۔

آثارقدیمہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ان کے ذریعے پرانی تہذیب وثقافت کا پتہ چلتاہے۔قوموں کے عروج وزوال کا حال معلوم ہوتا ہے۔قرآن مجید میں اس طرف اس طرح ارشاد کیا گیا ہے:۔

﴿فَسير‌وا فِى الأَر‌ضِ فَانظُر‌وا كَيفَ كانَ عـٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ ﴿١٣٧﴾... سورة آل عمران

"سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ (آسمانی تعلیم کے) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟"

ایک جگہ اس طرح ارشاد ہے:۔

﴿سير‌وا فِى الأَر‌ضِ فَانظُر‌وا كَيفَ بَدَأَ الخَلقَ...﴿٢٠﴾... سورةالعنكبوت

"زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مخلوق کو تخلیق کیا۔"

علم الارض:۔

﴿وَالأَر‌ضَ وَضَعَها لِلأَنامِ ﴿١٠﴾...سورة الرحمن

"زمین کو ہم نے تمام مخلوق کے لئے پیدا کیا "

اسی طرح ایک جگہ ارشاد فرمایا:۔

﴿وَالأَر‌ضَ مَدَدنـٰها وَأَلقَينا فيها رَ‌و‌ٰسِىَ وَأَنبَتنا فيها مِن كُلِّ شَىءٍ مَوزونٍ ﴿١٩﴾ وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعـٰيِشَ...﴿٢٠﴾... سورالحجر

"اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں، اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی ہے ۔اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں"

اس آیت میں لفظ معایش" کا اشارہ معدنیات اور کانوں کی طرف ہے جو بنی نوع انسان کے فائدے اور مزدور کی روزی کا سبب بنتے ہیں۔

علم نباتات:۔نباتات انسان کی اہم ضروریات کو پورا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس نے اسے ایک مستقل علم کی حیثیت دی ہے۔قرآن مجید نے اس طرف اس انداز سے اشارہ فرمایا ہے:

﴿وَهُوَ الَّذى أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جنا بِهِ نَباتَ كُلِّ شَىءٍ...﴿٩٩﴾... سورةالانعام

"اور وه ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نبات کو نکالا"

تخلیق کائنات کےسلسلے میں یوم اول سے آدمؑ اورعیسیٰؑ کے علاوہ عادۃ اللہ یہی ہے۔کہ نئے مولود کے لئے مذکر اور مونث کاملاپ ہو۔یہ امر صرف بنی نوع انسان تک ہی نہیں بلکہ نباتات میں بھی یہی عمل کارفرما ہے۔اور قرآ ن مجید ہی پہلی کتاب برحق ہے۔ جس نے یہ نظریہ پیش کیا۔اور ہمارے لئے علوم وتحقیق کے دروازے کھولے ارشاد ہے:۔

﴿سُبحـٰنَ الَّذى خَلَقَ الأَزو‌ٰجَ كُلَّها مِمّا تُنبِتُ الأَر‌ضُ وَمِن أَنفُسِهِم وَمِمّا لا يَعلَمونَ ﴿٣٦﴾... سورة يس

"وه پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواه وه زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواه خود ان کے نفوس ہوں خواه وه (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں"

یہی مضمون سورۃ الزمر کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:۔

﴿أَلَم تَرَ‌ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَسَلَكَهُ يَنـٰبيعَ فِى الأَر‌ضِ ثُمَّ يُخرِ‌جُ بِهِ زَر‌عًا مُختَلِفًا أَلو‌ٰنُهُ ثُمَّ يَهيجُ فَتَر‌ىٰهُ مُصفَرًّ‌ا ثُمَّ يَجعَلُهُ حُطـٰمًا إِنَّ فى ذ‌ٰلِكَ لَذِكر‌ىٰ لِأُولِى الأَلبـٰبِ ﴿٢١﴾... سورةالزمر

"کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے"

اس آیت کا ماحصل یہ ہے:۔

1۔نباتات کے لئے پانی کی ضرورت پھلوں کے پکنے کے وقت پر غور وفکر کی دعوت

علم حیوانات:۔

قرآن مجید میں مختلف حیوانات اور حشرات کا ذکر کرکے ان کی تخلیق پر غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے۔(35) اور اس تحقیق کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہ حیوانات کس حد تک بنی نوع انسان کی تعمیر وترقی کے لئے ممدو معاون ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام چیزیں۔ انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی ہیں۔اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنی عقل کو کام لا کر ان سے استفادہ کرے۔

الحرف الآخر

قرآن مجید علوم ومعارف کا بحر ذخار ہے۔اس میں غوطہ لگانے کے لئے علم وادب سے آراستہ ہونا بہت ضروری ہے۔ہمارے یہاں سب سے بڑی رکاوٹ جو قرآنی علوم سے استفادہ کرنے کےلئے آڑے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ:

الف۔عربی دان طبقہ سائنسی علوم سے نابلد ہے بلکہ بعض حضرات ان علوم کے حصول کو تقریباً شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں۔

ب۔سائنس دان کی اکثریت عربی زبان اور قرآن فہمی سے ناواقف ہے جس کی بنا پر ایک بڑ ا خلا واقع ہوگیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عربی دان علماء حضرات کو سائنسی علوم سے کماحقہ روشناس کرایاجائے اور سائنس دان حضرات کو قرآن فہمی سے اور قرآن فہمی کے لئے عربی زبان سے روشناس کرایا جائے کیونکہ اسلام کی اکثریت جو سائنس۔طب اور ریاضی وہندسہ سے متعلق ہیں۔وہ عربی زبان میں ہیں۔اس طرح ہم اپنے سرمائے سے پوری طرح استفادہ کرسکیں گے۔


حوالہ جات

1۔سنن ابن ماجہ باب فضل العلماء صفحۃ 20 ادارہ احیاء السنہ النبویہ سرگودھا۔

2۔طبقات ابن سعد ج2ص 22 مطبع درار صادر بیروت

3۔مشکواۃ ص 34کتاب العلم،الصح المطابع دہلی۔

4۔ترمذی ج2ص 93 باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ۔(11)ایضاً

5۔معارف القرآن ج1ص 330۔