میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

معاشرتی تحفظ:۔

جس طرح اسلام کے اخلاقی نظام میں عورت کے حقوق کو تحفظ دیاگیا ہے۔اس طرح اسلام کے معاشرتی نظام میں بھی عورت ک حقوق کا تحفظ ہے،چنانچہ اسلام جہاں دیگر مقہور ومظلوم طبقات انسان کے لئے رحمت بن کر آیا،وہاں وہ دیرینہ ،مجبور،لاچار، بے کس اور ظلم وستم کی چکی میں پسنے والی اس صنف نازک کے لئے بھی ابر رحمت ثابت ہوا،اسلام نے انسان کے ناطے سے مرد اور عورت کو برابر قرار دیا ۔ اور اعلان کیا کہ مرد کی محض مرد ہونے کی بناء پر افضل اور عورت کو عورت ہونے کی بناء پر ذلیل اور کمتر نہیں تصور کیا جائے گا۔ارشاد ربانی ہے:۔

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ و‌ٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِ‌جالًا كَثيرً‌ا وَنِساءً ...﴿١﴾... سورةالنساء

ترجمہ"اے لوگو!اس خدائے بزرگ وبرتر سے ڈرو جس نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بھی اور بعد ازاں ان دونوں سے بے شمار مرد اورعورتیں پھیلادیں۔"

امام بیضاوی فرماتے ہیں:۔

أي خلقكم من شخص واحد وخلق منه أمكم حواء من ضلع من أضلاعه،

"فرماتے ہیں یعنی تمھیں ایک شخص سے پیدا کیا اور اسی کی پسلیوں میں سے ایک پسلی سے تمہاری ماں حوا کو پیدا فرمایا۔"

جس طرح آدم ؑ نسل انسانی کے باپ ہیں اسی طرح حوا ء تمام نسل انسانی کی ماں ہیں۔"

اللہ تعالیٰ نے حواءؑ کو آدم ہی کی نسل سے بنایا ہے،اس وجہ سے عورت کوئی ذلیل وحقیر فروتر اور فطرت گناہ گار مخلوق نہیں ہے،بلکہ یہ بھی شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے،

اس کو حقیر وذلیل مخلوق سمجھ کر نہ اس کے حقوق سے محروم کیا جاسکتا ہے۔اور نہ کمزورسمجھ کر ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے(3)

تحفظ جان:۔

اسلام نے ایک انسان(بلا قید جنس)کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل ٹھہرا کر تحفظ جان کی اہمیت پر جس طرح زور دیا ہے اس کی نظیر دنیا کے مذہبی ،اخلاقی ،یا قانونی لٹریچر میں کہیں نہیں ملتی۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔

﴿مَن قَتَلَ نَفسًا بِغَيرِ‌ نَفسٍ أَو فَسادٍ فِى الأَر‌ضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ...﴿٣٢﴾... سورة المائدة

"جس نے کسی انسان کو جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا،اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا۔اور جس نے کسی کی جان بچائی ،اس نے گویا،تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔"

مولانا ابو علی الفضل بن الحسین الطبرسیؒ فرماتے ہیں:۔

﴿مَن قَتَلَ نَفسًا بِغَيرِ‌ نَفسٍ أَو فَسادٍ فِى الأَر‌ضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النّاسَ جَميعًا وَمَن أَحياها فَكَأَنَّما أَحيَا النّاسَ جَميعًا...﴿٣٢﴾... سورةالمائدة

بنی اسرائیل کے بارے میں لکھا ہے ،جو شخص کسی کو قتل کرے گاا س نے گویا ساری دنیا کو قتل کردیا،اور جو ایک جان بچائے گا،اس نے گویا ساری دنیا کی جان بچائی(6)

ارشاد ربانی ہے:۔

﴿وَلا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم مِن إِملـٰقٍ نَحنُ نَر‌زُقُكُم وَإِيّاهُم وَلا تَقرَ‌بُوا الفَو‌ٰحِشَ ما ظَهَرَ‌ مِنها وَما بَطَنَ وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّ‌مَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ...﴿١٥١﴾... سورةالانعام

ترجمہ:۔"اور تم اپنی اولادوں کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم تمھیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی اور ظاہری وباطنی بےحیائی کے قریب بھی نہ پھٹکو اور اس جان کو قتل نہ کرو جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے ماسوائے حق کے۔"

اس میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےہر جان کو محترم ٹھہرایا،اس پر تعدی حرام ہے۔الا آنکہ وہ کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے،جس کےنتیجے میں وہ قانون الٰہی کی اس حفاظت سے محروم ہوجائے۔(8)

مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:۔

اپنے اولادوں کو افلاس کے سبب قتل مت کرو،کیونکہ ہم ان کو اورتم کو دونوں کو رزق دیں گے اور(وہ تمہارے) رزق مقرر میں شریک نہیں ہیں ،پھر کیوں قتل کرتے ہو جبکہ قتل کرنا حرام ہے،

﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّ‌مَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ﴾

جن کا خون کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے ،اس کو قتل مت کرو،ہاں مگر حق(شرعی) پر (قتل جائز ہے) مثلاً قصاص میں ،رجم میں،پس قتل ناحق حرام ہوا،ان سب کا اللہ نے تاکیداً حکم دیا ہے۔تاکہ تم ان کو سمجھو اور سمجھ کر عمل کرو(9)

جاراللہ زمخشریؒ فرماتے ہیں:۔

إِلَّا بِالْحَقِّ كالقصاص، والقتل على الردّة، والرجم.

"یعنی حق قتل کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ مثلا ً قصاص میں،ارتداد میں یا رجم میں قتل کیا جائے۔

شیخ ابو علی الفضل بن الحسن الطبری فرماتے ہیں:۔

و الحق الذي يستباح به قتل النفس المحرم قتلها ثلاثة أشياء القود و الزنا بعد إحصان و الكفر بعد إيمان (11)

وہ حق جس کے تحت کسی محترم جان کا قتل مباح ہوجاتا ہے،اس کی تین صورتیں ہیں۔قصاص،حالت احصان کے بعد زنا کا ارتکاب ،ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنا،

مولانا ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود النسفی فرماتے ہیں:۔

الا بالحق کے تحت قتل کرنا جائز ہے۔جیسے مرتدین کو قتل کرنا ،قاتل سے قصاص لینا،یا زانی محصن کو سنگسار کرنا،حضرت(عبداللہ) بن مسعود سے روایت ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کسی مسلمان کا خون مباح نہیں در آں حال یہ کہ وہ یہ گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔مگر تین صورتوں میں اس کا خون مباح ہوجاتا ہے۔اولاً یہ کہ زانی محصن ہو۔ثانیاً یہ کہ وہ قاتل ہو،ثالثاً یہ کہ وہ دین اسلام چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو۔

محمد جواد مغنیہ فرماتے ہیں:۔

"کسی جان کے قتل کے بارے میں اصل چیز حرمت ہے،اور کسی شرعی سبب کے بغیر قتل نفس جائز نہیں ہے۔شرعی اسباب چار ہیں۔جن میں سے تین اسباب کے بارے میں سنت میں نص موجود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"کسی مسلمان کا خون سوائے تین حالتوں کے مباح نہیں ہے۔یہ کہ وہ مرتد ہوجائے،یہ کہ وہ شادی شدہ ہو اور پھر زنا کامرتکب ہو۔یہ کہ وہ کسی کو ناحق قتل کردے۔اور قرآن کی سورہ مائدہ کی آیت 33 کے اندر چوتھی حالت یہ بیان ہوئی ہے۔کہ جو لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے ہیں وہ ملک میں فساد مچاتے ہیں۔ان کی سزا تو یہ ہے کہ وہ چن چن کر قتل کردیئے جائیں یا سولی پر لٹکا دیئے جائیں۔(13)

لیکن عرب جاہلیت کے اجڈ قبائل میں سنگدل باب اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے بیشتر تو اس سنگدلی کا سبب فقر کا اندیشہ ہوتا،مگر بعض حالات میں غربت کی بے اعتدالی بھی اس کا باعث بن جاتی،انہوں نے اپنی اولادوں کو قتل کیا،اللہ کے بخشے ہوئے رزق کو اپنے اوپرحرام کیا۔(14) پھر اسلام نے آکرلڑکیوں کے قتل سے روکا،فقروفاقہ کا خوف ان کے دل سے نکالا،الرزاق کی قوت متین پر اعتماد کا جذبہ پیدا کیا،اور اعلان کردیاکہ:۔

﴿وَلا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم مِن إِملـٰقٍ نَحنُ نَر‌زُقُكُم وَإِيّاهُم...﴿١٥١﴾... سورة الانعام

"اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو،ہم تمھیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی دیں گے۔

مولانا ابو الفداء اسماعیل بن کثیر ؒ فرماتے ہیں:۔

ہرجان خود محترم ہے اس وجہ سے اس کی جان کو قتل بغیر کسی حق شرعی(بغاوت یا ارتکاب زنا) کے قتل کرنا جائز نہیں (16)

ارشاد ربانی ہے:۔

﴿وَلا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم خَشيَةَ إِملـٰقٍ نَحنُ نَر‌زُقُهُم وَإِيّاكُم إِنَّ قَتلَهُم كانَ خِطـًٔا كَبيرً‌ا ﴿٣١﴾... سورة الإسراء

اس میں قتل اولاد کی ممانعت کردی گئی ہے اور فرمایا کہ اصل رازق تو خود خدا ہی ہے،تو کسی دوسرے کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ کسی دوسری جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کردے کہ وہ کھائے گی۔

علامہ الشوکانی ؒ فرماتے ہیں:۔

خشية إملاق قال : مخافة الفقر والفاقة . (18)

کہ"خشیۃ املاق" سے مراد فقروفاقہ سے ڈر کر قتل کرناہے۔"

عرب جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی جو سنگدلانہ رسم جاری تھی اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت کوئی کماؤ فرد تو ہے نہیں۔اس لئے لڑکیوں کی پرورش کا بوجھ کیوں اٹھایاجائے۔قرآن نے اس سنگدلانہ جرم کے اصل محرک پر ضرب لگائی اور اس بربریت کا خاتمہ کیا۔(19)

مولانا ابو اعلیٰ مودودی فرماتے ہیں:۔

عرب عورت کے وجود کو موجب ذلت اورعارسمجھتے تھے، لڑکی کی پیدائش ان کے لئے غم واندوہ کا باعث تھی،وہ نرینہ اولاد پر اتراتے اورفخر کرتے،لیکن لڑکیوں کے وجود،ان کے سر عظمت کا جھکا دیتا،چنانچہ ظہوراسلام کے وقت عرب کے سفاکانہ مراسم میں سب سے زیادہ بے رحمی وسنگدلی کا کام معصوم بچوں کو مار ڈالنا،اور لڑکیوں کازندہ گاڑ دیناتھا۔یہ بے رحمی کا کام خود والدین اپنے ہاتھوں سے اپنی مرضی سے سر انجام دیتے تھے۔(20)

ارشاد ربانی ہے:۔

﴿بِأَىِّ ذَنبٍ قُتِلَت ﴿٩﴾ وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَ‌ت ﴿١٠﴾... سورةالتكوير

کہ جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیاجائے گا تو کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی؟

علامہ الشوکانی ؒ فرماتے ہیں:۔

کہ عرب کا دستور یہ تھا کہ کسی ایک کے ہاں لڑکی پیدا ہوجاتی تو اس کو باعث عاروننگ سمجھتے ہوئے زندہ ہی دفن کردیتے اور "موعودہ"اصلاً ثقل سے ماخوذ ہے۔کیونکہ انہیں دفن کرکے ان پر مٹی ڈال دی جاتی تھی۔پس وہ اس بوجھ کی بناء پر دم گھٹنے سے مرجاتی تھیں۔(22)

ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔

﴿وَإِذا بُشِّرَ‌ أَحَدُهُم بِالأُنثىٰ ظَلَّ وَجهُهُ مُسوَدًّا وَهُوَ كَظيمٌ ﴿٥٨﴾... سورةالنحل

ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو بتایا جاتا ہے،کہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے۔تو ان کے ہاں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔اور چہروں پر مایوسی کی سیاہی پھیل جاتی ہے۔دل غم واندوہ سےبھر جاتا ہے۔(24)

ارشادربانی ہے:۔

﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ﴾

مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:۔

تم ایک دوسرے کو قتل مت کرو،اس لئے کہ ضرر انسانی کی صورتوں کو منع فرمادیاگیا دوسرا شخص پھر تم کو ضرر پہنچادے گا۔جو شخص ایسا فعل کرے گا،تو وہ حد شرع سے گزرے گا تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں ڈالے گا۔(2) ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔

﴿وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ ﴾

مولانا امین احسن اصلاحیؒ فرماتے ہیں:۔

کیونکہ قتل اولاد کاارتکاب مشرکانہ توہمات کے تحت بھی ہوتا تھا اور اندیشہ فقر اور بے جاغیرت کے تحت بھی۔(28)

لہذا اسلام نے سب سے پہلے عورت کی عظمت کو بحال کیا،اور اسے اس طرح محترم گردانا جس طرح مرد کی ذات کو سمجھا جاتاتھا۔معاشرے میں اس کی حیثیت کا احساس دلایا اگر بیٹی ہے تو باعث رحمت اگر بہن ہے تو عزت واحترام کی حقدار ہے اور اگر ماں ہے تو اس کے پاؤں تلے جنت ہے،اگر بیوی ہے،تو قابل مودت ورحمت،گویا اسلام میں پہلی مرتبہ عورت بحیثیت ماں ،بیٹی، بیوی اور بہن نے اپنا صحیح مقام حاصل کیا۔

نکاح وطلاق کے قوانین کی اصلاح فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کوظلم وستم سے نجات دلائی،اس کےلئے دائرہ عمل متعین فرمایا تاکہ اس کا تحفظ ہوسکے۔(29)

شخصی آزادی کا تحفظ:۔

یورپ میں عورت آج تک اپنے ذاتی نام سے اپنی شخصیت نمایاں نہیں کرسکتی،جب تک شادی نہیں ہوئی،مس ٹامسن ہے۔جب شادی ہوگئی تو مسز جونسن ہوگئی،یعنی خود اس کی شخصیت کوئی مستقل انفرادیت نہیں رکھتی،یا باپ کے سائے میں دیکھائی دے گی یا شوہر کے،لیکن مسلمانوں کی معاشرتی تہذیب میں کبھی ایسا نا منصفانہ تخیل پیدا نہیں ہوا۔عورت لڑکی ہو،یا بیوی وہ ہمیشہ فاطمہ اور عائشہ کی ہی حیثیت سے نمایاں ہوگی،چنانچہ ہندوستان اور مصر میں یہ طریقہ عام ہوگیا کہ "مس" اور"مسز" ماداموزیل" اور "مادام" کی ترکیب سے جدید تعلیم یافتہ خواتین کو یاد کیاجاتا تھا۔

نزول قرآن سے پہلے عرب کا بھی وہی حال تھا جو اس بارے میں تمام دنیا کا تھا۔لیکن قرآن مجید کی تعلیم نے جو انقلاب حال پید کردیا۔وہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں میں پہلی مرتبہ سیاسی خانہ جنگی شروع ہوئی تو ایک گروہ نے حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں میدان جنگ کا رخ کیا،اس وقت کسی مسلمان کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں گزری کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عورت ہوکر ایک سیاسی اور فوجی تحریک کی قائدکیسے ہوسکتی ہے؟اس طرح یورپ موجودہ دور میں مردوں کی طرح تصویب کاحق(ملکی انتخابات میں ووٹ دینے) حاصل ہونا چاہیے یا نہیں۔۔۔؟اور انگلستان کےسفریجسٹ (SUFFRAGIST) کی تحریک کا ہنگامہ تو آج کی بات ہے۔لیکن جو مسلمان آج سے تیرہ سو برس پہلےحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جھنڈے تلے اکھٹے ہوئے تھے۔ظاہر ہے کہ انہیں عورتوں کے اس حق کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا تھا۔جو لوگ مخالف تھے۔ان کی مخالفت بھی اصل مابہ النزاع معاملے میں تھی،اس بارے میں نہ تھی،کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عورت ہوکر ایک جنگ آزما مسلمانوں کے گروہ کی قائد کیونکر ہوسکتی ہیں(30)

نجی زندگی کا تحفظ:۔

اسلام کے بنیادی حقوق کی رو سے ہر آدمی خواہ مرد ہو یا عورت کو پرائیویٹ یعنی نجی زندگی کو محفوظ رکھنے کاحق حاصل ہے،اس معاملے میں سورہ نور میں وضاحت کردی گئی ہے،

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَدخُلوا بُيوتًا غَيرَ‌ بُيوتِكُم حَتّىٰ تَستَأنِسوا ...﴿٢٧﴾... سورة النور

"اپنےگھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو،جب تک کہ ان سے اجازت نہ لے لو،سورۃ الحجرات میں فرما دیا گیا ہے،﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ (32) خواہ مرد ہو یاعورت کو یہ حق نہیں ہے کہ ا پنے گھر سے کسی دوسرے آدمی کے گھر میں جھانکے،ایک شخص کو پورا پورا آئینی حق حاصل ہے،کہ وہ اپنے گھر میں دوسروں کے شور شغب سے دوسروں کی تاک جھانک سے اور دوسروں کی مداخلت سے محفوظ ومامون رہے چنانچہ اس کی گھریلو بے تکلفی اور پردہ داری برقرار رہنی چاہیے۔(33)
حوالہ جات

1۔انوار التنزیل واسرار التاویل الجزء الرابع ص101۔

2۔التفسیرالکبیر الجز التاسع ص161۔

3۔مجمع البیان فی تفسیر القرآن داراحیاء التراث العربی بیروت 1379ھ۔الجزء الثالث ص186۔

4۔الف۔ابراہیم القطان:تیسرا التفسیر عمان 1402ھ۔المجلد الاول الجزء السادس ص475۔ب۔شاہ رفیع الدین تفسیر یشر قرآن مجید گجرات 1968ء جلد اول ص321۔

5۔تدبر قرآن جلد دوئم ص۔577۔

6۔بیان القرآن جلد سوئم س137۔

7۔تفسیر الکثاف الجلد الثانی ص61۔

8۔مجمع البیان فی تفسیر القران الجزء الثالث الجزء الثامن ص383۔

9۔تفسیر الخازن المجلد الثانی ص69۔

10۔الف۔محمد جواد مغنیہ۔التفسیر الکاشف المجلد الثالث الجزء الثامن،ص283۔(ب) تفسیر ابن کثیر المجلد الثانی ص ۔190عن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث

11۔تدبر قرآن جلد سوئم ص 173۔

12- العدالہ الاجتماعیہ فی الاسلام ص37۔

13۔تفسیر ابن کثیر المجلد الثانی ،ص189

14۔فتح القدیر المجلد الثالث ص225۔

15۔تدبرقرآن جلد چہارم،ص 499۔

16۔تفہیم القرآن جلد اول ص 586۔

17۔فتح القدیر الجزءالخامس ص 389۔

18۔تدبرقرآن جلد سوئم ص664۔

19۔مولانا اشرف علی تھانوی بیان القرآن لاہور مکتبۃ الحسن 1405۔جلد اول ص 284۔

20۔تدبرقرآن جلد پنجم ص343۔

21۔خالد علوی انسان کامل لاہور 1974ء ص651۔

22۔ترجمان القرآن جلد دوئم ص193۔195۔

23۔مولانا ابو اعلیٰ مودودی :اسلامی ریاست لاہور 1981ء ص 565۔