میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

عربی لغت میں حد سے مراد باڑھ،سرحد،آخری کنارہ،انتہا،عدم اجازت اور امتناع کے ہیں۔حد کے ایک معنی روکنا اور منع کرنا بھی ہیں اسی سے قید خانے کے دربان کو حداد کہا جاتاہے۔یعنی روکنے اور منع کرنے والا (امام سرخسی)

حد کی جمع حدود ہوتی ہے۔جس کا مفہوم الذبیدی اس طرح بیان کرتے ہیں اللہ کی حدود کی قسمیں ہیں ایک تو وہ حدود ہیں جو کھانے پینے اور نکاح طلاق کے سلسلے میں مقرر ہیں۔مثلاً ان میں سے کون سے امور حلال ہیں اور کون سے حرام دوسری وہ حدود جو بطور سزا اللہ نے مقرر کردی ہیں۔یعنی ایسے افعال کا ارتکاب جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے جیسے چور کی سزا ہاتھ کاٹنا جو کہ حد ہے۔اور غیر شادی شدہ زانی یا زانیہ کی سزا سو کوڑے اور شادی شدہ زانیہ یا زانی کی سزا رجم اور قذف کی سزا اسی کوڑے ہیں۔ان کو حدود اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کا ارتکاب کرنے سے منع کردیا گیا ہے ۔اور اللہ نے یہ باڑھ لگادی ہے جس سے گزر جانا ممنوع قراردیاگیا ہے۔(سید مرتضیٰ زبیدی،تاج العروس ج2 بیروت)

سزا کو حد اس لئے کہتے ہیں کہ یہ جرم دوبارہ واقع ہونے روکتی ہے اس لئے حد شرعی کی تعریف فقہائے اسلام ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

الحد عقوبة مقدرة من الله عزّ وجل (دائرہ المعارف للبستانی) یعنی حد سے وہ معین سزا مراد ہے۔جو اللہ کے حق کی حیثیت سے واجب ہوتی ہے۔

اس لئے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حد شرعی سے مراد ہو جرم ہے جنکی سزا متعین ہو۔اور جسمیں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔مثلا چور کی سزا قطع ید اور قذف(تہمت لگانے) کی سزا اسی کوڑے۔

دوم:اس سزا کا نفاذ واجب اور ناگزیر ہے۔ نہ تو مجرم کی توبہ اسے بچا سکتی ہے نہ حکومت اور نہ ہی عدالت، یاکوئی اور شخص۔یہ اللہ کا حق ہے۔اس لئے یہ سزا بحرحال نافذ ہوکر رہتی ہے۔

شریعت میں جرائم کی تین اقسام ہیں اور یہ سزا کے تعین اور عدم تعین کے لحاظ سے ہیں۔(1۔حدود۔2۔جنایات۔تعزیرات)

جنایات :سے مراد قصاص ودیت کے مسائل ہیں قصاص کو حدود میں شامل اس لئے نہیں کیاجاسکتا کہ وہ بندے کا حق ہے۔مقتول کے ورثاء اگر چاہیں تو قاتل کو معاف کردیں یا اس سے دیت لے کر اسکی جان بخشی کردیں۔

تعزیرات سے مرادشریعت کے وہ ممنوعات ہیں جن سے منع تو کیاگیا مگر اس کی سزا حاکم اور قاضی کے صوابدید پر چھوڑ دی گئی۔یہ تعزیر کی سزا دس کوڑوں سے زائد نہیں ہوسکتی جیسا کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

لا يجلد فوق عشر جلدات إلا في حد من حدود الله کہ اللہ کی حد کے علاوہ دس سے زائد کوڑے نہ مارے جائیں (متفق علیہ)

بحرحال تعزیر کی سزا حد سے متجاوز نہ ہونے پائے۔مجرم کے حالات ،نفسیات،جرم کی نوعیت اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والے اثرات ونتائج کے پیش نظر سزا میں کمی بیشی اور تخفیف یا شدت ہوتی ہے۔اور دوسری احتیاط یہ کہ جب تم میں سے کوئی تعزیریا تادیب کے طور مارے تو چہرے کو بچائے۔قصاص میں مدعی یا فرقی وہی شخص بن سکتا ہے جو مظلوم ہے۔اور تعدی کا شکار ہو اسے یا پھر زندگی سے ہات دھو بیٹھنے کی شکل میں اس کے ورثاء ہیں۔بالفرض اگر کوئی وارث موجود نہ ہو ہوتو پھر مظلوم کا ولی قاضی وحاکم ہوگا ان کے سوا کوئی اور شخص فریق مقدمہ نہیں بن سکتا۔

رہ گئے حدود(جس کے لئے اردو میں فوجداری جرائم کی اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے۔)تو یہ ناقابل راضی نامہ ہیں اور ان میں ملزم کے خلاف ہر شہری یا حکومت فریق مقدمہ بن سکتا ہے۔ان حدود کی تعداد مختلف فقہاء نے مختلف لکھی ہے لیکن چار پر بیشتر فقہاء کا اتفاق ہے اور یہ درج ذیل ہیں۔

1۔چوری:۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتاہے۔

﴿وَالسّارِ‌قُ وَالسّارِ‌قَةُ فَاقطَعوا أَيدِيَهُما جَزاءً بِما كَسَبا نَكـٰلًا مِنَ اللَّهِ ... ﴿٣٨﴾... سورةالمائدة

چور مرد ہو یاعورت ان کے ہاتھ کاٹ دو۔بدلہ ہے اس جرم کا جو انہوں نے کیا اور اللہ کی طرف سے عبرت ہے ۔

2۔زنا:۔

﴿الزّانِيَةُ وَالزّانى فَاجلِدوا كُلَّ و‌ٰحِدٍ مِنهُما مِا۟ئَةَ جَلدَةٍ ...﴿٢﴾... سورةالنور

زنا کار مرد اور عورت دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔اس آیت کی تفسیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ا رشاد ہے۔

البکر بالبکر جلد مائة ونفي سنة والثیب بالثیب جلد مائة والرجم بالحجارة

غیر شادی شدہ مرد کی غیر شادی شدہ سے زنا کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاد وطنی ہے اور شادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت سے زنا کی سزا سو کوڑے اور سنگساری ہے(بیقی فی سنن الکبریٰ۔کتاب الحدود)

شادی شدہ زانی کے لئے رجم کی سزا(یعنی پھر مار مار کرہلاک کردینا) قرآن کریم میں سورۃ مائدہ آیات 41 سے لے کر 50 تک سےثابت ہوتی ہے۔اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر سنت سے ثابت ہوتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد گرامی ہے۔

الولد للفراش وللعاهر الحجر (صحیح بخاری)

بچے کا نسب اس سے ثابت ہوگا جس کے بستر(گھر) میں و ہ پیدا ہو اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔بدکار کے لئے پتھر کا یہ فوجداری اصول نبی علیہ الرحمۃ نے خطبہ حجۃ الوداع میں تقریباً سوا لاکھ اصحاب رضوان اللہ عنھم اجمعین کی موجودگی میں بیان فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رجم کے 4 واقعات پیش آئے جنکی تفصیلات کتب حدیث میں موجود ہیں۔

3۔قذف:۔کسی پر زنا کی تہمت لگانا)

﴿وَالَّذينَ يَر‌مونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَر‌بَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً وَلا تَقبَلوا لَهُم شَهـٰدَةً أَبَدًا وَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٤﴾... سورةالنور

جو لوگ پاک د امن عورتوں پر تہمت (زنا) لگائیں۔پھر چار گواہ پیش نہ کریں تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ اور پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرنا۔یہ لوگ فاسق ہیں۔

4۔ڈکیتی اور راہزنی:۔

﴿إِنَّما جَز‌ٰؤُا۟ الَّذينَ يُحارِ‌بونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ وَيَسعَونَ فِى الأَر‌ضِ فَسادًا أَن يُقَتَّلوا أَو يُصَلَّبوا أَو تُقَطَّعَ أَيديهِم وَأَر‌جُلُهُم مِن خِلـٰفٍ أَو يُنفَوا مِنَ الأَر‌ضِ ذ‌ٰلِكَ لَهُم خِزىٌ فِى الدُّنيا وَلَهُم فِى الءاخِرَ‌ةِ عَذابٌ عَظيمٌ ﴿٣٣﴾... سورةالمائدة

"نے شک ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اورزمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو جلا وطن کردیا جائے۔یہ ان کے لئے ذلت ہے دنیا میں اورآخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

بعض فقہاء نے اس میں مے خوشی اور ارتداد کو بھی شامل کیا ہے۔

5۔مے نوشی :۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَيسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٩٠﴾... سورةالمائدة

"اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوا اور بت پانسے یہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد میں شرابی کی سزا 40 ضربیں تھیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں 40 کوڑے کردی گئی۔مگر جب لوگ باز نہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے مشورے سے 80 کوڑے سزا مقرر کردی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دوکان اس بنا ء پر جلادی۔کہ وہاں شراب خفیہ طور پر بیچی جاتی تھی۔اور ایک موقع پر گاؤں پھر اس لئے جلادیا کہ وہاں خفیہ طور پر شراب کشید ہوتی تھی۔

6۔ارتداد:یعنی دین اسلام چھوڑ کر کفر کی روش اختیار کرنا۔

﴿وَمَن يَر‌تَدِد مِنكُم عَن دينِهِ فَيَمُت وَهُوَ كافِرٌ‌ فَأُولـٰئِكَ حَبِطَت أَعمـٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَ‌ةِ وَأُولـٰئِكَ أَصحـٰبُ النّارِ‌ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿٢١٧﴾... سورةالبقرة

"جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر وہ مرجائے کافر ہے،یہ وہ لوگ ہیں جن کے عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔یہ اہل نار ہیں۔دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔"

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ا رشاد ہے ۔جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور میں اللہ کا رسول ہوں۔اس کو قتل کرنا جائز نہیں۔ الا یہ کہ اس میں ان تین باتوں میں سے کوئی ایک سبب پایا جائے۔شادی شدہ زانی ہو یا اس نے قتل کیا ہو یا اپنے دین کو چھوڑ دے اور جماعت مسلمین سے الگ ہوجائے۔

دین کو چھوڑ کر مسلمین کی جماعت سے الگ ہونے والے کے حالت اسلام کے سارے اعمال ضائع تو ہو ہی جاتے ہیں یہاں اس سے یہ مراد ہے کہ ایک شخص محض کافر بن جانے پر اکتفا نہ کرے۔بلکہ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرے۔اسلام کے خلاف خفیہ وعلانیہ تدبیریں کرنے لگ جائے کہ کسی طرح کفر کا بول بالا ہو۔اور اس کے مقابلے میں اللہ کا دین سرنگوں ہوجائے۔ایسا شخص بھی واجب القتل ہے۔اورحکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کے فساد سے عوام الناس کو محفوظ رکھنے کے لئے اس پر حد نافذ کرے۔پاکستان میں اول الذکر پانچ جرائم کو حدود میں شامل کیا گیا ہے اورارتداد کو حدود میں شامل نہیں کیاگیا۔

ان سزاؤں کامقصد:۔

غرض وغایت اور مقصد کے اعتبار سے حدود،قصاص اور تعزیر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ان سب سزاؤں مقررہ ہوں یا غیر مقررہ حق اللہ سے متعلق ہوں یا بندوں کے حق سے۔سب کا مقصد ایک ہی ہے وہ ہے معاشرے کو جرائم سے پاک کرنااور امن وامان قائم کرنا۔

خود انسانی فطرت طبعاً حرام کو ناپسند کر تی ہے اور جرم کرنے والے کو سزا دینا چاہتی ہے۔پھر معاشرے میں امن وامان قائم کرنے کے لئے جرم کی سزا دینا ضروری ہے۔اگر جرم پر سزا ختم ہوجائے تو وہ معاشرہ درندوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔حکومت کا قیام بھی اسی لئے ہوتا ہے کہ مجروموں کو کیف کردار تک پہنچا کر دوسرے انسانوں کے جان ومال اور عزت آبرو کا تحفظ کرے۔

خود قرآن پاک حدود کے نفاذ کےدو ہدف یا مقصد بیان کرتا ہے چوری کے جرم میں فرمایا جزاء بما کسبا اور نکالا من اللہ یعنی جرم کی سزا اور دوسروں کے لئے عبرت کا سامان اسی طرح قصاص کے سلسلے میں فرماتا ہے:۔

﴿وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيو‌ٰةٌ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧٩﴾... سورةالبقرة

"اے عقل والو!تمہارے لئے قصاص لینے میں زندگی ہے تاکہ تم(اس قانون کی خلاف ورزی کرن سے)پرہیز کرو۔

لہذا جرم کی سنگینی کے لحاظ سے شریعت نے سزائیں مقرر کی ہیں۔تاکہ لوگوں کے دلوں میں سزا کا خوف پیدا ہو اور وہ پھر جرم کے ارتکاب کی ہمت نہ کریں۔اور عبرت کا مفہوم یہ ہے کہ سزا برسرعام دی جائے۔تاکہ عوام الناس اس سے عبرت حاصل کریں اور آئندہ ان جرائم سے پرہیز کریں۔

زنا کی سزا بیان کرتے وقت اللہ کا ارشاد ہوتاہے:۔

﴿وَليَشهَد عَذابَهُما طائِفَةٌ مِنَ المُؤمِنينَ ﴿٢﴾... سورةالنور

"یعنی ان کو سزا دیتے وقت کا گروہ وہاں موجود ہو۔"

لہذا ان سزاؤں کا مقصود معاشرے میں امن وامان قائم کرنا بھی ہے۔اور اس کے ساتھ مجرمین کا تذکیہ نفس بھی کہ وہ اللہ کے عذاب سے بھی آخرت میں بچ سکیں۔اسلام جرائم کو روکنے کے لئے دلوں میں ایماں اور صالح عقائد کے پہرے بٹھاتا ہے ۔اللہ پرایمان اور آخرت پر ایمان اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر دم احساس،یہ خوف خدا اور فکر آخرت کے عقائد انسان کو گناہ کرنے اور جرم کا مرتکب ہونے سے روکتے ہیں۔اسلامی شریعت اور دینی تعلیم کے ذریعے ان جرائم کے خلاف دل میں نفرت پیدا کی جاتی ہے ایک سچے مسلمان کی تعریف ہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی۔

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

"مسلمان وہ ہے جو دوسرے مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ کی تکلیفوں سے محفوظ رکھے۔"

پھر اسلام ایساصالح ماحول پیدا کرنے کا ا ہتمام کرتا ہے۔جس میں گناہ کرنا مشکل ہو۔ہر ایک کی ضروریات اس کو جائز طریقے سے حاصل ہوں۔اور ناجائز روش اختیا رکرنے کی حاجت پیش نہ آئے۔پھر ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص محض اپنی افتاد طبع کے باعث کسی گناہ کامرتکب ہوتا ہے۔تو اس کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ وہ سب لوگوں کےلئے باعث عبرت بن جائے۔اس طرح اسلامی حدود وتعزیرات کا نفاذ معاشرے سے جرائم کو بالکل ختم کردیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خوف خدواندی اور تقویٰ رکھنے والے مسلمانوں سے جب بربنائے بشریت کوئی گناہ ہوگیا توانہوں نے اپنے آپ کو سزا کے لئے خود پیش کیا۔تاکہ وہ توبہ استغفار کرکے پاک صاف ہو۔اور اخروی سزا سے بچ سکیں۔

اگر کوئی شخص بغیر کسی شہادت کے محض اخروی سزا کے خوف سے خود اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کرتا ہے تو ا س پر بھی حد لاگو کرنا ضروری ہے اس لئے کہ دوسرے اس کو سزا سے بچنے کا بہانہ نہ بنالیں۔جبکہ ان کے دل میں حقیقی توبہ وندامت کا احساس نہ ہو۔

سزا نافذ کرنے کی شرائط

یہ شرائط بڑی کڑی ہیں اور مخصوص قسم کی شہادت کی بناء پر ہی سزا نافذ کی جاسکتی ہے۔

1۔تطہیر معاشرہ:۔پہلے تو جرم کے اسباب ومحرکات کو چن چن کر ختم کیاجائے اور صالح معاشرہ قائم کیا جائے۔

2۔پھر مملکت کا نظام اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔تمدن اور معاشرت کی تشکیل اسلامی ا صولوں کے عین مطابق ہو۔

3۔جہاں تک ہوسکے مجرم کی پردہ پوشی کی جائے۔ارشاد نبوی ہے:۔

ادْفَعُوا الْحُدُودَ مَا وَجَدْتُمْ لَهَا مَدْفَعًا

جب تک تمھیں گنجائش ملے،حدود کو ساقط کردو۔

4۔گواہ ایسے ہوں جو مسلمان ہوں۔عاقل بالغ اور قابل اعتماد ہوں۔پہلے کسی سزا میں ماخوذ نہ ہوں۔اور نہ ہی ملزم سے ان کی کبھی دشمنی رہی ہو۔

5۔جب حاکم کے پاس جرم ثابت ہوقرآئن اور گواہوں کے ذریعے تو پھر حد لازماً نافذ ہونی چاہے۔پھر اس میں نرمی نہ ہو۔قرآن میں ہے۔

﴿وَلا تَأخُذكُم بِهِما رَ‌أفَةٌ فى دينِ اللَّهِ...﴿٢﴾... سورةالنور

"اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس کھانے کا جذبہ تم پر غالب نہ آجائے۔

6۔اقامت حدود میں وقوعہ کے حالات اور خود ملزم کے حالات بھی پیش نظر ر کھنے ضروری ہیں۔مثلاً زمانہ جنگ میں یا قحط کے موقع پر سرقہ کی حد نافذ نہیں کی جاسکتی ۔ پھر سرقہ کی حد اسی سوسائٹی میں نافذ کی جاسکتی ہے۔جہاں اسلام کے معاشی اصول وقوانین پوری طرح نافذ ہوں۔اس طرح زنا یا قذف کی سزا اسی معاشرے میں دی جاسکتی ہے۔جہاں مرد وعورت میں واضح اختلاط نہ ہو۔نکاح آسان ہو جنسی بے راہ روی ک ممکنہ تمام اسباب یعنی فحاشی، بے حیائی اشاعت فحش وغیرہ سے معاشرہ پاک ہو اور ایسے معاشرے میں زنا مشکل ہو۔

قانون نافذ کرنے کا اختیار

حدود اللہ کو قائم کرنے کا ا ختیار حکومت اور عدالت کو ہے۔کوئی آدمی اپنے طور پر کسی کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتا۔یا قتل نہیں کرسکتا۔کیونکہ جتنی حدود کی سزائیں بیان کی گئی ہیں۔سب میں (قاطعوا ۔فاجلدوا)وغیرہ میں جمع امر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی آدمی بذات خود یہ سزا نہیں دے سکتا۔

شریعت اسلامی کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ ذمہ دارانہ حیثیت اشخاص اگر گناہ کریں تو ان کی حیثیت کے پیش نظر ان کی باز پرس زیادہ سخت طریقے سے ہونی چاہے۔عام افراد کے مقابلے میں ان سے نرمی اور رعایت برتنے کی بجائے ان سے زیادہ شدت برتی جاتی ہے۔مثلا ً سورۃ احزاب میں آیت نمبر 30۔میں ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے کیا گیا ہے۔

﴿يـٰنِساءَ النَّبِىِّ مَن يَأتِ مِنكُنَّ بِفـٰحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضـٰعَف لَهَا العَذابُ ضِعفَينِ ...﴿٣٠﴾... سورةالاحزاب

"اے نبی کی بیویو!تم میں سے جو کوئی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔"

یا جس طرح قریش کی ایک عورت نے چوری کی اور اسے سزا سے بچانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفارش پیش کی گئی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!"خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم(یعنی خود میری بیٹی) بھی یہ جرم کرتی تو سزا سے نہ بچ سکتی۔"

گزشتہ قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ ان میں جب کوئی امیر جرم کرتا تو اسے سزا نرم کردی جاتی اور جب کوئی غریب وہی جرم کرتا تو اس پر حد نافز کردی جاتی۔"

اسلام نے جرم وسزا کا جو نظریہ پیش کیا ہے۔وہ بالکل انوکھا اور نرالا ہونے کے باوجود مکمل طور پر قابل عمل اور شرح جرائم کو ختم کرنے والا ہے۔جو ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب والشھادۃ ماننے اور فکر آخرت کے تصور پر مبنی ہے اس نظام سے حیرت انگیز انقلاب بپا ہوا۔خود مجرم بغیر کسی شہادت کے بنفس نفیس حاضر ہوکر اپنے گناہ کا اقرار کرتااور حد نافز کرنے پر اصرار کرتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ پردہ پوشی ہوجائے اور سزا نافذ ہونے کا موقع نہ آئےمگرمجرم کو اصرار ہے کہ آخرت کی سزا سے بچنے کے لئے مجھے پاک کردیجئے۔چنانچہ ماعز اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ ہو یا غامدیہ کا مقدمہ۔خود ہی انہوں نے اعتراف کرکے حد نافذ کرنے پراصرار کیا۔

اس طرح دو مجرموں نے خود چوری کے اعتراف کئے۔پھر کٹے ہوئے ہاتھ کو اٹھا کر مخاطب کیا"اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بچا لیا وگرنہ تو مجھے دوزخ میں لے جانا چاہتا تھا۔

حدود اللہ کا نفاذ خیر وبرکت کا باعث ہے:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:۔

إقامة حد من حدود الله خير من مطر أربعين ليلة في بلاد الله

(رواہ ابن ماجہ عن ابن عمر والسنائی عن ابی ھریرۃ)

یعنی اسلامی مملکت میں ایک حد قائم کرنا چالیس رات کی باران رحمت سے (برکت اور منفعت میں ) بہتر ہے۔"

حدود نافذ ہونے سے معاشرہ مستحکم ہوتا ہے۔امن و امان قائم ہوتاہے۔ہر ایک کی جان ،مال ،عزت،وآبرو محفوظ ہوتی ہے۔آپس میں محبت ہمدردی اخوت بڑھتی ہے۔جس کے نتیجے میں مالی خوشحالی اورافزائش رزق ہوتی ہے۔زمین اپنے خزانے اگلتی ہے۔تو آسمان سے باران رحمت کانزول ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہوتاہے۔

﴿وَلَو أَنَّهُم أَقامُوا التَّور‌ىٰةَ وَالإِنجيلَ وَما أُنزِلَ إِلَيهِم مِن رَ‌بِّهِم لَأَكَلوا مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَر‌جُلِهِم...﴿٦٦﴾... سورةالمائدة

کاش انھوں نے تورات اورانجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان پر رب کی طرف سے نازل کی گئیں تھیں۔اگر وہ ایسا کرتے تو ان کےلئے اوپر سے رزق برستا اور پاؤں کے نیچے سے اُبلتا "

سورۃ اعراف میں ارشاد ہوتا ہے۔

﴿وَلَو أَنَّ أَهلَ القُر‌ىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَ‌كـٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَر‌ضِ وَلـٰكِن كَذَّبوا فَأَخَذنـٰهُم بِما كانوا يَكسِبونَ ﴿٩٦﴾... سورة الاعراف

"اگر بستی و الےلوگ ایمان لائیں اور اللہ سے ڈریں تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروزے کھول دیں گے۔مگر انہوں نے جھٹلایا تو پھر ہم نے ان کو ان کی کرتوتوں کی وجہ سے پکڑ لیا۔"

اس ارشاد الٰہی سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے قانون کو نافذ کرنے سے برکتوں اور رحمتوں کانزول ہوتاہے۔جب کہ اس سے اعراض کرنا سراسرنقصان اور تباہی کا پیش خیمہ ہے۔در اصل اللہ کا قانون ہر افراط وتفریط سے پاک متوازن قانون ہے۔جس میں اللہ نے انسان کی فطرت کے مطابق اصول واحکام دیئے ہیں اور وہ ہیں بھی قابل عمل۔انسانی ہمت سے بڑھ کر بھی نہیں ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی ہمت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔

﴿لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها...﴿٢٨٦﴾... سورةالبقرة

اللہ کے قانون کے علاوہ دنیا میں جتنے بھی قوانین ہیں۔وہ سب قر آن کریم کی اصطلاح میں جاہلیت کے قوانین ہیں۔اللہ رب العزت کاارشاد ہے۔

﴿أَفَحُكمَ الجـٰهِلِيَّةِ يَبغونَ وَمَن أَحسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكمًا لِقَومٍ يوقِنونَ ﴿٥٠﴾... سورةالمائدة

"کیالوگ جاہلیت کے قانون کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ سے بڑھ کر کس کا قانون اچھا ہوسکتا ہے؟"

پاکستان اسلامی قانون کو نافذ کرنے کےلئے منصہ وجود پر جلوہ گر ہواتھا چاہیے تو یہ تھا کہ قیام کے معاً بعد یہاں اسلامی نظام نفاذ کردیاجاتا ہے۔مگر بوجوہ ایسا نہ ہوسکا مدت بعد صدر ضیاءالحق شہید کو اللہ اس کی کچھ جذئیات نافذ کرنے کی توفیق دی۔بارہ ربیع الاول 1399ھ(دس فروری 1979ء) کو حدود آرڈیننس نافذ ہوا۔علاوہ ازیں وفاقی شرعی عدالت قائم کرکے اس کے ذمے یہ سونپ دیاگیا کہ وہ تمام قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالے۔تب سے ان حدود کے خلاف وقتاً فوقتاً آواز اٹھتی رہی۔مگر 1988 کے اوائل میں خصوصاً بے نظیر حکومت کے دوران ان سرگرمیوں میں تیزی آگئی۔اور یکا یک بازاروں میں اس کے خلاف لٹریچر آنے لگا۔خود ۔ٹی وی اور ریڈیو پر ان حدود کا تمسخر اڑایا گیا ان کو ظالمانہ اور وحشیانہ کہا گیا۔اس وقت میرے سامنے تین چار پمفلٹ پڑے ہوئے ہیں۔جن میں اسلامی قانون کے خلاف بہت زہر اگلا گیا ہے۔"کیا بربریت کو قانون کا تحفظ ہوناچاہیے؟کے تحت لکھا گیا ہے۔حدود آرڈیننس غیر منصف ہے۔اس کا شکار غریب اور بے سہارا ہیں یہ سرعام کوڑے اور سنگساری کی سزائیں دے کر معاشرے میں تشدد کو جنم دیتا ہے۔اس قانون کے تحت عورتوں کا اپنی شادی یا طلاق کے بارے میں اپنی مرضی رکھنا خوفناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔یہ عورتوں پر جبر کو فروغ دیتا ہے۔زنا بالجبر کی شکار عورت سزاوار ہے۔اور مرد زانی آزاد بربریت کو قانون کا تحفظ نہیں ملناچاہیے۔ہم پاکستان کے تمام انصاف پسند شہریوں کو دعوت عمل دیتے ہیں کہ وہ اس آرڈیننس کی بنیادی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں اور سرگرمی سے اس کی تنسیخ کہ جدوجہد میں شامل ہوں۔منجانب کمیٹی "برائے منسوخی حدود آرڈیننس"یہ اشتہار 20 فروری کو انگریزی اخبار "ڈان" اور 3جون 1988ء کو ملک کے کثیر الاشاعت اردو اخبار جنگ کراچی میں شائع ہوا۔اور ساتھ گمراہ کن اعدادو شمار بھی پیش کئے گئے اور تو اور سابق بے نظیر حکومت نے اسلامی مملکت کی سربراہی میں یہ بیان دیا کہ"ہم تو ناک ،کان،ہاتھ،کاٹنے کو غیر مناسب سمجھتے ہیں"

دوسری تیسری پشت پر کوڑے برسائے جائیں گے اور سینکڑوں آدمی روزانہ سنگسار ہونے لگیں گے۔اس موازنہ میں اسلام کی سزائیں ہولناک اور وحشیانہ نظر آئیں گی۔مگر جو بات غور کرنے اور یاد کرنے کی ہے۔وہ یہ ہے کہ آج تو معاشرے کی بگڑی ہوئی حالت ہے۔اور وہ اسی کو فطری حالت سمجھ بیٹھے ہیں۔ اسلام تو سب سے پہلے معاشرے کو ہی بدلتا ہے۔ خوف خدا اور فکر آخرت کے تصور سے جو معاشرہ وجود میں آتا ہے۔اس میں غیر معمولی قسم کی بیمار ذہنیت رکھنے والے چند افراد ہی ایسے قبیح جرم کا ارتکاب کرسکتےے ہیں پھر ایسے بیمار ذہنوں کا(جو دو چار ہی ہوسکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں ہوسکتے) صحیح تدارک رجم کوڑے او ر قطع پر ہی ہوسکتے ہیں۔اسلامی تاریخ کے حوالے سے اور آج مملکت سعودی عر ب کے حوالے سے جہاں کچھ حد تک اسلامی قانون نافذ ہے یہ بات مکمل یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ جرائم کا خاتمہ صرف اور صرف اسلامی قانون ہی کرسکتا ہے حدود اللہ کا نفاذ تو شرف انسانی کا تحفظ اورامن امان کے قیام کی ضمانت انسانی معاشرہ کو استحکام بخش کر جرائم کے کامیاب سد باب کی گارنٹی ہے۔تھوڑے سے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سزائیں نہ ظالمانہ ہیں نہ غیر مناسب پھر جب تک چار عینی گواہ موجود نہ ہوں زنا کی سزا نافذ نہیں ہوسکتی۔پھر شہادت کا انداز بڑا ذمہ دارانہ اور معیار بڑا کڑا ہے۔وگرنہ وہ قذف کا کیس بن جائے گا۔اور الزام لگانے والا خود مستوجب سزا ہوگا۔محض اس لئے کہ ارشاد خداوندی ہے کہ فحش کی اشاعت جہاں تک ممکن ہو رو کی جائے(سورہ نور) پھر شہادت کے کڑے معیار کے بعد گواہوں کی تعداد کا تعین(کہ لازماً 4 گواہ عینی ہوں)یہ معیار اتنا کڑا ہے۔کہ عملی دنیا میں اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اور پھر خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کے عہد میں حدود کے جتنے بھی مقدمات روایت ہوئے ہیں سب نے اقبال جرم کی بنا ء پر سزا پائی وگرنہ شہادت کی بناء پر زنا کا ایک بھی کیس سزا کا باعث نہ بن سکا۔

ہمارے لئے ایک اصولی فیصلہ:۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

﴿وَلَن تَر‌ضىٰ عَنكَ اليَهودُ وَلَا النَّصـٰر‌ىٰ حَتّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُم قُل إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الهُدىٰ...﴿١٢٠﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔"یہود ونصاری آپؐ سے ہرگز راضی نہ ہوں گے۔جب تک تم ان کے طریقے پر چلنے نہ لگو صاف کہہ دو کہ ہدایت بس وہی ہے۔جو اللہ نے بتائی ہے۔"

جب اہل مغرب مسلمانوں کو مذہبی،جنونی،اوروحشی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں تو یہ مغرب پرست مسلمان ان کے سامنے معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے لگتے ہیں سوال یہ ہے آپ ان کے ایسا کہنے سے کیوں گھبراتے ہیں کہ اپنے اصول واحکام کو بدلنے پر تل گئے ہیں۔اور مغربی قانون کا کلہاڑا ہاتھ میں لے کر اپنے اسلامی قانون کی مرمت کرنے چلے ہیں اور اپنے اصول واحکام کو بدلنے پر تلے ہیں۔کیا آپ اپنے دین کے حوالے سے احساس کمتری کا شکار ہیں،کیا آپ کے قوانین ایک مرتبہ نہیں بارہا دنیا کو اپنی حقانیت کا معترف کرواچکے ہیں ۔کیا انہیں قوانین کو ہی نافذ کرکے اسلام نے فلاح انسانیت کے ذریں باب رقم نہیں کیے کہ جن کی مثال آج تک تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔آج بھی سعودی عرب کا امن پوری دنیا کے لئے چیلنج ہے۔کہ کوئی ایسا اور نظام لا کر تودیکھاؤ جس کے ثمرات اس طرح روز افزوں ہوں۔سوال یہ ہے کہ آپ کس حد تک ان کے سامنے معذرت پیش کریں گے۔کہاں تک اسلامی قوانین کی درگت بنائیں گے۔اگر اس سے مغربی آقاؤں کے سامنے بیٹی ہوتی تو آپ بے شک اسلام کو چھوڑ کر ان مغربی آقاؤں کے دین پر امنا وصدقنا کہہ دیں۔مگر جب تک آپ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔وہ کسی بھی صورت آپ سے ر اضی نہ ہوں گے۔پھر آپ کی یہ منافقت نہ اسلام کے لئے بہتر ہے نہ خود آپ کےلئے۔یہ منافقت اور دو رنگی ہی تو مسلمانوں کو دنیا میں ذلیل وخوار کرکے رکھ دیتی ہے۔اور آخرت میں عذاب الیم ایسے مسلمانوں کے لئے تیار ہے۔(دیکھئے سورہ بقرۃ آیت نمبر 85)

ہم نے اصولی فیصلہ یہ کرناہے کہ ہم مسلمان رہیں یا نہ رہیں مگر مسلمان رہ کر مغربی آقاؤں کے بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ وبرتر کے قانون پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا لازمی ہے۔اس کا ارشادہے۔

﴿ادخُلوا فِى السِّلمِ كافَّةً...﴿٢٠٨﴾... سورةالبقرة

"کہ اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔"

اور پھر اللہ تعالیٰ یہ نوید سناتا ہے کہ اگر تم مخلص مومن بن جاؤ تو اللہ کے احکامات کے مطابق اپنی پوری زندگی ڈھال لو تو پھر تم ہی سربلند ہو گے اور کوئی دوسرا تم پر غالب نہیں آسکتا۔ارشادخداوندی ہے۔

﴿وَلا تَهِنوا وَلا تَحزَنوا وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿١٣٩﴾... سورةآل عمران

"تم ہی غالب ہوگے اگرتم مومن ہو۔"

اللہ بزرگ وبرتر کا وعدہ ہر گز جھوٹا نہیں ہوسکتا۔یہ دنیا سرخروئی ،عزت،شان و شوکت کا راستہ ہے اور آخرت میں بھی نجات کامیابی اور فلاح کا۔
حاشیہ

1۔چند ماہ قبل وطن عزیز میں بھی یہی بحث چلی تھی کہ کیا حدود اللہ عوام کے سامنے دی جاسکتی ہیں یا کہ اس میں شرف انسانی کی توہین ہے تب سپریم کورٹ نےفیصلہ دیا تھا کہ برسر عام ہ ہوں کیونکہ انسانی شرف اس کی اجازت نہیں دیتا۔اسی مقالہ کی دوسری قسط میں بالتفصیل اس موضوع پر بایں عنوان روشنی ڈالی گئی ہے "حدود اللہ کھلم کھلا دیا جاسکتا ہے"؟

2۔مقالہ ہذا کی دوسری قسط یہ مضمون عقل کی روشنی میں تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں"کیا حدود اللہ وحشیانہ ہیں"