میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مجھ ہی سے ڈرو:۔

"مجھ ہی سے ڈرو" یہ حکم اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کو توڑ دو گے تو وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان سزاؤں سے مراد وہ تمام آفات اور مصائب ہیں جو عہد شکنی کے جرم میں ان کےآباؤاجداد پر نازل ہوئیں ان میں صورتوں کامسخ(بگاڑ) ہونا بھی شامل ہے۔"غرض پہلے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مدلل ترغیب دی پھر انہیں ڈرایا تاکہ یہ لوگ کسی طرح حق کے حامل بن جائیں اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا شعار بنالیں۔یوں بھی قرآن مجید میں پہلی اقوام کو پلائی گئی ڈانٹ ڈپٹ کے ذکر کا مقصد مخاطبین کو نصیحت کرتا ہے۔ تاکہ لوگ اللہ عزوجل کے احکام مان لیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دی گئی تعلیم کی عملاً تصدیق کریں۔لیکن ہدایت صرف اسے نصیب ہوتی ہے۔جسے اللہ تبارک وتعالیٰ چاہتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے علماء کو خصوصی طور پر بار بار اس لئے خطاب کیا گیا ہے کہ"تم اہل علم ہو"حق بات کوقبو ل کرنے سے گریز نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر ہدایت کے راستے ہی بند کردیئے جائیں۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ابنی اسرائیل کے علماء کو ان کے پاس اس علم کی موجودگی کا احساس دلایا جو علم ان کے سوا کسی اور کو نہیں دیاگیا۔اس کے باوجود تم ہی سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں پیش پیش ہو! جب کہ ان کی مبعوث ہونے کی خبر پہلے سے ہی سن اور پڑھ چکے ہو۔

ابن جریرؒ کہتے ہیں اس آیت میں بنی اسرائیل کے علماء کی "تکذیب" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی"تکذیب" مراد نہیں۔بلکہ قرآن پاک کی تکذیب ہے۔یعنی اہل علم ہونے کی حیثیت سے تمھیں یہ بات زیب نہیں دیتی کہ تم ہی قرآن حکیم کی تعلیم کو تسلیم کرنے سے انکار کرو۔

ابن کثیرؒ کہتے ہیں مذکورہ دونوں اقوال صحیح ہیں۔کیوں کہ قرآن حکیم کی تعلیم کو قبول کرنے سے انکار کیاجائے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی جائے بات ایک ہی ہے۔

اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت:۔

حسن بصری ؒ "تھوڑی قیمت" کہ وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔کہ اللہ وحدہ لا شریک پرایمان لانے اور تصدیق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بدلے۔اس فانی دنیا اور خواہشات نفسانی کو اختیار کرنا"تھوڑی قیمت" لینے کے مترادف ہے۔

سدی ؒ کہتے ہیں۔تھوڑے سے لالچ میں اللہ تعالیٰ کے نام کو مت چھپاؤ! ابو العالیہ ؒ کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ تم دین کی تعلیم کے عوض اُجرت نہ لو۔تمہاری پہلی کتابوں میں بھی یہی لکھا ہوا ہے کہ"اس ابن آدم دوسروں کو مفت علم سکھا۔

بعض علماء نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ آیات کی وضاحت کرتے وقت ان میں اپنی مرضی کی رائے شامل نہ کرو۔حق کو مت چھپاؤ۔اگر تم نے ایسا کیا۔تو تمہاری ریاست تاقیامت رہے گی۔ اور اگرتم نے حق کو چھپایا تو جس انتہائی حقیر دنیا کی خاطر تم نے ایسا کیا اس کی زندگی تو بہت تھوڑی ہے۔تمہارا یہ فعل تمھیں ہمیشہ کی زندگی میں حاصل ہونے والے انعامات سے محروم کردے گا۔

ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ"جس نے ایسا علم سیکھا۔جس کا مقصد الٰہی کی معرفت ہے۔اور اس کے حصول کے بعد اس نے اسے دنیا کمانے کے لئے استعمال کیا۔وہ شخص قیا مت کےدن جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا۔"(ابو داؤد)

ثابت ہواکہ علم دین سیکھ کر اسے دنیا کمانے کا ذریعہ بنانا گویا یہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانا بنانے کے مساوی ہے۔

ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں کہ"علم الوحی" کے درس وتدریس کی اجرت طے کرلینا جائز نہیں۔ہاں بیت المال سے اپنی اور بچوں کی کفالت کے لئے محدود رقم حاصل کرنا جائز ہے۔البتہ اگر بیت المال سے بھی کچھ نہ ملے۔اور آمدن کے دوسرے ذرائع نہ ہوں تو ایسی صورت میں معلم کا کچھ حاصل کرنا"اُجرت طے کئے بغیر" ہی کے ضمن میں شمار ہوگا۔امام مالکؒ۔امام شافعیؒ۔امام احمدؒ۔اور جمہور علماء کا خیال بھی یہی ہے۔کہ ایسی صورت میں اجرت لینا جائز ہے۔ان علماء کے پاس اپنے قول کے لئے بطور دلیل صحیح بخاری کی وہ حدیث ہے۔جس میں ایک مفصل قصہ ہے۔بالاختصار یہ ہے کہ صحابہ دوران سفر5 ایک قبیلہ کے قریب سے گزرے۔ اور اس قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا تھا۔۔قبیلہ والوں نے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے بھی اس کا علاج دریافت کیا۔ایک صحابی رسول نے ان پر سورۃ فاتحہ کا دم کردیا جس سے سردار تندرست ہوگیا۔تب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس سے اس کے بدلے میں بھیڑیں وصول کیں۔ بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ واقعہ پیش ہوا۔ تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔

إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله

مقصد یہ ہے کہ بے شک کتاب اللہ کے عوض اُجرت لیناجائز ہے۔

اسی طرح "امراۃ مخطوبہ (یعنی نکاح کی جانے والی عورت) کے بارے میں آیا ہے۔ زوجتكها بما معك من القرآن یعنی تمہارا نکاح قرآن حکیم کی ان سورتوں کے عوض کرایا گیا جو تمھیں اس میں سے یاد ہیں۔لیکن پہلی صورت میں اجرت کا ذکر"رقیہ" یعنی جھاڑ پھونک کے حوالے سے ہے۔اوردوسری صورت میں سورتوں کی تعلیم بطور عوض حق مہر تھی۔

عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ انہیں قرآن حکیم کی تعلیم کے عوض "کمان" بطور تحفہ دی گئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر تم آگ کی کمان گلے میں لٹکانا چاہتے ہو تو اسے قبول کرلو۔(بحوالہ ابو داؤد)

ابن کثیرؒ کا کہنا ہے جوں کہ وہ شخص محض اللہ جل شانہ کی رضا کے لئے قرآن کی تعلیم دے رہا تھا۔اس لئے اس کا تحفہ لیناجائز نہیں۔اگر وہ پہلے سے ہی اجرت ذہن میں رکھتا تو درست ہے۔انہوں نے مذید لکھا ہے کہ اس حدیث سے اکثرعلماء نے یہی رائے قائم کی ہے۔

تقویٰ کیا ہے؟

اس ڈر کو تقویٰ کہاجاتا ہے جس کے زیر اثر مسلمان اللہ تبارک تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتےہوئے اس کی فرماں برداری کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے خوف سے نافرمانی ترک کر دیتا ہے اسی لئے حکم الٰہی ہے"مجھ سے ڈرو اور میرے عذاب سے بچو۔"اگر ایسا نہیں کرو گے حق بات کو چھپاؤ گے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرو گے تو تمھیں سنگین ترین سزا ملے گی!

آیت نمبر 42،43:۔

﴿وَلا تَلبِسُوا الحَقَّ بِالبـٰطِلِ وَتَكتُمُوا الحَقَّ وَأَنتُم تَعلَمونَ ﴿٤٢﴾ وَأَقيمُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتُوا الزَّكو‌ٰةَ وَار‌كَعوا مَعَ الرّ‌ٰ‌كِعينَ ﴿٤٣﴾... سورةالبقرة

"اور حق کے ساتھ باطل کو خلط ملط نہ کرو۔اور جان بوجھ کر حق بات کو مت چھپاؤ۔نماذ قائم کرو۔زکواۃ دیا کرو۔اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو۔"

ف۔ اس آیت میں دو چیزوں سے منع کرنے کے ساتھ اظہار حق کی تاکید کی گئی ہے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔جن دو چیزوں سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہیں کہ حق کو باطل کے ساتھ اور سچ کو جھوٹ کے ساتھ مت ملاؤ۔

ابو العالیہ ؒ اس کی مذید وضاحت کرتےہوئے کہتے ہیں۔کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر خواہی بجا لاؤ۔

قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ۔اس سے مراد یہ ہے کہ یہودیت اور نصرانیت کو اسلام میں داخل نہ کرو۔جب کہ تمھیں علم ہے کہ دین اسلام ہی خالص دین ہے ۔یہودیت اور نصرانیت دونوں میں من گھڑت باتیں شامل ہوچکی ہیں۔اللہ کی طرف سے اب ان میں کچھ بھی نہیں ہے۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہناہے کہ سچ کو جان بوجھ کر چھپانے سے مراد یہ تھی کہ توراۃ اور انجیل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ذکر پڑھنے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لینے کے بعد بھی ان کی رسالت کی تصدیق نہ کرنا ہے۔واضح لفظوں میں یوں کہیں تو در ست ہوگا کہ تم حق بات کو چھپاتے ہو۔حالانکہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے۔کہ جو لوگ تمہارے بہکاوے اور جھانسے میں آگئے ان کو کتنا بڑا نقصان ہوگا اور انجام کار وہ لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

ف۔اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ۔کہ کسی کو حق بات معلوم ہو۔اس پر اس حق کو ظاہر کرنا واجب ہے۔اور اسے چھپانا حرام ہے۔خیال رہے یہ تنبیہ ہر زمانے کی مخلوق کے لئے ہے۔اگرچہ اس آیت میں خطاب مخصوص لوگوں سے ہیں۔لیکن معنوی صورت میں یہ خطاب ہر زی شعور سے ہے۔حق کو باطل سے نہ ملانا یا حق کو نہ چھپانا ہرایک کا فرض ہے ۔چنانچہ ہر وہ شخص جس کے پاس قرآن وحدیث کا علم ہے۔اور وہ دین ودنیا کے بارے میں قرآن وسنت کے احکامات جانتاہے۔اس کے باوجود اگر کوئی اس سے سوال کرے تو وہ حق بات کو چھپالے یا اس میں کسی ملا مشائخ کی باتیں ملا کر مسائل کو گمراہ کردے تو وہ بھی اسی جرم کا مرتکب ہوگا۔جس کا ارتکاب اس آیت کے مخاطب یہودی علماء کرتے تھے۔

وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ سےیہ بات بھی ثابت ہوئی کہ یہودی علماء کا انکار نہ عناد کربنا پر تھا اور نہ ہی جہالت کی وجہ سے! بلکہ قصداً! کفر تھا۔جو سخت ترین کفرہے اور اس کی سزا بھی انتہائی سنگین ہوگی۔

اسی انکار کی مماثلت ہمیں مقلدین میں بھی ملتی ہے۔جو اتباع سنت سے جہالت کی بناء پر گریز نہیں کرتے۔بلکہ ضد میں انکار کرتے ہیں۔لیکن اس آیت سے یہ بھی جواز نہ لیاجائے کہ جہالت کی بنا ء پر حق بات کو چھپانا یا اس میں اپنی مرضی کی ملاوٹ جائز ہے۔بلکہ جاہل کے لئے ضروری قرار دیاگیا ہے۔ کہ دین کے معاملے میں بغیر سوچے سمجھے یا بلاتحقیق کوئی بات کہنے میں جلد بازی نہ کرے خصوصاً ا حکامات دین بیان کرنا یا ان کی تصدیق کرنا اسی شخص کا حق ہے جو اس علم پر عبور رکھتا ہو اور اپنی مثال آپ ہو۔

ربط عبارت اور قرآن:۔

صاحب تفسیر "فتح البیان" نے ان متکلمین اور مفسرین کی سخت مخالفت کی ہے۔جوقرآن حکیم کی آیات بینات میں باہم مناسبت وربط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس مذموم کوشش کی ابتدا بقاعی نے کی اس کے بعد تفسیر رحمانی اور تفسیر عزیزی میں بھی اسی"تکلف ربط" کا قرآن پاک کو پابند کرنے کی کوشش کی گئ ہے۔حالانکہ آیات کانزول متنوع حالات اور واقعات کے تحت ہوتا رہا ہے۔

ان میں باہم ربط ومناسبت کی کوشش "کون کندن وکاہ برآموردن"(پہاڑ کھود کر تنکا برآمد کرنے) یا"بادمشت پیمودن" یعنی ہوا کہ پالشت سے ناپنے کے مترادف ہے۔

صلواۃ وزکواۃ کی تشریح:۔

مقاتل ؒ کہتے ہیں اہل کتاب کو اسلام میں شمولیت کے لئے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں مسلمانوں کی طرح ہی زکواۃ پیش کرنے کی دعوت دی گئی تاکہ وہ بھی امت مسلمہ کی وحدت میں شریک ہوجائیں۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا۔اس آیت میں زکواۃ سے مراد اطاعت اور اخلاص ہے۔زکواۃ کے ہمراہ صلوۃ (نماز) کاذکر اس بات کی تصدیق ہے کہ ادائے زکواۃ اطاعت واخلاص پر مبنی عمل ہے۔اسی لئے حضرت حسن نے کہا۔کہ زکواۃ سےمراد فرائض کا ادا کرنا ہے ۔کیو ں کہ تمام اعمال "زکواۃ اور نماز" کے بغیر بے مقصد وبے نفع ہوتے ہیں۔

حارث عکلی ؒ اس سے صدقہ فطر مراد لیتے ہیں۔مگرمیرے خیال میں عموم بہتر ہے۔فتح البیان میں ہے کہ "صلواۃ" سے اس جگہ مراد مقررہ وقت اور تمام حدود وارکان کے ساتھ پانچ وقت کی نماز ادا کرنا ہے۔اس طرح زکواۃ سے بھی احکامات الٰہیہ کے مطابق ادا کرنا مقصود ہے۔

یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں:۔

رکوع کمر جھکانے اور سرنیچا کرنے کانام ہے۔مطلب یہ ہوا کہ "نماز پڑھو نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر" رکوع کا ذکر اسی آیت میں اس لئے بھی آیا ہے کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں تھا ۔اسی لئے زمانہ جاہلیت میں رکوع کرنا سب پر گراں گزرتاتھا۔

رکوع شرعاً۔۔۔کس طرح کرنے کے لئے کہاگیا ہے تقریباً سبھی مسلمان جانتے ہیں مگر حدیثوں میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ "گردن اور کمر جھکا کر ہتھیلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ کر مکمل اطمینان کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تقدیس بیان کی جائے!"

اجتماعی طور پر مذکورہ آیت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نماز باجماعت پڑھنا چاہیے۔البتہ بعض علماء کے نزدیک جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے بعض کے نزدیک سنت موکدہ ہے۔

میرے خیال میں بھی دوسرا قول بہتر ہے۔کیوں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت سے مرفوعاً احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔

کہ باجماعت نماز کا ثواب تنہا نماز کے مقابلہ میں پچیس یا ستائیس گنا زائد ہے۔معلوم ہوا کہ اگر کسی عذر یا بلا عذر تنہا فرض نماز پڑھی جائے تو بھی نماز تو ہوجائے گی۔کیونکہ اگر"باجماعت پڑھنا"فرض ہوتا تو تنہا نماز نہ ہوتی۔بخاری شریف میں مرفوعاً آیا ہے۔کہ جو شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔وہ اس شخص سے بہت بہترہے ۔جو تنہا نماز پڑھ کر سوجاتاہے۔غرض اس مسئلے پر تفصیلی بحث شرح " مسقے" میں بھی ہے اور قرطبی ؒ نے اس آیت کی تشریح میں جماعت اور امامت سے متعلق تفصیلی بحث کی ہے!

آیت نمبر 44:۔

﴿أَتَأمُر‌ونَ النّاسَ بِالبِرِّ‌ وَتَنسَونَ أَنفُسَكُم وَأَنتُم تَتلونَ الكِتـٰبَ أَفَلا تَعقِلونَ ﴿٤٤﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:،۔"کیا غضب ہے کہ تم لوگوں کو نیک اعمال اپنانے کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو۔اور تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو۔پھر بھی عقل سے کام کیوں نہیں لیتے!"

اللہ تعالیٰ اہل کتاب علماء سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم کیسے عقلمند ہوکہ دوسروں کو تو اعمال صالح اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہتے ہو۔اور خود اپنے اعمال سے غافل رہتے ہو۔خدارا غفلت سے جاگو۔اور ہوش کی آنکھیں کھولو۔

قتادہؒ اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ کہ بنی اسرائیل کے علماء دوسروں کو حکم دیتے کہ اللہ عزوجل کی اطاعت کرو۔ خیر اور بھلائی کو اپنا شعار بناؤ۔مگر خود اس کے الٹ کام کرتے۔ اس بناء پر رب العالمین نے ان کی اس حرکت کا احساس دلا کر انہیں عاردلائی۔

ابن جریج ؒ اس آیت کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں" کہ منافق حضرات دوسرے لوگوں کو کہتے روزہ رکھو،نماز پڑھو۔لیکن خود نہ روزہ رکھتے نہ نماز پڑھتے جب کہ ہر وہ شخص جو دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتاہے اس پر سب سے پہلے واجب ہے کہ وہ خود بھی اچھے کردار اور گفتار کا مالک ہو ورنہ وہی مثل ہوگی۔خود میاں فضیحت دوسروں کو نصیحت!

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے:۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم اہل کتاب دوسرے لوگوںس کو کفر کرنے سے اس لئے منع کرتے ہو کہ تمہارے پاس اعزاز نبوت بھی ہے،اور عہد تورات بھی۔مگر خود اس ایفائے عہد سے گریزاں ہو جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لئے کیاتھا۔دوسرے لفظوں میں یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں احساس دلارہے ہیں کہ تم دوسروں کو تو دین اسلام قبول کرنے کےلئے کہتے ہو۔مگر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق وتائید اور اتباع قبول نہیں کرتے تمہاری عقل کو کیا ہوگیاہے؟

علماء اور عمل:۔

ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک سب سے سمجھدار (فقیہ) وہ ہے۔جولوگوں سے دوسری اور دشمنی کی اساس اللہ عزوجل کی محبت رکھے۔یہاں تک کہ اپنے نفس سے بھی اس کاسلوک اسی اصول پر مبنی ہو۔

ابن زید کہتے ہیں کہ جب مذکورہ علماء کے پاس ایسا فرد آکر کوئی مسئلہ پوچھتا جس سے وصولی اور رشوت کے حصول کا امکان نہ ہوتا تو اسے صحیح مسئلہ بتادیتے مگر جب کوئی متنازع مسئلہ آتا تو جس فریق سے رشوت مل جاتی۔اس کے حق میں مسئلہ بتادیتے۔ان کی اس مذموم حرکت کی بناء پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان علماء کو بے نقاب کیا اور کہا کہ تم دوسروں کو تو امر بالمعروف کرتے ہو۔اور خود معروف اعمال سے گریزاں کرتے ہو۔یعنی امر بالمعروف بذاتہ قابل مذمت فعل نہیں بلکہ قابل مذمت یہ ہے کہ تم خود نیک کام نہیں کرتے ہوجب کہ امر بالمعروف کرنے والے ہر عالم پر وسب سے پہلے یہ واجب ہے کہ پہلے وہ خود اعمال معروفہ جس طرح کہ شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔

﴿وَما أُر‌يدُ أَن أُخالِفَكُم إِلىٰ ما أَنهىٰكُم عَنهُ إِن أُر‌يدُ إِلَّا الإِصلـٰحَ مَا استَطَعتُ وَما تَوفيقى إِلّا بِاللَّهِ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ أُنيبُ ﴿٨٨﴾... سورةهود

ترجمہ:۔"اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں جن سے تم کو منع کرتا ہوں میں تو اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے امکان میں ہے اور مجھے جو کچھ (اعمال واصلاح) کی توفیق حاصل ہوتی ہے وہ صرف اللہ کی مدد سے ہے۔"

معلوم ہوں کہ امر بالمعروف اور صاحب امر فعل معروف دونوں لازم وملزوم ہیں۔

گویا امر بمعروف کرنے سے عمل معروف کا حکم ساقط نہیں ہوتا ۔

بعض سلف وخلف کے نزدیک یہ رائے بے وزن ہے کہ معاصی کا مرتکب دوسروں کو نہی منکر نہ کرے مگر اس سے بھی زیادہ یہ بات بے وزن ہے۔کہ اس آیت کریمہ کے مفہوم کو بطورحجت قرار دے لیا جائے۔کہ دین کا وہ عالم امر بالمعروف کرے جو خود پابند شریعت ہو۔

بلکہ یہ مناسب ہے کہ چاہے عالم خود عمل معروف سے متصف ہو یا نہ ہو۔مگر نہی عن المنکر کا عمل جاری رکھے۔اس لئے کہ دنیا میں کون ایساہے جو مکمل طور پر معروف اعمال کی کسوٹی پر پورا اترے! چنانچہ امام مالکؒ بھی اس رائے سے متفق ہیں۔

ابن کثیرؒ فرماتے ہیں جان بوجھ کر ترک اطاعت اور فعل معصیت کا تکرار انتہائی مزموم عمل ہے۔خصوصاً ایک عالم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ خود بھی صاحب عمل ہو۔ایسے تمام علماء جو دوسروں کوتو نیکیوں کی تعلیم اور اچھے کاموں کی ہدایات دیتے ہوں اور خود عمل میں کورے ہوں۔ان کے لئے احادیث میں بار بار سخت وعید آئی ہے۔

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا۔جن کے ہونٹ آگ کی قینچی سے کاٹے جارہے تھے۔میرے دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ لوگ تمہاری امت کے وہ دنیا دار خطیب ہیں۔جو لوگوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیتے اور خود نیک کاموں سے گریزاں تھے حالانکہ یہ کتاب پڑھتے تھے۔

ایک دوسری روایت حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان الفاظ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

ایک آدمی کو قیامت کےدن آگ میں ڈالاجائے گا۔اس کی آنتیں اس کے پورے جسم کو لپٹ جائیں گی اور وہ آگ میں اس طرح چکر لگائے گا جس طرح چکی پیسنے والا گدھا چکرکاٹتارہتاہے۔دوزخی لوگ اس کے پاس آکر اس سے پوچھیں گے تمھیں کیا ہوا؟ تم تو ہم کو نیکی کا حکم دیا کرتےتھے؟ برائیوں سے منع کیا کرتے تھے؟وہ کہے گا" ہاں میں تم کو امر بالمعروف کرتا ۔مگر ہائے افسوس میں خود نیک عمل بجا نہ لاتا۔شیخین نے بھی اس مفہوم کی احادیث بیان کی ہیں۔

"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔"قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان پڑھوں(جاہلوں) کو معاف کردے گا۔لیکن علماء کو معاف نہیں کرے گا۔"

معلوم ہوا شرک وکفر کے سوا بعض گناہوں کے لئے جہالت کا عذر قبول ہوسکتا ہے۔اس کی دلیل میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔

﴿قُل هَل يَستَوِى الَّذينَ يَعلَمونَ وَالَّذينَ لا يَعلَمونَ إِنَّما يَتَذَكَّرُ‌ أُولُوا الأَلبـٰبِ ﴿٩﴾... سورةالزمر

"کیا علم والے اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں۔وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو عقل سلیم کے مالک ہوتے ہیں۔"

چنانچہ ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرفوعاً کہتے ہیں کہ کچھ جنت کے رہنے والے دوزخیوں کو جھانک کر کہیں گے"ارے تم کیسے دوزخ میں آئے؟ واللہ ہم تو تم سے سیکھ کر اچھے اعمال کی بدولت یہاں پہنچے۔اسکے جواب میں وہ کہیں گے ہائے افسوس ہم جو کچھ تمھیں کہتے تھے وہ خود نہیں کر تےتھے"ابن عساکر نے اسے روایت کیا ہے۔

فیصلہ کن بات:۔

ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا۔

"مجھے اجازت دیں کہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کروں؟

انہوں نے فرمایا۔کیا تم اس مرتبہ پر پہنچ گئے ہو؟

اس نے کہا۔"امید تو ہے"

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ۔اگر تمھیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود تین آیات سے رسوائی کا ڈر نہیں تو تمھیں اجازت ہے۔

اس نے پوچھا،وہ کون سے تین آیات ہیں؟

عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:۔

ترجمہ:۔کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو۔

کیا اس کے جواب میں تمہارے اعمال پختہ تر ہیں؟کہا: نہیں پھر پوچھا دوسری آیت کیا ہے۔فرمایا:۔

﴿كَبُرَ‌ مَقتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقولوا ما لا تَفعَلونَ ﴿٣﴾... سورةالصف

"ترجمہ:۔ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کر تے نہیں ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔پوچھا۔اس عمل کو تم نے محکم کرلیا ہے یا نہیں؟ کہا نہیں۔پھر پوچھا تیسری آیت کون سی ہے؟

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔

﴿وَما أُر‌يدُ أَن أُخالِفَكُم إِلىٰ ما أَنهىٰكُم عَنهُ إِن أُر‌يدُ إِلَّا الإِصلـٰحَ مَا استَطَعتُ وَما تَوفيقى إِلّا بِاللَّهِ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ أُنيبُ ﴿٨٨﴾... سورة هود

ترجمہ:۔"میں نہیں چاہتا کہ میں تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں جن سے تم کو منع کرتا ہوں میں تو اصلاح چاہتاہوں جہاں تک میرے امکان میں ہے اور مجھے جتنی عمل واصلاح کی توفیق حاصل ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے۔

یہ سن کر اس نے کہا ،مجھ میں یہ صفت بھی نہیں"

تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو پھر تمھیں اس نیک کام کا آ غاذ اپنی ہی ذات سے کرنا ہوگا۔

ابن مردودیہ ؒ نے روایت کیا ہے کہ ابراہیم نخعی ؒ کہتے ہیں کہ میں انہی تین آیتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دوسروں کو وعظ ونصیحت کرنے سے گریز کرتا ہوں۔

آیت نمبر 45۔46:۔

﴿وَاستَعينوا بِالصَّبرِ‌ وَالصَّلو‌ٰةِ وَإِنَّها لَكَبيرَ‌ةٌ إِلّا عَلَى الخـٰشِعينَ ﴿٤٥﴾ الَّذينَ يَظُنّونَ أَنَّهُم مُلـٰقوا رَ‌بِّهِم وَأَنَّهُم إِلَيهِ ر‌ٰ‌جِعونَ ﴿٤٦﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔" اور مدد لوصبر اور نما ز سے۔بے شک نماز دشوار ہے مگر ان کے لئے(کوئی دشوار نہیں) جن کے دلوں میں خشوع ہے۔جن کو یقین ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

گویا جن میں مذکورہ اوصاف محکم ہوجائیں گے ان کےلئے کتاب و سنت کے ہرحکم کی تعمیل آسان ہوجائے گی۔

صبر کی تعریف:۔

مجاہدؒ کہتے ہیں یہاں صبر سے مراد روزہ ہے۔قرطبی ؒ کہتے ہیں کہ اس لئے رمضان کو شھر صبر بھی کہتے ہیں۔جس طرح کے حدیث میں آیا ہے کہ صوم نصف صبر ہے۔

کسی کے خیال میں صبر سے مراد یہ ہے کہ گناہوں سے باز رہے۔اسی بناء پر اسے نماز کے ساتھ ہی جگہ دی گئی ہے۔

عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا صبر دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک مصیبت پر ضبط،یہ "حسن" ہے مگر اس سے زیادہ "حسن" وہ ہے کہ اللہ کے محارم پر صبر کرے۔ ابو العالیہ ؒ کہتے کہ صبر ونماز سے مدد لینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پہ سر تسلیم خم رکھے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو حرز جاں بنا لے۔

ابن کثیرؒ کہتے ہیں ایمان میں ثابت قدم رہنے کے لیے نماز بڑی مدد گار ہوتی ہے۔اسی لئےاللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔

﴿وَأَقِمِ الصَّلو‌ٰةَ إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ تَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌ وَلَذِكرُ‌ اللَّهِ أَكبَرُ‌...﴿٤٥﴾... سورةالعنكبوت

"نماز قائم کرو۔بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر ہی سب سے بڑا عمل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جس شخص کی نمازیں اسے بے حیائی اور برائیوں سے نہیں روکتیں اس کی نماز قبول ہی نہیں ہوتی۔

حدیث ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی غم لاحق ہوتا تو آپ نماز پڑھنے لگتے۔(رواہ احمد۔وابوداؤد)

ابن جریر ؒ کے الفاظ میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحال غم "پناہ پکڑتے نماز سے۔علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں جب سبھی لوگ سورہے تھے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہے اور صبح تک دعا کرتے رہے۔

ابن نصر المروزی روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس حال میں ہو اجب کہ وہ پیٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ابو ہریرہ ! کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے۔انہوں نے فرمایا ہاں کہا اٹھ نماز پڑھ ،نماز شفا ہے۔ابن جریر سے روایت ہے ۔حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سفر میں خبر ملی کہ ان کے بھائی مشم انتقال فرما گئے۔

تو (انا اللہ وانا الیہ راجعون)کہا۔اور راستے سے ہٹ کر اپنا اونٹ بٹھایا۔اترے اور نماز پڑھنے لگے نماز سے فارغ ہونے کے بعد سواری کے پاس آئے اور یہ آیت پڑھی ۔

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ‌ وَالصَّلَاةِ ۚ

اللہ کی رحمتوں کے حصول میں مدد گار:۔

ابن جریج ؒ کہتے ہیں"نماز اور صبر" دونوں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے حصول میں یقینی مدد گار ہیں۔صبر کی تعریف اور صبر کرنے والوں کو جزائے خیر کثرت سے ملنے کی تصدیق میں بہت سی صحیح احادیث موجود ہیں۔اس آیت کے حوالے سے خصوصاً تو نہیں مگر۔۔۔علامہ سیوطی نے کسی قدر وتر منشور میں اس پرر وشنی ڈالی ہے قرآن حکیم بھی صبر کی تعریف کے ساتھ ساتھ صبر کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے۔
صبر است علاج دل بیمار تو واقف
افسوس کہ کم واری وبسیار ضرورت است

اے واقف دل بیمار کا علاج صبر ہی تو ہے۔مگر افسوس تمہارے پاس یہ بہت ضروری دولت بہت ہی کم ہے۔ میرےخیال میں تو صبر کی جزائے کثیر کے بارہ میں اگر کوئی اور آیت یا حدیث نہ بھی ہوتی تو صرف یہی ایک آیت کافی تھی۔

﴿إِنَّما يُوَفَّى الصّـٰبِر‌ونَ أَجرَ‌هُم بِغَيرِ‌ حِسابٍ ﴿١٠﴾... سورة الزمر

ترجمہ:۔"بلاشبہ صبر کرنے والوں کو انکا پورا پورا بے حساب اجر دیا جائے گا۔"

حدیث صہیب میں مرفوعاً آیا ہے۔کہ تمام انبیاءؑ گھبراہٹ کےعالم میں نماز پڑھا کرتے تھے۔احمد،نسائی،اورابن حبان رحہمہم اللہ نے اسے روایت کیا ہے۔

"خاشعین " کون لوگ ہیں؟

بعض کا کہنا ہے ۔مومنین کا دوسرا نام خاشعین ہے۔کسی نے کہا"خائفین" کی جماعت ہے۔کسی کے نزدیک مطعیین،اور مصدقین ہیں۔کسی کے خیال میں مستیکن کسی کی رائے میں متذللین اور متواضعین ہیں۔

سفیان ثوری ؒ کہتے ہیں کہ میں نے اعمشؒ سے پوچھا۔خشوع کیا چیز ہے؟انہوں نے جواباً کہا،ثوری تم لوگوں کے امام بننا چاہتے ہو اور خشوع کی کیفیت سے ناآشنا ہو۔

سن لو خشوع یہ نہیں ہے کہ موٹا کھائے،موٹا جھونٹا پہنے یا سرنگوں رہے۔بلکہ خشوع یہ ہے کہ شریف وکمینہ کو مستحق حق ہونے میں یکساں سمجھے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر جن اعمال کو فرض قرار دیا ہے۔ان کو ادا کرنے میں تم انتہائی عاجزی ،فروتنی،خاکساری،اورغریبی کی کیفیت کا تسلسل رکھو!

ابن کثیر ؒ کہتے ہیں کہ اس آیت کا خطاب سیاق وسباق کی روشنی میں گو بنی اسرائیل سے ہے۔مگر فی الحقیقت اس کا تعلق کسی خاص گروہ سے نہیں بلکہ ہر ایک سے انفرادی اور اجتماعی طور پر ہے۔

آیت سے ثابت ہونے والی اہم بات:۔

اس آیت میں موجود ارشادات الٰہیہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز یا صبر دونوں کے ذریعے اللہ رب العزت سے مدد مانگنا ان لوگوں کے لئے آسان ہوتا ہے۔جنھیں یوم حشر قیام ومحاسبہ کا یقین میسر ہو۔ان اشخاص پر تمام احکامات الٰہیہ اور فرمودات نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل آسان ہوتی ہے۔منکرات کو چھوڑنا اور حدود کا پاس رکھنا ان کے لئے سہل ہوتا ہے۔جن کا ایمان مستحکم ہو اور ضعیف ایمان والے اشخاص کے لئے اطاعت الٰہی اور ترک معاصی سخت مشکل ہوتا۔(لاحول ولا قوۃ الا باللہ)

ظن کے معنی کیا ہیں؟

ماہر لسانیات عرب شعراء اور اہل ادب کی روشنی میں اس آیت میں لفظ"ظن" کے معنی "یقین " ہیں۔

مجاہد ؒ کہتے ہیں قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی لفظ"ظن" آیاہے اس کے معنی"علم" ہیں اسلاف کی ایک جماعت کو بھی اسی پر اتفاق ہے۔

بخاری میں ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک بندے سے کہے گا!

أَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ ؟ فَيَقُولُ : لا ، فَيَقُولُ : فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي

کیاتمھیں مجھ سے ملاقات ہونے کا یقین تھا؟ وہ کہے گا نہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج میں تمھیں اس طرح بھولوں گا جس طرح تم نے ہم کو بھلایا۔یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اور اس آیت پر ربع اول پارہ اول ختم ہوا۔

آیت نمبر 47:۔

﴿يـٰبَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ اذكُر‌وا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَنّى فَضَّلتُكُم عَلَى العـٰلَمينَ ﴿٤٧﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔"اے اولاد یعقوب( بنی اسرائیل) میرے احسان یا کرو جو میں نے تم پر کئے اور میں نے تمھیں تمام جہانوں پر فضیلت بخشی!

عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اس آیت کو پڑھتے تو فرماتے قوم بنی اسرائیل تو گزر چکی اب یہ خطاب تم سے ہے۔یعنی عالمین لفظ بالمعوم کے معنوں میں آیا ہے۔اسے خصوصاً بنی اسرائیل کے لئے نہ سمجھاجائے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے آباؤاجداد پر کی گئی مہربانیوں کو یاد دلایا ہے۔ اس زمانے میں انہیں اس وقت کے لوگوں پر جو بزرگی دی تھی وہ ان کے خاندان سے ہی انبیاؑ کاانتخاب تھا۔پھر ان پر کتابوں کانزول تھا۔

اللہ تعالیٰ اپنے ان احسانات اور بنی اسرائیل کی اس زمانے کے لوگوں پر فضیلت کے اسباب کا ذکر دوسری جگہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔

﴿وَلَقَدِ اختَر‌نـٰهُم عَلىٰ عِلمٍ عَلَى العـٰلَمينَ ﴿٣٢﴾... سورة الدخان

اور ہم نے ان لوگوں کو جہان کے لوگوں سے چن لیا(پسند کیا)

مذید فرمایا!

﴿وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يـٰقَومِ اذكُر‌وا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ جَعَلَ فيكُم أَنبِياءَ وَجَعَلَكُم مُلوكًا وَءاتىٰكُم ما لَم يُؤتِ أَحَدًا مِنَ العـٰلَمينَ ﴿٢٠﴾... سورةالمائدة

جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا ۔اللہ تعالیٰ کے احسانوں کویاد کرو اس نے تم میں سے نبی پیدا فرمائے۔تم کو بادشاہت عطا کی اور پھر تمھیں اپنے ان انعامات سے نوازا جو کسی اور کو اس جہاں میں عطا نہ کئے۔

عالمین سے کیامراد ہے؟

ابو العالیہ نے مذید وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان احسانات کی تفصیل یہ تھی کہ انہیں بادشاہت عطا کی اور نبوت کااعزاز بھی انہیں کی اولاد کو بخشا اور پھر اس وقت جو عالم تھا۔ اس پر کتابیں بھی اتاریں۔خیال رہے کہ ہر عالم (یعنی ہر دور) میں ایک عالم ہوتا ہے۔

ابن کثیرؒ اس آیت کا مفہوم پرتوجہ مبذول کرتےہوئے لکھتے ہیں۔کہ یہ امت(مسلمہ) ان(بنی اسرائیل) سے افضل ہے۔جس کی تصدیق اللہ جل شانہ کا یہ فرمان کرتا ہے۔

﴿كُنتُم خَيرَ‌ أُمَّةٍ أُخرِ‌جَت لِلنّاسِ تَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌ وَتُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَلَو ءامَنَ أَهلُ الكِتـٰبِ لَكانَ خَيرً‌ا لَهُم ...﴿١١٠﴾... سورةآل عمران

ترجمہ:۔"تم لوگ اچھی جماعت ہو(امت مسلمہ)ایسی جماعت جو نکالی گئی(جہاں عالم میں) ہے"تم لوگ ہو جو لوگوں کونیکی اختیار کرنے کےلئے کہتے ہو۔اور برائیوں سے روکتے ہو۔اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لئے زیادہ اچھاہوتا۔

بات واضح ہوگئی۔۔۔کہ افضل وبرتر ہونے کی سند ایمان پر موقوف ہے۔اور ان صفات پر ہے جن کا ذکر فرمایا گیاہے۔چنانچہ اہل سنن نے معاویہ تشیری سے روایت کیا ہے۔تم بحیثیت تعداد ستر امتوں کے برابر ہو اور ان سب میں سے بہتر وبزرگ تر ہو۔

اس حوالے سے اور حدیثیں بھی موجودہیں۔ کسی کی رائے میں بنی اسرائیل کی فضیلت ایک مخصوص امت سے نہ کہ مطلقاً سب امتوں سے۔

بعض کا خیال ہے کہ ساری امتوں پر فضیلت دی گئی ہے کیوں کہ اکثر انبیاءؑ انہیں میں پیدا ہوئے۔

لیکن یہ بھی قابل توجہ بات ہے کیوں کہ لفظ"عالمین" میں تمام سابقہ اور بعد کے انبیاءؑ بھی شمار ہوسکتے ہیں۔

محل نظر یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ان سے پہلے تھے اور سارے انبیاءؑ سے افضل ہیں، اور مذید محل غور وفکر یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان انبیاءؑ کے آخر میں آئے اور تمام نسل آدم(روز اول سے تا قیامت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہیں۔اور سید اولاد آدمؑ اور سرور دنیا وآخرت ہیں۔(صلی اللہ علیہ وسلم)

چنانچہ فتح البیان کے الفاظ میں "عاملین" سے مراد صرف اس زمانے کے لوگ ہیں۔اس کا اطلاق ماضی اور مستقبل پر نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں "تفصیل" کا تعلق بھی انہیں کے آباء سے ہے۔البتہ اس فضیلت کا اعزاز بالواسطہ ان کی اولاد کو بھی جاتاہے۔

صاحب کشاف لکھتے ہیں۔کہ "عالمین" سے مراد ایک بہت بڑا گروہ ہے۔جس طرح فرمایابَارَ‌كْنَا فِيهَا لِّلْعَالَمِينَ یعنی برکت دی ہم نے انھیں جہانوں میں یوں بھی عربی زبان میں لفظ عالم کثرت کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔البتہ رازی اس سے متفق نہیں۔انہوں نے اس رائے کو ضعیف کہا ہے۔لیکن علامہ شوکانی نے علامہ رازی کی رائے قبول نہیں کی بلکہ کشاف ہی کی تصدیق کی ہے۔