میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حامیان جمہوریت جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اس طریق سیاست میں عوام کی نمائندگی کا مکمل تصور پایا جاتا ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ عوامی کثرت رائے کے اصول کے تحت ہر علاقے سے نمائندوں کاانتخاب کرکے پارلمینٹ میں بھیجا جاتا ہے۔اور اس میں انتخاب مملکت کا ہر فرد اپنی ذاتی حیثیت سے اثر انداز ہوتا ہے جو کہ عوامی نمائندگی کی مکمل اورعام فہم شکل ہے۔اور عوام کو باور یہ کرایا جاتا ہے کہ درحقیقت سب کچھ کا ا ختیار رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر جمہوری دور میں یہ نعرہ زبان زد عام وخاص ہوتا ہے۔کہ"طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں"اور بڑے بڑے سیاست دان بھی اسی نظریے کو اجاگر کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔اس کھوکھلے نعرے کے ذریعے عوام کی رائے ا پنے لئے ہموار کی جاتی ہے۔بعد ازاں عوام کے یہ نمائندے کثرت رائے سے جو کچھ کر گزریں وہ عوام کی طرف سے سمجھا جا تا ہے۔اور کہا جاتا ہے کہ اس طریقے سے عملاً عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام پر قائم ہوجاتی ہے۔

حالانکہ نمائندگی کا یہ جمہوری تصورفریب ودھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اگر یہ تھوڑا سا بھی غوروفکر کے ساتھ کام لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات کےنتیجے میں عوام کے جونمائندے سامنے آتے ہیں۔وہ صرف مقابلتاً اکثریت کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔جبکہ مجموعی اعتبار سے وہ اقلیت کے حمایت یافتہ اور اکثریت کے غیر معتمد ہوتے ہیں۔مثلاً الف،ب،اور ج،تین امید واروں نے الیکشن میں حصہ لیا۔کل ووٹوں میں سے الف۔نے 35 فیصد ب نے 40 فیصد اور ج نے 25 فیصد ووٹ حاصل کئے۔اب چالیس فیصدی ووٹ حاصل کرنے والا شخص عوام کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ وہ الف اور ج کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں(ساٹھ فیصد) کے مقابلہ میں اقلیت کا حمایت یافتہ ہے۔علاوہ ازیں یہ اعدادوشمار صرف ڈالے گئے ووٹوں کے ہیں۔اور عوام کی ایک خاموش تعداد جو کسی نہ کسی وجہ سے ووٹ دینے سے محروم ر ہتی ہے۔ان کی نمائندگی سرے سے مفقود ہے۔

جبکہ اسلام کا تصور نمائندگی اس کے برعکس ہے۔اور نمائندگی کی اصل روح کا عکاس بھی۔اسلام میں نمائندگی ووٹوں کے ذریعے نہیں بلکہ اہلیت کی بناء پر اعتماد کی صورت میں ابھر کر سامنے آتی ہے۔اہلیت معاشرے میں ایک معلوم ومعروف شے ہوتی ہے۔معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف لوگ اپنی اپنی اہلیت کی بنا ء پر نمایاں ہوجایا کرتے ہیں۔یہ ایک فطری سا عمل ہے۔اس کا انحصار معاشرے میں کام کی نوعیت پر ہوتا ہے۔معاشرے میں جس نوعیت کا کام ہوگا،اسی نوعیت کی اہلیت سامنے آئے گی۔

ایک سکول میں پڑھنے والے بچوں میں ذہین اور محنتی بچوں کاپتہ لگانے کے لئے کبھی کسی نے الیکشن کا سہارا نہیں لیا ہے۔ذہین اور محنتی بچے اپنی اہلیت اپنے ماحول میں اجاگر کرتے ہیں۔اور نمایاں نظرآتے ہیں۔۔۔اسی طرح علمائے دین ومفتیان کرام منتخب (Elicted) نہیں ہوا کرتے۔ہمارے ہاں دینی مدارس میں شیخ الحدیث کے منصب پر جو شخصیت فائز ہوتی ہے وہ بھی جمہوری طرز انتخاب کےبغیر ہی اپنی اہلیت کی بناء پر اپنے منصب پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔اسی طرح زندگی کے دیگرشعبوں پر آپ نظردوڑائیں گے۔تو ہر شعبہ زندگی میں اہل سے اہل شخص کی تلاش بھی اسی طریقہ پر ہوتی نظر آئے گی۔اور اس کے لئے اس قدر بکھیڑا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور اہلیت کی پیمائش جمہوری الیکشن کے بغیر بھی ہوجاتی ہے۔

ثانیاً جمہوریت میں نمائندگی کا تصور علاقائی بنیادوں اورحد بندیوں پر استوار ہوتا ہے دوسرے لفظوں میں علاقائی نمائندگی ہے۔جبکہ اسلام کا تصور نمائندگی عالم گیر ہے۔اسلام میں نمائندگی ملت کی سطح پر ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ فلاں علاقے سے اتنے اشخصاص منتخب ہوں اور فلاں سے اتنے۔کیونکہ یہی چیز بعد ازاں علاقائی تعصبات کو پھیلنے پھولنے میں ممدو معاون ہوتی ہے۔اسلامی نظام شورائیت ملکی سطح پر نہیں بلکہ بطورامت مسلمہ کے نمائندہ کے ہے۔جمہوریت میں ایک شخص ایک خاص علاقے سے منتخب ہوکر پوری ملکی سطح پرنمائندہ مملکت کہلاتا ہے۔جبکہ کسی طور بھی وہ مملکت کا نمائندہ کہلانے کا حقدار نہیں ہوتا۔وہ تو فقط اپنے علاقے کا نمائندہ ہے۔اور وہ بھی ٹوٹا پھوٹا جیسا کہ گزشتہ سطروں میں واضح کیا گیا ہے۔اس کی وجہ در اصل یہ ہے کہ کہ اسلام جغرافیائی حد بندیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ممالک کی یہ تقسیم اسلامی تصور ملی کے یکسر خلاف ہے۔جبکہ امت مسلمہ ایک عالمی وحدت ،اور علاقائی سطح سے بالا تر ملت ہے۔جس کا نظام سیاست اور مرکز ومحور فقط ایک ہی ہے۔انگریز نے اسی ملی وحدت کو ہی چکنا چور کرنے کے لئے ایک مثالی مرکز نہ سہی لیکن خلافت اسلامیہ کاتار پود بکھیرنے کے لئے سازش کا جال بچھایا اور بالآخر 1924ء میں اس مرکز کو ختم کرکے چھوڑا۔تاکہ آئندہ کے لئے مسلمان کبھی ایک متحدہ قوت نہ بن سکیں۔اسی لئے عظیم مفکر علامہ اقبال نے اس عظیم سانحہ کے بعد یوں فرمایا:
تاخلافت کی بنا دنیا ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کراسلاف کا قلب وجگر

موجودہ سیاست کو ہی لےلیجئے جب بھی پہلے پہل کوئی سیاسی جماعت بنتی ہے۔اس کو کوئی ایک شخصیت یاچند ا فراد مل کر تشکیل دیتے ہیں اور سب سے پہلے ایک غیر منتخب قیادت سامنے آتی ہے۔اس قیادت کے گرد لوگ جمع ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔اور اپنی اپنی خدمات کی بناء پر ابھرتے چلے جاتے ہیں۔یہی لوگ در اصل اس جماعت کے اہل الحل والعقد (ارباب بسط وکشاد) ہوتے ہیں۔جن کے مشورے کی اصل اہمیت ہوتی ہے۔لیکن جونہی یہ جماعت الیکشن کی بھینٹ چڑھتی ہے تو اہلیت اکثریتی رائے کی مرہون منت ہوجاتی ہے۔لابنگ ہوتی ہے۔دھڑے بندی کا سیاسی کھیل کھیلاجاتا ہے۔اور یہ جماعت تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے۔

چونکہ ذہن یہ پروان چڑھایا جاتا ہے کہ عہدہ واقتدار ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور یہ حق بہرحال اس کو حاصل کرناہے۔اس کے لئے معیار فقط یہ ہے کہ جو بھی اپنے حق میں زیادہ ہاتھ کھڑے کرواسکتاہو یا اکثریتی ووٹوں کا حامل ہووہی حقدار ہے۔

اس مزعومہ بنیادی حق کے حصول کے لئے اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کی جدوجہد ہوتی ہے۔اور پھر وہ سب کچھ ہوتا ہے۔جوحصول اقتدار کی کشمکش کا ایک لازمہ ہے۔جس کا نتیجہ فساد ہی فساد ہوتاہے۔ کسی بھی صاحب بصیرت شخص سے جمہوریت کا یہ تاریک پہلو چھپا ہوا نہیں ہے۔اور یہی اس نظام سیاست کی وہ بنیادی کمزوریاں ہیں جن کی بنا پر عوام باوجود ظاہری چکا چوند اورپرفریب نعروں کے اس کو ترک کرنے پر مجبور ہیں اور یہی کمزوریاں آج دنیا میں کمیونزم کے زوال کے بعد جمہوریت کے سورج کو غروب کرنے کی ذمہ دار ہیں۔

جبکہ اسلامی نظام فلاح انسانیت کا ضامن بھی ہے۔اور حقوق انسان کاآئینہ دار بھی۔اسلام میں عہدہ اوراقتدار کے بارے میں ذہنی تربیت یہ ہوتی ہے کہ یہ کسی کاحق نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری اور امانت ہے۔اور اس بوجھ کے اٹھانے سے بہرحال اسے بچنا ہے۔

اسلام میں اُمید واری حرام ہے۔اور جس پر یہ بوجھ ڈال دیاجائے اس کے بارے میں احادیث میں وارد ہے۔کہ جو شخص دو انسانوں پر بھی ذمہ دار بنایا گیا وہ الٹی چھری سے ذبح کیاگیا اور جن امراء اورخلفاء نے اس کو بھاری ذمہ داری ہی جانا ان کی زندگیاں فی الحقیقت اسی تشبیہ پر صادق آتی ہیں خلفاء راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کی زندگیاں کس قدر پر صعوبت تھیں۔ اس کا اندازہ ہر صاحب علم کرسکتا ہے۔اور ایسے ہی حکمران عوامی فلاح کے ضامن بھی بنے اس کے ساتھ ساتھ جس پر عوام کا اعتماد ظاہر ہوجائے اور رائے عامہ اس کے ساتھ ہو اس پر اسلام کی رو سے اس ذمہ داری کو قبول کرنا واجب بھی ہے۔اور جس کی دینی وملی خدمات زیادہ ہوں اس پر یہ بوجھ ڈال دیاجائے۔

اسلامی معاشرے میں دینی وملی خدمات کی بناء پر جو شخصیات ابھرتی ہیں۔وہ در اصل اس معاشرے کی نمائندہ شخصیات سمجھی جاتی ہیں۔اور یہی شخصیات اہل الحل والعقد یا"اصحاب شوری" ہوا کرتی ہیں۔ان سب کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ اقتدار یا عہدہ ہمارا حق نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔اس لئے امید واروں کی فوج ظفر موج اور کنویسنگ کے شغل کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور امیر جماعت کے انتخاب کے وقت یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ کسی اہل سے اہل تر شخصیت کی تلاش کو اپنا مقصد بناتے ہیں،حصول اقتدار وعہدہ کو نہیں۔جب یہ لوگ مل بیٹھتے ہیں۔ اور سر جوڑ کر سوچ وبچار کرتے ہیں تو ایک مثالی معتمد علیہ قیادت کو سامنے لانے کی کوشش ہوتی ہے۔فی الحقیقت یہ لوگ ہی قوم وملت کے نمائندے ہوتے ہیں۔

اور یہ نمائندے جو اقلیت واکثریت کے ووٹوں کی بنا پر علاقائی یا بعض افرد کی نمائندگی کی بجائے پوری ملت کی نمائندگی کررہے ہوتے ہیں۔واقعی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہیں۔ملت وجماعت ان پراعتماد کرتی ہے۔اور یہ لوگ علاقائی یادھڑے بندی کے مفادات کی بجائے پوری ملت کے مفاد کو سامنے رکھ کر مشورہ دیتے ہیں۔اور بالآخر انہی لوگوں کے مشورہ کے نتیجے میں ایک ایسی قیادت کو سامنے لایا جاتاہے۔ جو اس بوجھ سے خوفزدہ ہوتی ہے۔ اور ملت کے نمائندے اس کو اپنے تعاون کا یقین دلا کر کھڑا کرتے۔ اور اس امیر کے دست وبازو بنتے ہیں۔اس کو برائی پر ٹوکتے اور نیکی وفلاح میں اس کی مدد کرتے ہیں۔اس طرح اہل شوری اور امیر جماعت کے مابین ایسا رشتہ محبت ومودت استوار ہوتا ہے۔جو کہ اصل دینی بنیادوں پر قائم اور دیرپا ثابت ہوتاہے۔اوروہ یکجان ہو کر پوری ملت کو حزب اقتدار یا حزب اختلاف کے جھنجٹ میں ڈالنے کی بجائے متفق ومتحد رکھنے کی سعی اور ان کی فلاح کے تعمیری منصوبوں کی جانب بھر پور قدم اٹھاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ باہمی مشورہ ہوتا کیسے ہے؟بظاہر تو ووٹنگ مشورے کی ایک شکل ہے۔اور عام آدمی کے لئے زیادہ عام فہم صورت بھی۔یہ سوال در اصل مشورہ یا ووٹنگ کے فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ووٹنگ محض افراد کی گنتی ہوتی ہے۔ایک بہترین سماجی کارکن اور ایک سماج دشمن یکساں طور پر انتخاب میں موثر ہوتے ہیں۔عقلمند ودانا شخص اور بے وقوف آدمی کو ایک ہی پلڑے میں تولا جاتاہے۔اور ایک صاحب علم اور جاہل شخص مساوی پاتے ہیں قرآن حکیم میں اس اصول کی تردید ان الفاظ میں موجود ہے۔

﴿قُل هَل يَستَوِى الَّذينَ يَعلَمونَ وَالَّذينَ لا يَعلَمونَ إِنَّما يَتَذَكَّرُ‌ أُولُوا الأَلبـٰبِ ﴿٩﴾... سورةالزمر

(ترجمہ) کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں نیکی اور بدی کو ایک درجہ دیا جاتا ہے جبکہ قرآن کریم میں ہے۔

﴿وَلا تَستَوِى الحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ...﴿٣٤﴾... سورة فصلت

کہ نیکی اور برائی کبھی یکساں نہیں ہوسکتیں۔ہرشخص کو رائے دہی میں یوں مساوی حیثیت سے شریک کرنا اس نظام کی ایک بنیادی کمزوری ہے۔قرآن کریم نے ہمارے لئے تمام رہنما اصول متعین فرما دیے ہیں۔قرآن مجید متقی اور فاسق کو مساوی درجہ دینے کا رواداد نہیں۔چنانچہ ارشاد ہے:

﴿أَفَنَجعَلُ المُسلِمينَ كَالمُجرِ‌مينَ ﴿٣٥﴾ ما لَكُم كَيفَ تَحكُمونَ ﴿٣٦﴾... سورة القلم

کیا ہم مسلمانوں اور مجرموں کو یکساں حیثیت دیں کیاتمہارا انصاف یہی کہتا ہے؟ تمہارا متقی شخص سب سے زیادہ باعزت ہے اور یہ ایک بنیاد ہے ہمارے معاملات میں ہمارے لئے۔اس بناء پر ووٹنگ اور مشورے میں یہ بنیادی فرق موجود ہے۔بقول علامہ اقبال:۔
جمہوریت ایک طرزحکومت ہے کہ جس میں
بندوں کوگنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

جبکہ یہ شوریٰ یامشورے کامطلب اہل الحل والعقد یا اصحاب شوری کی مختلف اور مفید آراء کی روشنی میں ایک رائے کو پختہ کرنا ہوتا ہے۔نہ کہ محض گنتی کرکے فیصلہ کرنا۔مشورے میں بات دلیل ک ساتھ کی جاتی ہے اور دلیل کی بنا ء پر ہی تسلیم کی جاتی ہے۔دلیل میں جس قدر وزن ہوگا۔اس حد تک وہ قابل تسلیم ہے۔لفظ "مشورہ" کا اصل مفہوم بھی اسی معنی پر دال ہے۔

عربی زبان میں مشورہ شہد کی مکھیوں کا مختلف پھولوں اور پھلوں سے چوسا ہوا رس شہد کی شکل میں حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔گویا جس طرح شہد کی مکھیاں اپنا اپنا حصہ ڈال کر ایک گاڑھا مائع(قوام) تیار کرتی ہیں اسی طرح اہل شوریٰ کی مجلس میں ہر فرد کی رائے کا ایک مفید پہلو جمع ہوتا جاتاہے۔ہر ایک کی رائے کو سنا اور کھنگالا جاتا ہے۔بحث وتمحیص کے بعد ایک مفید حل پر مشمتل ایک رائے تیار ہوتی ہے۔یہی وہ شہد ہوتا ہے جس کے بارے میں قرآن کاارشاد مبارک ہے:۔

فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ"کہ اس میں لوگوں کے لئے شفا ء ہے"

جسے صاحب امر(امیر مجلس) حاصل کرتا ہے۔مذکورہ بالا سارا منہج سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے طرز عمل سے باآسانی واضح ہوتا ہے۔ اس کا نام نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) وسلفی منہج ہے۔ دنیا میں جب بھی کوئی نبی آتا ہے۔وہ بھی ایک غیر منتخب (NON.ELECTED) شخصیت ہوتی ہے۔ارشاد ہے۔

اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِ‌سَالَتَهُ

"یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ کس کو اپنا رسول بنائے؟"

وہ رسول دنیا میں آکر ایک دعوت پیش کرتا ہے۔ اس دعوت کو جو لوگ قبول کرتے ہیں۔وہ اس کی جماعت بن جاتے ہیں۔جو اس رسول کی ملت یا امت کہلاتی ہے۔اس دعوت کے پھیلاؤ میں ر سول اور اس کے ساتھی مختلف مصائب وآلام سے گزرتے ہیں۔ہجرت وجہاد کی وادیاں بھی عبور کرنی پڑتی ہیں۔دعوت وجہاد کے رستہ پر چلتے ہوئے نبی کی جماعت میں کچھ شخصیات اپنی خدمات کی بناء پر ابھر کر سامنے آتی ہیں۔السابقون الاولون وجود میں آتے ہیں۔انصار ومہاجرین نمایاں ہوتے ہیں۔یہ لوگ اپنی دینی وملی خدمات اور قربانیوں کی بدولت اسلامی معاشرہ میں اس طرح نکھر کر سامنے آتے ہیں۔جس طرح دودھ یا دہی بلونے سے مکھن اوپر آجاتا ہے۔یہ انصار ومہاجرین وغیرہ معاشرے کا وہ مکھن(CREAM OF THE SOCIETY) ہوتا ہے۔ جس کو د رحقیقت ملت کی نمائندگی کا حق ہوتا ہے۔حقیقی روح کی حامل جماعت تیار ہوتی ہے۔اور تب کسی بھی اہم معاملہ میں مشورہ طلب کرتے وقت کبھی یہ دقت پیش نہیں آتی کہ اب مشورہ کن سے طلب کیا جائے؟

خلافت وامارت کے قیام کے لئے جہاں شوری ضروری ہے وہاں شوری میں بھر پور ملی نمائندگی بھی لازمی ہے۔جس پر بے شمار احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم دلالت کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بعض جماعتیں شرعی امارت کی دعوے دار تو ہیں لیکن ان کی امارت کے انعقاد میں جماعت وملت کی بھر پور نمائندگی کافقدان ہے۔اور بھر پور نمائندگی کےبغیر شوری کا تصور تشنہ تکمیل رہ جاتا ہے۔

ا س سلسلے میں ہم خلفاء راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کی زندگیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ہر خلیفہ کے انتخاب میں امت کی بھر پور نمائندگی اور مکمل اعتماد کی فضا نظر آتی ہے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت:۔

ابو بکر صدیق کی خلافت کا انعقاد اگرچہ ہنگامی نوعیت کا تھا تاہم ان کی فوراً بعد پوری امت کااعتماد نصیب ہوگیا تھا اور ان کی خلافت فتنہ سے محفوظ رہی۔اس طریق انتخاب سے قطعاً کوئی دلیل نہ لے۔ کہ خلیفہ کا انتخاب اس طرح ہوسکتا ہے۔مقصود یہ ہے کہ لوگوں پر اس طرح خلیفہ کو مسلط کرناکہ کچھ آدمی اس کی بیعت کرکے باقی امت کے لئے مشکل کھڑی کردیں اسلامی طریقہ نہیں بلکہ یہ لوگوں کے حق مشورہ کو غصب کرنے کے مترادف ہے ۔کیونکہ خلیفہ کے لئے امت کا حاصل کرنا لازمی امرہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد دور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں جب کسی نے مکہ میں آپ تک یہ خبر پہنچائی کہ فلاں شخص حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق انتخاب پر اعتماد کرکے یہ کہتا ہے کہ میں عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا تو آپ کو اس آدمی کی کم عقلی پر افسوس بھی ہوا اور پریشانی بھی۔مدینہ واپسی پر آپ نے مسجد نبوی میں اصحاب شوری اور اہل فہم دانش کو اکھٹا فرمایا اور بڑے سخت لہجے میں خطبہ دیا۔ کہ تم میں سے کوئی شخص حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق خلافت سےدلیل پکڑتے ہوئے یہ نہ سمجھے کہ وہ میرے بعد کسی کے ہاتھ پر بعیت کرکے اس کو خلیفہ بنا دےگا۔بخدا ابو بکر تو ایسے شخص تھے کہ لوگوں کی گردنیں ان کی جانب اٹھتی تھیں۔اور وہ ایک ہنگامی انتخاب خلافت تھا اور ایک شر تھی جس سے اللہ نے ہمیں مامون رکھا وگرنہ جو شخص مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو خلیفہ بناتاہے تو وہ ان مسلمانوں سے ان کا حق چھینتاہے۔ پس نہ اس شخص کی پیروی کی جائے جو یوں کرے اور نہ ہی اس امیر کی اور جو ایسا کر ے گا وہ اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کرے گا۔صحیح بخاری میں یہ حدیث موجود ہے۔ اور اس میں واضح الفاظ میں فرمایا کہ مشورہ مسلمانوں کا حق ہے۔اور ان کا غیر معتمد علیہ خلیفہ بنانا ان کے حق کو غصب کرنا ہے۔(ملخصاً:صحیح بخاری مع الفتح الباری جلد 12)

یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آئندہ انتخاب کے لئے چھ معتمد ترین ملی نمائندوں پرمشتمل (جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے) ایک کمیٹی بنادی کیونکہ اس وقت ملت اسلامیہ میں یہی چھ افراد پوری امت کے معتمد علیہ تھے۔اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آئندہ خلافت کا انعقاد"امرھم شوری بینھم" کے اصول کے تحت کروانے کا بندوبست فرمایا ان اصحاب میں خلیفہ کے انتخاب کی صورت سے اگر کوئی آدمی یہ دلیل پکڑنا چاہے کہ ان میں انتخاب باہمی کثرت رائے پر ہوا تھا تو یہ اس کے عقل وفہم کادھوکا ہے۔ یہ انتخاب مشورہ کے اصل تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تھا نہ کہ ووٹنگ کے ذریعے۔ آخر کار ان اصحاب نے عبدالرحمان بن عوف کو فیصلہ کا اختیار دیا۔ تب حضر ت عبدالرحمٰن نے کمیٹی کے اراکین سے مشورہ کے بعد دیگر مسلمانوں سے بھی ضمناً مشور ہ لیا۔جس سے ان کو فیصلہ پختہ کرنے میں مدد ملی۔نتیجتاً حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے سے خلیفہ بنادیاگیا۔اور اس مشورے میں وہ لوگ شامل تھے۔جن کو پوری امت کا اعتماد حاصل تھا۔ان چھ اراکین میں مشورہ کی کیا ضرورت تھی تو وہ یوں تھی کہ پہلے تین آدمی تین کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ پھر حضرت عبدالرحمٰن کے ثالث بننے کے بعد میں مشورہ کی تکمیل ہوئی اور فیصلہ انجام پایا۔

اس طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب لوگ خلافت کے لئے پہنچتے ہیں۔اور خلافت کی بیعت کرنے کے لئے ہاتھ آگے کرنے کو کہتے ہیں۔توحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں یہ کہتے ہیں کہ میں خفیہ بیعت سے خلیفہ نہیں بنو ں گا۔ شوری جو کہ انصارین مہاجرین کا حق ہے۔مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں منعقد ہوگی۔پھر اس میں خلافت کا فیصلہ ہوگا۔گویا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کی شورائی نمائندگی کا اصول توبیان کردیا تھا۔ لیکن چار وناچار ہنگامی حالت کے تحت آپ کو خلافت قبول کرتے ہی بنی۔اگرچہ بعد میں اکابر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے آپ کی بیعت کرلی تھی۔لیکن نمائندگی بھر پور نہ ہوسکی۔اس لئے آپ کی خلافت کو پہلی خلافتوں جیسا استحکام نصیب نہ ہوسکا۔خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کے طرز عمل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے۔ کہ خلیفہ یا امیر کے انتخاب میں اہل شوری کی بھر پور نمائندگی از بس ضروری ہے۔ان کے مشورے کے بغیر کوئی بھی عمارت شرعی نہیں ہوسکتی۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب خلیفہ نامزد کیا گیا تو انھوں نے وراثت میں ملی ہوئی خلافت وامارت کو فورا اہل الحل والعقد کے سامنے رکھ دیا۔ اور کہا کہ تم جس کو چاہو خلیفہ بنا لو۔کیونکہ تمہارا ہی حق ہے۔لیکن وہ سب لوگ آپ کے کردار سے واقف تھے۔اس لئے انہوں نے آپ کو ہی خلیفہ بنادیا۔خلفاء راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا طرز عمل ہمارے لئے ہر دور میں مشعل را ہ ہے۔آج بھی کوئی بات اگر ہماری فلاح کی ضامن ہے۔تو وہ فقط اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے نیک اصحاب کے طرز زندگی پر مواظبت ہے۔ہم بحمداللہ امیر دین کے علمبرار ہیں جو تاقیامت دوسرے لادینی نظاموں کے لئے چیلنج اور ہر دور کے لئے قابل عمل ہے۔آج جب دنیا تاریکی وگمراہی کے گڑھے پر ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی نظام ہائے حیات کوعوام کے سامنے احسن انداز میں پیش کیا جائے۔ اور اگر کسی نظام کے ذریعے ہم اپنی سیاسی زندگی میں انقلاب رونما کرسکتے ہیں۔تو وہ صرف اسلام کا نظام سیاست خلافت وامارت ہی ہے۔جو کہ تمام امت کی صحیح نمائندگی کا علمبردار ہے۔اور سیاسی غلبہ کا بھی۔

دنیا اس سے قبل کمیونزم کا زول دیکھ چکی ہے۔اور اب جمہوریت کے پرفریب دھوکوں سے بھی جان چھڑاناچاہتی ہے۔وطن عزیز پاکستان میں بھی جمہوریت پر لا تعداد تجربات ہوتے رہے کبھی اسے بیمار جمہوریت کا نام دیاگیا۔کبھی جمہوریت کی اصل روح کے منافی باور کرواکرعوام کو مطمئن کرنے کی کوششیں کی گئیں۔لیکن اب عوام بھی اس جھنجھٹ سے اکتا چکے ہیں۔انہوں نے دنیا سے بغاوت کرتے ہوئے ہر نظام پرتجربہ کیا لیکن ان لادینی نظریات کے حامل نظاموں نے انہیں کچھ نہ دیا۔

آخر کار اب مختلف تنظیمیں اس حقیقت کو جان کراسلام کا نظام اپنانا چاہتی ہیں۔مملکت خداداد پاکستان کو جگہ جگہ تحاریک خلافت جنم لے رہی ہیں۔لیکن افسوس نام تو خلافت کا لیا جارہاہے۔لیکن ان کی نظریاتی تربیت کرنے والا کوئی نہیں۔فکری تربیت کی اس حد تک کمی ہے کہ خلافت کا واضح تصور سامنے نہ ہونے کے باعث کوئی جمہوریت کو اسلامی کرنے کے درپے ہے۔اور کوئی امریکہ کے صدارتی نظام کو سامنے رکھ کر اس کو ہی خلافت کی اصل تعبیر قرار دے رہا ہے۔اس حقیقت کو جاننےکے باوجود کے اسلام بذات خود ایک مکمل دین ہے اور کسی پیوند کاری کا روادار نہیں جدید سیاسی نظاموں میں تھوڑا بہت ردوبدل کرنے خلافت کا نام دینا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین سے بد ظنی کے سو ا کچھ نہیں ایسےوقت میں علمائے ملت کا دین فریضہ بن جاتاہے۔کہ وہ دور جدید کی بھول بھلیوں سے دور رہ کر اصل نظام خلافت کی طرف راہنمائی کریں۔ایسا نہ ہو کہ علماء کی یہ سستی عوام کو اس سے بھی ناامید ونامراد کردے۔