نام کتاب: موت کے سائے

مولف: عبدالرحمٰن عاجز مالیر کوٹلوی۔

قیمت: 90 روپے۔

ناشر؛ رحمانیہ دارالکتب ۔امین پورہ بازار فیصل آباد۔

کتاب کا نام موت کے سائے ،خود ہی اپنے موضوع کی نشاندہی کررہا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ عزوجل کا اعلان ہے۔

﴿كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ثُمَّ إِلَينا تُر‌جَعونَ ﴿٥٧﴾...سورة العنكبوت

ترجمہ:۔"ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن موت کا ذائعہ چکھنا ہے۔پھر تم سب کو ہمارے پاس لوٹ کرآنا ہے۔"

مولف موصوف نے اللہ عزوجل کے اسی اعلان کی بھر پور ترجمانی کی ہے۔

اس اعلان کی موئید قرآن مجید میں موجود دیگر آیات اوراحادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی محنت شاقہ سے ترتیب دیا ہے۔

قارئین کے دلوں میں موت کے یقینی عمل کے احساس کو سمونے کے لئے نبی آخر الذماں صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کی اموات کی تفصیلات بڑے موثر انداز میں پیش کی ہیں۔

موصوف نے بلاشبہ موت کے حوالے سے ایک مسلمان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کا احاطہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔مثلاً

موت کو ہر سانس پہ یا درکھ کر انسان کتنے اچھے اعمال سے آراستہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کن انعام واکرام کا مستحق قرار پاتاہے۔اس کی وضاحت میں مولف نے قرآن حکیم کی مندرجہ ذیل آیت منتخب کی ہے۔

﴿وَفيها ما تَشتَهيهِ الأَنفُسُ وَتَلَذُّ الأَعيُنُ وَأَنتُم فيها خـٰلِدونَ ﴿٧١﴾... سورة الزخرف

اسی جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کو جی چاہے گا۔اور جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی اور تم یہاں ہمیشہ رہو گے۔

اس طرح موت کو بھول کر انسان کا کردار کتنا گھناؤنا ہوتا ہے۔اور انجام کا ر وہ بارگاہ الٰہ سے کیسا مغضوب قرار پاتاہے۔

اس کی دلیل قرآن مجید کی اس آیت کو منتخب کیا ہے۔

﴿إِنَّ الَّذينَ لا يَر‌جونَ لِقاءَنا وَرَ‌ضوا بِالحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَاطمَأَنّوا بِها وَالَّذينَ هُم عَن ءايـٰتِنا غـٰفِلونَ ﴿٧﴾... سورةيونس

ترجمہ:۔"جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیا ہی کی زندگی سے دل لگا بیٹھے ہیں۔اور اسی حالت پرمطمئن ہوگئے۔

اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے بُرے کرتوت کے باعث ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔

ابن قبیل کے اسلوب بیان نے موصوف کی تحریر کو جہاں علم الوحی کے لازوال حسن سے نوازاہے۔وہاں اسے موثر بنانے میں بھی بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔

موت کے بارہ میں بزرگان دین کے اقوال زریں کا چناؤ اور اسلاف کے تقوی اور موت سے متعلق احساسات کا ذکر بھی قارئین کے دلوں میں موت کے احساس کو گرمانے میں بہت حد تک ممدو معاون ہے۔

کتاب کے آغاذ میں جلیل القدر 12علماء کےتبصرے اور تقریظات ۔اور آخر میں موقر جرائد میں شائع ہونے والےتبصروں اور آراء پر مشتمل 19 صفحات کی تحریریں مولف موصوف کی اس گراں قدر کاوش کو خراج تحسین پیش کررہی ہیں۔

لیکن کتاب کو تسلسل کے ساتھ پڑھتے ہوئے جہاں بھی موصوف قرآن وحدیث کی روشنی سے نکل کر اپنے موقف کی تائید میں اپنے ایسے اشعار پیش کرتے ہیں۔جن میں "آمد" سےزیادہ"آورد" کاعمل زیادہ کار فرما محسوس ہوتا ہے۔تو نزاکت ذوق پر گراں گزرتاہے۔اوراثر کی گرفت تھوڑی دیر کے لئے کمزور ہوجاتی ہے۔

جبکہ "آمد" کے اشعار مخاطب کو مسحور کرنے میں بڑی قدرت رکھتے ہیں۔سعدی مرحوم کے دو شعر موت ہی سے متعلق 9 سال کی عمر میں والد مرحوم سے پڑھے تھے مفہوم سمجھا تھا۔

آج بھی وہ دلو ودماغ میں ایسا بسیرا کئے ہوئے ہیں۔کہ جب بھی کسی نئی عمارت پر نظر پڑتی ہے۔تو فوراً یہ شعر یاد آتا ہے۔
ہر کہ آمد عمارت تو ساخت
رفت ومنزل بدیگر ے پر داخت

اور پھر ساتھ ہی دوسرا شعر دعوت عمل دیتا ہوا دامن دل کھینچتا ہے۔
خبل آنکس کہ رفت وکارنساخت!!
کوس رحلت زوند وبار نساخت!!

یوں بھی انسان کے تمام فکری اور عملی مسائل کا حل اور تمام اعمال کی راہنمائی کے لئے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ اصول اعلیٰ ترین کمال وصفات کے مالک ہیں۔

چنانچہ فن تحریر وخطاب میں بھی ان کے ہی اصولوں کو جتنا بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے ہماری تحریر اورخطاب اتنا ہی موثر اور فنی حسن وجمال سے مزین ہوگا۔

"کثیر المعنی مختصر کلام۔اور اس کے لئے کم سے کم موزوں تریں الفاظ کا انتخاب۔"

بحیثیت قاری عام طور پر طوالت اور تکراار کے نفسیاتی رد عمل جو علمی سطح پر حاصل کئے گئے ہیں۔اس میں 70 فی صد کا تاثر اس جملہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

"فلاں صاحب لکھتے تو بہت اچھا ہیں۔مگر طوالت اورکثرت تکرار سے بیزار کردیتے ہیں۔"

مناظراحسن گیلانی اپنی کتاب "پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت"

میں علاؤالدین خلجی کے زمانہ میں مولانا کریم الدین (دہلی) کے ایک واعظ سے متعلق علامہ برنی کا نزہۃ الخواطر" کے حوالہ سے بیان نقل کیا ہے۔

كان ينشد في مواعظه كثير من الاشعار من انشائه ويسجح الكلام ولذالك لم يعجب الناس ولا ياخذ بجامع القلوب ولا يحضر ني مجب الا قليل من الناس(ص 186)

ترجمہ:۔"اپنے وعظوں میں خود تصنیف کردہ اشعار پڑھنے کی ان کو عادت تھی،متقفیٰ گفتگو کرتے تھے۔اس لئے لوگ ان کے وعظ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اور نہ دلوں پراثر ہوتا۔ان کی مجلس میں اسلئے کم آدمی شریک ہوتے تھے۔

عوامی رائے کے بعد وہ خود البرنی ان کے بارہ میں آگے چل کریہ بھی لکھتے ہیں۔

له انشاء يدل علي قدرته علي البيان نظما ونثرا

"ان کی انشاء اچھی ہے۔نظم ونثر دونوں پر قدرت رکھتے ہیں۔"

بعینہ راقم بھی کتاب کی مجموعی افادیت اور اہمیت کا اعتراف کرتےہوئے یہ ضرور کہے گا۔

"موت کے سائے" ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کے دل میں احساس آخرت کو جگا کر اعمال صالح میں تیز تر گامزن ہونے میں ممدومعاون ثابت ہوسکتی ہے۔

نام کتاب: آسان ترجمہ قرآن مجید

پارہ اول تا پنجم (الگ الگ)

تسوید وترتیب: حافظ نذر احمد پرنسپل تعلیم القرآن

خط وکتابت سکول لاہور 5۔

ناشر: مسلم اکادمی 29/18 محمد نگر لاہور 5

حافظ نذر احمد صاحب علمی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں۔ابن قیم ؒ کی خدمات کےحوالے سے بھی سب ان کی خدمات کے معترف ہیں۔

زیر تبصرہ(پارہ اول تا پنجم علیحدہ علیحدہ) اُن کے ترتیب دیئے ہوئے قرآن مجید کے ترجمہ کااسلوب ہے۔جس کی صورت یوں ہے۔سب سے اوپر پہلی سطر میں تسلسل کے ساتھ قرآن حکیم کی آیت ہے۔اُس کے نیچے کی دوسری سطر میں ان آیات کے ایک ایک لفظ کو خانوں میں لکھا گیا ہے۔تیسری سطر میں ہر عربی لفظ کے نیچے(خانے میں) ان الفاظ کا آسان اردو میں ترجمہ لکھا گیا ہے۔پھر آخری چوتھی سطر میں بامحاورہ سلیس اورآسان زبان میں ترجمہ ترتیب دیا گیا ہے۔مثلاً:

﴿وَإِذا حُيّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيّوا بِأَحسَنَ مِنها أَو رُ‌دّوها... ﴿٨٦﴾... سورةالنساء

اسی صورت پانچوں پاروں کے ترجمہ میں ہمیں کوئی ایسا لفظ نہیں ملا جس کا ترجمہ معمولی اردو پڑھے لکھے مسلمان کی سمجھ سے بلند ہو۔

ترجمے کو پیش کرنے کےاس انداز کا جہاں تک تعلق ہے۔یہ اپنی جگہ بالکل نیا نہیں۔اس قسم کی اور بھی کئی کوششیں احقر کی نظروں سےگزری ہیں۔

لیکن حافظ نذر احمد صاحب نے اپنی سعی جمیلہ سے جو سب سے بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔وہ یقیناً منفرد ہے۔جس کی تفصیل اور گواہی آپ کو ہر پارہ کے سرورق کے اندر نظر پڑتے ہی یوں لکھی نظر آئے گی۔

تسوید وترتیب: حافظ نذر احمد پرنسپل تعلیم القرآن خط وکتابت سکول لاہور 5

نظر ثانی:۔ مولانا عزیز زبیدی،مدیر مجلہ اہل حدیث لاہور

مولانا مفتی محمد حسین نعیمی مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور

مولانا محمد سرفراز نعیمی الازہری فاضل

درس نظامی ۔ایم۔اے عربی اسلامیات

مولانا عبدالرؤف ملک خطیب جامع مسجد آسٹریلیا لاہور۔

مولانا سعید الرحمٰن علوی خطیب جامع مسجد،الشفا شاہ جمال لاہور۔

مندرجہ بالا نام اس بات کی تصدیق ہیں کہ یہ ترجمہ چاروں مسلک کے علمائے کرام اہلسنت والجماعت،دیوبندی،بریلوی،اوراہل حدیث کا نظر ثانی شدہ اور اُن کا متفق علیہ ہے۔فی الحقیقت چاروں مسالک کا متفق علیہ ترجمہ ہی وہ قوت وبرکت ہے۔جس سے امت مسلمہ صدیوں سے محروم ہے۔ اگر شریعت کے تمام احکامات کی ترجمانی کو بھی یہ چاروں مسالک متفق علیہ کی قوت عطا کردیں۔تو آج بھی نہ صرف امت مسلمہ کو قرون اولیٰ کی مانند قومی جلال وجمال نصیب ہو سکتا ہے۔بلکہ علمائے کرام کو بھی اعزازامامت وقیادت نصیب ہوسکتا ہے۔میرے خیال میں یہ ترجمہ اُس طبقہ کے لئے اتمام حجت کی حیثیت رکھتاہے۔جو معاشرہ میں اکثر اسلامی تعلیمات کے بارہ میں یہ کہتے سنائی دیتے ہیں۔کہ ہر عالم اپنے مسلک کے مطابق قرآن کا ترجمہ کرتاہے۔ہم کس کو صحیح سمجھیں اور کس کو غلط؟لہذا ہم اس سے الگ تھلگ ہی اچھے!

اس ترجمہ کے بعد اُن کے پاس مسلمان ہونے کے سبب کوئی راہ فرار نہیں۔انھیں چاہیے کہ وہ حافظ نذر احمد کی اس کوشش سے فائدہ اٹھائیں۔اپنی دنیا وآخرت دونوں سنوارنے کے لئے قرآن مجید کا متفق علیہ ترجمہ پڑھیں۔سمجھیں۔اور اُس پر عمل کریں۔

بقول اقبال مرحوم:۔
گر تو خواہی مسلماں زیستن!!
نیست ممکن جز بقرآں زیستن

مسلمان کی شخصیت کے مالک بن کر جینا چاہتے ہو تو پھر یہ بات قرآن حکیم (کو سمجھے اور اُس) پرعمل کئے بغیر ممکن ہی نہیں۔

نام: اردو ترجمہ قرآن مجید۔پارہ عم ۔30واں

مرتبہ: سید شبیر احمد

ناشر: رضیہ شریف ٹرسٹ 446شادمان کالونی لاہور(فی سبیل اللہ)

یقیناً اللہ تعالیٰ نے قیامت سے پہلے اتمام حجت کے لئے انسانوں ہی کے ہاتھوں سے ایسے ذرائع ابلاغ ایجاد کروادیتے ہیں۔کہ ان کے ذریعے انسان دنیا کے کسی گوشہ کا رہن ےوالا ہو۔اُس کا تعلق تاقیامت کسی زمانے سے ہو۔نسل ورنگ سے ہو۔زبان وتہذیب سے ہو۔اُس تک اس (عزوجل) کی کتاب قرآن مجید میں اُس کے نام بھیجے ہوئے تمام پیغامات پہنچ جائیں۔تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے۔کہ آپ اور آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام مجھ تک پہنچا نہیں تھا۔

اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن مجید کی تعلیم پہنچانے کے لئے جہاں بین الاقوامی ذرائع عام کردیئے ہیں۔وہاں ہر علاقہ میں علاقائی زبان میں قرآن مجید میں موجود اللہ تعالیٰ کے احکامات اُن کی زبان میں پہچاننے کے اسباب بھی عام کردیئے ہیں۔انفرادی اور اجتماعی طور پر مختلف مدارس تنظیمیں۔انجمنیں۔ہمارے پاکستان میں انھیں جذبوں سے سرشار نظر آتی ہیں۔ان میں سے ایک رضیہ شریف ٹرسٹ بھی ہے۔انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔صفحہ کو دو کالم میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

دائیں جانب قرآن حکیم کی آیات دو رنگوں میں (نیلا۔اورنیم سرخ ) لکھی گئی ہیں۔اور بائیں جانب پڑھنے والے کی راہنمائی کے لئے جس رنگ میں عربی الفاظ ہیں۔اُسی رنگ میں اُن کا ترجمہ ترتیب دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کوشش کو قبول فرمائیں۔کاغذ طباعت اور کتابت انتہائی عمدہ ہے۔انھوں نے اپنے ترجمہ کی اساس شاہ رفیع الدینؒ۔شیخ الہند محمود الحسنؒ۔مولانا فتح محمد جالندھری ؒ اور مولانا سید ابواعلیٰ مودودی ؒ کے تراجم پہ رکھتے ہوئے لکھاہے:۔

"انہی چاروں ترجموں سے سادہ آسان اور عام فہم الفاظ پر مشتمل عبارات کا انتخاب کرکے یہ ترجمہ مرتبت کیا گیا ہے۔"

اُن کا یہ کہنا درست ترجمہ آسان زبان میں ہے۔لیکن ہمارے خیال میں تعلیمی نفسیات کی روشنی میں رنگوں سے کام لینے کی کوشش ایک عام آدمی کو سمجھنے میں اتنی مدد نہیں دیتی جتنی خانوں کی صورت میں الگ الگ الفاظ اور معانی براہ راست سوچ پر زور د یئے بغیر مدد دیتے ہیں۔(الحمدللہ۔رسالہ کمپلیٹ ہوا)