میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

دوسری صدی ہجری میں جن ممتاز تبع تابعین نے توحید وسنت کے اشاعت وترویج اور شرک بدعت کی تردید ویبخ کنی میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ان میں امام وکیع بن الجراح ؒ (196ھ) کا نام بھی آتا ہے۔امام وکیع بن الجراحؒ کی تصانیف کے سلسلہ میں ارباب سیر اورتذکرہ نگاروں نے خاموشی اختیار کی ہے لیکن ان کے علم وفضل،عدالت وثقاہت ،ذہانت وفطانت اور زہدوورع کا اعتراف کیا ہے۔امام وکیع بن الجراح ؒ کے علوئے مرتبت اور جلالت شان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ:

محدث امام علی بن مدینی ؒ (م234ھ) امام عبداللہ بن مبارک ؒ(م181ھ) امام یحییٰ بن معین ؒ (م233ھ) اور امام محمد بن ادریس شافعیؒ (م204ھ) جیسے مشاہیر ائمہ کرام ان کے تلامذہ میں شامل ہیں۔

امام وکیع بن الجراحؒ (129ھ) میں پیدا ہوئے۔ مگر امام ابو بکر خطیبؒ بغدادی (م463ھ) نے امام وکیعؒ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے تھے۔

ولدت ستة ثمان وعشرين مائة

میری ولادت 128ھ میں ہوئی۔

امام وکیع ؒ کا مولف کوفہ ہے یہاں ان کے والد الجراح بن ملیح ؒ بیت المال کے نگران تھے۔ امام وکیع ابن الجراحؒ نے جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ان کی فہرست حافظ ابن حجرعسقلانیؒ (م 852ھ) نے تہذیب التہذیب میں درج کی ہے۔امام اوزاعیؒ(م157ھ) اور امام سفیان ؒ بن سعید ثوری (م161ھ) کے نام بھی آپ کے اساتذہ کی فہرست میں شامل ہیں۔

امام ابو بکر خطیب بغدادیؒ (م463ھ) لکھتے ہیں کہ:

امام وکیع بن الجراح ؒ نے امام ابو حنیفہ ؒ (م150ھ) اور امام ابو یوسف ؒ (م183ھ) سے بھی حدیث کی سماعت کی تھی۔اور ان کا شمار امام ابو حنیفہؒ (م150ھ) کے تلامذہ میں کیاہے۔

امام وکیع ابن الجراح نے اپنے استاذ امام سفیان بن سعید ثوری ؒ(م161ھ ) کے انتقال کے بعد مسند درس کو زینت بخشی ،جس وقت آپ نے درس کا آغاذ کیا۔اس و قت آپ کی عمر 33 سال تھی۔امام وکیع ابن الجراح ؒ جہاں بھی جاتے ان کا حلقہ درس مرجع خلائق بن جاتا۔طالبین کا جمع غفیر ان کے ارد گرد جمع ہوجاتا۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (م 852ھ) نے ابو ہشام رفاعی ؒ سے نقل کیا ہے کہ ابو ہشام رفاعیؒ کہتے ہیں۔

دخلت مسجد حرام فاذا عبيد الله بن موسیٰ يحدث والناس حوله کثير فطفت اسبوعا ثم جئت فاذا عبيد الله قاعد وحدہ فقلت ما هذا فقال قدم الثنيي فاخذ ھم يعني وکعها

ایک مرتبہ میں مسجد حرام میں گیا تو عبیداللہ بن موسیٰ ؒ کو حدیث کا درس دیتے دیکھا۔ان کے ارد گرد طلباء کا ہجوم تھا۔پھرایک ہفتہ طواف کے بعد جودیکھا تو عبیداللہ ؒ تن تنہا بیٹھے تھے۔میں نے پوچھا۔یہ کیا ہوا؟انہوں نے کہا ایک اژدھا آگیا ہے جو پور حلقے کو نگل گیا ہے۔اُن کی مراد امام وکیع ؒ سے تھی۔

آپ کے تلامذہ کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔

امام علی بن مدینیؒ (م234ھ) عبداللہ بن مبارک ؒ(م181ھ) امام شافعی ؒ(م204ھ) یحییٰ بن معین ؒ(م233ھ) امام احمد بن حنبل ؒ(م241ھ) امام قتیبہ بن سعید ؒ(م240ھ) اور ابو بکر بن شیبہؒ (م235ھ) جیسے ممتاز محدثین کرام اورائمہ عظام شامل ہیں۔

امام وکیع بن الجراح ؒ کے علم وفضل اور تبحر علمی کا اعتراف ارباب سیر اورآپ کے تلامذہ نے کیا ہے۔

امام ابو بکر خطیب بغدادی ؒ (م463ھ) نے امام احمد بن حنبل ؒ (م241ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ امام احمد ؒ فرماتے ہیں۔

ما رأيت أحدا أوعى للعلم ولا أحفظ من وكيع

میں نے علم ،حفظ،اسناد،اورساتھ ہی ساتھ ورع وتقویٰ میں امام وکیع بن الجراح ؒ کا مثل کسی کو نہیں دیکھا۔

اور امام احمد بن حنبل ؒ (م241ھ) کا دوسرا قول یہ ہے۔

ما رأت عيني مثل وكيع قطُّ يحفظ الحديث، ويذاكر بالفقه فيحسن، مع ورع واجتهاد،

میری آنکھوں نے امام وکیعؒ کا مثل نہیں دیکھا وہ حدیث کے بڑے اچھے حافظ تھے۔فقہ بھی بہترین پڑھاتے تھے۔تقویٰ اوراجتہاد میں بھی ممتاز تھے۔

علامہ عبدالحئی بن عماد الحنبلی ؒ(1089ھ) امام وکیع بن الجراح ؒ کےبارے میں لکھتے ہیں کہ:۔

ما كان بالكوفة في زمان وكيع أفقه ولا أعلم بالحديث من وكيع عبقريا

وکیع ؒ کے زمانہ میں کوفہ میں ان سے بڑا فقیہ اورحدیث کو ان سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں تھا۔امام وکیعؒ عبقری وقت تھے۔

علامہ عبدالرحمٰن بن جوزیؒ (م597ھ) فرماتے ہیں۔

ووكيع في زمانه كالأوزاعي في زمانه

امام وکیعؒ کی ان کے زمانہ میں وہی حیثیت تھی۔جو امام اوزاعیؒ کی ان کے وقت میں تھی۔

علامہ ابن سعد ؒ (م230ھ) لکھتے ہیں کہ:

امام وکیع ؒثقہ۔بلند مرتبہ عالم،کثیر الحدیث اور حجت تھے۔

اللہ تعالیٰ نے امام وکیع بن الجراحؒ کو غیر معمولی قوت حافظہ سے نوازا تھا۔علامہ ابو بکرخطیبؒ بغدادی (م463ھ) نے ان کے حافظہ کے بارے میں ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔کہ امام وکیعؒ خود فرماتے ہیں۔

ما نظرت في كتاب منذ خمس عشرة إلا في صحيفة يوما، فنظرت في طرف منه، ثم أعدته مكانه

میں نے گذشتہ 15 سال کے عرصہ میں سوائے ایک دن کے کبھی کتاب کھول کر نہیں دیکھی۔اور اس ایک مرتبہ میں بھی بہت سرسری طور پردیکھا۔اور کتاب کو پھر اس کی جگہ رکھ دیا۔

اس قوت حافظہ کا نتیجہ تھا کہ درس کے وقت کبھی کتاب سامنے نہیں رکھتے تھے۔بلکہ زبانی حدیث کا درس دیتے تھے۔طالب علمی کے زمانہ میں انہوں نے کبھی بھی حدیثوں کوقلمبند نہیں کیا۔بلکہ گھر آکر لکھتے تھے خود فرماتے ہیں۔

ما كتبت عن سفيان الثوري حديثا قط، كنت أحفظه فإذا رجعت إلى المنزل كتبته.

میں نے امام سفیان ثوریؒ کے درس کے وقت کبھی حدیث نہیں لکھی بلکہ اس کو دماغ میں محفوظ کرلیتا۔پھر گھر جا کر لکھتا تھا۔

امام وکیع بن الجراحؒ قوت حافظہ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اگر معاصی سے اجتناب کیا جائے تو حافظہ قائم رہتا ہے حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (م852ھ) نے آپ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:

ترك المعاصي ، ما جربت مثله للحفظ .

معاصی سے اجتناب سےبڑھ کر قوت حافظہ کے لئے کوئی چیز میرے تجربہ میں نہیں آئی۔"

اما وکیع ؑ علمی کمالات کے ساتھ اخلاقی فضائل سے بھی آراستہ تھے۔دنیاوی دولت اور وجاہت سے ہمیشہ کنارہ کش رہے۔خطیب بغدادیؒ (م463ھ) لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہارون الرشید نے آپ کو قضا ء کا عہدہ پیش کیا۔لیکن آپ نے معذرت کردی۔

امام وکیع بن الجراحؒ کی زندگی نہایت سادہ طریقہ سے بہرہوئی۔حالانکہ صاحب ثروت تھے،ہمیشہ روزہ سے رہتے۔آپ کی شب بیداری اورعبادت گزاری کا رنگ پورے گھر پر چڑھا ہواتھا۔خطیب بغدادیؒ (م463ھ) نے ان کے صاحبزادہ ابراہیم ؒ ابن وکیع کا یہ قول نقل کیا ہے۔

كان أبي يصلي الليل فلا يبقى في دارنا أحد إلا صلى، حتى إن جارية لنا سوداء لتصلي

میرے والد جب رات میں نماز پڑھتے تھے ۔تو ہمارے گھر میں کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہتا تھا۔جونماز نہ پڑھتا ہو۔حتیٰ کہ ہماری سیاہ فام لونڈی بھی نماز پڑھتی تھی۔

امام وکیع بن الجراحؒ کے دوسرے صاحبزادے سفیان بن وکیع ؒ امام وکیعؒ کے شب ورز کے معمولات کی تفصیل اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:

میرے والد صائم الدہر تھے۔صبح سویرے بیدار ہوجاتے فجر کی نماز کے بعد مجلس درس شروع ہوجاتی ،دن نکلتے تک اس میں مشغول رہتے ۔پھر گھر جا کر ظہر کی نماز تک قیولہ فرماتے،اس کے بعد ظہر کی نماز ادا کرتے۔پھر عصر تک طلباء کو قرآن کا درس دیتے ،اور پھر مسجد آکر عصر کی نماز پڑھتے۔اور اس سے فارغ ہوکر پھر درس قرآن شروع ہوجاتا۔اور شام تک مذاکرہ میں منہمک رہتے۔پھر گھر تشریف لا کر افطار فرماتے۔اس سے فارغ ہوکر نماز پڑھتے۔

امام وکیع بن الجراح ؒ اگرچہ منصب امامت واجتہاد پر فائز تھے۔لیکن فتویٰ امام ابوحنیفہ (م150ھ) کے مسلک کے مطابق دیتے تھے۔اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وہ حنفی مسلک کی طرف مائل تھے۔آپ کے شاگرد یحییٰ بن معین ؒ (م233ھ) کا قول خطیب بغدادی ؒ(م463ھ) نے تاریخ بغداد میں نقل کیا ہے۔

كان وقيع يغني بقول أبي حنيفة وكان قد سمع منه كثيرا

امام وکیعؒ امام ابو حنیفہ ؒ کے قول کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔اور انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے کافی سماعت بھی کی تھی۔

امام وکیع ؒ بن الجراح کی تصانیف کے بارے میں ارباب سیر کی مختلف آراء ہیں۔علامہ شمس الدین ذہبی ؒ (م748ھ) نے امام احمد بن حنبل ؒ (م241ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے۔

عليكم بمصنفات وكيع

حافظ ابن حجرؒ (م853ھ) اور امام ابو بکر خطیب بغدادی ؒ(م463ھ) نے بھی امام احمد بن حنبل ؒ(م241ھ9 کا یہ قول اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔

امام عبدالرحمٰن بن جوزی ؒ (م597ھ) لکھتے ہیں کہ:

صنف التصانيف الكثيرة

انہوں نے بکثرت کتابیں تصنیف کیں۔

لیکن حاجی خلیفہ مصطفیٰ ؒ بن عبداللہ (م1067ھ) نے کشف الظنون اور علامہ یوسف ؒ نے معجم المطبوعات میں امام وکیع ؒ کی کسی تصنیف کا ذکر نہیں کیا۔فہرست ابن ندیم میں آپ کی ایک تصنیف "کتاب السنن" کانام ملتا ہے۔

امام وکیع بن الجراح ؒ نے 68 سال کی عمر میں (196ھ) میں مکہ اور کوفہ کے درمیان انتقال کیا۔
حوالہ جات

1۔تہذیب التہذیب ج11 ص124۔123۔

2۔صفوۃ الصفوۃ ابن جوزی ج3 ص104۔

3۔تاریخ بغداد ج2 ص462۔

4۔ایضاً

5۔تاریخ بغداد ج13 ص471۔

6۔تہذیب التہذیب ج11 ص129۔

7۔تہذیب التہذیب ج11ص 125۔

8۔تاریخ بغداد 135۔ص474۔

9۔ایضاً ص474۔

10۔شذرات الذہب ج1 ص350۔

11۔صفوۃ الصفوۃ ج3 ص 102۔

12۔طبقات ابن سعد ج6 ص 275۔

13۔تاریخ بغداد ج3ص 475۔

14۔ایضاً ص475۔

15۔تاریخ بغداد ج13 ص462۔

16۔ایضاً ص471۔

17۔تاریخ بغداد ج3 س471۔

18۔ایضاً ص471۔

19۔ تذکرۃ الحفاظ ج1ص 218۔

20۔تہذیب التہذیب ابن حجر ج11 ص126۔تاریخ بغداد خطیب بغدادی ج3 ص 476۔

21۔صفوۃ الصفوۃ ج2 ص104۔

22۔الفہرست ص317۔

23۔تہذیب التہذہب ج11ص 127۔