میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قرآن مجید کلام الٰہی ہے ۔مثل مشہور ہے کلام الملوک ملوک الکلام۔قرآن مجید کا ملوک الکلام ہونا اس کے ایک ایک لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔اس کی تفسیر لکھنے کے لئے بہت سے علماء نے کوششیں کی۔یہ ہمہ پہلو کتاب ہے۔اس لئے اس کی تفسیر کے لئے اپنی فہم وفراست کے مطابق صاحب علم وفضل لوگوں نے مختلف انداز سے کام کیا بعض نے نہایت مختصر اور بعض نے مفصل کتب لکھیں۔بعض نے صرف وجوہ قرآت پرگفتگو کی۔بعض نے الفاظ کے معنی پر زور قلم صرف کیا۔بعض نے حروف کے نقطعہ نظر سے اس پر تبصرہ کیا ۔بعض نے نحو کے لحاظ سے اس کی نقاب کشائی کی۔بعض مفسرین نے اپنے امور قلم کو صرف آیات قرآنی، احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم،اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعینؒ تک محدود رکھا۔بعض نے ان کے ساتھ اسرائیلی روایات کو مد نظر رکھا۔بعد ازاں اور لوگوں نے ان روایات کی تنقیح کی۔بعض نے ناسخ ومنسوخ پر بحث کی۔بعض نے احکام شرعیہ کی آیات پرسیرحاصل تبصرہ کیا۔بعض حضرات اور علم کلام والوں کی دلیلوں کو بحث کا موضوع بنایا۔بعض نے مجاوزات قرآنی کو سامنے رکھا۔کسی نے مفردات قرآن کو زیر بحث لانے کی جدوجہد کی۔کچھ لوگوں نے آیات کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔غرض اپنے اپنے ذوق کے مطابق مفسرین نے اس کتاب مبین اورصحیفہ ءہدایت کی خدمت کی۔

ان تمام کتب تفسیر پرغور کرکے عام طور پر آئمہ سلف نے کتب تفسیر کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔

1۔تفسیر بالماثور

2۔تفسیر بالرای

تفسیر بالماثور:۔

ایسی تفسیر جس میں تفسیر بالماثور والمنقول پر کفایت کی جائے۔یعنی قرآن وسنت اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین ؒ سیر وتاریخ کی مستند روایات کو ہی مد نظر رکھا جائے۔اس قسم کی تفسیر کو تفسیر منقول بھی کہتے ہیں۔

اس مکتب فکر کے حامل افراد کایہ کہناہے کہ قرآن مجید خود کئی مقامات پر اپنی تشریح کرتا ہے۔ا سی طرح جس بات کو جاننے کی ضرورت تھی۔یا جو بات شرح طلب تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمادی۔ اس پر مذید صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعینؒ نے بیان فرمایا۔ ان کے بعد مذید بحثوں میں پڑنے سے ایمان کے نقصان کاخطرہ ہے۔اس مدرسہ فکر کے حامل حضرات کو اصحاب الحدیث بھی کہتے ہیں۔قرآن مجید کی خود شرح کی قرآن مجید میں بے شمار مثالیں ہیں۔ارشاد ربانی ہے:

﴿فَتَلَقّىٰ ءادَمُ مِن رَ‌بِّهِ كَلِمـٰتٍ فَتابَ عَلَيهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّ‌حيمُ ﴿٣٧﴾... سورةالبقرة

"پس سیکھ لیں آدم علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے کچھ باتیں۔پس پھر آیا اور اس کے تحقیق وہ پھر آنے والا ہے مہربان۔"

ان کلمات کی وضاحت جو حضرت آدم علیہ السلام نے سیکھے تھے۔قرآن مجید میں ہی دوسرے مقام پر اس طرح سے ہے۔:

﴿قالا رَ‌بَّنا ظَلَمنا أَنفُسَنا وَإِن لَم تَغفِر‌ لَنا وَتَر‌حَمنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ﴿٢٣﴾... سورةالاعراف

"کہا دونوں نے اے ہمارے رب ظلم کیا ہم نے جانوں اپنی کو اور اگر نہ بخشے گا تو ہم کو اور نہ رحم کرے گا تو ہم کو البتہ ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے۔"

اسی طرح تفسیر القرآن بالقرآن میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةٍ مُبـٰرَ‌كَةٍ إِنّا كُنّا مُنذِر‌ينَ ﴿٣﴾... سورة الدخان

"تحقیق اتارا ہم نے اس قرآن کو برکت والی رات میں،تحقیق ہم ہیں ڈرانے والے۔"

لیلۃ مبارکہ کی توضیح اس طرح سے خود ہی قرآن نے بیان کی ہے:

﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ‌ ﴿١﴾... سورةالقدر

"تحقیق ہم نے قرآن کو قدر کی رات میں نازل کیا۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کائنات ارضی پر قرآن مجید کے پہلے مفسر ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر تھی۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مبارکہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا:

كان خلقه القرأن

"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن مجید تھا۔"

کئی آیات قرآنی کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تفسیر بیان فرمائی۔

چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مفاتح الغيب خمسة " ثم قرأ هؤلاء الآيات ( إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ) إلى آخرها .

"غیب کی پانچ چابیاں ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِکی تلاوت فرمائی۔"

اس بات کو ایک اورحدیث میں اس طرح سے بیان کیا ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله: لا يعلم ما في غد إلا الله، ولا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله، ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله، ولا تدري نفس بأي أرض تموت، ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله

"غیب کی پانچ چابیاں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کل کیا ہوگا۔رحم جو کمی کرتے ہیں ان کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا بارش کب ہوگی؟ اللہ کےسوا کوئی نہیں جانتا اس کو موت کہاں مل جائے گی۔اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا قیامت کب ہوگی۔"

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"غیب کی پانچ چابیاں ہیں(پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی):

﴿إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلمُ السّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الغَيثَ وَيَعلَمُ ما فِى الأَر‌حامِ وَما تَدر‌ى نَفسٌ ماذا تَكسِبُ غَدًا وَما تَدر‌ى نَفسٌ بِأَىِّ أَر‌ضٍ تَموتُ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ خَبيرٌ‌ ﴿٣٤﴾... سورةلقمان

"اللہ ہی کو معلوم ہے قیامت کب آئے گی۔اور وہی پانی برساتا ہے،ا ور وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے۔اور کسی کو معلوم نہیں کہ کل وہ کیاکرے گا۔اور کوئی نہیں جانتا وہ کس ملک میں مرے گا۔ بے شک اللہ ہی جانتا ہے اُسی کو خبر ہے۔"

مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں آنحضرت نے جو تشریح کی ہے وہ واضح ہے ۔ایک اور حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،جب یہ آیت اتری:

﴿الَّذينَ ءامَنوا وَلَم يَلبِسوا إيمـٰنَهُم بِظُلمٍ...﴿٨٢﴾... سورةالانعام

"جو لوگ ایمان لائے اور ا پنے ایمان میں ظلم نہیں ملایا۔"

صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو یہ بات بہت گراں گزری اور کہنے لگے ہم میں سے کون ہے جس نے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہ ملایا ہو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،بات یہ نہیں ہے۔پھر فرمایا کہ کیا تم کو حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیتے کو نصیحت کا علم نہیں کہ:

﴿إِنَّ الشِّر‌كَ لَظُلمٌ عَظيمٌ ﴿١٣﴾... سورة لقمان

"بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"

مندرجہ بالا دونوں قسم کی تفسیر یں یعنی تفسیر القرآن بالقرآن یا تفسیر القرآن بالسنۃ اعلیٰ درجہ رکھتی ہیں۔ خدا خود ہی اپنے کلام کو ہر ایک سے بہتر سمجھتاہے۔اوپر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا وہ ہر لحاظ سے اس کی تفسیر کے ماہر تھے۔ارشاد ربانی ہے:

﴿وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم ...﴿٤٤﴾... سورةالنحل

"ہم نے آپؐ ہر قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپؐ لوگوں کو واضح کرکے بتادیں جو اُن پرنازل ہوا۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کادرجہ ہے جو پوری امت میں ہرلحاظ سے افضل لوگ تھے۔قرآن مجید کی جوتشریح اور تفسیر ان کی زبان سے نکلی اس کے ثقہ اور صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں ۔کیونکہ ان کی موجودگی میں قرآن نازل ہوا۔

امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:

ان تفسير الصحابي الذي شهد الوحي والتنزيل له حکم المرفوع

صحابی کو تفسیر کو جو وحی اور تنزیل کے وقت موجود تھا،مرفوع کاحکم ہے۔"

صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی بیان کردہ تفاسیر کی مثالیں کتب احادیث میں موجود ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا:

﴿ما يَلفِظُ مِن قَولٍ إِلّا لَدَيهِ رَ‌قيبٌ عَتيدٌ ﴿١٨﴾... سورة ق

"وہ جو لفظ بھی بولتاہے اس کے پاس نگران منعقد ہوتا ہے۔"

تو انھوں نے فرمایا:

إنما يكتب الخير والشر لا يكتب يا غلام أسرج الفرس ويا غلام اسقني الماء بل يكتب الخير والشر

"خیر اور شر لکھی جاتی ہے ۔یہ نہیں لکھا جاتا اے غلام گھوڑے پر زین ڈال۔اےغلام مجھے پانی پلا۔بلکہ نیکی اور بدی لکھی جاتی ہے۔"

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آیت

﴿وَما كُنتَ تَتلوا مِن قَبلِهِ مِن كِتـٰبٍ... ﴿٤٨﴾... سورةالعنكبوت

"آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس سے پہلے کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے "

تفسیر یہ مروی ہے:۔

قال لم يكن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقرأ أو يكتب.

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ پڑھتے تھے نہ لکھتے تھے۔"

ان کے علاوہ بھی کئی آیات کی تفسیر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے مروی ہے۔

تابعین ؒ کےاقوال بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ان لوگوں نے صحابہ کرام سے فیض حاصل کیا۔کتب تفسیر بالماثور یاتفسیر بالمنقول سے یہی مراد نہیں کہ ان میں مندرجہ بالا امور کےعلاوہ کوئی چیز نہیں ہوئی،بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان چیزوں کو ہر لحاظ سے فوقیت حاصل ہوتی ہے۔

تفسیر بالماثور کی مشہور کتب:۔

مناع القطان نے درج ذیل کتب کو اس زمرہ میں شمار کیا ہے۔

1۔تفسیر المنسوب الی ابن عباس 68ھ۔

2۔تفسیر ابن عینیۃ (ابو محمد سفیان بن عینیہ بن میمون الی الہلالی مولد ہم الکونی ثم مکی ف198۔

3۔تفسیر ابن ابی حاتم (عبدالرحمٰن بن محمد ف191ھ)

4۔تفسیر ابی الشیخ ابن حبان (ابو الشیخ عبداللہ بن محمد بن جعفر بن حبان یا حیان ف361ھ)

5۔تفسیر ابن عطیہ (عبدالحق بن غالب المحازنی (ف546ھ)۔

6۔تفسیر بحر العلوم،ابو اللیث السمر قندی (نصر بن محمد ۔ف373ھ)۔

7۔الکشف والبیان عن تفسیر القرآن (احمد بن ابراہیم الثعلبی النیسابوری ۔ف427ھ)۔

8۔جامع البیان فی تفسیر القرآن(ابن جریر الطبری ابو جعفر محمد بن جریر ف310ھ)۔مطبوع کتاب کا نام اس طرح سے ہے۔جامع البیان عن تاویل ای القرآن۔

9۔تفسیر ابن ابی شیبہ (ابو بکر عبداللہ بن محمد ابی شیبہ ف239ھ۔)

10۔معالم التنزیل البغوی(ابومحمد حسین بن مسعود البغوی ،ف516ھ۔

11۔تفسیر القرآن العظیم ابوالفداءالحافظ اسماعیل(حافظ اسماعیل بن کثیر ف774ھ۔

12۔الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن تفسیر الثعالبی (ابو عبدالرحمٰن محمد بن مخلوف۔ف875۔

13۔الدرالمنشور فی تفسیر الماثور۔(جلال الدین سیوطی،ف911ھ)

14۔فتح القدیر تفسیر شوکانیؒ (محمد بن علی ۔ف 1250ھ)

ان میں سے بعض کتب اور ان کے مولفین کا تعارف درج ذیل ہے:

1۔تفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

حضرت عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب الہاشمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔صحیح روایات کے مطابق وہ فرماتے ہیں:

ولدت وبنو هاشم في الشعب

"میں اُس وقت پیدا ہوا جب بنو ہاشم شعب میں تھے)

گویا آپ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین سال قبل پیدا ہوئے۔اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹی دی۔

حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں:

"ہم ان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی اور کے متعلق نہیں مانتے کہ آن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹی دی۔ جو ان کی خالہ میمونہ بنت الحارث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حبالہ عقد میں تھیں۔

بعض اوقات ان کے گھر جاتے اور رات گزارتے ،چونکہ ذہین وفطین تھے اور علم وعمل کا شوق رکھتے تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد کی نماز نقل فرماتے ہیں۔

اللَّهمَّ فقِّهْهُ في الدِّينِ وعلِّمْه التأويلَ

"اے اللہ اسے دین میں سمجھ عنایت فرما اور تاویل سکھا۔"

ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:۔

اللهم علمه الكتاب"

"اے اللہ ! اسے کتاب اللہ کا علم عنایت فرما۔"

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں بڑھے اور علم حاصل کیا۔اس سے گولڈ زہیر کی غلط بیانی کی تردید ہوتی ہے جو اس نے کہاکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہود کے علماء سے علم حاصل کیا۔اور وہ بیان کرتے تھے:

وکثير مانجد مصاور العلم المقفللة لدی ابن عباس اليهود دين الذين اعتنقا الاسلام کعب الاحبار و عبدالله بن سلام

"ہم دیکھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم کے بڑے مصدردو یہودی تھے۔جو مسلمان ہوگئے تھے۔کعب بن احباررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

احمد امین مصری مشہور مفکر حدیث نے بھی مغربی آقا کی پیروی میں یہی اندازاختیار کیا ہے۔

ان کی تردیداستاد محمد حسین الذہبی نے کی ہے۔تفصیل کے لئے ان کی کتاب ملاحظہ کریں۔

بصیرت ہوتو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ قول پڑھو جس میں انھوں نے اہل کتاب کے متعلق وضاحت فرمائی:

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال يا معشر المسلمين كيف تسألون أهل الكتاب وكتابكم الذي أنزل على نبيه صلى الله عليه وسلم أحدث الأخبار بالله تقرءونه لم يشب وقد حدثكم الله أن أهل الكتاب بدلوا ما كتب الله وغيروا بأيديهم الكتاب فقالوا [ ص: 954 ] هو من عند الله ليشتروا به ثمنا قليلا أفلا ينهاكم ما جاءكم من العلم عن مساءلتهم ولا والله ما رأينا منهم رجلا قط يسألكم عن الذي أنزل عليكم

"مسلمانوں آپ اہل کتاب سے کیوں پوچھتے ہیں جبکہ آپ کی کتاب جو آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے اتاری۔سب سے بعد میں اتر ی ہے۔پرانی نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ اہل کتاب نے اللہ کی نازل کی ہوئی کتابوں کو بدلا اور تحریف کی ،اپنی مرضی سےلکھ کر کہنے لگے یہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے۔تاکہ اس سے تھوڑی سی قیمت حاصل کرسکیں۔جو علم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہے وہ آپ کو اس بات سے نہیں روکتا کہ آپ ان سے سوال کریں؟خدا کی قسم! میں نے ان سے ایک آدمی کو بھی نہیں دیکھا کہ وہ آپ سے اس چیز کے متعلق پوچھتا ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُترا ہے۔"

اس سے معلوم ہوا کہ اگر کبھی حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات بھی ہوئی تو معلومات کےلئے یا تصدیق اورتردید کے لئے پوچھا نہ کہ مصدر سمجھ کر۔اہل علم کی شان یہ ہے کہ وہ دونوں پہلو بیان کرتے ہیں۔احمد بن مصری جیسے متجدد اور مستشرقین کا بھی علمی تقاضا ہے کہ وہ اس علمی دیہانت کے تحت اصح الكتب بعد كتاب الله البخاري کی اس ر وایت کو بھی علي رئوس الاشهاد بیان کرتے ہیں۔لیکن ایسا نہیں کیا۔کیونکہ علمی حقائق کو بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ اسلام کو ہدف تنقید بنانا مقصود ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ لغت عرب کے ماہر تھے ان کی وفات 68ھ میں ہوئی۔محمد بن حنفیہ (علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیتے) نے جنازہ پڑھایا۔

ان کی تفسیر ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت مشہور ہے۔ یہ وہ تفسیر ہے جو تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس کے نام سے شائع ہوئی ہے۔جسے ابو طاہر محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب "قاموس المحیط" نے جمع کیا ہے۔مصر سے کئی دفعہ شائع ہوئی۔پاکستان سے بھی شائع ہوچکی ہے۔

دوسری کتاب تفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے جس کو ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ الحمیدی نے کتب ستہ سے ان کی تفسیری روایات کو جمع کیا ہے اور ان کی سند پر بحث بھی کی ہے۔اس کو جامعہ ام القریٰ نے شائع کیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر اور ان کے علم کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ان کی تفسیر کے ماخذ درج ذیل ہیں:

1۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے علم حاصل کیا۔

2۔صحابہ کبار رضوان اللہ عنھم اجمعین سے علم حاصل کیا۔

3۔لغت عرب اور شعر جاہلی سے بہت استشہاد کر تے تھے۔اس میں عین ایک خاص واقعہ ہے۔

جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ کے صحن میں قرآن کی تفسیر بیان کررہے تھے۔نافع بن الازرق اور نجدہ بن عویمر خارجیوں نے قرآن مجید کی بعض آیات کے متعلق عرب سے استشہاد کیا تو آپ نے ان کو بیان کردیا۔

فہم ناقب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کا اثر تھا اور خاندانی فصاحت وبلاغت سے آپ خود تفسیر بیان فرماتے تھے۔

مناع القطان نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر کی آٹھ سلسلوں سے روایت کی ہے۔

تفسیر ابن جریر الطبریؒ:۔

ابو جعفر محمد بن جریرؒ بن یزید بن کثیر الطبری 224ھ میں طبرستان میں پیدا ہوئے۔

خطیب بغدادی ؒفرماتے ہیں:

ابن جرير الطبريُّ من كبار أئمَّة الإسلام, وعلماً من أعلام الدِّين, يُحكم بقوله, ويُرجع إلى رأيه، لمعرفته وفضله, وكان قد جمع من العلوم ما لم يُشارِك فيه أحدٌ من معاصريه, فقد كان حافظاً لكتاب الله

ابن جریر ؒ ان اماموں سے ایک تھے جن کی بات کو وقعت دی جاتی تھی۔ان کے علم ومعرفت کی طرف لوگوں کی نگاہیں تھیں۔علوم میں کوئی ہم عصر ان کا ثانی نہ تھا۔آپ قرآن مجید کے حافظ تھے۔انکی وفات 310ہجری میں ہوئی۔

اُن کی تفسیر بہت اہمیت کی حامل ہے۔اس کے متعلق ابو حامد الاسفرائنیؒ فرماتے ہیں:

لو سافر رجل إلى الصين في تحصيل تفسير ابن جرير لم يكن كثيرا "

"اگر کوئی تفسیر ابن جریرؒ کے لئے سفر کرے تو یہ زیادہ نہیں۔"

امام نووی ؒ فرماتے ہیں:

وكتاب ابن جرير في التفسير لم يصنّف أحد مثله

"تفسیر ابن جریر جیسی کتاب کسی نے تصنیف نہیں کی۔"

اُن کی تفسیر کی درج ذیل خصوصیات ہیں۔

1۔تفسیر بالماثور پراقوال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،اقوال الصحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین ؒ پر اعتماد کرتے ہیں۔

2۔روایات کو اسناد کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔اور ترجیح بھی بیان کرتے ہیں۔

3۔ناسخ ومنسوخ کی بھی وضاحت کرتے ہیں۔

4۔وجوہ اعراب بیان کرتے ہیں اور آیات سے اسستنباط احکام کرتے ہیں۔

5۔بعض اوقات اسرائیلی روایات بیان کرکے عام طور پر ان پرتنقید کرتے ہیں۔

تفسیر بحر العلوم السمرقندی:۔

ابو للیث نصر بن محمد بن ابراہیم السمر قندی ؒ الفقیہ الحنفی بہت مشہور مفسر ہیں۔آپ امام الھدیٰ کے نام سے بھی معروف ہیں۔آپ کے استاد گرامی ابو جعفر الہندوانی ہیں۔ان کی مشہور تصانیف یہ ہیں:۔

1۔تفسیر القرآن المسمیٰ بحر العلوم۔۔۔2۔کتاب النوازل فی الفقہ۔۔۔3۔خزانۃ الفقہ۔۔۔4۔تنبیہ الغافلین۔۔۔۔5۔البستان

اُن کی وفات 373ھ یا375ھ میں ہوئی۔

تفسیر بحرالعلوم کے متعلق حاجی خلیفہ فرماتے ہیں:

"ابوللیث نصر بن محمد الفقیہ السمرقندی کی تفسیر نہایت عمدہ ہے جس کی احادیث کی تخریج شیخ زین الدین قاسم بن قطلوبفاف 899ھ نے کی ہے۔

یہ کتاب ابھی تک زیور طباعت سے آراستہ نہیں ہوئی۔اس کی اشد ضرورت ہے کہ کوئی طالب علم اس کی تحقیق کرکے اسے اہل علم لوگوں کے سامنے پیش کرے۔یہ القاہرہ میں موجود ہے۔

ڈاکٹر محمد حسین الذہبی نے اس تفسیر سے استفادہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں:

"یہ تین بڑی جلدوں میں مخطوط کی صورت میں دارالکتب العربیہ میں موجود ہے۔اس کے مکتبہ الازہر میں دو نسخے موجود ہیں۔میں نے اس تفسیر کو پڑھا ہے۔"اس نے مجرد رائے سے تفسیر بیان کرنے کی حرمت کے متعلق لکھتا ہے:۔

"میں نے د یکھا کہ اس کا مولف تفسیر سلف سے بیان کرتا ہے جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تابعین ؒ اور بعد کے لوگوں سے بیان کرتا ہے۔اسناد کی طرف اس کی توجہ بہت کم ہے۔اور عام طور پر روایات پرجرح وتعدیل بھی نہیں کرتے۔لیکن یہ کتاب تفسیر بالروایۃ اور درایۃ کا بہترین نمونہ ہے جبکہ عقلی جانب پرنقلی جانب غالب ہے اسلئے اس کو تفسیر بالماثور میں شمار کیاگیا ہے۔

اس کتاب کے قلمی نسخوں کی موجودگی اور اس کے مولف کے اسناد ذکر نہ کرنے کو استاد عبدالعظیم الزرقانی ؒ نے بھی اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔

الکشاف والبیان عن تفسیر القرآن للثعلبی:۔

مولف کتاب ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبیؒ نیشا پوری تھے آپ عظیم قاری،مفسر قرآن اور واعظ تھے۔اور بہت دیندار آدمی تھے۔ ان کےمتعلق ابن خلکان ؒ فرماتے ہیں:

آپ یگانہ روزگار تھے۔آپ نے اتنی بڑی تفسیر لکھی جودیگر تقاریر پر فوقیت رکھتی ہے۔"

یاقوت حموی ؒ فرماتے ہیں:۔

ثعلبی ؒ ایک عظیم قاری ،مفسر واعظ،ادیب ،ثقہ،حافظ اور صاحب تصانیف تھے۔"

ابن الاثیرؒ آپ کی نسبت کے متعلق فرماتے ہیں:

"ان کو ثعلبی اور ثعالبی دونوں طرح سے یاد کیاجا تا ہے۔

آپ نے ابو طاہر بن خزیمہؒ اور ابو بکر بن مہران ؒقاری سے کسب فیض حاصل کیا۔آپ کے تلامذہ میں ابو الحسن الواحدی شامل ہے۔آپ کا انتقال 427ہجری میں ہوا۔

یہ تفسیر قلمی صورت میں سورۃ الفرقان تک مکتبۃ الازہر میں موجود ہے۔باقی مفقود ہے۔محمد علی الصابونی نے یہی بیان کیا ہے۔

ان کی تفسیر کے متعلق امام ابن اثیر ؒ فرماتے ہیں کہ وہ دیگر تفاسیر پر فوقیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر محمد حسین الذہبی اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اس کے متعلق یوں رقم طراز ہیں:

"اس کتاب کو میں نے دیکھاکہ قرآن کی تفسیر سلف سے ہے۔اگرچہ اسناد کا اقتصار ہے چونکہ مقدمہ کتاب میں اُن کا ذکر کردیا ہے کتاب میں مسائل نحویہ کا ذکر بھی ہے۔بعض اوقات الفاظ کی تشریح لغت سے کرتاہے عربی اشعار سے بھی استشہاد کرتاہے۔

اس میں فقہ کے احکام بھی ہیں۔کتاب میں کئی علمی پہلوؤں پر گفتگو ہے۔قریب تھا کہ یہ کتاب تفسیر بالماثور کے د ائرہ سے نکل جاتی۔کیونکہ بعض اوقات کو بغیر کسی تبصرے کے بیان کیا گیا ہے۔"

یاقوت حموی فرماتے ہیں:۔

آپ کی تفسیر انواع واقسام کے معنی واسرار کی جامع ہے۔اس میں اعراب وقرائت کے بارے میں شاندار مباحث ہیں۔

امام ابن تیمیہؒ نے اس تفسیر کے متعلق فرمایا:۔

والثعلبي هو في نفسه كان فيه خير ودين، ولكنه كان حاطب ليل ينقل ما وجد ني كتب التفسير من صحيح وضعيف وموضوع

"ثعلبی خود دیندار اچھے آدمی ہیں۔لیکن وہ حاطب لیل تھے۔کتب تفسیر میں جو ضعیف اور موضوع روایات ملتی ہیں۔ان کو نقل کردیتے ہیں۔

معالم التنزیل للبغوی ؒ:۔

حسین ؒ بن مسعود بن محمد بن الضراءؒ کی کنیت ابو محمد تھی۔ آپ الضراء یا ابن الضراء کے نام سے مشہور ہیں۔ ابن خلکان ؒ کے مطابق آپ کا لقب ظہیر الدین ہے۔ صرف یاقوت حموی ؒ آ پ کی پیدائش 433ھ لکھتے ہیں۔

اکثر مصادر میں آپ کی وفات 516ھ مروالرفد میں ہے۔

آپ مفسر ،محدث،اور فقیہ ہونے کے لحاظ سے مشہور تھے۔اور آپ کو کہا جاتا "بحر فی العلم" یعنی (علم کا سمندر) ہے۔ آپ ہمیشہ باوضو ہوکر پڑھاتے۔ آ پ صائم النہار اورقائم اللیل تھے۔ آپ کے کئی استاد ہیں۔سب سے مشہور ابو علی الحسین ؒ بن محمد بن احمد المروزی الشافعی ف 462ھ ہیں جو کہ شیخ خراسان کے نام سے مشہور ہیں۔ دوسرے مشہور استاد جن سے شرح السنۃ میں بہت سی روایات ہیں۔ابو عمر عبدالواحد ؒ بن احمد الہروی ف463۔ محمود الفارسی نے آپ کے شاگردوں کی تعداد چار سو بتائی ہے جو بڑے علماء ثابت ہوئے۔ ان میں مشہور ابو الفتوح محمد بن محمد الطائی الہمدانی ف555ھ صاحب الاربعین فی الارشاد السالیکن الی منازل المتقین ہیں ۔ آپ کی کئی تصانیف ہیں۔جن میں معالم التزیل، مصابیح السنۃ، شرح السنہ ، اور التہذیب فی لافقہ زیا دہ مشہور ہیں۔

"معالم التنزیل" بڑی مشہور تفسیر ہے۔امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

تفسيره مبغوي ختصر من تفسير الثعلبي لكنه صان تفسيره عن الأحاديث الموضوع والاراء المبتدعة

"تفسیر بغوی تفسیرثعلبی سے مختصر ہے لیکن انھوں (بغویؒ) نے اس تفسیر کو موضوع احادیث اور بدعتی آراء سے مبرا رکھا۔"

تاج الدین ؒ ابو نصر عبدالوہاب بن محمد الحسینی ف 875 ھ نے اس کتاب کا اختصار لکھا۔

آپ نے اپنی تفسیر کے شروع میں ماخذ ومراجع کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد ایک فصل فضائل قرآن اور پھر تفسیر بالرای بیان کرنے و الوں کی بیان فرمائی ہے۔ آپ کی تفسیر میں قرآن وحدیث صحابہ ،تابعین ،اور مستند روایات کو بیان کیا گیا جیسا کہ الخازن نے زکر کیا ہے۔ بعض اوقات آپ نے بھی اسرائیلی روایات بیان کی ہیں۔

المختصر یہ تفسیر کتب تفسیر بالماثور میں بہت اہم ہے۔

المحرار الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز لابن عطیہ:۔

ابو محمد عبدالحق بن غالب بن عطیہ الندلسی المغربی الغرناطی الحافظ القاضی 481ھ میں پیدائش اور 546ھ میں فوت ہوئے۔

آپ بڑے زہین فقیہ ،عالم حدیث ،لغوی ادیب اور شاعر تھے۔ آپ نے اپنے والد سے روایت کیا ۔ابو علی غسانی العمری بھی آپ کے اُستاد تھے۔ان کے شاگردوں میں ابو بکر بن ابی حمزہ ابو القاسم بن جیشی اور ابو جعفر بن عضاء شامل ہیں۔ آپ کی تفسیر کے متعلق ابوحیان فرماتے ہیں کہ:

"تنقیح اور تحریر کے لحاظ سے ان کی تفسیر کا پایہ بہت بلند ہے۔"

اور ابن خلدون نے لکھا ہے کہ:

"ان کی تفسیر دیار مغرب واندلس میں نہایت مقبول ومستحسن خیال کی جاتی ہے۔

ابو حیان نے اپنی تفسیر البحر المحیط میں اس تفسیر کو زمخشری کی تفسیر سے زیادہ جامع اور غیر صحیح مواد سے پاک قرار دیا ہے۔

امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ:

وتفسير ابن عطية وأمثاله أتبع للسُّنَّة والجماعة، وأسلم من البدعة من تفسير الزمخشرى

"ابن عطیہ اور ان جیسے لوگوں کی تفسیر سنت اور اہل سنت کے زیادہ موافق ہے اور یہ زمخشری کی تفسیر کی نسبت بدعت سے زیادہ محفوظ ہے۔"

محمد حسین الذہبی نے اس کا نسخہ دارالکتب المصریہ میں دیکھا اور پڑھا ہے۔اور اوس کے انداز نگارش کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔وہ ابن جریر الطبری سے نقل کرتا ہے۔اور اشعار عربی اور لغت عرب سے بھی عبارتوں کو مزین کرتا ہے۔

تفسیر القرآن العظیم:۔

عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن عمرو بن کثیر الشافعیؒ 700ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ کے اساتذہ میں ابن الشحنہ ،الاآمدی،ابن عساکر،حافظ المزی اور امام ابن تیمیہؒ شامل ہیں۔ آپ کی شادی بھی حافظ المزی کی بیٹی سے ہوئی۔

وکان قوۃ العلماء والحفاظ وعمدۃ اهل المعانی والالفاظ

"حافظ ابن حجرؒ نے اور دیگر لوگوں نے آپ کے متعلق بہت تفصیل سے لکھا ہے۔

"اشتغل بالحديث مطالعة في متونه ورجاله، وجمع التفسير، وشرع في كتاب كبير في الاحكام

صاحب شذرات الذہب فرماتے ہیں کہ:

(كان كثير الاستحضار قليل النسيان، جيد الفهم

صاحب حافظہ ،کم نسیان،بہتر سوجھ بوجھ والے تھے۔"آپ کی وفات 774ھ میں ہوئی۔

تفسیر ابن کثیرؒ قرآن مجید کی نہایت اہم تفاسیر میں سے ایک ہے۔اس کتاب کا درجہ تفسیر الطبری کے بعد سمجھاجاتا ہے۔اس تفسیر کا مولف پہلے تفسیر القرآن بالقرآن کرتاہے۔پھر بالحدیث اور پھر اقوال سلف کو لاتا ہے۔اس تفسیر کے شروع میں ایک مبسوط مقدمہ ہے۔لیکن بقول محمد حسین الذہبی اس کا اکثر حصہ انھوں نے اپنے استاد ابن تیمیہؒ سے ہی بیان کیا ہے۔

جرح وتعدیل کا بھی اس کتاب میں خیال رکھاگیا ہے۔مثال کے طور پر جب وہ سورہ بقرہ کی آیت مبارکہ (وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ ) کو بیان کرتے ہیں۔تو اس کے راوی ابو محشر نجیح بن عبدالغنی المدنی کو ضعیف قرارد یتے ہیں۔

محمد بن جعفر الکتانی اس تفسیر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

فانه مسحون بالاحاديث ولآثار باسانيد مخرجها مع الکلام عليها صحة وضعفا

"اس تفسیر میں احادیث اور آثار مع اسانید بہت ہیں۔اور ان پر صحت اورضعف کے لحاظ سے کلام کیا بھی گیا ہے۔"

اس اہم تفسیر کو دو مشہور مستشرق سہرنگر اور گولڈز زہیر بالکل نظر انداز کرگئے ہیں۔ یہ کتاب کئی بات شائع ہوچکی ہے۔محمد علی الصابونی نے اس کا اختصار بھی لکھا ہے۔

8۔الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن۔للثعالبی:۔

مولف کتاب کے بارے میں محمد حسین الذہبی لکھتے ہیں۔کہ ابو زید عبدالرحمٰن بن محمد بن مخلوق الثعالبی الجزائری المغربی مالکی المذہب تھے۔

ابن سلامۃ البکری فرماتے ہیں کہ:۔

"ہمارے شیخ الثعالبی بہت نیک،عالم،زاہد،عارف،اور بڑے اولیاء میں سے تھے۔وہ طلب علم میں الجزائر تیونس اور مصر بھی گئے۔ان کی عظمت کو ان کے ہم عصر بھی تسلیم کرتے تھے۔کسی نے کہا کہ انت اية في علم الحديث "آپ علم حدیث میں ایک علامت ہیں"ان کی کتب میں اس تفسیر کے علاوہ :

الذهب لابريز فی غرائب القرآن العزيز،تحفة الاخوان فی اعراب بعض آيات القرآن اور جامع الامهات فی احکام العبادات

شامل ہیں۔آ پ کی وفات 876ہجری کو الجزائر میں ہوئی۔ الجواہر الحسان الجزائر سے چار جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔اس کا ایک قلمی نسخہ دارالکتب مصریہ میں ہے۔اور دوسرا المکتبۃ الازہریۃ میں ہے۔ اس کتاب کے مولف نے خود لکھا ہے کہ یہ کتاب التفسیر ابن عطیہ کا ا ختصار ہے۔جس میں بعض اضافے ہیں۔دیگر مفسرین الطبری وغیرہ سے بھی نقل کیا ہے ۔اسی طرح صحیح بخاری،صحیح مسلم کے علاوہ سنن ابی داود،ترمذی،الترغیب والترہیب،التذکرۃ اللقرطبی،العاقبۃ لعبدالحق،اور مصابیح السنۃ للبغوی سے بھی بھر پور استفادہ کیاگیا ہے۔

مولف نے بعض اسرائیلی روایات بھی نقل کی ہیں۔لیکن ان پر تعاقب بھی کرتے ہیں۔مثلا سورۃ النحل کی آیت نمبر 28۔ ﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ ﴾کے تحت بعض اسرائیلی روایات بھی نقل کی ہیں۔والله اعلم ناصح من ذلك یہ تفسیر نہایت معتبرہے۔

9۔الدرا المنشور فی التفسیر الماثور للسیوطی:۔

الدر المشور کے مولف ۔ابو الفضل عبدالرحمٰن بن ابھی بکر السیوطی شافعی المسلک 849ہجری میں پیدا ہوئے۔

5 سال سے یا 7 سال کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا۔قرآن مجید 8 سال کی عمر میں حفظ کیا۔ آپ کے شاگرد علامہ داؤدی کے مطابق سیوطی ؒ کےاساتذہ کی تعداد اکیاون ہے۔ آپ کا حافظہ بہت زیادہ تھا۔آپ نے 500 سے زائد کتب تالیف کیں۔ قرآن سے متعلق آپ کی تصانیف الاتقان فی علوم القرآن ہے۔آپ نے علوم دینیہ کے ہر فن پر کتاب لکھی۔خود فرماتے ہیں:

ورزقت التبحر فی سبعة علوم التفسير والحدیث والفقة والنحو والمعاني والبيان والبديع علی طريقة العرب والبلغاء لا علی طريقة العجم واھل الفلسفة

"یعنی مجھے ساتھ علوم میں ادراک حاصل ہے۔

تفسیر،حدیث،فقہ،نحو،معانی،بیان،بدیع عرب اور بلغاء ک طریقہ پر نہ کہ عجم اور اہل فلسفہ کے طریقہ پر۔

آپ کا انتقال جمعہ کی صبح 911ھ میں ہوا۔ الدر المنشور کو الکتانی نے ان تفاسیر میں شامل کیا ہے جن میں احادیث ہیں۔

امام سیوطیؒ خود اس تفسیر کے متعلق فرماتے ہیں کہ:

وقد جمعت كتابًا مسندًا فيه تفاسير النبي والصحابة، فيه بضعةَ عشر ألف حديث؛ ما بين مرفوع وموقوف، وقد تم ولله الحمد في أربعِ مجلدات، وسميته ترجمان القرآن

"میں انے ایک سند کتاب لکھی ہے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے مستند تفسیر بیان کی ہے۔مرفوع اور موقوف دس ہزار احادیث پر مشتمل ہے۔اللہ کے فضل سے وہ کامل ہوگئی ہے۔وہ چار جلدوں پرمشتمل ہے۔میں نے اس کا نام ترجمان القرآن رکھا ہے۔"

اور اس ترجمان القرآن کا اختصار خود سیوطیؒ نے الدر المنشور کی صورت میں کیا ہے۔اسانید کرحذ ف کردیا ہے۔اس میں صرف متن پر اکتفاء کیا گیا ہے۔اور جس کتاب سے روایت لی گئی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

سیوطی نے الاتقان میں ایک تفسیر مجمع البحرین ومطلع البدرین کا ذکر کیا ہے۔جس کا الاتقان کو مقدمہ قرار دیا ہے۔ لیکن مجمع البحرین کا الدرالمنشور کے ساتھ کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔وہ اور طرز کی ہے۔

ان کی یہ تفسیر کیونکہ روایات پر مشتمل ہے اس لئے اس کو ادھر شامل کیا گیا ہے اس میں رائے کو بالکل بھی دخل حاصل نہیں۔سیوطی ؒ نے چونکہ ہر موضوع پر لکھا ہے۔اس لئے صحت کا التزام کم ہی کیا ہے۔یہ تفسیر سات جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔

10۔فتح القدیر للشوکانی:۔

محمد بن علی بن محمد بن عبداللہ الشوکانی ل 1173ھ میں پیدا ہوئے ۔دس سال کی عمر سے قبل ہی قرآن مجید حفظ کرلیا ۔پھر بڑے بڑے شیوخ سے ملے۔ آپ نے ان علمائے دین کی کتب سے استفادہ کیا۔جن میں صحیحین ،علم المصطلح،اصول فقہ، اوربھر ذخار وغیرہ شامل ہیں۔شیخ عبدالقادر بن احمد سے الصحیحین پڑھی۔ جب آپ خود پڑھتے تھے تو ساتھ پڑھاتے بھی تھے۔بعض کتب تراجم والے آپ کے متعلق کہتے ہیں:۔

کہ مفسر،محدث،فقیہ،اصولی،مورخ،ادیب،نحوی،منطقی،متکلم،حکیم تھے۔

آپ نے جامد تقلید ،بدعات،وخرافات اور مسلمانوں کے زوال کےاسباب پر قلم اٹھایا۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ شہروں پر عذاب کا سبب اور مسلمانوں پر دشمن کا غلبہ ان کے معاصی اور فسق وفجور ہیں۔جن کی وجہ سے اُ ن پراُن کے دشمن مسلط ہوگئے ہیں۔کہتے ہیں کہ:

فقد سلّط الله علی أهل الإسلام طوائف من عدوّهم، عقوبة لهم، حيث لم ينتهوا عن المنکرات، ولم يحرصوا علی العمل بالشريعة المطهّرة، کما وقع من تسليط الخوارج فی أوّل الإسلام، ثمّ تسليط القرامطة والباطنة بعدهم، ثمّ تسليط الترک حتّی کادوا يطمسون معالم الإسلام، وکما يقع کثيرا من تسليط الفرنج ونحوهم،

"جب یہ لوگ بُرے کاموں سے نہ رکتے تھے۔اور نہ شریعت مطہرہ پر عمل کرتے تھے۔تو ا ُن کو سزا دینے کےلئے اُن پر دشمن مسلط کردیئے گئے۔خارجی مسلط ہوگئے ۔پھر قرامطہ والے مسلط ہوگئے۔اور باطنیہ فرقے کے لوگ مسلط ہوئے۔پھر اور فرنگی قسم کے لوگ مسلط ہوگئے۔"

آپ نے اصلاحی عقیدے پر بہت سی کتب تصنیف کیں۔آپ کی غیر مطبوعہ 189 کتب کے نام ملتے ہیں۔جبکہ مطبوعہ (30)آرڈیننس کا پتاچلتاہے۔

آپ کا انتقال 1256ہجری میں ہوا۔

امام شوکانیؒ اپنی تفسیر میں عام طور پر اس انداز سے تفسیر بیان کرتے ہیں:۔

1۔فضائل صورت 2۔القراۃ

3۔اللغۃ 4۔الاعراب

5۔اسباب النزول 6۔النسخ

7۔المعنی الاجمالی 8۔الاحکام المستنبط ین الآیۃ

9۔الاحادیث البویہ وآثار الصحابۃ

اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق ان کا سلف الصالحین کا مذہب ہی ہے۔

امام شوکانی ؒ چونکہ متاخرین میں سے ہیں۔اس لئے اپنی تفاسیر میں دیگر تفاسیر کا بھی ذکر کرتے ہیں۔متعزلہ سے زمخشری کا ذکر کرتے ہیں۔اور پھر بعد میں اُس کارد کرتے ہیں۔انھوں نے اس میں جن تفاسیر کو سامنے رکھا ہے۔ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:۔

تفسیر الطبری (ف 310ھ) تفسیر ابن عطیہ(ف۔540ھ)الجامع الاحکام القرآن المعروف تفسیر القرطبی ابو عبداللہ محمد بن احمد (ف 671ھ)تفسیر ابن کثیر ف 774ھ) تفسیر ابی حیان ابی عبداللہ محمد بن یوسف بن علی الاندلسی۔(654۔745ھ9 الدر المنشور للسیوطی(ف911ھ)

بعض احادیث جو کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل میں سے ہیں اُن کے ضعف کے باوجود ان کے بارے میں امام شوکانیؒ خاموش ہوجاتے ہیں۔شاید یہ مصلحت کا تقاضا تھا۔

مجموعی طور پر تفسیر فتح القدیر قدیم وجدید نظریات کا اچھا نمونہ ہے۔

تفسیر بالرای

تفسیر بالرای سے مراد قرآن کی اجتہاد سے تفسیر بیان کرنا ہے۔رائے اجتہاد کے معنی میں ہے۔ رائے کا لفظ قیاس کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے۔

بعض نے تفسیر بالرای سے مراد ایسی تفسیر لی ہے جس میں مفسر قرآن معنی کے بیان میں اپنے فہم خاص اور مجردرائے سے استنباط کر تاہے۔

ان دونوں طریقوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رائے اور قیاس کو اگر شریعت کے تابع رکھاجائے تو اس سے شریعت کی روح متاثر نہیں ہوتی۔بلکہ فائدہ ہوتا ہے۔لیکن اگر رائے اور اجتہاد کو غلط استعمال کیا جائے تو یہ شریعت کی رو ح کے منافی ہے۔اس کو اہل علم نے تفسیر بالرای المحمود اور تفسیر بالرای المذموم قرار دیا ہے۔

احمدون ڈنفر نے تفسیر بالرای کی اس طرح وضاحت کی ہے:

Tafsir bi e ray is not based directly on transmission of knowledge by the p re decessory, but on the use of reason and I jtihad.

ایسی تفسیر بالرای جو اپنی مرضی سے کی جائے جس میں محض رائے ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ناجائز قرار دی ہے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَالَ فِي القُرآنِ بِرأيِهِ ، فَلْيَتَبوأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

"جس نے اپنی مرضی سے قرآن مجید کی تفسیر بیان کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔"

دوسری روایت ا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سے فرمایا:

مَنْ قَالَ فِي القُرآنِ بغير علم ، فَلْيَتَبوأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

"جس نے قرآن مجید کے متعلق علم کے بغیر بیان کیا۔وہ ا پنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔"

اس قسم کی تفاسیر اہل بدعت اور معتزلہ وغیرہ نے بیان کی ہیں۔اگر تفسیر بالرای کو غور وفکر سے بیان کیا جائے تو یہ دین کی خدمت ہے۔

اور ملحدین کے جواب بھی اس میں آتے ہیں۔جدید علوم وفنون کے ذریعے جو نت نئے موضوعات سامنے آئے ہیں۔اس مکتب فکر کے حامل لوگوں نے ان کو اپنا موضوع بنایا۔اور ایک متوازن نقطہ نظر پیش کیا۔

مولانا محمد حنفی ندوی اس گروہ کے متعلق فرماتے ہیں:۔

"اصحاب الرای کی خدمت کادائرہ بھی خاصا وسیع اور قابل قدر ہے۔اس گروہ نے قرآن وسنت کے فقہی مضمرات کی نشان دہی کی۔فکری اور کلامی نکتہ سینچوں کو نکھارا اور تعبیر وتشریح کے دائروں میں وسعت وعمق پیدا کیا۔یہ اس گروہ کا فیضان ہے۔کہ اسلام ایک مکمل اور منضبط نظریہ حیات کی شکل میں مدون ہوا۔

فهذه الآثار الصحيحة وما شاكلها عن أئمة السلف تدل على تحرجهم عن الكلام في التفسير بما لا علم لهم به فاما من تکلم بمايعلم من ذالک لغة وشرعا فلاحرج عليه

ائمہ سلف سے یہ آثار صحیحہ جو منقول ہیں۔اُن کا مطلب یہ ہے کہ ایسی تفسیر بیان کرنے میں حرج ہے جو علم کے بغیر بیان کی گئی ہے جہاں تک لغت اور شریعت پرمبنی تفسیر کا تعلق ہے اُس کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔"

تفسیر بالرای کی مشہور کتب

مناع القطان نے اس مدرسہ فکر کی درج ذیل تفاسیر کا ذکر کیا ہے:۔

1۔تفسیر ابی بکر عبدالرحمٰن بن کیسان۔ف240ہجری۔

2۔محمد بن عبدالوہاب ۔ف 1303ھ۔

3۔تفسیر عبدالجبار ابن احمد بن عبدالجبار بن احمد بن خلیل القاضی ابو الحسن الہمدانی الاسد آبادی۔ف410ھ۔

4۔تفسیر الزمخشری الکشاف عن حقائق غوامض التزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل،ابو قاسم جار اللہ محمود بن عمر،ف539ھ۔

5۔تفسیر مفاتیح الغیب ،فخر الدین ابو عبداللہ محمد بن عمرو بن حسین الرازی،ف 606ھ۔

6۔تفسیر ابن فواک(مشہور متکلم ہیں)۔

7۔الجامع الاحکام القرآن ۔ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی ۔ف67ھ۔

8۔انوار التنزیل واسرار التاویل المعروف بتفسیر البیضاوی عبداللہ بن عمر بن محمد۔ف 685ھ۔

9۔مدارک التنزیل وحقائق التاویل۔المعروف تفسیر النسفی عبداللہ بن احمد بن محمود النسفی۔ف701ھ۔

10۔لباب التاویل فی معانی التاویل۔المعروف تفسیر خازن علاؤالدین ابو الحسن علی بن محمد بن ابراہیم ف741ھ۔

11۔البحر المحیط۔المعروف تفسیر ابن حیان،ابو عبداللہ محمد بن یوسف بن علی الملقب اثیر الدین۔ف745ھ۔

12۔غرائب القرآن درغائب الفرقان نظام الدین حسن بن محمد خراسانی النیسابوری ۔ف728ھ۔

13۔تفسیر الجلالین جلا الدین المحلی۔ف864ھ۔جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی ۔ف 911ھ۔

14۔السراج المنیر۔شمس الدین محمد بن محمد الشربینی الخطیب ۔ف977۔

15۔ارشاد العقل الی ضرایا الکتاب الکریم۔ابو مسعود محمد بن محمد بن معطع۔ف982ھ۔

16۔روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی ۔ابو الثناء شہاب الدین سید محمود آفندی آلوسی ف۔1270ھ۔

ان میں سے بعض کتب اور اُن کے مولفین کا تعارف درج ذیل ہے:۔

تفسیر قاضی عبدالجبار ،المعروف تنزیہہ القرآن عن المطا عن قاضی ابو الحسن عبدالجبار بن احمد بن عبدالجبار بن احمد بن خلیل فرقہ معتزلہ کے شیخ تھے۔ان کے استاتذہ میں ابو الحسن بن سلمہ بن القطان اور عبداللہ بن جعفر بن فارس شامل ہیں۔ان کے شاگردوں میں ابو قاسم علی بن الحسن التنوخی الحسن بنعلی العمیری الفقیہ اور ابومحمد عبدالسلام القزدینی المفسر المعتزلی بہت مشہور ہیں۔ان کی وفات 415ھ میں ہوئی۔

ا س کتاب کےمتعلق ڈاکٹر محمد حسین الذہبی کہتے ہیں:۔

"اس میں سورۃ الحمد تاوالناس تک بیان ہے لیکن ہر آیت کی تشریح نہیں ہے۔بلکہ یہ کتاب مختلف مسائل پر مبنی ہے۔بعض سوالات خود کرکے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں۔اس میں نحوی مسائل ہیں۔پوری کتاب میں زیادہ تر توجہ اپنے معتزلی عقائد کی صداقت پر صرف کی گئی ہے۔بعض اوقات غیر مسلموں کے سوالات کے جوابات بھی آجاتے ہیں۔

معتزلہ کےعقائد کی مثال یہ بیان کی گئ ہے ۔معتزلہ آخرت میں روئیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں۔قرآن مجید کی اس آیت:۔

﴿لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ﴾

"جنھوں نے نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور مذید زیادہ ہے"

کیا اس مراد روئیت باری تعالیٰ نہیں ہے؟جبکہ حدیث میں ہے قاضی کے مطابق زیادہ سے مراد ثواب میں اضافہ ہے۔اس لئے آیت میں روئیت خداوندی مراد لینا درست نہیں ہے۔کیونکہ روئیت خداوندی ان کے نزدیک (اہل سنت) ہر قسم کے اجرو ثواب سے بڑھ کر ہے۔پھر اس کے ذریعہ الحسنیٰ پر اضافہ کیسے ممکن ہے۔ یہ کتاب تفسیر بالرائے مزموم کے ذکر میں آتی ہے۔

2۔تفسیر الکشاف للذمخشری:۔

ابو القاسم محمودبن عمرالزمخشری اللغوی 467ھ میں زمخشر جو کہ خوارزم کی ایک بستی ہے، میں پیدا ہوئے۔

یاقوت حمویؒ نے بھی زمخشر کی بستی میں ان کی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔

سیوطیؒ اس کے متعلق فرماتے ہیں۔ جاءاللہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک مدت تک مکہ مکرمہ میں ٹھہرے۔ اُنکے اساتذہ میں ابو الخطاب بن السطر ہیں۔اورشاگردوں میں السلفی اور زینب الشعریۃ ہیں۔اعتزال کے امام اور داعی تھے۔نحوی،لغوی،المتکلم اورمفسر تھے۔اُن کی کئی تصانیف ہیں۔اُن کا انتقال 538 میں ہوا۔

ان کے متعلق ابن خلکان کہتے ہیں۔اپنے وقت کا امام تھا۔اعتزال کا اظہار کرتا تھا اور اس کا داعی تھا۔

زمخشری نے اپنی تفسیر میں معتزلی عقائد پر خوب تبصرہ کیا ہے۔لغت ،ادب،اور بلاغت پر بہترین نمونہ ہے۔حاجی خلیفہ کے مطابق اس کی تکمیل 528ھ میں ہوئی۔وہ فرماتے ہیں:۔

زمخشری کو اپنی تفسیر پر ناز تھا۔وہ خود یہ شعر دہرایا کرتے تھے:۔

إنّ التفاسير في الدنيا بلا عددٍ ** وليس فيها لعمري مثلُ (كشافي). إن كنت تبغي الهدى فالزم قراءته ** فالجهل كالداء والكشاف كالشافي

"دنیا میں بے شمار تفاسیریں ہیں۔مگر میری زندگی کی قسم کشاف جیسی کوئی نہیں۔اگر ہدایت کی طلب ہے تو اسے پڑھتے رہو،کیونکہ جہالت ایک بیماری ہے جس سے کشاف شفا دیتی ہے"

ڈاکٹر محمد حسین الذہبی فرماتے ہیں:۔

"اگر اعتزال سے صرف نظر کر لیاجائے تو "الکشاف" ایسی کتاب ہے ،جس کی طرف سبقت نہیں کی گئی۔اور زمخشری جیسا کوئی آدمی نہیں۔جو قرآن کے جمال اور اُس کے سحر بلاغت سے نقاب الٹ سکے۔اُس نے لغت عرب اور اشعار کا بھی خیال رکھا ہے۔"

محمد حسین الذہبی نے اپنی کتاب میں ابن بشکوال حیدر الہروی،ابوحیان صاحب تفسیر البحرالمحیط،ابن خلدون اور السبکی وغیرہ کے"الکشاف" کے متعلق الفاظ قلمبند کئے ہیں جن میں وہ ان کی علمی کاوشوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن ان کے نظریہ اعتزال پر تنقید کرتے ہیں۔

قاضی احمد بن محمد بن منصور المنیر المالکی ف683ھ نے "الکشاف" پرحاشیہ لکھا۔جس میں انھوں نے الکشاف میں خود معتزلی عقائد کا ردکیا۔ ان تمام باتوں کے باوجود اس کتاب کی درج ذیل خوبیان بیان کی جاسکتی ہیں:۔

1۔حشو وتطویل سے خالی ہے۔

2۔قصص واسرائیلیات میں بہت کمی ہے۔

3۔بیان معانی میں لغت عرب اور ان کے اسلوب کا خیال رکھا ہے۔

4۔اس کتاب میں علم معانی بیان اور بلاغت کے بڑے نکتے بیان کئے گئے ہیں۔

3۔تفاسیر مفاتیح الغیب للرازی:۔

مولف تفسیر ابو عبداللہ محمد بن عمر بن الحسین بن علی فخر الدین الرازیؒ 544ھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد سے تعلیم حاصل کی۔اس کے علاوہ کمال سمعانی اور مجد الجیلی سے علم حاصل کیا۔

السیوطی ؒ نے انھیں محی السنۃ النجوی کے تلامذہ میں شمار کیا ہے۔ جو کہ درست نہیں ہے۔کیونکہ محی السنہ النجوی کی وفتات 516 ھ میں ہوئی جو الرازی کی پیدائش سے بھی قبل ہوگئی تھی جیسا کہ خود سیوطی ؒ نے بھی ذکر کیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی بڑی غلطی سیوطیؒ سے کیسے ہوئی؟

یہ بڑے مشہور متکلم بھی ہیں ان کے متعلق ابن خلکانؒ فرماتے ہیں:

وله تفسير الکبير و المحصول فی اصول الفقه وشرح الاسمآء الحسنیٰ وشرح العضل لذمخشری وشرح الوجين للغزالی۔وشرح سقط الذند لابی الوليد الهري

ان کی وفات 606ھ میں ہوئی۔

ابن قنفذ المقنطینی نے ان کی وفات 616ھ لکھی ہے جو کہ درست نہیں ہے اس کی تردیدمحقق نے ان کی ا پنی کتاب سےکردی ہے۔

تفسیر مفاتیح الغیب بڑی ضخیم تفسیر ہے۔اس کتاب میں انھوں نے ربط آیات کا خیال رکھا ہے۔علم کلام کے مسائل پر تبصرہ کیا ہے۔وہ فلاسفہ کے اقوال نقل کرکے ان پر تنقید کرتے ہیں۔اس میں معتزلہ کے عقائد پر بھی بحث وتنقید کی گئی ہے۔وہ مخالفین کے اعتراضات بڑی صراحت سے بیان کرتے ہیں۔لیکن بعض اوقات جواب کافی وشافی نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کی تفسیر کے متعلق صاحب کشف الظنون فرماتے ہیں۔امام رازی ؒ نے اپنی تفسیر کوحکماء وفلاسفہ کے اقوال کا پلندہ بنا دیا ہے وہ تفسیر ہے اس قدر دو نکل گئے کہ قاری اس کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں دب جاتاہے۔

ابوحیان ؒ کہتے ہیں۔امام رازیؒ نے اپنی تفسیر میں بے شمار غیر ضروری باتوں کو یکجا کردیا ہے۔اس لئے بعض علماء نے کہاہے۔تفسیر کبیر میں تفسیر کے سوا سب کچھ ہے۔

امام راازی ؒ تفسیر کبیر کو مکمل نہ لکھ سکے۔اس کی تکمیل شہاب الدین بن خیل دمشقی(ف 639) اور نجم الدین احمد بن محمد(ف729ھ) نے کی۔

تفسیر رازی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی علوم نے کس طرح مسلمانوں کے عقائد پر اثر ڈالا۔اور مسلمانوں نے کس انداز سے اس کا جواب دیا۔انھوں نے اپنے دور کے عقلی رجحانات سے بھی خوب پردہ اٹھایا ہے۔

4۔الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:۔

ابو عبداللہ محمد بن احمد انصاری خزرجی ؒ اندلسی تھے۔آپ بڑے زاہد وعابد آدمی تھے۔آپ کے اساتذہ میں سے ابو العباس بن عمر قرطبی مولف "المفہم فی شرح مسلم" اور مشہور محدث ابو علی حسن بن محمد البکری بہت مشہور ہیں۔

آپ کی کتب میں "الجامع لاحکام القرآن" کے علاوہ شرح الاسماء الحسنیٰ" کتاب التذکار فی افضل الاذکار" اور کتاب التذکرۃ بامور الآخرۃ" شامل ہیں۔آپ کی وفات 671ھ میں ہوئی۔

قرطبی کی تفسیر چھپی ہوئی ہے۔ابن فرحونؒ اسی کتاب کے متعلق فرماتے ہیں:

"یہ بڑی نفع بخش تفسیر ہے۔اس میں قصص اور موضوعات نہیں ہیں۔مولف اسباب نزول ،اقسام قرات اوراعراب پر بحث کرتا ہے۔لغت اور اشعار عرب کو بھی پیش نظر رکھتا ہے۔وہ ناسخ ومنسوخ پر بھی تبصرہ کرتا ہے۔

قرطبی اپنی تفسیر میں صوفیاء ،معتزلہ،قدریہ،شیعہ اور فلاسفہ پر بہت تنقید کرتے ہیں۔اسرائیلی واقعات کا تذکرہ کم ہی کرتے ہیں۔ابن جریر طبریؒ اور ابن عطیہ ؒ جیسے مفسرین کے اقوال بھی نقل کرتے ہیں۔احکام سے متعلقہ آیات پر بھی تفصیل سے دلائل بیان کرتے ہیں۔

5۔انوار التنزیل واسرار التاویل المعروف تفسیر بیضاوی:"

قاضی القضاۃ ناصر الدین ابو الخیر عبداللہ بن عمر بن محمد بن علی البیضاوی الشافعیؒ ایران میں شیراز کی ایک بستی البیضاء سے تعلق رکھتے تھے۔آپ شیراز کے قاضی القضاۃ تھے۔آپ کی تصانیف میں تفسیر انوار التنزیل واسرار التاویل المعروف تفسیر بیضاوی اور مختصر الوسیط فی الفقہ المسمیٰ الغایۃ شامل ہیں۔ان کی وفات 685ھ میں ہوئی۔الاستوی نے ان کی وفات 691ھ لکھی ہے۔

تفسیر بیضاوی مطبوع ہے یہ الکشاف کا مختصر ہے لیکن اس میں الکشاف کے معتزلی نظریات کا رد ہے۔اوراہل سنت کے عقائد کا اثبات ہے۔لیکن بعض اوقات بیضاوی بھی صاحب کشاف کی پیروی میں کچھ کہہ جاتاہے۔جو عقائد اہل سنت کے خلاف ہے۔ایک تو سورتوں کے فضائل میں زمخشری کی مانند وہی موضوع احادیث بیان کردی ہیں۔ اور دوسری مثال اُس نے جن کے اثر نہ کرنے کی دی ہے۔یہ ہوبہو اس کی نقل ہے۔اس کی ان سے توقع نہ تھی۔

"صاحب کشف الظنون" اس تفسیر کے متعلق جو فرماتے ہیں۔اس کا خلاصہ یہ ہے اس تفسیر میں اعراب معانی تفسیر کشاف سے ماخوذ ہیں۔حکمت وکلام سے وابستہ معلومات تفسیر کبیر سے لی گئی ہیں۔اشتقاق سے متعلق مسائل راغب الصفہانی سے ماخوذ ہیں۔

بیضاوی نے اپنی فکر سے اختراع کی ہے۔ اس کتاب کے چالیس سے زیادہ حوائش ہیں۔جن میں مشہور ترین تین ہیں۔

1۔حاشیہ القاضی زکریا 2۔حاشیہ السیوطی

3۔حاشیہ القوجوی۔

اس کتاب کا مطالعہ قرآن مجید کو صحیح سمجھنے کے لئے بہت مفید ہے۔

6۔مدارک التنزیل وحقائق التاویل المعروف "تفسیر نسفی":۔

ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود النسفی الحنفی بہت مشہور عالم تھے۔ ان کے اساتذہ میں سے الکرومی اور احمد بن محمد العتابی بہت مشہور ہیں۔

ان کی تصانیف میں سے مدارک التنزیل وحقائق التاویل کے علاوہ متن الوافی فی الفروع الکافی ۔۔۔کنز الدقائق فی الفقہ۔المنار فی اصول الفقہ،العمدۃ فی اصول الدین بہت معروف ہیں۔

نسفی کی نسبت نسف کے شہر کی طرف ہے۔جو کہ جیحوں اور سمرقند کے درمیان واقع ہے۔ آپ کی وفات 701ھ میں ہوئی۔

یہ کتاب الکشاف للذمخشری اور انوارا التنزیل للبیضاوی کا اختصار ہے۔اور اس میں بہت سے عمدہ اضافے ہیں۔اس کتاب میں علم بلاغت کے نکتے علم قرات وجوہ اعراب اور اہل سنت کے صحیح نقطہء نظر کو پیش کیا گیا ہے اس کتاب میں فقہ کے مسائل بھی ہیں نحو کے مسائل بھی زیر بحث آتے ہیں۔اسرائیلیات کو بہت کم ذکر کیا گیا ہے۔ بلکہ بعض اوقات ان پر تنقید بھی کرتے ہیں۔مثلاً قرآن مجید کی آیت :

﴿وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمـٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُر‌سِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ ﴿٣٤﴾... سورة ص

"(ہم نے سلیمان علیہ السلام کو امتحان میں ڈالا۔ اور ان کی کرسی پر ایک جسم کو ڈال دیا۔پر انھوں نے رجوع کیا)"

یہاں ایسی روایات نقل کی گئی ہیں۔جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی عصمت کے مخالف نہیں ہیں۔پھر لکھتے ہیں۔

وأما ما يُروى من حديث الخاتم والشيطان، وعبادة الوثن في بيت آل

سليمان عليه السلام ضمن اباطيل اليهود

(حدیث خاتم اور شیطان اور سلیمان علیہ السلام کے گھر میں بت کی پوجاوغیرہ کے افسانے یہود کی اباطیل میں سے ہیں)۔

یہ طبع شدہ کتاب ہے اور بہت مفید ہے۔

7۔لباب التاویل فی معانی التنزیل المعروف "تفسیر خازن":۔

علاء الدین ابوالحسن علی بن محمدبن ابراہیم بن عمر بن خلیل الشیخی بغدادی المعروف خازن بغداد میں 678ھ میں پیدا ہوئے۔ خازن کے نام سے اس لئے مشہور ہوئے کہ دمشق کے ایک کتب خانہ کے خازن تھے۔

بغداد میں ابن الدوالیبی سے اور دمشق میں آکر القاسم بن مظفر اوروزیر بنت عمر سے شرف تلمیذ حاصل کئے۔

ان کی تصانیف لباب التاویل فی معانی التنزیل شرح عمدۃ الاحکام اور مقبول المنقول ہیں۔ان کی وفات 741ھ میں ہوئی۔

ان کی تفسیر معالم التنزیل لبغوی کا مختصر ہے۔اور اس میں انھوں نے بعض اضافے بھی کئے ہیں۔جیسا کہ خود لکھتے ہیں:

ولما كان هذا الكتاب كما وصفت أحببت أن أنتخب من غرر فوائده ... لخلاصة منقولة متضمنا لنكتة وأصوله مع فوائد نقلتها لخصتها من كتب التفاسير

"جب یہ کتاب اسی طرح جس طرح میں نے بیان کیا،میں نے پسند کیا کہ اس کے عمدہ فوائد اور نایاب موتیوں کا انتخاب کروں گا جو اس کے نکات واصول کو اپنے اندر سمولے۔اور اس کے ساتھ میں نے بھی کتب تفاسیر سے فوائد اور نایاب چیزوں کو نقل کیا ہے۔"

ان کی کتاب میں بعض اسرائیلی روایات بھی ہیں۔جن پر کوئی تنقید نہیں کرتے مثلا آیت:

﴿إِذ أَوَى الفِتيَةُ إِلَى الكَهفِ فَقالوا رَ‌بَّنا ءاتِنا مِن لَدُنكَ رَ‌حمَةً وَهَيِّئ لَنا مِن أَمرِ‌نا رَ‌شَدًا ﴿١٠﴾... سورةالكهف

"جب نوجوانوں نے غار میں پناہ پکڑ لی۔انھوں نے کہا اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت عنایت فرما اور ہمارے معاملے میں بھی راہنمائی دے) کی تشریح کرتے ہوئے عجیب واقعات نقل کئے ہیں۔جن کی صحت وسقم کا بالکل علم نہیں۔بلکہ محض اسرائیلی روایات ہیں۔اور پھر ان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

تاہم تفسیر خازن میں تاریخی واقعات ہیں۔فقہی مسائل ہیں۔اور پھر اس میں مواعظ کو مد نظر رکھا گیا ہے۔

8۔البحر المحیط لابی حیان:۔

اثر الدین ابو عبداللہ محمد بن یوسف بن علی اندلسی غرناطی المعروف ابوحیان 654ھ میں پیدا ہوئے۔

ان کے اساتذہ میں سےمشہور عبدالنصیر بن علی مربوطی ،ابو طاہر اسماعیل بن عبداللہ الملیحی اورشیخ بہاؤالدین ہیں۔خود فرماتے ہیں۔میں نے چارسو پچاس اشخصاص سے علم حاصل کیا۔

آپ عظیم شاعر اور بغوی تھے۔صرف ونحو میں یکتا روگار تھے۔تفسیر،حدیث ،تراجم،تراجم رجال میں مہارت رکھتے تھے۔آپ کی تصانیف میں سے البحر المیحط تفسیر کے علاوہ غریب القرآن ،شرح التسہیل،نہایۃ الاعراب،اور خلاصۃ البیان شامل ہیں۔آپ ا صلی لغت کے عالم تھے۔آپ کی وفات 745۔میں ہوئی۔

ان کی تفسیر کا قرآن میں بڑا مقام ہے۔مولف مفردات کے معانی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔اورصرف ونحو کے علمی نکات پر بڑی بحثیں کرتے ہیں۔اسباب نزول ،ناسخ ومنسوخ اورمختلف قراءتوں کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔قرآن کے بلاغی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرتے۔فقہی مسائل سے بھی اعراض نہیں کرتے۔اورائمہ سلف کے مذہب کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں۔

ا س کتاب کا اختصار ابوحیان کے شاگرد تاج الدین احمد بن عبدالقادر (ف 745ھ) نے لکھا۔ معتزلہ کے رد میں بھی بہت سے مسائل ہیں۔زمخشری پر بڑی تنقید کی گئی ہے۔بلکہ بعض اوقات اعتزال کا بہت مذاق اڑاتے ہیں۔

9.غرائب القرآن ورغائب الفرقان للنیشاپوری:۔

نظام الدین الحسن بن محمد بن الحسین القمی الخراسانی نیشا پوری المعروف "النظام الاعرج" نیشا پور کے شہر "قم" میں پیدا ہوئے۔

عربی زبان علوم عقیلہ ادب وانشاء اور علم تفسیر وتاویل میں عظیم مرتبہ کے حامل تھے۔ عابد وزاہد تھے۔تصوف سے خاص شغف تھا۔ان کی تصانیف درج ذیل ہیں:

شرح الشافی لابن حاجب،شرح تذکرہ خواجہ نصر الدین طوسی (علم ہیت میں سے) رسائل فی الحساب کتاب اوقاف القرآن ،لب التاویل اور غرائب القرآن وغائب الفرقان۔

ان کی وفات کا صحیح علم نہیں۔بعض نے تفسیر کا اختتام 850ھ میں بنایا ہے۔اسی لحاظ سے نویں صدی کے عالم ہیں۔بعض نے وفات 728 ھ لکھی ہے۔

اس تفسیر میں مختلف فرقوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ربط آیات بیان کرتے ہیں۔یہ ربط انھوں نے تفسیر کبیر سے لیا ہے۔پھر بڑے اچھوتے انداز میں معانی ومطالب بیان کرتے ہیں۔فقہی مسائل پر بھی بحث کرتے ہیں۔علم کلام کے مسائل کو بھی مد نظر رکھتے ہیں۔ اور مخالفین کے دلائل کی تردید کرتے ہیں۔ان کی تفسیر میں تصوف کا عنصر بھی ہے۔ اُن کی طرف شیعہ ہونے کی نسبت درست معلوم نہیں ہوتی۔کیونکہ مذہب شیعہ کی تردید کرتے ہیں۔تفسیر کی علمی قیمت بہت زیادہ ہے۔

10۔تفسیر الجلالین المحلی والسیوطی:۔

جلال الدین سیوطیؒ پر تفسیر الدر المنشور کے ذکر سے کلام ہوتا ہے جلال الدین محمد بن احمد ابن محمد بن ابراہیم المحلی الشافعی 791ھ میں مصر میں پیدا ہوئے۔

آپ نے بدر محمود احقرائی ۔برہان بیجوری شمس اورعلاء البخاری سے علم حاصل کیا۔ علم ومعقول میں مہارت تامہ حاصل تھی۔ان کی تصانیف میں سے شرح جمع الجوامع فی الاصول شرح المنہاج فی فقہ الشافعیہ شرح الورقات فی الاصول اور تفسیر جلالین مشہور ہیں۔

آپ کی و فات 864ھ میں ہوئی۔

اس تفسیر میں دو مشہور امام جلال الدین محؒلی اور جلال الدین السیوطیؒ شامل ہیں۔المحلی نے الکہف سے والناس تک تفسیر لکھی۔اور پھر الفاتحہ سے شروع ہوئی۔ان کا خیال پھر ادھر سے سورۃ الاسراء تک لکھنے کا تھا۔لیکن فرشتہ اجل کو لبیک کردیا۔پھر سورۃ البقرہ سے اسراء تک السیوطی نے لکھی۔اس طرح یہ تفسیر مکمل ہوگئی۔

یہ تفسیر نہایت جامع اور مختصر ہے۔دونوں اماموں نے بہت اچھی کوشش کی ہ ۔اس کتاب پرمختصر حاشیے لکھے گئے ہیں۔جن میں حاشیہ الجمل اورحاشیہ الصاوی بہت مشہور ہیں۔ایک حاشیہ"قبس التہرینی"شمس الدین محمد بن العلقمی نے 952ھ میں لکھا ہے ۔اور ایک مجالس حاشیہ ہے۔جسے نور الدین علی بن سلطان محمد القادری نے (ف1010ھ) میں لکھا ہے۔

11۔السراج المنیر للخطیب شربینی:۔

شمس الدین محمد بن محمد الشر بینی الشافعیؒ الخطیب قاہرہ کے ساکن تھے۔ انھوں نے شیخ احمد ابرلسی،النور المحلی البدر المشہدی اور الشہاب الرملی سے کسب فیض کیا۔

آپ بہت متقی اور شب زندہ دار آدمی تھے۔آپ کی تصانیف میں سے "شرح لمنہاج" شرح کتاب البینہ اور السراج المنیر نی الاعانۃ علی معرفۃ بعض معانی کلام ربنا الحکیم الخبیر"بہت مشہور ہیں۔آپ نے 977ء میں وفات ہوئی۔

یہ تفسیر نہایت آسان فہم اور درمیانہ درجہ کی ہے۔یعنی نہ طویل اور نہ ہی بالکل مختصر۔انھوں نے اپنی تفسیر میں صحیح اور حسن احادیث کو ذکر کیا ہے۔انھوں نے ابن جریر الطبری ،زمخشری اوربیضاوی کی روایت کردہ بعض ضعیف حدیثوں کو ہد تنقید بنایا ہے۔

مولف تفسیری نکات بیان کرتے ہیں۔بعض فقہی مسائل پر بطورضرورت تبصرہ فرماتے ہیں۔بعض اوقات اسرائیلی روایات بھی بغیر تبصرہ کے نقل فرمادیتے ہیں۔مولف نے تفسیر رازی سے بہت زیادہ حاصل کیا۔

نیز یہ کتاب مطبوع ہے۔اور اہل علم کے پاس موجود ہے اور قدیم تفسیروں کو اچھے انداز سے جمع کیا گیا ہے۔

12۔ارشاد العقل السلیم الیٰ ضرایا الکتاب الکریم لابی السعود:۔

ابو السعود محمد بن محمد مصطفے العمادی الحنفی قسطنطنیہ کے قریب ایک گاؤں میں 893ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کا گھرانا علمی تھا۔والد صاحب اوردیگر اکابر سے کسب فیض کیا۔952ھ میں مسند افتاء پر متمکن ہوئے اور 982ھ میں قسطنطنیہ میں وفات پائی۔

اس تفسیر میں بلاغت کے نقطے بیان کئے گئے ہیں جو پہلے کسی نے نہ بیان کئے تھے۔مولانا عبدالحئی لکھنوی نے اس سے استفادہ کیا۔مولف کتاب الکشاف اور بیضاوی کا بہت ذکر کرتا ہے۔ان دونوں تفسیروں کے مطالعہ کا اس نے ذکر بھی کیا ہے۔

انھوں نے اہل سنت طریقے کے مطابق تفسیر لکھی۔اعتزال سے الگ رہے لیکن الکشاف اوربیضاوی کی وضعی روایات کو فضائل السور میں بیان کرتے ہیں۔جو کہ بالاتفاق موضوع ہیں۔مولف قرائت کا خیال رکھتاہے۔اسرائیلی روایات کم بیان کرتا ہے۔بعض اوقات کلبی جیسی کذاب راویوں کی روایات کو بھی تفسیر میں جگہ دیتا ہے فقہی مسائل بھی تفسیر میں کم ہیں۔ یہ کتاب طبع شدہ ہے۔

13۔روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی لآلوسی:۔

ابو الثناء شہاب الدین محمود آفندی آ لوسی البغدادی ؒبغداد کے محلہ کرنے میں 1217ھ کو پیدا ہوئے۔ تعلیمی سلسلے میں ا پنے والد محترم،الشیخ خالہ النقشبندی اور الشیخ علی السریری سے منسلک رہے۔

علم کا بڑا شوق تھا،اکثر یہ شعر پڑھتے تھے۔

سهري لتنقيح العلوم ألذ لي ............من وصل غانية وطيب عناق

"علم کی نوک پلک سنوارنے کے لئے میری بیداری مجھے خوبصورت معطر گانے والیوں کی ملاقات سے لذیز تر ہے۔"

شافعی المسلک تھے۔بعض مسائل میں حنفی فقہ کی طرف رجحان رکھتے۔آخری عمر میں اجتہاد کی طرف میلان ہوگیا۔اُن کی کئی تصانیف میں سے یہ مشہور ہیں:۔

روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی ،حاشیہ علی القطر ،شرح المسلم فی المنطق الاجوبۃ العرافیہ عن الاسئلۃ الدہوریۃ۔

آپ کی وفات 1270ھ میں ہوئی۔

یہ تفسیر تمام قدیم تفسیروں سے استفادہ کرکے لکھی گئی ہے۔اس تفسیر میں تفسیر ابن عطیہ ،تفسیر ابن حیان تفسیر الکشاف ،تفسیر ابی السعود،تفسیر البیضاوی اور تفسیر الرازی سے نقل کر تے ہیں۔

یہ تفسیر اہل سنت کے مذہب کی ترجما ن ہے۔اور معتزلی کی تردید ہے۔اس میں اصل حکمت اور اصل حیثیت کا بھی کلام ہے۔نحوی مسائل بھی ہیں۔فقہی مسائل پر بھی تبصرہ ہے۔وہ اسرائیل روایات اور موضوع روایات پر سخت تنقید کرتاہے قرات کا بھی ذکر کرتا ہے اوراسباب نزول بھی بیان کرتا ہے۔

بعض اوقات باطنی معانی صوفیاء والے بیان کرتے ہیں جو کہ دور ازاکابر نہیں۔ یہ دونوں مکتب فکر کی تفاسیر کا اختصار سے ذکر کرتا ہے۔
حوالہ جات

1۔مناع القطان مباحث فی علوم القرآن ص347 موسۃ الرسالہ بیروت الطبعۃ 1403 وغیرہ۔

2۔قرآن مجید سورۃ البقرہ ،37۔

3۔قرآن مجید ،سورۃ الاعراف،23۔

4۔قرآن مجید سورۃ الدخان۔3۔

5۔ایضاً،سورۃ القدر 1۔

6۔احمد بن حنبل ؒ مسند ج 2ص 186۔المطیعۃ المیمنۃ مصر 1313ہجری۔

7۔بخاری محمد بن اسماعیل ،الجامع الصحیح ،مع شرح فتح الباری،ج8 ص4،513۔تفسیر سورۃ لقمان طباعۃ الریاض۔

8۔ایضاً ص291۔تفسیر سورۃ الانعام۔

9۔قرآن مجید سورۃ الانعام۔

10۔قرآن مجید سورہ لقمان۔13۔بخاری محمد بن اسماعیل بخاری۔الجامع مع فتح الباری ،ج8 ص513۔

11۔الصابونی محمد علی التبیان فی علوم القرآن ص66 مکتبۃ الغزالی دمشق ۔موسہ مناہل العرفان۔بیروت الطبعۃ الثانیۃ 1401ء 1981ء۔

12۔عبدالعزیز ،تفسیر ابن عباس ،ج2ص 817،جامعۃ ام القریٰ،مکۃ المکرمہ۔

13۔محمداحمد عیسوی تفسیر ابن مسعود ج2ص 486 شرکۃ الطباعۃ السعودیۃ الریاض،الطبقہ الاولیٰ 1985ء۔

14۔مناع ،مباحث فی علوم القرآن ،ص 359۔ندوی،مطالعہ قرآن ،ص284(آٹھ کا ذکر ہے)۔الصابونی ،التبیان فی علوم القرآن ،ص185(آٹھ کا ذکرہے)

15۔الکتانی محمد بن جعفر ،الرسالۃ المستطرفہ،ص41،دارالفکر ،دمشق،الطبعۃ الثانیہ 1964۔

16۔الدکتور محمد بن حسن بن احمد،الامام الشوکانی مفسرا ،ص 109،دارالشروق جدۃ،الطبعۃ الاولے 1981ء۔

17۔ایضاً

18۔ایضاً

19۔الصابونی التبیان ،ص185۔

20۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ،ص 227۔احمدون ڈنفر علوم القرآن (انگریزی) ص 137۔اسلامک فاونڈیشن سنٹر برطانیہ 1983ء۔

21۔محمد حسن الامام الشوکانی مفسراً ۔ص 346۔

22۔ایضاً ص118۔

23۔احمدون ڈنفر،علوم القرآن ،138۔

24۔ایضاً

25۔محمد حسن الامام الشوکانی مفسرا ص346۔

26۔الصابونی التبیان ص185۔

27۔محمدحسن الامام الشوکانی مفسرا ص350۔

28۔ابن حجر العسقلانی احمد فتح الباری ج11،ص90 الریاض ابن الاثیر ابوالحسن علی بن ابی بکر۔اسد الغابہ فی معرفۃ۔۔۔ج3س 193 المکتبۃ الاسلامیہ مصر ابن عبدالبر ابو عمر یوسف الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب ج2 ص443۔دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدر آباد 1336ھ۔

29۔ابن کثیر عماد الدین ابو الفدا اسماعیل بن عمر بن کثیر البدایۃ والنہایۃ ج8 ص295 مطبعۃ السعادۃ مصر۔

30۔مسند احمد حنبل۔المسند ج1ص 314۔328۔345۔عبدالعزیز تفسیر ابن عباس ج1 ص11۔

31۔احمد بن حنبل مسند ج1ص314۔328۔335۔

32۔محمد اسماعیل بخاری۔بخاری الجامع الصحیح ج 1ص 17۔کتاب العلم باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم (اللهم علمه الكتاب) نور محمد اصح المطابع کراچی،الطبیعۃ الثانیۃ۔1961ء۔الذہبی احمد بن عثمان،تذکرۃ الحفاظ ج1 ص40 احیاء التراث العربی مصر(اللهم علمه تاويل القرأن کے الفاظ ہیں۔)

33۔اگناز گولڈذہیر مذاہب التفسیر السلامی ترجمہ (عبدالحکیم غار) ص86۔مکتبۃ الخانجی مصر۔مکتبۃ المثنی بغداد۔1955ء۔اس مقام پر اس بدباطن یہودی متشرق نے اپنے خبث باطن کو بڑے عجیب انداز سے ظاہر کیا ہے۔ابن سعد اورکتاب الآغانی کی موضوع روایات کو بیان کیا ہے۔جبکہ ثقہ روایت کی نقل نہیں کی۔مستشرقین کا یہ انداز ہے کہ وہ اسلام پر اس انداز سے حملہ آور ہوتے ہیں۔یہ بہت خطرناک دشمن اسلام تھا۔اس نے آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے متعلق بہت ہرزہ سرائی کی ہے۔

34۔احمد امین مخبر السلام ص201۔الفصل الاول۔القرآن والتفسیر۔دارالکتب العربی بیروت الطبعۃ الثانیہ 1969ء۔

35۔محمد حسین الذہبیِ،التفسیر والمفسرون ج1ص72،73۔

36۔البخاری۔محمد بن اسماعیل الجامع الصحیح ج1 ص369۔(کتاب الشھادات باب لایسال اھل الشرک) ج3 ص 109 کتاب الاعتصام باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لاتسند اہل الکتاب۔

37۔مناع القطان مباحث فی علوم القرآن ص260۔

38۔الذہبی ،احمد بن عثمان،تذکرۃ الحفاظ ج1ص40۔

39۔السیوطی عبدالرحمٰن ،الارتقان ج1ص 120۔123۔جلد 2 المطبعۃ الازہریہ المطبعۃ الثانیہ 1925م۔نور الدین علی بن ابی بکر الہثیمی مجمع الزوائد ج6 ص366،313،موسۃ المعارف بیروت 1986م۔

40۔(عبدالعزیز) تفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مقدمہ) س 21 (چاروں باتیں)

41۔مناع القطان مباحث فی علوم القرآن ص361۔362۔

42۔الذہبی تذکرۃ الحفاظ ج2ص 710۔

43۔ایضاً ص711۔

44۔ایضاً ص 715۔محمد بن عبدالمنطم الحمیری الروض المعطار فی خبر الاقطاار ص 386 ت احسان عباس مکتبۃ البنان الطبعۃ الثانیہ 1984م۔

45۔یاقوت بالعموی معجم الادبار۔ج6 ص424۔تحقیق مرمبہوت مطبعۃ ہندیہ مصر الطبعۃ الثانیہ 1984ء الذہبی تذکرۃ ج2712ص۔

46۔السیوطی۔الاتقان ج2 ص190۔

47۔الصابونی التبیان فی علوم القرآن ص186 (تمام خصوصیات)

48۔داودی طبقات المفسرین ص327۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ج1 ص224۔225۔غلام احمد حریری تاریخ التفسیر والمفسرون ص206۔207۔

49۔حاجی خلیفہ معاطیٰ ابن عبداللہ کشف الظنون ج1 ص 441،مکتبۃ المثنیٰ بیروت 1380ھ۔

50۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1ص 225۔226۔

51۔محمد عبدالعظیم الزرقانی ،مناہل الفرقان فی علوم القرآن ج1 ص 497 ۔دارالاحیاء للکتب العربیہ القاہرہ الطبعۃ الثانیہ 1372ہجری۔

52۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ج1 ص 327۔

53۔ابن خلکان ابو العباس احمد بن محمد،وفیات الاعیان ،ج1 ص79۔دراصادر،بیروت 1978م۔(8جلد)

54۔یاقوت حموی،معجم الادبارء ج5 ص37 مکتبہ عیسی البابی البخلی مصر۔

55۔ابن الاثیر عز الدین ابو الحسن علی بن محمد الباب فی تہذیب بج1 س194۔مکتبۃ القدسی القاہرہ۔1357ھ۔

56۔معجم الادباء ج5۔س36۔38۔ابو الفلاح عبدالئی بن العماد۔شذرات الذہب فی جزمن ذہب۔ج3 ص230،231۔دار الافاق جدیدہ بیروت،

57۔ محمد حسین الذہبی التفسیر المفسرون ج1 ص 229۔الصابونی التبیان فی علوم القرآن ج1 ص187۔

58۔ابن الاثیر اللباب ج1 ص194۔

59۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1ص 228۔239۔

60۔معجم الادباء ج5 ذص37۔

61۔ ابن تیمیہؒ احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام مقدمہ فی اصول التفسیر ص22۔المکتبۃ العلمیۃ لاہور۔1388ہجری۔

62۔ ابن العماد ابو الفلاح عبدالحئی ۔شذرات الذہب فی اخبار من الذہب ج4 ص48۔49۔المکتبۃ القدسی القاہرہ۔1355ھ۔عبدالعزیز محدث بستان المحدثین ص136۔ایچ۔ایم ۔کمنپی کراچی۔الطبعۃ الاولیٰ۔1976ھ۔

63۔الحسینی ابوبکر بن ہدایۃ اللہ طبقات ابن فقیہ ص201۔دارالفکرالجدیہ۔انسائیکلو پیڈیا آف اسلام ج1ص 893۔لیڈن لندن جدید ایڈیشن 1960ء۔

64۔ابن خلکان ۔ابو العباس شمس الدین احمد بن محمود۔وفیات الاعیان ونباء الزمان ج2 ص136۔

65۔الحموی شہاب الدین ابو عبداللہ یاقوت بن عبداللہ معجم البلدان،ج1 ص 136۔(5جلد9 دار صادر بیروت۔1956م۔

66۔الذہبی تزکرۃ ج4۔ص53۔ابن العماد مشتدرات ج4 س48۔دارالاوقات الجدیدۃ بیروت۔ابن کثیر،ابو الفداء اسماعیل البدایۃ والنہایۃ ج12،ص 193،مکتبۃ المعارف بیروت ،1977 الصفدی صلاح الدین خلیل بن ایبک ۔الوافی بالوفیات ج13 ص63،مرکز الطباعۃ الحدیثیۃ بیروت۔1984۔

67۔ابن کثیر۔البدایۃ والنہایۃ ج4 ص245۔ابن خلکان وفیات ج2 ص136۔السبکی ابو نصر تاج الدین بن عبدالوہاب بن تقی الدین الطبقات الشافعیہ ،ج4 ص214۔القاہرہ 1906۔

68۔ابن خلکان ۔وفیات الاعیان ج2 ص136۔

69۔عبدالعزیز بستان المحدثین ص136۔

70۔الذہبی تذکرہ ج4 ص52۔

71۔ ابن نقطعہ ابو بکر محمد بن عبدالغنی،کتاب التقید المعرفۃ روایۃ السنن والمسانید ج1 ص 305۔306۔157۔158۔دائرۃ المعارف عثمانیہ حیدر آباد الطبعۃ الاولیٰ۔1983ء۔

72۔محمود بن احمد بن محمد الفارسی۔اسماء الرجال المصابیح ص23۔(مخطوط سعودی عرب)

73۔الذہبی تزکرۃ ج4 ص52۔السبکی والطبقات الشافعیۃ ج4 ص101۔215۔

74۔حاجی خلیفہ مصطفےٰ بن عبداللہ کشف الظنون ج2 ص1726۔مکتبۃ المثنیٰ ۔بیروت 1941ء۔

75۔مطبوعۃ القاہرہ (معالم التنزیل شائع ہوچکی ہے) دو دفعہ شائع ہوچکی ہے۔

76۔موسۃ الرسالۃ بیروت ،1983۔(16جلدوں میں شائع ہوچکی ہے)

77۔ابن کثیر ۔البدایۃ والنہایۃ ج12 س193۔(مخطوط ہے)

78۔ابن تیمیہؒ مقدمہ فی اصول تفسیر ص22۔

79۔حاجی خلیفہ۔کشف الظنون ج2ص 285۔حریری تاریخ وتفسیر و المفسرون ص215۔

80۔البغوی حسین بن مسعود معالم التنزیل ج1ص 604(تیرہ مکمل) دارالفکر القاہرہ 1979ء۔

81۔ایضاً ص8۔15۔

82۔الخازن علاء الدین علی بن محمد تفسیر الخازن۔المسمی الباب التاویل فی معانی التنزیل ج1 س3 دارالفکر القاہرہ 1979ء۔

83۔البغوی معالم التنزیل ج3 ص273،275،ج6 س56،58،(دونوں اسرائیلی روایات کی مثالیں)۔

84۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ج1 ص238۔

85۔ایضاً ص239۔

86۔ایضاً

87۔ابوحیان اثر الدین ابو عبداللہ محمد بن یوسف البحرالمحیط،ج1ص79 مکتبہ النصر الحدیثیۃ الریاض۔

88۔ابن خلدون عبدالرحمٰن(مقدمہ) ص 440 موسسۃ الاعلیٰ بیروت۔

89۔ابو حیان،البرالمحیط ج1 ص10۔

90۔ابن تیمیہؒ الفتاویٰ ج13 ص 361۔الریاض۔

91۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1 ص240۔

92۔ایضاً،ص242۔

93۔ایضاً

94۔ایضاً

95۔الداودی۔طبقات المفسرین ص327۔بحوالہ محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون 242۔

96۔ابن حجر ؒ الدر الکامنۃ ج1ص337۔

97۔محمد حسین الذہبی ج1ص 244۔

98۔ابو الفداء اسماعیل ابن کثیر تفسیر القرآن العظیم (1) سہیل اکیڈمی لاہور (216)

99۔الکتانی محمد بن جعفر الرسالۃ المستطرفہ ص 195۔دارالفکر دمشق الطبعۃ الثانیہ 1964۔

100۔احمدون ڈنفر علوم القران ص138۔اسلامک فاونڈیشن برطانیہ۔(گولڈ زہیر کی کتاب۔مذاہب التفسیر السلامی میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں ہے۔بلکہ ابن کثیر کو صرف ایک جگہ بطور مورخ ذکر کیا ہے۔مذاہب التفسیر ص102۔القاہر۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستشرقین کے سر سبز گل کی علمی حیثیت کیا ہے۔

101۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ج1ص 227۔

102۔ السخاوی محمد بن عبدالرحمٰن ۔الضور اللامع لاہل القرآن التاسع ج4 ص152۔مکتبہ الحیات بیروت۔

103۔ غلام احمد حریری تاریخ التفسیر والمفسروان۔ص226۔

104۔ محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ج1 ص250۔

105۔ ایضاً۔ج1 ص248۔250۔

106۔الثعالبی الجواہر الحسان،جص159۔بحوالہ محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ص251۔

107۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1 ص251

108۔ایضاً

109۔حریری ص229۔

110۔محمد حسین الذہبی ج1ص 252۔

111۔طبع مطبعۃ الازہر مصر،الطبعۃ الثانیہ 1343ہجری۔

112۔السیوطی طبقات المفسرین ص12،(مقدمہ محقق) علی محمد عمرمکتبہ القاہرہ 1976ء۔

113۔محمد حسین الذہبی ۔التفسیر والمفسرون ص252۔

114۔الکتانی محمد بن جعفر الرسالۃ المستطرفہ۔ص195۔

115۔السیوطی۔الاتقان فی علوم القرآن ج2 ص183۔

116۔السیوطی۔الدرالمنشورج1ص2۔بحوالہ محمدحسین الذہبی،ج1ص252۔253۔

117۔السیوطی،الاتقان،ج2ص190۔

118۔محمد بن علی الشوکانی البدر۔الطالع جلد 2 ص 210۔مطبعۃ السعادۃ مصر 1348ہجری۔

119۔البدر الطالع ،ج،1ص53۔

120۔عمررجا معجم المولفین ج22ص 53۔مطبعۃ الشرقی۔دمشق 1940م۔

121۔الشوکانی الدواء العاجل ص65،بحوالہ شوکانی مفسراً ص63۔

122۔محمد حسین بن احمد۔الامام الشوکانی مفسراً ص82،98۔

123۔الکتانی ۔الرسالۃالسمتطرفۃ۔ص152۔

124۔الشوکانی فتح القدیر،ج2،ص211۔دارالفکر بیروت،لبنان 1984ء۔

125۔الشوکانی مفسراً۔ص107۔112۔

126۔المصدر السابق ص324۔326۔

127۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1 ص255۔

128۔مناع القطان،مباحث فی علوم القرآن ،ص351۔

129۔استاد عبدالعظیم المعانی۔احمد المنذور ،احکام من القرآن والسنۃ ص13۔

130۔احمدون ڈنفر،علوم القرآن (انگلش)ص 132۔

131۔البقوی حسین بن مسعود معالم التزیل ج1ص 13۔

132۔ایضاً

133۔محمد حنیف ندوی مطالعہ قرآن ص284۔

134۔احمد ابن تیمیہ۔مقدمہ فی اصول التفسیر ص39۔

135۔مناع القطان مباحث فی علوم القرآن ص 363۔366۔

136۔ابن الاثیر عز الدین ابو الحسن علی بن محمد ف 630۔اللباب فی تہذیب الانساب ،ج1ص206۔

137۔السیوطی طبقات المفسرین س59۔60۔

138۔میاں منظور احمد تاریخ تفسیر واصول تفسیر ص 22 علمی کتب خانہ لاہور۔

139۔حریری تاریخ التفسیر والمفسرین ص 281 ( اس کتاب کو مناع القطا ن نےذکر کیا ہے)۔

140۔حریری تاریخ التفسیر والمفسرین ص292۔(اس کو مناع القطان نے ذکر نہیں کیا)۔

141۔السیوطی طبقات المفسرین ص10۔59۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ج1ص 391۔

142۔تفسیر قاضی ص159۔بحوالہ محمد حسین الذہبی ج1 ص392۔403۔

143۔ابن الاثیر اللباب فی تہذیب۔ج1 ص502۔507۔

144۔یاقوت حموی شہاب الدین ابو عبداللہ یاقوت بن عبداللہ معجم البلدان ج3 ص147۔دار صادر بیروت۔1986ء۔

145۔السیوطی طبقات المفسرین ص120۔121۔

146۔ابن خلکان وفیات الاعیان 170۔ 175دارصادر بیروت 1977ء۔

147۔حاجی خلیفہ کشف الظنون ،2،1476ھ۔

148۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون 1ص 433۔

149۔ایضاً ص435،440۔

150۔ایضاً ص468۔

151۔محمد عبدالعظیم الزرقانی ،مناہل العرفان فی علوم القرآن ،ج1ص53۔داراحیاء الکتب العربیۃ القاہرہ۔البطعۃ الثانیہ 1372ھ۔

152۔السیوطی طبقات المفسرین 115۔ابن خلکان وفیات 4ص252۔ابن العماد شذرات الذہب۔

153۔محمد حسین الذہبی طبقات المفسرین ج1 ص290۔

154۔السیوطی طبقات المفسرین ص115۔

155۔ایضاً ص 50۔

156۔ابن خلکان،4،249۔

157۔ایضاً 4،202۔

158۔ابن قنفذ،ابر العباس احمد ین الحسن،الوفیات ،308ت۔

159۔حریری،ص237۔

160۔حاجی خلیفہ کشف الظون 2،1756۔

161۔ایضاً۔

162۔ایضاً۔

163۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج2 ص457۔ایضاً السیوطی۔طبقات المفسرین ص92۔

164۔ابن فرحون ۔دہیاج المذہب فی معرفۃ الاعیان علماء الذہب ص3972۔مکتبۃ السعادۃ مصر۔1329ھ۔

165۔ایضاً 317۔

166۔حریری تاریخ التفسیر والمفسرین ص614۔615۔

167۔جمال الدین عبدالرحیم الآستوی الطبقات الشافعیۃ ج1ص 283 مطبعۃ الارشاد بغداد۔الطبعۃ الاولیٰ 1390ھ۔

168۔محمد حسین الذہبی ج1ص 297۔298۔

169۔حاجی خلیفہ کشف الظنون ج1ص187۔

170۔ایضاً۔

171۔محمد حسین الذہبی ج1 ص304۔

172۔ایضاً۔

173۔ایضاً۔

174۔یاقوت الحموی شہاب الدین ابو عبداللہ معجم البلدان ،ج5 ص285۔دار صادر بیروت۔

175۔الدررالکا منز فی اعیان الماۃ الثامنۃ ج2 ص247۔محمد عبدالحئی الفوائد البہیۃ فی تراجم الحنفیۃ ص103۔نور محمد الکتب کراچی 1393ھ۔

176۔محمد حسین الذہبی ج1 ص 305۔309۔

177۔ابوالبرکات عبداللہ بن احمد بن محمود النسفی ،مدارک التنزیل ج2 ص42 دار احیاء الکتب العربیۃ مصر۔

178۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1 ص310۔

179۔ایضاً

180۔ایضاً

181۔ایضاً۔

182۔الخازن علاؤالدین علی بن محمد ،لباب التاویل فی معانی التاویل ج1 ص 3 دارالفکر القاھرہ 1979م۔

183۔الخازن لباب التاویل ج4 ص 197۔204۔

184۔محمد حسین الذہبی۔التفسیر والمفسرون ج1 ص314۔316۔

185۔محمد حسین الذہبی ج1 ص307۔

186۔ایضاً۔۔۔۔۔حریری ص379۔

187۔محمد حسین الذہبی،التفسیر والمفسرون ج1ص 317۔318۔حریری ص 279۔280۔

188۔حریری ص 280۔281۔

189۔محمد حسین الذہبی ج1 ص 320۔

190۔ایضاً ص321۔

191۔محمدحسین الذہبی ج1ص 331۔ حریری ص282۔

192۔ محمدحسین الذہبی ج1ص 33۔322 حریری ص282۔

193۔ محمدحسین الذہبی ج1ص 322۔حاجی خلیفہ کشف الظنون ج2 ص 21۔1(شرح شافیہ) ج1 ۔391۔(تذکرۃ طوسی) ج2۔1190ھ۔

194۔کشف الظنون 2،1190۔محمد حسین الذہبی 1۔322۔

195۔حریری ص287۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1 ص 322۔328۔

196۔محمد حسین الذہبی التفسیر والمفسرون ج1 ص 333۔

197۔ایضاً۔

198۔ایضاً۔334۔

199۔ایضاً۔

200۔ایضاً۔ص 337۔

201۔ایضاً ص 338۔

202۔حریری ص 292۔

203۔شذرات الذہب، محمد حسین الذہبی۔ج1ص 339۔

204۔السراج المنیر ج1ص 265۔بحوالہ محمد حسین الذہبی ج1ص 341۔

205۔حریری ص 292 ،296،محمد حسین الذہبی ج1 ص 341،345،

206۔محمد حسین الذہبی ج1ص 345۔346۔حریری ،296،

207۔تفسیر ابی سعود محمد بن محمد العمادی۔المحلی ارشاد العقل الیٰ مزایا القرآن الکریم مطبعۃ محمد علی واولادہ مصر ج1 ص403۔(مقدمہ)

208۔محمد حسین الذہبی ج1ص 349۔352۔حریری ص 298۔299۔

209۔محمد حسین الذہبی ج1ص 352۔

210۔ایضاً

211۔ایضاً ص 353۔

212۔حریری ص 300۔301۔

213۔محمد حسین الذہبی ج1ص 352۔

214۔ایضاً ص 352۔360۔