میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا برپا کردہ اسلامی انقلاب تاریخ میں منفرد حیثیت رکھتاہے۔عظیم کامیابی،ہمہ پہلو اصلاحات اور قلیل مدت میں سارے مراحل انقلاب کا طے ہو جانا بلاشبہ معجزانہ کامیابی ہے،اسلامی انقلاب کی اس حیرت انگیز کامیابی میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ کردار کے ساتھ ایک دوسرا زبردست ہتھیار بھی شامل تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کا کلام تھا۔قرآن پاک جو پے در پے اور موج در موج حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہورہا تھا۔اس کلام کے سامنے بڑے بڑے زبان آورخطیبوں ،شاعروں،ادیبوں،شعلہ بیان مقرروں اور زبان آوروں کی زبانیں گنگ تھیں۔وہ جلیل وجمیل عظیم وکبیر،فصیح وبلیغ دورآور اور زوردار ہولناک وہیبت ناک ،دہشت ناک ومرعوب کن ،گرفت کرنے والا اور دبادینے والا ۔عاجز کردینے والا۔اور سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کر دینے والا ،وراء الوراء ہیبت کاحامل غیر انسانی الٰہی کلام تھا۔قرآن ایک معجزہ جس کا کسی کے پاس کوئی توڑ نہ تھا۔جو سیلاب کی طرح یلغار کرتا،برق کی طرح کڑکتا،بارش کی طرح برستا،بادل کی طرح چڑھتا،بجلی کی طرح کوندتا،دریا کی طرح لہریں مارتا،طوفان کی طرح امڈتا، اور پھولوں کی طرح مہکتا تھا،یہ دعوت اسلامی کا ناقابل تسخیر انقلاب آفرین ہتھیار قرآن تھا۔

تنہایہ قرآن ہی کافروں کی ساری یلغاروں پر بھاری تھا۔اس کا کوئی توڑ نہ تھا۔اس کاکوئی جوڑ نہ تھا۔اس کا مقابلہ کسی کے بس میں نہ تھا۔یہ بے پناہ توانائی کا حامل ہتھیار تھا۔جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔اس کی کوئی بات بھی ایسی نہ تھی جس پر گرفت کی جاسکے اور جس کی تردید ہوسکے۔اور جس سے پہلو تہی کی جاسکے۔یہ زبانوں کو گنگ کردینے و الا،عقلوں کو دنگ کردینے والا اور چہروں کو فق کردینے والا کلام تھا۔یہ بار باراپنے مخاطبین اور مفکرین کو چیلنج کرتاتھا۔اور اس کے چیلنج کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی کے باوجود اس کے ذریعے عظیم لشکروں والے تھے۔بے بسی کے باوجود اس کے ساتھ بہت زور آور تھے۔بےسہارا ہونے کے باوجود اس کے ذریعے زبردست تائید اور حمایت کے حامل تھے۔اس کی حمایت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی حمایت فراہم کردی تھی۔ جس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کسی حمایت کی محتاجی نہ تھی۔

آج تک دنیا میں کسی نے اتنا بڑا دعویٰ نہیں کیا جتنا بڑا دعویٰ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ اللعالمین ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف ہادی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔اپنے اس عظیم دعوے کے ثبوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کتاب پیش کردی ۔اور اس کتاب نے ساری دنیا کو چیلنج کردیا اس کتاب کے سامنے آج تک کسی کو بولنے کی جرائت نہ ہوئی۔

قرآن کی یہ خصوصیت حیران کن ہے۔کہ اس میں بیک وقت علوم عقلی اور علوم روحانی اور اخروی دونوں پرزور دریاؤں کی طرح پہلو بہ پہلو جوش مارتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔اس میں سمندر کی سی گہرائی اور عمق ہے۔اس میں سمندر کے موتیوں کی سی نفع رسانی اور آب و تاب ہے،اس میں شکوک وشبہات کو بہا جانے والی روانی اورقوت ہے۔اس میں بے تکان مسلسل پڑھتے چلے جانے کی رعنائی ،خوبی اور لذت ہے۔اس عظیم اور بھاری بھرکم کتاب میں حفظ ہوجانے اور دل وماغ میں اتر جانے کی خوبی ہے۔اس کی ہدایت کسی کے لئے خاص نہیں ہے۔سب کےلئے عام ہے۔اس کے ارشادات محدود نہیں غیر محدود ہیں۔یہ فطرت انسانی کے عین مطابق اور اس کے پاکیزہ تقاضوں کی خود داعی ہے۔اس میں کسی نسل قوم یا علاقے کی محدودیت نہیں ہے۔یہ کسی گروہ کو خدا کی بندگی سے ازلی طور پر خارج نہیں کرتی اور نہ کسی گروہ کو ازلی طور پر خدا کی محبوبیت کامصداق قرار دیتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس نے روئے زمین کے ہر خطے تک اپنے قوانین پہنچائے اور ان کا واحد قابل عمل ہوناثابت کیاہے۔

یہ وہ کتاب ہے جس نے رنگ وقومیت اور ملک وملت کے امیتاز سے بالا ہوکر ساری دنیا کو اپنا فیض پہنچایا ہے۔ا س کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تمام الٰہی مذاہب کی پاکیزہ تعلیمات کی تائید کرتی اور ان کو بہتر صورت میں پیش کرتی ہے وہ دنیا کی کسی مسلمہ صداقت کی تردید نہیں کرتی۔صداقت شعاری اس کی شان امتیازی ہے۔اس صداقت پسندی میں عدل وانصاف کی روش اس کا خاص طرز عمل ہے یہ کتاب راست بازوں کی تائیدکرتی اور ان کو تقویت پہنچاتی ہے۔

قرآن ایک قول فیصل ہے۔اس نے تمام انسانی مسائل کو حل کردیا ہے قرآن کے بعد افکار انسانی کا کوئی پیچیدہ مسئلہ بھی اب لا ینحل باقی نہیں رہ گیا ہے۔قرآن نے افراط میں مبتلا اور تفریط کی ماری ہوئی پوری انسانیت کو اعتدال کے مقام پرلاکھڑا کیا ہے۔قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے کلام کا آغاز اس دعوے پر کرسکتی ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ شک وشبے سے ماورا ہے۔اور لاریب فیہ اس کی وہ امتیازی خصوصیت ہے جو دنیا کی کسی د وسری کسی کتاب کو بھی حاصل نہیں ہے۔یہ قرآن ہی کی خصوصیت ہے کہ اس کا اسلوب بیان نہایت شائستہ،پاکیزہ،اور پرازحکمت ہے۔اس میں کوئی ایک لفظ بھی تہذیب کے دائرے سے باہر اور شرم وحیا کے تقاضوں کے منافی نہیں ہے۔اس نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی ہے۔پیدائش انسانی کے عقدے کو حل کیاہے۔اور کمال درجے کی حکمت وشائستگی کے ساتھ اس نے ایسے ایسے نازک مسائل پر روشنی ڈالی ہے جو صرف اس کا حصہ ہے قرآن نے کہا۔

﴿قُل لَئِنِ اجتَمَعَتِ الإِنسُ وَالجِنُّ عَلىٰ أَن يَأتوا بِمِثلِ هـٰذَا القُر‌ءانِ لا يَأتونَ بِمِثلِهِ وَلَو كانَ بَعضُهُم لِبَعضٍ ظَهيرً‌ا ﴿٨٨﴾... سورةالإسراء

"ترجمہ:۔"اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سب کو کہہ دیجئے۔کہ اگر سب انسان اور تمام جن بھی مجتمع ہوجائیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں اور پھر وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنانا چاہیں۔تو ہر گز ہرگز ایسا نہ کرسکیں گے۔"

اس میں سنگ دلوں کو پگھلادینے کی قوت ہے۔اس میں بے حسوں کو جھنجھوڑ ڈالنے کی صلاحیت ہے۔اس میں ظالموں کو موم کردینے کی حرارت ہے۔اس میں بے سمجھوں کو سمجھا دینے کا سلیقہ ہے۔اس میں جاہلوں کو علم دینے ،بے شعوروں کو شعور عطا کرنے اور بے خبروں کو آگاہ اور متنبہ کرنے کی طاقت ہے۔اس میں جباروں کو ڈرادینے کی ،بزدلوں کو بہادر بنادینے کی اور شاہ زوروں کو جھکا دینے کی توانائی ہے۔اس کی یہی اثر پزیری تھی۔جس سے بڑے بڑے مضبوط دل والے خوف کھاتے تھے۔کانوں میں روئی ٹھونس لیتے تھے۔تاکہ یہ قرآن ان کو فتح نہ کرلے۔،اور جب اسے بادشاہوں کے درباروں میں پڑھا جاتا تھا۔ تو درباروں میں سناٹا اور آنکھوں میں آنسو چھلک پڑتے تھے۔

مکہ کے مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پرجب ظلم وستم کی انتہا کردی تو انہیں حبش کی طرف ہجرت کرجانے کی اجازت دے دی تھی۔لیکن قریش کو یہ بھی پسند نہ تھا۔کہ مسلمان کسی جگہ جا کر سکھ کا سانس لے سکیں۔چنانچہ انہوں نے مشورہ کرکے سفارت مرتب کی اور شاہ حبشہ نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس کے درباریوں کے لئے تحفے تحائف لے جا کر پیش کئے اور پھر ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے مفرور باشندوں کو ان کے حوالے کردیں۔اہل دربار کو وہ پہلے ہی ہموار کرچکے تھے۔چنانچہ اس مطالبے کی پر زورتائید بھی اہل دربار کی طرف سے بیک وقت ہوگئی۔لیکن نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا "ٹھہرو" میں اپنے ملک میں پناہ لینے والوں کو اس طرح کسی کے حوالے نہیں کرسکتا۔ جب تک میں یقین نہ کرلوں کہ اصل بات کیا ہے۔"چنانچہ بادشاہ نے اصحاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دربار میں طلب کیا۔انہوں نے باہمی یہی فیصلہ کیا کہ بادشاہ کے سامنے وہی تعلیم پیش کی جائے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔پھر چاہے وہ رکھے یا نکالے۔چنانچہ دربار میں پہنچ کر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب نے مہاجرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بھر پور اور جرجستہ تقریری کی جس میں اپنے دور جاہلیت کی خرابیاں اور اسلام کی تعلیم کا مقدمہ بیان کیا گیا تھا۔پھر انہوں نے قریش کے مظالم کا ذکر کیا اوراپنے حبشہ میں ہجرت کرکے آنے کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ ظلم سے بچ سکیں نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی تقریر سن کر کہا!اچھا تم مجھے ذرا وہ کلام تو سناؤ جو تم کہتے ہو کہ خدا کی طرف سے اتر اہے۔اس پرحضرت جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت شروع کی جس میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰ ؑ کا ذکر ہے۔نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کلام سنتا رہا اور روتا رہا یہاں تک کہ اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر بہ تر ہوگئی۔جب حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلاوت ختم کی تو اس نے کہا۔

"یقیناً یہ کلام اور جو کچھ عیسیٰؑ لائے تھے۔دونوں ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں،خدا کی قسم میں تمھیں ان کے حوالے نہیں کروں گا۔"

یہ تھی قرآن کی اثر پزیری ایک اور واقعہ سنیئے۔

"طفیل بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسی مشہور شاعر تھا۔کہ جب میں مکہ گیا تو لوگوں نے میرے خوب کان بھرے اور کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بچ کر رہنا چنانچہ میں نے یہی طے کرلیا۔حرم میں گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ ر ہے تھے۔میرے کان میں بھی ان کے چند جملے پڑ گئے میں نے اچھا کلام محسوس کیا اور دل میں کہا کہ میں بھی شاعر ہوں اور جوان مرد ہوں عقل رکھتا ہوں،بچہ تو نہیں ہوں کہ غلط صحیح کی تمیز ہی نہ کرسکوں۔اس شخص سے ملنا تو چاہیے چنانچہ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے ان کے مکان تک پہنچ گیا۔اور اپنی ساری کیفیت بیان کی اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زرا تفصیل سے بتائیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کے جواب میں مجھے قرآن کا کچھ حصہ سنایا اور میں اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اسی وقت ایمان لے آیا اور واپس جا کر اپنے باپ اور بیوی کو بھی مسلمان کیا۔اور پھر اپنے قبیلے میں مسلسل تبلیغ اسلام کرتا رہا۔"

حد یہ ہے کہ خود سرداران قریش بھی اپنی مجالس میں اسی بات کا اقرار کرتے تھے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جھوٹ گھڑتے ہیں۔قریش کی ایک مجلس میں نضر بن حارث نے تقریر کی کہ:

"تم لوگ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کامقابلہ کررہے ہو۔یہ بالکل بے اثر ہے۔ تم اس کو اول روز سے جانتے ہو وہ تمہارے درمیان سب سے زیادہ خوش اطوار آدمی تھا سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ ذہین اب اس کے اب اس کے بال سفید ہونے کو آئے ہیں۔تو تم اسے ساحر کاہن اور شاعر اورمجنوں کہتے ہو اور دوسروں کو بھی باور کرانا چاہتے ہو بخدا وہ ساحر نہیں ہے ہم نے ساحروں کو دیکھا ہے۔وہ تو جھاڑ پھونک کرتے ہیں وہ کاہن بھی نہیں ہے ہم ان کی تک بندیوں اور گول مول باتوں کو جانتے ہیں۔وہ شاعر بھی نہیں ہے ہم اصناف شعر سے خوب واقف ہیں۔ وہ مجنوں بھی نہیں ہے ہم دیوانوں کی بے تکی باتوں سے بے خبر نہیں ہیں۔اے سرداران قریش ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بارے میں کوئی اور بات سوچو یہ ان باتوں سے بڑی بات ہے جو تم سوچتے ہو،اس کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔

پھر اس نے تجویز پیش کی کہ لوگوں کو ر ستم اور اسفند یار کی کہانیوں میں لگایا جائے تاکہ وہ عجم کے قصوں میں دلچسپی لینے لگیں۔چنانچہ اس نے خود اسی پرعمل شروع کردیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمان ہونے کے بعد اپنے قرآن سننے کا ایک تاثر کچھ ایسا ہی بیان کیا ہے ۔کہتے ہیں۔

"میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے کے لئے گھر سے نکلا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوچکے تھے۔میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سورۃ الحاقہ پڑھ رہے تھے میں پیچھے کھڑا ہوگیا اور قرآن سننے لگا ۔قرآن کی شان کلام اور اندا ز بیان پر ہی حیران ہورہا تھا۔کہ اچانک میرے دل میں یہ خیا ل آیا کہ یہ شخص ضرور شاعر ہے۔کہ اکثر قریش کہتے ہیں۔فوراً ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے۔یہ ایک رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔میں نے دل میں کہا کہ شاعر نہیں تو کاہن ہے۔اسی وقت زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری ہوئے اور نہ کسی کاہن کا قول ہے۔ تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔یہ سُن کر اسلام کا میرے دل میں گہرا اثر ہوگیا۔"(مسند احمد)

کچھ نضر بن حارث سے ملتا جلتا واقعہ ولید بن مغیرہ کو بھی پیش آیا۔حج کے موسم میں قریش حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پروپیگنڈا زیادہ زور شور سے کرتے تھے۔چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی حج کے دنوں میں اپنی دعوت تیز کر دیتے تھے۔حج کے ایام آنے سے پہلے شہر کے مشہور سرمایہ دار سردار ولید بن مغیرہ نے قریش کے معززین کا اجلاس بلا کر کہا۔

"دیکھو اگر آپ لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں مختلف باتیں لوگوں سے کہیں توہمارا سب کااعتبار جاتا رہے گا اس لئے کوئی متفق علیہ بات سوچ لیں۔پھر سب وہی کہیں۔بعض نے کہا ہم ان کو کاہن کہیں،ولید نے کہا نہیں۔خدا کی قسم وہ کاہن نہیں ہیں۔ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ جس طرح کے فقرے وہ جوڑتے ہیں۔ قرآن کو ان سے دور کی نسبت بھی نہیں ہے۔بعض نے کہا ہم انہیں دیوانہ کہیں ولید نے کہا ہم نے دیوانے دیکھے ہیں۔جیسا کلام وہ پیش کر تے ہیں کون تسلیم کرے گا جنوں کے دور میں کوئی آدمی ایسی باتیں بھی کرسکتا ہے۔بعض نے کہا تو ہم انھیں شاعر کہیں۔ولید نے کہا وہ شاعر بھی نہیں ہے۔ہم شعر کی ساری اقسام سے واقف ہی ہیں۔ ان کے کلام کو کون شعر مانےگا۔پھر لوگوں نے کہا کیا ہم ان کو ساحر نہ کہیں ۔ولید نے کہا وہ ساحر کیسے ہوسکتے ہیں ہم جادوگروں اور ان کے کرتبوں کو جانتے ہیں۔ یہ بات تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں نہیں ہوتی اس نے کہا ان باتوں میں سے جوبات بھی کہو گے وہ ناروا ہی ہوگی اس کو کوئی نہ مانے گا۔خدا کی قسم اس کے کلام میں بڑی گہرائی ہے۔اس کی جڑیں بڑی گہری اور اس کی ڈالیاں بڑی ثمر دار ہیں۔"اس پر ابو جہل ولید کے سر ہوگیا اور کہنے لگا کہ جب تک تم خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ نہ بتاؤ گے،تمہاری قوم تم سے راضی نہ ہوگی۔ولید نے کہا سوچ کر بتاؤں گا پھر سوچ سوچ کر کہنے لگا بس قریب ترین بات یہی ہوسکتی ہے کہ تم اسے جادوگرکہو اور یہ کہ ایسا کلام پیش کرتا ہے جس کے سحر سے باپ بیٹے سے اور بھائی بھائی سے اور میاں بیوی سے چھوٹ جاتا ہے۔بس تم یہی بات چلاؤ۔"

چنانچہ سب نے ولید کی بات اس پراپیگنڈہ کے لئے تسلیم کرلی۔

سرداران قریش مخالفت تو کرتے تھے لیکن قرآن سے اتنے مرعوب اور اس کی شیرینی سے اتنے متاثر تھے کہ کبھی کبھی خود بھی چھپ چھپا کر قرآن سنتے تھے۔بس بات کی پچ رکھنے کے لئے صرف اپنی اس بات کو دوسروں سے چھپاتے تھے۔

مورخ ابن ہشام ؒ نے نقل کیا ہے کہ سرداران قریش ابو سفیان بن حرب ابو جہل بن ہشام الاخنس بن شریک اور ابن وہب الثقفی یہ چاروں ایک رات الگ الگ نکلے تاکہ چھپ کرقرآن کی تلاوت سنیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنے گھر میں کیا کرتے تھے۔

ان میں سے ہر شخص نے اپنے لئے ایک ایک جگہ لے لی اور بیٹھا سنتا رہا ہر شخص دوسرے کی موجودگی سے بے خبر تھا۔اس طرح انہوں نےکالی رات گزار دی اور پھر اپنی اپنی راہ لی،راستے میں سب جمع ہوگئے اور سب ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ہر ایک نے دوسرے سے کہا،دیکھو دوبارہ ایسا نہ کرنا اگرکم عقل لوگوں نے دیکھ لیا تو وہ کیا خیال کریں گے۔"پھر و ہ سب لوٹ گئے جب دوسری رات ہوئی تو وہ چاروں پھر اپنی اپنی جگہ تلاوت سننے کو واپس آئے۔اور جب سن کر واپس ہوئے تو پھر سب جمع ہوگئے ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو پھر ویسے کہا جیسے پہلے کہا تھا اور اپنے اپنے گھروں کولوٹ گئے لیکن جب تیسری رات ہوئی تو پھر وہ اپنی اپنی جگہ آموجود ہوئے اور واپسی پر پھر اسی طرح باہمی مل گئے۔تب انھوں نے کہا۔

"ہماری یہ عادت نہیں چھوٹے گی،جب تک ہم دوبارہ عہد نہ کرلیں کہ دوبارہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔"

اور پھر باہمی عہد کرکے منتشرہوگئے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان لانا بھی تاثیر قرآن کاہی معجزہ ہے۔ایک دن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بہادری ک بھروسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلے۔بدن پرسارے ہتھیار سجا رکھے تھے۔راستہ ہی میں کسی نےکہا کہ میاں پہلے اپنی بہن اور بہنوئی کی توخبرلو وہ تو مسلمان ہوچکے ہیں۔یہ سن کر وہ فی الفور اپنی بہن کے گھر چلے گئے۔اور پھر ان دونوں کو خوب مارا پیٹا بالآخر ان کی بہن نے جرائت سے کہا۔

"عمر جو چاہے کرلو یہ ایمان اب دل سے نہیں نکل سکتا۔"

عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بہن کی اس جرائت پر سخت حیران ہوئے اور ان سے قرآن سنانے کےلئے کہا ۔ایک صحابی رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جووہاں موجود تھے۔انہوں نے قرآن مجید میں سورہ طہٰ سنانی شروع کردی۔عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن سن رہے تھے اور پھر اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوکر ایمان لے آئے۔

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف اسلام کی دعوت پہنچانے کے لئے گئے تو وہاں کے لوگوں نے بدترین مخالفت کا سلوک کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باغ میں پناہ لی۔یہ جگہ ربیعہ کے فرزندوں کی تھی۔انہوں نے کچھ دور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو انہیں رنج ہوا۔اور ترس کھا کر اپنے غلام عداس کے ہاتھ انگوروں کی ایک پلیٹ ہدیۃً روانہ کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور لئے اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر کھانے شروع کردیے۔غلام عداس نے حیرت سے یہ کلمہ سنا اور پھر کہا"یہ توایسا کلام ہے جو یہاں کے باشندے نہیں بولا کرتے۔"حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کا مذہب اوروطن پوچھا تو اُس نے کہا میں عیسائی ہوں اور میں نینویٰ کا رہنے والا ہوں۔"

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"تم میرے بھائی مرد صالح یونس ؑ بن متی کے شہر کے باشندے ہو۔وہ بھی نبی تھا اور میں بھی نبی ہوں۔"

عداس یہ سن کر جھک پڑا۔اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےہاتھ سر اور قدم چوم لئے۔

ایک شخص سوید بن صاحت تھا جس کے پاس حکمت لقمان کاصحیفہ تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دعوت اسلام پیش کی۔اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو میرے پاس ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیان کرو۔اس نے کچھ عمدہ سے اشعار سنائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کلام تو اچھا ہے لیکن میرے پاس قرآن ہے جو اس سے افضل ترہے۔اور ہدایت ونورہے۔اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قرآن سنایا۔وہ شخص بلاتامل مسلمان ہوگیا۔

غرض تمام عمر قرآن اسلامی انقلاب کی جدوجہد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک جہاد رہا۔اور بالآخر اس قرآن کی مدد سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلق خدا کو سلامتی کا راستہ دیکھایا،اور اسلامی نظام نافذ فرمایا۔
حوالہ جات

1۔ابن ہشام جلد 3 صفحہ 22۔24۔

2۔ابن ہشام جلد اول ص 330۔331۔