یہ قتل وخوں یہ فریب اور لوٹ مار کے دن
رہیں گے دہر میں کب تک یہ انتشار کے دن
عمل تو ڈھیر ہے لیکن کھرا ہے یا کھوٹا!
پتہ چلے گا قیامت میں اختبار کےدن!
یہ باغ ہستی ازل سے خزاں گزیدہ تھا
حضورؐ آئے تو آئے یہاں بہار کے دن
جدھر بھی دیکھو نشیمن کے منتشر تنکے
چمن میں آئے ہیں یہ کیسے انتشار کے دن
رہ مدینہ تو اتنی کٹھن نہیں اے دوست!
کہ جس قدر ہیں کٹھن شوق و انتظار کے دن
جو یاد کرتے ہیں دنیا میں آج جنت کو!
وہ بھول جائیں گے جنت کو دیدیار کے دن
بڑھائے میں بھی ہے ممکن تلافی مافات
گزر نہ جائیں کبھی یہ بھی اعتذار کے دن
اگر ہے خوف خدا دل میں ہاتھ میں انصاف
تو ایک آئینہ رحمت ہیں اعتذار کے دن
سکون د ہر میسر نہ توشہء عقبےٰ۔!
گزر گئے ہیں یوں ہی عمر مستعار کے دن
یہ عمر اور تمنا شباب کی عاجز!
بہار بہت گئی اب کہاں بہار کے دن