ریا کاری نہیں دل میں تو پھر ہر طرح جائز ہے
تو صدقہ فی سبیل اللہ چھپا کر دے دکھا کردے
بھلائی کا تقاضا تو یہی ہے اے بھلے مانس
اگر تو کرسکے اپنے عدو کا بھی بھلا کردے
یہ کام اللہ کا ہے منزل مقصود پر پہنچانا
تو بسم اللہ سے اپنے عمل کی ابتداء کردے
تیری ہی یاد ہو دل میں تیرا ہی ذکر ہولب پر
الٰہی اپنی الفت میں میری ہستی فنا کردے
رسومات جدید اسلام میں ہیں سب کی سب بدعت
اگ ممکن ہوتو بدعت کو سنت سے جدا کردے
لباس پارسائی کرلیا ہے زیب تن میں نے
میرے اللہ مرے دل کو بھی تو پارسا کردے
کہیں ایسا نہ ہوعاجز اچانک موت آجائے
کسی کا حق اگر تجھ پر ہو تو فوراً ادا کردے