غار جبل الثور کے دہانہ پر رونما ہونے والے معجزات کا جائزہ

عام طور پرمشہور ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہجرت کا اذن مل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے آغاذ میں اپنے رفیق سفر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جبل الثورکے غار میں تین رات تک پوشیدہ رہے جو بقول علامہ شبلی نعمانی مرحوم"آج بھی موجود ہے اور بوسہ گاہ خلائق ہے۔"1

ان دونوں کےغار میں پہنچنے کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حکم سے غار کے منہ پر بنولے یا ببول کا ایک درخت اگا دیاتھا۔جس کی شاخیں فورا ًپھیل کر غار پرچھاگئیں تھیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مکڑی آئی اور اس نے غار کے منہ پر اپنا جالا تان دیا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کبوتروں کے ایک جنگلی جوڑے کو حکم فرمایا۔پس انہوں نے غار کے منہ پراپنا گھونسلہ بنالیا۔بعض روایتوں میں یہ بھی ملتاہے کہ ان کبوتروں نے اس گھونسلے میں انڈے بھی دیئے تھے۔بعض تاریخٰ روایتیں بھی یہ بتاتی ہیں کہ جس مکڑی نے غار جبل الثور کے دہانہ پرجالا تانا تھا۔اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے قبل ہی اس غار پرمامور کردیا گیا تھا۔2

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غار سے رخصت ہونے کے بعد وہ مکڑی بھی وہاں سے چلی گئی تھی۔ظاہر ہےیہ سب کچھ اسلئے کیاگیاتاکہ جو مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں سرگرداں تھے ان کو وہاں آپ کی موجودگی کا گمان نہ ہونے پائے۔

اگرچہ اکثر اصحاب سیر نے ان واقعات کو اپنی تصانیف3 میں در ج کیا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان تمام تاریخی قصص پراعتماد کرنے کے لئے کتب احادیث میں کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔ہجرت کے واقعہ میں مستند تاریخ روایات اور احادیث سےجو بات ثابت ہوتی ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ آپ دونوں حضرات غار جبل الثور میں تین رات تک ر وپوش رہے۔باقی درخت کے دفعتہً آگے آنے،مکڑی کے جالا بننے ،کبوتروں کے گھونسلہ بنانے اوراسمیں انڈا دینے یا اس جیسے اور دوسرے تمام قصص سے متعلق جتنی بھی روایات ملتی ہیں وہ یا توضعیف ہیں یا پھر منکر اسی باعث بعض اولین سیرت نگاروں مثلاً ابن ہشام ؒ وغیرہ نے بقول ڈاکٹر محمد حسین ہیکل مصری "ان قصص کواپنی سیرت کی کتب میں درج نہیں کیا ہے4۔"

متاخریں میں سے بعض اصحاب سیر(مثلاً علامہ شبلی5 نعمانی ؒ اور سید سلمان ندوی وغیرہ) نے ان روایات کو بیان کرنے کے بعد ان کی صحت پر کلام کیا ہے۔ایک مستشرق ایمل ڈر مینگھم ان افسانوی نوعیت کے واقعات کو اپنی کتاب "حیواۃ محمدؐ" میں ذکر کرنے کے بعد تمسخرانہ انداز پر لکھتاہے:

"صرف یہ تینوں چیزیں ہی وہ معجزات ہیں جن کو مستند مسلمان تاریخ میں محفوظ کیا گیا ہے۔مکڑی کا جالا،فاختہ(پرندہ) کا عشق اور پھول کاکھلنا۔۔۔یہ تینوں معجزات تو اللہ کی اس زمین پر ہی ہر روز ہوا کرتے ہیں6۔"

ا ب ذیل میں اس واقعہ سے متعلق کتب احادیث میں وارد ہونے والی تمام روایات پر ناقدانہ بحث پیش کی جاتی ہے۔اس واقعہ سے متعلق پہلی روایت حسب ذیل ہے:

تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ اقْتُلُوهُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ أَخْرِجُوهُ . فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ ، فَقَالُوا : أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي . فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ ، فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ ، فَقَالُوا : لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ ، فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ

"قریش نے مکہ میں ایک رات مشورہ کیا،بعض نے کہا جب صبح ہو تو اسے(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کو قابو کرلو،بعض نے کہا نہیں بلکہ قتل کردو،بعض نے کہا نہیں اسے یہاں سے نکال باہر کرو۔ان کے اس مشورے کی اطلاع اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔پس علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر رات بسر کی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل آئے۔حتیٰ کہ غار میں جا پہنچے۔اور مشرکین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پہرہ دیتے رہے وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ(بستر پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جب صبح ہوئی تو وہ ان پر پل پڑے لیکن جب انھوں نے (وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا،اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر ناکام کردی تھی۔وہ کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ساتھی کہاں ہے؟انہوں نے فرمایا:مجھے معلوم نہیں،پھر(مشرکین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشانات ڈھونڈتے ہوئے چل دیئے،جب پہاڑ تک پہنچے تو نشانات گڈ مڈ ہوگئے۔پھر وہ لوگ پہاڑ پر چڑھے۔جب غار کے پاس سے گزرے تو غار کے دروازہ پر مکڑی کا جالا دیکھا۔کہنے لگے اگر وہ اس غار میں داخل ہوتے تو اس دروازہ پر یہ جالا نہ ہوتا۔(لہذا واپس چلے گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں تین رات رہے۔"

اس حدیث کی تخریج عبدالرزاق ابن ہمام ؒ نے قرآن کریم کی آیت :

﴿وَإِذ يَمكُرُ‌ بِكَ الَّذينَ كَفَر‌وا لِيُثبِتوكَ أَو يَقتُلوكَ أَو يُخرِ‌جوكَ وَيَمكُر‌ونَ وَيَمكُرُ‌ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيرُ‌ المـٰكِر‌ينَ ﴿٣٠﴾... سورةالانفال

"ترجمہ۔"اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں،یا جلا وطن کردیں،وہ اپنی تدبیریں کررہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی تدبیریں کررہا تھا۔اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔")کی تفسیر کے تحت اپنی "مصنف" میں عبدالرزاق اب ہمام ؒ کے طریق سے امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنی"مسند" میں اور طبرانی ؒ نے "العجم الکبیر" میں بطریق معمر اخبرنی عثمان الجزری عن مقسم مولی ابن عباس اخبرہ ابن عباس فی قولہ تعالیٰ"﴿ وَإِذْ يَمْكُرُ‌ بِكَ الخ﴾ قال فذكره کے علاوہ اس حدیث کو امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر اور البدایہ والنہایہ میں ،خطیب تبریزی ؒ نے "مشکواۃ المصابیح" میں علامہ ہثیمی ؒ نے "مجمع الزوائد" میں اور امام ابن الجوزی ؒ نے"الوفاء بااحوال المصطفیٰؐ" وغیرہ میں وارد کیا ہے۔

اس روایت کے متعلق امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

قال ابن كثير رحمه الله: "وهذا إسناد حسن وهو من أجود ما روي في قصة نسج العنكبوت على فم الغار

مگر یہاں ابن کثیرؒ سے اس حدیث کی "تحسین" میں خطا ہوئی ہے کیونکہ اسکی سند "حسن" نہیں بلکہ" ضعیف" ہے جیسا کہ آگے ثابت کیا جائے گا۔

اور مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم فرماتے ہیں:

"اس واقعہ کی بہترین روایت وہ ہے جو مسند احمد بن حنبلؒ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں:۔۔۔لیکن ان الفاظ سے اس واقعہ کا غیر معمولی ہونا ظاہر نہیں ہوتا۔البتہ اس روایت کی بناء پر اس کو تائیدات میں جگہ دی جاسکتی ہے۔تاہم یہ روایت بھی قائم نہیں۔"الخ

اس روایت کے "ضعف" کی علت اس کی سند میں راوی "عثمان الجزری" کا وجود ہے۔اسماء الرجال کی کتب میں"عثمان بن ساج الجزری"اورعثمان بن عمرو بن ساج الجزری" کے تراجم ملتے ہیں۔بعض محققین نے ان دونوں کو ایک ہی راوی بتایا ہے۔اور بعض ان دونوں کوالگ الگ راوی بتاتے ہیں۔اگر یہ دو مختلف راوی ہوں تو ان میں سے اس سند میں وارد"عثمان الجزری" کون ہے اس کاتعین مشکل ہے۔بہرحال اگر یہ"عثمان بن عمرو بن ساج الجزری"ہوتو اس کی نسبت امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں:

"ابوحاتم الرازیؒ کا قول ہے کہ اس کے ساتھ حجت نہیں ہے۔"

امام ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:

"اس میں ضعف ہے"

امام ذہبی ؒ نے اسے "کتاب الضعفاء"میں وارد کرکے اسے "متکلم فیہ" بتایا ہے۔علامہ ہشیمی ؒفرماتے ہیں:

"ابن حبان ؒ نے اس کی توثیق کی ہے لیکن ان کے علاوہ دوسروں نے اس کی تضعیف کی ہے۔"

لیکن چونکہ ابن حبان کی توثیق ان کے معروف تساہل کی بناء پرعندالمحدثین کوئی وزن نہیں رکھتی۔لہذا یہ راوی "ضعیف" اور ناقابل حجت ہی قرار پائے گا،جیسا کہ امام ذہبیؒ ،ابو حاتم الرازی،اورامام ابن حجرؒعسقلانی وغیرہ نے فرمایا ہے۔

"عثمان بن عمرو بن ساج الخزری" کے تفصیلی ترجمے کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر ؒ،تہذیب التہذیب لابن حجرؒ،التاریخ الکبیرالبخاریل،میزان الاعتدال للذہبیِؒ، کتاب الجروح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ۔مجمع الزوائد للہشیمی ؒ۔فہارس مجمع الزوائد ،للزغلول اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للبانی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔

اگر زیر مطالعہ حدیث کی سند میں وار راوی"عثمان بن عمرو بن ساج الجزری"کے بجائے صرف"عثمان بن ساج الجزری"ہو اور ان د ونوں کو دو مختلف راوی تسلیم کیا جائے تو بھی بات نہیں بنتی۔کیونکہ اس کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:

"یہ وہ نہیں جس اوپر ذکر کیا گیا ہے۔اور اس کا حال غیر معروف ہے۔"

علامہ رحمۃ اللہ کا یہ قول"تہذیب التہذیب " میں موجود ہے۔

امام عقیلی ؒ فرماتے ہیں:لا يتابع عليه

امام بخاری ؒ نے "التاریخ الکبیر" میں اور امام ابن ابی حاتم الرازیؒ نے"الجرح والتعدیل" میں اس کا ذکر کیا ہے لیکن کوئی جرح تقل نہیں کی ہے۔

علامہ ہثیمیؒ نےبھی "مجمع الزوائد" کے ایک مقام پر راوی"عثمان الجزری" کی جہالت کی طرف اشارہ کر تے ہوئے فرمایا ہے۔

"مجھے اس کا ترجمہ نہیں ملا۔"

مذید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں،میزان الاعتدال للذہبیؒ،الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ،مجمع الزوائد للہشیمی ؒ اور فہارس مجمع الزوائد للذغول وغیرہ۔

پس ثابت ہوا کہ اس روایت کی سند میں واردراوی خواہ "عثمان بن ساج الجزری"ہویا "عثمان بن عمرو بن ساج الجزری" یا یہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہوں۔بہرحال پایہ اعتبار سے ساقط ہے۔اب ذیل میں اس حدیث کے متعلق چند محققین کی رائے بھی ملاحظہ فرمالیں:

علامہ ہشیمیؒ فرماتے ہیں:

"اسے امام احمد ؒ اورطبرانیؒ نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں عثمان بن عمرو بن الجزری ہے۔جس کی ابن حبانؒ نے توثیق کی ہے۔لیکن ان کے علاوہ(باقی) دوسروں نے تضعیف کی ہے۔اس سند کے باقی رجال صحیح کے رجال ہیں۔"

علامہ شیخ محمد ناصر الدین اللبانی ؒ اس روایت کو"ضعیف" قرار دیتے ہیں۔اور شیخ علامہ احمد شاکرؒ نے بھی اپنی "تعلیقات علی المسند" میں اس حدیث کے متعلق"فی اسنادہ نظر" تحریر فرمایا ہے۔

اس واقعہ سے متعلق دوسری روایت جو اصلاً قرآن کریم کی آیت:

﴿فَقَد نَصَرَ‌هُ اللَّهُ إِذ أَخرَ‌جَهُ الَّذينَ كَفَر‌وا ثانِىَ اثنَينِ إِذ هُما فِى الغارِ‌ إِذ يَقولُ لِصـٰحِبِهِ لا تَحزَن إِنَّ اللَّهَ مَعَنا فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكينَتَهُ عَلَيهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنودٍ لَم تَرَ‌وها ...﴿٤٠﴾... سورةالتوبة

میں﴿ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا﴾ کی تفسیر سے متعلق مشہور ہے ۔اس روایت کا متن حسب ذیل ہے:

انطلق النبي صلى الله عيه وسلم وأبو بكر إلى الغار فدخلا فيه فجاءت العنكبوت فنسجت على باب الغار وجاءت قريش يطلبون النبي صلى الله عليه وسلم وكانوا إذا رأوا على باب الغار نسج العنكبوت قالوا لم يدخله أحد وكان النبي صلى الله عليه وسلم قائما يصلي وأبو بكر يرتقب فقال أبو بكر رضي الله عنه للنبي صلى الله عليه وسلم فداك أبي وأمي هؤلاء قومك يطلبونك أما والله ما على نفسي أبكي ولكن مخافة أن أرى فيك ما أكره فقال النبي صلى الله عليه وسلم ) لا تحزن إن الله معنا (

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ غار پرگئے اور اس میں داخل ہوگئے ،تب ایک مکڑی آئی جس نے غار کے دروازے پر اپنا جالا تان لیا۔جب قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب میں وہاں آنکلے اور انہوں نے غار کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھا تو کہنےلگے:اس میں کوئی داخل نہیں ہوا ہے،اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(غار میں) کھڑ ے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے،اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرتقب تھے۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرقربان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں ہے۔بخدا مجھے اپنی ذات کا کوئی خوف ورنج نہیں۔مگر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خوف ہے(کہ کہیں ان کی نظر آپ پر نہ پڑ جائے)تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:غم نہ کرو،اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔"

اس کی تخریج حافظ ابوبکر القاضی ؒ نے"مسند ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ " میں بطریق

حدثنا بشار الخفاف قال : حدثنا جعفر بن سليمان قال : حدثنا أبو عمران الجوني قال :حدثنا المعلى بن زياد عن الحسن قال : فذكره." کی ہے۔

حافظ ابن کثیرؒ نے بھی اس کو وارد کیا ہے۔لیکن یہ روایت بھی سندا ً ضعیف ہے۔اس کے"ضعف" کی پہلی علت وروایت کا"مرسل"ہوناہے۔اس کی سند میں "حسن بن ابی الحسن البصریؒ" موجود ہیں۔جوتابعین ؒ کے سادات میں سے صالح،ثقہ فاضل ،مشہور اورصاحب سنت ہیں۔لیکن بقول امام ابن حجرؒ عسقلانیؒ : کثیر الارسال والتدلیس ہیں۔"

بزار ؒ فرماتے ہیں کہ:

ایک ایسی جماعت سے روایت کرتے ہیں جن سے ان کا سماع نہیں ہے۔"

(حسن البصری ؒ کے ترجمہ کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر ؒ،معرفۃ الثقات للعجلی ؒ،تعریف اہل التقدیس لابن حجر ؒ،کتاب الکنیٰ لام احمد بن حنبل ،جامع التحصیل للعلائی ؒ،تہذیب الکمال المذیؒ،تحفہ الاحوزی للمبارکفوریِ ؒ،سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للبانی ار سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی و غیرہ۔ملاحظہ فرمائیں ۔یہی حسن بن ابی الحسن البصریؒ اس روایت کے"ارسال"کے ذمہ دار ہیں۔)

اس روایت کے "ضعف " کی دوسری علت اس کی سند میں راوی"بشار بن موسیٰ الخفاف" کی موجودگی ہے۔امام ذہبیؒ نے"بشاء الخفاف"کواپنی کتاب"الضعفاء میں وارد کیا ہے:

امام نسائی ؒفرماتے ہیں:

"ثقہ نہیں ہے۔"

امام ابن حجر عسقلانیؒ کا قول ہے:

"ضعیف ،کثیر الغلط،کثیر الحدیث ہے۔"

ابو حاتم الرازیؒ فرماتے ہیں:

"ثقہ نہیں ہے۔"

امام ذہبی ؒ"میزان الاعتدال" میں فرماتے ہیں:

"امام بخاری ؒ کاقول ہے کہ میں نے اس سے مروی روایات کو لکھا لیکن پھر اس کی حدیثوں کو ترک کردیا۔"

یحییٰ ؒ اور نسائی ؒ کہتے ہیں کہ:

"وہ ثقہ نہیں ہے"

ابو زرعہ ؒ کاقول ہے کہ:

"ضعیف ہے"

ابن عدی ؒ فرماتے ہیں کہ:

"مجھے ابن المدینی ؒ کی نسبت خبر ملی ہے کہ وہ اس کے بارے میں اچھا کہا کرتے تھے۔"

امام احمدؒ بھی اس کے متعلق اچی ر ائے رکھتے تھے۔

لیکن ابن معینؒ کا قول ہے کہ:

"بشار الخفاف دجالوں میں سے ہے۔"

(بشار بن موسیٰ الخفاف کے تفصیلی ترجمہ کے لئے ملاحظہ فرمائیں۔ تقریب التہذیب لابن حجر ؒ، تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ۔میزان الاعتدال للذہبیؒ،الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ،الضعفاء والمتروکون لنسائیؒ۔التاریخ الکبیر بخاریؒ۔الکامل فی الضعفاءج لابن عدیؒ۔المجموع الضعفاء والمتروکین للسیروان اور سلسلۃ الاحادیث الضیعفۃ والموضوعۃ للبانی وغیرہ۔ )

پس ثابت ہوا کہ یہ دوسری حدیث بھی "ضعیف " ہے۔اگرچہ اس کے متعلق امام ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں:

"یہ حدیث حسن بصری ؒ سے مرسلاً مروی ہے لیکن چونکہ اس کےلئے ایک دوسری حدیث شاہد ہے۔اس لئے یہ درجہ حسن کو جاپہنچتی ہے۔"

علامہ ابن کثیرؒ کا یہ دعویٰ بھی سابقہ حدیث کے متعلق اُن کی تحقیق کی طرح غلط ہے۔اس حدیث کے لئے امام ابن کثیرؒ جس دوسری حدیث کی شہادت پیش کرنا چاہتے ہیں۔وہ مسنداحمدؒ کی ہی سابقہ حدیث ہے۔اور وہ خودضعیف ہے۔

علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی ؒ نے بھی اس حدیث کو "ضعیف" قرار دیا ہے۔

اب اس سلسلے کی سب سے مشہور تیسری روایت پیش خدمت ہے اسمیں آپ کو غار کے منہ پر مکڑی کےجالے کے ساتھ ایک درخت کے دفعتاً آگ آنے اوراپنی شاخوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپالینے،اور کبوتروں کے ایک جنگلی جوڑےکا وہاں گھونسلہ بنا لینے کا ذکر بھی نظر آئے گا۔یہ روایت اس طرح ہے:

ليلة الغار امر الله عزوجل شجرة فنبتت في وجه النبي صلي الله عليه وسلم فسترته وامرالله العنكبوت فنسجت في وجه النبي صلي الله عليه وسلم فسترته وامر الله فتبارك وتعاليٰ حما متين وحشيتين فوقفتا بغم الغار واقبل فتيان قريش من كل بطن رجل بعصيهم وهرا واتهم وسيوفهم حتيٰ اذا كانوا من النبي صلي الله عليه وسلم قدر اربعين ذراعا تعجل بعضهم ينظر الي الغار فراي حما متين بغم الغارفرجع الي اصحابه فقالوا مالك كم تنظر في الغار قال رايت حما متين بفم الغار فعرفت ان ليس فيه احد فسمع النبي صلي الله عليه وسلم ما قال فعرف ان الله عزوجل قد ذراعنهم بهما فدعا لهن و سمت عليهن وفرض جزاهم واتخذن في الحرام

"اس روایت کو طبرانیؒ نے المعجم الکبیر میں بزار ؒ نے مسند میں ابو نعیم نے دلائل میں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ھثیمیؒ نے کشف الاستارعن زوائد البزار اور مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں ابن سعدؒ نے الطبقات میں مخلصؒ نے فوائدالمنتقاۃ میں شریف ابو علی ہاشمی ؒ نے فوائد المنتقاۃ میں خیثمہ الطرابلسی ؒ نے فضائل الصدیق میں ذہبیؒ نے میزان الاعتدال فی نقد الرجال میں عقیلی ؒ نے الضعفاء الکبیر میں قسطلانی ؒ نے المواہب الدنیہ میں اور زرقانی ؒ نے شرح المواہب الدنیہ وغیرہ میں بطریق مسلم بن إبراهيم، حدثنا عون بن عمرو، سمعت أبا مصعب المكى يقول: أدركت زيد بن أرقم، وأنسا، والمغيرة بن شعبة، وسمعتهم يتحدثون أن النبي صلى الله عليه وسلم فذكرهروایت کیاہے۔

ابوعلی شریف ہاشمی ؒ فرماتے ہیں:

"اس میں ابومصعب المکی کا حضرت انسرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور سب کے ساتھ جنھوں نے ان کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے کاتفرد ہے۔ہمیں مسلم بن ابراہیم عن عون بن عمرو القیسی عن ابی مصعب کے طریق کے علاوہ ایسی اور کسی روایت کا علم نہیں ہے۔"

علامہ حافظ عماد الدین ابن کثیرؒ اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں:

"یہ حدیث بہت زیادہ غریب ہے۔"

اور علامہ ہشیمی ؒ فرماتے ہیں:

"اسے بزارؒ اور طبرانیؒ نے روایت کیا ہے لیکن اس کی اسناد میں مجہول رواۃ کی ایک جماعت موجود ہے۔"

واقعہ یہ ہے کہ اس کی سند میں عون بن عمر القیسی (عوین) اور ابو مصعب المکی دونوں پایہ اعتبار سے گرے ہوئے ہیں۔اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد امام عقیلیؒ الضعفاء الکبیر میں فرماتے ہیں:

"اس میں عون کی متابعت نہیں ہے۔اور ابو مصعب مجہول شخص ہے۔"

امام ذہبیؒ نے بھی ابو مصعب المکی کی جہالت کےمتعلق تحریر فرمایاہے۔لايعرف

اور بزارؒ اس کی جہالت کی طرف یوں اشارہ فرماتے ہیں۔:

"ہمیں معلوم نہیں کہ اس کو عون بن عمرو کے علاوہ بھی کسی نے روایت کیا ہو اور ابو مصعب المکی جو ہے اس کے متعلق ہمیں علم نہیں کہ اس سے عوین کے علاوہ اور کسی نے بھی روایت کی ہو۔"

امام ذہبیؒ فرماتے ہیں:

"عون کی نسبت یحییٰ بن معین ؒ کا قول ہے لاشئي

اور امام بخاری ؒ فرماتے ہیں:

"منکر الحدیث مجہول ہے۔"

امام ذہبی ؒ نے"عون بن عمرو القیسی"کہ ترجمے میں اس سے مروی دو منکر روایات کا بھی تذکرہ کیا ہے جن میں سے ایک روایت یہی ہے۔

امام عقیلیؒ نے بھی"عوین بن عمرو القیسی التمیمی"کے ترجمہ میں یہی حدیث نقل کی ہے۔اور اس کے متعلق فرمایا ہے۔

ويقال عون لا يتابع عليه

علامہ ہشیمی ؒفرماتے ہیں کہ:

"مجھے اس کاترجمہ نہیں ملا"

"(عون بن عمرو القیسی" کے تفصیلی ترجمہ کے لئے الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ،میزان الاعتدال للذہبیؒ،مجمع الزوائد للھثیمیؒ،فہارس مجمع الزوائد للبسونی،للذغول اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للبانی وغیرہ۔ اور ابو مصعب المکی"کے ترجمہ کے لئے میزان الاعتدال للذہبیؒ،الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للبانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔

محدث عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانیؒ ،علامہ شبلی نعمانی ؒ اور مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم نے بھی اس روایت کو"منکر" اور ساقط الاعتبار قرار دیا ہے۔

طبقات ابن سعد میں یہی روایت ایک اور طریق سے وارد ہوئی ہے۔لیکن اس طریق کو ر وایت کرنے والا شخص مشہور"مورخ واقدی الکذاب" ہے۔جو عندالمحدثین انتہائی مجروح بلکہ پایہ اعتبار سے ساقط ہے۔اس روایت کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقدی الکذاب نے ہجرت سے متعلق آنے والی متعدد روایتوں کو یکجا کرکے ایک مشترک روایت از خود تیار کرلی ہے۔واللہ اعلم۔

اس واقعہ ہجرت کی تحقیق کے سلسلہ میں اگر قرآن کریم کا بغور مطالعہ کیا جائے تو سورۃ توبہ کی آیت نمبر40 جو اوپرپیش کی جاچکی ہے۔میں:۔

﴿وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَ‌وْهَا﴾

"ترجمہ:۔اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے"

کے الفاظ بھی ان تمام مکڑی کے جالا،شجر اور کبوتروں کے گھونسلہ والی احادیث کے "ضعف" کا تقاضا وتاکید کرتے نظر آئیں گے۔کیونکہ یہ آیت صریحاً اعلان کررہی ہے کہ ان دونوں حضرات کی نصرت وتائید نظر نہ آنے والے "جنود" کے ذریعے عمل میں آئی تھی۔جبکہ زیر مطالعہ احادیث قرآن کریم کی اس صریح آیت کے صریح مفہوم کو جھٹلا کر یہ ثابت کرنے کے در پے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت بنولے یا ببول کے درخت کے دفعتاً آگ آنے یا عنکبوت کے جالا تان دینے اور جنگلی کبوتروں کے گھونسلہ بنا لینے کی وجہ سے ہوئی عین ممکن ہے کہ سورہ توبہ کی آیت 40 میں جنود سے مرادشجر ،عنکبوت اور کبوتروں کے بجائے،ملائکہ"ہوں جو کفار مکہ کی نظروں اور چہروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے پھیر دینے کے لئے نازل ہوئے ہوں،جیسا کہ امام بغویؒ وغیرہ نے اپنی "تفسیر" میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:

وهم الملائكة نزلوا يصرفون وجوه الكفار وأبصارهم عن رؤيته".

امام ابن کثیرؒ ۔امام جلال الدین ،شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب وغیرہ رحمہم اللہ نے بھی یہاں "جنود "سے مراد "ملائکہ ہی لئے ہیں۔

بعض احادیث میں اس موقع پر ملائکہ کا نزول مذکور ہے جو "جنود" کے اس مفہوم ومعنی کے لئے مذید شاہد وموئید ہے۔چنانچہ طبرانی ؒ نے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قصہ میں حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسطور تخریج فرمائی ہے:

وفي حديث أسماء بنت أبي بكر عند الطبراني " كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يأتينا بمكة كل يوم مرتين بكرة وعشية ، فلما كان يوم من ذلك جاءنا في الظهيرة ، فقلت : يا أبت هذا رسول الله - صلى الله عليه وسلم- .فاببي و امي ماجاء به هذه الساعة الا امر فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم هل شعرت ان الله قد ا ذن لي في الخروج فقال ابوبكر فالصحابة يا رسول الله صلي الله عليه وسلم قال الصحابة قال اذ عني راحلتين قد علفتهما منذكذا وكذا انتظارا لهذا اليوم فخذ احدا هما فقال بثمنها يا ابا بكر فقال ثمنها بابي وامي ان شئت قالت فهيانا لهم سفرة ثم قطعت نطاقها فربطتها ببعضه فخرجا فمكثا في الغار في جبل ثور ف لما انتهيا اليه دخل ابو بكر الغار قبله فلم يترك فيه جحرا الا ادخل فيه اصبعه مخافة ان يكون فيه هامة وخرجت قريش حين فقد وهما في بغائهما وجعلوا في النبي صلي الله عليه وسلم مائة ناقة وخرجوا يطوفون في جبال مكة حتي انتهوا الي الجبل الذي هما فيه فقال ابوبكر لرجل مواجه الغار يا رسول الله صلي الله عليه وسلم انه ليرانا فقال كلا ان ملائكة تسترنا باجنحتها فجلس ذلك الرجل فبال مواجه الغار ف قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لو كان يرانا ما فعل هذا فمكثا ثلاث ليال الخ

"حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (ہجرت سے قبل ) ہمارے پاس ہر روز دو مرتبہ (صبح وشام) تشریف لاتے تھے۔اس معمول کے خلاف کبھی نہیں ہوا تھا سوائے اس دن کے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کو تشریف لائے۔میں نے اپنے والد سے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان آپ ٍ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جو تشریف لائے ہیں تو یقیناً کوئی حکم ضروری ہے۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمھیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے خروج کی اجازت دے دی ہے۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساتھ جانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیا،پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میرے پاس دو سواریاں ہیں۔جنھیں میں اس دن کے انتظار میں خوب کھلا پلا کر سفر کے لئے تیار کیا ہے۔پس ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے قیمتاً لے لوں گا۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا،میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرقربان اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیمتاً چاہتے ہیں تو ایسا ہی سہی۔حضرت ا سماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا آگے بیان کرتی ہیں۔ہم نے جلدی جلدی توشہء سفر جمع کیا پھر میں نے اپنا کمر بند کاٹ کر اس کے ایک ٹکڑے سے سامان سفر کو باندھا پھر آپ دونوں نکلے اور جبل ثور کے غار میں جا ٹھہرے،جب غار میں پہنچے تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوئے اور اس میں کوئی سوراخ ایسا نہ چھوڑا جس میں اپنی انگلی نہ ڈالی ہو،اس خوف سے کہ اس میں کوئی زہریلی چیز نہ ہو۔قریش مکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑے۔جب انہوں نے آپ دونوں کو اپنے درمیان سے غائب پایا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بازیافت کرنے والے کے لئے انہوں نے سو اونٹوں کاانعام بھی مقرر کیا۔مکہ کی تمام پہاڑیوں کا چکر لگاتے ہوئے وہ لوگ بالآخر اس پہاڑ تک پہنچے کہ جس میں آپ دونوں چھپے ہوئے تھے۔اس وقت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو غار کی طرف متوجہ دیکھ کر کہا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں دیکھ نہ لیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،نہیں کبھی نہیں کیونکہ فرشتوں نے ہم کو اپنے پنکھوں(بازوؤں ) سے چھپا رکھا ہے۔پھر وہ شخص بیٹھا اور غار کی طرف رخ کرکے پیشاب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اگر یہ ہم کو دیکھ رہا ہوتا تو ایسا کیسے کرتا؟پھر آپ دونوں تین رات ٹھہرے۔الخ"

اس حدیث کے متعلق علامہ ہشیمی ؒ فرماتے ہیں:

"اس کو طبرانی ؒ نے روایت کیا ہے۔لیکن اس کی سند میں"یعقوب بن حمیدبن کاسب"ہے۔جس کو ابن حبان ؒ وغیرہ نے ثقہ بتایا ہے۔اور ابو حاتمؒ وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔"

اصلاً اس حدیث کا راوی یعقوب بن حمید بن الکاسب ضعیف نہیں بلکہ حسن الحدیث ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے تقریب میں فرمایا ہے:

صدوق ربما وهم

امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں:

"امام بخاریؒ کاقول ہے کہ میں نے اس میں سوائے خیر کےاور کچھ نہیں دیکھا وہ اصل میں صدوق ہے۔"

یحییٰ بن معین ؒ نے اسے ثقہ کہا ہے۔یحییٰ ؒکا ایک دوسرا قول ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ابو حاتم ؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ابن عدی ؒ کا قول ہے کہ:

"نہ اس میں کوئی حرج ہے اور نہ ہی اس کی روایت میں وہ کثیر الحدیث اور کثیر الغرائب ہے۔"

امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں:

"میرے نزدیک وہ علمائے حدیث میں سے ہے لیکن اس سے مناکیر وغرائب بھی مروی ہیں۔"

قطانؒ کا قول ہے کہ:"اس میں لچک ہے۔"

مسلمہ ؒ نے اسے ثقہ بتایا ہے۔

اور ابن حبان ؒ کا قول ہے:

كان ممن يحفظ ويصنف

"یعقوب بن حمید الکاسب"کے تفصیلی ترجمہ کے لئے التاریخ لابن معین ؒ،الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ۔الضعفاء والمتروکون للنسائیؒ۔التاریخ الکبیر البخاریؒ۔کتاب الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ؒ۔الکامل فی الضعفاء لابن عدیؒ۔میزان الاعتدال للذہبیؒ۔معرفۃ الرواۃ للذہبیؒ۔تقریب التہذیب لابن حجرؒ۔تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ۔مجموع الضعفاء والمتروکون للسیروان۔مجمع الزوائد للہشیمیؒ۔فہارس مجمع الزوائد للبسیونی الزغول،سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للالبانی ۔سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ۔للالبانی الھدی اور ثقات لابن حبانؒ وغیرہ۔ کی طرف رجوع فرمائیں۔

اب جب کہ یہ معلوم اور ثابت ہوچکا ہے۔کہ مذکورہ بالاراوی "ضعیف"نہیں بلکہ" حسن الحدیث" اور یہ حدیث "حسن" ہے۔تو جبل ثور کےغار کے دہانہ پرشجر ،عنکبوت اور کبوتروں والی تمام روایتوں کی نکارت پر دلیل قاطع ہوئی۔
حاشیہ و حوالہ جات

1۔سیرت النبی از شبلی نعمانی ،ج1 ص272۔(نوٹ:یہ تاریخی غار جبل الثور میں آج بھی موجود ہے۔لیکن اس کا خلائق کے لئے بوسہ گاہ ہونا قطعاً بے بنیاد اور شرعاً ثابت نہیں ہے۔علماء کا اتفاق ہے کہ ہجر اسود کے سوا کسی دوسرے مقام کا بوسہ غیر مسنون بلکہ بدعت ہے)

2۔الوفا بااحوال المصطفیٰؐ لامام ابن الجوزیؒ۔ج1 ص 238۔یہ روایت قطعاً ناقابل اعتبار ہے۔اس کو مورخ واقدی الکذاب نے اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے لیکن افسوس کہ ابن الجوزیؒ نے اس کی صحت پر کوئی کلام نہیں کیا ہے۔

3۔الوفاء بااحوال المصطفیٰ ؐ لابن الجوزی ؒ ج1،ص230،مختصر سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم لشیخ محمد بن عبد الوہابؒ ص93 مختصرسیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم الشیخ عبداللہ بن محمد عبدالوہابؒ ص168۔مع السیر از حکیم عبدالرؤف داناپوری صفحہ 106،سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم از شبلی نعمانی ج1،272 سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم از سید سلیمان ندوی،ج3 ص766۔حیواۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم(انگریزی ترجمہ) از ڈاکٹر محمد حسین ہیکل مصری ص164۔165۔المواہب الدنیہ لقسطلانیؒ وشرح المواہب للذرقانیؒ وگیرہ۔

4۔حیواۃ محمدؐ(انگریزی ترجمہ)از ڈاکٹر محمد حسین ہیکل مصری صفحہ 165۔166۔

5۔علامہ شبلی نعمانی مرحوم نے ا پنی "سیرت النبی ؐ" میں جہاں ہجرت کےواقعات درج کئے وہاں کتب احادیث کی بعض معتبر روایات(بالخصوص صحیح بخاری کی روایت) میں حسب منشاء جا بجا تحریف سے کام لیا ہے جو لائق مذمت ہے۔

6۔The Life Of Muhammad by Emial Dermengham, Translated by; Arabella Yorke, Page:149 The Dial Press New York,1930.

7۔مصنف عبدالرزاق ؒ ج5،ص 389۔

8۔مسند احمد ؒحدیث 3251۔

9۔المعجم الکبیر للطبرانی ج11ص47،حدیث 12155۔

10۔تفسیر ابن کثیرؒ ج2ص 263۔

11۔البدایۃ والنہایۃ لابن کثیرؒ ج3 ص181۔

12۔مشکواۃ المصابیح للخطیب التبریزی ؒ،ص542۔

13۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للہشیمی ؒج7ص27۔

14۔ البدایۃ والنہایۃ لابن کثیرؒ ج3 ص181۔

15۔ سیرت النبی ؐازسید سلیمان ندوی،ج3 ص766۔

16۔ تقریب التہذیب لابن حجر ؒ ج2 ص 13۔،تہذیب التہذیب لابن حجرؒ، ج 7 ص 144۔التاریخ الکبیرالبخاری ج3 ص227۔،میزان الاعتدال للذہبیِؒ، ج3 ص 49۔کتاب الجروح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ۔ ج 3۔ص 123۔مجمع الزوائد للہشیمی ؒ۔ ج 7۔ص 27۔ فہارس مجمع الزوائد ،للزغلول ج 3۔ص 346۔اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للبانی ج3۔ص262۔

17۔ میزان الاعتدال للذہبیؒ، ج 3۔ص 34۔الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، ج 3 ص 204۔مجمع الزوائد للہشیمی ؒ ج 3 ۔ص 24۔اور فہارس مجمع الزوائد للذغول ج 3 ص 345۔

18۔مجمع الزوائد للہثیمیؒ ج7 ص27۔

19۔سلسلۃ الاحادیث ضعیفہ والموضوعۃ للبانی ج3 ص262۔

20۔سورۃ التوبہ۔40(ترجمہ:۔تم نے اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کی تو کچھ پرواہ نہیں۔اللہ تعالیٰ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے۔جب کافروں نے اسے نکا ل دیا تھا۔جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا۔جب وہ دونوں غار میں تھے۔جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔اورکافروں کابول نیچا کردیا۔الخ

21۔البدایہ والنہایۃ لابن کثیر ؒ ج3 ص181۔

22۔ تقریب التہذیب لابن حجر ؒ،ج 1 ص 165۔معرفۃ الثقات للعجلی ؒ،تعریف اہل التقدیس لابن حجر ؒ، ج ص 510۔کتاب الکنیٰ لام احمد بن حنبل ، ص 64۔جامع التحصیل للعلائی ؒ، ج ۔ص 135۔تہذیب الکمال المذیؒ،ج 1 ص 255۔تحفہ الاحوزی للمبارکفوریِ ؒ، ج 1 ص 293۔سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للبانی ج1۔ص 21۔85۔373۔338۔348۔363اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ۔ج1۔ص274۔399۔449۔وغیرہ

23۔ تقریب التہذیب لابن حجر ؒ،ج 1 ص 97۔ تہذیب التہذیب لابن حجر ج 1 ص 441۔ؒ۔میزان الاعتدال للذہبیؒ، ج 2 ص 310۔الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ،ج 1 ص 146۔الضعفاء والمتروکون لنسائیؒ۔ترجمہ نمبر 80۔التاریخ الکبیر بخاریؒ۔ج 2 ص 130۔الکامل فی الضعفاءج لابن عدیؒ۔ ج2 ۔ص 457۔المجموع الضعفاء والمتروکین للسیروان ص 65۔اور سلسلۃ الاحادیث الضیعفۃ والموضوعۃ للبانی ج3 ص 261۔ وغیرہ

24۔البدایۃ والنہایۃ لابن کثیرؒج3،ص181۔

25۔سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للبانی ج3،ص261۔

26۔ طبرانیؒ نے المعجم الکبیر ج3ص 443۔ میں بزار ؒ نے مسندج2ص299 میں ابو نعیم نے دلائل ج2ص111۔ میں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ج 3 ص481۔ھثیمیؒ نے کشف الاستارعن زوائد البزار حدیث نمبر 1741۔اور مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں ج 6۔ص 53۔ابن سعدؒ نے الطبقات ج1 ص 229۔میں مخلصؒ نے فوائدالمنتقاۃ میں ج 1 ۔2ص 13۔17۔شریف ابو علی ہاشمی ؒ نے فوائد المنتقاۃ میں ج1۔ص 108۔ خیثمہ الطرابلسی ؒ نے فضائل الصدیق میں ج2 ص 16۔ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال فی نقد الرجال ج 3۔ص 306۔میں عقیلی ؒ نے الضعفاء الکبیر میں ج3 ص 423۔

27۔فوائد المنتقاۃ للھاشمی ؒج1ص108۔

28۔البدایہ والنہایۃ لابن کثیرؒ ج3،صفحہ 182۔

29۔مجمع الزوائد للثیمیؒ ج6 ص53۔

30۔الضعفاء الکبیر العقیلی ؒ ج3 ص423۔

31۔ میزان الاعتدال للذہبیؒ ج3 ص307۔

32۔مسند البزارؒ ج2ص 299۔

33۔میزان الاعتدال للذہبیؒ ج3 ص306۔

34۔الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ ج3 ص423۔

35۔ الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ،ج 3 ص 422۔میزان الاعتدال للذہبیؒ، ج 3 ص 306۔مجمع الزوائد للھثیمیؒ،ج 3 ص 231۔فہارس مجمع الزوائد للبسونی،للذغول ج3 ص 364۔اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للبانی ج3 ص 260۔

36۔ میزان الاعتدال للذہبیؒ، ج 3 ص 307۔الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ ج 3 ص 423۔اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للبانی ج 3 ص 260۔

37۔ سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للبانی ج 3 ص 260۔سیرت النبی ؐ از شبلی نعمانی ج1 ص272۔سیرت النبی ؐ از سید سلیمان ندوی ج3ص765۔

38۔ تفسیر بغوی ؒ ج4 ص 174۔

39۔تفسیر ابن کثیرؒ ج2 ص310۔تفسیر جلالین برحاشیہ قرآن الکریم ص158۔مختصر سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم لشیخ عبداللہؒ ص 168۔ومعارف القرآن از مفتی شفیع ج4 س375،380 وغیرہ۔

40۔المعجم الکبیر لطبرانیؒ ج4 ص 106،ومجمع الزوائد للہشیمی ؒج6 ص 53،54۔

41۔مجمع الزوائد للہثیمیؒ ج6 ص54۔

42۔ التاریخ لابن معین ؒ، ج 2 ص 681۔الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ۔ ج4 ص 446۔الضعفاء والمتروکون للنسائیؒ۔ج 616۔التاریخ الکبیر البخاریؒ۔ج 8 ص 401۔کتاب الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ؒ۔ج 9 ص 206۔الکامل فی الضعفاء لابن عدیؒ۔ج 7 ص 2608۔میزان الاعتدال للذہبیؒ۔ ج 4 ص 450۔معرفۃ الرواۃ للذہبیؒ۔ ص 191۔تقریب التہذیب لابن حجرؒ۔ج 2 ص 275۔تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ۔ج 11 ص 383۔مجموع الضعفاء والمتروکون للسیروان۔ ص 237۔مجمع الزوائد للہشیمیؒ۔ ج 1 ص 123۔فہارس مجمع الزوائد للبسیونی الزغول ج 3 ص 427۔،سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ للالبانی ۔ ج 1 ص 570۔سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ۔للالبانی ج 1 ص 469۔ الھدی ج2 ص 174۔