میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً قالوا أَتَجعَلُ فيها مَن يُفسِدُ فيها وَيَسفِكُ الدِّماءَ وَنَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قالَ إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ ﴿٣٠﴾... سورةالبقرة

"اور وہ وقت یاد کیجئے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔انھوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔اللہ نے فرمایا،میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔"

تخلیق آدم علیہ السلام:

اللہ تعالیٰ بنی نوح آدم علیہ السلام کو اپنے احسان ومنت کی خبردیتا ہے کہ دیکھو تمہاری ایجاد کرنے سے پہلے تمھارا ذکر ملا اعلیٰ میں کیا تھا۔تمہارا خلیفہ ہونا ایک دوسرے کے بعد قرن در قرن قوم در قوم ٹھہرایا۔جس طرح فرمایا:

﴿هُوَ الَّذى جَعَلَكُم خَلـٰئِفَ فِى الأَر‌ضِ...﴿٣٩﴾... سورةفاطر

"وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ (جانشین) بنایا۔"

اور فرمایا:۔

﴿وَيَجعَلُكُم خُلَفاءَ الأَر‌ضِ...﴿٦٢﴾... سورةالنمل

"اور کون تم کو زمین میں اگلوں کا جانشین بناتاہے۔"

پھر فرمایا:

﴿وَلَو نَشاءُ لَجَعَلنا مِنكُم مَلـٰئِكَةً فِى الأَر‌ضِ يَخلُفونَ ﴿٦٠﴾... سورةالزخرف

"اوراگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنادیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے۔"

پھر فرمایا:

﴿فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ...﴿١٦٩﴾... سورة الاعراف

"پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے۔"

ابن کثیر ؒ نے فرمایا،اس جگہ خلیفہ سے مراد صرف آدم علیہ السلام نہیں ہیں جس طرح کہ مفسرین کے ایک گروہ کا خیال ہے۔قرطبی ؒ نے اسے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے تمام اہل تاویل کی طرف منسوب کیا ہے۔کیونکہ اس میں نظر ہے۔اور بڑا اختلاف ہے۔امام رازی ؒ نے اس کا ذکر کیا ہے۔اگر صرف آدم علیہ السلام مراد ہوتے تو فرشتے یہ نہ کہتے۔کہ تو مفسدوں اور خونریزوں کو کیوں مقرر فرماتا ہے۔بلکہ مراد جنس انسان ہے۔یہ بات ملائکہ کو کسی خاص علم سے معلوم ہوگئی ہوگی۔یاطبیعت بشر یہ سے اس امر کو سمجھاجائے گا۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سنادیا تھا۔کہ میں اس جنس کو کھنکھناتی مٹی سے بناؤں گا۔یالفظ خلیفہ سے یہ سمجھا کہ خلیفہ کا کام لوگوں کے درمیان ظلم کے فیصلوں کو روکنا،حرام اور گناہ والے کاموں سے باز رکھنا بھی ہوتا ہے لیکن یہ بات ملائکہ کی کچھ بطور اعتراض کے یابطور بنی آدم کے حسد پر نہ تھی جس طرح بعض مفسرین کا خیال ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لا يَسبِقونَهُ بِالقَولِ ...﴿٢٧﴾... سورة الانبياء

"اس کی اجازت کے بغیر وہ کوئی بات نہیں پوچھ سکتے۔"

﴿بَل عِبادٌ مُكرَ‌مونَ ﴿٢٦﴾... سورة الانبياء

"بلکہ جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں،وہ اس کے عزت والے بندے ہیں۔"

یعنی حسد سے بری ہیں اور یہاں تو اللہ نے ان کو خلق کا پیدا کرنا جتا دیا تھا۔بلکہ یہ سوال بطور دریافت حال کے تھا کہ اس طرح کی مخلوق پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے ،وہ لوگ تو مفسد خونریز ہوں گے۔سو اگر عبادت درکار ہے تو ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ہم سے کوئی قصور بھی سرزد نہیں ہوتا۔ہم پر انحصار کرنا کیا بُرا ہے۔اللہ نے جواب دیا کہ جو مصلحت پیدائش آدم علیہ السلام کی باوجود اس مفسدی کے جو تم کہتے ہو مجھے معلوم ہے۔تمھیں معلوم نہیں کیونکہ میں ان میں انبیاءعلیہما السلام ورسولؑ بھیجوں گا۔ان میں صدیق ،شہید ،صالح،عابد،زاہد،اولیاء،ابرار،مقرب علماءعامل،خاشع،محب اور متبع پیدا کروں گا۔

صحیح حدیث میں ہے کہ جب فرشتے بندوں کے اعمال لے کر آسمان کی طرف پرواز کرتے ہیں تو اللہ باوجود یہ کہ ان سے زیادہ دانا اور علیم ہے۔ سوا ل کرتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا،وہ کہتے ہیں ہم ان کے پاس گئے تھے ،وہ نماز پڑھ رہے تھے۔یہ اس لئے کہ فرشتے ہمارے درمیان آتے جاتے رہتے ہیں۔صبح اور عصر کی نماز میں اکھٹے ہوجاتے ہیں اور اعمال لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں۔

دوسری حدیث میں آیا ہے کہ رات کا عمل دن سے پہلے اور دن کا عمل رات سے پہلے اللہ کی طرف جاتا ہے ۔سو ملائکہ کا یہ کہنا کہ ہم نے ان کو نماز پڑھتے چھوڑا گویا اس آیت کی تفسیر ہے:۔

﴿إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ ﴿٣٠﴾... سورةالبقرة

"اللہ نے فرمایا ،میں وہ باتیں جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔"

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے جواب امام رازی ؒ وغیرہم نے ذکر کیے ہیں۔یہ جواب ان سب میں سے زیادہ واضح ہیں۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،پہلے اس زمین میں جنوں کی رہائش تھی ۔جب انھوں نے فساد کیا اور خونریزی کی۔ اور بعض نے بعض کو قتل کیا تو اللہ نے ان کے قتل کے لئے ابلیس کو بھیجا تو ابلیس نے مار دھاڑ کرکے انھیں دریاؤں اور پہاڑوں کی طرف نکا ل دیا۔پھر اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کرکے اس جگہ بسایا اس لئے انھیں خلیفہ فرمایا۔ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ جنات آدم علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے تھے۔ان کے فساد وخونریزی کے سبب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے انھیں سمندروں کے جزیروں کی طرف نکال دیا اور ان کی جگہ آدم علیہ السلام کو آباد کیا۔

تسبیح:۔

قتادہ ؒ نے فرمایا تسبیح سے مراد سبحان اللہ کہناہے۔تقدیس سے مراد نماز پڑھنا ہے۔یہی بات صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے۔مجاہد ؒ نے فرمایا ،تسبیح سے مراد تعظیم ہے اور تقدیس سے مراد تکبیر ہے ضحاکرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔تقدیس تطہیر ہے۔محمد بن اسحاق ؒ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ ہم تیری نافرمانی نہیں کریں گے۔اور نہ کوئی ایسی بات جو تجھے ناپسند ہو۔

ابن جریرؒ نے فرمایا،تقدیس کہتے ہیں تعظیم وتطہیر کو یعنی بڑھائی کرنا،پاکیزگی بیان کرنا، اسی سے یہ لفظ مشتق ہے۔سبوح قدوس یعنی ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے اور تیری برات کا اعلان کرتے ہیں ہر اس چیز سے جسے اہل شرک تیری طرف منسوب کرتے ہیں۔ہم تجھے ہر اس میل کچیل سے منزہ ومبرا تسلیم کرتے ہیں۔جسے اہل کفر تیری نسبت دیتے ہیں۔

صحیح مسلم میں ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا سب سے افضل کلام کونسا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے اللہ نے اپنے فرشتوں کے لئے منتخب کیا ہے۔

سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم

بیہقی ؒ نے عبدالرحمٰن بن قرط ؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات آسمانوں کی بلندیوں پر تسبیح سنی۔سبحان الله العلي الاعلي سبحنه وتعالي

مسئلہ امامت:۔

قرطبی ؒ وغیرہ نے فرمایا ،اس آیت سے مراد یہ ہوئی کہ مخلوقات کے فیصلے ،جھگڑوں کو ختم کرنے ،مظلوم کی دادرسی،اقامت حدود اور بے حیائی اور بڑے کاموں سے منع کرنے کے لئے خلیفہ کا مقرر کرنا لازم ہوا۔ایسے کام امام کے بغیر سرانجام نہیں پاسکتے۔یہ امامت یا تو "نص" (1)سے مل سکتی ہے۔جس طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام ہوئے یا "ایماء" (2)سے یاخلیفہ بنانے سے جس طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ ٹھہرایا۔یاصلحاء کی ایک(3) جماعت کے مشورے پر چھوڑ دینے سے جس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا،یا ارباب حل وعقد کے ایسے اجتماع سے جب وہ کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلیں یا کسی ایک (5) شخص کے بیعت کرلینے پر کہ اس کا التزام جمہور کے نزدیک واجب ہے۔امام الحرمین (امام جوینیؒ) نے کہا کہ یہ مسئلہ اجماعی ہے۔واللہ اعلم۔

یا(6)امامت اس طرح بھی ثابت ہوسکتی ہے۔کہ ایک آدمی اپنی اطاعت پر لوگوں کو مجبورکرے۔اس کی اطاعت بھی لازم ہوجاتی ہے۔تاکہ اختلاف،افتراق اور انتشار پیدا نہ ہو۔

امام شافعیؒ نےاسے نص سےثابت کیا ہے۔عقدامامت کے لئے گواہی کا ہونا بعض کےنزدیک شرط اور بعض کے لئے شرط نہیں ہے۔گواہی کے لئے دوگواہ کافی ہیں۔یہ بات واجب ہے کہ امام ،آزاد،بالغ،مرد،عاقل،مسلمان،عادل،مجتہد،صاحب بصیرت ،تندرست وتوانا فن سپاہ گری کا ماہر،قریشی نسب ہو۔یہی صحیح ہے۔ہاشمی ہونا یا خطا سے معصوم ہوناشرط نہیں ہے۔امام فسق سے معزول نہ ہوگا۔ہاں اگر کفر صریح ظاہر ہو تو معزول ہوگا۔یا اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی طرف سے کوئی دلیل اُس کی معزولی کی موجود ہو۔امام کے خود معزول ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دی تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود معزول ہوئے۔لیکن ان کی معزولی عذر کے سبب تھی۔اور اس پر ان کی تعریف کی گئی ہے۔

دو یا د و سے زیادہ اماموں کا ایک وقت میں امام بننا درست نہیں۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو کوئی تمہارے پاس آئے اس صورت میں تمہارا کام ہورہا ہو۔وہ تمہارے درمیان جدائی ڈالنا چاہے تم اسے مار ڈالو۔خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو۔جمہور کا بھی یہی قول ہے۔امام الحرمین وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ہاں استاذ ابو اسحاق ؒ نے دویادو سے زیادہ اماموں کا مقرر ہونا جائز بتایا ہے۔مگر صرف اس صورت میں جب اقطار دور دراز اور سلطنت بہت وسیع ہو۔امام الحرمین کو اس پر تردد ہے۔یہ ایسی بات ہے کہ خلفائے بنی عباس عراق میں تھے۔فاطمین مصر میں اموی مغرب میں ہم اس مسئلے کی تفصیل کسی اور جگہ کتاب الاحکام کی روشنی میں لکھیں گے یہ قول ابن کثیرؒ کا ہے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ طوائف الملوکی کا ہے۔ اس کی تحقیق کتاب"حسن المساعی" میں اچھی لکھی گئی ہے۔استاذ ابو اسحاق ؒ کا کہنا درست ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ہم خلیفہ مقرر کررہے ہیں ان فرشتوں سے تھا جو زمین میں آباد تھے جنھوں نے جنات کو زمین سے نکالا تھا۔یا مطلق فرشتوں سے تھا۔اس سے اللہ کا منشاء فرشتوں کو مشاورت کی تعلیم دینا آدم علیہ السلام کی تعظیم بتانا تھا۔اوراپنی ایجاد کی حکمت جتانا مقصود تھا۔ کہ جس میں خیر غالب ہو،اُس کو شرکے مقابلے میں اختیارکرنا بہتر ہوتا ہے۔بعض نے کہا،یہ کچھ فرشتوں سے مشورہ نہ تھا بلکہ ان کےدل کی بات دریافت کرنا مقصودتھا۔بعض نے کہا،بلکہ یہ بندوں کے لئے ارشاد ہے۔کہ تم آپس میں مشورہ کیاکرو اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں ہے اور نہ اللہ کے سوا کوئی غیب کو جانتاہے۔

﴿وَعَلَّمَ ءادَمَ الأَسماءَ كُلَّها ثُمَّ عَرَ‌ضَهُم عَلَى المَلـٰئِكَةِ فَقالَ أَنبِـٔونى بِأَسماءِ هـٰؤُلاءِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ﴿٣١﴾ قالوا سُبحـٰنَكَ لا عِلمَ لَنا إِلّا ما عَلَّمتَنا إِنَّكَ أَنتَ العَليمُ الحَكيمُ ﴿٣٢﴾ قالَ يـٰـٔادَمُ أَنبِئهُم بِأَسمائِهِم فَلَمّا أَنبَأَهُم بِأَسمائِهِم قالَ أَلَم أَقُل لَكُم إِنّى أَعلَمُ غَيبَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ وَأَعلَمُ ما تُبدونَ وَما كُنتُم تَكتُمونَ ﴿٣٣﴾... سورة البقرة

"اور اس نے آدمؑ کو سب چیزوں کے نام سکھائے۔پھر انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔انھوں نے کہا اے اللہ تعالیٰ !تو پاک ہے،جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے۔اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں بے شک تو دانا اور حکیم ہے۔اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اے آدمؑ! تم ان کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔جب انھوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو فرشتوں سے فرمایا کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی سب پوشیدہ باتیں جانتاہوں۔اورتم ظاہرکرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو وسب مجھے معلوم ہے۔"

اشرف المخلوقات:۔

اللہ تعالیٰ اس جگہ فرشتوں پر آدم علیہ السلام کی فضیلت بیان کی کہ ہم نے آدم کو علم اسماء کے ساتھ مختص کیا ،وہ ہر چیز کا نام جانتا تھا۔اور فرشتے نہیں جانتے تھے۔یہ واقعہ فرشتوں کے آدمؑ کو سجدہ کرنے کے بعد ہوا۔لیکن اس فعل اور شرف کو اس قصے پر اس لئے مقدم رکھا کہ اس مقام کو ملائکہ کے عدم علم اور آدم علیہ السلام خلیفہ کی پیدائش کی حکمت کے ساتھ مناسبت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس امتحان کا اس جگہ ذکر کیا تاکہ آدم علیہ السلام کاعلم میں شرف فرشتوں پر ظاہر ہو۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو ان کی اولاد کے نام اور جانوروں کے نام کہ یہ گدھا،گھوڑا،اونٹ،اور یہ زید،عمر ،بکر الگ الگ بتادیئے۔ان کا دوسرا فرمان یہ ہے کہ وہ اسماء متعارف نام تھے۔جو سب لوگ بولتے چالتے ہیں ۔مثلاً انسان ،دو آب(چوپائے) سماء(آسمان)ارض سہل،بحر ،خیل،(گھوڑا)حمار(گدھا) وغیرہ۔تیسری روایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پلیٹ،دیگچی،یہاں تک کہ بڑے چھوٹے پیالے کا نام بھی سکھایا۔

مجاہد ؒ نے فرمایا،اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو ہر چیز کا نام،ہرجانور کا نام،ہر پرندے کا نام بتایا،ربیعؒ نے کہا،اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو فرشتوں کے نام بتائے۔بعض نے کہا ستاروں کے نام سکھائے بعض نے کہا آدمؑ کی ساری اولاد کے نام بتائے۔ابن جریرؒ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ابن کثیر ؒ نے فرمایا،کہ تمام چیزوں کے نام بتائے مع ذات وصفت اور فعل کے ۔جیسا ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،حتي الفسوت والفسية۔یعنی کبیر صغیر(چھوٹا بڑا) سب کچھ سکھا دیا۔

صحیح بخاری میں مرفوعاً حضر ت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آیا ہے،قیامت کے دن مومنین اکھٹے ہوکر کہیں گے،چلواپنے رب کے پاس کسی سے سفارش کرائیں۔آدمؑ کے پس آکر یہ کہیں گے۔آپ سب انسانوں کے باپ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا،فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا،ہرچیز کا نام آپ کو سکھایا۔آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کریں۔الخ۔اسے مسلم،نسائی اوسر ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔یہاں فقط مقصود وعلمك اسماء كل شيئ کہ آپ کو ہرچیز کے نام بتائے،ہے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ آدمؑ کو ساری مخلوقات کے نام سکھائے۔پھر ان ناموں کو آدمؑ نے ملائکہ کے سامنے پیش کیا۔

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک جماعت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول ہے کہ مخلوقات کو ملائکہ کے سامنے پیش کیا مجاہدؒ کا فرمان ہے کہ آسمان والوں کو پیش کیا۔حسنؒ وقتادہؒ نے کہا،ہر چیز کا نام سکھایا۔وہ ہرچیز کا نام لیتے،ایک ایک گروہ پیش کیا جاتا،مطلب یہ ہواکہ فرشتوں سے یہ کہا گیا کہ یہ اشیاء تمھارے سامنے پیش کی گئی ہیں ان کے نام بتاؤ۔اگر تم یقیناً اس بات میں سچے ہو کہ میں جس کو زمین میں خلیفہ بناؤں گا وہ فسادی اور خونریز ہوگا۔اور جو تم رہو گے تو مطیع وفرمانبردار ہوگے۔لہذا جب تمھیں ان چیزوں کے جو تمھیں دکھائی گئی ہیں۔نام تک معلوم نہیں۔حالانکہ تم انھیں دیکھ رہے ہو تو جو چیزیں ابھی وجود میں نہیں آئیں،ان کا تمھیں کیا خاک علم ہوگا۔اس پر ملائکہ نےتنزیہہ وتقدیس بیان کی،اور ا پنی کم علمی کا اعتراف کیا۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاسبحان اللہ تنزیہہ کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کا ہر برائی سے۔

حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا یہ کیا کلمہ ہے۔آپرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،اللہ تعالیٰ نے اس کلمے کو اپنے لئے پسند کیا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کلمے کا ورد کیا جائے۔میمونؒ بن مہران نے کہا۔یہ ایک ایسا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے ۔زیدؒ بن اسلم فرماتے ہیں۔آدمؑ نے فرشتوں کے نام یوں بتائے تم جبرئیل ؑ ہو۔یہ میکائیل ؑ ہے وہ اسرافیل ؑ ہے ۔یہاں تک کہ سارے نام غراب(کوا) تک گن ڈالے۔

مجاہد نے کہا،کبوترکوا ہر چیز کا نام لیا۔پھر جب آدمؑ کی فضیلت فرشتوں پر ان اشیاء کےنام بیان کرنے سے ظاہر ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا،کیا میں نے تمھیں یہ نہیں کہاتھا کہ میں ہر غیب ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

﴿وَإِن تَجهَر‌ بِالقَولِ فَإِنَّهُ يَعلَمُ السِّرَّ‌ وَأَخفَى ﴿٧﴾... سورةطه

"اوراگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چھپے ہوئے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتاہے۔

اور ہد ہد کی زبان سے سلمانؑ کو یوں خبر دی:

﴿أَلّا يَسجُدوا لِلَّهِ الَّذى يُخرِ‌جُ الخَبءَ فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ وَيَعلَمُ ما تُخفونَ وَما تُعلِنونَ ﴿٢٥﴾ اللَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ رَ‌بُّ العَر‌شِ العَظيمِ ﴿٢٦﴾... سورة النمل

"یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ کو جو آسمانوں اورزمین میں چھپی چیزوں کا ظاہر کردیتا ہے اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتاہے کیوں سجدہ نہ کریں۔اللہ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔"

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ میں خفیہ کو اسی طرح جانتا ہوں جس طرح اعلانیہ کو۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت نے فرمایا﴿ مَا تُبْدُونَ﴾ سے فرشتوں کا قول مراد ہے۔ ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا﴾ اور﴿ تَكْتُمُونَ﴾ سے مراد ابلیس کے نفس کاتکبر اورغرور مراد ہے۔

ابن جریر ؒ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔قتادہؒ وغیرہ نے فرمایا کہ ﴿تَكْتُمُونَ﴾ سے مراد فرشتوں کا وہ قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوق بنائی ہے سب سے زیادہ علم ہمیں ہے۔اور ہم سے زیادہ کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب نہیں۔اب ان کو معلوم ہوگیا کہ آدمؑ کو ان پر علم اور شرف میں فضیلت حاصل ہے۔ابن جریرؒ نے کہا اس سلسلے میں سب سے بہتر قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے کہ جوتم زبان سے کہتے ہو وہ اورجو تم دل میں چھپاتے ہو وہ سب میرے لئے برابر ہے۔کوئی چیز خفیہ یا اعلانیہ مجھ پر مخفی نہیں۔

"کشاف " میں ہے کہ"آدمؑ"عجمی"نام ہے۔یہی قول بیضاوی اور سمین کا بھی ہے۔کہ یہ نام کسی لفظ سے اخذ نہیں کیاگیا۔اللہ تعالیٰ نے جب آدمؑ کو پیدا کرلیا تو سب چیزوں کے نام ان کو سکھادیئےکسی نے ناموں سے مراد یہاں دنیا کی ساری زبانیں مراد لیا ہے۔جب آدمؑ کی اولاد بکھر گئی تو کسی کو عربی زبان یاد رہی کوئی دوسری بھول گیا۔

بعض نے کہا علم اسماء سے مراد لفظ ،معنی،مفرد ،مرکب،حقیقت اورمجاذ سب کچھ سکھا دیا۔بعض نے کہا اسم سے مراد وہ لفظ ہے۔جو معانی پر دلالت کرتاہے۔خواہ ذات ہو یا صفات پس اس میں اسم ،فعل۔ حرف سب شامل ہیں۔یہ قول کہ اللہ تعالیٰ نے سب اسماء حسنیٰ سکھا دیئے تفسیر مظہری میں ہے مگر خصوص سے عموم بہتر ہوتاہے۔"علیم" اُسے کہتے ہیں جس کو ساری معلومات کا احاطہ ہو۔حکیم قاضی عادل کو کہتے ہیں۔یا اُس کو جس کا کام بہت پختہ ہو۔اور اس کے کام میں کوئی خلل نہ آئے۔

اس آیت سے یہ بھی استنباط ہوا کہ آدم علیہ السلام نبی متعلم تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ تم ان کو نام بتاؤ اور نام بتانے میں یہ ثابت ہوا کہ علم کوجہالت پرفوقیت ہے۔اسی لئے خلافت کے لئے علم شرط ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر آدمؑ کی اس فضیلت کو ظاہر کیاتھا۔علم سے بڑھ کر اگر کوئی اور شرف ہوتا تو اللہ تعالیٰ آدمؑ کی فضیلت کے لئے اس کا اظہار فرماتا،اسی علم کی فضیلت کی وجہ سے فرشتوں کوآدمؑ کے سجدے کے لئے کہا۔اس سے معلوم ہوا کہ عالم کے لئے کھڑا ہوناجائز ہے۔محبت علم کے لئے نہ کوئی شخصی تعظیم کے لئے۔

طیبی ؒ نے فرمایا۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ زبان کا علم عبادت سے بڑھ کر ہے۔پھر علم شریعت کا کیا ذکر؟پھر یہ فرمان کہ میں آسمان وزمین کے غیب کو جانتاہوں اس بات پر دلیل ہے کہ غیب دانی کا دعویٰ یاکسی چھپی بات پر مطلع ہونے کاجس طرح منجم اور سکاہن،اہل رمل،جادوگر اورشعبدہ باز کرتے ہیں۔مردود ہے۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی علم غیب نہیں جانتا۔نہ فرشتے،نہ انبیاءؑ۔نہ اولیاء۔

﴿وَإِذ قُلنا لِلمَلـٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ أَبىٰ وَاستَكبَرَ‌ وَكانَ مِنَ الكـٰفِر‌ينَ ﴿٣٤﴾... سورة البقرة

"اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گر پڑے مگرشیطان انکار اورغرور میں آکر کافر بن گیا۔"

یہ ایک دوسری کرامت اورشرف ہے۔جس کا اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کی اولاد پراحسان رکھا کہ ہم نے فرشتوں سے آدمؑ کوسجدہ کرایا اس باب میں بہت سی احادیث آتی ہیں۔حدیث شفاعت پہلے گزر چکی ہے۔موسیٰؑ وآدمؑ کی جب ملاقات ہوئی تو انھوں نے بھی ان سے یہی کہا کہ تم وہی آدمؑ ہو جسے اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا۔اس میں اپنی روح پھونکی،اپنے فرشتوں سے اس کو سجدہ کروایا۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ابلیس فرشتوں کے ایک قبیلے سے تھا جسے جن کہتے ہیں۔یہ قبیلہ منجملہ دوسرے فرشتوں کےگرم آگے سے پیدا کیا گیا تھا۔اس کا نام حارث تھا۔یہ بھی ایک جنت کا خزانچی ہوگیا تھا۔باقی سب فرشتے نور سے پیدا ہوئے۔وہ جنات جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔

اُن کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی۔شعلہ آگ کی زبان ہوتاہے۔انسان مٹی سے بنا ہے۔سب سے پہلے اُس میں جن آباد ہوئے۔جب انھوں نے زمین میں فساد کیا اور خون بہایا۔تواللہ نے فرشتوں کاایک لشکر ابلیس کے ساتھ ان کے خلاف بھیجا یہ فرشتے اسی قبیلے سے تھے جن کو"جن" کہتے ہیں۔جب ابلیس نے ان کو مار کر زمین کے اطراف واکناف اور پہاڑوں کی طرف بھگا دیا تو ابلیس کے دل میں یہ غرور پیدا ہوا کہ میں نے ایسا کام کیا ہے جو کسی دوسرے نے نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کو اس کے دل کی بات پر خبرہوئی وہ فرشتے جو اس ابلیس کے ساتھ گئے تھے۔ان کو اس کا علم نہ ہوا۔جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک نائب مقرر کروں گا تو انھوں نے کہا جسطرح جنات نے فساد کیا ،خون بہایا،اسی طرح یہ بھی کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔جو مجھے معلوم ہے تم نہیں جانتے یعنی اس کبر وغرور کو جو ابلیس کے دل میں ہے صرف میں جانتاہوں۔پھرآدمؑ کا خمیراٹھا کر ایک چپکتی ،کھنکھناتی خاک سے پیدا کیا۔اپنے ہاتھ سے بنایا۔چالیس رات تک ان کاپتلا پڑا رہا۔ابلیس آتا پاؤں سے ٹھوکر مارتا وہ پتلا آواز پیدا کرتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

﴿خَلَقَ الإِنسـٰنَ مِن صَلصـٰلٍ كَالفَخّارِ‌ ﴿١٤﴾... سورةالرحمان

"ٹھیکرے کی طرح کھنکناتی مٹی سے بنایا"

ابلیس اس پتلے کے منہ کی طرف سے داخل ہوکر پشت کی طرف سے نکل جاتا اور کبھی پشت کی طرف سے داخل ہوکر منہ کی طرفسے نکل آتا۔پھر کہتا تو صرف اس آواز کے لئے نہیں پیدا کیا گیا کسی اور کام کے لئے بنایا گیا ہے۔اگر میں تجھ پر غالب آگیا تو میں تجھے بربار کردوں گا۔

اگر تو مجھ پر غالب آیا تو میں تیری نافرمانی کروں گا۔جب اللہ تعالیٰ نے اس پتلے میں اپنی روح پھونکی تو یہ روح سر کی طرف سے شروع ہوئی جہاں تک بدن میں روح جاتی خون اور گوشت بنتاجاتا۔جب ناف تک رو ح پہنچی ۔آدمؑ بدن کو دیکھ کرخوش ہوئے اور چاہا کہ اٹھ بیٹھیں مگر نہ اٹھ سکے یہی مطلب ہے اس آیت کا۔

﴿خُلِقَ الإِنسـٰنُ مِن عَجَلٍ...﴿٣٧﴾... سورةالانبياء

"انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویاجلد بازی) ہی سے بنایاگیا ہے۔"

یعنی خوشی اور غمی میں صبرنہیں کرتا۔جلد با ز ہے۔ جب سارے پتلے میں روح پہنچ گئی توحضرت آدمؑ کو چھینک آئی۔تو اُس نے کہا۔﴿الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ﴾ یہ کہنا اللہ تعالیٰ کے الہام سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایايرحمك الله يا ِأدم پھر اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے جو ابلیس کے ساتھ فساد اور خرنریزی ختم کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔سے کہا!(اُن فرشتوں سے نہیں کہا جو آسمانوں میں تھے)کہ تم آدمؑ کو سجدہ کرو۔سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔اُس نے غرور کیااُس کے دل میں تکبر تھا۔جی میں کہتا تھا میں اس کو ہرگز سجدہ نہ کروں گا،اس لئے کہ میں اس سے کہیں بہتر ہوں۔عمر میں بڑا ہوں اور پیدائش کیں قوی ہوں۔یہی مطلب ہے اس آیت کا:

﴿خَلَقتَنى مِن نارٍ‌ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ ﴿١٢﴾... سورة الاعراف

"تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس(آدمؑ) کو مٹی سے پیدا کیا ہے"

یعنی آگ مٹی سے زیادہ زبردست ہے۔جب ابلیس نے سجدہ نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر طرح کی خیر سے محروم کرکے شیطان رجیم بنادیا۔یہ اُس کی معصیت کی سزا تھی۔پھر آدمؑ کو سب چیزوں کے نام بتائے۔سب چیزوں کوحاضر کرکے ان فرشتوں کے سامنے جو ابلیس کے ہمرا ہ تھے نام پوچھے سب نے اللہ تعالیٰ کا غصہ جانتےہوئے علم غیب سے اپنی برائت کا اعلان کیا ۔

ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ اس اثر کا سیاق وسباق غریب ہے۔تفسیر مشہور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسی اسناد سے آئی ہے۔تقریباً ایسی ہی بات سدی ؒ نے روایت کی ہے۔سدی ؒ کی تفسیر میں اسرائیلیات بہت ہیں۔عین ممکن ہے کہ بعض باتیں اُن میں مندرج صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے اقوال نہ ہوں۔یہ بھی ممکن ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے گزشتہ کتابوں سے بعض باتیں لی ہوں۔حاکم ؒ نے مستدرک میں سدیؒ کی اسناد کو بعینہ لاکر بخاری شریف کی شرط پر بیان کیاہے۔پھر ابن کثیرؒ نے فرمایا اس کی غرض یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو آدمؑ کے سجدے کا حکم دیا۔تو ابلیس بھی اسی حکم میں داخل تھا۔اگرچہ ان کی جنس میں سے نہ تھا۔مگر فرشتوں جیسے کام کرکے ان میں شامل ہوگیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرکے مذموم ٹھہرا۔

اس کی تفصیل﴿ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ‌ رَ‌بِّهِ﴾ کے ضمن میں آئے گی۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔