میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مولانا ابو الکلام آزا دؔبہت ذہین تھے اور حسّاس بھی!ابھی صرف 14، 15 برس کی عمر تھی، نئی نئی اور مختلف مضامین کی کتابیں پڑھتے تھے اور اسی تیزی کے ساتھ ذہن اور خیالات پر اس کے اثرات بھی ہوتے تھے۔اسی طرح ذہانت اور گھر پر اساتذہ کی تعلیم کا اثر ہوتا تھا۔ سوسائٹی کے نظّارے، چہل پہل، طرح طرح کے رنگ روپ پر سرسری نظر بھی ،بدلتے ہوئے موسموں کی طرح چھپ کر ذہن وذوق اورعادات پر اثر ڈالتی تھی اور گھر میں گزرتے اور بدلتے ہوئے حالات ذہن ودماغ اور جسم وجان پر اثر انداز ہوتے تھے۔موصوف آزادؔچونکہ ماں باپ اور بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے ہونے کے ساتھ سب سے زیادہ حسّاس بھی تھے،اس لیے گھر کے صبح وشام کے حالات سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ اگرچہ گھر کے لوگ سب سے زیادہ اُنہیں کا خیال رکھتے تھے اور سب سے زیادہ غیر مطمئن بھی وہی رہتے تھے۔

والدہ کے انتقال کے بعد اگرچہ گھر کی زندگی کے معمولات اور سونے جاگنے، اُٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، اسباق وغیرہ کا نظام وہی تھا لیکن گھر کی دنیا بدل گئی تھی۔ گھر کا ماحول اور زندگی کا وہ لطف نہیں رہا تھا جو بدلتے ہوئے موسموں کی طرح گھر کی زندگی کا خاصہ ہوتا تھا۔ اب گھر کی زندگی پر ایک سناٹا چھایا ہوا تھا،اور کبھی کبھی اور کسی وقت فضا میں ایک بلند آواز گونجتی تھی اور سناٹا چھا جاتا تھا۔ مولانا آزا دؔ نے 'ماں سے خالی گھر' کے عنوان سے مختصر پارہ لکھا ہے، اگرچہ حالت پوری کتاب میں پھیلی ہونی چاہیے تھی اور زندگی بھر اس کا راگ ہونا چاہیے تھا، اس لیے کہ ابو الکلام کی ابھی عمر ہی کتنی تھی اور ماں کی محبت کے حظ ہی کہاں اُٹھا پائے تھے کہ وہ ماں کو بھول جاتے۔ لیکن اُنہوں نے نہایت قوتِ برداشت سے ماں کی محبت کو دل میں چھپا لیا تھا۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مضمون کا آغاز ماں کی یاد اور اس کی محبت سے نہیں، باپ کی ہیبت سے ہوتا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں:

''والد مرحوم کی ہیبت اُن کی شفقت پر غالب تھی۔ مجموعی طور پر ان کی زندگی چوں کہ بزرگی، عظمت اور عوام پر اثر سے مرکب تھی اور گھر ماں سے خالی تھا، اس لیے قدرتی طور پر ہم لوگوں کو گھر میں بھی اُن کا وہی اثر غالب نظر آتا تھا اور قلب اس قدر مرعوب ہو گیا تھا کہ ان کی آواز سے ہم لوگ کانپا کرتے تھے۔''

والدہ کے انتقال سے پہلے گھر کے اندر جو آداب اور تہذیب پیدا ہوئی تھی، اس کا کوئی نشان باقی نہ رہا تھا۔مولانا آزا دؔ کے والدِ گرامی کے مزاج کی سختی اور دلوں پر اُن کی ہیبت ہی کیا کم تھی کہ والد کے بعض اَطوار سے سخت نالاں تھے، جن سے حضرت ولی اللّٰہی خانوادۂ علمی ودینی اور ان کے اپنے اساتذہ کے سلسلے کے علما بھی اخلاق وتہذیب کے تعلق سے بہت دور ونفور تھے۔ لیکن قدرت نے ان کے چشم وچراغ مولانا ابو الکلام آزاد جن کے ہاتھ میں قلم دیا تھا، وہ اُن سے سخت نالاں تھے۔ اُنہوں نے اپنے والد کے عقیدہ وعمل کے مشاہدے ہی پر نہیں، ان کے اخلاق ودیانت پر بھی گواہی دی ہے۔ یہ ایک عالم دین، صوفی، صاحبِ طریقت اور پیر ومرشد پر خود اُس کے بیٹے کی گواہی ہے اور مسئلہ اختلافِ دین ہی کا نہیں، جھوٹ اور فریب کا ہے۔ یہ مولانا ابو الکلام آزاد کی عظمت اور استقامت وعزیمت کی شان ہے۔یہ بیسویں صدی میں قرنِ اُولیٰ کی مثال ہے کہ بیٹے نے باپ کے خلاف صداقت وحق کی گواہی دی... اس قسم کی مثالیں مضمون کے آنے والے صفحات میں پیش کی جائیں گی۔

مولانا ابو الکلام آزا دؔ ایک دین دار گھرانے اور اس کی دینی، اخلاقی، تہذیبی روایات کو زندہ رکھنے والے بزرگ تھے۔ ان کے اجداد کے بلندپایہ اخلاق اور عزیمت ِدعوت کا مقام تاریخ میں بے مثال ہے اور مولانا ابوالکلام آزاد اپنےمقام، ان کے بزرگوں کے اخلاق، ان کی عزیمت اور دین کی بے پناہ محبت میں کسی طرح بھی اپنے اَسلاف سے کم تردرجہ نہیں رکھتے تھے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابتداءً اپنے مطالعے کے ایک دور میں نہ صرف مذاہبِ عالم کی سچائی سے ناآشنا ہو گئے تھے، بلکہ اسلام کی حقیقت سے بھی گریزاں ہوئے تھے ۔ لیکن خاکسار اس تذکرے کو اس زبان اور طرزِ بیان میں نہیں لکھے گا جیسا کہ عام طور پر لوگ اس قسم کے حالات اور مسائل میں استعمال کرتے ہیں۔مولانا ابو الکلام آزاد کے بارے میں خاکسار اس قسم کی زبان استعمال نہیں کر سکتا ۔ خاکسار مولانا آزاد کے ردّ و قبول کو بالکل اُنھیں معانی میں استعمال کرے گا جن معنیٰ و مفہوم میں مولانا نے اُسے استعمال کیا ہو گا ۔

مولانا ابو الکلام آزاد ایک موقع پر گمراہیٔ عمل اور تصدیق حقائق کے بارے میں لکھتے ہیں :

''گمراہئ عمل کی آخری حد 'فسق 'ہے اور گمراہئ اعتقاد کی 'الحاد' ۔ سو فسق و الحاد کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جس سے اپنا نامۂ اعمال خالی رہا ہو ،اور 'فسق 'خود بھی ایک کامل قسم کا عملی الحاد ہے :

چو پُرسشِ گنہم روزِ حشر خواہدشد تمسکات ِگنا ہانِ خلق پار کنند!

قبل اس کے کہ ہم پر شہادت دی جائے ،بہتر ہے کہ خود آپ ہی اپنے لیے شاہد بن جائیں : ﴿اقرَ‌أ كِتـٰبَكَ كَفىٰ بِنَفسِكَ اليَومَ عَلَيكَ حَسيبًا ﴿١٤﴾... سورةالإسراء"اور ہم شہادت دیں یا نہ دیں ، خود ہمارا وجود ہی سرتا پا شہادت ہے: ﴿بَلِ الإِنسـٰنُ عَلىٰ نَفسِهِ بَصيرَ‌ةٌ ﴿١٤﴾ وَلَو أَلقىٰ مَعاذيرَ‌هُ ﴿١٥﴾... سورةالقيامة"ہاتھ پاؤں کی شہادت پر تعجب کیوں ہو، جب اس دنیا ہی میں دیکھ رہے ہیں کہ اس کا ہر لمحہ یوم الاشہاد کا حکم رکھتا ہے ، اور خود ہمارا قرین بغل ہی دم بدم شہادت دے رہا ہے: ﴿لا أُقسِمُ بِيَومِ القِيـٰمَةِ ﴿١﴾ وَلا أُقسِمُ بِالنَّفسِ اللَّوّامَةِ ﴿٢﴾... سورةالقيامة"البتہ ساری ہلاکت اس میں ہے کہ ہنگامۂ غفلت وخود فراموشی میں نفس لوّامہ کی صداے شہادت بہت کم کانوں تک پہنچتی ہے ۔ اور پہنچتی ہے، تو خود ہمارے ہی ہاتھ سر شاری و بدمستی کے نقّاروں پر اس زور سے پڑرہے ہیں کہ اُن کے شور وغل میں یہ سر گوشئ ملامت کب کام دے سکتی ہے! اِلاّ یہ کہ ﴿صَيحَةً و‌ٰحِدَةً فَإِذا هُم خـٰمِدونَ ﴿٢٩﴾... سورة يس" کی گھڑی سر پر آجائے ۔

گوشت از بار در گراں شدہ است نشنوی نالہ و فغانِ مرا!

لیکن دنیا کی ساری سچائیوں اور یقینوں سے بڑھ کر یہ حقیقت ہے کہ

کار سازِ ما بفکر ِکارِ ما فکرِ ما در کارِ ما آزار ِما!1

اور توفیق الٰہی کے بارے میں فرماتے ہیں :

''نا گہاں جاذبۂ توفیق الٰہی پردۂ عشق مجاز میں نمودار ہوا ،اور ہوس پرستی کی آوار گیوں نے خود بخود شاہراہِ عشق و محبت تک پہنچا دیا ۔آگ لگتی ہے تو رفتہ رفتہ شعلے بھڑکتے ہیں ۔ سیلاب آتا ہے ،تو بتدریج پھیلتا ہے ۔ یہ تو ایک بجلی تھی جو آناً فاناً نمودار ہوئی ،چمکی اور دیکھا تو خاک کا ڈھیر تھا :

می گزشتم زغم آسودہ کہ ناگہ زکمیں عالم آشوب نگا ہے سر ِراہم بگرفت ''2

''اور اس راہ کی نیر نگیوں کا کچھ عجب حال ہے ۔ہر چندۂ راہ ایک ہی ہے ،لیکن کرشمے بے شمار ہیں ۔ اور گو ہوش سب کھوتے ہیں مگر ایک ہی جلوے سے نہیں:

اے ترا با ہر دلے راز ے دگر ! ہر گدا رَا بر درت نازے دگر !

کوئی پکارتا ہے اور دروازہ نہیں کھلتا ۔ کوئی بھاگتا ہے اور اس پر کمند پھینکے جاتے ہیں ۔ قانوِن طلب وسعی سے انکار نہیں لیکن اگر وہ بے طلب دینا چاہے، تو اس کا ہا تھ پکڑنے والا کون ہے ؟

کارِزلفِ تست مشک افشانی ،امّا عاشقاں مصلحت راتہمتے بر آہوئے چیں بستہ اند!

غرض کہ اپنی غفلت پرستیوں کا تویہ حال تھا ۔ لیکن ادھر کا ر فرماے غیب کا فیصلہ کچھ دوسرا ہی ہو چکا تھا ۔

بہ دَور کردنِ من از غرور می خندد حریفِ سخت کمانے کہ در کمیں دارم3

حضرت مولانا کے اظہار کے بعد کیا رہ گیا ہے کہ قلم کو حرکت دے... البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ حادثہ کب ہوا تھا اور طوفان کب اُٹھا تھا اور کتنی دیر کے لیے ؟مولانا نے اس طوفان کے دورانیے کے لیے ایک سال پانچ ماہ کی مدت بتائی ہے۔ فرماتے ہیں :

(1) ''الحمد للہ کہ اس منزل کے وقفہ نے بھی زیادہ طول نہ کھینچا ۔ ایک سال پانچ ماہ کے اندر اس کوچے کے بھی تمام رسم و راہ ایک ایک کر کے دیکھ ڈالے ، کوئی گوشہ ، کوئی مقام باقی نہ چھوڑا ۔ نہ مجنوں سے ہم عنانی کا سودا ہے ، نہ فرہاد سے مقابلے کا دعویٰ ۔ نہ یہ کہ

شمہ از داستانِ عشق شور انگیز ماست ایں حکا یتہا کہ از فرہاد و شیریں کردہ اند

البتہ یہ ضرور ہے کہ عشق و عاشقی و طریق آشفتگی وجاں سپاری کی جتنی باتیں سننے میں آتیں، وہ سب کر کے دیکھ لیں ، اور اس راہ کا کوئی حال و معاملہ ایسا نہیں رہا جو کسی زبان پر ہوا اور اپنے اوپر نہ گزر چکا ہو:

کچھ قمریوں کو یاد ہیں ، کچھ بلبلوں کو حفظ عالم میں ٹکڑےٹکڑے مری داستاں کے ہیں!4

اگرچہ اس معاملہ کا خاتمہ بظاہر نا کامی و مایوسی پر ہوا ۔ لیکن فی الحقیقت فتح ومراد کی ساری شادمانی اسی نا کامی میں پوشیدہ تھی ۔ اسی ناکامی نے بالآخر کامیابی کی راہ کھولی، اسی مایوسی سے اُمید کا دروازہ کھلا۔جو تاریکی اپنی سیہ بختیوں کی رات نظر آتی تھی ،وہی صبح مقصود کے طلعتِ جہانتاب کا نقاب ثابت ہوئی ۔ گو قدم بت کدہ کی راہ پر تھے ،مگر غبار ِمجاز دور ہوا ، تو کعبۂ حقیقت سامنے تھا :﴿يُخرِ‌جُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِ‌جُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ وَيُحىِ الأَر‌ضَ بَعدَ مَوتِها وَكَذ‌ٰلِكَ تُخرَ‌جونَ ﴿١٩﴾... سورةالروم

کفر آوردم و در عشق تو ایماں بُردم

سارا کام پہلے سے ہو چکا تھا ۔ چولھا مدتو ں سے گرم تھا ، ہوس بازی نے چنگاریوں کا کام دیا ، عشق نے شعلے بھڑ کائے تھے ۔ صرف اتنی بات باقی رہ گئی تھی کہ ایک دیگ اُتار کر دوسری چڑھا دی جائے ۔ یہ کام عشق کی اُمیدوں سے نہ ہو سکا ، تو کیا مضائقہ ! عشق کی مایو سیوں نے تو پورا کر دیا:

آں نافۂ مراد کہ می خواستم زغیب درچینِ زلفِ آں بتِ مشکیں کلا لہ بود5

(2) ''اگر کسی کو اوّل روز سے اپنے زہدو پاکی کی خشک دامنی پر ناز ہو ، تو ہم کو بھی اپنی اُس رندی وہوس ناکی کی تردامنی کا کوئی شکوہ نہیں ، جس کو عین اکیس بائیس کی عمر میں (کہ جنونِ شباب کی سرمستیوں کا اصلی موسم ہوتا ہے ) دونوں ہاتھوں سے اس طرح نچوڑا کہ ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑا۔

(3) اس واقعے کے عہد کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں :

''باوجود یکہ اس معاملہ پر کامل نوبرس گزر چکے ہیں لیکن الحمد للہ کہ جو درد پہلے داغ اور پھر زخم بن کر رہا تھا ، اب ناسور بن کر نہاں خانۂ دل میں محفوظ ہے ، اور اُمید ہے کہ ہمیشہ محفوظ رہے گا۔''6

الف)اس میں مدتِ حادثہ کوخود حضرت مولانا نے بیان کر دیا ہے کہ اوّل تا آخر حادثے کے تمام اثرات ایک سال 5 ماہ میں پیدا ہوئے اور مٹ چکے تھے ۔

ب ) اس میں پیش آنے والے واقعے کو اس وقت تک جب کہ وہ رانچی کی نظر بندی (اپریل 1916ء تا 30 دسمبر 1919ء) میں تھے اور تذکرہ کی تالیف (1918ء) میں مصروف تھے، پورے نو سال گزر چکے تھے ۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ یہ دور 1908ء میں ختم ہو چکا تھا اور اس کا دورانیہ ایک سال پانچ ماہ کے شب و روز پر محیط تھا ۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ واقعہ کب پیش آیا ، کس مدت تک گم راہی کی حالت رہی ، کب اس سے نجات پائی اور کب حق و صداقت کی زندگی کے شب و روز ایک کامل درجے کے مسلمان کے معمولات کے مطابق گزرنے لگے !

مولاناآزاد نے اپنی زندگی کے اس حیرت انگیز واقعے کا تذکرہ سب سے پہلے 1921ء میں اس وقت کیا جب کہ وہ رانچی میں بہ زمانۂ اسارت' تذکرہ' لکھ رہے تھے۔ مولانا کی یہ تحریر فارسی زبان میں ڈوبی ہوئی اُردو میں ہے ۔ زبان کی بلندی ، روانی اور لطافت میں کوئی شبہ نہیں لیکن اس مسئلے کی زبان میں شاید مولانا نے ارادتاً کچھ مشکل اُسلوب اختیار کیا ہے اور حقائق کو آشکارا کرنے کے بجائے ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کوشش کے باوجود وہ اسی سعی میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے ہیں ۔ کسی نہ کسی جگہ حقیقت کے چہرے سے پردہ ہٹ ہی جاتا ہے اور حقیقت نمایاں ہو جاتی ہے ۔ لیکن تذکرہ کی اشاعت کے چالیس سال کے بعد، حضرت مولانا کے 1958ء میں انتقال کے بعد، مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی نے 'آزاد کی کہانی' شائع کی۔ یہ چوں کہ عام بول چال کی زبان میں تھی ، اس لیے اس کی سادگی نے حقائق کو بالکل واضح کر دیا ہے ۔ اب کوئی بات نہ راز میں رہی اور نہ کسی درجے میں چھپانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مولانا نے خود ہی گھر کے حالات اور حضرت والد گرامی مولانا خیرالدین کے حالات خود ہی پوست کندہ کر دیے ہیں ۔
------ -----2------------

مولانا آزادکی زندگی کے ابتدائی حالات اور ان کے شوق و مذاق کی سب باتیں مثلاً تصنیف ،تالیف ، شاعری ، اخبار و رسائل کے اجرا و مباحث ،تقاریر، مطالعہ و مشاہدے کا شوق وغیرہ، یہ مشاغل تو ان کی پسند کی باتیں تھیں ۔ گھر کے اندرونی حالات ، والد مرحوم کی سخت گیری اور بہن کی شادی کا مسئلہ ، جو والدہ کی زندگی میں ماموں کے بیٹے سے ہونے والی تھی،لیکن والدہ کے انتقال کے بعد جب وہ مکہ مکرمہ سے کلکتہ پہنچا تو والد مرحوم نے اس طے شدہ اور پسندیدہ رشتے سے انکار کر دیا اور ان کی اولاد کا اس کے خلاف خاموش ردّ عمل کا اظہار کچھ کم تھا؟ لیکن اُنھوں نے اس بات کو محسوس ہی نہ کیا کہ ان کی منگیتر بیٹی جو اس رشتے سے خوش تھی، اس کے دل پر، اور ان کی دوسری بیٹیوں اور بیٹوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی!

حال آں کہ قطعاً اُمید تھی کہ اگر والد محترم اپنی ضد سے باز آجائیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کی رنجش دور ہوجاتی اور ایک اچھے اور مثالی خاندان کی بنیاد پڑتی! لیکن کوئی عالم دین جو حقائق دینی سے واقف ہو، احکام کتاب و سنت جس کے سامنے کھلے ہوئے ہوں اور ان کی تاثیر وفیضان سے محروم بھی ہو تو ایک عام شخص اس کے بارے میں سکوت اختیار کرنے کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ قدرت نے خود اس کے نونہال کو اس کی حقیقت دینی سے پردہ ہٹا دینے پر متوجہ کردیا ہو!

اب قارئین غور فرمائیں کہ مولانا ابو الکلام آزاد جب کہ وہ 15،14 برس کے بچے ہی تھے ، ان کے والد گرامی اپنے حسین اور ذہین بیٹے کو کیا سکھا رہے تھے ،کیا پڑھاتے تھے ،اسے کس راہ پر ڈال رہے تھے اور کیا بنا رہے تھے ؟ مولانا آزاد اپنے والدِ گرامی مرحوم کے بارے میں فرماتے ہیں :

''حقیقتاً میں سوچتا ہوں ، تو اس بارے میں والد مرحوم کا تعصّب ، حد درجے تک پہنچا ہوا تھا ، اور میں حیران ہوں کہ اسے کیوں کر کسی لفظ و جملے میں محدود کر وں ۔ یہ پہلے بہ تفصیل کہہ چکا ہوں کہ کس طرح اوائل عمر سے یہ عصبیت ان میں جان گزیں ہوئی اور کس طرح مدت العمر ان کی تمام تصنیف و تالیف، وعظ و مباحث کا تنہا مرکز و مطمح رہی ہے ۔ مجھے اپنے بچپن کی پرانی سے پرانی مسموعات جو یاد آتی ہیں ، ان میں 'وہابیت ' کا ذکر موجود پاتا ہوں ۔''

''شب و روز اس کا چرچا گھر میں بھی رہتا تھا اور باہر بھی ۔ والد مرحوم کے جو خدام اور مرید تھے، وہ بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور یہ قدرتی تھا ۔''7

مولانا ابو الکلام آزاد کو بچپن ہی سے جو تعلیم دی جاتی تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا خیرالدین مرحوم کے ایک مریدِ خاص و خدمت گزار حافظ ولی اللّٰہ جو اُنہیں کبھی کبھی گھر سے باہر پھرانے کے لیے لے جاتے تھے ، اسی تعلق سے مولانا آزاد نے 'غبارِ خاطر'میں ان کا ذکر کیا ہے اور 'آزاد کی کہانی' میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ا ن کو کیا سکھایا کرتے تھے ، مولانا آزاد فرماتے ہیں :

''مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں میرا تخیل یہ تھا کہ وہابی کوئی خاص طرح کا ایک بڑا ہی مکروہ اور قابل نفرت مخلوق ہے ! میں اپنے ذہن میں اس کا تصور یوں کرتا تھا کہ ایک قبیح صورت انسان جس کا آدھا چہرہ کالا ہے اور پیشانی پر بہت بڑا گھٹا ہے، یہ اس لیے کہ حافظ صاحب کی زبانی سنتے تھے کہ دل کے کفر اور بغض ِ رسولﷺ کی وجہ سے وہابیوں کا آدھا منہ کالا ہو جاتا ہے اور ان کی علامت یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے پیشانی پر ایک بہت بڑا گھٹا بنا لیتے ہیں !''8

یہ تعلیم کسی بڑی بوڑھی کی چڑیا چڑے کی کہانی نہیں جو وہ بچوں کو سنا کر سُلاتی ہیں، بلکہ وقت کے پیرو مرشد کی تعلیم ہے ۔ جو پہلے خدام ومریدین کے ذہنوں اور دلوں میں اُتارتے ہیں پھر وہ عوام میں پھیلا کر پیر صاحب کے فضائل و کمالات سنا سنا کر اُن کے نام اور شہرت کو پھیلاتے ہیں۔ مولانا آزادنے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ اُن کے گھر سے باہر تک یہی ہنگامہ برپا تھا۔ مولانا کے الفاظ یہ ہیں کہ ''والد مرحوم کے جو خدام اور مرید تھے، وہ بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ ''

مولانا خیر الدین مرحوم نے اپنے خدام اور مریدین کو اسی رنگ میں رنگ لیا تھا ۔ان میں سے حافظ ولی اللّٰہ اُن کے مریدِ خاص مولانا ابو الکلام آزاد کو اسی رنگ میں رنگنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ۔ وہابیوں کی رسوائی کا ایک طریقہ یہ اختیار کیا گیا تھا کہ اُن کے ناموں کے لیے مکرو ہ اور خبیث چیزوں ، مچھروں اور چوہوں سے تکلیف و نقصان وغیرہ کے لیے یا کسی کانے اور بد شکل آدمی کے لیے متبادل نام 'وہابی یا وہابیوں ' اسماء کو استعمال کیا جاتا تھا ۔ مولانا نے اشا رات ہی میں اس شکل کا ذکرہی نہیں کیا بلکہ تحریر میں بھی اس کی شکل پیش کر دی ہے ۔ مولانا کہتے ہیں :

''ہمارے دیوان خانے میں اس بارے میں خاص مصطلحات اور اسماء تھے، دنیا کی ہر مکروہ اور خبیث چیز اسی لقب سے پکاری جاتی تھی ۔مثلاً حافظ جی کہتے تھے :'' شب کو اس قدر وہابی تھے کہ نیندنہ آئی ۔''یعنی مچھر بہت تھے ۔ ''دیوان خانے میں کتابوں کے صندوق پڑے تھے،ان کے نیچے 'وہابی' چلے جاتے تھے اور پیندے میں سوراخ کر دیتے تھے ۔'' یعنی چوہے! ...چنانچہ بڑی جدوجہد کے ساتھ 'وہابیوں' کو پکڑا جاتا تھا اور ہم لوگ یوں حساب کرتے تھے:'' آج دو وہابی مارے گئے ! ایک بہت بڑا وہابی بھاگ گیا۔

نہیں معلوم کون غریب تھا لیکن ایک بڑا ہی بدصورت آدمی تھا ۔ ایک آنکھ سے کانا، دوسری میں بھی جالا ، چہرے پر شاید فالج بھی گرا تھا ، ایک طرف سے لب ٹیٹرھے تھے ، رنگ بالکل سیاہ۔ رستے میں کبھی کبھی ہم حافظ صاحب کے ساتھ سٹرک پر جاتے ، تو اس غریب کی طرف اشارہ کر کے وہ کہتے :''دیکھو ، وہ خبیث وہابی کھٹرا ہے۔'' مجھ پر اس کی خوف ناک صورت کا واقعی بڑا ہی دہشت انگیز اثر پڑتا، مجھے یا د ہے کہ کئی مرتبہ میں نے نیند میں ایسے ہی خوف ناک 'وہابی' کو دیکھا اور ڈر کے رونے لگا !''9

مولانا ابو الکلام آزاد کے بچپن ہی سےاُن کے سامنے حضرت شاہ اسماعیل شہید ﷫کے متعلق ایسی باتیں کی جاتی تھیں ، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے والدِ گرامی حضرت شاہ صاحب کے لیے اپنے بیٹے کے قلب میں غلط فہمی پیدا کرنا چاہتے تھے ! ...اور اگر وہ ایسا نہیں چاہتے تھے تو یہ نیکی کا کون سا عمل تھا جو انجام دیا جاتا تھا؟

مولانا آزاد اس وقت بہت چھوٹے تھے ۔بچپن کے دور سے ابھی قدم بھی نہ نکلا تھا ،اس وقت اُنھوں نے حضرت شاہ صاحب کے مقام کو بھی نہ سمجھا تھا ۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ یہ کہ جب ان کو حضرت شاہ اسماعیل شہید سے واقفیت ہوئی ، حضرت کے مقام کو سمجھا تو اُن کے عقیدت مند ہوئے اور والد ِگرامی کی صداقت اور امانت و شرافت کا بھانڈا پھوٹا تو والد صاحب سے بد ظنی انتہا کو پہنچی اور حضرت شاہ صاحب کی سر بلندی کایہ عالم ہوا کہ ایک خاص مسئلے میں اپنے دادا حضرت شاہ ولی اللّٰہ علیہ الرحمہ کی بزرگی اور عظمت پر بھی سبقت لے گئے10۔ قدرت نے ان کے سعید و صالح بیٹے کے ہاتھ سے باپ کے چہرے سے ان کی حقیقت کا پردہ ہٹا دیا ۔ کتنی حیرت انگیز بات کہ باپ جس بیٹے کو ایک غلط راستے پر ڈالنا چاہتے تھے، دنیا میں اس نےعزت و شہرت پائی ،بر ّعظیم ہند و پاک میں اس کے نام دین وسیاست اور ملک و قوم وملت کی خدمت کے ڈنکے بج گئے اور باپ کی گم شدگی کا یہ عالم ہے کہ اس پیرو مرشد اور صوفی صفت کا اس کے وطن میں بھی کوئی عقیدت مند موجود نہیں اور دین داروں اور خدا پرستوں کی تاریخ میں ان کی شخصیت کا ذکر اور دینی خدمات کا سراغ نہیں ملتا ! لیکن ان کے سعید وصالح اور حق پرست بیٹے ابو الکلام آزاد ہی کے قلم اور زبان سے سن لیجیے ۔

یہ داستان اس دور کی ہے جب وہ اپنی تعلیم کے وسط تک بھی نہ پہنچے تھے اور ابھی جوانی کی حد کو بھی نہ چھو سکے تھے۔ مولانا آزاد لکھتے ہیں، مطالعہ فرمائیے :

''ہم ابھی بہت ہی چھوٹے تھے، اتنے کہ اُردو کی مبادیات پڑھتے تھے ، لیکن مولوی اسماعیل، سید احمد بریلوی، ' تغویۃ الایمان ' (تقویۃ الایمان) وغیرہ کے ناموں سے خوب واقف ہو گئے تھے،کیونکہ ہمیشہ سامنے آتے تھے ۔ سیکڑوں مرتبہ ہمارے سامنے والد مرحوم ان لوگوں کے حالات بیان کرتے اور ہم سن سن کر اچھی طرح شنا سا ہو گئے تھے ۔ تقویۃ الایمان کو وہ تقریر و تحریر میں 'تغویۃ الایمان ' کہتے تھے۔ ان کا جونسخہ ہے ،اُس کی لوح پر انھوں نے چاقو سے ایک ایک نقطہ چھیل دیا ۔ وہ یہ لطیفہ بھی بطورِ اولیا ءاللّٰہ کی کرامت کے بیان کرتے تھے کہ جب مولوی اسماعیل نے'تقویۃ الایمان ' لکھی تو خود ان کے مسودے میں کتاب کے نام میں ایک نقطہ رہ گیا تھا ۔''11

قارئین کرام! انڈر لائن سطور کوکچھ ملاحظہ فرمائیں ، ان میں باپ بیٹا دو کر دار ہیں۔ بیٹا کہتا ہے کہ میرے باپ نے کتاب کے نام 'تقویۃ الایمان ' میں ق کو چاقو سے کھرچ کر 'تغویۃ الایمان ' بنایا ہے۔ باپ کہتا ہے کہ یہ اولیا ء اللّٰہ کی کرامت ہے، شاید اس طرح کہ ان اولیا ء اللّٰہ نے حضرت شاہ صاحب کے ذہن و دماغ پر ایسا چھپٹّا مارا ہو گا کہ ذہن ماؤف ہو گیا اور ایسا کہ انھی سے کتاب کا نام بدلوا کر انھی کے ہاتھ میں ایک نسخہ پکڑا دیا ہو گا ۔ خدا معاف کرے! ان کا فراڈ ، جھوٹ، گمراہی ، دھوکا، وغیرہ، ایک ہی سر پر کتنے گناہ تھپے ہوں گے اور موت کے بعد کن حالات میں ان کی آخرت گزر رہی ہو گی... إنا لله وإنا إلیه راجعون !

پچھلی کہانی مولانا آزاد کی کم عمری کی کہانی تھی ۔ اب جب کہ مولانا کی عمر اورمطالعہ و بصیرت میں زیادہ بلندی ہو گئی ہے ،اپنا مشاہدہ اور آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں ۔ امید ہے کہ قارئین کے لیے زیادہ عبرت انگیز ثابت ہو گا ۔ مولانا فرماتے ہیں :

''جب ذرا اور بڑے ہوئے ،تو والد مرحوم کے وعظ اور گھر کی باتوں کو بھی خوب سمجھنے لگے ۔ ہمیشہ وہابیوں کے عقائد کا ردّ رہتا تھا ،کوئی بات کہی جائے، وہ فوراً یاد آجاتے تھے ۔ گریز یوں ہوتا تھا کہ ''مگر وہابی یوں کہتے ہیں'' پھر ان کا ردّ کیا جاتا تھا۔ ردّ ایسے الفاظ پر مشتمل ہوتا تھا، جس کے صاف معنی ان پرتلقّن اور ان کی تکفیر کے تھے۔ ہم نے سینکڑوں مرتبہ والد مرحوم سے سنا کہ ''ان کا کفر یہود و نصاریٰ کے کفر سے بھی اَشد ہے ۔ یہود و نصاریٰ بھی اپنے پیشواؤں کے منکر نہیں ہیں، یہ خبیث تو خود اپنے پیغمبر کے منکر ہیں !''12

مولانا ابو الکلام آزاد ؔ اپنے بچپن سے بہت ذہین تھے۔ درس کے دوران وہ اپنے محترم اساتذہ کو بہت سوالات سے نہ صرف حیرت میں ڈال دیتے بلکہ لا جواب کر دیتے تھے ۔ ان کے بڑے بھائی مولوی غلام یاسین عمر میں ان سے دوسال بڑے تھے لیکن تعلیم میں ان کے ساتھ اور ذہانت میں اُن سے کم! مولانا روز اپنے کسی اُستاد کو کسی مسئلے میں اُلجھا کر پریشان کر دیتے تھے، ان کے بھائی نے اس طرح کبھی اپنے استاد کو پریشان نہیں کیا ۔

مولانا کے والد گرامی مولانا خیرا لدین احمد کبھی کبھی اپنے بیٹوں کی تعلیم کے معیار و رفتار وغیرہ کے معائنے کے لیے اُنھیں اپنے پاس بلا لیتے تھے اور کوئی سبق شروع کر دیتے تھے ۔ مولانا آزاد والد گرامی کے درس میں بھی کوئی سوال یا اعترا ض کر دیتے اور بحث چھڑ جاتی تھی ۔ اور اس کا ایک نتیجہ سامنے آجاتا تھا ۔ مولانا خود فرماتے ہیں :

''خود والد مرحوم نے ،مجھے یاد ہے،ایک مرتبہ بیضاوی پڑھاتے ہوئے ضمناً قرأۃ فاتحہ کی بحث چھیڑی اور ایک بہت مفصل تقریر کی ۔زیادہ تر وہی نظریے اور دلائل تھے ۔ روایت کی بنا پر بڑا زور وہی ابو ہریرہ کی مشہور روایت پر تھا کہ «إقرأ بها في نفسك»اور في نفسك سے استدلال یہ کیا جاتا تھا کہ قراءۃ باللفظ والصوت سے منع کیا اور قراءتِ نفسی کا حکم دیا ۔ پھر قرأتِ نفسی کے یہ معنی ٰ کیے جاتے تھے کہ نفس کا تخیل و تصور ۔''

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت بھی میرا ذہن یہاں تک پہنچ چکا تھا کہ صدرِ اوّل کی زبان فلسفہ ومنطق کی زبان نہ تھی۔ میں نے معتر ضین کی طرف منسوب کر کے عرض کیا کہ کہا جائے گا کہ آنحضرتﷺ کے ارشاد کا یہ مطلب کہاں ہے؟ عربی میں نَفس کا اطلاق ایسے موقعوں پر تو ذاتِ خاص پر ہوتا ہے ، جیسے:'خود آپ' یا فارسی میں کہتے ہیں: 'خود'، چنانچہ نفسه و اَنفسکم وغیرہ کا مطلب ، فلسفے کا مصطلح نفس نہ ہو گا ، بلکہ یہی ہوگا کہ 'اس کی ذات اور تمہارے ذوات'، مثلاً کہیں گے: جاء بنفسه تو یہ مطلب تو نہ ہو گا ، جو اس حدیث میں بتلایا جاتاہے ۔ پس اقرأ في نفسك تومعترضین کے لیے مفید ہے، نہ کہ قائلین کے لیے، اس کے معنیٰ یہ ہو ں گے کہ في نفسك یعنی اپنے اندر پڑھ لے۔ مقصود یہ تھا کہ پکار کر نہیں پڑھنا چاہیے ، بلکہ اس طرح آہستہ آہستہ پڑھنا جیسے آدمی اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے۔

والد مرحوم ایک لمحے کے لیے میری طرف دیکھنے لگے! اس لیے کہ جہا ں تک میرا خیال ہے ، یہ بالکل نیا اعتراض تھا ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اب خود دیکھا تو معلوم ہوا کہ اتنی صاف اور قطعی بات ، فریق ثانی کی کسی کتاب میں بھی موجود نہیں ہے ، البتہ مولوی عبدالحی مرحوم نے آہستہ پڑھنے پر اس سے استدلال ضرور کیا ہے ، مگر پھر بھی یہ اعتراض نہیں کیا ، حالانکہ وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ عربی زبان میں قطعاً وہ معنی نہیں ہو سکتے ، جو ابن ہمام وغیرہ کہتے ہیں۔ والد مرحوم نے کہا کہ اپنے آپ سے کہنے کا مطلب کیا ہوا؟ یہی مطلب ہوا کہ اپنے ذہن میں تصور کر ے۔ میں نے کہا : تصور کا تو یہا ں کچھ بھی نہیں ہے، صرف اقرأ موجود ہے اور اعتراض یہ ہوگا کہ قراءتِ صوتی اور قراءتِ نفسی کی جو تقسیم اب کی جاتی ہے، یہ اس وقت کہاں تھی ؟ مگر اس پر انھوں نے توجہ نہ کی ، اور اسی پر زور دیتے رہے کہ مقصود یہ ہے کہ ویسی قراءت نہ کی جائے ، جیسی آہستہ یا پکار کے کی جاتی ہے ، اور وہ تیسر ی چیز یہی ہے، جو ہم کہتے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ اعتراض رفع نہ ہوا ،لیکن میں زیادہ اصرار بھی نہیں کر سکتا تھا ۔''13

اسی قسم کا ایک اور واقعہ بھی انھی دنوں باپ بیٹے کے درمیان پیش آیا تھا ۔ قصہ یہ تھا کہ ایک شخص کو مولانا کے دیوان خانے میں پکڑ کر لایا گیا تھا۔ مولانا آزاد کو گھر میں ہنگامے کی آواز آئی، جھانک کر دیکھا تو ایک شخص صاحبِ ریش ود ستا ر حضرت والد کے غیظ و غضب کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ والد کا ایک مرید سامنے تھا۔ پوچھا :یہ کون شخص ہے ؟اس نے بتایا : یہ وہابی ہے، مولانا آزاد حیران ہوئے کہ یہ کیسا وہابی ہے؟ اس کی تواضع کر کے دھکے دے کر نکال دیا گیا۔ مولانا آزاد گھر میں منتظر تھے کہ والد گرامی سے کچھ پوچھوں ! جوں ہی والد مرحوم نے آنگن میں قدم رکھا، مولانا نے فوراً سوال کر دیا۔ بیٹے باپ میں کیا سوال جواب ہوئے اور کیا نتیجہ نکلا ۔ یہ ہمارے مولانا کی زبان سے سنیے، فرماتے ہیں :

''ایک دن مجھے یاد ہے ، جمعے کے دن وعظ سے آکے والد مرحوم،حسبِ معمول دیوان خانے میں بیٹھے تھے ۔ قاعدہ تھا کہ وعظ کے بعد آدھ گھنٹے وہاں بیٹھ کے پھر زنان خانے میں آتے تھے۔ زور زور سے باتو ں کی آواز آنے لگی ۔ میں دوڑا ہوا گیا، ایک شخص پگڑی باندھے ، بڑی داڑھی ، دوزا نو بیٹھا، بڑے ادب سے باتیں کر رہا تھا ، لیکن والد مرحوم اس پر گرج رہے تھے ، اور تمام لوگ اس طرح خون ریز نظروں سے اسے گھور رہے تھے کہ آنکھوں میں اس کا خون پی جانا چاہتے ہیں ۔ اس نے خطرہ محسوس کر لیا تھا، اسی لیے ڈرتا اور کانپتا بھی جاتا تھا۔ دروازے کے قریب فضل کریم ایک پنجابی مرید بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا :کو ن ہے ؟ انھوں نے کہا ،وہابی ہے ! اب میں بڑے تعجب سے دیکھنے لگا۔ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ آدھا منہ کالا نہیں ہے ۔ لب بھی ٹیٹرھے نہیں، آنکھیں بھی دونوں ہیں ۔چہرہ بھیانک بھی نہیں ہے۔ معاملہ میری نظر میں اتنا اہم اور سنجیدہ تھا کہ جوں ہی والد اپنے کمرے میں آکر بیٹھے، میں نے کہا: یہ وہابی تھا ؟ انھوں نے کہا:ہاں! میں نے کہا مگر اس کا چہرہ تو کالا نہیں تھا! انھوں نے کہا: ہاں! یہ کالک ایک ہی مرتبہ میں نہیں آجاتی ۔ جب کبھی آدمی بگڑتا ہے تو دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے ۔ پھر جب وہ بگڑجاتا ہے تو دوسرا نقطہ لگتا ہے، یہا ں تک کہ پورا دل کالے نقطوں سے بھر جاتا ہے ،پھر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو تمام نقطے مل جاتے ہیں اور دل کالا ہو جاتا ہے ۔ پھر یہ کالک منہ پر آجاتا ہے ۔ ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ...﴾ 14اب تک یہ پوری بات اُن کی یادہے ۔''

------ -----3------------

بیٹے کی ذہانت سے دہریّت کا خطرہ

مولانا ابو الکلام ابھی تعلیم سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کی ذہانت، حسنِ کلام اور کمالِ بحث کی شہرت ان کے اساتذۂ محترم سے اورمسجد میں کلکتہ اور بیرونِ شہر سے ملاقات کے لیے آنے والوں سے اُن کی قابلیت اور ذہانت کی شہرت پھیل رہی تھی اور مولوی غلام یاسین آہ کے ذریعے شہر میں ہونے والے بحث ومباحثے اورہنگاموں اور مولانا آزاد کی پھیلتی ہوئی شہرت کی خبریں والد صاحب تک بھی پہنچ رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی والد گرامی کے دل میں خطرات کا اضافہ بڑھتا جا رہا تھا، چوں کہ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی کے ایک شاگر د مولوی عبدالرحیم گورکھ پوری کے بارے میں شہرت تھی کہ وہ اپنی ذہانت اور قابلیت کی بدولت ہی گمراہی اور دہریت کا شکار ہوگئے تھے ۔ اگرچہ مولانا آزاد ان کی دہریت کے قائل نہیں تھے، لیکن والد کا خیال دوسرا تھا اور اپنے بیٹے کی ذہانت سے خوف زدہ ہو گئے تھے۔ مولاناخود اپنے بیان میں فرماتے ہیں ؟

''بھائی مرحوم کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ میرے خیالات میں وہابیت کی طرف میلان پیدا ہو چکا ہے،وہ اس پر بگڑتے بھی تھے اور ایک دو بار والد مرحوم کے سامنے بھی انھوں نے اس کا اشارہ کر دیا تھا ۔ اس وقت تک والد مرحوم کومیرے عقائد و خیالات کی بابت یقین کے ساتھ کوئی بد گمانی نہیں ہوئی تھی ،مگر اس خیال کی بنیاد پڑچکی تھی کہ اس کی طبیعت ہر طرف دوڑنے لگی ہے ، اور خیالات محفوظ نہیں ہیں۔ کئی بار انھوں نے فرمایا بھی تھا: '' مجھے اس کے آثار اچھے نظر نہیں آتے ۔ بہت زیادہ ذہانت ، انسان کے لیے بسا اوقات گمراہی کا ذریعہ ہو جاتی ہے۔ میں اس کی ذہانت سے ڈرتا ہوں ! ''

پھر بعض اشخاص کے حالات سناتے تھے جو ذہانت و طباعی کی وجہ سے ہر طرف خیال دوڑانے لگے اور بالآخر دین و دنیا سے کھو گئے ۔مجھے یاد ہے، اسی سلسلے میں ایک دن مولوی عبدالرحیم گورکھ پوری کے حالات سنائے ۔ یہ شاہ عبدالعزیز مرحوم کے بڑے پرانے شاگرد تھے اور والد مرحوم کہتے تھے کہ نانامرحوم جب شاہ صاحب سے پڑھنا ختم کر چکے تھے ، تو یہ نئے نئے درس میں شریک ہوئے تھے ،لیکن اس وقت بھی ان کی ذہانت و طباعی کا یہ حال تھا کہ شاہ صاحب کے حلقۂ تلامذہ میں جو اس وقت علمی جماعتوں کا خلاصہ و عطر تھا، کوئی شخص ان کی ٹکر کا نہ تھا۔ معقولات کے حافظ تھے اور ہنگام درس ایسے ایسے اعتراضات اور ایسے ایسے نکتے اور پہلو تراشتے تھے کہ شاہ صاحب کو بھی اعتراف کرنا پڑتا تھا۔

یہ حال دیکھ کر شاہ صاحب کہا کرتے تھے :مجھے تمہاری ذہانت اور طباعی کے پیچھے دہریت کھڑی نظر آتی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ،دلی سے کلکتہ آئے اور یہاں انگریزوں کی نوکری کرلی ۔ پھر ان کی زبان اور علوم کا شوق ہوا ، اور چند دنوں کے بعد کھلم کھلا ملحدو دہر ی ہو گئے ۔ خدا کے وجود پر ایک سو سترہ اعتراضات ایسے کیے تھے جن کی نسبت دعویٰ تھاکہ تمام دنیا کے عقلا بھی اکٹھے ہو جائیں تو بھی جواب نہیں دے سکتے غرضیکہ ذہانت و دا نش مندی ، موجب ِ ہلاکت ہوئی اور سرے سے ایمان و یقین ہی کھو بیٹھے! ''15

سرسید کی تقلید اور قلب کی ہلاکت خیزی

مولانا آزاد کو کتابوں کے مطالعے کا چسکا شروع سے گھر کر گیا تھا اور یہ بات قابل تعریف تھی کہ ابتداہی سے ان کی نظر بلند پایہ اور ذوق اعلیٰ تھا ۔اس سلسلے میں سر سید احمد خان اُن کے سب سے بلند پایہ محبوب شخصیت تھے ۔ وہ انھیں مجتہد فی المذاہب سمجھتے تھے اور ایک وقت وہ اُن کے مجتہد ات کو مرتب کر نا چاہتے تھے۔ وہ برّعظیم پاک و ہند میں انھیں سب سے بڑی شخصیت سمجھتے تھے۔ ان کی تصنیفات اور افکار سے عالم اسلامی کو متعارف کرانا چاہتے تھے لیکن ایک دو سال کے مطالعہ و تقلیدسے کیا نکلا ؟ مولانا کی زبان سے سنیے کہ اب وہ کس مقام پر ہیں ،کیا سوچ رہے ہیں ؟ فرماتے ہیں :

اطمینانِ قلب ہلاک ہو گیا:''میرا اطمینان یکسر ہلاک ہو گیا اور زندگی روز بروز ایک لا علاج مرض کی شکل میں مبدل ہوتی گئی ۔ ایک عام اور دائمی مصیبت ، جو اس راہ میں پیش آتی ہے اور ہمیشہ پیش آتی ہے ، یہ ہے کہ اس حالت کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاوش و جستجو ، مزید غورو تفکراور مطالعہ و نظر کے سوا اور کوئی علاج نظر نہیں آتا۔ جوں جوں شکوک بڑھتے ہیں ، سوالات اُمنڈتے ہیں، طبیعت اور زیادہ نظر و تفحص میں مبتلا ہوتی ہے ، اور دماغ کا عمل ایک بے رحم تیزی کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے اور فی الحقیقت اسی حالت سے اور زیادہ تشنگی اور ہلاکت بڑھتی ہے گویا نسخہ ، مرض کی نئی نئی ترقیوں کا موجب بن جاتا ہے ۔ یہی حالت مجھے پیش آئی اور میں ہمہ تن داغ ہو گیا ۔''

پچھلے ایک سالہ دور میں عملی زندگی نہایت ضعیف پڑچکی تھی ۔ تھوڑا بہت تسمہ جو لگا رہا تھا، وہ بھی اب کٹ گیا ۔سر سید کے مسلک کا سب سے پہلا اثر اعمال ہی پر پڑا تھا۔ جب اس بات کا استغراق بڑھ گیا کہ تمام واجبات و فرائض شرعیہ ان ان مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہیں اور مقصود صرف ان ان فوائد کا حصول ہے تو پھر ظاہر ہےکہ طبیعت میں ادائے فرض کا کوئی جذبہ باقی نہیں رہتا ۔

مولانا ابو الکلام اپنی تعلیم کے آغاز ہی سے افکارو عقائد کے جس آزارمیں مبتلا ہوئے تھے، ابھی اس کی درستگی اور انتہاکا کچھ پتا نہ تھا ۔ باپ، بھائی اور تین بیٹوں کے درمیان زندگی کا انداز تھا، اسی طرح گزر رہی تھی لیکن جو بے چینی تھی ایک روایتی خاندان میں، وہ بھی ہر کسی کے لیے ناقابل برداشت نہ تھی۔ اس زندگی کی کیفیت کا اندازہ مولانا کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے، فرماتے ہیں :

''ایک دن مجھے رات کو کھانا کھانے کے بعد اُنھوں نے جاتے ہوئے روک لیا ،اور بہت ہی نرمی وملائمت سے جو ان کے خاص محبت و شفقت کے وفور کا انداز ہوتا تھا، میرے سر پر ہاتھ پھیر ا اور کہا :کیا بات ہے؟ کیوں تو گم صم رہتا ہے ، اور کیوں ان خیالات میں پڑگیا ہے ؟کھل کر کیوں نہیں کہتا ؟ میں حسبِ عادت خاموش رہا۔ جب اُنھوں نے بہت اصرار کیا ، تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے صرف اتنا ہی کہا کہ نہ میں گمراہ ہوں، نہ وہابی ہوگیا ہوں ، نہ نیچری ہوں ،نہ خاندان سے منحرف ہوں ، جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے ؛ البتہ بہت سی باتوں پر میرے دل کو اطمینان نہیں ہے اور جس سے اطمینان ملتا ہے، اس سے لیتا ہو ں !

اُنھوں نے پوچھا: مثلاً کس سے ؟ میں نے کہا: بہت سی باتیں سر سید کی کتابوں میں میرے دل کو لگیں اور میں انھیں پسند کرتا ہوں۔ آپ کی جانشینی کے لیے اور خاندانی منصب قائم رکھنے کے لیے بھائی موجود ہیں ۔مجھے لوگوں کے ہاتھ پاؤں چومنے اور پیر بنائے(جانے کے تصور) سے تکلیف ہوتی ہے۔ میں اپنے کو اس لائق نہیں سمجھتا اور میری التجا ہے کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے !

بس اس پرپھر ان کی ناراضی شروع ہو گئی اور میں کچھ دیر سننے کے بعد خاموش چلا آیا ۔ناگہاں جاذبۂ توفیق الہی پردۂ عشق مجاز میں نمودار ہو ا اور ہوش پرستی کی آوار گیوں نے خود بخود شاہراہِ عشق و محبت تک پہنچا دیا ۔ آگ لگتی ہے تو رفتہ رفتہ شعلے بھڑکتے ہیں، سیلاب آتا ہے تو بتدریج پھیلتا ہے، یہ تو ایک بجلی تھی جو آنا ً فاناً نمودار ہوئی ، چمکی اور دیکھا تو خاک کا ڈھیر تھا ۔

می گزشتم زغم آسودہ کہ ناگہ زکمیں عالم آشوب نگاہے سر راہم بگر فت

میرے دل کا کوئی یقین ایسا نہیں ہے جس میں شک کے سارے کانٹے نہ چبھ چکے ہوں ، میری روح کا کو کوئی اعتقاد ایسا نہیں ہے جو انکار کی ساری آزمائشوں میں نہ گزرچکا ہو۔ میں نے زہر کے گھونٹ بھی ہر جام سے پیے ہیں اور تریاق کے نسخے بھی ہر دار الشفا کے آزمائے ہیں ۔ میں جب پیاسا تھا تو میری لب تشنگیا ں دوسروں کی طرح نہ تھیں اور جب سیراب ہوا تو میری سیرابی کا چشمہ بھی شاہراہ عام پر نہ تھا ۔

راہے کہ خضر داشت ، زسر ِچشمہ دوربود لبِ تشنگی زراہِ دگر بردہ ایم ما !

اس تمام عرصے کی جستجو و طلب کے بعد قرآن کو جیسا کچھ سمجھ سکا ہوں ، میں نے ان تین کتابوں کے صفحوں پر پھیلا دیا ہے : ترجمان القرآن ،البیان ، مقدمہ تفسیر :

سبک زجائے نگیری ، کہ بس گراں گہرست متاع من کہ نصیبش مباد ارزانی !

میرا یقین ہے کہ مسلمانوں کی زندگی و سعادت کے لیے سر چشمۂ حیات ،حقیقتِ قرآنی کا انبعاث ہے اور میں نے کوشش کی ہے کہ اس کے فہم و بصیرت کا دروازہ ان پر کھل جائے۔ میں ترجمان القرآن شائع کرتے ہوئے محسوس کرتا ہوں کہ اس بارے میں جوکچھ میرا فرض تھا، توفیق الٰہی کی دستیابی سے میں نے ادا کر دیا۔ اب اس کے بعد جو کچھ ہے مسلمانوں کافرض، اور یہ اللّٰہ کے ہاتھ ہے کہ انھیں فرض ادا کرنے کی توفیق دے :
حدیث عشق و سر مستی زمن بشنو نہ ازواعظ
کہ باجام و سبو ہر شب قرین ماہ وپروینم !

﴿ما كانَ حَديثًا يُفتَر‌ىٰ وَلـٰكِن تَصديقَ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَتَفصيلَ كُلِّ شَىءٍ وَهُدًى وَرَ‌حمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ ﴿١١١﴾... سورةيوسف

16؍ نومبر 1930ء... ڈسٹرکٹ جیل میرٹھ (ابوالکلام )

''اسی زمانے میں بمبئی کے سفر کا اتفاق ہوا۔ بمبئی پہنچتے ہی میں سخت بیمار ہوگیا۔ ایک نامعلوم درد کولھے کے پاس محسوس ہوتا تھا اور کوئی تشخیص نہیں ہوسکی تھی۔ آخر خود والد مرحوم نے تشخیص کیا کہ یہ وجع الورک ہے۔ اور کئی مہینوں کے بعد چلنے پھرنے کے قابل ہوا۔ کامل دو ماہ تک چت لیٹا رہا تھا۔ اس بیماری کے زمانے میں والد مرحوم کا قلب اس درجے متاثر ہوا کہ وہ پچھلی ناراضگیاں بھول گئے۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک وہ حالات پیش نہ آئے، جو گھر میں پہلے روز پیش آتے تھے۔ تاہم میرے خیالات کا حال بدستور تھا۔''16

اس کے ساتھ ہی مولانا آزاد نے اپنے والد کے برتاؤ اور ان سے اپنے شخصی برتاؤ کے بارے میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ''والد مرحوم کے ساتھ معاملات کی جو عادت طفولیت سے پڑچکی تھی، وہ اس وقت بھی چلتی رہی۔ ہم لوگ اُن کی کسی بات کے قطع کرنے یا جواب دینے یا رُو دَر رُو مقابلہ کرنے کے عادی نہ تھے۔ وہ کتنے ہی غیظ و غضب میں زجروملامت کرتے، میں سن لیتا اور گردن جھکائے خاموش رہتا تھا۔'' ایسے ماں باپ کے ساتھ اولاد کا یہی رویہ تھا اور یہی حضرت صاحبِ نبوت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم وتلقین تھی۔ مولانا آزاد نے اپنے والد کے ساتھ اسی برتاؤ کو ہمیشہ قائم رکھا تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے جس استقامت کا ثبوت دے کر اپنے والدِ گرامی مولانا خیرالدین دہلوی کو مایوس کردیا تھا۔ اُنھوں نے اپنے والد کے علم و مرتبے، عیش و عشرت کی زندگی کا کوئی اثر نہ لیا تھا اور نہ کسی محنت کے بغیر عزت و احترام اور شہرت کا لالچ اور تاریخ کے امثال سن کر متاثر ہوئے تھے۔ جب مولانا ابوالکلام کو محسوس ہوا کہ والد صاحب اُنھیں اپنا جانشیں بنا کر اپنے منصب پر لانا چاہتے ہیں، اس پر اُنھیں صاف کہہ دیا تھا کہ

''آپ کی جانشینی کے لیے اور خاندانی منصب قائم رکھنے کے لیے بھائی (مولوی غلام یاسین آہ) موجود ہیں۔ مجھے لوگوں کے ہاتھ پاؤں چومنے اور پیر بنانے سے تکلیف ہوتی ہے ، میں اپنے کو اس لائق نہیں سمجھتا۔ میری التجا ہے کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے!''17

مولانا خیرالدین کے رویے سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے ابوالکلام فیروز بخت محی الدین احمد ہی کو اپنا جانشین بنانا چاہتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہ اسے اپنے بڑے بیٹے سے زیادہ قابل اور ذہین سمجھتے تھے! لیکن اب چھوٹے بیٹے کو قابو میں آتے نہ دیکھ کر یہی مناسب سمجھا کہ بڑے بیٹے مولوی غلام یاسین ہی کو تربیت دیں اور اُنھی کو اپنا سجادہ نشیں بنالیا جائے۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے اس تبدیلی کو محسوس کرلیا تھا۔ اس لیے وہ ہمیشہ والد مرحوم کا سامنا کرنے سے بہت گریز کرتے تھے۔ کلکتے میں وہ اپنا بیش تر وقت مطالعے اور تصنیف و تالیف میں گزارتے تھے۔ اس سلسلے میں اُنھوں نے کئی رسائل سے تعلق پیدا کرلیا تھا اور خود بھی رسالے نکالے تھے۔ 'الاصلاح' کے نام سے ایک علمی، ادبی اور سوشل ریفارم کا ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا۔ ہر ہفتے مختلف موضوعات پر جلسہ ہوتا تھا۔ دارالاخبار و ریڈنگ روم قائم کیا تھا جس میں اُردو، انگریزی، عربی اخبارات و رسائل کو رکھا جاتا تھا۔ کانفرنسوں میں شریک ہونے کا شوق تھا۔ 1905-1904ء میں انجمن حمایت اسلام میں شریک ہوئے تھے اور نام پایا تھا اور شہرت دور دور پہنچ گئی تھی۔ علمی شوق اور وقت گزاری کے لیے اپنا ذاتی رسالہ 'لسان الصدق' کلکتہ میں نکالا تھا۔ اور مدت تک بمبئی میں رہ کر کلکتے کے پتے سے نکالتے رہے تھے۔ یہ رسالہ نومبر 1903ء سے جون 1905ءتک جاری رہا۔ وہ بند ہوا تو علامہ شبلی کے اصرار سے متاثر ہوکر ندوۃ العلما لکھنو کے رسالہ 'الندوہ 'میں حضرت علامہ کی نیابت کی ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے۔ مولانا نے ستمبر 1905ء میں الندوہ کی ادارت میں شرکت فرمائی تھی اور مارچ 1906ء میں اس سے قطع تعلق کرلیا تھا۔ اور اسی سال کے وسط سے وکیل، امرتسر کی ادارت کو قبول کرلیا تھا۔

نومبر کے مہینے میں انھیں کلکتہ سے خبر ملی کہ ان کے بھائی ابوالنصر مولوی غلام یاسین آہ کا انتقال ہوگیا۔ یہ ان کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا۔آہ مرحوم گزشتہ سال اسلامی ممالک کی سیر کے لیے ایک واقف کے ساتھ وطن سے نکلے تھے اور ابھی عراق تک پہنچے تھے کہ بیمار پڑے ۔بیماری بڑھی تو انھیں ہسپتال میں داخل کردیا۔ اس موقع پر نہایت افسوس ناک حادثہ پیش آیا کہ ان کے شریکِ سفر اور رہنما شخصیت اُنھیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کی حالت بہت بگڑ چکی تھی۔ کسی شخص نے ان کی حالت کی خبر انڈین سفارت خانے کو پہنچائی۔ خدا کا کرنا کہ سفارت خانے کے ایک انڈین آفیسر کو خبر ہوئی اور اس نے ان کو ہندوستان پہنچانے کا انتظام کردیا۔ 1906 ءمیں وہ بمبئی پہنچ گئے، ان کے والد نے کچھ دنوں تک بمبئی میں علاج کرایا ،جب افاقہ نہ ہوا تو کلکتہ لے گئے۔ لیکن کلکتہ میں بھی ان کے معالجے کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ان کا وقت پورا ہوچکا تھا، اللّٰہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کے انتقال کا ان کے والد گرامی اور بھائی کو بہت صدمہ ہوا۔ ان کا یہ صدمہ ان کے بیٹے کا ہی نہیں، ان کے سجادہ نشین کا بھی تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کو نہ صرف بھائی کی اطلاع دی گئی تھی بلکہ انھیں کلکتہ پہنچنے کی تاکید کی گئی تھی۔ مولانا کے لیے بھی بھائی کے انتقال کا غم کسی سے کم نہ تھا۔ ان کے پہنچنے کے بعد نہ صرف والد نے بلکہ ان کے دوستوں نے بھی ان کے کلکتہ میں ٹھہر جانے پر اصرار کیا۔ اس پر ان کی بیوی کی رخصتی بھی کرادی جو 1902ء میں ان کے عدم ِبلوغ کی وجہ سے عمل میں نہ آئی تھی۔ مولانا کی دو بہنوں کی شادی ہوگئی تھی اوروہ ریاست بھوپال میں آباد ہوگئی تھیں۔ بڑی بہن کا انتقال ہوگیا تھا۔ اب گھر میں آہ مرحوم کی بیوی اور مولانا آزاد کی نئی نویلی دلہن اور والدِ گرامی رہ گئے تھے۔

بیٹے کے انتقال کے بعد مولانا خیرالدین بہت شکستہ مزاج ہوگئے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ آزاد ٹھہر جائیں۔ دوستوں نے ان کے لیے 'دارالسلطنت' کے نام سے ایک رسالے کے اجرا پر ایک رئیس کو آمادہ بھی کردیا تھا اور مولانا نے کلکتہ میں ٹھہر جانے کا وعدہ بھی کرلیا تھا۔ لیکن ایک مدت تک انتظار کے بعد مایوس ہوکر وہ امرتسر چلے گئے اور وکیل کی ادارت کو اختیار کرلیا۔ یہ واقعہ 1907ء کے وسط کا ہے۔ اب مولانا آزاد پر کلکتہ میں اپنی بیوی، بیوہ بھاوج اور والدِ گرامی کی ذمے داری تھی اور اسے عملاً پورا کرتے تھے۔ اگست 1908ء میں والد صاحب کی خرابیٔ صحت اور خطرے کی خبر آئی اور چند ہی دنوں میں ان کا فرستادہ بھی پہنچ گیا تو مولانا نے فرستادے کو تو روانہ کیا اور چند روز بعد خود بھی روانہ ہوگئے۔ 15؍اگست کو وہ کلکتہ پہنچے۔ والد گرامی اپنی زندگی کے چند آخری لمحوں کے انتظار میں بہ ہوش وحواس چارپائی پر پڑے ہوئے تھے۔ بیٹے نے قرآن پڑھنا شروع کیا تھا، مسافر نے اشارہ کیا اور خود پڑھنا شروع کیا۔ لیکن چند لمحوں ہی میں آواز بیٹھ گئی اور ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

اللّٰہ تعالیٰ نے مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد دہلوی کو غلط راہ پر جانے سے محفوظ رکھا تھا اور راہِ حق کے قبول کی توفیق بخشی تھی اور زندگی بھر حضرت شاہ ولی اللّٰہ اور ان کے نامور حفید شاہ محمد اسمٰعیل شہید دہلوی کی راہ ِحقیقت پر، جو کتاب و سنت کی تعلیم کے مطابق تھی، اللّٰہ جل جلالہ نے چلنے کی ہمت بخشی تھی۔ یہ اللّٰہ کا ان پر بڑا احسان اور فیض تھا کہ وہ اس خطرے سے نکل آئے تھے۔

وہ ابھی ایک خطرے سے نکلے تھے کہ خداوند قدوس ان کے ایمان و مذہب کی صداقت کی آزمائش کے لیے ایک دوسری اور نہایت خطرناک آزمائش سے گزارتا اور اپنی مخلوق کے لیے اُن کی ذات کو اچھا نمونہ ثابت کرتا ہے۔ خاکسار کا اشارہ سرسید احمد خاں اور ابوالکلام کی طرف ہے جو ان کے افکاروعقائد کے مطالعے اور تقلید کے جال میں پھنس کر کسی مقام پر پہنچے اور قدرتِ الٰہی نے انھیں اپنی ملت اور مخلوق الٰہی کے لیے کس طرح ان کو اپنے عہد اور بعد کے زمانے کے لیے نمونہ ثابت کردیا، یہ تمام تر موضوع مولانا ابوالکلام آزاد کے بیان اور ان کے قلم سے لکھی ہوئی داستان قارئین کے مطالعے کے لیے آئندہ پیش کی جائے گی۔ ان شا٫ اللّٰہ تعالیٰ!
حوالہ وحواشی

1. 'تذکرہ' از ابو الكلام آزاد،البلاغ پریس، کلکتہ ایڈیشن 1919ء، ص 294

2. تذکرہ، ص 295

3. ایضاً

4. تذکرہ،کلکتہ ایڈیشن، 1919ء ،ص 300

5. ایضاً، ص 301و 302

6. ایضاً ، ص 309و 310

7. 'آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ' بہ روایت ملیح آبادی، دہلی ،حالی پیک ہاؤس ،اپریل 1958ء اوّل:362،361

8. ایضاً :ص 361

9. ایضاً ص 362،361

10. حضرت شاہ اسماعیل شہید کے متعلق یہ اشارہ 'تذکرہ 'میں 'مقام عزیمتِ دعوت ' کے سلسلے میں آیا ہے۔ مولانا آزاد فرماتے ہیں:''پھر چند قدم اور آگے بڑھو ، مقام عزیمتِ دعوت کی کیسی کامل اور آشکارا مثال سامنے آتی ہے ۔ ساری مثالوں سے آنکھیں بند کر لو، صرف یہی ایک مثال زیر بحث حقیقت کے فہم وکشف کے لیے کافی ہے ۔حضرت شاہ ولی اللّٰہ کا مقام ہر رنگ میں کس درجہ جامع و کامل ہے ؟ با ایں ہمہ یہاں جو کچھ ہوا، تجدید و تدوین علوم و معارف اور تعلیم و تربیتِ اصحابِ استعداد تک محدود رہا، اس سے آگے نہ بڑھ سکا ۔ فعلاً عمل و نفاذ اور ظہوروشیوع کا پورا کام تو کسی دوسرے ہی مردِ میدان کا منتظر تھا ۔ اور معلوم ہے کہ توفیق الٰہی نے یہ معاملہ صرف حضرت علامہ مجدد شہید کے لیے مخصوص کر دیا تھا ۔ خود حضرت شاہ صاحب کا بھی اس میں حصہ نہ تھا :

می خواست رست خیزز عالم بر آورد آں باغبان کہ تربیت ایں نہال کرد!

اگر خود شاہ صاحب بھی اس وقت ہوتے تو انہی کے جھنڈے کے نیچے نظر آتے۔

('تذکرہ' مولانا آزاد ، کلکتہ، البلاغ پریس 1919ء :246،245)

11. ایضاً :ص 364۔362

12. ایضاً :ص 363

13. 'آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ' بہ روایت ملیح آبادی، دہلی ،حالی پیک ہاؤس ،اپریل 1958ء اوّل: ص 377-376

14. ترجمہ: ''دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے بُرے اعمال کا رنگ چڑھ گیا ہے۔''

15. 'آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ':ص 88- 386

16. ایضاً: ص 396

17. ایضاً: ص 396