میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رمضان میں شیطانوں کا جکڑا جانا؟

سوال: رمضان میں شیطانوں کو قیدکردیا جاتا ہے،اس کے باوجود رمضان میں برائیاں کیوں ہوتی ہیں؟

جواب: جی ہاں رمضان کریم میں بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان وسوسہ ڈالیں اور اسی طرح جادوگربھی رمضان میں کام کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ رمضان میں دوسرے مہینوں سے کم ہوتا ہے ۔اور نبی مکرّمﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

''جب رمضان شروع ہوتا ہے تو جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتےاور شیطانوں کو زنجیریں ڈال دی جاتی ہیں۔''1

اور سنن نسائی میں یہ الفاظ ہیں «وَتُغَلُّ فِیهِ مَرَدَةُ الشَّیَاطِین»2

کہ ''رمضان میں سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔''

تو المرَدَة مارد کی جمع ہے جس کےمعنیٰ شرپسندی کے لیے خاص ہیں۔ اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ کلی طور پر شیطانوں کی تاثیر ہی ختم ہوجاتی ہے ، بلکہ یہ تو اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ رمضان میں کمزور پڑ جاتے اور رمضان کے علاوہ جو اُن کی طاقت ہوتی ہے، وہ رمضان میں نہیں رہتی ۔

اور یہ بھی احتمال ہے کہ صرف سرکش شیطان ہی جکڑے جاتے ہوں، سب نہیں۔ امام قرطبی﷫ فرماتے ہیں:

''اگریہ سوال اُٹھایا جائے کہ اگر رمضان میں شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں تو پھر معاصی اور شروگناہ رمضان میں کیوں پایا جاتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ

''اس شر اورمعاصی کی روزہ داروں سے کمی ہوجاتی ہے۔ اگر روزہ کے آداب اور اس کی شرائط پر عمل کیا جائےتو روزہ اُن میں کمی لاتا ہے ۔''

یاپھر یہ ہے کہ سب شیطان نہیں، بلکہ اُن میں صرف سرکش شیطان ہی جکڑے جاتے ہیں جیسا کہ کئی ایک روایات میں اس کی وضاحت آئی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے ۔

یا اس سے شراور معاصی کی کمی مراد اور مقصود ہے ، اور یہ تو سب محسوس کرتے ہیں کہ رمضان میں معاصی کاوقوع پہلے کی بنسبت کم ہوجاتا ہے ، اور پھر یہ بھی لازم نہیں کہ جب سب شیطانوں کو بھی جکڑ دیا جائے تو معاصی اور شر کا وقوع نہ ہو ، کیونکہ اس کے شیطانوں کے علاوہ اور بھی کئی اسباب ہیں ، مثلاً نفوسِ خبیثہ اور بری ، گندی عادات اور اسی طرح انسانوں میں سے شیاطین ۔3

کیا عورت بھی مکمل آخری عشرہ اعتکاف کرسکتی ہے ؟

سوال:میں ایک نو مسلم عورت ہوں اورعورت کے اعتکاف کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں ، کیا اگر مسجد میں عورتوں کے لیے مخصوص جگہ ہو توعورت اعتکاف کر سکتی ہے ؟ اوراگر عورتوں کےلیے اعتکاف کرنا جائز ہے تو ان کے لیے کتنے دن تک اعتکاف کرنا ممکن ہے، تین دن یا پانچ یا سات دن یا پھر مکمل آخری عشرہ ؟

جواب:اس اللّٰہ وحدہ لاشریک کا شکراورتعریف ہے جس نے آپ کو اسلام قبول کرنے کی ہدایت نصیب فرمائی ، ہم اللّٰہ تعالیٰ سے دعا گوہیں کہ وہ آپ کے ایمان اورہدایت میں اضافہ فرمائے ۔

جی ہاں! عورت کے لیے مسجدمیں اعتکاف کرنا جائز ہے ، بلکہ مردوں اورعورتوں کے لیے سنّت بھی یہی ہے کہ وہ مسجد ہیمیںاعتکاف کریں ۔افضل تویہی ہے کہ رمضان کا مکمل آخری عشرہ اعتکاف کیا جائے ، کیونکہ نبی ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا اورازواجِ مطہرات اورباقی صحابہ کرام سے بھی یہی عمل ثابت ہے ۔حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں :

''نبی ﷺ اپنی زندگی کے آخر تک رمضان المبارک کے مکمل آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے ، پھر ان کے بعد نبی ﷺ کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی رہیں ۔''4

جب کوئی مسلمان شخص پورا عشرہ اعتکاف نہ کرسکے تواس کےلیے جائز ہے کہ اس کے لیے جتنے ایام بھی میسر ہوں اعتکاف کرے ، دو دن یا تین یا اس سے بھی کم چاہے ایک ہی رات کا اعتکاف کرے یہ سب جائز ہے ۔شیخ ابن باز ﷫ کہتے ہیں:

''مسجد میں اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے رکنے کو اعتکاف کہا جاتا ہے ، چاہے وہ زیادہ مدت کے لیے ہو یا کم مدت کے لیے ، کیونکہ میرے علم کے مطابق اس کے بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ، جس میں ایک یا دو دن یا اس سے زیادہ کی تحدید کی گئی ہو ۔''5

تراویح میں وتر پڑھ لینےکے بعد رات کو مزید نفلوں میں وتر کا طریقہ؟

سوال: تراویح کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آخری دو رکعت پر ان نوافل کااختتام کیا جاسکتا ہے یا آخر میں وتر ادا کرنا ضروری ہے؟ میں نے سنا ہے کہ آخر میں وتر ادا کرنا واجب ہے ، توکیا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب ہم نے سونے سے قبل نماز ادا کرلی اوررات کو بیدار ہوکر دوبارہ پڑھنا چاہیں تو ہمیں پھر دو دو رکعت کے بعد وتر ادا کرنا ہوں گے؟ یا مجھے وتر مؤخر کرکے رات کے آخری حصہ میں ادا کرنے چاہییں ؟

جواب: جب مسلمان رات کے شروع میں نمازِ وتر ادا کرلے اوررات کے آخری حصہ میں دوبارہ نماز ادا کرنا چاہے تو وہ دو دو رکعت ادا کرے گا اور وتر کی دوبارہ ادائیگی نہیں کرے گا ۔

اورنبی ﷺ نے جو یہ حکم دیا ہے کہ رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے، تو یہ حکم استحباب کےلیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے ۔ شیخ ابن باز ﷫ سے پوچھا گیا :

''جب میں رات کے شروع میں وتر ادا کرلوں تو رات کے آخر میں دوبارہ بیدار ہونے پر نماز کس طرح ادا کروں ؟ توشیخ ﷫ کا جواب تھا:

''جب آپ سونے سے قبل رات کے شروع ہی میں وتر ادا کرلیں اوراللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو رات کے آخری حصہ میں بیدار ہونے کی توفیق بخشی تو پھر آپ جتنی میسر ہوسکے، دو دو رکعت کرکے نماز ادا کریں اوروتر نہ پڑھیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:''ایک رات میں دو بار وتر نہیں ۔''

اوراس لیے بھی کہ سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ وتر ادا کرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیا کرتے تھے6 ، اوراس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کے لیے وتر کےبعد نماز ادا کرنے کا جواز بیان کیا جا سکے ۔7

رمضان المبارک میں نمازِ عشا میں تاخیرکرنا

سوال: ہماری مسجد کے امام صاحب رمضان المبارک میں نمازِ عشا تقریباً ایک گھنٹہ لیٹ کرتے ہیں ، توکیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب: نمازِ عشا کا وقت سورج غروب ہونے کے بعد آسمان میں پیدا ہونے والی شفق احمر یعنی سرخی غائب ہونے سے لے کر نصف رات تک ہے ۔اورنمازِ عشا میں افضل اوربہتر یہ ہے کہ اسے تاخیر سے ادا کیا جائے لیکن جب اس میں لوگوں پر کوئی مشقت نہ ہو۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

«لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا العِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ»8

''اگرمیں اپنی اُمّت پر مشقت نہ سمجھوں تو اُنہیں نمازِ عشا تاخیر سے پڑھنے کا حکم دوں کہ وہ نصف رات یا اس کے تیسرے حصے تک نماز مؤخر کریں ۔''

لہٰذا اس حدیث میں نمازِ عشاکوتاخیرسے پڑھنے کے حکم کا استحباب پایا جاتا ہے لیکن اگر مقتدیوں پر اس کی تاخیر کرنے میں مشقت ہو توپھر نماز عشا جلدی ادا کی جائے گی۔

اورایک حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا بیان کرتی ہیں :

'' ایک رات نبی ﷺ نے نمازِ عشا میں اتنی تاخیر کردی کہ رات کا اکثر حصہ گزرگیا اورمسجد والے نمازی سو گئے ، پھر نبی ﷺ تشریف لائے اورفرمانے لگے :

''اگر میں اپنی اُمت پر مشقت نہ سمجھوں تو نمازِ عشاء کا وقت یہی ہے۔''9

اورایک اورحدیث میں ہے کہ حضرت جابر نبی ﷺ کی نمازوں کے اوقات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

''نبی ﷺ بعض اوقات نما‏زِ عشا تاخیر سے اور بعض اوقات جلدی ادا کیا کرتے تھے، جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہوگئے ہیں توآپ جلدی کرتے اورجب دیکھتے کہ ابھی جمع نہیں ہوئے تو نمازِ عشا میں تاخیر کرتے تھے ۔''10

بعض ممالک میں لوگ رمضان المبارک کے مہینہ میں نمازِ عشا عام وقت سے آدھ گھنٹہ تاخیر سے پڑھنے کے عادی ہیں تا کہ افطاری کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکرآسانی سے نماز عشا اورتراویح کی تیاری کرسکیں ۔ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے، تاہم اس میں شرط یہ ہے کہ امام نمازِ عشا اورتراویح میں اتنی تاخیر نہ کرے کہ مقتدیوں کے لیے مشکل پیدا ہوجائے ۔

اولیٰ اوربہتر یہ ہے کہ اس مسئلہ میں مسجد کے مقتدیوں سے مشورہ کریں اوراُن کی مشاورت سے وقت طے کرلیں، کیونکہ اُنہیں علم ہے کہ کس وقت نمازِ عشاکی ادائیگی اُن کے لیے مناسب رہے گی ۔

مرد و عورت كى آپس میںChating(انٹرنیٹ پر گپ شپ) اور روزے پر اس كا اثر

سوال: رمضان المبارك میں گرل فرینڈ كے ساتھ انٹرنیٹ كے ذریعہ پیغام رسانى كا حكم كیا ہے، جبكہ اس نے كیمرہ بھى آن كر ركھا ہو اور میں اسے دیكھ رہا ہوں، لیكن یہ سب كچھ احترام كى حدود میں رہتے ہوئے كیا جائے ؟

جواب:اوّل:نسل و عزت كى حفاظت شریعتِ اسلامیہ كے ضرورى مقاصد میں شامل ہے، اسى لیے اللّٰہ سبحانہٗ وتعالىٰ نے زنا حرام كیا، بلكہ زنا تك لے جانے والے سب وسائل مثلاً مرد كا اجنبى عورت كے ساتھ خلوت كرنا، گناہ كى نظر سے دیكھنا، بغیر محرم كے عورت كا سفر كرنا، عورت كا گھر سے بناؤ سنگھار كر كے اور خوشبو لگا کربے پرد ہ باہر نكلنا اور دیگر اُمور كو بھى حرام قرار دیا۔

اور اس میں یہ بھى شامل ہے كہ مرد چورى چھپے عورت سے بات چیت كرے، اور عورت اس كے ساتھ لہك لہك كر باتیں كرے تا كہ اسے برانگیخت كرے، اور اسے دھوكہ میں لا كر اس كى شہوت بھڑكائےاور وہ اس كى چالوں میں آ جائے، چاہے یہ اظہار راستے میں ملاقات كے وقت ہو، یا پھر ٹیلیفون پر بات چیت كرکے، یا خط وكتابت Chatingوغیرہ كے ذریعہ تعلقات قائم كرنا۔

اور پھر اللّٰہ سبحانہ وتعالىٰ نے رسول كریم ﷺ كى ازواج مطہرات، حالانكہ وہ پاكباز بیبیاں ہیں، كےلیےبھى دورِ جاہلیت كا بناؤ سنگھار كر كے باہر نكلنا، اور نرمى سے بات كرنا حرام قرار دیا ہے، كہ كہیں دل میں كھوٹ والا شخص طمع كا شكار نہ ہو جائے، اور اللّٰہ تعالىٰ نے اُنہیں حكم دیتے ہوئے فرمایا كہ وہ اچھى بات كریں۔اللّٰہ سبحانہ وتعالىٰ كا فرمان ہے:

﴿يـٰنِساءَ النَّبِىِّ لَستُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّساءِ إِنِ اتَّقَيتُنَّ فَلا تَخضَعنَ بِالقَولِ فَيَطمَعَ الَّذى فى قَلبِهِ مَرَ‌ضٌ وَقُلنَ قَولًا مَعر‌وفًا ﴿٣٢﴾... سورةالاحزاب

'' اے نبى ﷺكى بیویو! تم كوئى عام عورتیں نہیں، اگر تم اللّٰہ سے ڈرنے والى ہو تو نرم گفتگو نہ كرو كہ جس كے دل میں ( گناہ ) بیمارى ہو تو وہ لالچ كرنے لگے، اور سیدھى سادھى بات كرو۔''

انٹرنیٹ كے ذریعہ مرد و عورت كا آپس میں بات چیت اور گپ شپ كرنا بالاولىٰ فتنہ اور شر ہے، كیونكہ اس بات چیت كے نتیجہ میں كلام میں تساہل پیدا ہوتا ہے جو اکثر اوقات فتنہ اور خود پسندی كا باعث بنتى ہے، اس لیے اللّٰہ تعالىٰ كى خوشنودى اور اس كى سزا سے بچنے كے لیے اس سےگریز کرنا اور دور رہنا ضرورى ہے۔اس طرح كى باتیں كرنے والے كتنى ہى مصیبت اور شر كا شكار ہوئے حتى كہ وہ عشق وجنون میں مبتلا ہوگئے، اور اس نے اُنہیں اس سے بھى بڑے شر میں دھكیل دیا۔ معاذ اللّٰہ

شیخ ابن جبرین ﷾ سے درج ذیل سوال دریافت كیا گیا:

''نوجوان لڑكے لڑكیوں كا آپس میں خط و كتابت Chatingكرنے كا حكم كیا ہے، یہ علم میں رہے كہ خط وكتابت عشق و محبت اور فاسقانہ كلام سے خالى ہے ؟

شیخ كا جواب تھا:

''كسى بھى انسان كے لیے اجنبى عورت سے خط كتابت كرنا جائز نہیں كیونكہ ایسا كرنے میں فتنہ و فساد ہے، ہو سكتا ہے كہ خط وكتابت كرنے والا یہ سمجھے كہ ایسا كرنے میں كوئى فتنہ و فساد اور خرابى پیدا نہیں ہوتى لیكن شیطان ہر وقت اسے دھوكا و فریب میں لگائے ركھےگا، اور اس عورت كو بھى فریب دےگا حتى كہ وہ دونوں ہى فتنہ و شر میں مبتلا ہو جائیں گے۔''

نبى كریم ﷺ نے حكم دیا كہ جو شخص بھى دجال كے متعلق سنے تو وہ اُس سے دور رہے، اور یہ بھى بتایا كہ آدمى دجال كے پاس آئے گا تو وہ مؤمن ہوگا، یعنی ایمان كى حالت میں آئے گا، لیكن دجال اسے فتنہ میں ڈالے بغیر نہیں چھوڑےگا۔چنانچہ نوجوان لڑكے اور لڑكیوں كى خط وكتابت میں بہت بڑا فتنہ اور سنگین خطرہ ہے، اس لیے اس سے اجتناب كرنا اور دور رہنا ضرورى ہے، چاہے سائل یہ کہتا رہے كہ''اس میں عشق و محبت اور جنون كى باتیں نہیں ہیں ۔''11

دوم: روزے دار كو اللّٰہ تعالى كا تقوىٰ اختیار كرنے، اور اس کے احکام پر عمل كرنے، اور جس سے اللّٰہ تعالىٰ نے منع فرمایا ہے، اس سے اجتناب كا حكم ہے۔

روزے كا مطلب كھانے پینے سے ركنا نہیں، بلكہ روزے كا مقصد تو اللّٰہ تعالىٰ كا تقوىٰ اور پرہیزگاری پیدا ہونا ہے، كیونكہ اللّٰہ تعالىٰ كا فرمان ہے: '' تا كہ تم اللّٰہ تعالى كا تقوىٰ اختیار كرو۔''

اور نفس كى تربیت اور ہر قسم كے برے اعمال اور گندے اخلاق سے اجتناب ہے، اسى لیے رسولِ كریم ﷺ نے فرمایا ہے:

''كھانے پینے سے ركنے كا نام روزہ نہیں، بلكہ لغو اور بے ہودہ اور گندے اعمال سے اجتناب روزہ ہے ۔''12

عذر كى بنا پر رمضان كے روزے چھوڑنے والا کیا صدقہ فطر ادا کرے گا؟

سوال: كیا عذر مثلاً سفر یا بیمارى كى بنا پر مكمل رمضان المبارك كے روزے نہ ركھنے والے پر بھى فطرانہ ادا كرنا فرض ہے ؟

جواب: ائمہ اربعہ وغیرہ میں سے جمہور اہل علم كا یہ كہنا ہے كہ فطرانہ كى ادائیگی ہر مسلمان شخص پر فرض ہے، چاہے وہ روزے نہ بھى ركھے، اس میں سعید بن مسیّب اور حسن بصرى ﷭ كے علاوہ كسى اور نے مخالفت نہیں كى، ان دونوں كا كہنا ہے:''فطرانہ صرف روزہ ركھنے والے پر ہى فرض ہے۔'' لیكن درج ذیل دلائل كى بنا پر جمہور اہل علم كا قول ہى صحیح ہے:

1.  فطرانہ كى فرضیت كى اصل حدیث كا عموم:سیدنا عبد اللّٰہ ابن عمر بیان كرتے ہیں:

''رسولِ كریم ﷺ نے فطرانہ میں ایك صاع جو، یا ایك صاع كھجور ہر غلام اور آزاد، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض كیا، اور حكم دیا كہ لوگوں كے نمازِ عید كے لیے جانے سے قبل فطرانہ ادا كیا جائے۔''13

اس حدیث میں ابن عمر كا قول: ' ہر چھوٹے 'میں وہ بھى شامل ہے جو روزہ نہ ركھ سكتا ہو۔

2.  صدقات اور زكوٰۃ كى مشروعیت میں غالباً مسكین اور فقیر كى مصلحت اور معاشرے كا ایك دوسرے كے ساتھ عمومى تعاون مد نظر ركھا گیا ہے، اور یہ سب سے زیادہ فطرانہ میں ظاہر ہوتا ہے كہ ہر چھوٹے اور بڑے غلام اور آزاد مرد و عورت پر فطرانہ فرض كیا گیا ہے، اور شارع نے اس كى فرضیت میں نہ تو نصاب كى شرط ركھى ہے، اور نہ ہى سال كى، اسى لیے یہ اس پر بھى فرض ہوتا ہے جو كسى عذر یا بغیر عذر كے روزے نہ ركھ سكا ہو، وہ بھى اس فطرانہ كى فرضیت كے مقصد كے ضمن میں آتا ہے۔

3.  اور جس نے ابن عباس كى درج ذیل حدیث سے استدلال كیا ہے:

''رسول كریم ﷺنے روزہ دار كے لیے لغو و بےہودگى سے پاكى اور مساكین كے لیے بطورِ كھانا فطرانہ فرض كیا۔''14

ان کا استدلال اس حدیث کے الفاظ:'' روزہ دار كے لیے پاكى '' سے یہ ہے کہ فطرانہ صرف روزے دار پر فرض ہے۔حافظ ابن حجرنے فتح البارى میں ا س كا جواب دیتے ہوئے كہا ہے:

''یہاں تطہیر اور پاكى كو غالب طور پر ذكر كیا گیا ہے، جس طرح كہ فطرانہ اس پر بھی فرض ہے جو گناہ نہیں كرتا، اور یا وہ شخص جو غروبِِ شمس سے كچھ دیر قبل اسلام لایا ہو۔''15

ابن حجر ﷫كى كلام كا معنىٰ یہ ہےکہ غالب طور پر فطرانہ اس لیے مشروع كیا گیا ہے كہ یہ روزہ دار كو پاك كرتا ہے، لیكن یہ پاكى اس كے فرض ہونے كى شرط نہیں، اس كى مثال زكاۃ كا مال ہے، كیونكہ یہ بھى مال كو پاك صاف كرنے كے لیے فرض كى گئى ہے۔فرمانِ بارى تعالیٰ ہے:

﴿خُذ مِن أَمو‌ٰلِهِم صَدَقَةً تُطَهِّرُ‌هُم وَتُزَكّيهِم بِها وَصَلِّ عَلَيهِم إِنَّ صَلو‌ٰتَكَ سَكَنٌ لَهُم وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ ﴿١٠٣﴾... سورةالتوبة

'' آپ ان كے مالوں سے صدقہ ( زكاۃ ) لے لیجئے جس كے ذریعہ سے آپ ان كو پاك صاف كردیں، اور ان كے لیے دعا كیجئے، بلا شبہ آپ كى دعا ان كے لیے موجبِ اطمینان ہے، اور اللّٰہ تعالى خوب سُنتا اور خوب جانتا ہے۔''

اس كے باوجود زكاۃ چھوٹے بچے كے مال میں بھى فرض ہوتى ہے، حالانكہ وہ تطہیر كا محتاج نہیں، كیونكہ اس كى كوئى برائى نہیں لكھى جاتى۔

شیخ ابن جبرین ﷾ نے ا س كا ایك اور جواب دیتے ہوئے كہا ہے:

''بچوں اور غیر مكلّف افراد، اور سفر یا بیمارى كے عذر كى بنا پر روزے نہ ركھنے والوں كا فطرانہ ادا كرنا حدیث كے تحت آتا ہے، اور غیر مكلفین كے اولیا كے لیے پاكیزگى كا باعث ہوگا، اور عذر كى بنا پر روزے نہ ركھنے والوں كے لیے بھى پاكیزگى كا باعث ہے، كیونكہ وہ عذر زائل ہونے كے بعد روزے ركھیں گے، تو اس طرح روزے ركھنے یا روزوں كى تكمیل سے قبل ہى پاكیزگى حاصل ہوگى ۔''16

مروّجہ شبینہ شرعی لحاظ سے درست ہے یا نہیں؟

سوال: مروّجہ شبینہ (ایک ہی رات نوافل میں قرآن مجید ختم کرنا)شرعی لحاظ سے درست ہے یا نہیں؟ اور اگر مروجہ شبینہ کے علاوہ ایک رات میں قرآنِ مجید ختم کر لیا جائے تو کیاٹھیک ہے؟ اور شرعی لحاظ سے کتنے دنوں میں قرآن مجید ختم کرنا چاہیے؟

جواب: حضرت عبد اللّٰہ بن عمر سے ایک حدیث مروی ہے کہ «لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاث»17 ''یعنی جس نے قرآن کو تین سے کم دنوں میں ختم کیا، وہ اس کی فقاہت سے محروم ہوگیا'' گویا کم ازکم تین دن میں قرآن مجید ختم کرنا چاہیے۔لیکن بہت سے آثار میں سلف ﷭سے تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم کرنے کا ذکر آیا ہے، بنا بریں آٹھویں صدی ہجری کے ایک نامور فقیہ ومحدث حافظ ابن رجب ﷫ کی تحقیق یہ ہے کہ عبد اللّٰہ بن عمر کی حدیث عام حالات کے بارے میں ہے، اوقاتِ فاضلہ (مثلاً رمضان شریف) میں تین دن سے کم مدت میں قرآن مجید ختم کیا جا سکتا ہے۔ طبیعت کا نشاط اور شوق جس قدر اجازت دے، قرآن مجید کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا آدابِ تلاوت و قیام کو حتیٰ الامکان ملحوظ رکھتے ہوئے ایک رات میں قرآنِ مجید ختم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ تین رات میں ہی ختم کیا جائے جیسا کہ ہمارے ہاں عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔18

حضورﷺ سے وتر باجماعت پڑھنے کا ثبوت ؟

آں حضرت ﷺ سے وتر باجماعت ثابت ہے۔

نبی ﷺ سے تین دن رمضان میں گیارہ رکعت تراویح مع وتر جماعت سے ثابت ہے، اور حضرت عمر نے اُبی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعت مع وتر با جماعت حکم فرمایا تھا۔ نفل نماز باجماعت ثابت ہے، رمضان وغیر رمضان میں وتروں میں جماعت کی ممانعت پر کوئی دلیل بھی نہیں۔ قیام اللیل صفحہ 97 میں بہت صحابہ اور تابعین﷭ کے اقوال جواز پر دالّ ہیں۔19 واللّٰہ اعلم

نمازى مسجد كے باہر نماز ادا كر رہے ہوں اور بجلى منقطع ہو جائے تو كیا حكم ہے ؟

سوال: ایک بار مجھے نمازِ عشا میں تاخیر ہو گئى، اور مسجد كے اندر جگہ نہ مل سكى چنانچہ ہم نے مسجد كے باہر نماز ادا كى، آخرى ركعت میں بجلى منقطع ہو گئى اور سپیكر كى آواز ختم ہونے كى بنا پر ہم امام كى آواز نہ سن سكے، اس حالت میں ہمیں كیا كرنا چاہیے ؟

جواب: اگر كچھ نمازى مسجد سے باہر نماز ادا كر رہے ہوں اور بجلى چلى جانے كى بنا پر امام كى اقتدا كرنا مشكل ہو جائے تو اس صورت میں مسجد كے قریب والے مقتدى كے لیے بلند آواز سے تكبیر كہنا مشروع ہے، تا كہ مسجد سے باہر والے لوگ سن سكیں اور ان كے لیے امام كى اقتدا ممكن ہو۔

اور اگر ایسا نہ كرے تو پھر اُنہیں دو چیزوں میں سے ایك اختیار كرنے كا حق حاصل ہے:

یا تو وہ انفرادى طور پر نماز مكمل كرلیں، اور یا ان میں سے كوئى شخص آگے بڑھ كر بطورِ امام باجماعت نماز مكمل كروائے، اولىٰ اور بہتر بھى یہى ہے، تا كہ امام كى آواز منقطع ہونے كے باعث نمازى اضطراب میں نہ پڑیں۔جیسا کہ شیخ ابن باز﷫ سے درج ذیل سوال كیا گیا:

''ہم مسجد كے گراؤنڈ فلور پر نمازِ جمعہ ادا كر رہے تھے كہ بجلى منقطع ہو گئى اور مقتدى امام كى آواز نہ سن سكے، چنانچہ ایك مقتدى نے آگے بڑھ كر اُنہیں نماز مكمل كروائى، چنانچہ اس نماز كا حكم كیا ہے، یہ علم میں ركھیں كہ یہ جمعہ كى نماز تھى ؟ اور اگر كوئى شخص آگے بڑھ كر نماز مكمل نہ كرواتا تو پھر كیا حكم تھا، كیا ہر ایك شخص انفرادى طور پر نماز مكمل كرے؟''

اور اگر ایسا كرنا جائز ہے تو كیا وہ ظہر كى نماز مكمل كرے، یا كہ نمازِ جمعہ سمجھ كر ہى، كیونكہ اس نے امام كا خطبہ سنا اور امام كے ساتھ نماز شروع كر كے ایك ركعت ادا بھى كر لى تھى؟''

شیخ ﷫ كا جواب تھا: ''اگر واقعہ ایسا ہى ہو جیسا كہ سوال میں بیان كیا گیا ہے تو اُن سب كى نماز صحیح ہے، كیونكہ جس نے نمازِ جمعہ كى ایك ركعت پالى، اس نے نمازِ جمعہ پا لیا، جیسا كہ صحیح حدیث میں رسولِ كریم ﷺ سے ثابت ہے۔

اور اگر كوئى مقتدى آگے بڑھ كر اُنہیں نماز مكمل نہ بھى كرواتا اور ان سب نے انفرادى طور پر آخرى ركعت مكمل كر لى ہوتى تو بھى كفایت كر جاتا، جیسا كہ امام كے ساتھ ایك ركعت ادا كرنے والا شخص اُٹھ كر ایك ركعت انفرادى طور پرادا كرتا ہے؛ كیونكہ رسول كریم ﷺ كا عمومى فرمان ہے: ''جس نے نماز كى ایك ركعت پالى اس نے نماز پالى ۔''20
حوالہ جات

1. صحیح بخاری: 3277؛صحیح مسلم: 1079

2. سنن نسائی: 2108

3. فتح الباری: 4؍114 باب ہل یقال...

4. صحیح بخاری : 2026 ؛صحیح مسلم : 1172

5. فتاوی شیخ ابن باز ﷫: 15؍441

6. صحیح سنن أبی داود از البانی، حدیث: 1191

7. فتاوٰی شیخ ابن باز : 11؍ 311

8. جامع ترمذی، باب ماجاء فی تأخیر صلاۃ العشاء الآخرۃ، حدیث : 167

9. صحیح مسلم : 638

10. صحیح بخاری :560 ؛ صحیح مسلم: 646 ؛ معرفۃ الاوقات از ڈاکٹر خالد المشیقع : 1؍ 291

11. فتاوى المراۃ : جمع و ترتیب محمد المسند :ص 96

12. مستدرک حاكم: علامہ البانى ﷫ نے صحیح الجامع : 5376 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

13. صحیح بخارى : 1503؛ صحیح مسلم : 984

14. سنن ابو داود : 1609

15. فتح البارى : 3؍369

16. فتاوى الزكاۃ ( فطرانہ ): 2

17. مشکوٰۃ المصابیح : 2201، بحوالہ سنن ترمذی وابوداؤد

18. ہفت روزہ 'الاعتصام' لاہور، جلد ۲۶ ؍شمارہ ۱۰

19. اخبار اہل حدیث لاہور جلد ۱ شمارہ ۴۷: ۱۱ شوال ۱۳۹۰ھ... مفتی: علی محمد سعیدی، جامعہ سعیدیہ خانیوال

20. مجموع فتاوى ابن باز : 12؍ 331