مفسر قرآن کے لیے مندرجہ ذیل آداب و شرائط کا حامل ہو نا ضروری معلوم ہو تا ہے

1۔صحۃ الاعتقاد :کا اثر انسان پر بہت زیادہ ہو تا ہے اس کی وجہ سے انسان صحیح اور غلط اعمال کا ارتکاب کرتا ہے ایک بد عقیدہ آیات قرآن کی تحریف اور تنقیص سے باز نہیں آتا اس لیے محدثین عام طور پر ایسے بدعتی کی روایت نہ لینے پر متفق ہیں جو داعی ہو چنانچہ مشہور امام جرح و تعدیل ابو حاتم محمد بن حبان بستی ؒ فرماتے ہیں ۔

«الدارعية الى البدع لا يجوز الاحتجاج به عند ائمتنا قاطبة لا اعلم بينهم فيه خلافا»

ہمارے تمام آئمہ کے ہاں بدعت کی طرف دعوت دینے والے سے احتجاج کرنا جا ئز نہیں ہے ۔

2۔حسن نیت:

تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ :

«انما الاعمال بالنيات»

یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے انسان تمام آلائشوں سے ذہن کو پاک کر کے پڑھے اور پھر تفسیر بھی اس لحاظ سے کرے مولانا امین احسن اصلاحی نے بجا فر ما یا کہ :

"قرآن مجید کو اللہ تعا لیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتاراہے اور ہر آدمی کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ متوجہ ہو تا ہے تو بقدر کو شش اور بقدر توفیق الٰہی اس سے فیض پاتا ہے اور اگر اس داعیہ کے سوا کسی اور داعیہ کی تحریک سے کسی حقیر مقصد کے لیے وہ قرآن کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو «لكل امرئ ما نوى» کے اصول کے مطابق وہ وہی چیز پاتا ہے جس کا وہ طالب ہو تا ہے قرآن مجید کی اس خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعا لیٰ نے اس کی یہ تعریف فر ما ئی ہے ۔﴿ يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا...26﴾... سورةالبقرة" (اللہ اس کے ذریعہ سے بہت سوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے ) اور اس کے بعد اس ہدایت اور ضلالت کا ضابط بھی بیان فر ما یا کہ " ﴿ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ﴿٢٦﴾... سورةالبقرة

(اس کے ذریعہ سے نہیں گمراہ کرتا مگر انہی لوگوں کو جو کہ نافر مان ہو تے ہیں )یعنی جو لوگ فطرت کی راہ سے ہٹ کر چلتے ہیں اور ہدایت سے بھی ضلالت ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو وہی چیز دیتا ہے جس کے وہ بھوکے ہو تے ہیں حضرت امام سفیان ثوریؒ نیت کی پاکیزگی کو اہمیت دیتے ہو ئے فرما تے ہیں کہ۔"لوعلمت ان احدا يطلبه بنيته يعنى الحديث لا تبعته حتى احدقه فى بيته"

اگر مجھے معلوم ہو جا ئے کہ کو ئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیت کے ساتھ طلب کرتا ہے تو میں اس کے گھر اس کے پیچھے جا ؤں اور حدیث سناکر آؤں:

3۔نفسانی خواہشات سے پر ہیز :

خواہشات :انسان کو صحیح راستہ سے بٹکادیتی ہیں ان سے انسان اپنے غلط نظریات کو لوگوں تک پہنچانے کی کو شش کرتا ہے وہ لوگوں کو اپنے نرم کلام اور ادبی زبان سے مائل کرنے کی کو شش کرتے ہیں بقول منا ع القطان روا فض متزلہ اور قدریہ کے غالی لوگوں کا یہی وطیرہ ہے قرآن مجید میں ہے کہ﴿أَرَ‌ءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلـٰهَهُ هَوىٰهُ...43﴾... سورةالفرقان

کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنا لیا ۔

4۔حسن خُلق:

مفسر قرآن ایک مبلغ کی مانند ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس میں حسن اخلاق ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔

«بعثت لاتمم حسن الاخلاق» میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے معبوث ہوا ہوں لہٰذا مفسر قرآن میں ان تمام اخلاق کا پایا جا نا ضروری ہے جو ایک مسلمان کے شایان شان ہو وہ امانت دیانت اور صداقت کے اعلیٰ درجہ کا حامل ہو کم گو ہو اس میں حیا اور شرم ہو وہ غیبت نہ کرنے والا ہو ہمیشہ وعدے کو پورا کرنے والا ہو ان تمام چیزوں کا ذکر قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال میں ملتا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ صفتیں بدرجہ اولیٰ موجود تھیں ۔خاموشی کے متعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ «من صمت نجا»

"جو خاموش رہا نجات پاگیا ۔"

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا کہ: «من حسن اسلام المرء تركه مالا يعنيه»

"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ فضول باتوں کو چھوڑ دے ۔"

سچائی مومن کی بہتر ین صفت ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عبد اللہ الثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے متعلق کس چیز سے زیادہ خائف ہیں عبد اللہ فرماتے ہیں کہ "«فاخذ بلسان نفسه»

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کو پکڑا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کے کلام سے خطرے کا اظہار فر ما یا ۔"حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ: «اذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا عن نتن ما جاء به»

جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور ہو جا تے ہیں ۔ارشاد ربانی ہے ﴿ وَلا تَقرَ‌بُوا الزِّنىٰ إِنَّهُ كانَ فـٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا ﴿٣٢﴾... سورةالإسراء

"زنا کے قریب مت جاؤ "

اور ویسے بھی بے حیائی برُی چیز ہے اور حیا شرم عظمت کی چیز یں ہیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔

«ما كان الفحش فى شئ الاشانه وما كان الحياء فى شيئ الازانه»

بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو معیوب کر دیتی ہے اور حیا جس چیز میں ہو اس کو زینت بخش دیتی ہے ۔"ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ:

«لكل دين خلق وخلق الاسلام الحياء»

ہر دین کا خلق ہو تا ہے اور اسلام کا خلق حیاہے ۔"

وعدے کے متعلق ارشاد باری تعا لیٰ ہے ۔﴿ وَأَوفوا بِالعَهدِ إِنَّ العَهدَ كانَ مَسـٔولًا ﴿٣٤﴾... سورةالإسراء

"عہد پورا کردے بے شک عہد کے متعلق سوال ہو گا ۔

5۔عملی نمونہ :

قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس کا مقصد عمل ہے اس کا ہر لفظ قابل عمل ہے اور کو ئی چیز اس میں ایسی نہیں ہے جس پر عمل ناممکن ہو مفسر قرآن کے لیے احکامات قرآنی کے مطابق عملی زندگی گذارنا بہت ضروری ہے ورنہ اس کی مثال یہود ونصاریٰ کے علماء کی مانند ہو گی حضرت زیاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن لبید سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی چیز کا ذکر کیا گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا :

«ذاك عند اران ذهاب العلم»

"یہ علم کے جانے کا وقت ہو گا ۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم علم کیسے چلا جا ئے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اور یہ طریقہ قیامت تک رائج رہے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا ۔

«ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ لاَ يَعْمَلُونَ بِشَىْءٍ مِمَّا فِيهِمَا»

"آپ کی ماں آپ کو گم پائے زیاد میں تمھیں مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار آدمی سمجھتا تھا لیکن یہود نصاریٰ تورات وانجیل کی تلاوت نہیں کرتے لیکن جو کچھ ان میں ہے ان میں سے کسی چیز پر ان کا عمل نہیں ہے ۔"

مولانا امین احسن اصلاحی کا قول اس سلسلے میں مشعل راہ ہے کہ:

"کامیابی اور فلاح کی راہ صرف یہ ہے کہ آدمی قرآن کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈھالنے کی ہمت کرے اور اس کے لیے ہر قربانی پر آمادہ ہو جا ئے کچھ عرصہ تک اللہ تعا لیٰ کی طرف سے اس کے ارادے کی آزمائش ہو تی ہے اگر آدمی اس آزمائش میں اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اس کے لیے کامرانی کی راہیں کھلنا شروع ہو جا تی ہیں ۔ اور ویسے بھی بے عمل عالم کے متعلق کئی آیات قرآن حکیم اور احادیث میں موجود ہیں ۔ایک حدیث میں ہے کہ "بے عمل عالم جہنم میں اپنی انتڑیوں کے گرد کو لہو کے بیل کی طرح چکر لگائے گا ۔

6۔عزت نفس :

مفسر قرآن کی شان یہ ہے کہ وہ کسی سے مرغوب نہیں ہو تا علم حاصل کرنے والاخواہ کو ئی بھی ہو اس کے سامنے آکر ادب سے بیٹھے اس کو اپنی عزت اور وقار کا ہمیشہ خیال ہو ۔بڑے بڑے آئمہ کے متعلق معلوم ہوتا ہے حضرت امام مالکؒ کے متعلق حضرت امام ذہبیؒ فر ما تے ہیں ۔"كان مجلسه وقار وحلم وعلم"

"ان کی مجلس وقار حلماور علم کی مجلس ہو تی تھی ۔امام حسن بصری ؒ نے بعض علماء کو حکمرانوں کے دروازوں پر دیکھ کر فر مایا کہ ۔

"جئتم بالعلم على رقابكم الى ابوابهم فزهدوا فيكم اما انكم لوجلستم فى بيوتكم حتى تكونوا هم الذين يرسلون اليكم لكان اعظم لكم فى اعينهم تفرقتم فرق الله بين اعضائكم"

۔آپ علم کو گردنوں پر اٹھا کر ان کے دروازوں تک آئے ہیں انھوں نے آپ سے بے رغبتی کی اگر آپ اپنے گھروں میں رہتے اور وہ آپ کی طرف پیغام بھیجتے تو آپ ان کی نظروں میں عظیم ہوتے ۔اور آپ نے گروہ بندیاں کیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو گروہوں میں تقسیم کردیا علماء کی شان یہ ہے کہ وہ لو گ امراء کے سامنے جھکنے والے نہ ہوں حجاج بن حمزہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مبارکؒ کے پاس خراسان کے حاکم کا بیٹا آیا اور کہنے لگا کہ انہیں حدیث سنائی جا ئے تو آپ نے انکار فر ما یا اور حدیث بیان نہ کی جب وہ باہر جا نے لگا تو عبد اللہ بن مبارک ؒ ان کے ساتھ الوداع کرنے گھر کے دروازے تک نکلے وہ کہنے لگا کہ اے ابو بعد الرحمٰن میں نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے حدیث بیان کریں تو آپ نے نہ بیان فر ما ئی لیکن اب آپ میرے ساتھ گھر کے دروازے تک آئے ہیں آپؒ نے فر ما یا ۔"اما نفسى فاهنتها لك واما حديث رسول الله فانى اجله عنك"

یعنی میں نے اپنے نفس کو آپ کے سامنے ذلیل کردیا لیکن میں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ سے عظیم سمجھتا ہوں ۔(مراد یہ کہ آپ جیسے لوگوں کے سامنے حدیث بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا )

عبد الرحمٰن بن حرملہ الاسلمیؒ فر ماتے ہیں کہ:

"ما كان انسان يجترىء على سعيد بن المسيب يسأله عن شيئ حتى يستأذنه كما يستأذن الامير"

(کوئی انسان سعید بن مسیب ؒ کے پاس آنے کی جرات نہ کرتا یہاں تک کہ ان سے اس طرح اجازت لی جا تی جس طرح حکمرانوں کے پاس جا نے کی اجازت لی جا تی )

حضرت امام مالک بن انسؒ کی تعریف کرتے ہوئے ابن خیاط ؒ فر ما تے ہیں کہ:

"يدع الجواب فلا يراجع هيبة" "

"والسائلون نواكس الاذقان"

"نور الوقار عز سلطان التقى"

"فهو المهيب وليس ذا سلطان"

جواب چھوڑ دیتے ہیں ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے مراجعت نہیں کی جاتی سوال کرنے والے سرخم کرکے کھڑے ہو تے ہیں وقار کی روشنی اور تقویٰ کے غلبہ کی عزت وہ صاحب ہیبت (رعب والے ) ہیں اگرچہ کہ سلطان نہیں ۔

7۔اظہار حق:

حق اظہار کرنے والے علماء سے متعلق مشہور حدیث ہے کہ ۔

«أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ‏»

ظالم سلطان کو کلمہ حق کہنا بہترین جہاد ہے ۔نیکی کی تبلیغ اور برائی سے روکنا مسلمان اُمت کے فرائض میں داخل ہے اور مفسر قرآن اس کا ادنیٰ مبلغ ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ :« وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلاَ يُسْتَجَابُ لَكُمْ»

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جا ن ہے آپ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے یااللہ تعالیٰ آپ پر عذاب بھیجے گا پھر آپ دعا کریں گے اور وہ دعا قبول نہ ہو گی ۔"

حق کا اظہار اور برائی سے روکنا مومن کی صفات میں سے ایک صفت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»

"آپ میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اس کو چاہیے کہ ہاتھ سے روکے اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو پھر زبان سے روکے اگر زبان سے نہ روک سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔

8۔احترام علماء:

. کے لیے ضروری ہے کہ علما ء کی قدر و منزلت اس کے دل میں ہو کسی وقت میں وہ اس سے غافل نہ ہو ترجمان القرآن حبرالا متہ ابن عم الرسول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ہے کہ علماء کا بہت احترام کرتے تھے حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی اور فر ما یا کہ ۔«اللهم علمه الكتاب»

(اے اللہ اسے کتاب کا علم عنایت فر ما ئیے )

ایک دفعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سواری کی رکاب تھا م لی تو انھوں نے فر ما یا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ایسا نہ کریں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا ۔«انا هكذا نفعل بكبرائنا»

"ہم اپنے بزرگوں اور علماء سے ایسے ہی کرتے ہیں ۔ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کے احترام کے متعلق فر ما یا «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، وَتَعَلَّمُوا لِلْعِلْمِ السَّكِينَةَ، وَالْوَقَارَ، وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَعْلَمُونَ مِنْهُ»

"علم سیکھو اور علم کے لیے سکینت اور وقار سیکھو اور جن سے آپ علم سیکھتے ہیں ان سے تواضع سے پیش آؤ۔اس کے علاوہ اگر اس سے بڑے مفسر اور علماء موجود ہوں تو وہ طلبا ئے علم کو ان کی طرف رہنمائی کرنے سے گریز کرے ۔

9۔تدبر:

مفسر قرآن کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن پاک کی آیات میں بہت غور و خوض کرے قرآن مجید بھی اس بات کا ذکر موجود ہے ارشاد باری تعا لیٰ ہے ۔﴿أَفَلا يَتَدَبَّر‌ونَ القُر‌ءانَ أَم عَلىٰ قُلوبٍ أَقفالُها ﴿٢٤﴾... سورة محمد

(کیا یہ لو گ قرآن مجید پر غور نہیں کرتے یاان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں )قرآن حکیم کے علمی جو ہرریزوں سے اس صورت میں صحیح طور پر خود مستفید ہو سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرسکتے ہیں جبکہ اس کے متعلق صحیح طور پر غور وخوض کیا جا ئے

10۔اندازبیاں :

قرآن مجید میں اللہ تعا لیٰ نے دلچسپی قائم رکھنے کے لیے مثالیں بیان فرمائی ہیں مثلاً ارشاد باری تعا لیٰ ہے ۔کہ

﴿أَلَم تَرَ‌ كَيفَ ضَرَ‌بَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَ‌ةٍ طَيِّبَةٍ أَصلُها ثابِتٌ وَفَر‌عُها فِى السَّماءِ ﴿٢٤﴾تُؤتى أُكُلَها كُلَّ حينٍ بِإِذنِ رَ‌بِّها وَيَضرِ‌بُ اللَّهُ الأَمثالَ لِلنّاسِ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّر‌ونَ ﴿٢٥﴾ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبيثَةٍ كَشَجَرَ‌ةٍ خَبيثَةٍ اجتُثَّت مِن فَوقِ الأَر‌ضِ ما لَها مِن قَر‌ارٍ‌ ﴿٢٦﴾... سورةابراهيم

یعنی آپ نے خیال نہیں کیا کہ اللہ تعا لیٰ نے کلمہ طیبہ اچھی بات کی مثال کس طرح بیان کی ایک پاکیزہ درخت کی سی جس کی جڑ مضبوط ہے اور شا خیں آسمان میں اوپر کی طرٖ ف اپنے مالک کے حکم سے ہر موسم پر پھل دیتا ہے اور اللہ تعا لیٰ لو گوں سے اس لیے مثالیں بیان کرتا ہے کہ وہ سوچیں اور سمجھیں اور کلمہ خبیثہ (شرک کفر اور گندی بات کی مثال اس پلید درخت کی سی ہے جس کو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جاتا ہے اس کے لیے قرار نہیں ہے ۔

المختصر یہ کہ قرآن مجید کے مفسر کے لیے دراصل ان تمام صفات و شرائط کا حامل ہو نا ضروری ہے جو کہ ایک عالم اور محدث کے لیے ضروری ہے ۔

محدث کا اعزازی فنڈ

(ادارہ محدث کو پاکستان اور بیرون ملک سے بیشمار ایسے خطوط ملتے رہتے ہیں جن میں محدث کے لیے شوق مطالعہ کے ذکر کے ساتھ مالی تنگدستی اور تبادلہ زر کی اُلجھنوں کی بناء پر مستقل خریداری کی مشکلات کا ظہار ہوتا ہے ہم بھی محدث کے علمی اور اصلاحی مقاصد کے پیش نظر شدید خواہش رکھتے ہیں کہ ایسے طالب تک ہماری محنت اور کوشش کے نتا ئج کی رسا ئی ہو تاہم علمی اور تحقیقی مجلات کی تیاری کے لیے اہل علم و قلم اشخاص کی دستیابی کے علاوہ اس کی طباعت و نشر کے لیے جن تنظیمی وسائل اور بھاری بھر کم اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے اس کا اندازہ وہی حضرات کرسکتے ہیں جنھیں ایسے امور سے واسطہ پڑا ہو پھر کتابوں کے بالمقابل جرائد کی قیمت جو بہت کم رکھی جا تی ہے اس کی تلافی تجارتی اشہتارات اور مخصوص جماعتوں کی کار گزاری کی اشاعت کے ذریعہ سے اُن ہی کے تعاون سے پوری ہو تی ہے جبکہ محدث کےلیے ان میں سے کو ئی صورت بھی موجود نہیں بلکہ "محدث " کا واحد مدار مقبولیت خالص علمی ذوق ہے ۔ اگرچہ ہمارے کا م کا حوصلہ افزاء پہلو علمی حلقوں کی دلچسپی ہی ہے تاہم احباب اس امر سے بخوبی واقف ہیں علم بلا استثناء مالی بو جھ کی زیادتی کی بجا ئے اس سلسلہ میں تعا ون کے حقدار ہو تے ہیں کہ یہی علم پھر ان کے واسطے سے مزید پھیلتا ہے چنانچہ ہم نے اس کے لیے ایک "اعزازی فنڈ" قائم کردیا ہے جس میں ایک طرف اہل خیر کو حصہ ڈالنے کی ترغیب ہے تو دوسری طرف ہم مستحق قارئین کو بھی خوشخبری دیتے ہیں کہ ان شاء اللہ ہم بہت جلد ان کے نام محدث کی اعزازی ترسیل کرکے ان کے شوق فراداں کی تکمیل کر سکیں گے ۔)(ادارہ)
حوالہ جات

۔عثمان بن صلاح علوم الحدیث المعروف مقدمہ ابن القہلاح مع شرح التقییدولا ایضاً ح ص49دارالفکر القاہر ہ

۔البخاری محمد بن اسماعیل الجامع الصحیح مع شرح فتح الباری ج1ص9طباعت الریاض (جلد 14)

۔نفس المصدر

۔امین احسن اصلاحی تدبر قرآن (مقدمہ ج1 ص ت مکتبہ انجمن خدام القرآن لا ہور طبع سوم 1976،

۔ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی الجامع الاخلاق الرادی ج1ص338مکتبہ المارف الریاض م1982،ھ1405،

۔مباحث فی علوم القرآن ص335بیروت 1984مء1403ھ

۔ملک بن انس مؤطا ص 651 دارالنقاش بیروت ،الطبعۃ الرابعۃ1980م1400ھ

۔مسند احمد سنن الترمذی سنن الدارمی البیہقی شعب الایمان بحوالہ مشکاۃ المصابیح ولی الدین ابو عبد اللہ محمد عبد اللہ ص413،باب حفظ اللمان کتب خانہ رشید یہ دہلی 1977،

۔مسند احمد ابن ماجہ سنن الترمذی ،بیہقی شعب الایمان بحوالہ مشکاۃ المصابیح ص413،

۔سنن الترمذی بحوالہ ،مشکوۃ المصابیح ص413،

۔سنن الترمذی بحوالہ مشکوۃ المصابیح ص413،

۔سنن الترمذی بحوالہ مشکوۃ المصابیح ص414،

۔مؤطا امام مالک مالک بن انس ص651،دارلنقاش بیروت 1980م1400ھالطبعۃ الرابعۃ ،

۔ابن ماجہ ابو عبد اللہ محمد بن یزید القزدینی السنن مع شرح مضاح الحاجۃ ص303،باب ذہاب القرآن فی العلم دارہ احیا ء السنۃ النبویۃ سرگودھا1394ھ

۔تد بر القرآن مقدمہ 1 ص7،

۔مشکوۃ المصابیح ص436،

۔الذہبی ابو عبد اللہ شمس الدین محمد تذکرۃ الحفاظ جص211،دار احیاء التراث القاہرہ،

۔ الفارسی محمود دین احمد بن محمد اسماء الرجال المصابیح ص88مخطوط سعودی عرب

۔الخطیب البغدادی احمد بن علی الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ،ج1ص336مکتبہ المعارف الریاض 1983م،14،3،ج2)

۔الجامع لاخلاق الراوی ج1ص184،

۔الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ج1 ص184،185،

۔محمد ناصر الدین الالبانی سلسلۃ لاحادیث الصحیحۃ ج1 ص806المکتب الاسلامی بیروت 1985،

۔ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ سنن الترمذی ج2ص39کتب خانہ رشید یہ دہلی ج2،

۔سنن الترمذی ج2 ص40،

۔محمد بن اسماعیل البخاری :الجامع الصحیح ج1 ص17الصح المطا لع کراچی 1961،

۔ابو بکر احمد بن حسین البیہقی السنن الکبریٰ ج6ص211کتاب الفرائض باب ترجیح قول زید بن ثابت تنشر السنتہ ملتان جلد10)ڈاکٹر عبد العزیز تفسیر ابن عباس ص16جامعۃ ام القری مکۃ المکرمہ

۔الہیثمی نور الدین علی بن ابی بکر حاشیہ صفحہ مجمع الزوائدو منبع ج1ص134 مؤسستہ الماعارف بیروت 1986م 1406ھ