ہر لحظ ہیں جو ڈھونڈتے غیروں کا سہارا
فطرت کو بھلا کیوں ہو وجود اُن کاگوارہ
جومحو تماشالب ساحل ہیں ازل سے
جانیں وہ کیا غواصی دریا کا نظارا
اک ذات نے فوراً مری فر یاد رسی کی
جس دم بھی اسے رنج و مصیبت میں پکارا
مٹ جا ؤ گےبد عہدی پہیم کی سزا میں
غافل نہ رہو ہوش میں آجاؤ خدارا
ہے ارض وطن بطش مفاجات کی زد میں
دیتا ہے خبر بر ملا حالات کا دھارا
اس قصر سلطانی سے ہو کیا دین کی خدمت ؟
برطانوی ہے اینٹ تو ہے روس کا گارا
ہے ورد زبان کعبہ و رخ جانب لندن
ہیں کا م تو شیطان کے پر نام ہے پیارا
بیماری دل کی آنکھ دکھانے کے بہانے
تحزیب وطن کے لیے یورپ کو سدھا را