امام ابو نعیم اصفہانی ؒ جن کا نام احمد بن عبد اللہ تھا ان کا شمار ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے تفسیر حدیث ،فقہ اور جملہ علوماسلامیہ مہارت تامہ رکھتے تھے حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا حدیث کی جمع روایت اور معرفت و روایت میں شرت وامتیاز رکھتے تھے علوئے اسناد حفظ حدیث اور جملہ فنون حدیث میں تبحر کے لحاظ سے پوری دنیا میں ممتاز تھے ۔ امام ابونعیم اصفہانی ؒ جہاں ایک بہت بڑے محدث تھے اس کے ساتھ ساتھ حفظ و ضبط اور عدالت و ثقاہت میں بھی ممتاز تھے ارباب سیر اور تذکرہ نگا روں نے ان کے حفظ و ضبط اور عدالت وثقاہت کا اعتراف کیا ہے ۔ امام ابو نعیم اصفہانیؒ مسلکا شافعی تھی اور حدیث کے علاوہ فقہ وتصوف میں جامع کمال تھے عقید ہ میں اشاعر ہ کے ہمنوا تھے اور اشعری مذہب کی جا نب میلان رکھتے تھے امام ابو نعیم اصفہانی ؒ کے علمی کمالات اور غیر معمولی فنی شہرت نے ان کی ذات کو مرجع خلائق بنادیا تھا ۔اس لیے ان کی مجلس درس بڑی وسیع تھی ۔لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان کی مجلس میں حاضر ہو تے تھے اور وہاں سے جملہ علوم اسلامیہ میں استفادہ کرتے تھے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ (م1229ھ)نے ان کی مجلس درس کا اس طرح نقشہ کھینچاہے کہ ۔جب ان کی مجلس درس آراستہ ہو تی ۔تو ارباب فن اور محدثین عجزو نیاز کے ساتھ ان کے دولت کدہ بڑی رغبت اور مکمل انہماک کے ساتھ اکتساب فیض کرتے تھے کیونکہ ان کے علوئے اسناد ،جو دت حفظ اور و فور علم کا چرچا تھا امام ابو نعیم اصفہانیؒ کا درس صبح سے ظہر تک جا ری رہتا تاہم اس کے بعد اگر شائقین آپ سے استفادہ کرنے کی خواہش کرتے تو آپ اس میں کسی قسم کی ازردگی اور ناگواری محسوس نہ کرتے اور ہر ایک کی خواہش کا احترام کرتےاس لیے کہ مبقول علامہ ذہبیؒ (م748ھ)

"لم يكن غذاء سوى التسميع والتصنيف"

ترجمہ: حدیثیں سننا اور ان کی جمع و تالیف ہی ان کی غذا تھی ۔

امام ابو نعیم ؒ کے خلاف شورش و ہیجان :

امام ابو نعیم ؒ نے جس زمانہ میں نشوو نما پائی اس دور میں حنابلہ کا بہت زور تھا امام ابونعیمؒ کا میلا ن اشعریت کی جانب تھا اسلیے حنابلہ سے ان کی کشمکش جاری رہتی تھی چنانچہ امام ابونعیم شدئد و محن سے دوچار ہو ئے یہا ں تک کہ ایک موقعہ پر اہل اصفہان نے ان کا جامع مسجد میں داخلہ بند کردیا

امام ابو نعیم اصفہانیؒ کی علمی خدمات :

امام ابو نعیم اصفہانیؒ صاحب تصانیف کثیرہ تھے حاجی خلیفہ مصطفی بن عبد اللہ (م1067ھ)نے کشف الظنون میں ان کی 29کتابوں کی فہرست دی ہے آپ کی تصانیف میں درج ذیل کتابیں بہت مشہور و معروف ہیں ۔

غیر مطبوعہ تصانیف ۔

1۔کتاب الاربعین 2۔کتاب حرمتہ المساجد 3۔کتاب الریاضتہ والادب4۔کتاب الطب النبوی 5۔کتاب الفتن 6۔کتاب فضائل الخلفاء 7۔کتاب فضآئل الصحابہ 8۔کتاب الفوائد 9۔کتاب لختصر الاستیعاب 10۔کتاب المستخرج علی البخاری 11۔کتاب المتعقد 12۔کتاب معرفتہ الصحابہ 13۔کتاب معجم الشیوخ 14۔کتاب معجم الصحابہ 15۔کتاب علوم الحدیث امام حاکم صاحب لاستدرک (م405ھ)کی تصنیف معرفتہ علوم الحدیث پر مستخرج ہے 16۔کتاب مستخرج علی التوحید علامہ ابن خزیمہ (م311ھ) کی تصنیف کتاب التوحید والصفات پر مستخرج ہے 17کتاب المہدی 18۔کتاب تاریخ اصفہان

مطبوعہ تصانیف :

دلاالنبوۃ :امام ابو نعیم اصفہانی ؒ کی یہ کتاب بہت مشہور و معروف ہے آپ کی یہ کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص وکمالا ت اور فضائل و مکارم اور دلا ئل نبوتومعجزات سے متعلق ہے ۔امام صاحب نے سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص اوصاف قرآن مجید کی روشنی میں بیان کیے ہیں اور تائید میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی ہیں اس کے بعد قدیم کتابوں اور انبیائےؑ کرام کے صحیفوں میں جو پیش گو ئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کی گئی ہیں ان کو جمع کیا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولا دت سے وفات تک کے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔

مولانا ضیاء الدین اصلاحی لکھتے ہیں !

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی اور عمدہ سیرت واخلاق تھے ان دونوں کی حیرت انگیز تاثیر نے بے شمار لو گوں کے قلوب کو مسخرکر کے ان کو حلقہ بگوش اسلام کردیا امام ابو نعیم ؒ نے اس طور پر ایمان لا نے والے متعدد افراد کے مکمل واقعات تحریر کیے ہیں اس حیثیت سے یہ صرف دلا ئل و معجزات نبویہ ہی کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ عہد نبوی کے مختلف النوع اہم واقعات و حلات اور بض غزوات وسراپا کا مکمل مرقع بھی ہے مصنف نے بعض واقعات کی تفصیل اور ان کے دلا ئل کی نوعیت وغیرہ بھی بیان کردی ہے اور بعض شبمات واشکالات کو بھی رفع کیا ہے آخر میں بعض مشہور انبیاؑئے کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا تقابلی حیثیت سے ذکر کیا گیا ہے اس میں بعض جلیل القدر انبیائےؑ کرام کے خاص اور اہم معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد دکھا یا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی نوعیت کے معجزات عطا کیے گئے تھے ، دلائل النبو پہلی بار 1330ھمیں دائرۃ المارف العثمانیہ حیدرآباد وکن سے شائع ہوئی ۔

حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء :

ایہ امام ابو نعیم ؒ اصفہانی کی بہت مشہور و معروف کتاب ہے اس کتاب میں امام صاحب نے ان صحابہ کرام رضوان ا للہ عنھم اجمعین تابعین عظام اور تبع تابعین اور بعد کے آئمہ علام اور متقین کا تذکرہ کیا ہے جو زہد و فکر اور معرفت و تصوف میں ممتاز اور صاحب کمال تھے امام صاحب نے ایک طرف ان بزرگوں کے فضائل و مناقب خصوصاً ان کے زہد و فکر کے متعلق حکا یا ت جمع کر کے ان کا تصوف میں درجہ مرتبہ دکھایا ہے تو دوسری طرف ان سے مروی حدیثیں اور ان کے کے عارفانہ اقوال و ملفوظات بھی درج کیے ہیں ۔امام ابو نعیم ؒ نے پہلے خلفائے اربعہ اور عشرہ مبشرہ اور ان کے بعد دوسرے عارف و زاہد صحابہ کرام رضوان ا للہ عنھم اجمعین کا تذکرہ کیا ہے پھر اصحاب صفہ اور عابدہ وزاہدہ صحابیات کا علیحدہ علیحدہ ذکر کیا ہے صحابہ کے بعد تابعین وتبع تابعین کے حالات لکھے ہیں۔

شروع میں ایک علمی مقدمہ تحریرفرمایاہے۔جس میں اولیاءاللہ کے فضائل ومحاسن ان کے اوصاف وکمالات اور تصوف کی حقیقت پرلطیف بحث کی ہے۔

حلیۃ الاولیاء اپنے موضوع کے لحاظ سے بہت عمدہ کتاب ہے ارباب سیر اور علمائے کرام نے اس کی تعریف کی ہے۔

مورخ ابن خلکانؒ (م681ھ) لکھتے ہیں کہ

امام ابو نعیم ؒ اصفہانی کی حلیۃ الاولیاء وطبقات الااصفیاء بہترین کتاب ہے۔ حاجی خلیفہ مصطفیٰ بن عبداللہ صاحب کشف الظنون (م1067ھ) لکھتے ہیں کہ امام ابو نعیم ؒ اصفہانی کی کتاب حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء کا شمار بہترین اور عمدہ کتابوں میں ہوتا ہے۔

حافظ ابن کثیر ؒ (م774ھ) لکھتے ہیں کہ:

"حلیۃ الاولیاء کے مطالعہ سے امام ابو نعیم ؒ اصفہانی کی وسعت نظر ان کے شیوخ کی کثرت اور مخارج وطرق حدیث سے پوری واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

علامہ شمس الدین ذہبی ؒ (م748ھ) لکھتے ہیں کہ:

"امام ابو نعیم ؒاصفہانی کی کتاب حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء بہت عمدہ اور عدیم النظیر کتاب ہے اور امام ابو نعیمؒ کی زندگی ہی میں اس کی پوری شہرت اور غیر معمولی حسن قبول واعتبار حاصل ہوگیا تھا۔

حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (م1239ء) لکھتے ہیں کہ:

"حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء جیسی عمدہ کتاب اسلامیات میں اس سے پہلے نہیں لکھی گئی۔

حلیۃ الاولیاء کی افادیت ومقبولیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے۔کہ علمائے کرام نےاس کے زوائد ومختصرات بھی لکھے۔علامہ عبدالرحمان بل علی جوزی (م597ھ) نے صفوۃ الصفوۃ کے نام سے 4 جلدوں میں اس کا نہایت عمدہ اختصار کیا ہے علامہ ابن جوزی نے "صفوۃ الصفوۃ" میں امام ابو نعیم ؒ پر نقد وتعصب بھی کیا ہے۔

امام ابو نعیم ؒ236ھ میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔ اور 96 سال کی عمر پاکر 430ھ میں آپ نے انتقال کیا۔ آپ نے بے شمار اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کیا۔جیسا کہ علامہ ذہبی ؒ(م748ھ) لکھتے ہیں۔

"انہوں نے خراسان وعراق کے بے شمار لوگوں سے کسب فیض کیا۔حقیقت یہ ہے کہ ان کو جس قدر اکابر شیوخ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اس سے اور محدثین محروم ہیں۔
حوالہ جات

1۔ذہبی تذکرۃ الحفاظ ج3ص292۔291،سبکی الطبقات الشافعیہ ج3 ص۔8۔7،

2۔ابن خلکان ،وفیات الاعیان ج1ص45،سبکی الطبقات الشافعیہ ج3 ص8۔

3۔سبکی الطبقات الشافعیہ ج3ص8۔

4۔ابن جوزی المنتظم ج8ص100۔

5۔شاہ عبد العزیز محدث دہلوی بستان المحدثین ص44،

6۔ذہبی تذکرۃ الحفاظ ج3ص292،

7۔ایضاً ج3ص393۔

8۔کشف الظنون ج2ص304،

9۔علامہ ابن کثیر (م774ھ)کے پاس اس کا ایک نسخہ خود مصنف امام ابو نعیم اصفہانی کے ہاتھ کا لکھا ہو اموجود تھا (البدایہ والنہایہ ج12ص45)

10۔حاجی خلیفہ مصطفیٰ کشف الظنون ج2ص304،

11۔ضیاء الدین اصلاحی تذکرۃ الحدثین ج2ص223۔

12۔ابن خلکان وفیات الاعیان ج1 ص45۔

13۔حاجی خلیفہ مصطفیٰ کشف الظنون ج1ص452۔

14۔حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ ج12 ص45۔

15۔ذہبی تذکرۃ الحفاظ ج2ص 293۔

16۔شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بستان المحدثین ص44۔

17۔ابن خلکان وفیات الاعیان ج 1 ص 45۔ابن جوزی المنتظم ج8 ص100۔

18۔ذہبی تذکرۃ الحفاظ ج3 ص292۔