زمانہ ماضی کا ہو یا حال کا،ہر دور میں بگڑے ہوئے لوگوں کا یہ مستقل وطیرہ رہاہے کہ وہ اپنے مفسدانہ نظریات کی اشاعت ،ان ہستیوں کے نام کی آڑ میں کرتے رہے ہیں جو معاشرے میں قابل اعتماد اور لائق احترام ہوں۔ایسے لوگ عامۃ الناس کے سامنے آکر بھی یہ نہیں کہتے کہ "جوکچھ ہم پیش کررہے ہیں یہ ہمارے طبع زاد نظریات اور خود ساختہ افکار ہیں"بلکہ وہ انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ"یہ افکار ونظریات ،ان اسلاف کرام کے نظریات ہیں جو ہم سب کے لئے واجب الاحترام اور معتمد علیہ پیش رو ہیں۔" ایسے ر اہ راست سے بھٹکے ہوئے خوب جانتے ہیں کہ اگر وہ اپنے من گھڑت نظریات کو خود اپنے نام سے پیش کریں گے تو یہ معاشرے میں قابل قبول نہ ہوں گے۔اس لئے وہ ان جعلی سکوں کو ان ہستیوں کے نام پر چلاتے ہیں۔جن کی بازار علم کے اندر ساکھ پائی جاتی ہے۔

یہودونصاریٰ اور مشرکین قریش، اگرچہ نسلی طور پر اولاد ابراہیم ؑ میں سے تھے ۔لیکن فکری طور پر وہ ان اسلاف کرام کا راستہ ترک کرچک تھے۔اب ان میں ایمان کی جگہ کفر،توحید کی جگہ شرک ،ہدایت کی جگہ ضلالت اور صلاح کی جگہ فساد پیدا ہوچکا تھا۔ ان کے خیالات میں پستی،کردار میں گراوٹ ،سیرت میں ضُعف اور اعمال میں فسق وفجور نمودار ہوچکا تھا ،وہ اپنے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین سے ہٹ کر اپنے خود ساختہ مذاہب پرجم چکے تھے۔اب وہ"دین اسلام" کے حوالے سے"مسلمان" کی حیثیت سے نہیں پہچانے جاتے تھے،بلکہ وہ اپنے منحرف شدہ مذہب کے حوالے سے صرف "یہودی"عیسائی" اور مشرک ہی کی حیثیت سے معروف تھے،ان کے نزدیک اب معیار ہدایت اسلام نہیں بلکہ یہی مذاہب تھے۔چنانچہ یہودیت،عیسائیت،اور بت پرستی کو مقبول عام بنانے کے لئے۔یہ پراپیگنڈہ کیا کرتے تھے۔کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ہمارے انہی مذاہب پر قائم تھے۔چنانچہ قرآن کو ان کی تردید کرتے ہوئے یہ اعلان کرنا پڑا کہ:۔

﴿ما كانَ إِبر‌ٰ‌هيمُ يَهودِيًّا وَلا نَصر‌انِيًّا وَلـٰكِن كانَ حَنيفًا مُسلِمًا وَما كانَ مِنَ المُشرِ‌كينَ ﴿٦٧﴾... سورةآل عمران

"ابراہیمؑ نہ تو یہودی یا عیسائی تھے۔اورنہ ہی وہ مشرکوں میں سے تھے بلکہ وہ تو مسلم یکسو تھے۔"

یاد رکھئے! کسی شیطان نے آج تک اپنی شیطنت کو کھلے بندوں،خود اپنے نام سے پیش نہیں کیا ،بلکہ یہ کام اس نے ہمیشہ ان لوگوں کے نام کی آڑ میں کیا ہے جن کا قوم میں احترام اور اثر ورسوخ پایا جاتاہے۔اگر شیطان اپنے باطل نظریات کو خود اپنے نام سے پیش کرے تو اسے خود بھی علم ہے کہ سماج میں یہ قابل قبول نہ ہوں گے اس لئے وہ باطل کو حق کا اوربگاڑ کو صلاح کا لباس زُور،پہنا کر اُن،ہستیوں کے نام کی آڑ میں پیش کرتا ہے۔جو معاشرے میں مقام احترام رکھتے ہیں۔اس قسم کے حیلہ جولوگ ان ہستیوں کی بڑی مبالغہ انگیز مدحت وثناء کے ساتھ ساتھ ،ان کی بڑی بڑی تصاویر اور ۔پورٹریٹ کو اپنے آگے رکھتے ہیں اور خود ان کے پیچھے رہ کر ان کی آڑ میں اپنا راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ان کی زبانوں پر اسلاف کے متعلق زندہ باد کے نعرے اور ان کے ہاتھوں میں ان ہستیوں کی تصویریں ،عامۃ الناس میں یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ انہیں،ان ہستیوں سےبڑی عقیدت اور محبت ہے۔اس کے بعد یہ پُر فریب لوگ جو چیز بھی ان اسلاف کیطرف منسوب کردیں،لوگ،اسلاف کے ساتھ ان کے احترام وعقیدت کے بل بوتے پر بغیر کسی تحقیق وتفتیش کے درست مان لیتے ہیں۔ٹھیک یہی ٹیکنیک ہے۔جو انکار حدیث کے علمبرداروں نے ،ڈاکٹر محمد اقبال ؒ وغیرہ کے بارے میں میں اختیار کی ہے۔مجلہ"طلوع اسلام" کے ابتدائی دور میں اس کے پہلے صفحے Page Title پر حضرت علامہ اقبالؒ کی بڑی دلکش تصویر شائع ہوا کرتی تھی۔اس کے بعد کلام اقبال میں سے کوئی ای قطعہ پیش کیا جاتا تھا۔پھر علامہ اقبال ؒ کی مختلف مضامین میں اس کی شاعری کی داد دی جاتی تھی۔ان مضامین میں اس بات کا خاص التزام برتا جاتا تھا کے کتاب اللہ کے ساتھ اقبال کے شغف کو تو نمایاں کیا جائے لیکن اس کی اطاعت سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہیں ذکر نہ آنے پائے اقبال کے عشق قرآن کو تو اجاگر کیاجائے۔مگر اسوہ ء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی پر انہوں نے جو زور دیا ہے۔اس کا بھول کر بھی ذکر نہ آنے پائے اقبال کے وہ اشعار تو پیش کردیئے جائیں جن میں قرآن کریم کو اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ قراردیا گیا ہے۔مگر ان اشعار سے پرہیز کیا جائے جن میں امت کے زوال وانحطاط کا سبب ترک سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ"نیست ممکن جزبہ قرآن زیستن"کو تو خوب اچھا لا گیا مگر"از حدود مصطفےٰ بیروں مرد" کے بیان سے اس طرح پرہیز کیا گیا جس طرح شیطان نیکی سے پرہیز کرتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس مخصوص انداز کے تعارف اقبال نے،جسے "طلوع اسلام" نے اپنی منفرد ذہنی افتاد کے پیش نظر تسلسل اور تواتر کے ساتھ برسوں جاری رکھا،ایک مخصوص حلقے میں یہ تاثر پیدا کردیا کہ اقبال بھی گویا یکے از منکرین حدیث تھے،حالانکہ یہ تاثر از سرتاپا بے اصل اور باطل ہے،مندرجہ ذیل اقتباسات ،اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں۔

1 ۔مولانا سید نا ابو الاعلیٰ مودودی ؒ علامہ اقبالؒ کے متعلق لکھتے ہیں:۔

"حدیث کی جن باتوں پر نئے تعلیم یافتہ نہیں ،پرانے مولوی تک کان کھڑے کرتے ہیں اور پہلو بدل بدل کرتاویلیں کرنے لگتے ہیں ،یہ ڈاکٹر آف فلاسفی ،اُن کے ٹھیٹھ نقلی مفہوم پر ایمان رکھتا تھا۔اور ایسی کوئی حدیث سُن کر ایک لمحہ کے لئے بھی اس کے دل میں شک کا گزرنا ہوتا تھا۔ایک مرتبہ،ایک صاحب نے ان کے سامنے بڑے اچھنبے کے انداز میں،اس حدیث کا ذکر کیا جس میں بیان ہوا ہےکہ"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"اصحاب ثلاثہ کے ساتھ اُحد پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے اتنے میں اُحد لرزنے لگا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جا،ترے اوپر ایک نبی اتنے میں اُحد لرزنے لگا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جا ترے اوپر ایک نبی،ایک صدیق اوردو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔اس پر پہاڑ ساکن ہوگیا،اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا کہ اس میں اچھنبے کی کیا بات ہے؟میں اس کو استعارہ ومجاز نہیں بلکہ ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس کے لئے کسی تاویل کی حاجت نہیں ،اگر تم حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمھیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے مادے کے بڑے سے بڑے تودے بھی لرزاٹھتے ہیں۔مجازی طور پر نہیں بلکہ واقعی لرز اٹھتے ہیں۔(جوہر اقبال ص38 اور اقبال کامل ص64،تا ص68)

یہ ہے اقبال کا ایمان برحدیث،جبکہ منکرین حدیث ،ایسی احادیث کو خلاف عقل کہہ کر اپنی دانشوری پرمہر تصدیق ثبت کیاکرتے ہیں۔

2۔اقبال ہمیشہ حدیث کو حجت شرعی سمجھ کر اس سے استدلال کیاکرتے تھے چنانچہ:

الف۔ایک مقام پر وہ "لا تجتمع امتى على الضلالة" سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"تاریخی پہلو سے میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کے موجد نے اس کو نمو کے خیال سے جاری کیا یاچاند سورج سے اپنا سلسلہ نسب ملانے کے خیال سے مگر تمام امت کا اس پر صدیوں سے اجماع ہوچکا ہے جن اسلامی قوموں کا نشان اور ہے وہ کبھی اس پر معترض نہیں ہوئیں اور حدیث صحیح ہے کہ میری امت کا اجماع ضلالت پر نہ ہوگا ،اس واسطے اس کو ضلالت تصور کرنا درست نہیں۔"(اقبال نامہ ج1ص337)

ب۔ایک اور موقعہ پر "خيرالقرون قرنى" والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور اس سے رہبانیت کی تردید کرتے ہیں۔(ملاحظہ ہو اقبال نامہ ج1 ص78)

3۔اقبال کے نزدیک سرچشمہء اسلام صرف قرآن ہی نہیں بلکہ سنت نبوی بھی ہے،ان کے نزدیک ایک معیاری عالم وہ ہے جو قرآن وسنت کا علم سکھاتا ہے،ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی نے ان جذبات احترام کے متعلق ،جو قائد اعظم کے متعلق حضرت ڈاکٹر اقبال رکھتے تھے لکھا ہے کہ:۔

"1936ء کے آخری ایام تھے۔پنجاب میں اتحاد پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان زورآزمائی ہونے والی تھی،ڈاکٹر صاحب لیگ کے حامی اور مسٹر جناح کے بہت بڑے مداح تھے۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ مسٹر جناح کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو آج ہندوستان کے مسلمان میں مجھے نظر نہیں آتی۔کسی نے پوچھا وہ خوبی کیا ہے تو آپ نے انگریزی میں کہا کہ،He is uncomuptable and unpurchaseable اس محفل میں ایک شخص نے کہا کہ "مسٹر جناح تو شیعہ ہیں۔"ڈاکٹر صاحب نے قدرے گرم ہوکر فرمایا"آپ یہاں بھی شیعہ سنی کا جھگڑا کرنا چاہتے ہیں۔ جناح نے کب محدث وفقیہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس بیچارے نے کب کہا کہ وہ عالم دین اور امام وقت ہے "اس نے کہا ں لکھا ہے کہ مسلمان اس سے کتاب وسنت کا درس لیں۔بات یہ ہے کہ انگریز نے ہندوستان میں پارلیمنٹری طرز حکومت کے نام سے اپنی شہنشاہت کو مضبوط کرنے کا جال بچھایا ہے،جناح اس جال کی ایک ایک گروہ سے واقف ہے وہ انگریزی سلطنت کی چالوں سے اس حد تک آگاہ ہیں کہ خود انگریز بھی اس سے خائف ہیں،وہ اپنی سیاسی بصیرت کی روشنی میں آپ کو ہوشیار ہونے کی تلقین کرتا ہے۔"(آثاراقبال ص41 تا ص43 ،اقبال اور علماء پاک وہند ص52)

4 ۔علامہ اقبال کے نزدیک اسلام ان حدود کی پیروی کا نام ہے جو قرآن اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو پیش کی ہیں۔وہ ایک جگہ اگر یہ کہتے ہیں کہ:۔
گر تومی خواہی مسلمان زیستن نیست ممکن جزبہ قرآن زیستن

تو دوسری طرف ،حدود مصطفےٰ سے انحراف برتنے سے منع کرتے ہیں،فرماتے ہیں"۔
باطن ہرشے زآئین قوی! تو چرا غافل ازیں سامان روی
باز اے آزاد دستور قدیم زینت پاکن ہماں زنجیر سیم
شکوہ سنج سختی ء آئین مشو از حدود مصطفےٰ بیرون مرد
(اسرارورموز ص45)

5۔علامہ اقبال ؒ کے نزدیک اطاعت رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہی واحدذریعہ ء فلاح ونجات ہے وہ صاف الفاظ میں فرماتے ہیں،
یہ مصطفےٰ برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست اگربا ونرسیدی تمام بولہبی است

جبکہ ہمارے دور کے منکرین حدیث کے نزدیک "اطاعت رسول ؐ" کا کوئی مقام نہیں ہے۔ان کے نزدیک "اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)(اگر ہوبھی تواس) کامعنی اطاعت قرآن ہے یا پھر اطاعت مرکزملت ہے۔

6۔علامہ اقبال ؒ کی نگاہ میں دین حیات،دین اسلام ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریع وتشریح ہی اس دین کی اصل تفسیر ہے۔
ہست دین مصطفےٰ ،دین حیات شرع اور تفسیر آئین حیات

یہاں پھر حدیث کے متعلق اقبال کے نقطہء نظر میں اور منکریں حدیث کے نطقہ نظر میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔منکرین حدیث کے نزدیک روایات حدیث کی حیثیت محض تاریخ کی حیثیت ہے جبکہ اقبال مرحوم کے نزدیک پیغمبر خدا کی شرع" تفسیر آئین حیات" ہے نہ کہ "تاریخ آئین حیات۔"

اس واضح فرق کو دیکھئے اور پھر داد دیجئے منکرین حدیث کو کہ ۔
ع۔دیتے ہیں یہ باز دیگر دھوکہ کھلا

7۔اقبال فرماتے ہیں کہ جب سے امت مسلمہ نے دین اسلام اور شعار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا ہے اس وقت سے وہ زوال پزیر ہے ،وہ اُمت کے زوال کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ اس نے شعار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ترک کردیا ہے۔
تارشعار مصطفےٰ از دست رفت قوم رارمز بقا از دست رفت

8۔اقبال ملت اسلامیہ کے زوال وانحطاط اور انتشار وافتراق پر آزر دہ ہیں۔مسلمان کی بے عملی اور کفر سامانی پر ان کادل دُکھتا ہے ترک سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ ملول ومخرون ہیں چنانچہ ایک جگہ وہ اھل اسلام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :

خوب ہے تجھ کو شعار صاحب یثرب کا پاس کہہ رہی ہے زندگی تیری کہ تو مسلم نہیں ہے۔

9۔اقبال،ایک اور مقام پر بھی ،امت مسلمہ کے زوال کا باعث یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کو چھوڑ دیا ہے۔
مسلم از سر نبی بیگانہ شد باز ایں بیت الحرم بُت خانہ شد

10،سر ِ"نبی " ہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت موجود ہے۔جس کی اتباع اور جس کی پیروی پر اقبال عمر بھر زور دیتے رہے ہیں۔اقبال کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہء حسنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاسرار میں سے ہے،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں ڈوب کر ہی وہ خود شناسی حاصل کی جاسکتی ہے جو درحقیقت "دیدار ر سول" کے مترادف ہے۔
باز خود رابین ہمیں دیدار اوست سنت اور ستر سے از اسر راوست

11۔اقبال ،اس رند پاکباز کی جرائت پر آفریں کہتا ہے اور اس کی رفعت منزلت پر حیرت زدہ ہے۔کہ جس نے خدا سے برملاکہہ دیاکہ"ہمارے لئے مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کافی ہیں"جبکہ منکرین حدیث کا وطریہ یہ ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں رسول کا نام،خدا کے نام کے ساتھ آتا ہے۔وہاں وہ خدا کی الوہیت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ختم کرکے۔۔۔خدا +رسول۔۔۔۔۔مرکز ملت،۔۔۔۔۔۔کی نرالی اور انوکھی مساوات ایجاد کرڈالتے ہیں۔
بکوئے تو گداز یک نوابس مرایں ابتداء ایں انتہا بس
خراب جرائت آن رند پاکم خدا را گفت "مارا مصطفےٰبس

12۔اقبال فرماتے ہیں کہ اگر تو میری بات پر غور کرے اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رمز شناس آنکھوں سے دیکھے تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ترے دل وجگر کی قوت بن جائیں گے اور ان کی ذات گرامی خدا سے بھی زیادہ محبوب قرار پائے گی۔قلب مومن کے لئے ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتاب(قرآن) قوت ہے اور آپ کی حکمت (سنت) ملت اسلامیہ کے لئے شہ رگ کا درجہ رکھتی ہے۔
معنی حرفم کہنی تحقیق اگرء! بنگری بادیدہ صدیق اگر!
قوت قلب وجگر گردد نبی از خدا محبوب تر گردد نبی
قلب مومن راکتا بش قوت است حکمتش حبل الورید ملت است
(اسررورموز ص107)

13۔اقبال کتاب (قرآن) کے ساتھ حکمت (سنت ) کو ایسی قوت قرار دیتے ہیں۔ جو امت مسلمہ کے لئے پیغامبر عزت وآبرو ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیائے ذوق وشوق کی فتوحات ہوں یا عالم زیریں وعالم بالا کی فتوحات ،سب انعامات خداوندی ہیں جو اھل ایمان کو عطا کئے جاتے ہیں۔یہی جمالی اور جلالی شان کی نمود ہے جو مومن کی شان امتیاز ہے۔
برگ وساز ما کتاب وحکمت است ایں دوقوت اعتبار ملت است
آں فتوحات جہاں ذوق وشوق! ایں فتوحات جہاں تخت وفوق
ہر دو انعام خدائے لایزال مومناں راآں جمال است ایں جلال
(مسافر ص40۔بحوالہ اقبال اور محبت رسول ص97)

14۔اقبال بانگ درا میں جواب شکوہ کے تحت فرماتے ہیں کہ اگر وفائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم رہو گے(اور یہ ظاہر ہے کہ وفائے محمد کا قیام،اطاعت ومحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی موقوف ہے)تو ہم اب بھی تمہارا ساتھ دیں گے اور آسمانی امداد اور ربانی تائید پھر سے تمہاری دستگیری شروع کردے گی۔
کی محمد ؐسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا ،لوح وقلم تیرے ہیں

15۔ممکن ہے کہ بعض احادیث کے بارے میں ،اقبال کو کچھ کھٹک رہی ہو،جیسا کہ ان کےایک مکتوب بنام سید سلیمان ندوی مرحوم (مرقومہ 24 اپریل 1926ء) سے پتہ چلتا ہے۔لیکن بہرحال سید صاحب مرحوم نے اس خط کے جواب میں ،ان کی کھٹک کا ازالہ کردیا تھا۔(ملاحظہ ہو اقبال ،سید سلیمان ندوی کی نظر میں ترتیب و تحشیہ اختر راہی ص191) لیکن یہاں جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اقبال مرحوم اس کھٹک کے دوران بھی احادیث کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ

"ان میں ایسے بیش بہا اصول ہیں کہ سوسائٹی باوجود اپنی ترقی کے اب تک ان کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکی،مثلاً ملکیت شاملات دہ کے متعلق«المرعى لله ورسوله» (بخاری)

اس حدیث کا ذکر میں نے مضمون اجتہاد میں بھی کیا ہے۔(اقبال سید سلمان ندوی کی نظر میں (ص191)

اب اس کے بعد ،میں حیات اقبال کے آخری ایام کی وہ یادداشتیں اور گفتگو میں پیش خدمت کررہا ہوں جن میں حدیث رسول،اتباع رسول اور کتاب وسنت کے متعلق اقبال کے نظریات کی صراحت ہوجاتی ہے۔یہ وہ تصریحات ہیں جو حیات اقبال کے بالکل آخری دور میں خود ان کی اپنی زبان سے واقع ہوئی ہیں۔

16۔سید نزیر نیازی صاحب دس جنوری 1938ء کے تحت رقمطراز ہیں۔

"سلسلہ ء کلام نبوت پر آگیا،نبوت سے مراد ہے فرد کی تربیت ذات اور فرد اور جماعت کی رہنمائی مدارج کمال کی طرف ،ارشاد ہوا "جہاں تک فرد کی ذات اور معاشرے کی تہذیب وترقی یا دوسرے لفظوں میں معراج انسانیت کا تعلق ہے۔یہ مقصد حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع ہی سے حاصل ہوگا۔"(اقبال کے حضور ج1 ص62(10۔1۔38) از سید نزیر نیازی)

17۔31 جنوری 1938ء کی ڈائری میں سید نزیز نیازی صاحب لکھتے ہیں :

"راجہ صاحب بھی بیٹھے تھے ،وہ شاید کچھ کہنا چاہتے تھے کہ حضرت علامہ نے خود فرمایا۔۔۔" ہم نے آنکھ کھولی ،تو لا یعنی روایات ،بدعات اور توہمات کا زور تھا،لیکن ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہابی تحریک پھیل گئی۔نیچے ہاشیہ میں لکھا ہے "صحیح معنوں میں تحریک اہل حدیث کا بخاری اور مسلم کی اشاعت ہونے لگی اور صورت حالات بہت کچھ بدل گئی۔(اقبال کےحضور ج1 ص133)

اس اقتباس کو غور سے پڑھیے ،اقبال مرحوم کے نزدیک بدعات وتوہمات اور لا یعنی روایات کی تردید وتغلیط کی صورت علم حدیث کی اشاعت ہے۔انہوں نے شعور کی آنکھ کھولی ،تو انہیں لا یعنی رسوم خلاف سنت اعمال اور توہمات کی گھٹا ٹوپ تاریکیاں دکھائی دیں،محمد بن عبدالوہاب ؒ کی تحریک احیاء سنت پھیلی تو اس کے باعث بخاری اور مسلم کی وہ کتب احادیث اشاعت پزیر ہوئیں۔ جن سے صورت حالات بہت کچھ بدل گئی۔اقبال کے نزدیک تو بخاری ومسلم کا یہ مقام تھا لیکن اقبال کے نا م پر اپنی د کان چمکانے والے یہ لوگ بخاری ومسلم کو عجمی سازش کا نتیجہ قراردیتے ہیں اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حدیث کے متعلق خود اقبال کے اور ان منکرین سنت کے نقطہء نٖظر میں کس قدر بون بعید واقع ہے۔

18۔سید نزیر نیازی ،دس فروری 1938ء کی یاد داشتوں کے تحت لکھتے ہیں:۔

۔۔۔دولتانہ سے حضرت علامہ کا ذہن،یونینسٹ پارٹی،اور یونینسٹ پارٹی سے دیوبند کی طرف منتقل ہوگیا،مسلمانوں کی ر اہنمائی نہ ارباب سیاست کررہے ہیں اور نہ ارباب مذہب یہ کیا بات ہے؟شاید یہی احساس تھا جس کے تحت (حضرت علامہ نے) فرمایا۔"کیوں نہ مولوی حسین احمد اور اس کے طرفداروں سے کہہ دیا جائے کہ ہم قومیت کے مسئلہ پر گفتگو کے لئے تیار ہیں،لیکن مداربحث قرآن وسنت ہوگا۔"(اقبال کے حضور ج1 ص176)

غور فرمایئے،اقبال کے نزدیک قرآن کے ساتھ سنت ر سول بھی وہ حجت ہے جس کو مدار بحث بنایا جارہا ہے ،سوال یہ ہے کہ آج کے منکرین حدیث نے بھی کبھی سنت کو یہ پوزیشن دی ہے کہ وہ بھی قرآن پاک ہی کی طرح،اختلافی مسائل میں بطوردلیل وحجت مرجع ومدار قرار پاسکے؟اگر نہیں تو پھر کس منہ سے یہ کہاجاتا ہے کہ اقبال بھی یکے از منکریں حدیث تھے۔

19۔سات مارچ 1938ء کے تحت ،موصوف لکھتے ہیں:

دیوبند سے حضرت علامہ کا ذہن،تحریک وہابیت کے طرف منتقل ہوگیا،فرمایا سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس مصلح عظیم نے اس تحریک کی ابتداء کی ،اس کا مقصد تو بجز اس کے کچھ نہیں تھا کہ باب اجتہاد واہو اور امت تقلید کے بندھنوں سے نجات پائے ۔بعینہ رد بدعات وفتن کے سلسلے میں حدیث کا مطالعہ ضروری تھا،لہذا حدیث کے مطالعے پر زور دگیا گیا۔"(اقبال کے حضور ج1 ص286)

سچی بات یہ ہے کہ جب حدیث کے متعلق،اقبال کے نظریات کا مطالعہ کرتا ہوں۔تو حیران رہ جاتا ہوں کہ جو شخص رد بدعات وفتن کے سلسلہ میں مطالعہ حدیث کو ضروری قرار دیتا ہو،اس کے متعلق منکرین حدیث کا یہ پراپیگنڈہ کہ وہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معتقد نہ تھا۔کتنا بڑا جھوٹ اور کس قدر گھناؤنا دجل وفریب ہے،ان لوگوں کی ایسی حرکات کو دیکھ کر بالیقین یہ کہا جاسکتا ہے کہ آخرت میں جوابدہی کا احساس،ان کی زبانوں پر ہوتو ہو لیکن ان کے طرز عمل میں اس کے آثار خورد بین لگا کر دیکھنے سے بھی نظر نہیں آتے۔

20۔10 مارچ 1938ء کی یاداشتوں اور گفتگوؤں کے متعلق موصوف لکھتے ہیں:۔

ارشا دہوا"اھل حدیث کی دل آزاری کسی طرح جائز نہیں ۔اہلحدیث اور اہل رائے کا امتیاز بہت پُرانا ہے۔محمد بن عبدالوہاب ؒ نے جو تحریک اٹھائی اس کا سلسلہ ابن تیمیہؒ تک جا پہنچتا ہے۔رد تقلید کا قدرتی تقاضا تھا کہ مطالعہ حدیث پر زور دیا جاتا۔ہندوستان میں شاہ صاحب(مراد شاہ والی اللہ دہلویؒ۔قاسمی) بھی تو حدیث کی ضرورت پر قلم اٹھا چکے ہیں۔(اقبال کے حضورج1 ص319)

21۔آگے چل کر اسی روز کی ڈائری میں حضرت علامہ کی یہ گفتگو بھی درج ہے۔ارشاد ہوا"یہ سیاست واقتدار اور آئین وقانون کی بحثیں تو بڑی دقت طلب ہیں۔علماء حضرات اتنا تو سمجھیں کہ انگریز دشمنی کے جذنے میں اگر ہم نے وہی راستہ اخیتا رکرلیا جس پر کانگریس چل رہی ہے تو یہ ر استہ مغرب کی لادین اور لا اخلاق سیاست کا تو ہوگا کتاب وسنت کا نہیں ہوگا۔"(اقبال کے حضور ج1 ص320)

22۔اسلام با قرآن اپنی تعلیمات کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ ایک عام زہن ودماغ کا بدو بھی اس سے استفادہ کرسکتا ہے اور ایک اعلیٰ درجہ کا تعلیم یافتہ باریک بین فلسفی اور نکتہ رس حکیم بھی اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والا،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق کہ «كلموا الناس على قدر عقولهم» لوگوں سے ان کی عقلی سطح کےمطابق گفتگو کیا کرو)مخاطب کی ذہنی سطح اور علمی استعداد کو پیش نظر رکھ کر ہی اس سے بات کرے گا کس طرح؟اسے اقبال کے متعلق درج زیل اقباس میں ملاحظہ فرمائیے:۔

ایک ملاقات میں حکیم محسن علی صاحب عرشی نے ان (حضرت علامہ)سے کہا کہ"آپ کے مدراس والے لیکچر بے حد مشکل ہیں۔اگر اسلام یا قرآن کا منشاء وہی ہے جو آپ نے ان لیکچروں میں بیان فرمایا ہے اور جس کو اس ترقی یافتہ زمانے کے بڑے بڑے اھل علم سمجھنے سے قاصر ہیں تو قرآن اول کے صحرا نشینوں نے اسے کیا سمجھا ہوگا؟اس کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا۔«بنى الاسلام على خمس» کسی قوم کی تشکیل وتعمیر کے لئے اسلام کے پانچ ارکان مشہورہ کا اجراء وانضباط کافی ہے چنانچہ اس کی محسوس عملی صورت ،عہد سعادت سے بہتر کہیں نظر نہیں آسکتی۔اور تاریخ کا حافظہ،اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔(البیان دسمبر 1939ء (اقبال نمیر) بحوالہ اقبال کامل ص75)

23۔علامہ اقبال پنجاب کے ایک گاؤ ں میں ایک ایسا دینی ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے جس میں طلبہ ومحققین کی راہنمائی کے لئے وہ جامعہ ازہر سے قرآن وسنت کا ایسا عالم بلانا چاہتے تھے جو علم قدیم اور علم جدید کا جامع ہو،اس مقصد کے لئے شیخ الجامعہ جناب مصطفےٰ المراغی کو انہوں نے جو خط لکھا،اس کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔اور خود سوچیے کہ ایسا خط لکھنے والا شخص منکر حدیث ہوسکتا ہے؟

"ان کی راہنمائی کے لئے ایک ایسا معلم مقرر کرنا چاہتے ہیں جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصیرت تامہ رکھتا ہو اور انقلاب دور حاضرہ سے بھی واقف ہو تاکہ وہ ان کو کتاب اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوح سے واقف کرے۔(اقبال ج1 ص251)

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ علامہ مرحوم کے خط کے اس اقتباس کو خود پرویز صاحب نے بھی اپنے ایک مضمون میں پیش کیا تھا۔ بغیر اس کے کہ اس پر کسی قسم کی فکر کی گئی ہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خط پرویز صاحب کی "بصیرت" کی میزان میں بھی پورا اترا ہے۔اور اس کی تاریخٰ حیثیت بھی ہر قسم کے شک وشہ سے بالا تر ہے۔

24۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اقبال کا کیا رویہ تھا؟اس کی وضاحت کےلئے اب میں حیات اقبال کے بالکل آخری لمحات کو نذر قارئین کررہاہوں، ملاحظہ فرمایئے کہ موت سے چند ثانیے قبل انہوں نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا طرز عمل اختیار کیا تھا۔

"21اپریل 1938ء کی شب بڑی قیامت خیز شب تھی۔وہ منکر اسلام جس نے اپنے نغموں سے مسلم معاشرے پر خودی کے راز کو آشکارا کیا جس نے رنگ ونسل علاقایئت اور زبانوں کی عصبیت سے بلند ہوکر ساری انسانیت کی سربلندی کا پیغام دیا جس نے اپنے شعروادب سے عالم اسلامی کو اتحاد کی راہ دکھائی،جس نے اپنی شاعری میں شرف انسانی کے رموز کو واضح کیا۔جس نے اپنی شاعری سے قومی تشخص کے نقوش ابھارا۔جس نے ا پنی فکری اور شاعری کو اتحاد اسلامی اور تحریک آزادی کو فروغ دینے کا زریعہ بنایا،یہ دانائے راز جاوید منزل کے ایک کمرے میں بستر مرگ پر اس وقت کا انتظار کررہا ہے جب بندہ اپنے معبود حقیقی سے جاملتا ہے اور موت بندہ مومن پر حیات دوام کے دروازے کھول دیتی ہے۔

اس قیامت خیز شب میں تمام تیماردار ساڑھے بارہ بچے شب کو رخصت ہوگئے۔علامہ کو پچھلے پہر رات کو بے چینی شروع ہوئی،شب کے تین بجے علامہ نے راجہ حسن اختر کو بلایا،جب وہ حاضر ہوئے تو علامہ نے اپنے ملازم دیوان علی سے فرمایا کہ تم سوجاؤ البتہ علی بخش جاگتا رہے۔کیونکہ اب اس کے سونے کا وقت نہیں پھر راجہ حسن اختر سے فرمایا کہ پیٹھ کی طرف کیوں بیٹھے ہو؟راجہ حسن اختر علامہ کے قریب ہو بیٹھے تو فرمایا قرآن مجید کا کوئی حصہ سناؤ۔کوئی حدیث یاد ہے؟یہ فرما کرعلامہ پر غنودگی طاری ہوگئی۔اورر اجہ حسن اختر چراغ گل کرکے باہر تخت پر آبیٹھے۔تھوڑی دیر کے بعد علامہ نے راجہ صاحب کو پھر بلوایا آپ یہیں کیوں نہیں آرام کرتے پھر ان سے حکیم قرشی کو لانے کے لئے کہا جو علامہ کے معالج تھے انہوں نے عرض کیا کہ حکیم صاحب رات دیر سے گئے ہیں۔شاید ان کا بیدار کرنا مناسب نہ ہوگا۔اس پر علامہ نے فرمایا کہ کاش ان کو معلوم ہوتا کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے۔پھر اپنی یہ رباعی پڑھی۔یہ ان کی آخری رباعی تھی جو شاعر مشرق نے ا پنی زبان سے پڑھی تھی:

سرددے رفتہ باز آید کہ ناید،نسیمے از حجاز آید کہ نہ آید سر آمد روزگار ایں فقیرے دگردانائے رازآید کہ نہ آید۔

راجہ حسن اختر نے ان اشعار کو سنتے ہی کہا کہ میں ابھی حکیم صاحب کو لاتا ہوں۔یہ پانچ بج کر پانچ منٹ کا واقعہ ہے پھر دفعتاً لیٹے لیٹے اپنے پاؤں پھیلائے اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا،یا اللہ! پھر فرمایا،میرےیہاں درد ہے پھر سر پیچھے کیطرف گرنے لگا علی بخش نے آگے بڑھ کر سہارا دیا۔علامہ نے قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کرلیں۔آخر 21 اپریل 1938ء کو علامہ واصل الی اللہ ہوئے۔
سالہا زمزمہ پرواز جہاں خواہد بود
زیں نواہا کہ درایں گنبد گردوں زدہ است
(اقبال اور علماء پاک وہند از اعجاز الحق قدوسی صفحہ 82 تاصفحہ 83)

غور فرمایئے!!!وہ اقبال جو آغوش موت میں بھی جاتے ہوئے یا تو قرآن کی سماعت کا خواہشمند یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سننے کا آرزو مند،وہ اپنی زندگی کا آخری عمل یا تو کتاب اللہ کی سماعت کو بنانا چاہتا ہے یا فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت کو ،کیا اس کے متعلق یہ گمان بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سرچشمہء اسلام تسلیم نہ کرتا تھا۔اقبال کی طرف انکار حدیث کے مسلک کو منسوب کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف یہودیت یا عیسائیت یا دین شرک کو منسوب کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ انکار حدیث کے مسلک کو اقبال کے کھاتے میں ڈالتے ہیں وہ اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہیں کہ اس پر نہ تو وہ خالق ہی کی طرف سے کوئی حیاء محسوس کرتے ہیں۔اور نہ ہی مخلوق ہی سے وہ شرم محسوس کرتے ہیں۔پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جن لوگوں پر ان کے مسلسل اور پیم بولے جانے والے جھوٹ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ان لوگوں کی نگاہ میں ان لوگوں کی کیا عزت وآبرو باقی رہ جائے گی آخرت کی جوابدہی کا احساس تو رہا ایک طرف،اگر یہ لوگ دنیا میں ہی اپنے جھوٹ کے انجام کا خیال کرلیں۔تو کبھی ایسی حرکات نہ کریں۔لیکن کیا کیا جائے کہ جنھوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہو اور کذب اور زور ہی کی بنیاد پر لوگوں کو ا پنے ساتھ ملائے رکھنے کا وطیرہ اپنارکھا ہو،انہیں اس سے کیا غرض کہ ان کی یہ بہتان تراشیاں اور افتراء پردازیاں سنجیدہ طبقے میں ،ان کے متعلق کیا تاثر پیدا کررہی ہیں۔

آخر میں میں یہ عرض کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔کہ میں نے زیر بحث موضوع پر صرف اسی لئے قلم اٹھایا ہے۔ کہ علامہ اقبال ؒ کی وفات کے بعد ان کی ذات کے احترام اور ان کے کلام کی تشریح کی آڑ میں،"طلوع اسلام" نے انہیں منکر حدیث قرار دے کر ان کی جسد خاکی پر جو ظلم عظیم روا رکھا ہے۔اس کا نہ صرف یہ کہ سد باب ہوجائے۔بلکہ اقبال کی نظر میں حدیث وسنت کا جو مقام ہے وہ بھی واضح ہوجائے۔ورنہ ہمارے نزدیک اقبال مرحوم کی ہر گز ہرگز یہ حیثیت نہیں ہے کہ انہوں نے اگر قرآن کے ساتھ حدیث کا نام لیا ہے تو ہم بھی ان کی اتباع وتقلید میں ایسا کر گزریں۔ہم قرآن وسنت کو اسلام کا مستقل سرچشمہ تسلیم کرتے ہیں۔اقبال اگر نہ بھی پیدا ہوتا تب بھی اہل ایمان کے لئے ہدایت کا سرچشمہ قرآن وسنت ہی مانے جاتے جیسا کہ ان کی ولادت سے قبل بھی ان کی یہ حیثیت مسلم رہی ہے قرآن وسنت کا یہ مقام دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک تواتر وتسلسل کے ساتھ برقرار رہا ہے۔
حاشیہ

1۔مثلا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ ان کے متعلق پھر کبھی قلم اُٹھاؤں گا۔