ہر علم وفن کی اپنی مخصوص اصطلاحات terminogies ہوتی ہیں علامتی symbolicalنام ہو تے ہیں جن پر نگاہ پڑھتے ہی یا جنھیں سنتے ہی ان کے پس پردہ متعین مقاصد و افکار فوراً ہمارے ذہن میں اُبھر آتے ہیں کسی کتاب یہ لکھا ہو ا"ریاضی " ہمارے ذہن میں عشاری نظام کے خدوخال ابھاردیتا ہے تو " معاشیات "ہمارے معاشی مسائل کی قطار ہمارے سامنے کھڑی کر دیتا ہے بورژدااور پرولتاری کی اصطلاح ہمارے شعور کی نگاہوں میں اشتراکیت communisniکے پیش کردہ نظر ئیے کی عبارتوں "قانون اخلاق مذہب سب بورژدا کی فریب کاری ہے جس کی آڑھ میں اس کے بہت سے مفادات چھپے ہو ئے ہیں ۔"کو اجاگر کردیتی ہے۔

علم سیاست کی اصطلاحات آمریت dctatorshipاورجمہوریت democracyدومختلف طریق حکمرانی سے ہماے تصرات و احساسات اشناکرتی ہیں ۔اسی طرح "دین اسلام" بھی ایک مفرد و ممیزعلم کا علامتی نام ہے اس نام کو سنتے یا پڑھتے ہی فوراً ہر مسلمان کے خیال و افکار میں اس علم کے مقاصد کو بیان کرنے والی کتاب ہدایت قرآن حکیم اور اس کی تشریح وتعبیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات واحمال جلوہ افروز ہو جا تے ہیں ۔روح دل دماغ ۔جذبات اور احساسات کا رشتہ اُن سے جُڑ جاتا ہے ۔

نام اور اصطلاحات کے اس اصول اور اہمیت کے پیش نظر غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ آج کل مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی جدو جہد آزادی پر حریت پسندی کی اصطلاح چسپاں کرنا کس حد تک صحیح یاغلط ہے صحافت ذرائع ابلاغ اور سیاست کی زبان پر کشمیر کے مسلمانوں کے سلسلہ شہادت پر" حریت پسند " کی اصطلاح کو ہوا دی جا رہی ہے۔بلکہ اس اصطلاح کو تحریروں اور تقریروں میں استعمال کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے ۔اخباریں اٹھائیے ،اداریئے پڑھتے ،تقاریر کےمتن پر نگاہ ڈالتے تو کشمیری حریت پسند "کی اصطلاح ہی آپ کو ملے گی۔

عصر حاضر میں حصول آزادی کی جدو جہد کے متعلق کئی اصطلاحیں وضع کی گئی ہیں ان میں سے وہ جد وجہد آزادی جس کا مقصد صرف تمدنی اور سیاسی آزادی حاصل کرنا ہو اُس پر "حریت پسند "کی اصطلاح چسپاں کی جا تی ہے۔جسے انگریزی میں liberrlismکہاجا تا ہے اور اگر اسلام دشمن قوتوں کو یقین تو ایک طرف شبہ بھی ہو جا ئے کہ ان کی جدو جہد آزادی کا مقصد بحیثیت مسلمان اپنے بقااور آئین الٰہیہ کا قیام ہے تو اس کے لیے انتہا پسند تحزیب پسند ،علیحدگی پسند ،دہشت پسند،جیسی اصطلاحوں کا شور مچا کر مجاہدین کے عظیم اور مقدس مقاصد کے ارد گرد بد ترین مقاصد کی دیواریں کھڑی کر دی جا تی ہیں بلاشبہ لغت میں "حریت"کے معنی صرف آزادی کے ہیں اس متعین معنی کی روشنی میں جولوگ کسی سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں ان پر جدو جہد کا لیبل درست!

مگر حریت پسند کی اصطلاح ہمیں ان کی جدو جہد آزادی کے مقاصد سے ناآ شنا رکھنے میں شاطر پیغام رساں کا سا کام ضرور دکھا تی ہے ۔ہمیں اس مقصد حیات سے لاتعلق دکھتی ہے جو کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد بحیثیت فرض اُس پر لازم ہو تا ہے کہ وہ اپنے مظلوم اور کمزور بھا ئی کی امداد کے لیے اس کی پکا رسنتے ہی اس کی مداد کو پہنچے !

"حریت پسند "وہ بھی کہلاسکتے ہیں جن کی جدو جہد آزادی کا مقصد اسلامی آئین کے متبادل کو ئی نظام حیات ہو۔!

"حریت پسند " وہ بھی کہلا سکتے ہیں جن کا مقصد اقتدار حاصل کرنے کے بعد اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہو ۔

ایسی صورت میں ہم پر ہمارا دین جو ذمہ داریاں عائد کرتا ہے وہ اُن ذمہ داریوں سے بالکل الگ ہو ں گی جن لوگوں کی جدو جہد آزادی کا مقصد آئین الٰہی کی بالادستی اور شریعت کا نفاذ ہو۔

ان کے ان عظیم الشان مقاصد پر مبنی جد و جہد آزادی کا نام خود "دین اسلام " نے جہاد رکھا ہے جس نام کو سنتے اور پڑھتے ہی ہر مسلمان کے خیالوں کا سلسلہ بدر اور اُحد کے مجاہدین سے جُڑ جا تا ہے خالد بن ولیدؒ طارق بن زیادؒ،صلاح الدین ایوبیؒ سے روحانی تعلق جاگ جا تا ہے ۔عربی زبان میں جُہدوجہد کے معنی کو شش اور مشقت اٹھانے کے ہیں انھیں سے نقط جہاد لیا گیا ہے جس کا مقصد معین ہے جس کا مطلب دین اسلام کے آئین میں واضح ہے ہر وہ کو شش محتال ،جاں نثاری ،یامشقت جو دین الٰہی کی حفاظت یادشمنان دین کے خلاف مدافعت میں سرگرم عمل ہو اس پر صرف جہاد ہی کی اصطلاح کا اطلاق ہوتا ہے ۔

مسلمان کا اپنا نفس ہو یا اپنی سر کش خواہش ہوں ۔غرض وہ تمام قوتیں جو مسلمان کو اللہ تعا لیٰ اور اُس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی سے روکیں ۔اطاعت و فرمانبرداری کے آڑھے آئیں اُن کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے جدوجہد کرنا "جہاد " کہلائے گا

جہاد کو انگریزی میں nolywar یعنی "مقدس جنگ" بھی کہاجا تا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کا لفظ جسے عربی میں "حرب "کہتے ہیں ۔"اسلام "نے اسے پسند نہیں کیا اس کی جگہ "جہاد "کا لفظ استعمال کیا ہے تاکہ اس کے مفہوم کا تعلق ہی مسلمان کے جذبہ ایمان کو گرما دے ! انگریزی جہاد کو sTriggleکہاجا تا ہے لیکن انگریزی کا یہ لفظ بھی جہاد کا صحیح مفہوم ادا نہیں کر سکتا ۔عام طور پر جنگ کا مقصد لوگوں یا قوموں کا اپنی ذاتی خواہشات ذاتی اغراض کے لیے وسیع تر اسباب حاصل کرنا ہو تا ہے زن زر اور زمین عموماً اساس جنگ رہے ہیں لیکن اس کے برعکس اسلام میں جہاد یاقتال کا مقصد کسی ملک کو فتح کرنا نہیں لوگوں کو قتل کرنا یا انتقام لینا نہیں اپنا اقتدار مضبوط کرنا نہیں بلکہ اصل مدعا انسانوں کو فلاح و یہود ہو تا ہے اور اس مکمل ضابطہ حیات کا نفاذ ہو تا ہے جو نوع انسان کے تمام شعبوں میں عدل و احسان کے قیام کا ضامن ہے اس جد و جہد کو اللہ تعا لیٰ نے "جہاد فی سبیل اللہ "اللہ کی راہ میں جہاد" کا نام دیا ہے مزید تشریح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ملاحظہ ہو ! ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ایک شخص تو اس لیے جہاد کرتا ہے کہ مال غنیمت حاصل کرے اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ لو گ اس کی عزت کریں اس کے مرتبہ کو دیکھیں ان میں سے کو شخص اصل میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :

صرف وہ شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے جو اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لیے لڑے ۔"(بخاری )

گو یا صرف اللہ تعا لیٰ کی عظمتوں کو بلند کرنے کی جد و جہد کا نام جہاد ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

"بیشک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ۔"(سورۃ انفال:72)

اسی جدو جہد کے محترک کارواں کا نام مجاہدین ہے یہ وہ نام ہے جوباطل کے سامنے سینہ سپر ہو نے والوں کو خود اللہ تعا لیٰ نے عطافر ما یا ہے ۔

بدر اُحد کا عنوان جلی مجاہدین ۔۔۔۔ہر ایوان باطل پہ کپکپی طاری کر دینے والی تکبیر کی اجتماعی صدا مجاہدین :
دونیم اُن کی ٹھوکر سے صحر اءو دریا
سمٹ کر پہاڑ اُن کی ہیبت سے رائی

اس کا ثبوت افغانستان کے مجاہدین کی شہادتوں اور قربانیوں کے ہاتھ وقت کی ایک بڑی ایٹمی فوجی ،فضائی بری طاقت کا ذلت و رسوائی کے ساتھ پاش پاش ہو نا ہے مجاہدین ایک ایسانام جسے اللہ تعا لیٰ کی نصرت حاصل ہے ۔

یاد رکھئے ! کفر اندھیروں میں ایمان کے روشن چراغ مجاہدین ۔۔۔کو اللہ تعا لیٰ کے دیئے ہو ئے نام کے متبادل انسان نے اپنے دماغ سے تراشید ہ ناموں کا جب بھی نقاب پہنانے کی کوشش کی تو ناکامیاں اس کا مقدر بن گئیں ۔

مجاہد" وہ نام ہے جس سے افغانستان کے پندرہ لاکھ شہداء کی تاریخ وابستہ ہے "مجاہدین "وہ نام ہے جسے اللہ تعا لیٰ نے خراج وتحسین پیش کرتے ہو ئے (سورۃ نساء ۔59)میں فرما یا ہے :

"جو مسلمان گھروں میں بیٹھے رہے اور لڑنے سے جی چراتے ہیں اوراور کو ئی عذر نہیں رکھتے ۔وہ اور جو خدا کی راہ میں جہاد کر رہے ہوں دونوں برابر نہیں ہو سکتے !"

"مجاہدین "وہ نام ہے جس سے ہر مسلمان کا روحانی اور قلبی رشتہ ہے اس رشتے کے مضبوط تعلق کا مظاہرہ دیکھنا چاہتے ہوں تو افغانستان کے میدان قتال میں جا ئیے ۔۔۔اور دیکھئے ۔۔۔آپ کو مجاہدین کی صفوں میں افغانی بھائیوں کے ساتھ دوسرے ممالک کے مجاہدین بھی ملیں گے ۔افغانستان ہی کے مجاہدین کی صدائے اللہ اکبر کی باز گشت کشمیر میں بھی گو نج رہی ہے ۔کشمیریوں کی اس جدو جہد کا مرکزی مقصد اللہ کے دین قیم کے بقاء اور احیاء ہے (اپنی قربانیوں شہادتوں اور اپنے خون سے اللہ تعا لیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دینکی زندگی کا ثبوت مہیا کرنا ہے ۔اسلام کہاں ہے ؟اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آئین کو ماننے والے کہاں ہیں ؟

اس کا دندان شکن جواب افغانستان کے مجاہدین اور کشمیر کے مجاہدین کی لاکھوں کی تعداد میں شہادتوں کا مظاہرہ ہے ان پر "حریت پسند" کا نقاب ڈالنا مناسب نہیں ہے ۔کشمیر وہ خطہ ارض جس کے بارے میں کہا جا تا ہے
اگر فردوس برروئے زمین است بمین است وہمیں است

ڈوگرا فوج کے خلا ف لڑنے والی "حبہ خاتون" اور شاعر ملت علامہ اقبال ؒ کے آبائی وطن برف پوش پہاڑوں رنگ برنگی پھولوں اور حسن آبشاروں کے ملک میں کشمیر کا مسلمان شعلہ بداماں بن کر اٹھا ہے تو اس لیے نہیں اٹھا کہ اسے ہندو سے اقتصادی مراعات چاہئیں ۔اگر وہ ایسا چاہتا تو اپنا اسلامی تشخص ختم کردیتا اس مرد مومن کا مقصد ۔ہندو سے زندگی کے عیش و آرام کا حصول نہیں بلکہ ہندو قانون سے آزادی اور دین اسلام کی حکمرانی ہے جس کا ثبوت حالیہ انتخابات میں کشمیری مسلمانوں کے (سابقہ وزیر اعظم راجیو ے) فحاشی شراب ،اور بد کاری کے خاتمے کے علاوہ پردہ کو لازمی قرار دینے پر مشتمل مطالبات تھے ۔

کشمیر کی حالیہ تحریک شہادتوں اور قربانیوں کا سلسلہ افغانستان کے مجاہدین ہی کے مرکزی مقصد اعلائے کلمۃ الحق احیائے دین کی صدائے باز گشت ہے اس کا ثبوت حریت پسند یاسر عرفات کا حالیہ بیان ہے ہندوستانی حکمرانوں کے کشمیریوں کی جد و جہد آزادی پہ دئیے ہو ئے بیانات ہیں ۔علاوہ ازیں اس کے ثبوت میں یکم فروری کو شائع ہو نے والے نوائے وقت کی اشاعت میں آزاد کشیر کے صدر سردار محمد عبد القیوم سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر گفتگوسے چند اقتباس پیش خدمت ہیں :

س:۔سردار عبد القیوم خاں صاحب !یہ بتا ئیے کہ مقبوضہ کشیمر میں تحریک آزادی شروع ہو نے کے محرکات کیا ہیں ؟

ج۔بھارت نے چالیس سال سے اپنا فوجی قبضہ کشمیر پر برقرار رکھا ہے جسے کشمیریوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔چالیس سال سے بھارت آبادی کا تناسب بدلنے کی کو شش کر رہا ہے لیکن کشمیر ی مسلمان بنیادی طور پر بڑے جذباتی اور حساس واقعہ ہو ئے ہیں انھوں نے ہر دور اسلامی تشخص برقرار رکھا ہے

1931،سے لے کر کشمیری ریاست میں اسلامی تشخص کے لیے کشمیروں نے اپنی جانوں کے نذر انے پیش کئے ہیں بھارت کی مشکل یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کے اسلامی تشخص کو جتنا دبانے کی کو شش کرتا ہے اُن کا اسلامی تشخص اتنا ہی ابھرتا ہے اور کشمیری مسلمان اتنی ہی بلند آواز سے کہتا ہے ۔
برو ایں دام بر مرغ دگرنہ
کہ عنقارا بلند است آشیانہ

ثابت ہوا کشمیر کے مسلمان بھا ئیوں کا بھارت جو اس وقت ایٹمی طاقت بن چکا ہے عصر حاضر کے جد ید ترین تمام آلات جنگ سے لیس ہے اس سے ٹکرانا اس دنیا کو سنوارنے کے لیے نہیں بلکہ دین اسلام سے اٹوٹ تعلق کا اظہار کرنا ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ دین قیتم اب بھی زندہ و تابندہ ہے ان کی قوت ہتھیار نہیں بلکہ ایمان ہے یقین ہے ۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ ہی لڑتا ہے سپاہی

لہٰذا ان کی شہادتوں اور قربانیوں کے سلسلہ کو اللہ کا دیا ہوا نام مجاہدین ہی رہنے دیجئے تو بہتر ہو گا ۔

اس پر اپنے دماغ سے تراشا ہوا نام چپکا کر کشمیریوں کے عظیم مقاصد کی توہین نہ کیجئے ۔

بلکہ بھارتی ظلم و جور کے ہاتھوں گھائل خون میں نہائے ہو ئے مجاہدین کشمیر کے عظیم مقاصد کے خدو خال دنیا کے تمام مسلمانوں کو دکھا ئے ۔ان کی امداد کے لیے تمام مسلم ممالک کو اسی طرح آواز دیجئے جس طرح آپ آج تک افغانستان کے "مجاہدین " کی امداد کے لیے آواز دیتے ہیں ۔مجاہدین کی امداد ہم پر فرض ہے ۔یہ وہ عمل ہے جسے ہمارے یقین اور ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی قرار دیا گیا ہے ۔

آل عمران کی آیت نمبر14 پر غور فر ما ئیے ۔ارشاد ہے:

﴿وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَيَمحَقَ الكـٰفِر‌ينَ ﴿١٤١﴾... سورة آل عمران

اور وہ اس آزمائش (جہاد )کے ذریعہ سچے مومنوں کو چھانٹ کر کافروں کی سر کوبی کر دینا چاہتا تھا ۔بات واضح ہے کہ مجاہدین کی حمایت ،اصل میں ہمارے اپنے ایمان کی پرکھ ہے سورۃ تو بہ کی آیت نمبر 43 پر بھی غور کیجئے ۔

﴿حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذينَ صَدَقوا وَتَعلَمَ الكـٰذِبينَ ﴿٤٣﴾... سورة التوبة

تاکہ (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) تم پر کھل جا تا کہ کون سچے لو گ ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے ۔

مجاہدین کی امداد ۔۔۔کا حکم قرآن حکیم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر 75میں ملاحظہ فرمائیے ۔

﴿وَما لَكُم لا تُقـٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ وَالمُستَضعَفينَ مِنَ الرِّ‌جالِ وَالنِّساءِ وَالوِلد‌ٰنِ الَّذينَ يَقولونَ رَ‌بَّنا أَخرِ‌جنا مِن هـٰذِهِ القَر‌يَةِ الظّالِمِ أَهلُها وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ وَلِيًّا وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ نَصيرً‌ا ﴿٧٥﴾... سورةالنساء

"کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں عورتوں اور بچوں کی خاطر جہاد نہ کرو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں اے اللہ !ہم کواس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ایک اپنی طرف سے ہمارا کو ئی مدد گار اور حامی پیدا فر مادے "کشمیر ۔افغانستان ،فلسطین ،فلپائن ،یو کرائن سے ایسے ہی کمزور بوڑھوں ،مردوں عورتوں یتیم بچوں کی فر یادیں آپ کو آواز دے رہی ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ہر امکانی صورت کو بروئے کا ر لا کر ان کی امداد کو پہنچتیں ۔ دین اسلام اپنے اصولوں میں منفرد ہے اس کے اصول سب سے معتبر ہیں اس کا آئین سب سے اعلیٰ وارفع ہے ۔۔۔اس کی اصطلاحات اور علامتیں بھی یکتا و بیمثال ہیں ۔ان پر خود ساختہ اصطلاحات کو چسپاں کرنا لا شعوری یا شعوری طور پر یہودیوں کی اس سازش کے مترادف ہو گا (مقبول ڈاکٹر ظہور احمد اظہر بحوالہ نوائے وقت یکم مارچ 1990ء صلیبی جنگوں کی اصطلاح کا فتنہ پیدا کر کے چار پانچ ساسال تک صلیب و ہلال کو برسر پیکار رکھا ۔بلآخر صلیب کو شکست ہو ئی اور ہلالی پرچم بلند ہوا مگر عیسائی یورپ آج تک اس صلیبی ذہن سے چھٹکارا نہیں پا سکا ۔یہودی جس بات کو عام کر کے منوانا چاہتے ہیں وہ ورلڈ میڈیا کا سلو گن بن جا تا ہے اور یورپ امریکہ تیسری دنیا اور ستم یہ کہ عالم اسلام کے ذرائع ابلاغ بھی اس نعرے کو لے اڑتے ہیں اب وہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ایک نیاہتھیار یورپ و امریکہ کے صلیبی ناخداؤں کو دے چکے ہیں اور یہ ہتھیار ہے "بنیاد پرست ۔"

چنانچہ بنیاد پرست مسلمان کی اصطلاح یورپ اور مریکہ کے صلیبی ذرائع ابلاغ ایک عرصہ سے بڑی تیز اور بلا تمیز دہرائے چلے جا رہے ہیں یہ ہتھیار آگے چل کر مسلمانوں کے لیے بے حد تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔"بنیاد پرست "ٹائٹل کے پس پردہ مسلمانوں کو ایک ایسی وحشی اور درندہ قوم کی شکل میں پیش کیا جا تا ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوارہے کبھی اسلام کی سر بلندی کے لیے جد و جہد کرنے والوں کو دقیانوسی مذہب پرست کبھی متعصب جنونی اور کبھی رجعت پسند کا لقب دے کر گردن زونی قرار دیا جا تا ہے مختصر یہ کہ کشمیر کے شہید اس سچائی کا اعلان ہیں ان کی جد وجہد اۃن کی قربیان افغانستان کے شہیدوں کی طرح ذاتی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعا لیٰ کے آئین کی با لا دستی اور شریعت کے نفاذ کے لیے ہیں ان کی اس جد و جہد کا نام "جہاد " اور جہاد کرنے والوں کے لیے "مجاہدین "کا نام ہی سچ ہو گا یاد رکھئے سچ کو دبانے والے خود مرجا یا کرتے ہیں ۔
من آں علم و فراست را باپر کا ہ نگیرم
کہ از تبع و سپر بیگانہ ساز و مر دغازی را