نماز میں رفع یدین کرنا نہ کرنا ایک ایسا اختلافی مسئلہ بن گیا ہے کہ اس پر فریقین کے مابین نوک جھونک روز مرہ کی معمول بن گئی ہے۔

اگر ازروئے دلائل دیکھاجائے تو رفع الیدین کے قائلین کا مؤقف نہایت قوی ثابت ہوگا۔جبکہ فریق مخالف(احناف) کے پاس کوئی صریح صحیح مرفوع حدیث نہیں ۔فریقین کی طرف سے اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔احناف دیو بند کی طرف سے اس موضوع پر ایک کتاب "نور الصباح فی ترک رفع یدین بعد الافتتاح"لکھی گئی ہے۔ جس پر مختصر مگر جامع تبصرہ التوضیح والایضاح للبس ما فی نور الصباح مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی طرف سے شائع ہوچکا ہے نیز مولانا حکیم محمود بن مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒ نے بھی شمس الضحیٰ بجواب نور الصباح"کےنام سے مختصر جوابدیا ہے۔ نور الصباح کے مصنف حافظ حبیب اللہ ڈیروی جو کہ احناف دیوبند کے ایک نامی گرامی عالم مولانا سرفراز خاں صفدر گکھڑوی کے شاگرد ہیں۔نے اس کتاب میں تحریف وتبدل ۔دجل وفریب سے کام لیتے ہوئے مطلب برآری کی مذموم کوشش کی ہے۔اور کچھ ایسی بے سروپا باتیں ذیربحث لائے ہیں جن کا مقصدیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس پر تفصیلی تبصرہ ہم کسی دوسری مجلس تک مؤخر رکھتے ہیں،اس وقت ہمارے پیش نظر ایک خاص بات ہے۔جس پر ڈیروی صاحب نے نور الصباح میں چھ صفحے سیا ہ کئے ہیں۔

چنانچہ وہ "تنبیہ" کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں۔امام ترمذیؒ نے ترک رفع یدین کا باب باندھا تھا اور ا س حدیث کو"حسن صحیح" کہا تھا ۔لیکن متعصب لوگوں نے اس باب کا عنوان اور صحیح کے الفاظ اڑا دیئے ہیں حالانکہ دلائل سے ثابت ہے کہ باب کا عنوان اور صحیح کے الفاظ موجود تھے۔نور الصباح۔ص100۔

ڈیروی صاحب نے جن دلائل سے باب کا عنوان اور "صحیح" کے الفاظ کا ثبوت پیش کیا ہے۔ان کی حقیقت ہم آگے چل کر واضح کریں گے سردست ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ کون متعصب لوگ ہیں۔جنھوں نے یہ سازش کی!کاش اگر اس عقدہ کا حل کردیا جاتا تو بہتر تھا۔اگر بالفرض وہ لوگ شوافع۔حنابل اہل حدیث ہیں تو کیا جامع ترمذی کے حنفی شارحین نے اسے ذکر کیا ہے ؟مولانا یوسف بنوری دیو بندی حنفی ہیں انہوں نے"معارف السنن" شرح ترمذی لکھی ہے اور اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں انہوں نے ص483ج2 میں شیخ عبداللہ بن سالم البصریؒ اورشیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ کے نسخوں میں باب کے ہونے کا ذکر کیا ہے (ان دونوں نسخوں کی حقیقت عنقریب واضح کی جائے گی،مگر متن میں ذکر کرنے کی ہمت ان کو بھی نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں "العرف الشذی" جو مولانا انور شاہ کاشمیری کی تقاریر ترمذی کا مجموعہ ہے)اور مولانا احمد علی سہانپوری حنفی کے حواشی کے ساتھ جامع الترمذی متعدد بار شائع ہوچکی ہے اس میں بھی اس کا کوئی ذکر تک نہیں ہے کیا یہ حضرات بھی متعصبین میں شامل ہیں یا نہیں؟

ترمذی میں ترک رفع الیدین کے باب کے دلائل:

دلیل نمبر1۔ڈیروی لکھتے ہیں ۔ترمذی میں امام ترمذی ؒ خود فرماتے ہیں،"وفى الباب عن البراء بن عازب" کہ ترک رفع الیدین کے باب میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ر وایت آتی ہے۔جب غیر مقلدین کے بقول ترمذی میں باب ہی نہیں تو امام ترمذی کا وفی الباب کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔نورالصباح ص101۔

الجواب۔جامع الترمذی میں ترک رفع یدین کے باب کے اثبات کے لئے یہ دلیل ناکافی ہے۔ شارحین کی تصریحات اس کی قطعاً موافقت نہیں کرتیں۔علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری ؒ مقدمہ تحفۃ الاحوذی ص190 میں۔ بیان بعض عادات الترمذی کے تحت لکھتے ہیں:۔

"ومنها انه يعقدالباب اولا ثم يروى حديثا واحدا او اكثرثم ان كان فيه كلام يتكلم ثم يقول وفى الباب عن فلان وفلان قال السيوطى فى تدريب الراوى لا يريد ذالك الحديث المعين بل يريد احاديث اخر يصح ان تكتب فى الباب قال العراقى وهو عمل صحيح الا ان كثيرا من الناس يفهمون من ذالك ان من سمى من الصحابة يروون ذالك الحديث بعينه وليس كذالك بل قد يكون كذالك وقد يكون حديث اخر يصح ايراده فى ذالك الباب"

یعنی امام ترمذیؒ کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں پھر ایک یازیادہ حدیثیں روایت کرتے ہیں پھر اگر اس حدیث میں کوئی کلام ہوتی ہے تو کلام کرتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں۔"وفى الباب عن فلان وفلان" امام سیوطی ؒ فرماتے ہیں اما م ترمذی ؒ کا ارادہ خاص اسی ۔۔۔سابق حدیث کا نہیں ہوتا بلکہ دیگر وہ احادیث مراد ہوتی ہیں۔ جن کا باب میں لکھنا صحیح ہوتا ہے۔علامہ عراقی ؒ فرماتے ہیں یہ صحیح عمل ہے مگر بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جن صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کا نام لیاگیا ہے۔ ان سےبعینہ یہ حدیث مروی ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے البتہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے۔اور بعض اوقات ایسی دوسری حدیث جس کا باب میں ذکر کرنا صحیح ہو وہ مراد ہوتی ہے۔

مولانا حبیب اللہ مختاربن الطیب معارف السنن شرح ترمذی کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:

"ومن اهم خصائصه التى تفرد بها من بين الامهات الست اشارته فى آخركل باب الى من روى الحديث عن النبى ﷺ فى الموضوع"

جامع ترمذی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت جس سے وہ کتب ستہ میں متفرد ہے یہ ہے کہ امام ترمذی ؒ کا ہر باب ک آخر میں ان صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی طرف اشارہ کرنا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع میں حدیث روایت کرتے ہیں۔

علامہ السید علی بن سلیمان السنتی مالکیؒ"نفع قوت المغتذى" کے مقدمہ میں فرماتے ہیں۔

"وكان من طريقه ان يترجم بابا به حديث مشهور من صحابى قد صح الطريق واخرج حديثه بالكتب الصحاح فيوردبالباب ذالك الحكم من حديث صحابى آخر لم يخرجوه من حديثه ولا يكون الطريق اليه كالطريق الى الاول الا ان الحكم صحيح فيتبعه ان يقول وفى الباب عن فلان وفلان ويعد جماعة منهم الصحابى الذى اخرج ذلك الحكم من حديثه وقلما يسلك هذا الطريق الا فى ابواب معهودة"ص1 مع الجامع الترمذى مطبوعه دهلى

امام ترمذی ؒ کے طریقہ سے ایک بات یہ بھی ہے کہ وہ ایک باب منعقد کرتے ہیں اس باب میں ایک صحابی کی ایک مشہور حدیث ہے۔ اس کی سند بھی صحیح ہے۔اور کتب صحاح میں مروی ہے۔امام ترمذی ؒ اس حکم کو باب میں ایک اور صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لاتے ہیں کہ اس حکم کو اصحاب الصحاح نے روایت نہیں کیا ہے اور اس کی سند پہلی سند کی طرح نہیں ہوتی۔البتہ حکم صحیح ہے۔اس کے بعد امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں۔" وفى الباب عن فلان وفلان " کہہ کر بہت سے لوگوں کے نام کر کرتے ہیں۔ان میں سے اس صحابی کو بھی زکر کردیتے ہیں جس کی حدیث سے امام صاحب نے وہ حکم مستنبط کیا ہو۔چند ابواب کے سوا ایسا انداز بہت کم اختیار کرتے ہیں۔

شرح جامع ترمذی کی ان تصریحات سے معلوم ہوتاہے کہ امام ترمذیؒ کے قول" وفى الباب عن فلان وفلان " سے مراد یہ ہے کہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے مروی احادیث بالجملہ اس باب سے متعلق ہیں۔اور ان کا اس باب میں ذکر کرنا صحیح ہے۔چنانچہ ہم دو مثالیں یہاں بیان کرتے ہیں۔جن سے ہمارے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔اور ڈیروی کے مغالطہ کی قلعی کھلتی ہے۔

پہلی مثال:۔اما م ترمذی ؒ ج1 ص 130مع تحفہ الاحوذی میں ایک عنوان یوں قائم کرتے ہیں۔"باب ماجاء فى الرجل يطوف على نسائه فى غسل واحد" اس کے تحت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث لائے ہیں۔«ان رسول الله ﷺكان يطوف على نسائه فى غسل واحد»پھر فرماتے ہیں۔"وفى الباب عن ابى رافع"

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کون سی حدیث اس مقام پر مراد ہے ؟ مولانا مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں اس سے ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ حدیث مراد ہے جسے ابوداؤد اور نسائی نے ابو رافع سے روایت کیا ہے۔

«انه صلى الله عليه وسلم طاف ذات يوم على نسائه يغتسل عندهذه وعندهذه قال فقلت يا رسول الله الا تجعله غسلا واحدا قال هذا ازكى واطيب واطهر – تحفة الاحوذى ج1ص130»

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث ابو داؤد ج1 ص88 مع عون المعبود۔سنن نسائی ج1 ابن ماجہ ج1 ص 44 مسند احمد ج6 ص8 وج6 ص391 میں موجود ہے۔

دوسری مثال:۔جامع الترمذی ج1 ص144 مع تحفۃ الاحوذی۔میں ایک عنوان اس طرح ہے۔"باب ماجاء فى الاسفار بالفجر" امام ترمذی ؒ نے اس کے تحت حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ذکر کی ہے۔جس کے لفظ ہیں۔«اسفروا بالفجر فانه اعظم لاجر» اس کے بعد فرماتے ہیں۔"وفى الباب عن ابى برزة وجابر وبلال"

حالانکہ حضرت ابوبرزۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وجابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسفار بالفجر کے مضمون کی کوئی حدیث نہیں ہے۔چنانچہ مولانا مبارک پوری ؒ فرماتے۔

"لم اقف على من اخرج حديثهما فى الاسفار وقد اخرج الشيخان عنهما حديث التغليس"

یعنی حضرت ابو برزۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وجابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسفار کے بارے میں حدیث پر میں مطلع نہیں ہوسکا۔البتہ شیخین ؒ نے ان دونوں صحابیوں سے تغلیس کی حدیث روایت کی ہےمولانا فیض الرحمٰن الشوری حفظہ اللہ نے بھی رش السحاب میں اس مقام پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے۔حافظ ابن حجر ؒ الدرایہ ج1 ص104 میں فرماتے ہیں۔

«وعن جابر وابى برزة ان النبىﷺ كان يصلى الصبح بغلس»

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وابی برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث تغلیس کے بارے میں ہے ۔اسفار کے بارے میں نہیں۔

ان دونوں مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ " وفى الباب عن فلان وفلان " سے مراد وہ احادیث ہوتی ہیں۔جن کا منعقدہ باب سےفی الجملہ تعلق ہوتاہے لہذا زیر بحث مقام پر بھی۔"وفى الباب عن البراء" سے مراد صرف یہ ہے کہ رفع الیدین کے بارے میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے اگر " وفى الباب عن فلان وفلان " سے مراد وہی ہے جو ڈیروی نے کہا ہے تو پھر بتایا جائے کہ مذکورہ بالا دونوں مقامات پر وفی الباب کہنا کیسے درست ہے؟

دلیل نمبر 2۔3۔4۔ڈیروی صاحب لکھتے ہیں۔مولاناقطب الدین ؒ صاحب "مظاہرحق شرح مشکواۃ" میں لکھتے ہیں تر مذی ؒ نے دو باب لکھے ہیں اول رفع یدین میں اوردو عدم رفع یدین میں معلوم ہوتا ہےکہ ترمذی میں دو باب والا نسخہ ان کے پاس تھا۔

علامہ محمد عبدالعزیز حاشیہ نصب الرایہ 493۔494 ج1۔ میں لکھتے ہیں کہ ترک رفع یدین کا باب عبداللہ بن سالم بصری )(جو کہ شاہ ولی اللہ ؒ کے استاذ تھے کے نسخہ ترمذی میں بھی موجود ہے جو کہ پیر جھنڈا کے کتب خانہ میں ہے۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ کے نسخہ ترمذی میں بھی (ترک کا باب) موجود ہے جیسا کہ شرح سفر السعادۃ میں ہے۔

علامہ احمد محمد شاکر ؒ شرح ترمذی ج2 ص40میں فرماتے ہیں باب کا عنوان علامہ شیخ محمد عابد سندھی محدث مدینہ کےنسخہ ء ترمذی میں بھی موجود ہے۔علامہ احمد محمد شاکر ؒ کے ہاں یہ ان تمام نسخوں سےزیادہ صحیح ہے جو انہوں نے شرح ترمذی کی تصنیف سے پہلے دیکھے ہیں۔(نور الصباح ص101۔102 ملخصاً )

الجواب:۔ثبوت باب کے لئے یہ دلائل بھی ناکافی ہیں۔

اولاً۔ان دلائل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جامع ترمذی کے نسخوں میں اختلاف ہے اور خود ڈیروی صاحب نے سنن ابی داؤد کی ایک خلاف مطلب عبارت کاصرف اس لئے انکار کیا ہے کہ یہ عبارت سنن ابی داؤد کے کسی متد اول نسخہ میں نہیں ہے۔ بظاہر یہ امام ابوداؤدؒ پر افتراء ہے الخ نورالصباح ص123 اور مولانا سہارنپوری ؒ نے بذل المجہود شرح ابی داؤد میں مشار الہیا عبارت کو اس لئے مشکوک قرار دیا ہے کہ یہ ہندوستان اور مصر کے مطبوعہ نسخوں میں نہیں ہے ان کے الفاظ یہ ہیں،

"هذه العبارة ليست فى النسخ المطبوعة الهندية والنسخة المصرية الا على حاشية النسخة المجتبائية فعلى هذا هذه العبارة مشكوك فيها من المصنف"

اس مقام پرہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے کہ مولانا سہارنپوری صاحب نے اپنے اس ضابطہ پر خود کہاں تک عمل کیا ہے؟ع
کبھی فرصت میں سن لینا بڑی ہے داستان میری۔

قارئین کرام! غورکریں کہ فریق ثانی خلاف مطلب عبارت کو جب اس لئے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں کہ وہ متد اول نسخوں میں یا ہندوستان اور مصر کے مطبوعہ نسخوں میں نہیں ہے تو انہیں کیا حق پہنچتا ہے۔کہ وہ ترمذی میں ترک رفع یدین کے باب کو زبردستی منوانے کے لئے یا ثابت کرنے کے لئے صفحات کے صفھات کی تسوید غیر مفیدکرے؟

ثانیاً:۔ڈیروی صاحب نے جو یہ تاثر دینے کی سعی کی ہے کہ یہ تین الگ الگ نسخے ہیں یہ صحیح نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ہی نسخہ ہے جس کا اصل ایک عرصہ پہلے پیر جھنڈا کتب خانہ میں تھا(یہ کتب خانہ پیروھب اللہ شاہ جو کہ السید علامہ بدیع الدین شاہ صاحب راشدی حفظہ اللہ کے چچا ذاد بھائی ہیں کے زیر تسلط تھا)اب یہ نسخہ کراچی کے میوزیم ہاؤس لائبریری میں موجودہے ۔ اور اس کا عکس علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی صاحب کے کتب خانہ میں بھی ہے۔خود راقم الحروف نے حضرت شاہ صاحب کے کتب خانہ میں اسے دیکھا ہے۔

یہ نسخہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کےاستاذ عبداللہ بن سالم بصریؒ کا نہیں بلکہ بعض علامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ امام سخاویؒ کا ہے۔سید محمد عابد سندھی ؒ کے پا س اسی نسخہ کی نقل تھی کیونکہ وہ تمام۔۔۔عبارات جو علامہ احمد محمد شاکر ؒ نے تحقیق ترمذی ؒ میں کی سید محمد عابد سندھی ؒ کے حوالے سے ذکر کی ہیں۔اس نسخہ میں موجود ہیں۔شیخ عبداحق محدث دہلویؒ اور مولانا قطب الدین ؒ مترجم مشکواۃ کے پیش نظر بھی یہی نسخہ تھا۔اگر یہ متعدد نسخے ہوتے تو برصغیر پاک وہند کے کسی کتب خانہ میں ان کا وجود ضرور ہوتا۔حالانکہ ضرورت کے باوجودحنفی حضرات سوائے پیرجھنڈا کتب خانہ کے نسخہ کے (جو کہ اب میوزیم ہاؤس کراچی کی لائبریری میں ہے) کسی اور نسخہ کے ذکر سے قاصر ہیں۔

علامہ سخاوی ؒ کے اس نسخہ میں واقعی ترک رفع یدین کاباب ہے۔مگر بظاہر یہ ہے کہ یہ الحا ق ہے۔اس کی چند وجوہ ہیں۔

الاول:۔ترک رفع کے عنوان کے بعد آخر باب تک جس قدر عبارت ہے یہ مکرر ہے یہ تمام تر عبارت اس سے سابق عنوان۔"باب ماجاء فى رفع اليدين عندالركوع" میں موجود ہے،

الثانی:۔ یہ عبارت اور کسی نسخہ میں نہیں ہے۔

علامہ السید بدیع الدین شاہ صاحب راشدی متعنا اللہ بطول حیاتہ کے کتب خانہ میں چند اور قلمی نسخے بھی ہیں۔

نمبر 1:۔یہ نسخہ علامہ ابن سید الناس ؒ (متوفیٰ 705ھ) کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخہ کا عکس ہے جو کہ نضح الشذی شرح جامع الترمذی کے نام سے معروف ہے۔اس نسخہ میں ترک کے عنوان کانشان تک نہیں ہے (شاید ڈیروی صاحب کے نزدیک علامہ موصوف بھی ان متعصبین میں ہوں گے جنھوں نے ترک کے باب کے اڑانے کی سازش کی ہے۔؟

نمبر 2۔یہ نسخہ 1247ھ کا لکھا ہواہے۔اس میں بھی ترک کاعنوان نہیں ہے،

نمبر 3۔یہ علامہ عراقی ؒ کی شرح ہے اس میں بھی ترک کا باب نہیں ہے،اس کے علاوہ امام ابن العربی ؒ کی شرح عارضۃ الاحوذی طبع ہوچکی ہے عارضۃ الاحوذی کی تحقیق کرنے والوں نے ا س مقام ترک کے عنوان کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اس عبارت کا کسی معتبر نسخہ میں نہ ہونا دلیل ہے کہ یہ الحاق ہے۔

پانچویں دلیل۔

ڈیروی صاحب لکھتے ہیں۔علامہ احمد محمد شاکر ؒ شرح ترمذی میں فرماتے ہیں۔

علامہ ابن عساکرؒ کے نسخہ میں جو ان سے ان کے شاگر د نے نقل کیا ہے یوں باب باندھا گیا ہے۔"من لم يرفع يديه الا فى اول مرة" (نورالصباح) ص102۔

الجواب الاول۔

اسی نسخہ کے متعلق خود علامہ احمد محمد شاکر ؒ صاحب ابتدائے شرح میں فرماتے ہیں،

"وهى نسخة متوسطة الصحة ليست مما يعتمد عليه فى التصحيح"

یہ نسخہ متوسط صحت کا ہے۔تصیح کے معاملہ میں اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے۔مقدمہ ج1 ص15۔

جب اس نسخہ کی صحت ہی مشکوک ہے تو اسے بطور دلیل پیش کرنا کوئی معقول بات نہیں،

الجواب ثانی:

یہ نسخہ امام ابن عساکرؒ کے شاگرد کا نہیں بلکہ بہت بعد کا ہے چنانچہ علامہ احمد محمد شاکر ؒ فرماتے ہیں۔

"فالذى يروى الكتاب عن ابن عساكر سنة558 ليس كاتب النسخة قطعا لان خطها وورقها لا يناسب ذلك التاريخ وانما نقل ناسخها الاسناد الذى وجده فيما ينقل عنه ولوكان آخر النسخة موجود التبين ذلك فى الغالب"مقدمه ص15

اما م ابن عساکرؒ سے 558 کوجس نے یہ کتاب روایت کی ہے وہ یقیناً اس نسخہ کا کاتب نہیں۔کیونکہ اس کا خط اور اوراق اس تاریخ کے مناسب نہیں ہیں۔ناسخ نے جس سند پائی ہے اسے نقل کردیا ہے اگر اس نسخہ کا آخری حسہ موجود ہوتا تو اس کی وضاحت ہوجاتی۔

علامہ موصوف کو جو نسخہ ملا ہے وہ 1000ہجری یا 1100 ہجری کا تحریر کردہ ہے۔وہ خود لکھتا ہے۔

"وهى نسخة، جديدة يظهر من ورقها وخطها انها مكتوبة فى القرن العاشراوالحادى عشر-ص14"

یہ ایک نسخہ ہے اس کے اوراق اور خط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دسویں یا۔۔۔گیارہویں صدی کا لکھا ہوا ہے۔

نوٹ:۔ممکن ہے کہ اس نسخہ میں ترک کا عنوان امام سخاوی ؒ کے نسخہ سے نقل کے باعث ہو۔

چھٹی دلیل:۔ڈیروی صاحب لکھتے ہیں علامہ احمد محمد شاکرؒ کے دو شاگرد علامہ شعیب الارناؤط۔علامہ محمد زبیر الشاویش حاشیہ شرح السنۃ ص ج3 ص24 میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں۔

«وللترمذى فى الصلوة باب ماجاء ان النبىﷺ لم يرفع يديه الا فى اول مرة»نور الصباح ص103-102

الجواب:۔ان دونوں بزرگوں نے باب کا یہ عنوان اپنے استاذ محترم علامہ احمد محمد شاکرؒ کی تعلیق ترمذی سے نقل کیاہے علیحدہ طور پر کسی خاص نسخہ سے اسے نقل نہیں کیا۔"من ادعى فعليه البيان"

ساتویں دلیل:۔ڈیروی صاحب لکھتے ہیں علامہ احمد محمد شاکر ؒ نے ترمذی کی شرح لکھی ہے اس نسخہ ترمذی میں ترک رفع یدین کے باب کا عنوان اسطرح کا قائم کرتے ہیں۔

"بسم الله الرحمان الرحيم باب ماجاء ان النبىﷺ لم يرفع يديه الا فى اول مرة"

الجواب:۔

علامہ موصوف نے یہ عنوان اپنے ذاتی کسی نسخہ کے باعث رقم نہیں کیا بلکہ سابقہ نسخوں کے پیش نظر لکھا ہے لہذا اسے ایک مستقل دلیل قراردینا محض کتاب کے حجم کو بڑھانے کے لئے ہے۔علامہ احمد محمد شاکر ؒ نے بسم اللہ پر حاشیہ کا نشان لگا کر نیچے حاشیہ میں لکھا ہے:

"التسمية لم تذكر فى هذالموضع الا فى ع وقد اثبتناها احتياط لعلها اشارة الى تجزئة اخرى للكتاب لبعض العلماء"

تسمیہ کا ذکر اس مقام پر اور کسی نسخے میں نہیں سوائے ۔ع۔(علامہ عابد سندھی) کے نسخہ کے ہم نے احتیاطاً اسے لکھ دیا ہے شاید کسی کے نسخہ میں کتاب کے دوسرے جزء کی طرف اشارہ ہو۔

ہماری اس توضیح سے ڈیروی صاحب کی یہ خوش فہمی اور خود ساختہ علت دور ہوئی جس کا انہوں نے لطیفہ۔کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں ٖغیر مقلدین حضرات کے باب رفع یدین کی ابتداء میں بسملہ نہیں ہے اور احناف حضرات کے باب ترک رفع یدین کی ابتداء میں بسملہ بھی ہے جو اشارہ ہے اس بات کی طرف کے ترک رفع یدین ہی میں برکت وثواب ہے اور یہی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔(نور الصباح ص104)

ڈیروی صاحب کی اس عبارت سے کئی باتوں کا استخراج ہم بھی کرسکتے ہیں مگر ان کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔البتہ ہمیں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ان طالب علموں پر ترس آتا ہے۔جن کو ڈیروی صاحب جیسے متعصب استاذ الحدیث در س ترمذی میں اما م ترمذیؒ کے منعقدہ ابواب کے اس قسم کے لطائف بیان کرتے ہوں گے۔

اس کے بعد علامہ موصوف نے باب کے عنوان پر حاشیہ کانشان لگا کر نیچے حاشیہ میں لکھا۔

"فى له- باب من لم يرفع- وما هنا هوالذى فى ع واماباقى الاصول فلم يذكر فيها شيئ من العنوان كله بل جعل فيها الحديث الاتى داخلا فى الباب قبل هذا"

(امام ابن عساکر ؒ کے شاگرد کی طرف منسوب) نسخہ میں عنوان اس طرح ہے " باب من لم يرفع " اور جو ہم نے یہاں ذکر کیا ہے یہ علامہ محمد عابد سندھی کے نسخہ میں ہے۔باقی تمام نسخوں میں کوئی عنوان نہیں بلکہ اگلی حدیث (یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث) پچھلے باب میں ہی ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ "ترک کا عنوان" فقط دو نسخوں میں ہے جن کی تفصیل گزر چکی ہے،

ڈیروی صاحب کا دوسرا دعویٰ

ڈیروی صاحب نے بزعم خویش متعصبین پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ امام ترمذیؒ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا تھا۔اس بارے میں انہوں نے جو کچھ دلائل دیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ علامہ عینیؒ نے شرح ہدایہ ج1 ص663 میں اور مولانا محمد صدیق نجیب آبادیؒ نے انوار المحمود شرح ابی داؤد ج1 ص258 میں تحسین کے ساتھ ساتھ تصیح بھی نقل کی ہے۔اور اس کا ہونا بھی اشد ضروری ہے۔کیونکہ امام ترمذی ؒ عاصم بن کلیب ؒ کی روایت کو اور مقامات میں حسن صحیح کہتے ہیں ۔مثلاً ج1 ص38 ۔ج1 ص120 وغیرہ اھ ملخصاً نور الصباح ص10۔10۔

الجواب۔ڈیر وی صاحب کا یہ د عویٰ بھی بالکل بیکار اور بلا دلیل ہے ترتیب وار جواب ملاحظہ ہو۔علامہ عینی ؒ کا یہ فرمانا کہ امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کی تصیح پر نص کردی ہے غیر مسموع بلکہ مردود ہے ۔اس کے لئے انھوں نے کوئی دلیل نہیں دی۔"جم غفير محدثين وغيرهم" جامع ترمذی سے صرف اس حدیث کی تحسین نقل کرتے ہیں کون سی بعید بات ہے کہ علامہ عینی ؒ صاحب کو وہم لگ گیاہو؟آخر وہ بھی تو انسان ہی تھے۔اگر ڈیروی صاحب کے نزدیک صاحب مشکواۃ سے پے در پے متعدد غلطیاں سر زد ہوئی ہیں تو علامہ عینی ؒ سے دیگر اغلاط کے ساتھ ساتھ (جیسا کہ) حافظ ابن حجرؒ کی انتقاض الاعتراض سے پتہ چلتا ہے) یہ غلطی کیوں نہیں ہوسکتی؟ مولانا نجیب آبادیؒ نے بغیر کسی نسخہ کی نشاندہی کے حدیث کی تصیح امام ترمذیؒ کی طر ف منسوب کردی ہے ان کی بلادلیل یہ بات ناقابل التفات ہے۔

عاصم بن کلیبؒ کی روایات پر بحث:

عاصم بن کلیبؒ کے بارے میں تفصیلی بحث ہم کسی اور مجلسی میں پیش کریں گے۔سردست ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ عاصم بن کلیب ؒ اگرچہ ثقہ اور صحیح مسلم کا متشہد پر راوی ہے مگر غیر معیاری ثقہ ہونے کے باعث اس کی حدیث درجہ صحت سے گری ہوئی ہے۔البتہ جب کوئی دوسرا ثقہ ا س کا متابع ہو یا اس کی حدیث کا شاہد ہوتو ا س کی حدیث درجہ صحت کو پہنچ سکتا ہے۔امام مسلم ؒ نے اپنی صحیح میں اسی طور پر ہی آں کی احادیث لی ہیں۔وللتفصیل مقام آخر۔

اور غالباً یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ نے پوری صحیح بخاری میں اس کے و اسطہ والی روایت ذکر نہیں کی۔

اما م ترمذی ؒ کی تحسین وتصیح پر اھل علم نے کھل کر بحث کی ہے۔خود احناف حضرات ہی امام تر مذی ؒ کے تحسین وتصیح کے فیصلہ کو آخری نہیں سمجھتے بلکہ کئی احادیث کے بارے میں ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ہماری ناقص معلومات کے مطابق امام ترمذیؒ نے پوری جامع الترمذی میں صرف پانچ مقامات پر عاصم بن کلیب ؒ کے طریق سے احادیث روایت کی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔

1۔ج1 ص220۔2۔ج1 ص228۔3۔ج1 240۔4۔ج2 ص179۔5۔ج3 ص71 ۔مع تحفۃ الاحوذی۔ان میں سے تیسری اور پانچویں حدیث کے متعلق امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں۔"هذا حديث حسن صحيح" باقی تینوں کے بارے میں فرماتے ہیں۔"هذا حديث حسن "

تیسری حدیث واقع صحیح ہے کیونکہ اس میں عاصم بن کلیب ؒ متفرد نہیں بلکہ دیگر ثقہ رواۃ نے اس کی متابعت کی ہے۔اور اس حدیث کے شواہد بھی ہیں۔

ایسے ہی پانچویں حدیث بھی صحیح ہے۔کیونکہ ا س میں بھی عاصم بن کلیب ؒ متفرد نہیں بلکہ صحیح بخاری ومسلم میں اس کے متابع موجود ہیں۔اورصحیحین ہی میں اس کے شواہد بھی ہیں۔وللتفصیل مقام آخر اس توضیع سے معلوم ہو ا کہ امام ترمذی ؒنے ان دونوں حدیثوں کی تصحیح متابعات اور شواہد کے پیش نظر کی ہے ۔لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں عاصم بن کلیب ؒ منفرد ہے اور دوسری کو ئی صحیح حدیث اس کی شاہد نہیں لہٰذایہاں پر لفظ "صحیح " کا نہ ہو نا ہی عین حق و صواب ہے بالخصوص جب کہ محدثین کرام کی ایک جماعت نے اس حدیث کو معلول قرار دیا ہے جن میں عبد اللہ بن المبارکؒ امام یحییٰ بن ادمؒ امام احمد بن حنبل ؒ امام بخاریؒ امام ابو حاتم ؒ امام دارقطنی ؒ سر فہرست ہیں ،

خلاصہ کلام یہ کہ اصولی طور پر بھی اس حدیث کی تصحیح محل نظر ہے اور "صحیح "کا لفظ کسی قابل اعتماد نسخہ میں بھی نہیں لہٰذا اس حدیث کی تصحیح کے لیے ڈیروی صاحب نے جو پاپڑبیلے ہیں یہ سب بے کار کوشش ہے ۔

تنبیہ :

علامہ احمد محمد شاکر ؒ نے تعلیق ترمذی میں ایک قلمی نسخہ جو کہ "دارالکتب المصریہ میں ہے اس کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ اس کے ہامش پر صحیح کا لفظ موجود ہے ۔مگر ساتھ ہی ساتھ علامہ موصوف نے اس کی تغلیط بھی فر ما ئی ہے وہ فر ماتے ہیں ۔

فی نسخہ بہامش م زیاد ۃ "صحیح " وہی غیر ثابتۃ الخ ج2ص41،یعنی ایک نسخہ کے حاشیہ پر "صحیح " کی زیادت ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔اگر ڈیروی صاحب اس توضحیح کے باوجود بھی "ترک کے عنوان "اور "صحیح "کے لفظ کے بارے میں اپنے موقف پر مصر ہیں توہم ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں وہ ان باتوں کو بھی تسلیم کریں جو ترمذی کے بعض مخطوط نسخوں میں موجود ہیں ذیل میں ہم دومثالوں پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

پہلی مثال:

علامہ احمد محمد شاکرؒ رفع الیدین کے باب میں انہی دونوں نسخوں یعنی علامہ محمد عابد سندھی ؒ اور دارالکتب المصریہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ۔

"قال وحدثنا يحي عن موسى قال حدثنا اسماعيل بن ابى اويس قال كان مالك بن انس يرى رفع اليدين فى الصلاة"

اسمٰعیل بن ابی اویسؒ فر ما تے ہیں کہ امام مالک ؒ نماز میں رفع الیدین کے قائل تھے علاوہ ازیں جامع ترمذی کے حوالہ سے حافظ ابن حجر ؒو دیگر کئی محدثین امام مالکؒ کے قائل برفع الیدین ہو نا بھی ذکر فر ما تے ہیں دیگر متعدد دلائل بھی امام مالکؒ کے قائل برفع الیدین ہو نے کے مققضی ہیں بایں ہمہ صفحات بے فائدہ سیاہ کئے ہیں آخر کیوں ؟

دوسری مثال:

علامہ احمد محمد شاکر ؒ تعلیق ترمذی ج1 ص169۔میں علامہ محمد عابد سندھیؒ کے نسخہ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں ۔

«قال ابوعيسى سمعت صالح بن محمد الترمذى قال سمعت ابا المقاتل السمر قندى يقول دخلت على ابى حنيفة فى مرضه الذى مات فىه فدعا بما فتوضا وعليه جوربان فمسح عليهما ثم قال فعلت اليوم لم اكن افعله مسحت على الجوربين وهما غير متنعلين»

ابو مقاتل کہتے ہیں میں امام ابو حنیفہؒ پر ان کی اس بیماری میں داخل ہوا جس میں انھوں نے وفات پائی تھی انھوں نے پانی منگوا یا وضوء کیا جو رابیں پہنی ہو ئی تھیں ان پر مسح کیا پھر کہا آج میں نے ایک ایسا کا م کیا ہے جسے میں نے پہلے نہیں کیا میں نے غیر منعل جورابوں پر مسح کیا ہے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒ غیر منعل جورابوں پر مسح کے قائل ہو گئے تھے مگر امام ابو حنیفہؒ کی تقلید کا دم بھرنے والوں کی اکثریت آج بھی اس کی قائل نہیں ہے ۔