محدثین کی نظر میں

(مکرمی ومحترمی! سلام مسنون۔

عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقہ میں ایک عرصہ سے جمعرات کو مغرب کی نماز کے بعد کسی ساتھی کے مکان پرکچھ ہندوستانی وپاکستانی مسلمان جمع ہوتے ہیں اور ایک حافظ صاحب کسی دینی کتاب سے کچھ صفحات پڑھ کرسناتے اور اس کی شرح بیان فرماتے ہیں۔گزشتہ ہفتہ کی نشست میں علمائے اسلام کی تکریم کی بابت حافظ صاحب نے اور بہت سی باتوں کے علاوہ درج ذیل حدیثیں بھی بیان کی تھیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میری اُمت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاءؑ کی مانند ہیں۔"

2۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جس نے علماء کی زیارت کی تو گویا اس نے میری زیارت کی اور جس نے علماء سے مصافحہ کیا تو گویا اس نے مجھ سے مصافحہ کیا۔"

ان دونوں حدیثوں کی صحت اور ن کے اصل منشاء ومطلب کو بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ نیاز مند:

عبدالرحمٰن عبدالحفیظ میوات ص ب 163۔جیزان 1409ھ

الجواب بعون الوھاب:

مسئولہ دونوں حدیثیں صحت کے اعتبار سے قطعاً بے اصل اور موضوع (گھڑی ہوئی) ہیں:

«علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل»

"میری اُمت کے علماء بنو اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔"

اس حدیث کو علامہ جلال الدین بن عبدالرحمٰن السیوطیؒ (م911ھ) نے"الجامع الصغیر" 1میں وارد کیا ہے۔مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے بھی "امداد المشتاق" (ملفوضات حاجی امداد اللہ مہاجر مکی مرحوم) میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے چنانچہ رقمطراز ہیں فرمایا:

"منقول ہے کہ شب معراج کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقی ہوئے۔حضرت موسیٰ ؑ نے استفار کیا کہ «علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل» جو آپ نے کہا ہے کیسے صحیح ہوسکتاہے،حضرت حجۃ الاسلام امام غزالیؒ حاضر ہوئے اور سلام باضافہ الفاظ "بركاته مغفرته" وغیرہ عرض کیا،حضرت موسیٰؑ نے فرمایا کہ یہ کیا طوالت بزرگوں کے سامنے کرتے ہو آپ(امام غزالی ؒ) نے عرض کیا کہ آپ سے حق تعالیٰ نے صرف اسقدر پوچھا تھا﴿وَما تِلكَ بِيَمينِكَ يـٰموسىٰ ﴿١٧﴾... سورة طه" تو آپ ن کیوں جواب میں اتنا طول دیا کہ ﴿قالَ هِىَ عَصاىَ أَتَوَكَّؤُا۟ عَلَيها وَأَهُشُّ بِها عَلىٰ غَنَمى وَلِىَ فيها مَـٔارِ‌بُ أُخر‌ىٰ ﴿١٨﴾... سورةطه" الایۃ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ادب یا غزالی الخ۔"4

ان حضرات کے علاوہ بعض اورعلماء نے بھی اس حدیث کو اپنی کتب میں وارد کیا ہے مگر اس کے متعلق امام بدر الدین ابی عبداللہ محمد بن عبداللہ الذرکشیؒ( 714ھ) فرماتے ہیں۔"لا يعرف له اصل" علامہ عبدالرحمٰن بن علی بن محمد ابن عمر الشیبانی الشافعی الاثریؒ (م944ھ9 فرماتے ہیں:"دمیریؒ،زرکشیؒ اور ابن حجرؒ کا قول ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔6)علامہ نورالدین ابی الحسن السہودی ؒ(م911ھ) فرماتے ہیں۔ترمذیؒ۔ابن حجرؒ اورزرکشیؒ کا قول ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔7)

علامہ شمس الدین ابی الخیر محمد بن عبدالرحمٰن السخاویؒ(902ھ) میں فرماتے ہیں:"ہمارے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ان میں سے بعض نے یہ کہا ہے کہ کسی معتبر حدیث کی کتاب میں اس کا مذکور ہونا معروف نہیں ہے۔8۔شارح صحیح بخاری ؒ علامہ شیخ اسماعیل بن محمد العجلونی الجراحیؒ(م1162ھ)فرماتے ہیں۔"سیوطیؒ نے"الدرد9" میں فرمایا ہے کہ یہ بے اصل ہے(پھر"المقاصد الحسنۃ" للسخاویؒ کی عبارت نقل فرماتے ہیں 10۔)علامہ محمد بن علی الشوکانیؒ (م1250ھ) فرماتے ہیں:"ابن حجر" اور زرکشی ؒ نے اسے بے اصل بتایا ہے۔11) علامہ محمد دروپش حوت البیروتیؒ فرماتے ہیں: یہ موضوع اور بے اصل ہے جیسا کہ متعدد حفاظ نے بیان کیا ہے مگر بیشتر علماء نے اپنی کتب میں حفاظ حدیث کے قول سے غفلت کی بنا پر اس کو ذکر کیا ہے۔12۔اور محدث شام علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

"باتفاق علماء یہ بے اصل ہے یہ وہی چیز ہے جس سے گمراہ قادیانی فرقہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبوت کے باقی رہنے پر استدلال کیا کرتا ہے۔الخ"13۔

علمائے حنفیہ میں سے شیخ نور الدین علی بن محمد بن سلطان المشہور بالملاعلی القاری الحروی مرحوم(م1014ھ)نے"الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ" میں اس حدیث کو وار دکیا ہے۔اور فرماتے ہیں"دمیریؒ اور عسقلانی ؒ کا قول ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے یہی زرکشیؒ کا خیال ہے سیوطی ؒ نے اس سے سکوت اخیتار کیا ہے۔"اور علامہ محمد طاہر بن علی پٹنی ؒ(م986ھ) بیان کرتے ہیں:ہمارے شیخ اور زرکشیؒ کا قول ہے کہ یہ بے اصل ہے اور کسی معتبر کتاب میں اس کا موجود ہونا علماء کے نزدیک معروف نہیں ہے۔حنفی مسلک کے ایک اور مشہور ترجمان اُستاذ عبدالفتاح ابو غدہ مصری فرماتے ہیں:" شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ یہ موضوع یا ضعیف اور ساقط ہے۔'

پس معلوم ہوا کہ یہ حدیث باتفاق علماء قطعاً بے اصل اور گھڑی ہوئی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔

2۔مسئولہ دوسری حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے مثلاً

«من زار عالما فكمن زارنى ومن صافح عالما فكمن صافحنى ومن جالس عالما فكمن جالسنى ومن جالسنى فى الدار الدنيا اجلسه الله معى غدا فى الجنة»

ابو نعیم ؒ کی روایت میں آخری الفاظ اس طرح منقول ہیں:

"اجلسه ربى معى فى الجنة يوم القيامة"

ایک اور روایت کے الفاظ اس طرح وارد ہوئے ہیں:

"من زارالعلماء فكانما زارنى ومن صافح العلماء فكأنما صافحنى ومن جالس العلماء فكانما جالسنى ومن جالسنى فى الدنيا اجلس الى يوم القيامة"

علامہ ابی الحسن علی بن محمد ابن عراق الکنانیؒ(م963ھ) فرماتے ہیں:"ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں راوی ابن عمر العدنی موجود ہے۔19۔علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں:

"اس کی اسناد میں کذاب راوی ہیں ۔20۔علامہ محمد طاہر پٹنی فرماتے ہیں:" اس کی اسناد میں حفص کذاب موجود ہے۔21۔ملاعلی قاری ؒ فرماتے ہیں:"ذیل 22۔میں مذکور ہے کہ اس کی اسناد میں حفص کذاب ہے۔23۔علامہ اسماعیل عجلونی ؒ نے بھی ملا قاری ؒ کی مذکورہ بالا علت بیان فرمائی ہے۔24۔

اس روایت کی اسناد میں موجود مجروح راوی :ابن عمر العدنی " یا حفص' اصلا حفص بن عمر بن میمون ابو اسماعیل الملقب بالفرخ الیمانی العدنی ہے ،جسکے متعلق امام نسائی ؒ فرماتے تھے:"ثقہ نہیں ہے۔"امام دارقطنی ؒ نے اس کا ذکر اپنی کتاب الضعفاء والمتروکین میں کیا ہے۔ابن حجر عسقلانی ؒاسے ضعیف گرداتنے ہیں امام عقیلیؒ فر ما تے ہیں "لا يقيم الحديث"ابن حبانؒ فر ماتے ہیں :"یہ شخص ان میں سے اسا یند گھڑ لیا کرتے ہیں لہذا گرو ہ روایت کرنے میں منفرد ہو تو اسکے ساتھ احتجاج جائز نہیں ہے ملا طاہر پٹنیؒ فر ما تے ہیں حفض بن عمر العدنی کی یحیٰؒ نے تکذیب فر ما ئی ہے علامہ ذہبیؒ فر ماتے ہیں ۔"ابو حاتم ؒ کا قول ہے کہ لین الحدیث ہے اور ابن عدیؒ کا قول ہے کہ عام طور پر جو کچھ وہ روایت کرتا ہے وہ غیر محفوظ ہوتی ہے۔"امام ابن الجوزیؒ فر ما تے ہیں "مالک حکم بن ابان اور المفضل سے عن کے ساتھ روایت کرتا ہے ۔۔۔عقیلیؒ کا قول ہے کہ حفص اباطیل بیان کرتا ہے الخ ۔"علامہ ابن یحییٰؒ النیابوریؒ نے اسکی تکذیب کی ہے علامہ سیوطی ؒ بھی ایک مقام پر بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن یحییٰ النیابوریؒ نے اسکی تکذیب کی ہے اور امام بخاریؒ نے اسے منکر الحدیث بتا یا ہے۔ حفص بن عمر العدنی کے تفصیلی ترجمہ یااسکے متعلق محدثین کے مذکورہ بالا اقوال کے لیے الضعفاءوالمتروکون25للنسائی ؒ الضعفاء والمتروکون26۔للدارقطنیؒ تقریب التہذیب 27۔لامام احمد بن علی بن حجر العسقلانی ؒ (م852ھ)تہذیب التہذیب 28۔لابن حجر عسقلانی ؒ الضعفاء الکبیر 29۔لابی جعفر محمد بن عمرو بن موسیٰ بن حماد العقیلی المکی ؒ کتاب المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین 30۔لامام محمد بن حبان ؒ بن احمد ابی حاتمؒ التیمی البستی ؒ (م254ھ)میزان الاعتدال فی نقد الرجال 31۔لابی عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبیؒ (م748ھ)الضعفاء والمتروکون 32۔لابی الفرج عبد الرحمٰن بن علی بن الجوزیؒ القرشیؒ (م597ھ)التاریخ الکبیر 33۔امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ(م256ھ) الجرح والتعدیل 34۔لابن ابی حاتم رازی ؒ الکامل فی الضعفاء 35۔لابن عدی ؒ قانون الموضوعات والضعفاء 36۔للشیخ محمد بن طاہر بن علی الفتنی ؒ،تنزیۃ الشریعۃ المفرعۃ 37۔لابن عراق الکنانی ؒ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 38۔ للحافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہثیمیؒ (م807ھ) اور ذیل الموضوعات 39۔للسیوطیؒ وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔

پس ثابت ہو اکہ مسئولہ دونوں حدیثیں باعتبار صحت قطعاً بے اصل اورگھڑی ہوئی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔

افسوس کہ ہمارے بعض مقتدر علماء مولفین نے اپنی تصانیف میں غفلت یا لا علمی یا محققانہ ذوق کے فقدان کے باعث یا ان جیسی بے شمار بے بنیادوں چیزوں کو جگہ دے کر عوام کی گمراہی کا سبب فراہم کیا ہے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون۔

ایسی صورت میں ہراہل علم اور ذی عقل شخص پر لازم ہے کہ ان علماء کے نام یا ان کی مشہور زمانہ تالیفات یا ان کے اعلیٰ منصوبوں سے مرعوب نہ ہوکر بوقت درس ومطالعہ وتبلیغ ان کتب میں مذکورتمام احادیث کی خوب چھان بین کرلے،ان علماء کی تمام باتوں کو وحی الٰہی کی طرح من وعن تسلیم نہ کرتا جائے اور نہ ہی ان کے تسامحات کی دوراز کارتاویلات بیان کرنے کی سعی نامشکور میں اپنا وقت ضائع کرے بلکہ ان چیزوں سے خود بچے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی آگاہ کرے۔اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو اپنے دین حنیف کی صحیح سوچ سمجھ عطا فرمائے۔اور تلاش حق کاذوق وشوق نیز اسے قبول کرنے کی ہمت وحوصلہ عطا فرمائے،آمین۔
حوالہ جات

1۔ الجامع الصغیر للسیوطی ؒ حدیث 703،

2۔سورہ طہٰ آیت 17۔

3۔ ایضاً آیت 18،

4۔ امدادالمشتاق مرتبہ مولانا اشرف تھا نوی ؒصفحہ 92،طبع کراچی،

5۔ اللا لیٰ المنثور ۃ فی الاحادیث المشہور ۃ المروف بالتذکرۃ فی الاحادیث المشتہر ۃ للزرکشیؒ صفحہ 167،طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1986ء،

6۔ تمیز الطیب من الخبیث فیما یدور علی السنۃ الناس من الحدیث للشبانی ؒ صفحہ 121،طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1981ء،

7۔ الغماز علی اللماز فی الموضوعات المشہورات للسہوویؒ صفحہ 145،طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1986ء،

8۔۔المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشہترۃ علی الالسنۃ للبخاریؒ صفحہ 286،طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1979ء

9۔الدر للسیوطیؒ حدیث 293 طبع بیروت۔

10۔کشف الخفاء ومزیل الا لباس عما اشتھر من الاحادیث علی السنۃ الناس للعجلونی ؒ ج2،صفحہ 83 طبع موسسۃ الرسالۃ بیروت 1985ء۔

11۔الفوائد المجوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للشوکانی ؒ،صفحہ 286۔طبع السنۃ المحمدیۃ 1978ء۔

12۔اسنی المطالب فی احادیث مختلفۃ المراتب للحوت بیروتیؒ ،صفحہ 200 طبع دار الکتب العربی بیروت 1983ء۔

13۔سلسۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للابانی ج1،صفحہ 480 طبع المکتب الاسلامی بیروت۔

14۔الاسرار الرفوعۃ المقاری صفحہ 159،طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1985ء۔

15۔تذکرۃ الموضوعات للفتنیؒ صفحہ 20 طبع دار احیاالتراث العربی بیروت 1399ء۔

16۔التعلیقات الحافلۃ علی الجوبۃ الفاضلۃ لابی غدہ،صفحہ 33 طبع مکتبۃ الراشد بالریاض 1984ء۔

17۔رواہ ابن النجارؒ من حدیث انسؒ فی قصۃ بینۃ الکذب۔

18۔رواہ ابو نعیم ؒ من حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

19۔تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعہ الموضوعۃ لابن عراق الکنانیؒ ،ج1 صفحۃ 272 تا 273 طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1981ء۔

20۔الفوائد المجوعۃ لشوکانی ؒ صفحۃ 285۔

21۔تذکرۃ الموضوعات للفتنیؒ صفحہ 19۔

22۔ذیل الموضوعات للسیوطی ؒ صفحہ 35،مطبع العلوی لکھنو 1303ھ۔

23۔الاسرار المرفوعۃ اللقاریؒ صفحہ 232 وکذافی المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع لقاری ؒ صفحہ 183۔184۔طبع مکتبۃ الراشد بالریاض 1984ء۔

24۔کشف الخفاء للعجلونی ؒ ج2 صفحہ 330۔

25۔الضعفاء والمتروکون للنسائیؒ ترجمہ 133۔طبع دارالوعی حلب 1396۔

26۔الضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ ترجمہ 168۔

27۔تقریب التہذیب لابن حجر ؒ ج1،صفحہ 188 طبع درالمعرفۃ بیروت 1975۔

28۔ تقریب التہذیب لابن حجر ؒ ج2ص 410 طبع حیدر آباد دکن 1325ء

29۔الضعفاء الکبیرللعقیلی ؒ ج1 صفحۃ 273۔طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت 1984ء

30۔کتاب المجروحین لابن حبان ؒ ج1 صفحہ 257 طبع دارلباز مکۃ المکرمہ۔

31۔میزان الاعتدال للذہبیؒ ج1 صفحہ 560،561،طبع دارلمعرفۃ بیروت۔

32۔التاریخ الکبیر لبخاری ؒ ج2 صفحہ 365۔طبع حیدر آباد دکن 1360ء

34۔الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج3 صفحہ 183 طبع دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدر آباد دکن 1371ء۔

35۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒ ج2 ص 729۔طبع بیروت 1984ء۔

36۔قانون الوضوعات والضعفاء لفتنی ؒ،صفحہ 2541۔داراحیا ء التراث العربی بیروت 1399ھ۔

37۔تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانیؒ ج2 ص 54۔

38۔ مجمع الزاوائد للہثیمی ؒ ج1 ص 79۔طبع دارالکتب العربی بیروت 19822ء۔

39۔ذیل الموضوعات للسیوطیؒ صفحہ 35۔