﴿الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ﴾

"ترجمہ:۔جو غیب پرایمان لاتے ہیں۔

یہ متقین کی صفت ہے کہ وہ غیب کی بات پر ایمان لاتے ہیں ایمان کہتے ہیں تصدیق کو یعنی دل سے کسی بات کو سچ اور برحق ماننا۔کسی نے کہا یہاں ایمان کے معنیٰ ڈر ہیں۔ابن جریرؒ نے کہا اولیٰ یہ ہے۔کہ وہ لوگ ایمان بالغیب کےساتھ قول،اعتقاد اور عمل سے متصف ہیں۔کبھی اللہ کا ڈر بھی ایمان کے معنیٰ میں داخل وشامل ہوتا ہے۔یعنی اس ایمان میں جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ قول کی تصدیق عمل سے کرے۔ایمان ایک ایسا جامع حکم ہے کہ اس میں اللہ ،آسمانی کتابیں،تمام انبیاءؑ۔ورسلؑ۔کی تصدیق اور بالفعل اقرار واعتراف شامل ہے۔

ابن کثیر ؒ کہتے ہیں لغت میں ایمان کا لفظ تصدیق محض پر بولا جاتا ہے اللہ نے فرمایا۔﴿يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤمِنُ لِلمُؤمِنينَ... ﴿٦١﴾... سورةالتوبة

ترجمہ:۔وہ اللہ کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے۔

یوسف ؑ کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا تھا۔

﴿وَما أَنتَ بِمُؤمِنٍ لَنا وَلَو كُنّا صـٰدِقينَ ﴿١٧﴾... سورة يوسف

ترجمہ:۔اور آپ ہماری بات کو گوہم سچ کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

اسی طرح جب یہ الفاظ اعمال ک ہمرا آتا ہے تو بمعنی تصدیق ہوتا ہے جیسے اللہ کا فرمان ہے۔

﴿إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ... ﴿٦﴾... سورة التين

ترجمہ:۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔

اور جب مطلقاً استعمال ہوگا تو ایمان شرعی بغیر اعتقاد،قول اور فعل کے نہیں ہوتا،اکثر آئمہ کا یہی مذہب ہے بلکہ شافعیؒ ،احمدؒ،اورابو عبیدہ ؒ وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ ایمان قول اور عمل سے گھٹتا بڑھتا ہے۔اس باب میں بہت سی احادیث وآثار آئے ہیں جنھیں ابن کثیر ؒ نے اول شرح بخاری میں علیحدہ ذکر کیا ہے ،جس نے ایمان کی تفسیر یہاں خشیت کی ہے اس کی دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے۔

﴿إِنَّ الَّذينَ يَخشَونَ رَ‌بَّهُم بِالغَيبِ...﴿١٢﴾... سورةالملك

ترجمہ:۔جولوگ بن دیکھے اپنے پروردیگار سے ڈرتے ہیں۔

دوسری جگہ فرمایا:

﴿مَن خَشِىَ الرَّ‌حمـٰنَ بِالغَيبِ وَجاءَ بِقَلبٍ مُنيبٍ ﴿٣٣﴾... سورة ق

ترجمہ:۔جو اللہ سے بن دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا۔

یہ خشیت ایمان وعلم کا خلاصہ ہے اللہ کا فرمان ہے۔

﴿إِنَّما يَخشَى اللَّهَ مِن عِبادِهِ العُلَمـٰؤُا۟ ...﴿٢٨﴾... سورة فاطر

ترجمہ:۔اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔

دوسری جگہ فرمایا:۔

﴿ذ‌ٰلِكَ لِمَن خَشِىَ رَ‌بَّهُ ﴿٨﴾... سورةالبينة

ترجمہ:۔(یہ صلہ) اس کے لئے ہے جو اپنے پروردیگار سے ڈرتا ہے۔

معلوم ہے کہ بہشت اہل خشیت کا ہی مقدر ہے رہی یہ بات کہ غیب سے یہاں کیا مراد ہے؟کسی نے کہا اللہ ،فرشتے،کتابیں،آخرت کا دن،جنت ودزخ،اللہ کی ملاقات یہ لوگ اس بات پر ایمان لائے کہ مرنے کے بعد جی اٹھیں گے ،سو یہ سب عیب ہے،ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا غیب وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔کسی نے کہا قرآن ہے ،بعض نے کہا جو اللہ پر ایمان لایا وہ غیب پر ایمان لایا،کسی نے کہا غیب سےمراد اسلام ہے۔کسی نے کہا قضا وقدرہے سو یہ سارے معنی ملتے جلتے ہیں،یہ ساری چیزیں نظر نہیں آتیں سب پرایمان لانا واجب ہے ابوجمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہاہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کاکھانا کھایا اور ہمارے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم سے بھی کوئی بہتر ہے؟ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہادکیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں تمہارے بعد ایک قوم آئے گی جو مجھ پر ایمان لائے گی حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں(احمد) دوسرے الفاظ اس طرح ہیں۔ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم سے زیادہ کوئی قوم اجر پائےگی؟ہم اللہ پر ایمان لائے ۔ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمھیں اس بات سے کون منع کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں ہر دم آسمان سے وحی چلی آتی ہے۔ہاں ایک قوم تمہارے بعد آئے گی اُن کو ایک ایک کتاب دوگتوں کے درمیان ملے گی وہ اس کی تصدیق کریں گے اور جو کچھ اس کتاب میں ہوگا اس پر عمل کریں گے اُن کا اجر تمہارے اجرسے دوگنا زیادہ ہے۔(ابن مردودیہ) فتح الباری میں ہے کہ فضیلت میں کوئی چیز صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے برابر نہیں ہوسکتی۔کیونکہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے صرف اجرکے زیادہ ہونے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ غیر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین پر افضل ہوں۔اس لئے کہ اجر کی کمی وبیشی کا انحصار عمل پر ہوتا ہے۔سو مشاہدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی عمل نہیں پاسکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ایمان میں وہ قوم مجھے سب سے زیادہ پسند ہے جوتمہارے بعد ہوگی۔ان کو صحیفے ملیں گے ان کے پاس کتاب ہوگی اور وہ جو کچھ اُن صحف میں لکھاہوگا اس پر ایمان لائیں گے(ابن عرفۃ) ابو حاتم ؒ نے کہا مغیرہ بن قیس اس حدیث کی سند میں "منکرالحدیث" ہے ،لیکن قریب قریب ابو یعلیٰ ابن مردودیہ اور حاکم نے بھی حدیث محمد بن حمید کوروایت کیا ہے حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔

ان حدیثوں میں کتاب وسنت کے پیروکاروں کے لئے خوشخبری ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا صرف قرآن کو پایا،اس پر ایمان لائے اورعمل کرتے ہیں عربی لغت میں ہر اُس چیز کوغیب کہتے ہیں۔جو انسان کو نظر نہ آئے۔کسی نے کہا غیب سے مراد اس جگہ دل ہے یعنی صدق دل کے ساتھ اس کتاب کی تصدیق کرتے ہیں۔کسی نے کہا غیب سے مراد وہ چیز ہے۔جس کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور وہ عقل سے دریافت نہیں ہوسکتی۔جیسے علامات قیامت ،عذاب قبر،حشر،نشر،صراط،میزان،جنت اور دوزخ۔

حدیث جبرائیلؑ میں ایمان شرعی اسی کو ٹھہرایا ۔فرمایا۔ایمان یہ کہ تو اللہ اس کے فرشتوں کتابوں،رسولوں،اورآخرت کے دن پر ایمان لائے،تو قضا،وقدر کے اچھا اور بُرا ہونے پر ایمان لائے۔یہ حدیث بخاری شریف میں "والقدر خیرہ وشرہ" کے الفاظ سے آئی ہے۔حدیث نزیلہ بنت اسلم میں تحویل قبلہ کے بارے میں ہے کہ جب ان کو یہ خبر ملی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی طرف منہ کرلیا ہے۔توانہوں نے قبلے کی طرف منہ کیا۔تو وہ نماز ہی میں قبلے کی طرف پھر گئے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا۔

«اولئك قوم أمنوا بالغيب»

یہ وہ قوم ہے جو غیب پر ایمان لائی(ابن حاتم،طبرانی،ابن مندہ ابونعیم)

عوف بن مالک نے مرفوعاً کہا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش میں اپنے بھائیوں کو دیکھتا،صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ہاں ضرور ہولیکن تمہارے بعد ایک قوم آئے گی جو مجھ پر تمہاری طرح ایمان لائے گی ،تمہاری طرح تصدیق کرلے گی،تمہاری طرح میری مدد گار ہوگی۔کاش میں انہیں مل سکتا۔(ابن ابی شیبۃ،مسند)اس حدیث کا مصداق کامل اہلحدیث کا گروہ ہے۔ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بھائی کہا ہے ،ان کی یہ پہچان بتائی کہ وہ ایمان ،تصدیق ونصرت نبوی میں صحابہ کی مانند ہوں گے سو یہ وصف سوائے ان لوگوں کے کسی اور میں معلوم نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ اسی طریقہ پر گامزن ہیں جس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین قائم تھے۔احیاء سنت سے ہمیشہ دین اسلام کی نصرت کرتے ہیں۔بدعات کا قلع قمع کرکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار بنتے ہیں۔(وللہ الحمد) ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً یہ آیا ہے۔اُس آدمی کو ایک مبارک ہو جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور اُس آدمی کو سات مرتبہ مبارک ہو جس نے مجھے دیکھا نہیں لیکن مجھ پر ایمان لایا (احمد الطیالسی بخاری حاکم) ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ کوئی شخص اس شخص سے بہتر ایمان نہیں لایا جو غیب پر ایمان لایا،پھر یہ آیت تلاوت کی۔الم ہ ذالک الکتاب،الآیۃ ایمان بالغیب کے بارے میں تابعین کے بہت سے اقوال ہیں۔ترجیحی بات یہی ہے کہ ایمان شرعی ان سب اقوال پر صادق آتاہے۔کیونکہ اعمال ایمان میں داخل ہیں۔حدیث ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرفوعاً آیا ہے۔ایمان کے ستر سے کچھ اوپر شعبے ہیں ان میں سب سے افضل لا الہٰ الااللہ کا اقرار واعتراف اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔(بخاری ومسلم)

﴿وَيُقيمونَ الصَّلو‌ٰةَ ﴾

ترجمہ:۔اورآداب کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔

یعنی نماز ہمیشہ ٹھیک وقت پر بلا تاخیر بغیر قضا کئے ارکان وسنن اور معروف طریقے پرادا کرتے ہیں۔فرائض وحدود اورنماز کے ارکان خلل سے بچاتے ہیں۔"اقامۃ" کے اصل معنیٰ یہ ہیں کہ ہمیشہ ادا کرے۔معلوم ہوا کہ جو وقت پر نماز نہیں پڑھتا یا کسی وقت پڑھتا ہے اور کسی وقت نہیں پڑھتا یا بے وقت اداکرتا ہے ،یا اس طرح نہیں پڑھتا جس طرح سے ثابت ہے یا غفلت وبے پرواہی سے پڑھتا ہے۔وہ "مقیم الصلواۃ" نہیں ہے بلکہ ایک فرض نماز ک عملا ترک کرنے سے کفر لازم آجاتا ہے۔اگر توبہ کے بغیرمرگیا یا مارا گیا تو مرتد ہوا اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں نہیں دفن کرنا چاہیے لوگ دعویٰ تو ایمان واسلام کا کرتے ہیں۔مگر اکثر نمازیں عملاً ترک کرتے ہیں۔تاخیر سے پڑھتے ہیں یا غفلت سے ادا کرتے ہیں ان کے انجام کا خدا ہی حافظ ہے خصوصاً عورتیں کہ وہ نماز کے اوقات کی پابندی نہیں کرتیں۔اگر جہنم میں سب سے زیادہ یہ ہوں تو کیا تعجب ہے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس جگہ نماز سے مراد پانچوں نمازیں ہیں قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا"قیام" سے مراد یہاں وقت،وضو،رکوع،اورسجود پر محافظت ہے کسی نے کہا"اقامۃ"سے مراد پورا کرنا ہے رکوع،سجود،تلاوت اور خشوع وخضوع کا بہرحال ان سب ان سب عبارتوں کا حاصل ایک ہے کہ ایسی نماز پڑھے جیسی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے اس میں سب کچھ آگیا ہے۔

حدیث میں ہے«وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي »اس نماز میں رفع یدین ،آمین بالجہر،سینے پر ہاتھ باندھنا ،جلسہ استراحت اور رکوع کے بعد اعتدال کرنا سب سنتیں شامل تھیں۔اس نماز کی ترکیب"مسك الختام شرح بلوغ المرام" میں لکھی ہے نماز کا مطلب رسالہ حقیقۃ الصلواۃ میں کسی نے خوب بیان کیاہے۔

﴿وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔اور کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

یعنی اللہ کی راہ اور اس کی اطاعت میں صدقہ دیتے ہیں۔جمہور کے نزدیک رزق وہ چیز ہے جس سے نفع حاصل ہو،حلال ہو یاحرام معتزلہ حرام کو رزق نہیں مانتے یہ اُن کی غلط فہمی ہے یہ اوربات ہے کہ حرام رزق کا کھانا ،لینا اور دینا کبیرہ گناہ ہے مگر رزق کی تعریف سے باہر نہیں لفظ"کچھ"کا یہ ہوا اسراف وتبذیر بُری چیز ہے ،اللہ کی مرضی کے بغیر مال کا اڑانا بڑا گناہ ہے ایسے لوگوں کو قرآن مجید میں ﴿اخوان الشياطين﴾ کا لقب دیاگیا ہے۔یہ مرض ان امراء میں جو بخیل نہیں سب سے زیادہ ہوتا ہے رؤسا میں سے کوئی بخل کے ساتھ ہلاک ہوا تو کوئی اسراف سے۔قتادہؒ نے فرمایا اس خرچ سے مراد زکواۃ کا ادا کرنا ہے۔ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ،خرچ کرنے سے مراد اپنے اہل وعیال پر خرچ کرناہے۔ابن جریرؒ نے فرمایا آیت میں زکواۃ ،فرض نفل،صدقہ قریب وغریب وغیرہ سب اخراجات شامل ہیں ،ابن کثیر ؒ نے کہا اللہ نے نماز اور مال کے خرچ کو بہت جگہ پر ایک ساتھ ذکر کیا۔یہ اس لئے کہ نماز اللہ کا حق ہے اس کی عبادت ہے یہ عبادت اللہ کی توحید وثناء تمجید اور ا پنی عاجزی،دُعا اور توکل پرمشتمل ہے۔

"انفاق"اللہ کی مخلوق پر احسان کرنا ہے کیونکہ اس کا نفع ایک سے دوسرے تک پہنچتا ہے۔سو اس احسان کے سب سے زیادہ مستحق ،اہل وعیال،قرابت والے اور مملوک ہیں،اس کے بعد اجنبی لوگ،"اول خویش بعددرویش اس لئے سارے نفقات واجبہ اور فرض زکواۃ اس آیت میں داخل ہیں۔

صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا آیا ہے ۔اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔

1۔کلمہ شہادت کااقرار واعتراف۔2۔نماز کا قائم رکھنا۔3۔زکواۃ ادا کرنا۔4۔رمضان شریف کے روزے رکھنا۔5۔بیت اللہ کا حج۔

ابن کثیرؒ کہتے ہیں اس بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔

﴿وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ﴾

ترجمہ:۔اور جو کتاب(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ پر نازل ہوئی۔اس پرایمان رکھتے ہیں۔"

مراد سارا قرآن مجید اور ساری شریعت اسلام ہے نزول قرآن کا مطلب یہ ہے کہ جبرائیل ؑ نے اللہ کا کلام آسمانوں میں سُنا اور اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اس سے اللہ کاعرش پر ہونا ثابت ہوا،قرآن کاسننا،پڑھنا،سینوں میں محفوظ ہونا،مصحف میں لکھا جانا اور حروف صورت میں ہونا ثابت ہوا۔قرآن مجید کی یہ ساری صفات خود کلام اللہ اور حدیث رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔

﴿ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ ﴾

ترجمہ:۔اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں۔

یعنی دوسرے رسولوں پر جیسے حضرت ابراہیم ؑ پر صحیفے ،داؤد ؑ پر زبور ،موسیٰ ؑ پر تورات اور عیسیٰ ؑ پرانجیل۔ان سب پرایمان لانا اجمالاً فرض عین ہے۔اور قرآن پر تفصیلاً ایمان لانا فرض کفایۃ ہے ۔صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت نے کہا اس آیت سے مراد اہل کتاب کے مومنین ہیں۔ان کی دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے۔

﴿وَإِنَّ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَمَن يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَيكُم وَما أُنزِلَ إِلَيهِم... ﴿١٩٩﴾... سورةآل عمران

ترجمہ:۔ اور بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں۔جو اللہ پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جوان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں۔

دوسری جگہ فرمایا:

﴿الَّذينَ ءاتَينـٰهُمُ الكِتـٰبَ مِن قَبلِهِ هُم بِهِ يُؤمِنونَ ﴿٥٢﴾... سورة القصص

ترجمہ:۔جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔

جس طرح کہ پہلی آیت سے مراد مومنین عرب تھے۔کسی نے کہا کہ یہ دونوں آیتیں سارے مومنین کے حق میں ہیں۔عربی یا عجمی ،انسان ہوں یا جن ،اہل کتاب ہوں یا مسلمان،شوکانی ؒ نے اسی بات کوترجیح دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ ان مومنین کی تعریف کی ہے جنھوں نے ان دونوں معاملات کو مانا ہے۔

تیسری جگہ فرمایا:۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا ءامِنوا بِاللَّهِ وَرَ‌سولِهِ وَالكِتـٰبِ الَّذى نَزَّلَ عَلىٰ رَ‌سولِهِ وَالكِتـٰبِ الَّذى أَنزَلَ مِن قَبلُ...﴿١٣٦﴾...سورة النساء

ترجمہ:۔مومنو!اللہ پر اور اُس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے پیغمبر پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ۔

چوتھی جگہ فرمایا:۔

﴿ءامَنّا بِالَّذى أُنزِلَ إِلَينا وَأُنزِلَ إِلَيكُم...﴿٤٦﴾... سورةالعنكبوت

ترجمہ:۔جو(کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں۔

پانچویں جگہ فرمایا:۔

﴿ءامَنَ الرَّ‌سولُ بِما أُنزِلَ إِلَيهِ مِن رَ‌بِّهِ وَالمُؤمِنونَ كُلٌّ ءامَنَ بِاللَّهِ وَمَلـٰئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُ‌سُلِهِ لا نُفَرِّ‌قُ بَينَ أَحَدٍ مِن رُ‌سُلِهِ...﴿٢٨٥﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔رسول اس کتاب پر جو ان کے پروردیگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں۔اور مومن بھی ،سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پرایمان رکھتے ہیں(اور کہتے ہیں)کہ ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے۔

چھٹی جگہ فرمایا:

﴿وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُ‌سُلِهِ وَلَم يُفَرِّ‌قوا بَينَ أَحَدٍ مِنهُم...﴿١٥٢﴾... سورةالنساء

ترجمہ:۔اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔

ابن کثیر ؒ نے کہا اگرچہ سارے مومنین اس میں داخل ہیں لیکن اہل کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب پر مفصل ایمان لائے،پھر جب مسلمان ہو کرقرآن پر بھی مفصل ایمان لائیں گے تو ان کو دوگنا اجر ملے گا،غیر اہل کتاب کا ایمان اگلی کتابوں پر اجمالی ہے ہاں کبھی یوں بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے عربوں کا ایمان اُن لوگوں کے ایمان سے جو اسلام میں بعد میں داخل ہوتے ہیں اتم واکمل ہے گو ان کودوہرا اجر ملے،اس لئے کہ ان کی تصدیق کا ثواب اہل کتاب کے دوہرے اجر پر بڑھ جائے گا۔

﴿وَبِالءاخِرَ‌ةِ هُم يوقِنونَ ﴿٤﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔اور سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔

یعنی اس دن جتنے کام ہوں گے جیسے بعث و نشر وحشر کسی میں بھی ان کو شک نہیں ہے سب کی سچے دل سے تصدیق کرتے ہیں۔معلوم ہوا کہ یہ متقین کی صفت ہے۔اور وہ اس یقین کو ایمان کی اساس اور اسلام کی بنیاد سمجھتے ہیں۔جبکہ اہل کتاب کا اعتقاد آخرت کےسلسلے میں صحیح نہیں ہے،چہ جائیکہ وہ مرتبہ یقین تک پہنچ سکیں،ابن کثیر ؒ نے آخرت سے مراد یہاں بعث وقیامت ،جنت وجہنم حساب ومیزان لیا ہے۔

چونکہ وہ دنیا کے بعد آئے گا۔اس لئے اس کو آخرت یا یوم آخر بولتے ہیں۔

﴿أُولـٰئِكَ عَلىٰ هُدًى مِن رَ‌بِّهِم﴾

ترجمہ:۔یہی لوگ اپنے پروردیگار سے ہدایت پر ہیں۔

راستے سے مراد "نور یا "استقامت "یا "بیان یا "برہان "یا " بصیرت' یا "توفیق"یا "سراد یہ سب معنی مراد ہوسکتے ہیں۔اس جملے میں متقین کے حالات کی خبر دی ہے کہ وہ بسبب کمال استعداد ،اعمال صالحہ اورترک محرمات کے اللہ کی طرف سے کامیاب وکامران اور راہ شناس ہوگئے ہیں۔

﴿وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٥﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔اور یہی دنیا وآخرت میں کامیاب وکامران ہوئے ۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔انہوں نے مدعی ومقصود پالیا،جس بُرائی سے بھاگے تھے اس سے محفوظ ہوئے،کسی نے کہا آگ سے بچے اور جنت نصیب ہوئی،ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔بعض دفعہ ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ہم پر اُمید ہوتے ہیں اور بعض جگہ نا امیدی آگھیرتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں جنت اور دوزخ والوں کی خبر نہ دوں؟عرض کیاگیا ضرور۔فرمایا۔الم سے لے کر مفلحون تک اہل جنت کا ذکر ہے ہمیں اُمید ہے کہ ہم یہی لوگ ہیں۔پھر فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذينَ كَفَر‌وا سَواءٌ عَلَيهِم ءَأَنذَر‌تَهُم أَم لَم تُنذِر‌هُم لا يُؤمِنونَ ﴿٦﴾... عَظيمٌ ﴿٧﴾... سورة البقرة

"میں اہل دوزخ کا ذکر ہے۔ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہم لوگ نہیں ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ کہتے ہو۔(ابن ابی حاتم)

﴿إِنَّ الَّذينَ كَفَر‌وا سَواءٌ عَلَيهِم ءَأَنذَر‌تَهُم أَم لَم تُنذِر‌هُم لا يُؤمِنونَ ﴿٦﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔ جو لوگ کافر ہیں انھیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔دوسری جگہ فرمایا :۔

﴿إِنَّ الَّذينَ حَقَّت عَلَيهِم كَلِمَتُ رَ‌بِّكَ لا يُؤمِنونَ ﴿٩٦﴾ وَلَو جاءَتهُم كُلُّ ءايَةٍ حَتّىٰ يَرَ‌وُا العَذابَ الأَليمَ ﴿٩٧﴾... سورة يونس

ترجمہ:۔جن لوگوں کے بارے میں اللہ کا حکم (عذاب)قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر طرح کی نشانی آجائے۔

تیسری جگہ اہل کتاب کے نافرمانوں کے بارے میں فرمایا۔

﴿وَلَئِن أَتَيتَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ بِكُلِّ ءايَةٍ ما تَبِعوا قِبلَتَكَ... ﴿١٤٥﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔اور اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔

یعنی اللہ نے جس کو شکی ٹھہرادیاہے۔اس کو کوئی سعید نہ کرسکے گا اور جس کو اللہ نےگمراہ کردیا کوئی ہدایت نہ دے سکے گا،پھر اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ اپنے جی کو کیوں گھلاتے ہیں۔آپ کوتو صرف پیغام حق پہنچانا ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے جو مانے گا اسی کابھلا ہوگا جو نہیں مانے گا وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔آپ کا کام پہنچادیناہے۔اور حساب لیناہمارا کام ہے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا تھی سب لوگ ایمان لے آئیں،ہدایت کی راہ پر چلیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مانیں،اللہ نے فرمایا:ایمان صرف وہی لاتا ہے جس کے لئے پہلے سے سعادت مقرر ہوچکی،گمراہ وہی ہوتا ہے جو پہلے سے بدبخت ٹھہر چکا ہے۔ابوالعالیۃ نے کہا یہ آیتیں "غزوہ احزاب" سے بیٹھ رہنے والوں کے حق میں اتریں۔

دوسری جگہ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا۔

﴿أَلَم تَرَ‌ إِلَى الَّذينَ بَدَّلوا نِعمَتَ اللَّهِ كُفرً‌ا وَأَحَلّوا قَومَهُم دارَ‌ البَوارِ‌ ﴿٢٨﴾ جَهَنَّمَ يَصلَونَها ...﴿٢٩﴾... سورة ابراهيم

ترجمہ:۔کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتار دیا۔

علماء نے کہا یہ آیت عام ہے مگر اس کے معنی خاص ہیں۔یعنی اس سے مراد ایسا آدمی ہے۔جس کا کفر پر مرنا اللہ کے علم میں موجود ہے۔اللہ نے یہ چاہا کہ لوگوں کو یہ بات بتادے کہ ان میں ایسے آدمی بھی جن کا یہ حال ہوگا ،تعین خاص کسی شخص کی نہیں کی۔

﴿خَتَمَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَعَلىٰ سَمعِهِم وَعَلىٰ أَبصـٰرِ‌هِم غِشـٰوَةٌ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ ﴿٧﴾... سورةالبقرة

ترجمہ:۔اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہرلگا رکھی ہے اور اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑ ہوا ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے۔

دل ،کان،آنکھ کاذکر اس لئے کیا کہ علم کے یہی تین راستے ہیں۔دل سے انسان سمجھتا ہے ،کان سے سنتا ہے اور آنکھ سے دیکھتاہے سو جب دل اور کان پرمہر لگ گئی،آنکھوں پر پردہ پڑگیا تو نہ ہدایت کو سمجھ سکتے ہیں۔اور نہ حق کو دیکھ اور سن سکتے ہیں۔بعض اہل علم کا خیال ہے اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ حق بات کے سننے سے تکبر اور روگردانی کرتے ہیں۔ابن جریر ؒ نے کہا یہ قو ل صحیح نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ ہم نے تو اُن کے دلوں پرمہر کردی ہے۔زمحشری نے پانچ طرح سے ابن جریر کا رد کیا ہے۔مگر ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ وہ سب وجوہ ضعیف ہیں۔اعتزال نے اس کو یہ جرائت دلائی کہ اللہ کامہر لگانا اس کے اعتقاد میں ایک امر قبیح ٹھہرا۔اگر وہ اس آیت پر غور کرتا۔

﴿فَلَمّا زاغوا أَزاغَ اللَّهُ قُلوبَهُم...﴿٥﴾... سورةالصف

ترجمہ:۔جب اُن لوگوں نے کج روی کی اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔

دوسری جگہ فرمایا:

﴿وَنُقَلِّبُ أَفـِٔدَتَهُم وَأَبصـٰرَ‌هُم...﴿١١٠﴾... سورةالانعام

ترجمہ:۔اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔

تو ابن جریرؒ کے قول کا رد نہ کرتا اور یہ بات جان لیتا کہ اللہ تعالیٰ ان دلوں پر مہرلگا کر ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہوگیا ہے۔ان کے ترک حق اور باطل پر اصرار اور ہٹ دھرمی کی پوری پوری سزا ہے۔قرطبی ؒ نے کہا اس بات پر امت کا اجماع ہے۔ کہ اللہ نے اپنے نفس کو کافروں کے دلوں پر مہرلگانے کے ساتھ موصوف کیا ہے جس طرح فرمایا:

﴿بَل طَبَعَ اللَّهُ عَلَيها بِكُفرِ‌هِم...﴿١٥٥﴾... سورة النساء

ترجمہ۔بلکہ ان کے کفر کےسبب اللہ نے ان پر مہر کردی ہے۔

پھر حدیث دل کے پھیرنے کا ذکر کیا ،پھر اس دعا کا:

«يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبِنَا عَلَى دِينِكَ »

پھر حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کیا جس میں دلوں کے اندر فتنوں کے وقوع پزیر ہونے کا ذکر آیا ہے۔(بخاری) ابن جریر ؒ کہتے ہیں حدیث ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرفوعاً آیا ہے کہ مومن جب کوئی گناہ کرتاہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے۔اب اگر توبہ کرلی گناہ سے باز رہا تو دل صاف ہوگیا اور اگر زیادہ گنا ہ کیا تو نقطہء بڑھتا گیا حتیٰ کہ پورا دل سیا ہ ہوگیا ،یہ وہی "رین" ہے جو اللہ نے فرمایا:

﴿كَلّا بَل ر‌انَ عَلىٰ قُلوبِهِم ما كانوا يَكسِبونَ ﴿١٤﴾... سورة المطففين

ترجمہ:۔دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں۔ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔

اس حدیث کو ترمذی نے حسن صحیح کہا ۔نسائی نے بھی روایت کیا ابن جریر ؒ نے کہا کہ ر سول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر دی ہے کہ جب گناہ دل پر لگاتار آتے ہیں۔تو دل کو بند کردیتے ہیں جب دل بند ہوگیا تو اللہ کی طرف سے اس پر مہر لگ گئی۔اب نہ ایمان اس میں جاسکتاہے اور نہ کفر وہاں سے باہر آسکتا ہے۔یہ مطلب ہے قرآن مجید کی اس آیت کا کہ مہر تو دل اور کان پر لگتی ہے آنکھ پر پردہ پڑتا ہے ۔اللہ نے فرمایا۔

﴿وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِ‌هِ غِشـٰوَةً... ﴿٢٣﴾... سورةالجاثية

ترجمہ:۔اور اس کے کانوں اور دل پر مہرلگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔

مُجاہد نے کہا"رین"(زنگ) طبع (مہر) سے ہلکا ہے طبع اقفال (تالے) سے کم ہے اقفال سب سے زیادہ سخت ہے۔باقی رہا عذاب عظیم سو اس جگہ سے اس سے مراد عذاب آخرت عقاب قیامت یاقتل وقید دنیا ہے عذاب ہر اس چیز کا نام ہے۔جو انسان کو تکلیف دیتی ہے "عظیم"ضد ہے "حقیر" کی جس طرح کبیرضد ہے۔صغیر کی۔اس بنیاد پرعظیم کبیر سے بڑھ کر ٹھہرا جس طرح کہ حقیر صغیر سے کم تر ہے۔اللہ نے پہلی چار آیتوں میں مومنین مخلصین کا ذکر کیا پھر دو آیتوں میں خالص کافروں کا ذکر کیا۔اب تیرہ آیتوں میں منافقین کا ذکر کیا ہے۔یہ وہ گروہ ہے جو نہ ادھر تھا اور نہ ادھر ظاہر میں مومنین کے موافق تھے اور باطن میں کافروں کی طرح تھے ،اس لئے ان کے حق میں فرمایا:۔

﴿إِنَّ المُنـٰفِقينَ فِى الدَّر‌كِ الأَسفَلِ مِنَ النّارِ...﴿١٤٥﴾... سورة النساء

ترجمہ:۔کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔

ابن کثیرؒ کہتے ہیں ا س فرقے کا حال اکثر لوگوں پرمشتبہ رہتا تھا۔اس لئے کئی وصف ان کے بیان فرمائے۔ہر وصف ایک طرح کانفاق ہے۔ان کا ذکر سورہ توبہ ،سورہ منافقین اور سورہ نور میں بھی آیا ہے تاکہ سب لوگ ان ک حال کو جانیں اور ان سے بچتے رہیں۔ (جاری ہے)