برصغیر پاک وہند کے دینی مدارس حکو متوں کی جس اعتنائی اور جدید معاشرے کی منفی سوچ کے علی الرغم چل رہے ہیں اس میں انکار وجود ہی معجزہ سے کم نہیں۔برطانوی استعمار نے لارڈ میکالے کے ذریعے جس نئے نظام تعلیم کو رائج کرکے مسلمانوں کی نسل کشی کی کوشش کی تھئی۔اس کا اندازہ اکبر الہٰ آبادیؒ کے اس شعر سے لگالیجئے:
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کے فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

سطور ذیل میں دینی مدارس کے بالے میں ایک ایسی ہی مخالفانہ سوچ کے بالمقامل مولانا محمد یوسف لدھیانوی کراچی کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔(مدیر)

دینی مدارس کے خلاف زہرافشانی:

کچھ عرصہ پہلے پنجاب میں زکواۃ کے چیف ایڈ منسٹریٹر نے بتایا تھا کہ گزشتہ نوسال میں دینی مدارس کو 33 کروڑ 84لاکھ 20 ہزار روپے زکواۃ فنڈ میں سے دئیے گئے۔اور ا س رقم سے 2084 دینی مدارس کے 88795طلبہ نے استفادہ کیا۔

شیر علی صاحب نے ایڈمنسٹریٹر صاحب کولکھا کہ برائے کرم ان اعداد وشمار کے علاوہ یہ بھی بتائیے کہ ان دینی مدارس میں پڑھایا کیا جاتا ہے؟وہاں کون لوگ پڑھتے ہیں؟پڑھانے والے کون ہیں اور کس قدر تعلیم یافتہ ہیں؟کیا ان دینی مدارس میں کوئی ایسا بچہ بھی پڑھتا ہے۔جو کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہو؟ کیا وہ سیاسی عناصر جو ہمہ وقت اسلام اور اسلامی نظام کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔ان مدرسوں میں اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں۔اگر نہیں بھیجتے اور یہ طے ہے کہ نہیں بھیجتے تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کیوں نہیں بھیجتے؟

جو طلبہ ان مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوکرنکلتے ہیں وہ کسی مسجد میں امامت کے علاوہ کیا کسی اور کام کے قابل ہوتے ہیں؟جب کہ امامت کا مسئلہ بھی مشکوک رہتا ہے۔کیونکہ ہماری مسجدیں بھی تو دیو بندی،بریلوی،اورشیعہ سنی اور اہلحدیث اور وہابی وغیرہ و غیرہ میں تقسیم ہوچکی ہیں۔یا پھر صاف صاف کہیے کہ ان مدرسوں کے یہ فوائد ہیں۔ کہ منتظمین کی روٹی چلتی ہے۔اور غریب بچے جو دوسرے سکولوں میں نہیں پڑھ سکتے یہاں داخل ہوجاتے ہیں مانگے تانگے کی روٹی کھالیتے ہیں اور جب مدرسوں سے فارغ ہوکر نکلتے ہیں تو جب بھی ان بیچاروں کا گزارہ مفت کی روٹی پر ہوتا ہے۔

تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ان مدرسوں کو سکولوں میں بدل دیا جائے۔ان میں تعلیم کے مروجہ تمام مضامین ریاضی اور سائنس اور تاریخ وغیرہ کے علاوہ قرآن مجید کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔قرآن مجید مسلمانوں کے ہر فرقے کا مشترک سرمایہ ہے اس لئے قرآن پاک کی تعلیم سے فرقہ سازی کی بیماری بھی ختم ہوجانے کاامکان ہے اور دین ودنیا کی تفریق کا بھی۔

جواب:

روزنامہ جنگ کراچی(2جنوری 1990ء) کی اشاعت میں ادارتی صفحہ پر احمد ندیم قاسمی کا کالم شائع ہوا۔جس میں ایک مراسلہ نگار کے حوالے سے مدارس عربیہ کے خلاف زہر افشانی کی گئی ہے۔

مراسلہ نگار نے دینی مدارس کے 88795 طلبہ پر نو سال میں 33 کروڑ 84 لاکھ 20 ہزار روپے کی زکواۃ خرچ کرنے کا جو احسان دھراہے ذرا حساب لگا کر دیکھئے کہ یومیہ فی طالب علم کتنی رقم بیٹھتی ہے:

نوسال کے دن ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔3285

ان دنوں پرمذکورہ بالا 33,8420,000 کی رقم کو تقسیم کیا گیا تو فی دن خرچ ہونے والی ذکواۃ۔ایک لاکھ تین ہزار بیس روپے اور ایک لاکھ تین ہزار بیس روپے کی رقم کو اٹھاسی ہزار سات سو پچانوے طلبہ پر تقیسم کیاگیا تو فی طالب علم یومیہ رقم ہوئی ایک روپیہ سولہ پیسے۔

گویا مراسلہ نگار کی ساری غوغا آرائی کا حاصل یہ ہوا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو ایک روپیہ سولہ پیسے کی زکواۃ کیوں دی گئی۔اس قوم کی بلند ہمتی اور عالی حوصلگی کی داد دینی چاہیے جس کے افراد اپنے دین کی تعلیم پر ایک روپیہ سولہ پیسے کی"خطیر" رقم خرچ کرنے پر احتجاج کررہے ہوں اور وہ بھی ٹیکس کی رقم سے نہیں بلکہ زکواۃ کی رقم سے۔

افسوس ہے کہ ان اعداد وشمار کو پیش کرتے ہوئے نہ تو مراسلہ نگار کو گھن آئی اور نہ ہی ہمارے ملک کے نامور ادیب کو مراسلہ نگار کے ان نامبارک خیالات کو اپنے کالم میں جگہ دیتے ہوئے کوئی خفت محسوس ہوئی۔

محترم مراسلہ نگار نے چیف ایڈیٹر صاحب سے دینی مدارس کے طلبہ پر خرچ کی گئی زکواۃ کے اعدادوشمار تو بڑی دلچسپی سے معلوم کرکے شائع کردیئے۔حالانکہ مراسلہ نگار کو بھی اعتراف ہے۔کہ جن طلبہ پر یہ زکواۃ(ایک ر وپیہ سولہ پیسے یومیہ) خرچ کی گئی وہ نادار ہونے کی وجہ سے زکواۃ کا صحیح مصرف تھے کاش کہ انھوں نے چیف ایڈمنسٹریٹر صاحب سے یہ معلوم کرنے کی زحمت بھی فرمائی ہوتی۔کہ اس نو سال کے عرصہ میں زکواۃ کا بے محل استعمال کس قدر ہوا؟کتنی رقم اسکولوں،کالجوں،اور یونیورسٹیوں کے طلبہ پر(مسلم غیر مسلم کی رعایت کئے بغیر) خرچ کی گئی؟کتنی رقم نام نہاد رفاہی کاموں میں بغیر تملیک کے لگا دی گئی؟کتنی رقم سرکاری اہلکاروں کے حصے میں آئی۔کتنی رقم بطور رشوت استعمال کی گئی؟اور جتنی رقم دینی مدارس کو دی گئی اُس میں سے کتنا کمیشن زکواۃ کے عملہ نے وصول کرلیا؟شاید ا س کا ریکارڈ جناب چیف صاحب کے دفتر میں بھی موجود نہیں ہوگا۔لیکن کراما ً کاتبین کے دفتر میں یقیناًمحفوظ ہوگا۔

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ زکواۃ کی جو رقم اپنے صحیح مصرف پر خرچ کی گئی اُس پر تو جارحانہ انداز میں احتجاج کیاجارہا ہے۔اور زکواۃ کی جو رقم ایسی جگہوں پر خرچ کی گئی جن سے زکواۃ دینے والوں کی زکواۃ ہی ادا نہیں ہوئی۔اس پر نہ کوئی سوال اور نہ احتجاج؟

مراسلہ نگار نے سوال کیا ہے کہ ان دینی مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے وہاں کون لوگ پڑھتے ہیں،پڑھانے والے کون اور کس قدر تعلیم یافتی ہیں؟کیا ان دینی مدارس میں کوئی ایسا بچہ بھی پڑھتا ہے۔جوکسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہو۔

مراسلہ نگار کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ان دینی مدارس میں قرآن کریم،حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم،اسلامی قانون،اسلامی عقائد،وغیرہ علوم نبوعت پڑھائے جاتے ہیں۔اور بعض وہ علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں۔جو اُن علوم کے لئے موقوف علیہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔جن کے بغیر قرآن وحدیث اور دیگر اسلامی علوم کا سمجھنا ممکن نہیں۔اگر مراسلہ نگار کی نظر میں ان علوم نبوت کی کوئی قیمت نہیں تو ہم اسے عقل وفہم کے لحاظ سے معذور سمجھتے ہیں۔اوراگراُن کے خیال میں ان علوم کا زندہ رکھنا اور ان میں تخصص پیدا کرنا بھی امت کی ذمہ داری ہے۔تو دینی مدارس کے خلاف مراسلہ نگار کی غوغا آرائی"آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا کی مصداق ہے۔

رہا یہ کہ ان دینی مدارس میں کون لوگ پڑھتے ہیں؟جواباً گزارش ہے،مراسلہ نگار کو مطمئن رہنا چاہیے کہ بحمداللہ وہاں سکھوں اور یہودیوں کے بچے نہیں پڑھتے بلکہ مسلمانوں کے بچے ہی زیر تعلیم ہیں۔

مراسلہ نگار پوچھتے ہیں کہ دینی مدارس میں پڑھانے والے کون ہیں اور کس قدر تعلیم یافتہ ہیں؟جواباً گزارش ہے کہ جو کام دینی مدارس کے اساتذہ کے سپرد ہے۔وہ بحمد اللہ اس میں مہارت رکھتے ہیں اوربغیر کیس فخر ومباہات کے کہا جاتا ہے کہ اس شعبہ میں بڑے بڑے پی۔ایچ ۔ڈی ان کے سامنے طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔باقی یہ مراسلہ نگار کی بلند نظری ہے کہ ان کے نزدیک یہود ونصاریٰ کے علوم پڑھنے والے تو تعلیم یافتہ ہیں لیکن علوم نبوت کے پڑھنے پڑھانے والے اُن کی نظر میں تعلیم یافتہ نہیں۔

رہا مراسلہ نگار کا یہ کہنا کہ ان مدارس میں کوئی ایسا بچہ بھی پڑھتا ہے جو کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہو؟اس سلسلے میں چند گزارشات ہیں:

اول:۔تومراسلہ نگار کو اطلاع کرنے کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں۔کہ بحمداللہ ان مدارس میں ایک معقول تعداد اُن طلبہ کی بھی ہے جن کا تعلق کھاتے پیتے مگر دیندار گھرانوں سے ہے۔مراسلہ نگار ذرا زحمت فرما کر ملک کے اہم دینی مدارس میں تشریف لے جائیں۔وہاں جاکر بچشم خود ملاحظہ فرمائیں۔

دوم:۔اگر فرض کرلیا جائے کہ ان دینی مدارس میں ایک بچہ بھی ایسا نہیں پڑھتا جس کاتعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہو،تو مراسلہ نگار ہی بتائیں کہ اس میں قصوردینی مدارس کا ہے یا کھاتے پیتے گھرانوں کا؟اگر کوئی کھاتہ پیتا گھرانہ دولت کی بدمستی میں دینی اور دینی تعلیم سے بے نیاز ہوچکا ہے تو یہ اُس کی اپنی بدبختی اورشقاوت ہے۔دین ،دینی تعلیم اور دینی مدارس پر کیا الزام ہے؟یہ حق تعالیٰ شانہ کی تقسیم ہے کہ اکثر وبیشتر دین اوردینی علوم کے پاس غریب اور پسماندہ طبقہ ہی رہا ہے۔

سوم:۔مراسلہ نگار کا دینی مدارس پر طنز کرنا کہ کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے ان میں کیوں تعلیم نہیں پاتے۔یہ بالکل وہی بات ہے جو مکہ کے کافر قرآن کریم پر طنز کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ قرآن ایک غریب آدمی پرکیوں نازل کیاگیا۔مکہ اورطائف کی بستیوں میں سے کسی کھاتے پیتے آدمی پر یہ قرآن کیوں نازل نہ کیا گیا؟کیسی ستم ظریفی ہے کہ آج مراسلہ نگار کفار مکہ کی ترجمانی کرتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں پر وہی پھبتی اڑا رہے ہیں جو کفار مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اڑایا کرتے تھے۔

مراسلہ نگار لکھتے ہیں کہ جو طلبہ ان مدارس سے فارغ التحصیل ہوکر نکلتے ہیں وہ کسی مسجد کی امامت کے علاوہ کیا اور کسی کام کے قابل ہوتے ہیں؟

گویا مسجد کی امامت اور دوسرے دینی مشاغل مراسلہ نگار کے نزدیک کوئی کام ہی نہیں۔بھنگیوں کا کام تو مراسلہ نگار کے نزدیک کا م ہے۔مگر قرآن کریم کا پڑھنا پڑھانا اور دینی علوم کی تعلیم دینا،مسلمانوں کی پیش آمدہ ضروریات میں دینی رہنمائی کرنا ،ان کوشرعی مسائل بتانا سرے سے کوئی کام ہیں نہیں؟دنیا کا کون مسلمان ہوگا جو مراسلہ نگار کی اس ذہنی پرواز کی داد نہ دے گا۔مراسلہ نگار کی عقل ودانش صرف اس بات پر احتجاج کررہی ہے کہ ایک روپیہ سولہ پیسے کی ذکواۃ ایسے لوگوں کو کیوں دی جارہی ہے جن کی سرگرمیاں صرف اورصرف دین تک محدود ہیں۔ممکن ہے کہ کل کوئی مراسلہ نگار سے بھی زیادہ عقل مند شخص یہ احتجاج کرنے لگے کہ قومی خزانے کا کھربوں ر وپیہ فوج پر کیوں خرچ کیا جا رہا ہے؟جبکہ بیس سال سے ہماری کسی ملک سے جنگ ہی نہیں ہوئی۔اور نہ اتنی بڑی فوج کا کوئی مصرف سامنے آیا ہے۔اورعدالتوں پر اتنا بڑا سرمایہ کیوں خرچ کیاجارہا ہے جبکہ بظاہر غریب عوام کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔اور نہ کوئی غریب کسی عدالت سے رجو ع کرسکتاہے۔ایسے سوالات اٹھانے والا یا تو ملک کا دشمن تصور کیاجائے گا اور اُسے فوری طور پر گرفتار کرکے پس دیوار زنداں بھیجا جائےگا یا اُس بیچارے کو ہنی معذور قرار دے کر اُس کسی دماغی ہسپتال میں داخل کرنے کا مشورہ دیا جائے گا۔ٹھیک اسی طرح مراسلہ نگار کا دینی مشاغل ومصروفیات کو "بیگار قرار دینا،اس کامنشا یا تو دینی دشمنی ہے یا ذہنی افلاس
ع۔۔۔۔۔۔۔فکر ہرکس بقدر ہمت اوست