ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مارچ
1990
ادارہ
(برصغیر پاک وہند کے دینی مدارس حکو متوں کی جس اعتنائی اور جدید معاشرے کی منفی سوچ کے علی الرغم چل رہے ہیں اس میں انکار وجود ہی معجزہ سے کم نہیں۔برطانوی استعمار نے لارڈ میکالے کے ذریعے جس نئے نظام تعلیم کو رائج کرکے مسلمانوں کی نسل کشی کی کوشش کی تھئی۔اس کا اندازہ اکبر الہٰ آبادیؒ کے اس شعر سے لگالیجئے:
  • مارچ
1990
صدیق حسن خان
﴿الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ﴾

"ترجمہ:۔جو غیب پرایمان لاتے ہیں۔

یہ متقین کی صفت ہے کہ وہ غیب کی بات پر ایمان لاتے ہیں ایمان کہتے ہیں تصدیق کو یعنی دل سے کسی بات کو سچ اور برحق ماننا۔کسی نے کہا یہاں ایمان کے معنیٰ ڈر ہیں۔ابن جریرؒ نے کہا اولیٰ یہ ہے۔کہ وہ لوگ ایمان بالغیب کےساتھ قول،اعتقاد اور عمل سے متصف ہیں۔
  • مارچ
1990
عبدالرحمن عاجز
پہ ایک دن موت کا جھپٹے گا باز
تو نے مجھ کو دولت دل سے کیا ہے سرفراز
مانگتا ہوں تجھ سےمیں اب دولت سوزوگداز
  • مارچ
1990
غازی عزیر
محدثین کی نظر میں

(مکرمی ومحترمی! سلام مسنون۔

عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقہ میں ایک عرصہ سے جمعرات کو مغرب کی نماز کے بعد کسی ساتھی کے مکان پرکچھ ہندوستانی وپاکستانی مسلمان جمع ہوتے ہیں
  • مارچ
1990
ایوب فاضل
(نماز میں رفع یدین کرنا نہ کرنا ایک ایسا اختلافی مسئلہ بن گیا ہے کہ اس پر فریقین کے مابین نوک جھونک روز مرہ کی معمول بن گئی ہے۔

اگر ازروئے دلائل دیکھاجائے تو رفع الیدین کے قائلین کا مؤقف نہایت قوی ثابت ہوگا۔جبکہ فریق مخالف(احناف) کے پاس کوئی صریح صحیح مرفوع حدیث نہیں ۔فریقین کی طرف سے اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔
  • مارچ
1990
عبدالرؤف ظفر
فقروشاہی واردات مصطفیٰ است
ایں تجلی ہائے ذات مصطفیٰ است (اقبال )

سلسلہ انبیاؑء کی آخری کڑی انسان کا مل حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے راہنمائی نہ ملتی ہو اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعا لیٰ نے ارشاد فر ما یا۔
  • مارچ
1990
عبدالرشید عراقی
544ہجری اور 606ہجری
اُن کی علمی خدمات

( ابن اثیر کے نام سے دو بھائیوں نے شہرت پائی! ایک مجدد الدین مبارک صاحب النہایہ فی غریب الحدیث والآثر (م606ہجری) دوسرے عزالدین ساحب اسدالغابہ (م630ھ) اس مقالہ میں مجد الدین ابن اثیرؒ کے حالات اور علمی خدمات کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔(عراقی)
  • مارچ
1990
عبدالرحمن عاجز
قربت رب دو عالم کا سبب ہے جو نماز
کیسے ممکن ہے کہ ہو بے لذتِ سوزوگداز
یا الٰہی التجا یہ ہے بصد عجزو نیاز