انبیاء ورسل علیہم السلام توحید،رسالت،آخرت پر ایمان اور بندگی رب کی دعوت لے کر آئے ہیں۔اللہ رب العزت کی یہ سنت ہے۔کہ اُس نے ہر دور میں مختلف امتوں کی طرف ا پنے پیغمبر بھیجے،تاکہ وہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلائیں۔ان برگزیدہ ہستیوں کے سلسلے کی آ خری کڑی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی د نیاوی واخروی صداقتوں اور حقائق کولوگوں کے سامنے پیش کیا۔انبیائے کرام علہیم السلام کی دعوت سچائی اور خلوص پر مشتمل ہوتی ہے لہذا سننے والے اسے سے متاثر ہوتے ہیں۔دل سے اس کا اعتراف کرتے ہیں۔البتہ شیاطین جن وانس اور تمام باطل پرست اس دعوت کی مخالفت کرتے ہیں۔انبیاء کرام علیہم السلام کو جسمانی اورذہنی اذیتیں دیتے ہیں طرح طرح کے الزامات اور اتہامات باندھتے ہیں۔

کاہن،مجنوں اورساحر سے جیسے بُرے القابات سے تو عام طور پر ہر نبی کو نوازا گیا۔ارشاد الٰہی ہے:

﴿إِذ يَقولُ الظّـٰلِمونَ إِن تَتَّبِعونَ إِلّا رَ‌جُلًا مَسحورً‌ا ﴿٤٧﴾...سورة الإسراء

تصورکیجئے،"ظالم یہ کہتے ہیں کہ تم تو ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کررہے ہو۔"

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿فَقالَ لَهُ فِر‌عَونُ إِنّى لَأَظُنُّكَ يـٰموسىٰ مَسحورً‌ا ﴿١٠١﴾... سورةالإسراء

"تو فرعون نے اس سے کہا کہ اسے موسیٰؑ! میں تو تمھیں سحر زدہ گمان کرتا ہوں۔"

قوم صالح علیہ السلام کے بارے میں ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿قالوا إِنَّما أَنتَ مِنَ المُسَحَّر‌ينَ ﴿١٥٣﴾... سورة الشعراء

"انھوں نے کہا کہ آپ تو جادو زدہ ہیں۔"

کوئی ایک ہی نہیں بلکہ اللہ کا ہر نبی ان الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے قرآن مجید اس صورت حال کو یوں بیان کرتا ہے:

﴿كَذ‌ٰلِكَ ما أَتَى الَّذينَ مِن قَبلِهِم مِن رَ‌سولٍ إِلّا قالوا ساحِرٌ‌ أَو مَجنونٌ ﴿٥٢﴾... سورةالذاريات

"اسی طرح اُن کے پاس اس سے پہلے جب بھی کوئی رسول آیا تو انھوں نے (اس کو) ساحر اور مجنون کہا۔"

سحر کو قرآن مجید شیطانی عمل قرار دیتا ہے۔اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جادو کو کبائر میں شمار کیاگیا ہے۔اور یہ ایسا عمل ہے کہ جس سے انسان حالت کفر میں چلا جاتا ہے۔اوریہ بھی حقیقت ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون ؑ کو "جادوگر" کی تہمت لگا کر ملک بھر کے جادو گروں کو مقابلے کے لئے بلا بھیجا۔لیکن مقابلے کے بعد جادو اورسچائی کی حقیقت کو ہرایک نے بچشم سر دیکھ لیا۔یہاں تک کہ ساحرین فرعون جو مقابلے سے پہلے انعام کے طالب تھے۔اب توبہ کرکے اللہ کے حضور استغفار کرنے لگے۔پھر فرعون کی کوئی دھمکی بھی اُن سے اُن کے ایمان کو نہ چھین سکی۔

سحر زدہ ہونے کا الزام مشرکین وکفار مکہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی لگایا۔قرآن نے اس کی نفی کی ہے۔البتہ قرآن مجید کی آخری سورتوں انفلق،الناس،(معوذتین) کے شان نزول یاتفسیر کے حوالے سے اکثر مفسرین اس بات کااعتراف کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔اس بات کی حقیقت کیا ہے؟اس جادو کےاثرات کیاتھے؟

مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے اس مقالے میں چند اہم مفسرین کا احاطہ کیا گیا ہے۔دونوں نقطہء ہائے نظر کو اختصار کے ساتھ پیش کیا جائےگا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اگر اس کے اثرات ہوئے ہیں تو اس کی نوعیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

حقیقت سحر:

لسان العرب میں سحر کی حقیقت یوں بیان ہوئی ہے:

"سحر انسانی نظر اور قوت متخیلہ کو ایسا دھوکا دیتا ہے کہ انسان گمان کرتا ہے:

"يظن ان الامر كما يرى وليس الاصل على مايرى"

"گمان ہوتا ہے کہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا دیکھائی دیتا ہے حالانکہ اصل (حقیقت) وہ نہیں جو دکھائی دیتی ہے۔"

احمد مصطفیٰ المراغی کہتے ہیں:

"ووصفه بانه خداع وتخييل للأعين"

"جادو کی تعریف یہ ہے کہ یہ دھوکا ہے اورآنکھوں کے سامنے خیال اندازی ہے۔"فرماتے ہیں:

"حتى ترى ماليس بكإين كائنا"

"یہاں تک کہ آنکھیں جو چیز نہیں ہوئی اس کوہوتا ہوا دیکھتی ہیں۔"

جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے:

﴿يُخَيَّلُ إِلَيهِ مِن سِحرِ‌هِم أَنَّها تَسعىٰ ﴿٦٦﴾... سورة طه

"اُن کے جادو کی وجہ سے اُن کو ایسا خیال ہورہا تھا گویا کہ وہ (رسیاں اورلاٹھیاں) دوڑ رہی ہیں۔"

اما م ر اغب ؒ اصفہانی لکھتے ہیں:

"والسحر يقال على معان، الخداع وتخييلات لا حقيقت لها، نحوما يفعله المشعبذ بصرف الابصار عما يفعله لخفة يد- يزعمون انه من قوته يغير الصور والصبائع فيجعل الانسان حمارا ولا حقيقة لذلك وقد تصور من السحرتارة حسنه فقيل ان من البيان لسحرا"

"سحر کے کئی معنی کئے جاتے ہیں۔ دھوکہ اور ایسی خیال اندازی کہ جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جیسا کہ شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی کے ذریعے لوگوں کو نگاہوں کو پھیر کر کرتا ہے۔لوگ گمان کرتے ہیں کہ جادو کی قوت سے صورتیں اور طبیعتیں بدل جاتی ہیں۔ تو وہ انسان کو گدھا بنا دیتاہے۔حالانکہ اُس کی کوئی حقیقت نہیں۔"

سید قطب حقیقت سحر کی وضاحت یوں بیان کرتے ہیں:

"وَمِن شَرِّ‌ النَّفّـٰثـٰتِ فِى العُقَدِ"سے مراد" السواحر عيات بالاذى عن طريق خداع الحوارس وخداع الاعصاب.... والسحر لا يغير من طبيعة الاشياء ولا ينشئ حقيقة جديدة لها، ولكنه يخيل للحواس والمشاعر بما يريده الساحر"

"سواحر سے مراد حواس واعصاب انسانی کو دھوکے کے ذریعے اذیت دینے کی کوشش کرنا ہے۔جادو سے چیزوں کو اصلیت نہیں بدل جاتی اور نہ ہی کوئی نئی حقیقت جنم لیتی ہے لیکن حواس اور انسانی شعور کوکچھ ایسا دکھائی دیتاہے جیسا کہ ساحر چاہتا ہے۔"

سحر:

ان سب تعریفوں سے یہ واضح ہوا کہ عمل سحر ایک دھوکہ ہے جس کے ذریعے اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی البتہ نگاہیں ایسا محسوس کرتی ہیں جیسا کہ جادوگر چاہتا ہے۔

تاثیر سحر کی حقیقت:

قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جادو کے عمل کے منفی اثرات انسان پر مرتب ہوتے ہیں۔

ساحرین فرعون کےبارے میں ارشاد الٰہی ہے:

﴿قالَ أَلقوا فَلَمّا أَلقَوا سَحَر‌وا أَعيُنَ النّاسِ وَاستَر‌هَبوهُم وَجاءو بِسِحرٍ‌ عَظيمٍ ﴿١١٦﴾... سورةالاعراف

"پس جب انھوں نےڈالا توا نھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور اُن کو ڈرایا اور وہ زبردست جادو لے کر آئے۔"

سورۃ القرۃ میں جادو کو شیطانی عمل قراردیا گیا ہے:۔

﴿وَاتَّبَعوا ما تَتلُوا الشَّيـٰطينُ عَلىٰ مُلكِ سُلَيمـٰنَ وَما كَفَرَ‌ سُلَيمـٰنُ وَلـٰكِنَّ الشَّيـٰطينَ كَفَر‌وا يُعَلِّمونَ النّاسَ السِّحرَ‌... ﴿١٠٢﴾... سورةالبقرة

"اور پیروی کرتے ہیں اس چیز کی کہ جس کو شیطان سلیمان کے وقت میں پڑھتے تھے سلیمان ؑ نے تو کفر نہیں کیا لیکن شیاطین نے کفر کیا۔وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔"

اس آیت کا اگلاحصہ جادو کے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے صاحب کشاف اسی شیطانی عمل کے بارے میں لکھتے ہیں:

شیاطین نے جادو کا عمل کرکے کفرکیا۔لوگوں کو اُن کے جادو سکھلانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ہاروت وماروت دو فرشتے تھے ،وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی آزمائش تھی۔جو کوئی اُن سے جادو سیکھتا اور عمل کرتا وہ کافر ہوجاتا۔ اور کوئی اگر محض جادو کے شر سے بچنے کے لئے واقفیت حاصل کرتا،اس پر عمل کرنا مقصود نہ ہوتا تو وہ مومن قرار پاتا،اور شر کو اس لئے بھی معلوم کیا جاتا ہے۔ کہ آدمی اُس سے اپنا تحفظ کرسکے۔جیسا کہ ابو نواس شاعر کہتا ہے:
عرفت الشر لا لشر لكن لتوقيه
فمن لا يعرف الشر من الناس يقع قيه

اللہ تعالیٰ کسی قوم کو کسی طرح بھی آزما سکتا ہے ۔یہ دو فرشتے بابل کے مقام پر بھیجے گئے تھے۔یہ لوگوں کوجادو سکھا کر نصیحت کرتے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور ابتلاء کے لئے بھیجے گئے ہیں۔تو تم لوگ جادو کو عمل کرنے کی خاطر نہ سیکھو۔یہ فرشتے جو جادو سکھاتے اس اثر سے میاں بیوی کےدرمیان تفریق پڑ جاتی۔آپس کے تعلقات میں بگاڑ آجاتا ۔لیکن یہ اثرات اللہ کے حکم اور اذن سے واقع ہوتے۔

صاحب کشاف کہتے ہیں کہ ایسے علوم سے اجتناب زیادہ بہتر ہے تاکہ آدمی شر میں مبتلا نہ ہو۔

ہاروت وماروت اور تعلیم سحر:

ہاروت وماروت اللہ کے بھیجے ہوئے دو فرشتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو آزمائش یوں کہ کہ یہ دونوں فرشتے لوگوں کو ایسا جادو سکھاتے جس سے میاں بیوی کے درمیان تفریق ہوجاتی یا تعلقات خراب ہوجاتے۔فرشتے لوگوں کو اسی عمل سے منع بھی کرتے تھے۔

ارشاد الٰہی ہے:

﴿وَما أُنزِلَ عَلَى المَلَكَينِ بِبابِلَ هـٰر‌وتَ وَمـٰر‌وتَ وَما يُعَلِّمانِ مِن أَحَدٍ حَتّىٰ يَقولا إِنَّما نَحنُ فِتنَةٌ فَلا تَكفُر‌ فَيَتَعَلَّمونَ مِنهُما ما يُفَرِّ‌قونَ بِهِ بَينَ المَر‌ءِ وَزَوجِهِ وَما هُم بِضارّ‌ينَ بِهِ مِن أَحَدٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمونَ ما يَضُرُّ‌هُم وَلا يَنفَعُهُم وَلَقَد عَلِموا لَمَنِ اشتَر‌ىٰهُ ما لَهُ فِى الءاخِرَ‌ةِ مِن خَلـٰقٍ وَلَبِئسَ ما شَرَ‌وا بِهِ أَنفُسَهُم لَو كانوا يَعلَمونَ ﴿١٠٢﴾... سورةالبقرة

"سورۃ البقرۃ کی یہ آیت چند امور کی وضاحت کرتی ہے بابل کے شہر میں ہاروت وماروت لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔وہ خود اس کی وضاحت کردیتے کہ ہم آزمائش ہیں۔لہذا تم کفر نہ کرو ۔لوگ اُن سے وہ کچھ سیکھتے کہ جس کے ذریعے وہ میاں بیوی میں جُدائی ڈال دیتے۔اور جادو کا یہ اثر اللہ کے حکم ہی سے وابستہ ہے۔"

پھر قرآن مجید اُن کے فعل کی مذمت کرتا ہے گویا یہ باتوواضح طور پرسامنے آتی ہے کہ جادو ک اثرات ہوتے ہیں۔لیکن عمل سحر حرام ہے اس کا ارتکاب کرنے والا کفر یہ حرکت کرتا ہے۔

اس آیت مبارکہ کی تشریح وتوضیع میں تمام مفسرین نے بلا اختلاف جادو کے ان اثرات کو تسلیم کیا ہے۔البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا انبیاء کرام ؑ پر عمل سحر کااثر ہوتا ہے یا نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرجادو کااثر ہوا تھا یا نہیں؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کے اثرات کی نفی:

احمد مصطفےٰ المراغی سورۃ الفلق کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے:

الف۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مشرکین کا قول درست ثابت ہوا ہے:

﴿إِن تَتَّبِعونَ إِلّا رَ‌جُلًا مَسحورً‌ا ﴿٤٧﴾... سورة الإسراء

کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کررہے ہو۔

ب۔ہم پر یہ اعتقاد رکھنا واجب ہے۔کہ قرآن متواتر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کی نفی کی ہے۔

ج۔جن احادیث سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثرات کا اثبات ہوتا ہے وہ خبر احاد ہیں کہ جن کو عقائد کے سلسلے میں حجت نہیں مانا جاسکتا۔عصمت انبیاء ایسا عقیدہ ہے کہ جس میں یقین کے سوا بات نہیں کہی جاسکتی۔انبیاء کرام ؑ کے علاوہ دوسرے لوگوں پر صاحب المراغی نے جادو کے اثرات کی نفی نہیں کی ہے۔

د۔عطاء حسن اور جابر کی روایت کے مطابق یہ سورہ مکی ہے۔اور جادو کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی سے بیان کیا جاتا ہے۔لہذا ایسی روایات کو حجت تسلیم کرنا ایک کمزور بات ہے۔

صاحب تدبر قرآن نے درج ذیل دلائل کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سے جادو کے اثر کی نفی کی ہے۔

الف۔یہ مسلمہ عقیدے کے بالکل منافی ہے جو قرآن نے انبیاء ؑ سے متعلق ہمیں تعلیم کیا ہے۔عصمت حضرات انبیاءؑ کی ان خصوصیات میں سے ہے جو کسی وقت بھی اُن سے منفک نہیں ہوتی۔

ب۔دندان مبارک کی شہادت ،زخمی ہونے اور بیماری وغیرہ پر جادو کے اثر کو قیاس کرکے جواز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شیطانی تفرقات سے اپنے نبیوں کو محفوظ رکھا ہے۔اور اُ ن کی یہ محفوظیت دین کے تحفظ کے لئے ناگزیر ہے۔

ج۔اس واقعے سے متعلق روایات موضوع،ضعیف اور خبرواحد پرمشتمل ہیں۔

د۔اس سورہ کا شان نزول جادوگروں کا شیطانی عمل نہیں ہے۔البتہ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر اگر ہوا بھی ہے تو بہت عارضی۔۔۔

بخاری و مسلم،ابن ماجہ کی متفق علیہ روایت کے یہ الفاظ:

«حتى اذا كان ذات يوم اوذات ليلة دعا رسول الله ﷺ ثم دعا ثم دعا»

اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کا کوئی اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت متخیلہ پر پڑا بھی تو وہ چند گھنٹوں سے زائد نہیں رہا۔جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ سمجھ لیا۔اور وقتی طور پر گھبرا گئے۔اس طرح کی کیفیات تھوڑی دیر تک طاری ہوجانا ،ناممکن نہیں ہوتا۔یہ کیفیات بطورامتحان بھی نبی کو پیش آسکتی ہیں ،لیکن ہوتی یہ وقتی اور عارضی ہیں۔تاکہ نبی کی عصمت مجروح نہ ہو۔

قرآن سید قطبؒ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر کی تردید کرتے ہیں۔اُن کے دلائل یوں ہیں کہ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے تو مشرکین کی بات درست ثابت ہوتی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت نبوت پر حرف آتا ہے۔اس واقعہ سے متعلق اکثر احادیث آحاد ہیں جبکہ عقیدے کے سلسلے میں تواتر شرط ہے۔مزید برآں یہ کہ معوذ تین مکہ میں نازل ہوئیں ،جبکہ واقعہ کا تعلق مدینہ سے بیان کیا جاتا ہے۔

فرماتے ہیں:۔

"وقدوردت روايات بعضها صحيح ولكنه غير متواتر... هذه الروايات تخالف اصل العصمة النبوية فى الفعل والتبليغ... واحاديث الاحاد لا يؤخذ بها فى امرالعقيدة.... والمرجع هو القرآن.... فضلا على ان نزول هاتين السورتين فى مكة هوالراجح ممايوهن أساس الرويات الاخرىٰ"

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اثر سحر!
تائیدی آراء

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرسحر کا واقعہ:

یہ واقعہ صلح حدیبیہ سن7 ہجری کے بعد پیش آیا۔کفار ومشرکین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہمیشہ اذیت کے سامان کرتے رہتے تھے۔میدان حرب وضرب میں مسلسل شکست کھانے کے بعد اُنھوں نے یہ نیا طریقہ دریافت کیا۔خیبر سے یہود کا ایک وفد لبید بن الاعصم کے پا س آیا۔یہ شخص انصار کے قبیلے بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا یا یہودی ہوگیا تھا۔یامنافق تھا ۔یہود نے اس کو لالچ دے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے لئے آمادہ کیا۔کیونکہ یہ ماہرجادوگر تھا۔اس شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم لڑکے کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک حاصل کرکے جادو کیا۔جس کے لئے موم میں سوئیاں اور دھاگے پر گرہیں لگائیں اور تر کھجور کے خوشے میں رکھ کر"ذروان" کے کنویں کی تہہ میں ڈال دیا۔اور اس دوران حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف محسوس فرماتے رہے جس کی وضاحت متعدد احادیث سے ہوتی ہے جو صحاح ستہ میں مختلف طرق سے روایت کی گئی ہیں۔

1۔طوالت سے بچنے کے لئے ہم صحیح بخاری میں ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بی بی عائشہ صدیقہ کی روایت پر اکتفا کرتے ہیں۔

«عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهْوَ عِنْدِي لَكِنَّهُ دَعَا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ فَقَالَ مَطْبُوبٌ‏.‏ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ‏.‏ قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ‏.‏ قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ‏"‏‏»

آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند اصحاب کو لے کر کنویں پر گئے اور جادو زدہ مواد کونکالا۔معوذتین پڑھتے جاتے اور گرہیں کھولتے اور سوئیاں نکالتے جاتے۔ساتھ ساتھ آپ کی صحت بھی بہتر ہوتی جاتی۔بعض روایات میں۔

«حتى كان يرى انه ياتى النساء ولا يأتيهن... قال سفيان هذا اشد ما يكون من السحر»

صاحب تفسیر القرطبی عبداللہ بن قاسم مولیٰ ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ لبید بن الاعصم کی بیٹیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر گیارہ گروہوں میں جادو کیا۔تو اللہ تعالیٰ نے معوذتین کی گیارہ آیتیں اتاریں۔

2۔امام فخر الدین رازی ؒ کے نزدیک سورۃ الفلق میں نفثت سے مراد لبید بن اعصم یہودی کی بیٹیاں ہیں۔جنھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا۔

3۔قتیبہ ابن کثیرؒ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو والی حدیث کو بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ جبرئیل امین ؑ تشریف لائے اور اللہ کے حکم سے اس تکلیف کا علاج تجویز کیا۔

"ثم عافاه الله تعالى وشفاه وردكيد السحرة الحساد من اليهود فى رؤسهم وجعل تدميرهم فى تدبيرهم"

صاحب کشاف ؒ فرماتے ہیں:

"قوله ولا تأثيرلذلك، مبق على مذهب المعتزلة من انه لا حقيقة للسحور ولا تاثيرله..... وذهب اهل السنة الى اثبات تأثيره لظاهر الكتاب والسنة"

معتزلہ جادو کے اثر کو تسلیم نہیں کرتے،البتہ اہل سنت کتاب وسنت کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر) جادو کے اثر کو تسلیم کرتے ہیں۔

4۔صاحب فتح القدیرؒ نے بھی تائید کی ہے۔

"قال ابوعبيدة النفثت هن بنات لبيدبن الاعصم اليهودى سحرالنبى"

یعنی نفثت سے مراد لبید بن اعصم کی وہ بیٹیاں مراد ہیں۔جنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا۔"جادو کا اثر بھی ثابت ہے:

«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَعُودُنِي فَقَالَ لِي ‏"‏ أَلاَ أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ جَاءَنِي بِهَا جِبْرَائِيلُ »

"آپ نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت فرمائی اور اُن کا وہی علاج فرمایا کہ جو حضرت جبرائیل ؑ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کیا تھا۔

5۔صاحب مواہن الرحمٰن کہتے ہیں:

"واضح ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں اس یہودی کے سحر کا کچھ اثر نہ ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے بہت سے امور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جاری کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو تعلیم دی۔جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے سفر میں سوگئے۔تاکہ اُمت کو مسائل معلوم ہوں۔

6۔مولانا اشرف علی تھانویؒ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر اور علاج کو معوذتین کا شان نزول قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

"حضرت جبرائیل ؑ امین سورتیں پڑھنے لگے ،ایک ایک آیت پر ایک ایک گرہ کھل گئی۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل شفا ہوگئی۔

7۔صاحب کشف الاسراء نے دو آراء نقل کی ہیں۔اُن کے نزدیک اگرچہ کچھ لوگوں نے سحر کو تسلیم نہیں کیا لیکن جمہور علماء ومفسرین کا مسلک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر کی نوعیت:

علامہ آلوسی ؒ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تاثیر سحر کو تسلیم کرتے ہیں۔قاضی عیاض ؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

"وقال القاضى عياض قدجاءت روايات حديث عائشة مبينة ان السحر انما تسلط على جسده الشريف وظواهر جوارحه لاعلى عقله وقلبه واعتقاده.... وكل ماجاء فى الروايات من انه عليه الصلوةوالسلام يخيل اليه فعل شئ ولم يفعله ونحوه فمحمول على التخيل بالبصر لا لخلل....تطرق الى العقل وليس فى ذلك ما يدخل لبسا على الرسالة ولا طعنا لاهل الضلالة.....ومذهب اهل السنة علماء الامة على اثباته"

قاضی عیاض ؒ حدیث ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کاتجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:جادو کا اثر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد مبارک اور اعضاء پر ہوا عقل ،قلب،اوراعتقاد پر نہیں ہوا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محسوسات میں جو تبدیلی ہوئی وہ محض نگاہوں تک محدود تھی۔اس سے مراد عقل میں خلل واقع ہونا ہرگز نہیں ہے۔اور اس سے منصب ر سالت پر اشتباہ یا گمراہ لوگوں کی طرف سے طعن کا پہلو نہیں نکلتا۔"

عبد الماجد ؒ دریا آبادی لکھتے ہیں:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سحر سے(جو مادیات ہی کی ایک قسم ہے) متاثر ہوجانا بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ذات الجنب سے ملیریا سے درر اعصاب سے متاثر ہوجانا اور اس میں منفی نوبت ہونے کا کوئی ادنیٰ پہلو بھی نہیں۔"

مفتی محمد شفیع مرحوم لکھتے ہیں:

"سحر کا اثر بھی اسباب طبیعہ کا اثر ہوتا ہے جیسے آگ سے جلنا یاگرم ہونا،پانی سے سر د ہونا،بعض اسباب طبیعہ سے بخارآجانا،یامختلف قسم کے درودامراض کا پیدا ہوجانا ایک امر طبعی ہے۔جس سے پیغمبر وانبیاءؑ مستثنیٰ نہیں ہوتے۔اسی طرح سحر وجادوکا اثر بھی اسی قسم سے ہے ،اس لئے کوئی بعید نہیں۔"

جادو کے اثرات اور نوعیت کے بارے میں صاحب ضیاء القرآن کا نقطہء نظر یوں ہے:

"جس طرح پاک کلام کے پاکیزہ اثرات ہوتے ہیں اسی طرح ابلیسی منتروں اور شیطانی طلسموں کے تکلیف دہ اثرات ہوتے ہیں۔سحر سے کسی چیز کی حقیقت بدلتی ہے یا نہیں؟لیکن اس میں کوئی شق نہیں۔کہ اس سے انسان نفسیاتی طور پر ضرور متاثر ہوتا ہے۔"

سید مودودی جادو کی حقیقت اور نوعیت کے بارے میں فرماتے ہیں:

"جادو سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی مگر انسان کانفس اور اُس کے حواس اُس سے متاثر ہوکر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ حقیقت تبدیل ہوگئی ہے۔"

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثرات کی نوعیت کی یوں وضاحت فرماتے ہیں:

"کسی کام کے کرنے کے بارے میں شبہ ،ازواج رضوان اللہ عنہما اجمعین کے پاس جانے میں شبہ،کسی چیز کے دیکھنے یا نہ دیکھنے کے بارے میں شبہ۔۔۔یہ تمام اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک محدود رہے حتیٰ کہ دوسرے لوگوں کو یہ تک نہ معلوم ہوسکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا گزر رہی ہے۔رہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی حیثیت ،تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض کے اندر کوئی خلل واقع نہ ہونے پایا۔کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اس زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی کوئی آیت بھول گئے ہوں۔یا کوئی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط پڑھ ڈالی ہو۔یا اپنی صحبتوں،اپنے وعظوں اور اپنے خطبوں میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق واقع ہوگیا ہو۔یا کوئی ایسا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی حیثیت سے پیش کردیا ہو جو فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہ ہوا ہو یا نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھوٹ گئی ہو۔اور اُس کے متعلق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیاہو کہ پڑھ لی ہے مگر نہ پڑھی ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت نبوت اس سے بالکل غیر متاثر رہی اور صرف اپنی ذاتی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ اسے محسوس کرکے پریشان ہوتے رہے ۔جادو کا اثر صرف ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا تھا۔نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بالکل غیر متاثر رہی۔"

خلاصہ بحث وتجزیہ:

مفسرین کرام نے عمل سحر کے اثرات کی مطلقاً نفی نہیں کی۔ہاروت وماروت کا جادو سکھانے کا واقعہ اور ساحرین فرعون کے جادو کے اثرات اثبات سحر کی نقلی دلیل ہیں۔

عقل وقیاس بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ کہ اگر انبیاء کرام ؑ کو زخم ،بیماری، اور بچھو کا کاٹنا تکلیف دے سکتا ہے۔تو جادو کے اثر سے جسمانی یا روحانی اذیت پہنچنا بھی ایسا ہی عمل ہے۔ساحرین فرعون کے عمل سحر سے دیگر لوگوں کی طرح حضرت موسیٰ ؑ پر بھی خوف پھینکو ،یہ سب کچھ نگل جائے گی۔

احمد مصطفےٰ المراغی،سید قطب شہیدؒ اور امین احسن اصلاحی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کو عصمت انبیاءؑ کےخلاف قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں جو احادیث ہیں وہ عام طور پر خبر آحاد ہیں۔لیکن انہی بزرگوں نے کسی حد تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ک اثرات کو درست بھی تسلیم کیاہے۔

سید قطب ؒ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کی روایات میں سے کچھ کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔تو اگر یہ متعدد روایات ہیں۔اور صحاح ستہ کی اکثر کتب میں مستند طور پر روایت کی گئی ہیں تو پھر ان کی صحت کوتسلیم کرنے سے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

محترم اصلاحی صاحب نے یہ تسلیم کیا ہے۔کہ انبیاء کرام ؑ پر جادو کے اثرات عارضی طور پر ہوسکتے ہیں۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ عام طور پر جو مفسرین کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کی نفی کرتے ہیں۔وہ اس کو یکسر رد نہیں کرتے۔

جہاں تک احادیث کے خبر احاد ہونے کا تعلق ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ خبر آحاد کو محض اس لئے رد نہیں کیاجاسکتا کہ اُن کی حیثیت خبرواحد کی ہے۔خبر واحد کو ان بزرگوں نے صحیح بھی قرار دیا ہے۔سب کی صحت پر اعتراض نہیں کیا۔جہاں تک عصمت انبیاءؑ کا تعلق ہے،وہ اس سحر کے اثر سے متاثر نہیں ہوتی۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثرات جسمانی وذاتی اور باطنی حد تک تھے ان اثرات کو صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی محسوس کررہے تھے۔کسی اور پر ہرگز ظاہر نہ ہوتے تھے۔البتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے تفصیل بیان کی اور کنویں میں موادسحر کو نکالاگیا تب اکثر لوگوں کو پتہ چلا۔

جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی وذہنی کرب وتکلیف محسوس فرماتے رہے لیکن کسی فریضہ کی ادائیگی میں کوئی کمی بیشی واقع نہ ہوئی۔

مفسرین کی اکثریت نے ان آیات کا یہ مفہوم لیا ہے،جو بزرگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کی نفی کی دلیل میں معوذتین کو مکی دور کی سورتیں قرار دیتے ہیں۔وہ یہ نہیں مانتے کہ ان سورتوں کا نزول مدینہ میں ہوا اگر یہ بات صحیح مان لی جائے۔تب بھی معوذتین کے ذریعے جادو کے علاج کی نفی نہیں کی جاسکتی۔تطبیق کی یہ صورت ممکن ہے۔یہ یہ سورتیں تو مکہ ہی میں نازل ہوئیں۔البتہ اس موقع پر جبرئیل امین ؑ نے اُن کو پڑھ کر جادو کے اثرات کو زائل کرنے اور علاج کے لئے رہنمائی فرمائی ہو۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ تمام انسانوں کے لئے نمونہ ہے چنانچہ اس طرح کے واقعات میں لوگوں کے لئے رہنمائی کا سامان ہے۔ایک بات یہ ثابت ہورہی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں اور جس طرح انسانوں کو اس طرح کی تکالیف پیش آجاتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آئی۔دوسری بات یہ کہ اگر جادو کے اثر سے ایسی ہی تکلیف کسی کو لاحق ہو تو وہ اس خفیہ شیطانی عمل کا علاج اللہ کے پاک کلام کے ذریعے کرسکتاہے۔والله اعلم بالصواب

المراجع۔1۔القرآن الحکیم

2۔ابن منظورجمال الدین لسان العرب نشر ادب الحوزہ ایران 1405ھ

3۔ابن کثیر عماد الدین الحافظ ۔تفسیرابن کثیر۔دارالقرآن بیروت ،1402ھ

4۔اصلاحی امین احسن۔تدبرقرآن۔فاران فاؤنڈیشن لاہور 1980ء

5۔ آلوسی محمودشکری سید۔روح المعانی ۔ادارہ طباعت منیریہ بیروت لبنان۔

6۔امیرعلی سید۔مواہب الرحمٰن الجامع البیان۔مطبع منشی نول کشور لکھنوء

7۔انصاری عبداللہ خواجہ۔کشف الاسرار۔شرکت چاپ بھمن طہران ،1380ھ

8۔بخاری محمد بن اسماعیلؒ ۔صحیح البخاری۔مصطفیٰ البالی الحلبی مصر 1345ھ

9۔محمد اشرف علی تھانوی۔بیان القرآن۔اشر ف الطابع دافع تھانہ بھون مظفر گڑھ ہند

10۔راغب اصفہانی حسین بن محمد۔المفردات فی غریب القرآن۔المطبعۃ المیمنیۃ القاہرہ۔124ھ

11۔فخر الدین رازیؒ ۔التفسیر الکبیر۔المطبعۃ البھیۃ المصریہ

12۔زمخشری محمود بن عمر۔تفسیر الکشاف۔درا لکتب العربی۔بیروت 1966ء

13۔سید قطب۔فی ظلال القرآن ۔مطبعۃ عیسیٰ البابی المجلسی مصر۔

14۔شوکانی محمد بن علی بن محمد۔فتح القدیر۔مطبع مصطفےٰ البابی المحلبی مصر

15۔عبدالماجد در یا آبادی۔تفسیر الماجدی۔تاج کمپنی لاہور ۔1950ء

16۔قرطبی محمد بن الاحمد الانصاری۔تفسیر القرطبی ۔دارالکتب العربی قاہرہ ۔1387ھ

17۔مودودی ابو اعلیٰ سید۔تفہیم القرآن۔ادارہ ترجمان القرآن لاہور۔1977ء

18۔محمد شفیع مفتی۔معارف القرآن۔ادارہ المعارف کراچی۔1976ء

19۔المراغی احمد مصطفےٰ ۔تفسیر المراغی۔مطبع مصطفےٰ البانی الحلبی مصر۔1365ھ۔

20۔محمد کرم شاہ پیر۔ضیاء القرآن۔ضیا ء القرآن پبلیکشنر لاہور۔1400ھ۔


حوالہ جات

1. لسان العرب جلد 4۔

2.تفسیر المراغی ،ص 174۔

3. الفردات فی غریب القرآن ،ص 226۔

4۔فی ظلال القرآن الجز العاشر ص 294۔

5۔الکشاف الجز الاول ص172۔173۔

6۔تفسیر المراغی الجز الثلاثون ص:268۔

7۔تدبر قرآن جلد ہشتم ص۔665۔666۔

8۔فی ظلال القرآن الجزء العاشر ص294۔

9۔صحیح بخاری الجز السابع ابواب الشرک والتمع ص16۔

10۔صحیح بخاری الجز السابع الباب الشرک السحر ص176۔

11۔تفسیر القرطبی الجز العشرون ص259۔

12۔التفسیر الکبیر الجز الثانی والثلاثون ص196۔

13۔تفسیر ابن کثیر الجزئ الثالث ص695۔

14۔تفسیر الکشاف الجزء الرابع ص821۔

15۔فتح القدیر الجز الخامس ص507۔

16۔مواہب الرحمٰن الجامع البیان ص 37۔

17۔بیان القرآن ص:125۔

18۔کشف الاسرار جلد دوم ص670۔

19۔روح المعانی الجزالثلاثون ص:281۔

20۔تفسیر الماجدی ص1215۔

21۔معارف القرآن جلد 5 ص 847۔

22۔ضیاء القرآن جلد پنجم ص731۔

23۔تفہیم القرآن جلد ششم ص344۔

24۔تفہیم القرآن جلد ششم ص343۔