الٰہی وہ بصیرت ویدہ دل کو عطا کردے
جو شب کو روز روشن آگہی کو رہنما کردے
مجھےکچھ اسطرح ساغر کشی صبر ورضا کردے
کہ غم ہر ناتوانی کو توانائی عطا کردے
رہوں محفوظ دشمن سے کروں میں دوست کی عزت
خدا دشمن سے واقف،آشنا سے آشنا کردے
ہر اک کادکھ مرا دکھ ہو،ہر ایک کا سکھ مرا سکھ ہو
مجھے یارب غم انسانیت میں مبتلا کردے
جب اہل حق پیام حق لئے میدان میں آجائیں
صدائے حق سے بزم کفر میں محشر بپا کردے
اسے پھر دولت دنیا سے کچھ اُلفت نہیں رہتی
جسے رب دو عالم دولت ایماں عطا کردے