قرآن کریم کی روشنی میں!

آج سے تقریباً چھ سال قبل شہید صدرضیاء الحق کے دور میں ،خواتین کی عدالتی شہادت کے موضوع پر دو گروہ خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے مقابل آگئے تھے۔ایک گروہ ان علمائے امت پر مشتمل تھا جن کا مؤقف یہ ہے کہ شہادت کے چار درجے ہیں،بعض میں عورت کی شہادت مقبول ہے اور بعض میں مقبول نہیں ہے۔اور جہاں مقبول ہے وہاں بھی بعض شرائط کی پابندی لازم ہے۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

پہلا درجہ:۔زنا اور بدکاری کے مقدمات۔ان میں چار مردوں کی شہادت معتبرہوگی عورتوں کی شہادت غیرمعتبر ہوگی۔

دوسرا درجہ:۔حدودقتل وقصاص کے مقدمات ۔ان میں بھی عورتوں کی شہادت قبول نہیں کیجاتی۔

تیسر ادرجہ:۔نکاح وطلاق کے مقدمات اور دیگر مالی مقدمات ان میں عورتوں کی شہادت اس طرح قبول کی جاتی ہے کہ ایک مرد کے ساتھ دو عورتیں ہوں،بشرط یہ کہ دو مرد گواہ میسر نہ ہوں۔

چوتھا درجہ:عورتوں کے مخصوص معاملات کے متعلق کوئی امر ہوتو اس میں تنہا عورتوں کی شہادت قبول کی جاتی ہے۔(مضمون مفت ولی حسن ٹونکی۔اخبار جسارت کراچی 25 مارچ 1983ء)

دوسرا گروہ ان تجدد پسند حضرات پر مشتمل تھا جن کی نمائندگی بلکہ قیادت ،جناب غلام احمد پرویز صاحب کررہے تھے۔ان کا مؤقف یہ ہے کہ:

کسی مقام پر بھی قرآن میں شہادت کے ضمن میں عورتوں یا مردوں میں تخصیص یا تفریق نہیں کی گئی۔قرآن نے صرف گواہ(شاہد) کہا ہے،خواہ وہ مرد ہوں خواہ عورتیں۔اس (قرآن) کی رُو سے شہادت کے لئے نہ جنس (sex) کی کوئی تخصیص ہے۔اور نہ شرط۔ایک مقام ایسا ہے جہاں"ایک مرد اوردو عورتوں" کا ذکر ہے۔اسے سمجھ لینے سے ساری بات واضح ہوجاتی ہے۔(اس کے بعد آیت 2/282 کی وضاحت کی گئی ہے ۔قاسمی) طلوع اسلام مارچ 1983ء)

فریق اول کا موقف یہ ہے کہ عورت کی عدالتی شہادت کا یہی مقام و مرتبہ اور یہی حیثیت اور پوزیشن ،قرآن وسنت تعامل صحابہ ،فقہائے ملت اور علماء امت کے نزدیک مسلم ہے۔عورت پر ہر معاملے میں نہیں بلکہ بعض معاملات میں ادائیگی شہادت کا بار ڈالاگیا ہے۔اپنے اس مؤقف پر وہ علماء فقہاء کے فتاویٰ کوتائید وحمایت میں پیش کرتے ہیں۔

فریق ثانی کا یہ دعویٰ ہے کہ عورت کو ازروئے قرآن،ہر معاملے میں شہادت کا حق حاصل ہے ۔اسے بعض معاملات میں حق شہادت سے محروم کرنا،عورت کی حق تلفی اور اس کی تذلیل وتحقیر ہے۔رہیں وہ آراء وفتاویٰ جو اُمت مسلمہ کے جید علماء وفقہاء نے پیش کی ہیں تو ان کے متعلق ان کا فرمان ہے کہ:

1۔"یہ قوانین ہمارے دور ملوکیت میں اس زمانے میں وضع ہوئے تھے، جب عورتیں مویشیوں کی طرح منڈی میں نیلام ہوا کرتی تھیں۔"(طلوع اسلام مارچ 1983ء)

2۔"ہمارے قوانین شریعت 'مردوں" کے بنائے ہوئے ہیں اس لئے ان میں مردوں کو ہر حال میں بالا دست رکھا گیا ہے اور عورت بیچاری کو کچل دیا گیا ہے۔"(طاہرہ کے نام ص21)

3۔چونکہ یہ قوانین اس ماحول میں بنے تھے جس میں عدل کی بجائے استبداد کا دور دورہ تھا۔اور عورت کو بنگاہ نفرت دیکھا جاتا تھا اس لئے ان قوانین وتصورات کی رو سے عورت کی حیثیت مغلوب ومحکوم اور حقیر وذلیل سی قرار پاگئیں۔یہ قوانین ہمارے دور ملوکیت کی پیدا وار ہیں۔"(طاہرہ کے نام ص24)

4۔"ان قوانین میں احترام آدمیت کے آثار ونقوش ڈھونڈنا اورعورت کے صحیح مقام کی تلاش کرنا اپنے آپ کو فریب دینا ہے۔ان قوانین کی تائید وجواز میں اس قسم کی روایات وضع کرلی گئیں۔کہ عورت ناقصل العقل ہوتی ہے۔یہ آدمی کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔اس لئے پسلی کی ہڈی کی طرح ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی اگر اسے سیدھی کرنے کی کوشش کی جائے گی،تو ٹوٹ جائے گی،لیکن سیدھی نہیں ہوگی جس قوم کے امور زندگی میں عورت کی رائے کو دخل ہوگا وہ قوم تباہ ہوجائے گی۔طاہرہ کے نام ص25۔

ان اقتباسات سے یہ ظاہر ہے۔ کہ فریق ثانی کے نزدیک یہ جملہ قوانین۔جن میں شہادت نسواں کا یہ زیر بحث قانون بھی شامل ہے۔دور ظلم واستبداد میں مردوں کے ہاتھوں وضع ہوئے تھے۔احادیث رسول تو پرویز صاحب اور ان کے مقلدین کے نزدیک حجت شرعیہ نہیں،اسی لئے صرف قرآن ہی قابل حجت ماخذ قانون رہ جاتا ہے۔لہذا مسائل کی چھان پھٹک میں ،ان کے نزدیک وہی واحد میعار ہے جبکہ اول الذکر گروہ کے نزدیک قابل حجت صرف قرآن ہی نہیں بلکہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے۔ماخذ قانون کے بارے میں دونوں گروہوں کے اس اختلاف نے یہ فرق پیدا کردیا ہے کہ ہر مسئلےکو طے کرنے کےلئے جداگانہ زاویہ نگاہ اور متغائر نقطہ آغاذ مقرر ہوگئے ہیں۔یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ نقطہء آغاذ اور زوایہ نگاہ کے اختلاف کے باوجود ایک مسئلہ بھی ہے جس پر دونوں گروہ قطعی متفق اور متحد ہیں اور ہے معاشرتی اورتمدنی زندگی میں عورت کے دائرہ کار کا مسئلہ دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں۔کہ عورت کادائرہ کار بہرحال گھر کی چار دیواری ہے۔اسلام نے درون خانہ کی جملہ ذمہ داریاں مثلاً افزائش نسل،پرورش اولاد،تربیت ذریت،بچوں کی نگرانی وپرداخت،امورخانہ،اور گھریلو واجبات کی ادائیگی وغیرہ عورت کے فرائض میں شامل کی ہیں اور برون خانہ ذمہ داریاں مثلاً روزی کمانے کی دوڑدھوپ،اہل خانہ کے لئے نان ونفقہ کی ادائیگی اور رہائش کے لئے سکنی کا بندوبست وغیرہ سب مرد کے ذمے ہے۔اس مسئلے پر چونکہ فریق اول کا مؤقف سب کے علم میں ہے۔اس لئے اسے یہاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ فریق ثانی کامؤقف سب کے علم میں ہے۔اس لئے اسے یہاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ فریق ثانی کا مؤقف چونکہ اکثر لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہے۔اس لئے ہم پرویز صاحب کی درج ذیل اقتباس پیش کئے دیتے ہیں۔

1۔'فطری تقسیم کار کی رو سے عورت کے ذمہ اولاد کی پیدائش (حمل) پرورش اور ابتدائی تربیت ہے،ان فرائض کی انجام دہی میں اس کااتنا وقت اور توانائی صرف ہوجاتی ہے کہ وہ حصول معاش کے قابل نہیں رہ سکتی۔۔۔یہاں تقسیم عمل ہے کچھ کام مرد کررہا ہے اورکچھ عورت کررہی ہے۔"(طاہرہ کے نام ص178)

2۔"قرآن کی رو سے مرد اور عورت کے فرائض زندگی میں تقسیم عمل کا اصول کارفرما ہے،مرد کے ذمہ اکتساب رزق،(حصول معاش) کا فریضہ عائد کیا گیا ہے۔اور عورت کے ذمہ اولاد کی پرورش اور تربیت کا فریضہ۔اب ظاہر ہے کہ ان فرائض کی ادائیگی کے لئے مرد کا میدان عمل معمولاً گھر سے باہر ہے اور عورت کا دائرہ عمل معمولاً گھر کے اندر۔"(طاہرہ کے نام ص200)

اب ظاہر ہے کہ جب اسلام کا عمومی مزاج یہ ہے کہ وہ مردوں اور عورتوں دونوں کے علیحدہ علیحدہ دائرہ ہائے کا ر کاتعین کردیتا ہے۔اموربیرون خانہ کی سرانجام دہی مرد کے ذمہ قرار دیتا ہے اور گھریلو معاملات کی سر انجام دہی عورت کا فریضہ قرار پاتا ہے تو تمدن کا مفاد اسی میں ہے۔کہ ہر صنف بشر اپنے اپنے میدان عمل میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کوپورا کرے۔یہ ایک فطری تقسیم کار ہے جس کے خلاف ورزی خود فطرت کے خلاف اعلان جنگ ہے اور فطرت کبھی ا پنے مد مقابل سے شکست نہیں کھایا کرتی۔اس نظام کائنات میں خلاف فطرت کسی عمل کے پنپ جانے کی گنجائش نہیں ہے۔

آیت 2/282 کی وضاحت:

مردوزن کی فطری تقسیم کار کا یہ تقاضا ہے کہ ہم قرآنی آیات کی تشریح وتوضیح کرتے ہوئے ایسی تعبیر اختیار کریں جو اول تو کسی ایک صنف کو دوسری صنف کے دائرہ عمل میں دخیل نہ بننے دے ثانیاً اگر کسی ایک کادوسرے کے دائرہ کار میں در آنا ناگزیر ہوتو اس مداخلت کو کم از کم اور ناگزیر حد تک محدود رکھا جائے۔

آئیے،اب اسی اصول کی روشنی میں شہادت نسواں سے متعلقہ آیت 2/282 کا مطالعہ کریں۔

﴿ وَاستَشهِدوا شَهيدَينِ مِن رِ‌جالِكُم فَإِن لَم يَكونا رَ‌جُلَينِ فَرَ‌جُلٌ وَامرَ‌أَتانِ مِمَّن تَر‌ضَونَ مِنَ الشُّهَداءِ أَن تَضِلَّ إِحدىٰهُما فَتُذَكِّرَ‌ إِحدىٰهُمَا الأُخر‌ىٰ... ﴿٢٨٢﴾... سورة البقرة

(معاشی لین دین میں) اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ بنالو،اگر دو آدمی نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتوں کو اپنے پسندیدہ گواہوں میں سے لوتاکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو د وسری اسے یاد دلادے۔

اس آیت میں چند باتیں بالکل واضح ہیں۔

اولاً۔یہ کہ قرآن نے مردوں میں سے دو گواہوں کا ہونا ضروری قرار دیا ہے یہ بات بالکل واضح ہے کہ عدالتوں میں گواہی کا فریضہ ادا کرنا،امور حیات کی فطری تقسیم کے مطابق مرد کے ذمے ہے اور ویسے بھی لین دین کا یہ مالی مسئلہ ،مردوں ہی کے شعبہ تصرف کا معاملہ ہے اس لئے مردوں کا اس شعبہ میں گواہ قرار پانا ایک فطری امر ہے۔

ثانیاً۔یہ کہ قرآن کے الفاظ﴿ فَإِن لَم يَكونا رَ‌جُلَينِ ﴾(اگر دو مرد نہ ہوں تو۔۔۔) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کتاب اللہ کے نزدیک اول وآخر مطلوب گواہ صرف مرد ہی ہیں۔لیکن اگر وہ میسر نہ آسکیں تو﴿ فَرَ‌جُلٌ وَامرَ‌أَتانِ ﴾ (تو ایک مرداورعورتیں۔۔۔) آخری چارہ کار کے طور پرگواہ بنا لئے جائیں،قرآن کا یہ انداز صاف طور پر واضح کرتا ہے۔کہ "ایک مرد اور دو عورتوں " کی شہادت،دو مردوں "کی عدم موجودگی ہی میں اخیتار کی جاسکتی ہے۔شہادت کا پہلا نصاب(یعنی دو مرد) اور دوسرا نصاب (یعنی ایک مرد اور دو خواتین) ایک دوسرے کاد وطرفہ قائم مقام نہیں بن سکتے کہ جب چاہا کسی ایک نصاب کی جگہ،دوسرے کو اختیار کریا۔یہ تو قطعاً ممکن نہیں کہ پہلے نصاب کو دوسرے نصاب کا قائم مقام قرار دیا جائے۔البتہ یہ ممکن ہے کہ پہلے نصاب کی عدم موجودگی میں دوسرا نصاب اس کامتبادل قرار پائے بالکل اسی طرح،جس طرح وضو!تیمم کامتبادل نہیں ہوسکتا،البتہ تیمم بصورت عدم موجودگی آب«فان لم تجدوا ماء» وضو کامتبادل اور قائم مقام بن سکتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ مجبوری حالات کا نیتجہ ہے۔

ثالثاً۔۔۔یہ کہ پہلے نصاب کی جگہ دوسرا نصاب شہادت بیان کرتے ہوئے قرآن یہ نہیں کہتا کہ﴿ فَإِن لَم يَكونا رَ‌جُلَينِ فَرَ‌جُلٌ وَامرَ‌أَتانِ ﴾ (اگر دو مرد نہ ہوں تو دو عورتیں گواہ بنالی جائیں) اگر قرآن ایسا کہہ دیتا تو مردوزن کی یکساں شہادت بالکل واضح ہوجاتی ،کسی قسم کااشتباہ باقی نہ رہتا اور مردوزن کی شہادت کا مساوی مقام ومرتبہ قرار پاجاتا،مگر اس احکم الحاکمین اور خالق عقل وحکمت نے فرمایا تو یہ فرمایا کہ۔"اگر دو مرد نہ ہوں تو اپنے پسندیدہ گواہوں میں سے ایک مرد اور دو عورتوں کوگواہ قرار دے لو۔اب ظاہر ہے کہ زبان سے بے شک یہ نہ کہا جائے کہ۔"دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے۔"لیکن قرآنی انداز بیان یہی حقیقت پیش کرتا ہے۔

رابعاً۔۔۔یہ کہ اس معاشی مسئلے میں ،جو سرا سر مرد کے دائرہ عمل سے متعلق سے قرآن نے یہ قطعاً گوارا نہیں کیا کہ پہلے یا دوسرے نصاب کے طور پر تنہا عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے،اللہ چاہتا تو یوں بھی فرماسکتا تھا کہ﴿وَاستَشهِدوا شَاهِدَينِ مِن نِسَاءِكُمْ﴾(یعنی اپنی خواتین میں سے دو عورتوں کوگواہ بنا لو) اور نہ ہی قرآن نے دوسرے نصاب کے طور پر،مردوں کی جگہ،نری عورتوں ہی کو گواہ بنانا پسند کیا،بلکہ یہ حکم دیا کہ۔"ایک مرد اور دو عورتوں کوگواہ بنالو۔"یہ طرز بیان واضح کرتا ہے کہ مردوں کے دائرہ کار میں تنہا عورتوں کی گواہی کو مقرر کرنا،اسلامی معاشرت میں قطعی ناپسندیدہ امرہے۔اگر یہ جائز اور پسندیدہ ہوتا تو قرآن کا انداز بیان یہ نہ ہوتا۔

خامساً۔۔۔یہ کہ عورتوں کی شہادت کے ضمن میں قرآن کے یہ الفاظ قابل ظور ہیں۔"اگر دو مرد نہ ہوں تو اپنے پسندیدہ گواہوں میں سے ایک مرد اور دوعورتوں کو گواہ بنالیا جائے۔تاکہ اگر عورت بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلادے۔"ان الفاظ سے یہ واضح ہے کہ قرآن ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کو گواہ قرار دیتا ہے یہ حقیقت چونکہ پرویز صاحب کو قابل قبوہ نہ تھی،اس لئے انھوں نے یہاں یہ فرمایا کہ:

قرآن کریم نے دو عورتوں کے سلسلہ میں یہ نہیں کہا کہ ان دونوں کی شہادت یکے بعد دیگرے لی جائے تاکہ وہ دو شہادات مل کر ایک مرد کی شہادت کے برابر ہوجائیں،کہا یہ ہے کہ:

﴿ أَن تَضِلَّ إِحدىٰهُما فَتُذَكِّرَ‌ إِحدىٰهُمَا الأُخر‌ىٰ﴾

"اگر ایسا ہو کہ ان میں سے گواہی دینے والی کو گھبراہٹ کی وجہ سے کہیں الجھاؤ پیدا ہوجائے تو اس کے ساتھ کھڑی اس کی دوسری بہن اسے یاد دلادے۔"اس سے ظاہر ہے کہ اگر شہادت دینے والی کو گھبراہٹ لاحق نہ ہوتو د وسری عورت کو دخل اندازی کا موقع ہی نہیں آئے گا اور اس میں اکیلی شہادت کافی قرار پائے گی۔"(طاہرہ کے نامص67)

یہ ایک بے جا قسم کی سخن سازی ہے قرآن کو آخر یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ دو عورتوں کی شہادت کو یکے بعددیگرے لیا جائے۔تاکہ یہ دونوں شہادتیں مل کر ایک مرد کی شہادت کے برابر ہوجائیں جبکہ وہ واضح اور غیر مبہم الفاظ ہیں ایک مرد کی جگہ دوعورتوں کو گواہ قرار دیتا ہے ہم نہیں سمجھتے کہ دو مردوں کی جگہ﴿ فَرَ‌جُلٌ وَامرَ‌أَتانِ ﴾ کوطے کردینے کے بعد قرآن کو ایسی فرضی جزئیات کو بیان کردینے کی کوئی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مقلدین پرویز"اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو اپنے پسندیدہ افراد میں سے گواہ بنا لو،کے واضح دو ٹوک اور قطعی الفاظ کے مفہوم ومنطق کوتو تسلیم نہیں کرتے۔لیکن محض اس مفروضے پر کہ،"دو عورتوں کی شہادت کو یکے بعد دیگرے لینے کا ذکر نہیں ہے۔"قرآن کریم سے مفہوم معکوس برآمد کررہے ہیں۔﴿إِنَّ هـٰذا لَشَىءٌ عُجابٌ ﴿٥﴾ ... سورة ص

اگر بالفرض پہلی عورت کو گھبراہٹ نہ بھی لاحق ہو اور دوسری عورت کو مداخلت کا موقع نہ بھی ملے تو بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک مرد کے مساوی ایک عورت کی گواہی طے ہوچکی ہے۔دو عورتوں کو ایک مرد کی جگہ بطور گواہ طے کردینے کے بعد،اگر دوعورتیں عدالت میں حاضر ہوجاتی ہیں۔اور ایک عورت بیان دیتی ہے۔اور دوسری خاتون سکوت اختیار کئے رہتی ہے،تو دوسری کا یہ سکوت ،پہلی عورت کے بیان کے ساتھ رضا مندی کی دلیل ہوگا،ایک عورت کے شہادتی بیان اور دوسری عورت کے سکوت کے نتیجہ میں جوشہادت ادا ہوگی وہ دونوں کی طرف سے ہی ہوگی،اسے صرف ایک عورت کی طرف سے شہادت قرار دینا ایک سعی لاحاصل ہے۔

در اصل جناب پرویز صاحب نے پہلے سے یہ طے کر رکھا تھا کہ قرآن سے بہرحال مردوزن کی شہادت میں مساوات کو ثابت کرکے رہنا ہے،اس کوشش میں اگر ان کے سامنے پہاڑ کی سی وزنی دلیل بھی آجاتی تو وہ اسے تاویل وتحریف کے ڈائنا مائیٹ سے اڑا دینے کے درپے ہوجایا کرتے تھے۔لیکن اپنے خود ساختہ مفروضوں کو بنیاد پررائی کے برابر بھی کوئی دلیل گھڑی جاسکتی تو وہ اسے پہاڑ بنا کر پیش کیا کرتے تھے ،کیامقلدین پرویز،آیت زیر بحث کے ان دو پہلوؤں پر غور فرمائیں گے؟

(الف)۔۔۔"اگر ایک عورت الجھ جائے (یا بھول جائے) تو دوسری عورت اسے یاد دلاوے"اس آیت میں "تذکیر' کا فریضہ دوسری عورت ہی پر کیوں عائد کیا گیا ہے جبکہ وہ عورت بھی مقدمے کی جزئیات کو پوری صحت کے ساتھ بیان نہیں کرسکتی؟ان دونوں عورتوں کے ساتھ ایک مرد بھی تو موجود ہے،"تذکیر"کا فرض اسے کیوں نہیں سونپا گیا؟۔اگر شہادت مرد اور عورت میں مساوات ہوتی تو قرآن دو مرد گواہوں کی عدم موجودگی میں ،ایک مرد اور ایک عورت کو بھی متبادل نصاب شہادت کی صورت میں پیش کرسکتا تھا۔اس طرح ایک عورت کے ساتھ آنے والا مرد،"تذکیر"کا یہ فریضہ بھی سر انجام دےسکتا تھا۔لیکن قرآن نے ایک مرد گواہ کے ساتھ ایک کی بجائے دو عورتوں کوگواہ قراردیا اور پھر "تذکیر" کا فریضہ بھی انہی دو عورتوں میں سے ایک پرعائد کیا اور وہ بھی ایک مرد گواہ کی موجودگی میں۔آخر یہ کیوں؟

اگر قلب وذہن میں پہلے سے کوئی نظریہ انسان راسخ نہ کربیٹھا ہوتو تنہا یہی چیز اس بات کے لئے کافی دلیل ہے کہ دو عورتوں کی شہادت کو (خواہ وہ ان میں سے ایک عورت کی شہادت اور دوسری کے سکوت پر مبنی ہو یا ایک طرف سے شہادت میں الجھن یانسان اور دوسری کی طرف سے"تذکیر" پر مبنی ہو)ایک مرد کی شہادت کے برابر تسلیم کرلیا جائے۔

(ب)﴿ أَن تَضِلَّ إِحدىٰهُما فَتُذَكِّرَ‌ إِحدىٰهُمَا الأُخر‌ىٰ ﴾"جناب پرویز صاحب ان الفاظ کا ترجمہ یوں کیا کرتے تھے۔اگر ایسا ہو کہ ان میں سے گواہی دینے والی کوگھبراہٹ کی وجہ سے کہیں الجھاؤ پیدا ہوجائے تو اس کے ساتھ اس کی دوسری بہن اسے یاد دلادے۔"یہ بامحاورہ ترجمہ ہے جس میں آیت کا مفہوم کماحقہ ادا نہیں ہوپایا،اگر محض یہ کہنا مقصود ہوتاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔تو آیت کے الفاظ یوں ہوتے﴿ أَن تَضِلَّ إِحدىٰهُما فَتُذَكِّرَ‌ إِحدىٰهُمَا الأُخر‌ىٰ ﴾ اس صورت میں لفظ ﴿إِحدىٰهُمَا﴾ کے تکرار کی کوئی ضرورت نہ تھی سوا ل یہ ہے کہ﴿إِحدىٰهُمَا﴾ کا یہ تکرار واعادہ کیوں ہے؟ترجمہ پرویز میں تکرار کی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ تک نہیں پایا جاتا۔ہم یہ خوب سمجھتے ہیں کہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ میں ایسی لفظی پابندیوں کا خیال نہیں رکھاجاتا۔لیکن الفاظ قرآن پر غور کرتے ہوئے ایسی تکرار الفاظ سے سرسری طور پر گزارا بھی نہیں جاسکتا۔بہرحال قرآن میں الفاظ کی یہ تکرار بے معنیٰ نہیں ہے۔ترجمہ کرتے ہوئے اس تکرار کو پیش نظر رکھا جائے تو الفاظ کی ترتیب کچھ اس طرح ہوگی۔"اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھول جائے تو دونوں میں سے کوئی ایک اسے یاد دلادے۔"اگر دوران شہادت،ایک عورت الجھ سکتی ہے تودوران تذکیر"دوسری عورت بھی تو الجھ سکتی ہے کیونکہ بفوائے قرآن،عورت جب تک عورت ہے وہ باہمی خصومات کے دوران دلائل کی فراہمی میں (اوربقول پرویز صاحب اور ڈاکٹر ہارڈنگ) جزئیات کو صحت کے ساتھ ادا کرنے میں غیر واضح اورمبہم رہ جاتی ہے۔(یہ بحث آگے آرہی ہے ) اسلئے اگر پہلی عورت کی شہادت کے دوران پیدا ہونے والی الجھن کو دووسری عورت "تذکیر" کے ذریعہ صاف کرتی ہے۔تو دوسری عورت کو "تذکیر" کے دورن کوئی اور الجھن لاحق ہوجاتی ہے تو اسے ظاہر ہے کہ پہلی عورت ہی زائل کرے گی۔اس طرح تذکیر وتبیین کی چھلنی سے چھن کر دونوں کی شہادت واضح سے واضح تر اور بین سے بین تر بنتی چلی جائے گی۔اس طرح"ان دونوں میں سے ہر ایک"ادائے شہادت کافریضہ انجام دے گی اور نسیان یا الجھن کی صورت میں "دونوں میں سے ہر ایک "تذکیر کا فریضہ ادا کرے گی۔کیا یہ صورتحال ،دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کی شہادت کے برابر قرار نہیں دیتی؟حققیت یہ ہے کہ اگر قلب وذہن پر خارجی نظریات مستولی نہ ہوں تو سیدھی بات تیر کی طرح ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور کوئی الجھن باقی نہیں رہتی لیکن کیا کیا جائے۔
تری ہر ادا میں بل ہے تری ہر نگاہ میں الجھن!
میری آرزو میں لیکن کوئی پیچ ہے،نہ خم ہے

سادساً۔۔۔یہ کہ قرآن نے پہلے نصاب شہادت کی جگہ،متبادل نصاب شہادت کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کوبطور گواہ شامل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ﴿أَن تَضِلَّ إِحدىٰهُما فَتُذَكِّرَ‌ إِحدىٰهُمَا الأُخر‌ىٰ﴾ اس قطعہ آیت میں ﴿ أَن تَضِلَّ ﴾ کاترجمہ علماء امت کی طرف سے عام طور پر"بھول جانا"کیاگیا ہے لیکن پرویز صاحب نے اس عام ترجمہ سے ہٹ کر ایک دوسرا ترجمہ کیا ہے جو ان کی درج زیل عبار ت سے واضح ہے۔

عام طور پر اس آیت کے معنی یہ لئے جاتے ہیں کہ دو عورتوں کی اس لئے ضرورت ہے کہ ان میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے لیکن قرآن نے تضل کالفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی نسیان( بھول جانے) سے مختلف ہیں اس کی بنیادی معنیٰ ہیں "بات کا مبہم یا غیر واضح سا ہوجانا،ذہن میں الجھاؤ سا پیدا ہوجانا۔"(طاہرہ کے نام ص61)

ہمیں اس سے بحث نہیں کہ "تضل" کامعنیٰ"الجھن میں پڑ جانا" ہے یا بھول جانا" ہے آپ جو بھی ترجمہ کریں،اس قطعہ آیت سے بہرحال دو باتیں بالکل واضح ہیں۔

عورت کی ذہنی منقصت :

1۔عورت کے ذہن ،دماغ یا عقل میں کوئی ایسی کمزوری (نقص) ضرور ہے جس کی بناء پراس کے ذہن میں الجھاؤ پیدا ہوجاتا ہے۔گفتگوء نزاع کے دوران بات غیر واضح اور مبہم سی رہ جاتی ہے یا اسے نسیان لاحق ہوجاتا ہے یہاں تک کہ عدالت کے کٹہرے میں اس کی تلافی کے لئے "تذکیر" پیش نظر،ایک اور عورت کو اس کے ساتھ گواہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اگر ایک بھول جائے یا الجھ جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔

2۔عورت کے ذہن کی یہ منقصت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ایک خاص ماحول کو پیدا کردہ ہو کہاگر اسے بدل کر کوئی دوسرا ماحول طاری کردیا جائے۔تو یہ خامی یا نقص معدوم ہوجائے بلکہ یہ عورت کی فطرت ،ساخت یا نفسیات میں داخل ہے۔اگر یہ محض ایک عارضی خامی ہوتی تو قرآن جو قیامت تک کےلیے صحیفہ قانون اور کتاب آئین کی حیثیت رکھتا ہے اسے یہ اہمیت نہ دیتا کہ رہتی دنیا تک اسے اپنے دامن محفوظ کرلیتا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ کمزوری اور منقصت کیا ہے؟موجودہ ترقی یافتہ دور میں جہاں عورتیں مغربی تہذیب میں ترقی کی راہ پر مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں۔آیا کسی محقق نے ٹھوس علم کی بنیاد پر عورت کی کسی ایسی کمزوری کا ذکر کیا ہے جواب یہ ہے!"جی ہاں!ایک نہیں بلکہ مغرب کے کئی علماء نے تحقیق وتفشییش کے بعد کھلے لفظوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔

عورت کی ذہنی منقصت پر علماء مغرب کی تحقیقی شہادت

اس موضوع پر موجودہ سائنس کی تحقیقات ملاحظہ فرمایئے ایک مغربی محقق BAUER کی یہ تحقیق ہے:

" WE ARE AGAIN AND AGAIN FORCED TO ADMIT THAT A WOMAN IN NOT IN A POSITION TO JUDGE OBJETIIOVELY, WITHOUT BEING INFLUENCED BY HER EMOTIONS."

"ہم اپنے آپ کو بار بار مجبور پاتے ہیں۔ کہ اس حقیقت کااعتراف کریں کہ عورت کبھی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ جذبات سے مغلوب ہوئے بغیر کسی معاملے میں واقعیت پسندانہ فیصلہ کرسکے۔"

مغرب کی یہ تحقیق عورت کی منصفانہ صلاحیتوں کو واضح کردیتی ہے فیصلہ کرتے ہوئے اس کا جذبات سے متاثر(بلکہ مغلوب) ہوجانا اورواقعیت پسندانہ فیصلہ نہ کرپاسکنا۔اس کی ایک ایسی فطری کمزوری ہے جس کی بناء پر اسے عدالت کا جج بنانا دور حاضر کی علمی تحقیقات کے بھی خلاف ہے،علاوہ ازیں عورت کی اس کمزوری کو اگر ان دوسری کمزوریوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے،جو مامہواری ،حمل، اوررضاعت کے سلسلے میں اس پر عارضی ہوتی ہیں تو اس کی فطری کمزوری کی شدت میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ماہواری حمل اوررضاعت کے دوران ،عورت ،صحت اورتندرستی کی نسبت،بیماری اور علالت سے قریب تر ہوتی ہے اس عرصے میں اس کے ذہن،مزاج،عادات،قوت کی کارکردگی،اور طبعیت پر جو منفی اثرات پڑتے ہیں۔وہ علم طب کی کسی بھی کتاب کے مطالعے سے بآسانی معلوم ہوسکتے ہیں،یہ اس مسئلے کا عملی اور تحقیق پہلو ہے۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی روشنی میں جو معاشرہ تعمیر فرمایا تھا اس میں پورے جزیرہ عرب میں پھیلی ہوئی وسیع سلطنت میں کسی مقام پر بھی عورت کو عہد ہ قضاۃ عطا نہیں کیاگیا، خلفائے راشدین کے عہد مبارک میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اب کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ خدا،رسول،اورخلفائے راشدین سب غاصب تھے۔(نعوذ باللہ) جنھوں نے عورت کے اس حق کو سلب کئے رکھا؟ایک مسلمان ہونے کے اعتبار سے مثالی ریاست IDEAL STATE وہ تھی۔جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یا وہ مغربی ریاستیں ،جن کی عملی روایات ،ان کی اپنی علمی تحقیقات کے خلاف ہیں؟ ہرشخص خود سوچ لے مغرب کا ایک ممتاز سکالر"شوپنہار" SCHOPENHAUER کہتا ہے:

IN A COURT OF JUSTICE. WOMAN ARE MORE OF THEN FOUND GUILTY OF PERJURY THAN MEN,IT IS INDEED TO BE GENERALLY QUESTIONQ" WHETHER THEY BHOULD BE ALLOWED TO TAKE ANOATH ATALL

ترجمہ۔"انصاف کی عدالتوں میں ،عورتیں ،مردوں کی نسبت ،اکثر اوقات جھوٹی قسمیں کھانے کی مجرم پائی گئی ہیں۔یہاں تک کہ اب(ان کے متعلق کچھ اور سوال کرنے کی نسبت) یہ استفسار کرنا چاہیے کہ عدالتوں میں آیا ان سے حلف بھی چاہیے؟ ایک اورجدید محقق ہیولاک ایلس HAVELOCKELLIS اپنی کتاب WOMAN AND MAN میں لکھتا ہے:

IN WOMAN, DECEPTION IS ALMOST PHYSIONOGICAL ...THE SAME FACT IS MORE COARSELY AND UNGRACI.OUSLY STATED IN THE PROVEROS OF MANY NATIONS, AND IN SOME COUNTRIES, IT HAS LED TO THE LEGAL TESTIMONY OF WOMEN BEING PLACED ON A LOWEP FOOTING THAN THAT OF MEN. P:196

ترجمہ:

"عورت میں چکمہ دینے کی عادت ،ایک طبیعاتی حقیقت ہے جسے نا ملائم الفاظ اور بے رحمانہ انداز میں تقریباً ہر قوم کی ضرب المثل میں بیان کیا جاتا ہے اور بعض ممالک میں تو عورت کی شہادت کو ،قانونی طور پر مرد کی شہادت سے کمتر درجے پر رکھا جاتا ہے۔"

دورحاضر کے دو محقق علماء لمبروسو LOMBROOSE اور فیرورو FERRERO کی رائے،ایک تیسرے عالم لیوڈو وسی LUDOVICI نے اپنی کتاب WOMAN میں اس طرح پیش کی ہے:

LOMBROOSE AND FERRERO ACTUALLY REGARD DECEPTION AS BEING "PHYSIOLOGICAL" IN WOMAN ...THE EDIDENCE OF PROFOUND PSYCHOLOGISTS, THE SUBSTANCE OF MY THIS ,THE CONTENTS OF NATIONNALL PROVERBS, THE PERSONAL EXPERIENCE, IN SHORT, OF ALL THOSE ,WHO HAVE LEARNT TO KNOW WOMAN GENERATION AFTER GENERATIION, ALL POINT TO THISCONCLLSION, THAT THERE IS A CERTAIN DUP. LICITY AND UNSCRUPUL OUSNESS IN THEIRNATURE,(WOMAN "P 280)

ترجمہ:

"لمبروسو اورفیرورو ،حیلہ گری کو عورت کی ایک طبیعاتی (حقیقت) قرار دیتے ہیں۔۔۔علم نفسیات کے معتبر علماء کی شہادتیں ،کہاوتی مواد،قومی ضرب المثلوں کے مندرجات،ذاتی تجربات،قصہء مختصر ،اور ہر وہ گروہ افراد،جو عورت کو نسل در نسل سمجھنے اورپرکھنے میں مصروف رہے ان میں سے ہر شخص اور ہر چیز نے یہ اشارہ کیا ہے کہ عورت کی فطرت میں دور خاپن اور بے احتیاطی پائی جاتی ہے۔"

اسی کتاب کے ایک اور مقام پر یہ اقتباس بھی موجود ہے:

THE FACT ,THAT WOMEN ARE DIFFICULTY TODEAL WITH UNDER CORSS .EXAMINATION ,IS WELL KNOWN AMONG LAW YERS AND THEIR SKILL IN DRAWING RED.HERRING ACROSS THE PATH OF ANY ENQUIRY, DIRECTED AGAINST THE MSELVES, MAKE THEMSTUBBORN AND EVASIVE WITNESSESATALL TIMES, WHENTHEY HAVE ANYTHING TOCONCEAL( WOMAN ,P:220)

ترجمہ؛۔

وکلاء اس حقیقت سے واقف ہیں کہ خواتین سے عدالتی جرح کے مرحلے میں عہد برآہونامشکل کام ہے۔اپنے خلاف ہونے والی عدالتی تحقیقات میں خلط مبحث میں الجھا دینے میں ان کی پُرکاری انہیں ہمیشہ ضدی اور پُر پیچ گواہ بنا دیتی ہے۔بالخصوص جبکہ وہ کچھ چھپانا چاہتی ہوں۔

اس سلسلے میں ایک مغربی مفکر کی کتاب PSYCHOLOGY OF SUGGESTION کے صفحہ 363 کا مطالعہ کچھ نئی تحقیقات کے اور نتائج پیش کرتا ہے۔

یہ آراء مشرق کے کسی "جاہل" شخص کی نہیں ہیں بلکہ مغرب کے جید علماء ومحققین کی آراء ہیں۔ماضی کے "تاریک دور" کے نہیں بلکہ حال کے "روشن دور" کے انکشافات ہیں ۔یہ کسی گذرے ہوئے"دور استبداد" کے نظریات نہیں ہیں جس میں مرد ،عورت پر بالا تر تھا بلکہ اس "دور عدل" انصاف" کی تحقیقات ہیں جس میں مرد اور عورت مساوی المرتبہ ہیں۔

پیروی اسلاف یا تقلید مغرب؟

یہ ان علماء محققین کی تازہ ترین تحقیقات ہیں۔جن کی ذہنی غلامی سے ہمارے قلب واذہان ،سیاسی آزادی پالینے کے باوجود بھی آزاد نہیں ہوئے۔
وطن تو آزاد ہوچکا ہے دماغ ودل ہیں غلام اب بھی
پئے ہوئے ہیں شرابِ غفلت یہاں خواص وعوام اب بھی

اگر علم قدیم سے وابستہ افراد،اسلاف صالحین کی پیروی کرتے ہیں تو ہمارا مغرب زدہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ انہیں،اندھے مقلد" اور لکیر کافقیر "گردانتا ہے۔حالانکہ ان حضرات کا اپنا یہ حال ہے کہ مغرب کے اصول وقوانین کی اندھی پیروی اور کورا نہ تقلید میں یہ لوگ،ان سے بھی چار قدم آگے ہیں۔مغرب سے آواز آتی ہے۔قربانی ایک وحشی رسم ہے"یہ حضرات فرماتے ہیں کہ:

"ہمارے دین میں تو "قربانی" ہے ہی نہیں ،یہ تو "ملاں" کی ایجاد ہے۔وہاں سے پردے کی مخالفت میں آواز اٹھتی ہے تو یہ برخوردان سعادتمند ارشاد فرماتے ہیں۔"اجی ،پردہ کا؟ یہ تو "مولویوں" کی اختراع ہے ہمارے ہاں تو صرف شرم وحیا کی تعلیم ہے۔"اُدھر سے "قید خانہ" سے رہائی پانے کے لئے اشارہ ہوتا ہے۔تو یہاں کی کچھ "لیڈیاں" خواتین پر ترس کھاتی ہوئی"آزادی نسواں" کی تحریک چلانے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ادھر سے ڈاروینی کی ارتقاء کی صدا بلند ہوتی ہے۔تو یہاں کے متجد دین اسے "قرآنی دریافت ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں۔وہاں سے لینن اور کارل مارکس سوشلزم اور کمیونزم کی ایجاد کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں تو یہاں کے "مفکرین"اس لادینی نظام معیشت کو قرآن سے کشید کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں تاکہ اسے "مشرف باسلام" کہاجاسکے۔وہاں عورت حیا سوز شبینہ محفلوں کی زینت بنتی ہیں تو یہاں پہنچ کر یہ بے حیائی آرٹ اور ثقافت کا خوش نما ملبوس پہن لیتی ہے۔اس طرح یہ مغرب زدہ طبقہ وہاں سے آنے والی ہر روایت اورقد کوذہنی مرعوبیت کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ قبول کرنا:ہے اور یہاں اسے اپنی دینی اور ملی اقدار ،دریا برد کرنے کے قابل نظر آتی ہیں۔ذہنی غلامی اور فکری محکومیت کا اب یہ حال ہوگیا ہے کہ آج عالم اسلام کابڑے سے بڑا مسلم سکالر خواہ کتنی ہی معقول بات کہے تو وہ ان لوگوں کی نگاہ میں چنداں لائق التفات نہیں ٹھہرتی اور مغرب کی طرف سے خواہ کتنی ہی لچر باتی کہی جائے اسے سائنٹفک حقیقت کے نام سے ایمان واعتقاد کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔اسلامی فکرکے مقابلے میں مغربی نظریات کو شرف تقدم بخشنے کی اس روش کا اب یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ اگر بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمادی تو اس کو ماننے سے صاف انکارکردیا لیکن اگر وہی بات کسی مغربی مفکر نے کہہ ڈالی تو اسے ایک بلند پایہ علمی دریافت کا نام دے ڈالا۔
دل نہ چاہے تو رسالت کا بھی ارشاد غلط
من کو بھا جائے تو بھانڈوں کی خرافات بجا

1۔عورت کی عقل میں ایک کمی (نقص ) ہے۔

2۔عورت کسی مسئلہ کی جزئیات کو پوری طرح صحت کے ساتھ بیان نہیں کرسکتی۔

ان دونوں جملوں کوپڑھ کر ایک طفل مکتب بھی یہ جان لیتا ہے کہ دونوں جملوں میں ایک ہی بات کو بیان کیا گیا ہے۔پہلے جملے میں اگر عقل کی کسی کمی (نقص) کا ذکر ہے۔تو دوسرے جملے میں اس "کمی" (نقص) کی وضاحت اور نشاندہی کی گئی ہے پہلے جملے میں جس حقیقت کی طرف اجمالی اشارہ ہے دوسرے جملے میں اسی کی "تفصیل' ہے۔

جوشخص اس "تفصیل"(دوسرے جملے) کو مانتا ہے وہ اس تفصیل کے "اجمال(پہلے جملے) کا انکار کر ہی نہیں سکتا۔لین ہمارے ہاں کے "قرانی نظام' ربوبیت کے علمبردار پہلے جملے کی جس شدت سے تردید وتکذیب کرتے ہیں دوسرے جملے کی اسی شدت سے تائید وتصدیق کرتے ہیں۔
ع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شعور وفکر کی یہ کافری! معاذ اللہ

پہلا جملہ زبان وحی ترجمان سے نکلا ہے اور روایت ودرایت کی شدید ترین کسوٹی پر پرکھے جانے کے بعد"امام بخاری ؒ کی"جامع صحیح' میں ثبت ہوگیا ہے۔اس جملے کا انکار کرڈالا لیکن دوسرے جملےکو (جو ایک مغربی مفکر ڈاکٹر ہارڈنگ کی قلم تحقیق سے برآمد ہوا ہے) بلند پایہ تحقیق جدید کا نام دے کر قبول کرلیا۔ان ہذا لشئی عجاب۔
کسی کی شام بھی رشک سحر ہے سنتے ہیں
ہماری صبح بھی صورت طرازشام ہوئی

ملاحظہ فرمائیے،جناب پرویز صاحب کیا ارشاد فرماتے ہیں۔

مردوں اور عورتوں کی اس طبعی ساخت اور نفسیاتی اختلاف کے اثرات ونتائج کیا ہوتے ہیں؟اس کے متعلق مغرب کے علمائے نفسیات بہت کچھ تحقیق کررہے ہیں۔اس ضمن میں ڈاکٹر ہارڈنگ M.ESTHER HARDING نے ایک دلچسپ کتاب لکھی ہے۔جس کا نام ہے THE WAY OF ALL WOMEN جہاں تک اس نقطے کاتعلق ہے جو اس وقت ہمارے زیر نظر ہے وہ اس میں لکھتا ہے کہ۔

اگر مردوں کو انسان کے باہمی تعلقات HUMAN RELATIONSHIP کے مسائل سے متعلق کام پر لگایا جائے تو یہ کام ان کے لئے کبھی خوش آئند نہیں ہوتا لیکن عورتیں ایسے کام بہت پسند کرتی ہیں۔عورتوں کے لئے مشکل مقام وہ ہوتا ہے جہاں ان سے کہا جائے کہ کسی مسئلہ کے جزئیات کو پوری صحت کے ساتھ ACCURATELY بیان DEFINE کریں۔

یہ کیوں ہوتاہے؟ اس کے متعلق تو شاید ابھی حتمی طور پر کچھ نہ کہا جاسکے لیکن ڈاکٹر ہارڈنگ کا بیان ہے کہ یہ وہ خصوصیت ہے جسے اس نے متعدد عملی مثالوں کے بعد عام طور پر عورتوں میں مشترک پایا ہے۔

اگر یہ تحقیق صحیح ہے تو آپ دیکھئے،کہ قرآن نے اس کی کس قدر رعایت رکھی ہے مقدمات میں ہمیشہ جزئیات پر بحث وتنقید اورجرح وتنقیح ہوتی ہے،مقدمہ کی جزئیات کو پوری صحت کے ساتھ ACCURATELY بیان DEFINE نہ کرسکنے کی وجہ ہی سے شہادت خراب ہوتی ہے۔اور شہادت کی توثیق کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس قسم کے باریک اختلافات کی صحت ہوجائے،عورتوں میں ایک تو وہ نفسیاتی کمی ہوگی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے دوسرے یہ کہ ان فرائض کی سر انجام دہی میں مصروفیت کے باعث جوعورتوں سے مخصوص ہیں۔ان کے لئے مردوں کے مقابلے میں معاملات میں حصہ لینے کے مواقع بھی کم ہوتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ متنازعہ فیہ معاملات (مقدمات) میں جہاں بال کی کھال نکالی جائے گی عورت بالعموم جزئیات کی صراحت میں غیر واضح رہ جائے گی۔"(طاہرہ کے نام )

ملاحظہ فرمائیے! پرویز صاحب نے عورت کی اس کمزوری کو کہ"وہ مقدمات کی جزئیات کو پوری صحت کے ساتھ ACCURRTELY بیان DEFINE نہیں کرسکتی اور ایسا نہ کرپاسکنے کی وجہ سے ہی شہادت خراب ہوتی ہے کس خوبصورتی سے مان لیا ہے اور وہ بھی محض ا س لئے کہ ڈاکٹر ہارڈنگ نے جو تہذیب غالب کا فرزند ہے اسے پیش کیا ہے ،یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ عورت کی یہ وہ کمزوری ہے جسے اس ماہر نفسیات نے متعدد عملی مثالوں کے بعد عام طور پر عورتوں میں مشترک پایا ہے۔

بہرحال،مقدمات کی جزئیات میں عورت کا الجھ جانا ،اظہار مدعا میں غیر واضح سارہ جانا بھول جانا،ذہن کا ماؤف ہوجانا فروعات کی صراحت نہ کر پاسکتا۔یہ سب کچھ عورت کی طبعی ساخت میں داخل ہے۔اگراسے عدالت میں شہادت کے لئے طلب کیا جائے تو وہ بحث وتنقید اورجرح وتنقیح کا سامنا نہ کرپائے گی،مقدمہ خراب ہوجائےگا اور فیصلہ نتیجہ تک نہ پہنچ پائے گا،عورت کی ان ذہنی کمزوریوں کا خود پرویز صاحب کو بھی اعتراف تھا جیسا کہ ان کے پیش کردہ اقتباس سے ظاہر ہے۔

ایک قرآنی شہادت:

دورحاضر کے ان علمی انکشافات کے بعد اب خالق ارض وسموات کا بیان بھی ملاحظہ فرمایئے،سورہ زخرف میں قرآن ،مشرکین عرب کو جو خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کیا کرتے تھے خطاب کرتے ہوئے یوں کہتا ہے کہ تم اس کی مخلوق کو خدا کی وہ "بیٹی' قرار دیتے ہو۔۔۔

﴿ أَوَمَن يُنَشَّؤُا۟ فِى الحِليَةِ وَهُوَ فِى الخِصامِ غَيرُ‌ مُبينٍ ﴿١٨﴾... سورةالزخرف

جس کی پرورش زیورات میں ہوتی ہے اور جو نزاعی امور میں ا پنے اظہار مدعا میں بھی غیر واضح رہتی ہے۔

اس آیت میں قرآن نے عورتوں کے متعلق ،دو حقیقتوں کو بیان فرمایا ہے۔

اولاً۔۔۔یہ کہ وہ زیورات میں پرورش پاتی ہے یہ اس کے ذوق آرائش کی طرف اشارہ ہے۔

ثانیاً۔۔۔یہ کہ وہ نزاعی امور (فی الخصام) میں اپنے مافی الضمیر کے اظہار میں غیر واضح اور مبہم رہ جاتی ہے۔

یہ دونوں باتیں ،عورت کی طبعی ساخت اور نفسیات میں داخل ہیں ان میں سے کسی ایک بات کو ماننا اور دوسری کو تسلیم نہ کرنا ایک غلط طرز عمل یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ عورت کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ وہ عام رو ز مرہ گفتگو میں "غیر مبین"رہ جاتی ہے بلکہ اس کی یہ خصو صیت صرف نزاعی امور اور مخاصمانہ صورتحال تک ہی محدود ہے رہیں اس کی تعلیمی وعلمی صلاحتیں ،ا سے کسی کو انکار نہیں،خود اسلام نے ان عورتوں کی ان صلاحیتوں کے پش نظر انہیں حصول علم کی ترغیب دی ہے۔اسلامی تاریخ عورتوں کی ان صلاحیتوں کے پیش نظر انہیں حصول علم کی ترغیب دی ہے۔اسلامی تاریخ عورتوں کے علم وفضل کے کارناموں سے بھری پڑی ہے کتنی ہی عورتیں ایسی گزری ہیں جو اپنے اپنے وقت میں آسمان علم وادب کے درخشاں ستارے بن کر نمودار ہوئیں۔عورت کی علمی صلاحیتوں کا بیان اس وقت ہمارے دائرہ بحث سے خارج ہے۔اس وقت جو چیز ہمارے زیر سخن ہے۔وہ یہ ہے کہ ان تمام علمی استعدادت کے باوجود ،عورت کی ساخت اور نفسیات میں ایک ایسی کمزوری پائی جاتی ہے جس کی بنیاد پر وہ متنازعہ فیہ امور (مقدمات وغیرہ) میں جزئیات کی صراحت نہ کرسکنے کے باعث اپنے بیان اور اظہار مدعا میں غیرواضح رہ جاتی ہے۔اور یہ ایک ایسی کمزوری ہے جس سے کسی دور کی عورت بھی خالی نہیں ہے،ڈاکٹر ہارڈنگ نے یہ تحقیق صدیوں پہلے کسی تاریک دور کی جاہل عورتوں پر نہیں کی تھی بلکہ آج کی تعلیم یافتہ عورتوں پر ہی کی تھی۔اور موصوف نے اس کمزوری کو کہ "عورت جزئیات پوری صحت کے ساتھ بیان نہیں کرسکتی۔"عام طور پر خواتین میں مشترک پایا ہے اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کمزوری اور خصوصیت کسی خاص ماحول اورمعاشرے کی پیداوار ہے جسے اگر بدل دیا جائے تو اس کی کمزوری کا استیصال ہوجائے۔یہ چیز بہرحال عورت کی طبیعات اور نفسیات میں داخل ہے جسے خارجی تدابیر سے منحرف PERVERT تو کیا جاسکتا ہے مگر فنا EXTINCT نہیں کیا جاسکتا۔

بہرحال عورت کی یہ ایسی کمزوری ہے جسے خود قرآن بھی بیان کرتا ہے۔اس کمزوری کا ذکر عورت کی کوئی توہین یا تذلیل نہیں ہے۔بلکہ ایک امر واقعی کا اظہار ہے۔عورت کی یہ کمزوری اس دنیا کی حد تک محدود ہے۔ آخرت کی زندگی میں جبکہ زمین وآسمان کا نظام ہی اور قسم کا ہوگا اور وہاں:

﴿ يَومَ تُبَدَّلُ الأَر‌ضُ غَيرَ‌ الأَر‌ضِ وَالسَّمـٰو‌ٰتُ...﴿٤٨﴾... سورة ابراهيم

کے تحت نظام کائنات ہی بدل جائےگا۔عورتوں کی نشاۃ جدیدہ﴿ إِنّا أَنشَأنـٰهُنَّ إِنشاءً ﴿٣٥﴾... سورة الواقعة" کے تحت جو نئی خوبیاں میسر آئیں گی ان میں سے ایک خوبی عرباً کے لفظ میں واضح کی گئی ہے اگرچہ عرباً کا معنیٰ مفہوم"شوہروں کی دلدادہ اور ان کی محبوب نظر بیویاں" بھی ہے۔لیکن اپنے مادے کے اعتبار سے اس میں"فصیح الکلام صاف اورواضح کلام کرنے والی خواتین" کا مفہوم بھی شامل ہے۔ جو اس دنیا میں پائے جانے والے نقص کی عدم موجودگی پر دلالت کرتاہے۔جسے "غیر مبین"کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔

جدیدتحقیق:

سورہ زخرف کی اس آیت کے تحت مولانا عبدالماجددریا آبادی مرحوم،محققین مغرب کی جدید تحقیقاتی کاوشوں کے ثمرات ونتائج کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

WOMAN IS ADMITTEDLY WEKER IN LOGIC THAN THE MALE, AND BECAUSE HEER "OPINION" IS PARTLY INSTINCTIVE FEELINGS AND PARTLY IMMEDIATA REACTIONS TO THE MOMENT ARY SITUATION, SHE CANNOT EOTUAL MAN IN ENUMERATING AGRUMENTS AND ORUGFS IN SUPPORT O HER VIEWS.HER WAY OF THINKINGISWHAT WEDESCRIBE AS INTUITIVE."

ترجمہ:۔

"یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عورت استدلال واستنباط میں مرد سے کمزور تر واقع ہوئی ہے۔اور چونکہ ا س کی رائے کسی حد تک جبلی احساسات کے تحت اور کسی حد تک آناً فاناً پیدا ہونے والی صورتحال کے ر د عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اس لئے وہ اپنے نقطہء نظر کی وضاحت اور حمایت کے لئے دلائل اور ثبوت کی فراہمی میں مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس کا طرز عمل وہی ہے جسے ہم"وجدانی" طرز عمل قرار دیتے ہیں۔"(یعنی وہ دلیل وبرہان پر نہیں بلکہ دل میں آنے والے خیالات پر سوچ بچار کی بنیاد رکھتی ہے)(ماخوذ انگریزی تفسیر قرآن مولانا عبدالماجد دریا آبادی مرحوم) دور جدید کی یہ تحقیق جس کے مطابق عورت قوت استدلال اور ملکہ استنباط میں مرد سے کمزور تر واقع ہوئی ہے۔اس بات کو واضح کردیتی ہے کہ عورت کا کرسی عدالت پر براجمان ہونا درست نہیں ہے پھر اگر اس ذہنی منقصت کے ساتھ علالت کے وہ آثار بھی جمع ہوجائیں جو عورت کے فطری وضائف حیات حمل،رضاعت،اور ماہواری کا لازمی نتیجہ ہیں تو عدالت وانصاف کی دنیا درہم برہم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔لیکن جناب پرویز صاحب ،نہ صرف یہ کہ عورت کوکرسی عدالت پر بٹھانے کی کوشش میں عمر بھر مصروف رہے بلکہ وہ اسے سربراہ مملکت بنانے کے لئے بھی قرآن سے دن رات دلائل کشید کرتے نہیں تھکتے تھے۔اور ساتھ ہی عورت کی کمزوریوں کا اعتراف بھی کرتے جاتے تھے۔اور یہ بھی شور مچائے جاتے تھے کہ فطری تقسیم کار کے مطابق عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ یہ سب کچھ "تعلیمات قرآن" کے مطابق کیا جاتا رہا ہے۔

اس بحث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کی ان فطری کمزوریوں کے ساتھ اسے گواہ کی حیثیت سے یا قاضی وعدالت کی حیثیت سے ایوان انصاف میں لانا نہ صرف یہ کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔بلکہ دور جدید کی علمی تحقیقات کے بھی خلاف ہے۔

مغرب کی اندھی تقلید کے کرشمے:

دور حاضر کی جدید تحقیقات ،عورت کی عدالتی شہادت کو آج وہی مقام ومرتبہ دے رہی ہیں جو خود اسلام نے چودہ سو سال قبل عطا کیاتھا ۔لیکن ہمارے یہاں کے جدید طبقے کے ذہنوں پر مغرب کی اندھی تقلید کے باعث ایسا جمود وتعطل طاری ہوگیا ہے۔کہ اگر وہاں سے کوئی غلط بات بھی صادر ہوجائے تو اسے "وحی" قرار دے کر ہاتھوں ہاتھ لے لیا جاتا ہے۔اور مسائل حیات کے حل کےلئے پوری مقلدانہ سعادت مندی کے ساتھ انہی نسخوں کو یہاں آزما ڈالا جاتا ہے۔جو دراصل یہاں کے لئے بنائے ہی نہیں گئے تھے۔اہل مغرب دور حاضر کی غالب تہذیب کے علمبردار ہونے کی حیثیت سے اپنے مجوزہ نسخوں کو مجتہدانہ بصیرت سے برتتے ہیں،حسب ضرورت ان میں ترمیم بھی کرلیتے ہیں،لیکن یہاں کے مقلد تو ایسے کورے چشم واقع ہوئے ہیں کہ اپنے وطن ماحول،حالات،الغرض ہرچیز سے آنکھیں بند کرتے ہوئے مریض کی آخری ہچکی تک وہی نسخہ استعمال کرتے رہیں گے۔الا یہ کہ خود ہیں سے نسخہ کی ترمیم کی کوئی اطلاع آجائے لیکن بعض ضدی قسم کے عطائیوں کا تو یہ حال ہے کہ جس غلط بات کو ایک مرتبہ تقلید یورپ میں اختیار کرلیا ہو اُسے پھر دانتوں سے پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔بعدازیں،اب اگر وہاں کے مفکرین کی تحقیقات میں بھی و ہ غلط قرار پاگئی تو بھی مقلدین اس کی تردید وتکذیب پر آمادہ نہیں ہوتے ﴿ فَما كانوا لِيُؤمِنوا بِما كَذَّبوا مِن قَبلُ...﴿١٠١﴾... سورة الاعراف" ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب کی پیروی میں یہ لوگ جس گمراہی کو بھی اختیار کریں گے قرآن ہی سے "برآمد" کرکے اختیار کریں گے گویا قرآن سے انہیں ایسی محبت ہے کہ اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔مغربی آقاؤں کی پیروی میں یہ لوگ ضلالت کے جس گڑھے میں لڑھکیں گے قرآن کو بھی ساتھ لڑھکائیں گے۔﴿ وَهُم يَحسَبونَ أَنَّهُم يُحسِنونَ صُنعًا ﴿١٠٤﴾... سورةالكهف
ہوئے کس درجہ فقہیان حرم بے توفیق
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں

ہماری یہ بحث،معاشی امور میں خواتین کی عدالتی شہادت کی پوزیشن کو واضح کردیتی ہے بالفاظ دیگر (ابتداء مضمون میں فقہاء کے قائم کردہ ) شہادت کے چار درجوں میں سے ہم صرف ایک درجہ پر جو مالی مقدمات پر مشتمل ہے بحث کرچکے ہیں۔بقیہ تین درجوں میں سے دو درجے جن میں سے ایک درجہ خواتین کے مخصوص معاملات پر ان کی گواہی سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا درجہ قتل وقصاص کی شہادت سے متعلقہ ہے) قرآن کی کسی نص پر مبنی نہیں ہیں۔البتہ تیسرا درجہ جو مقدمات زنا وغیرہ کی عدالتی شہادت سے تعلق رکھتاہے اس پر اب بحث کی جاتی ہے۔

مقدمات زنا اور شہادت نسواں:

مقدمات زنا میں پرویز صاحب اور ان کے مقلدین کا مؤقف یہ ہے کہ قرآن کریم نے صرف چار گواہوں کا ذکر کیا ہے۔قطع نظر اس سے کہ وہ مرد ہوں یا مؤنث ،لہذا﴿اَرْبَعَةَ شُهَدَاء﴾ کے مفہوم میں مرد یاعورت دونوں گواہ بن سکتے ہیں۔بشرط یہ کہ ان کی تعداد چار ہو،جبکہ فقہاء امت آغاذ اسلام سے لے کر آج تک یہ کہہ رہے ہیں کہ ان امور میں چاروں گواہوں کا مرد ہونا ضروری ہے۔ عورتوں کی گواہی غیر مقبول ہے۔یہ ہے وہ اختلاف جو زیر بحث مسئلہ میں دونوں فریقوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔میں نے جہاں تک غور کیا ہےمجھے فقہاء امت کے رائے ہی اقرب الی القرآن محسوس ہوئی ہے کیوں؟اس لئے کہ قرآن پاک میں چار گواہوں کا ذکر سب سے پہلے جس آیت میں نازل ہوا ہے وہ سورہ نساء کی آیت 15 ہے۔اس کے بعد سورہ نور کی آیات میں اربعۃ شہداء"کا ذکر آیا جو بعد میں نازل ہوئیں۔ان آیات میں مذکور اسلامی قانون شہادت کی اصل بنیاد اسی آیت پر ہے جو سب سے پہلے "چارگواہوں" کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ اب اصل میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن پا ک کی "چارگواہوں"سے متعلق سب سے پہلی آیت میں مردگواہ مراد ہیں۔(جیسا کہ جمہور فقہاء کہتے ہیں) یا مرد وعورت دونوں اصناف بشر؟ (جیسا کہ پرویز صاحب کا مؤقف ہے)اس اختلاف کے قطعی فیصلے کےلئے الفاظ قرآن کی طرف رجوع کیجئے۔

﴿ وَالّـٰتى يَأتينَ الفـٰحِشَةَ مِن نِسائِكُم فَاستَشهِدوا عَلَيهِنَّ أَر‌بَعَةً مِنكُم... ﴿١٥﴾... سورةالنساء

"جو عورتیں خواتین میں سے بے حیائی کا ارتکاب کریں ان پر اپنے میں سے چار ۔۔۔کوگواہ بنالو۔'

اس آیت میں ﴿نِسَاءَكُمْ﴾ مرکب اضافی ہے جس میں نساء (خواتین) مضاف ہے۔اور ﴿كُمْ﴾ کی ضمیر مجاف الیہ ہے،اب یہ ظاہر ہے کہ جملہ افراد صنف مؤنث لفظ ﴿نِسَاءَ﴾ (خواتین) میں داخل ہیں،جس کے نتیجے میں باقی افراد ،جو صنف مذکر ہی کے افراد ہیں،ضمیر "کُم" کے تحت آجاتے ہیں،اس طرح نساء(خواتین) کے بالمقابل "کُم" کی ضمیر میں جو لوگ مراد ہیں وہ خالصتاً مرد حضرات ہی میں لہذا ﴿نِسَاءَكُمْ﴾ اور ﴿مِنْكُمْ﴾ دونوں میں موجود ﴿كُمْ﴾کی ضمیر مردوں ہی کے لئے خاص ہے ،اگر جمع مذکر حاضر کی یہ ضمیر خواتین وحضرات دونوں کے لئے عام اور مشترک بھی ہو،تب بھی ﴿نِسَاءَكُمْ﴾ (تمہاری خواتین) کے مرکب اضافی نے اس عموم واشتراک کو توڑ کر عورتوں کو لفظ"نساء" میں اور مردوں کو ضمیر "﴿كُمْ﴾" میں مخصوص ومحصور کردیا ہے۔لہذا جب قرآن یہ کہتا ہے کہ﴿فَاستَشهِدوا عَلَيهِنَّ أَر‌بَعَةً مِنكُم﴾ ان عورتوں پر اپنے میں سے﴿ مِنْكُمْ ﴾ چار کوگواہ بنالو)تو اس میں چار مردوں ہی کو گواہ بنا لینے کا حکم پایا جاتا ہے ۔اب اگر یہاں ﴿ أَر‌بَعَةً مِنكُم﴾ سے مراد مرد گواہ ہیں تو سورہ نور کی آیات (جو اسی آیت پر مبنی ہیں ) میں بھی ﴿أَر‌بَعَةَ شُهَدَاءَ﴾ سے مراد "مرد گواہ" ہی ہیں۔

علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ چونکہ خواتین کا دائرہ کار گھر کی دنیا تک محدود ہے۔اس لئے اسے بیرون خانہ کے مشاغل میں مصروف کرنا اور عدالتی سرگرمیوں میں ملوث کرنا ،خواہ اسے اس کے فطری مستقر سے اکھاڑ پھینکنے کے مترادف ہے۔ اور بیرون خانہ کی دنیا چونکہ مرد کے دائرہ کار میں شامل ہے۔اس لئے وہی اس قابل ہے کہ ایسے مقدمات ومعاملات میں بطور گواہ ا پنا کردار ادا کرے۔بعض اسثنائی صورتوں میں جبکہ جائے وقوع پر فقط خواتین ہی موجود ہوں وہ گواہ قرار پاسکتی ہے لیکن یہ بہرحال مجبوری حالات ہی کا نتیجہ ہے اسلام کا عام قانون نہیں ہے،اسلامی قانون شہادت یہی ہے کہ زنا وقذف کی حدود میں مرد ہی گواہ بن کر عدالتی امور کو نپٹائیں،اور خواتین ،ورون خانہ رہ کر تمدن کی خدمت کرتی رہیں۔
حوالہ جات

1.تنہا عورتوں کی شہادت اس وقت بھی قابل قبول ہے جبکہ جائے وقوعہ پر اتفاق سے کوئی مرد موجود نہ ہو اور محض عورتیں ہی واقعہ کی تنہا گواہ ہوں اس پر امت کا اجماع ہے۔

2.بخاری کتاب الحائض باب ترک الحائض الصوم۔حدیث باعتبار روایت صحیح ہے باعتبار وروایت وحقائق اس کی کیا پوزیشن ہے ؟اس کے لئے قدرے انتظار فرمائیے۔

3. آدمؑ کی پسلی سے عورت کی پیدائش کی حدیث سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔پرویز صاحب نے بہرحال حوالہ نہیں دیا البتہ'مطلق پسلی" سے تخلیق عورت کا ذکر موجود ہے۔اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ اس کی طبیعت میں کجی یا خامی ہے وہ کیا ہے؟تفصیل بحث آگے آرہی ہے۔