خلاصہ مضامینِ قرآنی

مرتب: مولانا ملک عبدالرؤف

نظر ثانی: حافظ نذر احمد

ناشر: پاک مسلم اکادمی، الفضل مارکیٹ، اردو بازار لاہور

صفحات: چار سو

قیمت: تینتیس (33) روپے

قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اور رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کی ہدیت اسی کتاب الہی سے وابستہ ہے۔ اس ایمان و یقین کے تحت قرآن کی تعلیم و تفہیم کے لیے جو اقدام بھی کیا جائے، لائقِ صد تحسین ہے۔ قرآن حکیم کے انڈکس ہوں یا مختلف زبانوں میں اس کے تراجم، اس کے مضامین پر مبنی کتابچے ہوں یا چارٹ، اس کی تفاسیر لکھی جائیں یا خلاصے تیار کئے جائیں، ہر کام مفید ہے۔

نماز تراویح میں مسلمان کم از کم سال میں ایک بار قرآن سن لیتے ہیں۔ اگر وہ زبانِ قرآن سے واقف ہیں تو تذکیر کا حق ادا ہو جاتا ہے مگر عربی زبان سے ناواقف لوگوں کے لیے قرآنی مطالب ان کی زبان میں بیان ہوں تو فائدہ بڑھ جاتا ہے۔

مولانا ملک عبدالرؤف نے اسی ضرورت کے تحت "خلاصہ مطالبِ قرآن" کیا ہے، جس سے خاطر خواہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ اور جسے اب زیرِ نظر کتاب کی صورت میں افادہ عام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ مولانا موصوف عربی زبان و ادب پر عبور رکھتے ہیں، ثقہ عالمِ دین میں اور ان کی عمر کا ایک حصہ علوم اسلامیہ کی تدریس میں بسر ہوا ہے چنانچہ ان کی زیر نظر کاوش میں ان کے علم و تجربہ کی جھلک موجود ہے۔

جناب حافظ نذر احمد نے کتاب پر نظرثانی کی ہے اور ترتیب و تدوین میں مزید حسن پیدا کیا ہے۔ ہر رکوع کا خلاصہ آٹھ تا سولہ سطروں میں بیان کیا گیا ہے اور ہر رکوع کے مضامین کے لحاظ سے مناسب عنوان تجویز کیا گیا ہے۔ زبان سادہ اور رواں ہے جس سے کم تعلیم یافتہ افراد اور طلبہ بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔

مؤطا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ (مترجم)

مؤلف: امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ

مترجم: حافظ نذر احمد

نشر: پاک مسلم اکادمی، الفضل مارکیٹ، اردو بازار لاہور

سائز 20*30/8

صفحات: 584

قیمت: اٹھاسی روپے

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ (1792ھ) بن انس کی تصنیفات میں "مؤطا' کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی، جو فقہی ضروریات کے لیے احادیثِ نبوی کا پہلا مرتب و مدون مجموعہ تھا۔ مؤطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ہی میں پورے عالمِ اسلام میں مشہور ہو گیا تھا۔ زمانہ جس قدر گزرتا گیا، اس کی شہرت میں اضافہ ہوتا رہا اور اہل علم نے اس کی طرف زیادہ رجوع کیا۔امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے تقریبا ایک ہزار افراد نے مؤطا کی روایت کی ہے، مگر زمانے کے ہاتھوں بچ جانے والی روایتیں سولہ (16) ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کے سولہ (16) ایڈیشن ملتے ہیں۔ ان میں سے چار روایتیں زیادہ اہم اور متداول ہیں۔ انہی میں سے ایک امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت (نسخہ) ہے۔

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کو تین سال تک امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنے نسخے میں بہت سے آثار و روایات اور مسائل، امام مالک ط کے علاوہ دوسرے حضرات سے نقل کیے ہیں۔ اس لیے مجازا اس نسخے کو امام محمد رحمۃ اللہ علیہ ہی کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ موطا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ بارہا زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئی۔برصغیر میں غالبا پہلی بار 1262ھ میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت بھی کراچی اور لاہور کے مطبوعہ متن دستیاب ہیں، تاہم اردو دان حلقہ کے لیے اس کے سلیس اردو دان ترجمہ کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ جسے محترم حافظ نذر احمد صاحب نے زیرِ نظر ترجمہ کی صورت میں پورا کیا ہے۔

عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ آمنے سامنے صفحات پر درج کیا گیا ہے۔ اس بات کا اہتمام برتا گیا ہے کہ متن کے ایک صفحہ کا ترجمہ بالمقابل صفحہ پر ہی آ جائے تاکہ قاری کو بار بار اوراق التنے پلٹنے نہ پڑیں۔ آغاز میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی اور مؤطا کے مختصر تعارف کے ساتھ 446 عنوانات کے تحت مفصل فہرست مضامین شامل کی گئی ہے۔ جملہ احادیث کے نمبر لگا دئیے گئے ہیں۔ آخر میں مؤطا کے 87 روات کے حالات درج کیے گئے ہیں۔

مندرجہ بالا خصائص کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ حسن، ترتیب کے اعتبار سے زیرِ نظر اشاعت متداول اشاعتوں سے بہتر ہے۔ کسی بھی موضوع پر کوئی حدیث چند منٹوں میں تلاش کی جا سکتی ہے۔

عمدہ کتابت و طباعت اور خوبصورت مضبوط جلد کے ساتھ قیمت نہایت مناسب اور واجبی ہے۔