تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی کسی نہ کسی شکل میں کچھ گروہ، دین کی تخریب کاری اور امتِ مسلمہ میں انتشار و افتراق کے ذمہ دار رہے ہیں۔ اس گروہ کے مختلف طبقات میں سے ہمیں دو طبقے ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے ادعائے اسلام کے باوجود اسلامی تعلیمات کو شدید مجروح کیا اور اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ "اہل تشیع" یا "شیعہ" کے نام سے معروف ہے۔ اور دوسرا "اہل تصوف" یا "صوفیاء" کے نام سے۔ اول الذکر طبقہ کے بارہ میں راقم الحروف کی اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ "شیعہ مکتبِ فکر دراصل کوئی مذہبی ٹولہ یا فرقہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک خفیہ سیاسی تنظیم ہے جو اسلام کے ابتدائی دور سے ایک مخصوص انداز سے سرگرمِ عمل ہے۔ حالات کی تہ در تہ کروٹوں، بالخصوص 61ھ کے ایک افسوسناک واقعہ، واقعہ کربلا، جس نے اب افسانوی حیثیت اختیار کر لی ہے، نے اس گروہ کو انتہائی منظم بنا دیا اور یہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی کو مذہب اور مذہبی معتقدات کی آڑ میں پھیلانے لگے۔ چونکہ یہاں شیعہ مکتبِ فکر پر تنقید یا تردید یا ان کے عقائد کا کتاب و سنت سے بعد ثابت کرنا مقصود نہیں، لہذا اس ضمی بحث سے پہلو تہی ہی بہتر ہے، اگرچہ آئندہ بعض مقامات پر وضاحت اور احقاق، حق و ابطالِ باطل کے فریضہ کے پیش نظر شیعہ مکتبِ فکر کے بعض عقائدِ باطلہ پر جزوا بحث آئے گی۔ زیرِ نظر مضمون سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ "ایرانی انقلاب کی حیثیت" اور اس کے پیشوا "آیت اللہ خمینی کا افکار" سے عوام الناس کو باخبر کر دوں، جو مختلف دینی اور سیاسی حلقوں و تنظیموں کے پیدا کردہ غلط پروپیگنڈے کے باعث اکثر لاعلم ہیں۔

بلاشبہ حالیہ ایرانی انقلاب سے شیعہ مکتبِ فکر کو ایک عالمگیر شہرت اور اہمیت حاصل ہو چکی ہے جہاں اکثر اہل اسلام (جو اس طبقہ کے حقیقی معتقدات اور تاریخ کی روشنی میں اس کے کردار سے واقف نہیں ہیں) اس انقلاب سے متاثر نظر آتے ہیں، وہیں بعض اہل علم اور صاحب فکر حضرات بھی اسے اسلامی انقلاب اور تحریکِ اسلامی کا ثمرہ تصور کرتے ہیں۔ برصغیر کی بعض سیاسی اور مذہبی تنظٰموں نے باقاعدہ اس انقلاب کا خیر مقدم کیا، حتی کہ کبھی در پردہ اور کبھی کھلم کھلا اس کی حمایت و مدح میں اپنے تمام ذرائع و وسائل استعمال کیے، قطع نظر اس کے کہ موجودہ ایرانی انقلاب کے بانی و قائد جناب آیت اللہ خمینی کے ذاتی افکار و نظریات و اعتقادات کیا ہیں؟ یہ مفت کے ترجمان دنیا کو ایسا باور کرانے میں مصروف ہیں گویا "خلافت علی منہاج النبوۃ" کا دور واپس آ گیا ہے۔ (فاعوذباللہ) ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو وہ حضرات اس انقلاب کی اسلامیت کو لوگوں کے حلق سے اتروانے میں کسی شدید ذہنی مرعوبیت یا حسنِ ظن کا شکار ہیں کہ کسی تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود فراموشی کی اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ انہیں نہ اپنی عقل و خرد سے واسطہ رہا ہے اور نہ اُمت کی صلاح و فلاح سے۔ خیر جو بھی صورت حال ہو وہ حد درجہ افسوسناک اور قابلِ تدارک ہے۔ ذیل میں ایرانی انقلاب کے سرخیل جناب خمینی کی مطبوعہ تحریروں و تقریروں کے چند اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ حقیقتِ حال اظہر من الشمس ہو جائے۔ وباللہ التوفیق

سب سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔ یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں، جن کے متعلق امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی محبت ہمارا دینی اور اسلامی فرض ہے لیکن اس طرح کہ کسی کی محبت میں حد سے نہ بڑھیں۔ انہیں نیکی کے ساتھ یاد کریں، ان کے دشمنوں اور عیب جوؤں کو اپنا دشمن تصور کریں۔" (عقیدۃ الطحاویۃ ص4 مطبوعہ لاہور)

چونکہ طعن عن الصحابہ رضی اللہ عنھم، شیعہ حضرات کے نزدیک معیوب نہیں بلکہ عین عبادت ہے، چنانچہ آیت اللہ خمینی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنھم کے متعلق فرماتے ہیں:

"سمرہ بن جندب جیسے راوی بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے علماء سوء اور معاونینِ ظؒم کی طرف سے ظالم حکمرانوں کی خوبیاں اور حسنِ سلوک، نیز سلاطین کی بزرگی اور پاکیزہ سیرت کے بارہ میں ہزاروں موضوع روایات بیان کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں خازن مجددی ص134، 135)

واضح رہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیعتِ رضوان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کت ساتھ شریک تھے اور صحاح ستہ میں ان سے ایک سو تئیس احادیث مروی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دوسرے مشہور صحابی اور کاتبِ وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہادی و مہدی ، اور حدیث قسطنطنیہ کی رو سے جنتی ہونے کی بشارت دی تھی، کے متعلق آیت اللہ خمینی صاحب لکھتے ہیں:

"اسلامی حکومت کے علاوہ آپ جن حکومتوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، آپ خود اندازہ کیجئے کہ ان میں ایک مسلمان کس طرح خوف و ہراس میں، مصیبت اور تکلیف کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس کو ہر لحظہ یہ خوف دامنگیر ہوتا ہے کہ لوگ اس کے گھر پر حملہ کر کے اس کو جان سے مار ڈالیں گے اور اس کا مال ومتاع چھین لیں گے۔ یہ صورتِ حال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پیش آئی۔ لوگوں کو ثبوتِ جرم کے بغیر ہی محض ظن و گمان یا تہمت کی بناء پر قتل کر دیا جاتا تھا۔ سینکڑوں لوگوں کو قید و بند میں ڈال دیا جاتا تھا، سینکڑوں لوگوں کو ان کے گھروں سے ناحق محض اس لیے نکال دیا جاتا تھا کہ وہ "(ربنا الله)" کہہ کر اعلانِ حق کرتے۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی، مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں خازن مجددی، ص148،149)

مزید لکھتے ہیں:

"حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت ایک اسلامی حکومت کا نمونہ نہ تھی۔ اسے اسلامی حکومت کے ساتھ دور و نزدیک کی کوئی مشابہت نہ تھی۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی، مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں خازن مجددی، ص149)

نیز:

"یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ثنا خوانوں میں تھے حالانکہ وہ ایسی مدح و توصیف کے مستحق نہ تھے کیونکہ وہ اس بنیاد ہی کو ڈھا رہے تھے جس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکومت کھڑی کی تھی۔" ((الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی، مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں خازن مجددی 153)

ایک اور مقام پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھتے ہیں:

"جب آپ کو یہ خبر ملتی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر نے غریب اور کمزور لوگوں پر لوٹ مار کی ہے، ان میں کسی نے کسی ذمی عورت یا کسی زیرِ حفاظت کافر عورت پر دست درازی کی ہے، کسی کی بالیاں چھین لی ہیں اور کسی کی پازیب اتار لی ہے تو آپ رنج و الم سے پھوٹ پڑتے۔" ((الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی، مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں خازن مجددی، ص162)

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق خمینی صاحب اپنی ایک دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:

معاوية ترأس قومه اربعين عاما ولكنه لم يكسب لنفسه سوى لعنة الدنيا وعذاب الاخر

یعنی "امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی چالیس سال سربراہی کی لیکن انہوں نے اپنے لیے دنیا کی لعنت اور آخرت کے عذاب کے سوا اور کچھ حاصل نہ کیا۔" (جہاد النفس او الجہاد الاکبر للخمینی ص18)

اسی طرح مشہور تابعی قاضی شریح ابن الحارث، جن کو امیر المومنین حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں عہدہ قضاء پر مامور فرمایا تھا، کے متعلق خمینی صاحب فرماتے ہیں:

"حضرت علی امیر المومنین علیہ السلام نے قاضی شریح سے فرمایا: "(شريح قد جلست مجلسا لا يجلسه (ماجلسه) الا نبى اووصى نبى اوشقى)"

یعنی "اے شریح! تم ایسے منصب پر فائز ہو جس پر نبی یا اس کے وصی یا کسی بدبخت کے سوا کوئی شخص فائز نہیں ہوتا (فائز نہیں ہوا) یہ قاضی شریح تقریبا پچاس برس تک قضائ کے منصب پر فائز رہے۔ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ثنا خوانوں میں سے تھے۔ حالانکہ وہ ایسی مدح و توصیف کے مستحق نہ تھے کیونکہ وہ اس بنیاد ہی کو ڈھا رہے تھے جس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکومت کی عمارت کھڑی کی تھی۔ لیکن آپ انہیں معزول کرنے سے معذور تھے۔ ان کا تقرر آپ سے پہلے کا تھا، اس لیے ان کی معزولی آپ کے اختیار میں نہ تھی۔ لہذا امیر المومنین نے صرف ان کی نگرانی پر اکتفاء کی اور انہیں شریعت کی خلاف ورزی سے باز رکھا۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں خازن مجددی، زیر حدیث نمبر 4 ص153)

نصیر الدین طوسی، جس نے ابنِ علقمی کے ساتھ کافر تاتاری حاکم ہلاکو خاں کے بغداد کو تاراج کرنے اور وہاں کی سنی آبادی کے قتلِ عام میں مدد کی اور بعد میں تاتاریوں کا وزیر مقرر ہوا، کو آیت اللہ خمینی صاحب راہنما و مقتداء بتاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصیر الدین طوسی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"انہوں نے اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ص128)

"امامت' جو ایک خالص شیعہ عقیدہ ہے، کے متعلق خمینی صاحب لکھتے ہیں:

"یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ معصومین نے اس معاملے میں سختی کی ہے۔" الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں ص232)

نیز ملاحظہ فرمائیں:

"اس کی ولایت کائناتی ہوتی ہے یعنی اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم و اقتدار کے آگے سرنگوں ہوتا ہے۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں خازن ص120)

خمینی صاحب ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

"وہ تعلق باللہ کے ایسے مقام پر ہوتے ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں ص154)

مزید ارشاد ہوتا ہے:

من ضرورات مذهبنا ان لائمتنا مقاما لايبلغه ملك مقرب ولانبى مرسل(الحكومة الاسلاميه ص35))

اس کا ترجمہ مولانا محمد نصراللہ خاں خازن مجددی نے یوں فرمایا ہے:

"آپ جانتے ہیں کہ ہمارے مذہب (شیعہ) کی بنیادی تعلیمنات میں یہ عقیدہ موجود ہے کہ ہمارے ائمہ کرام کو اللہ تعالیٰ کے حضور اتنا تقرب حاصل ہے کہ جسے نہ کوئی مقرب فرشتہ پا سکا ہے اور کوئی نہ کوئی نبی مرسل۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی مترجم مولانا محمد نصر اللہ ص120)

ایک اور جگہ تحریر فرماتے ہیں:

"امامت نبوت و رسالت سے برتر ہے ۔" (حکومتِ اسلامی از خمینی، ص34مطبوعہ لاہور)

"ائمہ اطہار ہی کے بارے میں ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور انہیں ایسا قرب حاصل ہوتا ہے جو کسی ملکِ مقرب اور نبی مرسل کو بھی میسر نہیں۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی مترجم مولانا محمد نصر اللہ خاں ص131)

اپنے ائمہ کے متعلق خمینی صاحب مزید صراحت فرماتے ہیں:

لم تنسح الفرصة لائمتنا للاخذ بزما الامور وكانوا بانتظار ها حتى اخر لحظه من الحياة فعلى الفقها ء والعدول ان يتحينو لهم الفرض وينتهزها من اجل تنظيم وتشكيل حكومة رشيده

یعنی "ہمارے ائمہ کو ذمہ داریوں کی باگ دوڑ ہاتھ میں لینے کا موقع نہیں ملا اور وہ اپنی زندگی کے آخری لحظہ تک اس کے انتظار میں رہے، لہذا فقہاء اور مستند حضرات کو چاہئے کہ موقع کی تلاش میں رہیں اور صحیح حکومت کی تنظیم و تشکیل کے لیے موقع سے فائدہ حاصل کریں۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی، ص54)

نیز:

"ان (ائمہ) کی تعلیمات، قرآن کی تعلیمات کی طرح ہیں، جس کا نفاذ اور اتباع واجب ہے۔" (الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ص113)

ان آئمہ کی قبور کی تقدیس کے سلسلہ میں خمینی صاحب فرماتے ہیں:

"اس میں کوئی حرج نہیں کہ آئمہ کی قبروں کے پیچھے اور دائیں بائیں نمازیں پڑھی جائین، اگرچہ اولیٰ بات یہ ہے کہ سر کے پاس نماز پڑھی جائے لیکن اس طرح کہ امام علیہ السلام کے مساوی نہ ہو۔" (تحریر والوصیلہ ص165 ج1) (جاری ہے)
حاشيہ

تفصیل کے لیے فصل الملل والنحل لابن حزم رحمۃ اللہ علیہ، مفتاح الجنۃ بالاعتصام السنۃ از جلال الدین سیوطی تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، تائید اہل سنت از شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی، آیاتِ بینات از محسن الملک سید محمد مہدی علی خاں، تاریخِ مذہب شیعہ و قاتلان، حسین رضی اللہ عنہ از مولانا عبدالشکور لکھنوی، خلافتِ معایہ رضی اللہ عنہ و یزید مع تحقیقِ مزید از محمود عباسی وغیرہ کو ملاحظہ فرمایا جائے۔

چنانچہ ملاحظہ ہو:

"خدا ہمارے ایرانی بھائیوں کی مدد اور راہنمائی فرمائے۔ ہم عظیم الشان کامیابی پر آپ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔"

خمینی کو مولانا مودودی اور میاں طفیل کا پیغام

ایران کے مسلمانوں نے قربانی اور ایثار کی نئی مشعل روشن کی ہے۔

لاہور 13 فروری (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی اور امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے عالمِ اسلام کے ممتاز رہنما آیت اللہ روح اللہ الخمینی کو مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے اور ایرانی عوام کی کامیابی پر جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے ہم تہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور کدائے بزرگ و برتر سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ایرانی بھائیوں کو اپنے ہر دلعزیز ملک ایران کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ کی شکل میں تعمیر کرنے میں ان کی مدد اور رہنمائی فرمائے۔ اور اس سلسلے میں ان کی کوششوں میں خیر وبرکت عطا فرمائے۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل قاضی حسین احمد نے ایران کے نومنتخب وزیراعظم ڈاکٹر مہدی بازرگان کے نام جنرل ضیاء الحق کے مبارکباد کے پیغام پر دلی مسرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کے مسلمان عوام نے قربانی اور ایثار کی نئی مشعل روشن کی ہے جس سے جدید دور میں جہاد اسلامی کا راستہ روشن ہو گیا ہے۔ قاضی حسین احمد نے ایرانی عوام کے جذبہ اسلامی کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ہزاروں نوجوانوں نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ پورے عالمِ اسلام کے لیے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے آیت اللہ خضمینی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے نامزد وزیراعظم اپنے ملک کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ (روزنامہ جسارت کراچی فروری 1979ء ص1)

چنانچہ شیعہ علماء بلا جھجک لکھتے ہیں:

ان الناس كلمهم ارتد وابعد رسول الله غير اربعة

یعنی "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد چار افراد کے علاوہ باقی تمام لوگ مرتد ہو گئے تھے۔" (کتاب سلیم بن قیس العامری ص92 مطبوعہ بیروت)

ایک دوسری کتاب میں محض تین افراد کا اسلام پر باقی رہنا لکھا ہے، باقی تمام لوگ بقول کلینی اہل ردہ تھے۔ (کتاب الروضہ من الکافی للکلینی ص245 ج8)

حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ معنہما کو "جبت و طاغوت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے" (تنقیح المقال فی احوال الرجال ص207 ج 1 مطبوعہ نجف اشرف 1352ھ)

شیعہ تفاسیر میں قرآن کے الفاظ "الفحشائ والمنکر" سے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ لیے جاتے ہیں اور "البغی" سے مراد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ۔۔۔ فحشائ، منکر، بغی، ضمر، میسر، اذلام، انصاب، اوثان، جبت، طاغوت، میتۃ، دم، لحم الخنزیر۔۔ان سب الفاظ سے مراد اصحاب رسول ہیں۔" (تفسیر مرآۃ الانوار ص358 جلد نمبر 1)۔ العیاذباللہ! بعض جگہ اہل بیت پر بھی زبان درازیاں کی گئی ہیں۔ مثلا جناب عباس رضی اللہ عنہ و عقیل رضی اللہ عنہ کو ذلیل کہا گیا ہے حتیٰ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی جبن و بزدلی کا طعنہ دیا گیا ہے۔" (الامالی للطوسی ص259 و ھق الیقین للمجلسی ص203) فاناللہ۔

مولانا سید ابوالحسن علی الندوی نے بھی اپنے ایک مضمون میں شیعہ حضرات کے "طعن عن الصحابہ" کے رویہ کے متعلق لکھا تھا:

"شیعہ حجرات اگر خلوصِ دل سے اسلامی فرقوں کے قریب آنا چاہتے ہیں تو صحابہ رضی اللہ عنھم اور امہات المومنین رضی اللہ عنھن کے متعلق انہیں اپنا طرزِ عمل بدلنا ہو گا، کیونکہ اور جماعتوں کی محبوب و محترم شخصیات کے احترام کے بغیر باہمی تعاون کا سوال ہی نہیں۔" (ماہنامہ الفرقان لکھنؤ مجریہ ماہ جون 1981ء)

لیکن راقم الحروف کے نزدیک مسئلہ محض ان محبوب شخصیات کے احترام کا ہی نہیں بلکہ مسئلہ اسلام کی بنیاد یعنی قرآن کریم کا سب سے اہم ہے۔

جامع الترمذی

صحیح البخاری

بقول شیعہ حضرات:

"یہ ائمہ وہ ہیں جنہیں خدا نے امام بنایا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا، انہیں بھی معجزات ملے اور جو شخص امام کو چھوڑ دے اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔" (امامیہ دینیات ص13 ج1)

"ان کے لیے معصوم ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا معصوم ہونا نبی کے لیے ضروری ہے۔" (امامیہ دینیات ص14 جلد 2)

"اسلام کو نبی کے بعد ہمارے بارہ اماموں نے برقرار رکھا۔" (امامیہ دینیا ص5 ج1 مطبوعہ پاکستان)

ان بارہ اماموں کے اسمائے گرامی اس طرح ہیں: حضرت علی کرم اللہ وجہہ 40ھ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ 50ھ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ 61ھ، حضرت زین العابدین 94ھ، ابوجعفر محمد الباقر 113ھ، ابوعبداللہ الصادق 1148ھ، موسیٰ الکاظم 183ھ، ابوالحسن علی الضاء 202ھ، ابوجعفر محمد الجواد 220ھ، علی الہادی 254ھ، ابو محمد الحسن العسکری 260ھ اور امام مہدی غائب۔

شیعہ علماء کا عقیدہ ہے "یہ ائمہ انبیاء اوصیاء اور ملائکہ سے افضل ہیں۔" (الفصول المہمہ للحر العاملی ص52 او کتاب الحجہ من الصول ص175 ج1)