نام و نسب و منصب:

بقول امام النسب حضرت زبیر بن بکار، قبل از اسلام آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبدالکعبہ تھا۔ اور قبولِ اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ رکھا۔

کنیت ابوبکر تھی، اور جب آیت ﴿الَّذى جاءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِهِ﴾" نازل ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق مشہور ہوا۔ (مجمع البیان طبرسی 4ص498)

والد کا نام عثمان اور کنیت ابوقحافہ تھی۔ والدہ کا نام سلمیٰ اور کنیت ابوالخیر تھی۔ سلمیٰ، ابوقحافہ کے چچا صخر بن عامر کی صاجزادی تھی۔

آپ رضی اللہ عنہ قریش کے ممتاز قبیلہ تیم سے تعلق رکھتے تھے اور قریشِ مکہ کے سردارون میں شمار ہوتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں خون بہا اور تاوان کا فیصلہ آپ رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا۔ مال و دولت کے لحاظ سے بڑے متمول اور صاحبِ اثر تھے۔ حد درجہ مہمان نواز، بُردبار، حلیم الطبع اور حق پسند تھے۔ (تاریخِ اسلام مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)

ایمان صدیق رضی اللہ عنہ:

ایمانِ صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

"مادعوت احدا الى الاسلام الا كانت عنده كبوه ونظر وتردد الا ماكان من ابى بكر ماعتم عنه حين ذكرته اى انه بادربه"

کہ "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ماسوا میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی، اس نے تردد اور پس و پیش کیا مگر حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ دعوت کو سنتے ہی قبول کر لیا۔" (ایضا ص262، عنوان النجابہ ص14)

چنانچہ مشہور روایات کے مطابق سب سے اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا (الاستعیاب لابن عبدالبرم ذکرِ صدیق رضی اللہ عنہ، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم، منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ 2ص190) ۔۔ مگر شیعہ روایات کے مطابق:

ان اول من اسلم بعد خديجة ابوبكر

"حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔"

اسی طرح جناب محسن الملک نواب سید مہدی خاں صاحب نے "آیات بینات" ص114 پر بڑی شرح و بسط کے ساتھ ایمانِ صدیق رضی اللہ عنہ کو کتبِ شیعہ سے ثابت کیا ہے:

"علامہ حلی نے شرح تجرید میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ:

"میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد ایمان لایا ہوں۔"

حملہ حیدری مطبع سلطانی ص14 پر مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلے ہی ایک کاہن نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دی تھی۔ وہ اس کاہن کی خبر پر ایمان لا چکے تھے۔ اسی طرح قاضی نوراللہ شوستری نے مجالس للمؤمنین میں لکھا ہے:

"ابوبکر ببرکتِ خواب کہ او دیدہ بود مسلمان شد"

کہ "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک خواب دیکھنے کے سبب مسلمان ہوئے تھے۔"

خدماتِ صدیق رضی اللہ عنہ:

بقول ابنِ اسحاق، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لاتے ہی تبلیغِ دین میں مصروف ہو گئے اور ان کی تبلیغ سے حضرت عثمان غنی، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، اور حضرت سعد بن ابی وقاص، رضی اللہ عنہم اجمعین ایمان لائے۔ (رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم طبع دوم 1ص33)

حضرت بلال حبشی، حضرت نہدیہ، بنتِ نہدیہ، ام عبیس رضی اللہ عنہم نے جب اسلام قبول کیا اور قریشیوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان سط کو خرید کر فی سبیل اللہ آزاد کر دیا۔ (سیرت ابن ہشام)

تفسیر مجمع البیان ص501 زیر آیت "﴿وَسَيُجَنَّبُهَا الأَتقَى ﴿١٧﴾ الَّذى يُؤتى مالَهُ يَتَزَكّىٰ ﴿١٨﴾... سورةالليل" مرقوم ہے کہ:

عن ابن الزبير قال ان الا ية نزلت فى ابى بكر لانه اشترى مماليك الذين اسلموا مثل بلال وعامر بن قهيرة وغيرهما واعتهم)

کعبۃ اللہ میں ایک دن نبی علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے اپنی چادر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کو بھینچنا شروع کیا، اسی اثناء میں حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دھکا دے کر فرمایا:

اتقتلون رجلا ان يقول ربى الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم

"کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتک کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار کہتا ہے، اور تمہارے پاس اپنے رب سے روشن دلائل بھی لے کر آیا ہے؟"

اس پر چند شریر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے، بہت زد و کوب کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے بادلوں کو بھی نوچا۔ (سیرۃ ابن ہشام، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم)

جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونون سچے اور غمخوار وفاداروں کی وفات سے سخت صدمہ ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسی سال ماہِ شوال سئہ 10 نبوت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح (صغر سنی میں ہی) نبی علیہ السلام سے کر دیا۔

ہجرتِ صدیق رضی اللہ عنہ

بالاتفاق فریقین (شیعہ و سنی) سئہ 13 نبوت میں، اہل مدینہ کی عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد قریش کے مظالم نے مسلمانوں کے لیے مکہ معظمہ کی رہائش تنگ کر دی۔ بعض مسلمان تو بحکم، و اجازت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے حبشہ جا چکے تھے اور باقی ماندہ لوگوں کو نبی علیہ السلام نے عام اجازت دے دی تھی کہ جانی اور ایمانی دولت بچانے کے لیے مدینہ منورہ چلے جائیں۔ مسلمانوں سے جس طرح بھی بن پڑا، مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

لیکن خود محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم حکمِ خداوندی کے منتظر تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی بحکمِ خداوندی، نبی علیہ السلام نے روک لیا تھا۔ چنانچہ 27 صفر سئہ 13 نبوت، شب پنج شنبہ کو نبی علیہ السلام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لائے اور ساتھ لے کر تاریکی شب میں مکہ سے جنوب کی سمت چار میل کے فاصلہ پر کوہِ ثور کی طرف روانہ ہوئے۔

راستہ سنگلاک اور دشوار گزار تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نعلینِ مقدس اپنے پائے مبارک سے نکال لیے اور پا برہنہ راہی سفر ہوئے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھوں پر بٹھایا۔ جب تھوڑی دور چلے تو صبح کے آثار نمودار ہوئے اور ان دونوں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے اس غار میں پناہ لی۔ پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں اندر رکھا، اس میں سوراخ دیکھ کر اپنی قبا پھاڑ پھاڑ کر ان کو بند کرنا شروع کیا۔ جب ایک سوراخ رہ گیا، جس کے لیے چادر کا کوئی ٹکڑا نہ تھا۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں اس سوراک پر رکھا اور نبی علیہ السلام کو اندر تشریف لانے کے لیے عرض کی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے۔ (ملخص از غزواتِ حیدری ص65)

رؤساء قریش کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ بچ نکلنے کا بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے نبی علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی گرفتاری پر سو (100) اونٹ کے انعام کا اعلان کیا۔اور خود بھی سراغرسانوں کو ہمراہ لے کر تلاش میں نکلے۔ جب غارِ ثور تک پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بحالتِ اضطراب نبی علیہ السلام سے عرض کی کہ اگر وہ اپنے قدموں کو دیکھ لیں تو ہمیں ضرور دیکھ لیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ياابابكر ماظنك باثنين الله ثالثهما

"ابوبکر رضی اللہ عنہ، گھبرائیے نہیں، ہم دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ تیسرا ہے"

(خلاصۃ السیر فی احوالِ سیدِ البشر صلی اللہ علیہ وسلم ص22)

آئیے اس واقعہ کو قرآن کریم کی زبان فیض ترجمان سے سنیے، جس کے متعلق تحت السماء و فوق الارض، باشندگان مسلمان جن و انس اور تمام مسلکی گروہ متفق ہیں اور جس کے متعلق خود ربِ کائنات نے فرمایا کہ:

﴿لا يَأتيهِ البـٰطِلُ مِن بَينِ يَدَيهِ وَلا مِن خَلفِهِ تَنزيلٌ مِن حَكيمٍ حَميدٍ ﴿٤٢﴾... سورة فصلت

کہ "اس میں ذرہ بھر بھی کذب کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔"

ارشاد ربانی ہے:

﴿إِلّا تَنصُر‌وهُ فَقَد نَصَرَ‌هُ اللَّـهُ إِذ أَخرَ‌جَهُ الَّذينَ كَفَر‌وا ثانِىَ اثنَينِ إِذ هُما فِى الغارِ‌ إِذ يَقولُ لِصـٰحِبِهِ لا تَحزَن إِنَّ اللَّـهَ مَعَنا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكينَتَهُ عَلَيهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنودٍ لَم تَرَ‌وها وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذينَ كَفَرُ‌وا السُّفلىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِىَ العُليا وَاللَّـهُ عَزيزٌ حَكيمٌ ﴿٤٠﴾... سورةالتوبة

"اگر تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کرو گے (تو کچھ پرواہ نہیں، اللہ تعالیٰ خود ہی کافی ہے) اللہ تعالیٰ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اس وقت بھی فرمائی، جس وقت کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا تھا (ایک نبی کریم علیہ السلام اور دوسرے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) جب وہ دونوں غار میں تھے، اس وقت نبی کریم علیہ التحیہ والتسلیم نے اپنے رفیق کو فرمایا کہ:

"غم نہ کر اللہ کریم ہم دونوں کے ساتھ ہے" آخر اللہ تعالیٰ نے اپنی سکینت اس (ابوبکر رضی اللہ عنہ) پر اتاری اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد ایسے لشکر سے فرمائی جن کو تم نے نہیں دیکھا"

اس آیت کے چند مقامات وضاحت طلب ہیں:

1۔ حدیث میں (ثالثهما) اور آیت میں (اذهما) کی ضمیر (ھُمَا) میں نبی علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔

فانزل الله سكينته عليه)" کے مصداق بھی حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہیں، جس سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان نمایاں ہوتی ہے۔

3۔ "(ان الله معنا)" میں اللہ تعالیٰ کی معیت نبی علیہ السلام اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی معیت ہمیشہ برگزیدہ لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، اور یہ ایک بڑا اعلیٰ و ارفع مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو ہی نصیب ہوتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے اس واقعہ میں فرمایا کہ:

جب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو دربارِ فرعون میں دعوتِ پیش کرنے اور بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے حکم دیا تو انہوں نے اس امر کی گراں باری، اور اعترافِ کمزوری کی بناء پر عرض کی، "اے رب العلمین، ہمیں اندیشہ ہے کہ "﴿أَن يَفرُ‌طَ عَلَينا أَو أَن يَطغىٰ ﴿٤٥﴾... سورة طه" "فرعون ہماری مخالفت کرے گا یا سرکشی سے پیش آئے گا" تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا "﴿قالَ لا تَخافا إِنَّنى مَعَكُما أَسمَعُ وَأَر‌ىٰ ﴿٤٦﴾... سورةطه" ڈرو مت میں تم دونوں کے ساتھ ہوں" اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ و ہاروں علیہما السلام نے باوجود نبوت کے خوف کا اظہار کیا اور کوئی سرزنش نہ ہوئی۔ لہذا اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غیر نبی ہو کر خود کا اظہار کریں تو کیا گناہ لازم آئے گا؟ بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما اسللام کو "( إِنَّنِي مَعَكُمَا )" کہہ کر مطمئن کر دیا، بعینہ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے "(ان الله معنا)" کہہ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مطمئن کر دیا۔

4۔ "(لَا تَحْزَنْ)" "حزن' سے مشتق ہے۔ اور "حزن" کا تعلق ہمیشہ دل سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورہ یوسف میں "﴿وَابيَضَّت عَيناهُ مِنَ الحُزنِ فَهُوَ كَظيمٌ ﴿٨٤﴾... سورة يوسف" اور "﴿قالَ إِنَّما أَشكوا بَثّى وَحُزنى إِلَى اللَّـهِ... ﴿٨٦﴾... سورةيوسف" کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ نیز حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاجزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان العين ترمع والقلب يحزن وانا بفراقك يا ابراهيم لمحزونون

"بے شک آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل حزیں ہے اور اے ابراہیم علیہ السلام، ہم تیری جدائی سے غمگین ہیں۔"

پس "حزن" کا تعلق دل سے ہے لیکن اگر "(لاتحزن)" کا معنیٰ (زبان سے) شور مچانا" اور "ہائے ہائے کرنا" مراد لیا جائے تو یہ انبیاء علیھم السلام کی ذاتِ مقدس پر تنقید ہو گی، جو کبیرہ گناہ ہے اور اگر "غم کرنا" مراد لیا جائے تو یہ حق ہے، بلکہ خود شیعہ مفسر نے بھی اس کا ترجمہ یوں کیا ہے:

"چوں گفت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یازِ خود را اندوہ مخور۔" (خلاصۃ المنہج کاشانی)

"جب کہا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے یار کو غم مت کھا۔"

پھر سفرِ ہجرت کا سامان بھی خاندانِ صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کھانا لے جائیں۔ حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اہلِ مکہ کی باتیں سنا جاتے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بکریوں کا دودھ مہیا کرتے تھے۔ جب تین دن کے بعد یہ چرچا کچھ دب گیا تو چوتھی رات حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ دو اونٹنیاں لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا زادِ راہ لائیں اور اونٹنی پر سامان باندھنے کے لیے جب کوئی رسی نہ مل سکی تو اپنا نطاق پھاڑ کر اس کے ایک حصے سے زادِ راہ کجاوے کے ساتھ باندھ دیا۔ جس سے آپ رضی اللہ عنہ کا لقب "ذات النطاقتین" مشہور ہوا۔ (سیرت ابن ہشام بروایت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ)

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن اریقط رضی اللہ عنہ، شب کی تاریکی میں جانبِ مدینہ روانہ ہوئے۔ دوسرے دن سخت دھوپ لگی تو چٹان کے سایہ میں بیٹھ گئے۔ جب دھوپ نرم ہوئی تو یہ مقدس قافلہ پھر چلا، راستہ میں سراقہ بن مالک ملا، جو کفار سے سو (100) اونٹ انعام کا وعدہ لے کر حضور علیہ السلام کی گرفتاری کے لیے آ رہا تھا۔ جب قریب ہوا تو نبی علیہ السلام نے دعا کی، "اے اللہ، جس طرح تجھے منظور ہے اسے روک لے" چنانچہ زمین سخت ہونے کے باوجود پھٹ گئی اور سراقہ بن مالک کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ل سراقہ گھوڑے سے اتر کر نبی علیہ السلام سے معافی کا خواستگار ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے گھوڑا بھی نکل آیا اور سراقہ بن مالک واپس لوٹ گیا۔ (اسد الغابہ ذکرِ صدیق رضی اللہ عنہ)

الغرض 12 ربیع الاول سئہ 1 ہجرت بروز جمعۃ المبارک، یہ دشوار گزار سفر اختتام پذیر ہوا اور نبی علیہ السلام بمعہ رفقاء سفر، بخیر و عافیت مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ (ملاحظہ ہو سیرت ابنِ ہشام، ذکرِ ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی المدینۃ و صحبۃ ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ)

جہاد:

اہل مکہ ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے سال ایک ہزار مسلح لشکر کے ساتھ مسلمانوں کے استیصال کے لیے بدر کے مقام پر خیمہ زن ہوئے۔ یہ کفر و اسلام کی پہلی جنگ تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے 313 رفقاء کے ساتھ مقابلہ کے لیے نکلے۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے اس جنگ میں کمال جراءت کا مظاہرہ کیا۔ جنگ کے دوران نبی علیہ السلام کے پاس عریش (چھپر) میں، سوائے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کسی شخص کو ٹھہرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ننگی تلوار لے کر ہر اس شخص کا مقابلہ کیا جس نے بھی نبی علیہ السلام پر حملہ کرنے کی جراءت کی۔ (تاریخ اسلام، نجیب آبادی 1 ص263) گویا، اس غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت و حفاظت کا منصب صرف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا۔ (تاریخ الخلفاء سیوطی)

جنگِ بدر میں شامل ہونے والوں کو "(من افضل المسلمين)" قرار دیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری)۔۔۔ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ:

(لايدخل النار من شهدبدرا(ابن ماجه)

کہ "جس نے بدر میں شمولیت کی، وہ آگ میں داخل نہ ہو گا۔"

اور بحوالہ خلاصۃ المنہج، مجمع البیان طبرسی میں بدریوں کے متعلق لکھا ہے:

"ایشان بہترین مرد ماں ہستند"

"یہ لوگ بہترین مردِ میدان تھے"

17 رمضان المبارک سئہ 2ھ کو جنگِ بدر کا معرکہ ہوا۔

جنگِ احد:

جنگِ بدر کے بعد جنگِ احد میں بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حملہ آوروں کے منہ توڑ جواب دئیے، اور نہایت پامردی سے لڑتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جو پروانہ شمع رسالت کے گرد آخر تک رہے۔ شیعہ روایات کے مطابق احد کے میدان کارزار میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا حق ادا کر رہے تھے۔ اور نبی علیہ السلام کے پاس 13 اشخاص کے سوا کوئی نہ تھا۔ جن میں پانچ مہاجرین اور آٹھ انصاری تھے۔ مہاجرین میں سے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص تھے۔ رضی اللہ عنھم۔

عربی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

وذكر أبو القاسم البلخي أنّه لم يبق مع النبي (صلى الله عليه وآله) يوم أُحد إلاَّ ثلاثة عشر نفساً خمسة من المهاجرين: أبو بكر والإمام علي وطلحة وعبدالرحمن وسعد بن أبي وقّاص الى اخر(تفسير مجمع البيان ص24)

حدیبیہ:

جب قاصدِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ، کے ساتھ کفارِ مکہ کے ناروا سلوک کی اطلاع، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے نیچے بیعت علی الموت کے لیے اپنے دست مبارک کو پھیلایا۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت علی رضی اللہ عنھم نے بھی چودہ سو (1400) صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ بخوشی و رضا بیعت کی۔ (بخاری) آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اقرار دے کر ان کی طرف سے بیعت قبول فرمائی۔ (رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم) اس بیعت کو بیعتِ رضوان اور بیعت الشجرۃ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

﴿لَقَد رَ‌ضِىَ اللَّـهُ عَنِ المُؤمِنينَ إِذ يُبايِعونَكَ تَحتَ الشَّجَرَ‌ةِ فَعَلِمَ ما فى قُلوبِهِم فَأَنزَلَ السَّكينَةَ عَلَيهِم وَأَثـٰبَهُم فَتحًا قَر‌يبًا ﴿١٨﴾... سورةالفتح

"بلاشبہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے راضی ہو گیا جبکہ وہ ایک درخت (کیکر) کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر رہے تھے، اور جو (خلوص) ان بیعت کرنے والوں کے دلوں میں تھا، اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں میں اطمینانِ قلب پیدا کر دیا اور ان کو (اس کے بدلہ میں) ایک ایسی فتح عنایت فرمائی، جو بہت ہی قریب تھی اور بکثرت غنیمتیں بھی دیں، جن کو یہ لوگ حاصل کر رہے تھے۔" (ترجمہ منقول از کشف الرحمن مطبوعہ کراچی ص818، ص819 جلد دوم)

صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کنندگان کو مخاطب کر کے فرمایا تھا:

انتم خير اهل الارض

کہ "تم روئے زمین کے بہترین لوگ ہو"

ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ:

لايدخل النار من بايع تحت الشجرة

"جس نے درخت کے نیچے بیعت کی وہ آگ میں (ہرگز) داخل نہ ہو گا۔"

شیعہ روایات بھی اس پر ناطق ہیں۔ تفسیر مجمع البیان، تفسیر قمی، تفسیر امام حسن عسکری، تفسیر صافی اور خلاصۃ المنہج میں زیر آیت "﴿لَقَد رَ‌ضِىَ اللَّـهُ عَنِ المُؤمِنينَ إِذ يُبايِعونَكَ تَحتَ الشَّجَرَ‌ةِ ﴾" مرقوم ہے کہ:

"درخت کے نیچے بیعت کرنے والے بہترین لوگ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہ ہو گا۔"

جنگِ حنین: جنگِ حنین کے دن، جب دشمنوں نے تیروں کی پوچھاڑ کر دی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس دن بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان جانثاروں میں تھے، جو نبی علیہ السلام کے پاس رہے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کے گھرانے سے حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہوے۔ پھر چند دن بعد ہی انتقال فرمایا۔ (رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم)

جنگِ تبوک:

اس جنگ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا تمام اثاثہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دیا تھا، قیصر روم جیسے جابر باشاہ سے مقابلہ تھا، لشکر اسلام کا اجتماع بھی کبھی اتنا نہ ہوا تھا۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سب سے بڑا اور آخری غزوہ تھا۔ اس جنگ میں علم سپہ سالاری، نبی علیہ السلام نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سپرد فرمایا۔ اسی سال فرضیتِ حج کا حکم نازل ہوا۔ نبی علیہ السلام نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر الحجاج مقرر فرمایا اور تین سو صحابہ رضی اللہ عنھم آپ رضی اللہ عنہ کی معیت میں بھیجے گئے۔ رضی اللہ عنھم (رحمۃ للعالمین 1 ص251 طبع دوم) ۔۔۔ الغرض حضور علیہ السلام کے عہدِ باسعادت میں کوئی ایسا جہاد نہیں ہوا جس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شمولیت نہ فرمائی ہو۔

امامت:

آخر صفر سئہ 11ھ کو نبی علیہ السلام مرض الموت میں صاحبِ فراموش ہوئے، تقریبا گیارہ دن مرض خفیف رہا۔ لہذا خود نماز پڑھاتے رہے۔ درِ نجف میں ہے:

(وكان عند خفة مرضه يصلى بالناس بنفسه)

(درنجيفة شرح نهج البلاغة ص225)

کہ "نبی علیہ السلام کا مرض جب تک خفیف رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس نماز پڑھاتے رہے۔ گیارہ دن کے بعد ضعف اتنا ترقی کر گیا کہ عشاء کے وقت بوقتِ وضو تین دفعہ غشی طاری ہوئی۔ بالآخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کی امامت کریں۔ درِ نجفیہ میں ہے:

فلما اشتد به المرض امر ابابكر ان يصلى بالناس

اور اسی کتاب در نجفیہ، شرح نہج البلاغہ کے اسی صفحہ پر ہے کہ:

وان ابابكر صلى بالناس يومين ثم مات(ص 225)

یعنی "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، نبی علیہ السلام کی حیات، طیبہ میں دو دن نمازین پڑھاتے رہے۔ پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔"

گویا نبی علیہ السلام نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہی امامت و خلافت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تھی۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بسر و چشم اس امامت و خلافت کو قبول کیا۔ چنانچہ احتجاج طبرسی ص60 پر ہے کہ:

ثم قام للصلوة وحضر المسجد وصلى خلف ابى بكر

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نماز کے لیے، مسجد میں حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پڑھی۔" (تفسیر قمی و احتجاج طبرسی ص60)

اسی طرح محمد باقر اصفہانی رقمطراز ہیں:

وحضر المسجد وصلى خلفت ابى بكر(مراة العقول ص288)

قرآن مجید، ترجمہ مقبول احمد شیعہ، ضمیمہ، ص415 میں ہے کہ:

"پھر وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) اٹھے اور نماز کے قصد سے وضو فرما کر مسجد میں تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز میں کھڑے ہو گئے۔" الخ

غزواتِ حیدری اردو ص627 پر ہے کہ:

"پس بے اختیار اٹھے اور گزرتے وقت سے گھبرائے، ناچار آن کر اقامت کہی اور جماعتِ اہل دین نے عقب ان کے صف باندھی۔ چنانچہ اس صف میں شاہِ لافتی بھی تھے۔" رضی اللہ عنھم (جاری ہے)
حاشیہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

" ان الله تعالى هو الذى سمى ابابكر على لسان رسول ﷺ صدیقا وسبب تسلیمۃ انه بارد الى تصديق رسولﷺلازم الصدق( عنوان النجابة))

کہ "اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر صدیق رکھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بلا تامل نبی علیہ السلام کی تصدیق کرنے میں سبقت فرمائی۔ اور تا دمِ آخر صدق پر قائم رہے۔" نیز حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی علیہ السلام ایک دن احد پہاڑ پر چڑھے۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان (رضی اللہ عنھم) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پہاڑ نے کچھ حرکت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اُحد تھم جا، تجھ پر ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔" (بخاری شریف)

نیز بحوالہ تفسیر امام حسن عسکری (شیعہ حضرات کی معتبر تفسیر) علی بن ابراہیم قمی زیرآیت "(اذهما فى الغار)" لکھتے ہیں:

کہ "غار کے اندر نبی علیہ السلام نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو بمعہ رفقاء کشتیوں میں سوار بجانبِ حبشہ جاتے ہوئے دیکھ لیا اور انصارِ مدینہ کو ان کے گھروں میں دیکھ لیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے بھی نظارہ دیکھنے کی تمنا کی۔ نبی کریم علیہ السلام نے اپنا دستِ مبارک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں پر پھیر دیا۔ فورا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی یہ مناظر دیکھنے لگے۔ فرمایا، "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، میں نے ان کو دیکھ لیا ہے۔" تو نبی علیہ السلام نے فرمایا، "تم فی الواقع صدیق ہو" ۔۔۔عربی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

ان رسول الله صلى الله عليه وآله في الغار قال لفلان كأني أنظر إلى سفينة جعفر في أصحابه يقوم في البحر وأنظر إلى الأنصار محتسبين في أفنيتهم فقال فلان وتراهم يا رسول الله قال نعم قال فأرنيهم فمسح على عينيه فرآهم (فقال في نفسه الآن صدقت أنك ساحر ط) فقال له رسول الله أنت الصديق

کشف الغمہ میں ہے:

حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْزَةَ السُّلَمِيُّ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ أَحْمَدَ أَجَازَ لَهُمْ ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ " عَنْ حِلْيَةِ السُّيُوفِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، قَدْ حَلَّى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ سَيْفَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : وَتَقُولُ الصِّدِّيقَ ! ! قَالَ : فَوَثَبَ وَثْبَةً وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ قَالَ : نَعَمِ الصِّدِّيقُ ، نَعَمِ الصِّدِّيقُ ، فَمَنْ لَمْ يَقُلْ لَهُ : الصِّدِّيقُ ، فَلَا صَدَّقَ اللَّهُ لَهُ قَوْلًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " .

"عروہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن جعفر بن علی علیہ السلام سے زیورِ تلوار کے متعلق سوال کیا تو حضرت امام صاحب نے فرمایا، "کوئی حرج نہیں، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کو زیر لگایا۔" عروہ کہتے ہیں کہ "میں نے امام صاحب سے عرض کی کہ آپ بھی اس کو صدیق کہتے ہیں؟" امام صاحب بہت زیادہ گھبرائے اور قبلہ رک کھڑے ہو کر فرمایا:

"ہاں الصدیق، ہاں الصدیق، ہاں الصدیق، پس جو شخص صدیق نہ کہے، اللہ تعالیٰ اس بات کو دنیا و آخرت میں سچا نہ کرے۔" (کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ ص220 مطبوعہ تہران)

امام حسن عسکری کی تفسیر کے مطابق، خداوندِ قدوس نے سفر ہجرت کی مشکلات اور صعوبتوں کے لیے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم بھیجا کہ اس سفر کی خدمات کے لیے لائق ترین شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کو اپنے ساتھ لے جائیے:

(وامرك ان تستصحب ابابكر فانه انسك ساعد)

علامہ باقر مجلسی فرماتے ہیں کہ:

"ترا امر کردہ است کہ ابوبکر را ہمراہ خود ببری۔" (حیات القلوب 2 ص310)

"اللہ کریم نے تجھے حکم بھیجا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے جائیے"

اسی طرح ایک فیصلہ کن بات "مجالس المومنین" ص 203 پر بھی مذکور ہے:

"وبہمہ حال رفتن محمد صلی اللہ علیہ وسلم و بردن ابوبکر رضی اللہ عنہ، بے فرمانِ خدا نبود۔"

یعنی "نبی علیہ السلام کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہجرت میں اپنے ساتھ لے جانا فرمانِ خداوندی کے بغیر نہ تھا۔"

حملہ حیدری میں ہجرت کا بیان اس طرح مرقوم ہے

چنیں گفت راوی کہ سالارِ دین چو سالم بحفظِ جہان آفرین

زِ نزدیک آں قوم بر مکر رفت بسوئے سرائے ابوبکر رضی اللہ عنہ رفت

پئے ہجرت آں استادہ بود کہ سابق رسولش خبر دادہ بود

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بر درِ خانہ اش چو رسید بگوش ندائے سفر در کشید

چوں بوبکر رضی اللہ عنہ زاں حال آگاہ شد زِخانہ بردں رفت و ہمراہ شد

چورفتند چندیں بدامانِ دشت قدوم فلک سائے مجروح گشت

ابوبکر رضی اللہ عنہ آنکہ بدوشش گرفت وے زیں حدیث است جائے شگفت

کہ درکس چناں قوت آمد پدید کہ بارِ نبوت تو اند کشید

برفتند القصہ چندِ دگر چو گردید پیدا نشانِ سحر

بدیدند غارے دراں تیرہ شب کہ خواندے عرب غارِ ثورش لقب

گرفتند در جوف آں غار جائے وے پیش بوبکر رضی اللہ عنہ بنہاد پائے

بہر جا کہ سوراخ یارختہ دید قبارا بدرید آں رخنہ چید

بدیں گونہ تاشد تمام آں قبا یکے رخنہ نگرفت ماند از فضا

براں رخنہ ماندہ آں یارِ غار کفِ پائے خود را نمود استوار

نیا مددریں شگرفِ از کسے کہ دور از خرد می تماید بسے

نیامد چنیں کارے از غیرِ اُو بدنیا چو پرداخت از وقتِ او

درآمد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہم بغار نشستند یک جا بہم ہر دو یار۔ الخ

اس کا ترجمہ و تشریح غزواتِ حیدری ص 65 پر ملاحظہ فرمائیں۔