سیاستدانوں کو اب بھی اصرار ہے کہ ملک میں جمہوریت بحال کی جائے۔۔۔حالانکہ یہ بحال ہو چکی ہے، ورنہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کی خبریں پڑھ سن کر عوام کی پریشانی اور بے چینی کے کیا معنی؟ اور وہ جمہوریت ہی کیا جو غارت گر امن و سکون ثابت نہ ہو سکے؟

لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کو اس پر اطمینان حاصل نہیں ہے، وجہ ظاہر ہے کہ عام انتخابات کے اعلان کے باوجود انتخابی مہم اس قدر روکھی پھیکی ہے کہ جلوس وغیرہ نکالنے کی تو ویسے ہی اجازت نہیں ہے، رہے جلسے اور تقریریں، سو وہ بھی اخلاقی پابندیوں سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ چنانچہ ان میں، اپنے کسی مخالف امیدوار کے حسب و نسب کو مشکوک ثابت کرنا تو رہا ایک طرف اسے "غدارِ وطن، ملک دشمن اور مردہ باد" تک کہنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔اور اگر خوش قسمتی سے یہ موقع میسر آ بھی گیا، تو لاؤڈ سپیکر کی عدم موجودگی میں بھلا خاک کسی کو اس کی خبر ہو گی؟۔۔۔ پھر نہ جوابی کاروائی ہو گی، نہ فتنے سر ابھاریں گے۔۔نہ جنازہ اٹھے گا، نہ کوئی ممتا چلائے گی۔۔۔ نہ کسی کا سہاگ اجڑے گا اور نہ بچے خون کے آنسو روئیں گے اور رلائیں گے۔۔چنانچہ سیاستدانوں کے نزدیک، جمہوریت سے یہ ایک بھیانک مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اس استہزاء اور تمسخر کو وہ بھلا کیونکر برداشت کریں گے؟۔۔۔ساڑھے سات سال کی مدت کچھ کم نہیں ہوتی، پھپھوندی لگی زبانوں کو صیقل کرنے کے لیے کچھ عرصہ درکار تھا، لیکن ایک تو انتخابی مہم کی مدت بہت کم رکھی گئی، اوپر سے یہ پابندیاں بلائے بے درماں بن کر نازل ہو گئی ہیں۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ انتخابات کا اعلان سننے کے لیے ہمارے سیاستدان برسوں گوش بر آواز رہے ہیں، ان کے بغیر ان کا دن کا چین اور راتوں کا سکون عنقا تھا۔۔۔کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے وہ ان کے وظائف پڑھتے رہے ہیں۔۔۔پھر انتخابات بھی ہو جائیں اور کہیں کوئی خونریزی نہ ہو، کہیں کوئی ہنگامہ بپا نہ ہو، کسی بھی قتل و غارتگری کی نوبت نہ آئے، یہ صورتِ حال یقینا ان کی سیاسی تمناؤن کا گلا گھونٹ دینے کے مترادف ہے۔۔۔آہ، یہ اجڑے اجڑے انتخابات ان کی دیرینہ تمناؤں کا ماحصل تو نہ تھے۔۔۔وہ بائیکاٹ نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے؟۔۔ویسے بھی اب کرسی صدارت تو پانچ سال کے لیے ریز رو ہو چکی۔۔۔گناہ اور وہ بھی بے لذت، اب انتخابات میں حصہ لینے کا فائدہ بھی کیا ہے؟۔۔۔جبکہ بائیکاٹ کی صورت میں اسلام اور ملک و قوم کو کہیں زیادہ نقصان پہنچایا جا سکتا، اور غیر معینہ مدت کے لیے انہیں سیاسی بحران میں دھکیلا جا سکتا ہے۔۔۔لہذا حکومت کی صورتِ حال کی نزاکت کا احساس کر ہی لینا چاہئے، ہمارے یہ سیاستدان ملک و قوم کی ناگزیر ضرورت ہیں اور سیاسی قوت بھی، ان کی ناراضگی مول لینا حکومت کے لیے کسی صورت بھی مفید نہ رہے گا۔۔۔آخر کو یہ وہ لوگ ہیں کہ پورا ملک ان کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور دولخت ہو گیا۔۔۔جبکہ بچا کھچا پاکستان انہی کی بدولت آج تک اپنی نظریاتی بنیادوں پر استوار نہ ہو سکا۔۔۔اور جب تک ان کے دم میں دم ہے، یہ ہرگز اس کی اجازت نہیں دیں گے۔
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

بہرحال مذکورہ وجوہات کی بناء پر سیاستدان اس بات کو تسلیم کریں یا نہ، تاہم ان کی سیاسی حیثیت کے پیشِ نظر انہیں یہ اطمینان دلانا ضروری ہے کہ ملک میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے۔۔اور یہی وجہ ہے کہ"مرد مومن مرد حق" ریفرنڈم کی حمایتی مہم میں، اسلام نافذ کرتے کرتے اور "عورتوں کو وہی حقوق دیتے دیتے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیے ہیں" ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد جمہوری قدروں کو پامال نہ کر سکتے ہوئے، اس "چراغِ خانہ" کو پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں "شمعِ محفل" بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ چنانچہ جہاں انہوں نے اسمبلیوں میں بنتِ حوا کی موجودگی کو ضروری خیال کرتے ہوئے ان کی نشستوں میں اضافہ کر دیا ہے، وہاں اس عزم کا اظہار بھی فرمایا ہے کہ:

"ہم پاکستان کو ایک رجعت پسند مذہبی ریاست بنانا پسند نہیں کرتے، بلکہ وطن عزیز کو صحیح معنوں میں ایک جدید جمہوری حکومت بنانا چاہتے ہیں جو ہر لحاظ سے اسلامی ہو"

۔۔۔چنانچہ یہ "جدید جمہوری اور ہر لحاظ سے اسلامی" بننا شروع ہو بھی گئی ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ امیدواروں کی فہرست میں اب فلمی ایکٹروں کے نام اور ان کی انتخابی مہم میں فلمی ایکٹروں کے چہرے بھی نظر آنے لگے ہیں۔۔۔ظاہر ہے، ایک اسلامی حکومت میں عرایا کی جان، مال اور عزت کی حفاظت، حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، پھر اگر "لڑائی مار کٹائی سے بھرپور شاہکار" بنانے والے، تفریح کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے اور قوم کی بہو بیٹیوں کو سٹیجوں پر نچوانے اور ان کے ساتھ خود ناچنے والے اپنی اس رعایا کی جان، مال اور عزت کی حفاظت نہ کریں گے تو اور کون کرے گا؟۔۔۔علاوہ ازیں اس "جدید جمہوری اور ہر لحاظ سے اسلامی ریاست" کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ، اس کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ بھی انتہائی ضروری ہے۔۔۔پڑوسی، دشمن ملک بھارت جب فلمی اداکاروں کی معیت میں، میدان، کارزار میں اترے گا، تو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ایسے ہی "سرفروشانِ اسلام" کی ضرورت ہے، لہذا اگر یہ پیش بندیاں نہ ہوئیں، تو خدانخواستہ ملک کی سلامتی کو ہر آن خطرہ لاحق رہے گا۔

بہرحال یہ وہ اصلاحات ہیں، جو ایک جدید جمہوری حکومت کے لیے ناگریز ہوا کرتی ہیں، اور جن کا انتظام کر لیا گیا ہے۔۔۔پھر نہ جانے سیاستدانوں کو اس بحالی جمہوریت پر عدمِ اطمینان کیوں ہے؟

۔۔۔کچھ لوگوں کو یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ اگر حکومت اور سیاستدانوں میں مفاہمت نہ ہوتی تو جمہوریت کی منزل دور سے دور ہوتی چلی جائے گی، لیکن ہمیں اصرار ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف کی یہی جنگ تو اصل جمہوریت ہے، پھر اس کی منزل دور ہو جانے کے کیا معنی؟۔۔۔ جب حکومت اپنی پالیسیوں کے متعلق "سب ٹھیک ہے" کا نعرہ لگائیے، اور اپوزیشن مخالفت برائے مخالفت کا کردار ادا کرنے لگے، تو سمجھ لیجئے کہ جمہوریت بحال ہو گئی۔۔۔جس اسلامی مملکت میں، مسلمان مسلمان کے خلاف صف آرا ہو جائے تو یقین کیجئے کہ یہ ایک "جدید جمہوری ریاست" بن جاتی ہے۔۔۔اور خوش قسمتی سے پاکستان میں آج کل یہ معرکہ آرائیاں اپنے عروج پر ہیں۔ روزنامہ "جنگ" 30 جنوری کی یہ خبر ملاحظہ ہو۔۔۔اخبار مذکور "کون کس کا حریف ہے؟" کے جلی عنوان سے لکھتا ہے:

"غلام مرتضیٰ کھر میاں میر احمد گورمانی سے مقابلہ کریں گے"

"اوکاڑہ اور ساہیوال میں پیپلز پارٹی کے دو سبق ارکان ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں"

راؤ فرمان علی اور م ش اوکاڑہ میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں"

"بحریہ کے سابق سربراہ کرامت رحمان نیازی اور احمد رضا قصوری اسلام آباد میں ایک دوسرے کے حریف ہیں"

"میاں صلاح الدین کا مقابلہ اپنے بیٹے یوسف صلاح الدین سے ہو گا"

۔۔۔کیا اس خبر کو پڑھنے کے بعد بھی وحدتِ امت کو پارہ پارہ کرنے اور جمہوریت کی بحالی میں کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے؟۔۔۔جب باپ اور بیٹے میں ٹھن جائے اور ایک ہی پارٹی کے دو ارکان خم ٹھونک کر باہم مدِ مقابل ہو جائیں،۔۔۔ پاک سر زمین کا چپہ چپہ اکھاڑوں کی منظر کسی کرنے لگے اور سیاسی دنگلوں میں تبدیل ہو جائے۔۔۔پھر "انتخابات" کے ساتھ "لڑنے" کا لاحقہ بھی ضروری ہو جائے، تو "جمہور کے نزدیک"﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾" کی یہی تو جمہوری تفسیر ہے۔۔۔آخر کل کو انہیں اسمبلیوں میں جا کر ایک دوسرے پر کرسیاں پھینکنی ہے، واک آؤٹ کرنے ہیں، ہاتھا پائی کرنی ہے، تو کیوں نہ اس کی ریہرسل پہلے سے کر لی جائے؟۔۔۔کیونکہ یہاں گرمی محفل کے سامان جس قدر زیادہ ہوں گے، اسی قدر ملک مضبوط ہو گا، اور عوامی مسائل اسی قدر تیزی سے حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔

پھر آزادی اظہارِ رائے کا مسئلہ بھی اس خبر کو پڑھنے سے حل ہو جاتا ہے۔۔

چنانچہ ہفت روزہ ایشیا، جو تحریکِ اسلام کا ترجمان ہے، اپنی 27 جنوری 85ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ:

"اسلامی نظامِ حکومت کی چھٹی خصوصیت آزادی اظہارِ رائے ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو جدید جمہوری نظام کا جو تصور آج کل ذہنوں میں پایا جاتا ہے وہ اسلام ہی کے ایک نور کی کرن ہے"

۔۔۔ افسوس کہ اسلام کے نور کی ان کرنوں کا رخ اب تک زیادہ تر مغربی ممالک کی طرف رہا ہے اور وہ ان سے بھرپور استفادہ بھی کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں مکمل جمہوریت موجود ہے۔۔۔تاہم رفتہ رفتہ پاکستان بھی اب ان سے مستفید ہونے لگا ہے۔ چنانچہ خوش قسمتی سے لاہور کے بعض حلقوں میں تحریکِ اسلامی کے معزز اراکین کا مقابلہ فلمی دنیا کے معروف اداکاروں سے ہے، لہذا اولا تو یہ جوڑ ہی اسلام کے ایک نور کی کرن ہے۔۔۔ثانیا اگر وہ ان کے مقابلے میں جیت جاتے ہیں تو یہ بھی اسلام کے نور کی ایک کرن ہے۔۔۔لیکن اگر وہ شکست کھا جاتے ہیں، تو یہ بھی اسلام ہی کے ایک نور کی کرن ہو گی۔۔۔یعنی (نور على نور)۔۔ یہ الگ بات ہے کہ اس صورت میں وہ آئندہ جمہوریت کا نام بھی نہ لیں، لیکن جس کی امید ان سے بہت کم ہے، اس لیے ان لوگوں کے نزدیک:

"انتخابات کے ذریعے دین کا راستہ بنانا آخرت کی فصل تیار کرنے اور حسنات کا انبار لگانے کے مترادف ہے، اور اس سلسلہ میں نتائج کی دلدل میں نہیں پھنسنا چاہئے، کیونکہ مقصد دعوت کی راہ میں ناکام ہونا ناکامی نہیں بلکہ تاریخ سازی ہے"

لہذا انہوں نے اپنے دوستوں سے یہ اپیل کی ہے کہ:

"اس سارے انتخابی عمل کو اپنے لیے توشہ آخرت بنانے کی سعی کریں اور ہر سرگرمی و مصروفیت میں اللہ کی مغفرت کثرت سے طلب کرتے رہیں" (ہفت روزہ "ایشیا" 3 فروری 1985ء)

بہرحال اس پہلو (یعنی آزادی اظہارِ رائے) سے بھی نہ صرف ملک میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے، بلکہ اس کے ذریعے اب آخرت کی فصل تیار کرنے اور حسنات کے انبار لگانے کا موقع میسر آ گیا ہے۔

بایں ہمہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آ سکی کہ اس ثواب کے حقدار جیتنے والے ہوں گے یا شکست کھانے والے؟۔۔۔جیتنے کی صورت میں غازی کون کہلائے گا اور ناکامی کی صورت میں تاریخ سازی کس کے حصہ میں آئے گی؟

۔۔۔رہی بات جماعتی بنیادوں پر انتخابات کی، تو اب اس کا مطالبہ محض برکت کے طور پر ہے، ورنہ بحالی جمہوریت کے سلسلہ میں اب یہ پہلو بھی تشنہ نہیں ہے۔ چنانچہ "جمیعۃ العلمائے اسلام" کے دو دھڑوں کی مصالحت ابھی حال ہی میں ہوئی ہے، لیکن 29 جنوری کے اخبارات میں یہ خبر موجود ہے کہ جمعیت کا ایک گروپ ایم، آر۔ڈی سے تعاون کے لیے جن فتووں کے انتظار میں تھا، یہ فتوے اسے موصول ہو گئے ہیں، جبکہ 30 جنوری کے "جنگ" میں اس گروپ کے مخالفین کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ:

"جمعیت کی شوریی کے فیصلے کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ فیصلے سے منحرف ہو کر اپنے فتووں کا سہارا لے۔ جمعیۃ کے فیصلے سے انحراف کر کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لینے والے افراد کے خلاف جماعتی ضوابط کے تحت کاروائی کی جائے گی"

۔۔۔اس خبر سے ظاہر ہے کہ اگرچہ غیر جماعتی انتخابات کو پسندیدہ نظروں سے دیکھا جا رہا اور ان کے بائیکاٹ کے اعلان کی تجدید ہو رہی ہے، تاہم انہی انتخابات کی بناء پر پھر سے جمعیۃ کے دو سیاسی گروپ معرضِ وجود میں آ گئے ہیں۔ چنانچہ ایک گروپ کے انتخابات میں حصہ دار بننے کے لیے فتووں کا سہارا لینے کی فکر میں ہے، اور دوسرا ان بناء پر ان کے خلاف کاروائی کی دھمکی دے رہا ہے۔۔۔گویا جماعتی بنیادوں پر بھی جمہوریت بحال ہو گئی، کیونکہ امتِ مسلمہ کا سیاست کے بکھیڑون میں الجھ کر جماعت در جماعت بٹ جانا ہی عین جمہوریت ہے، اور اسی جمہوریت کی خاطر "اسلام میں سیاسی جماعتوں کی ضرورت" ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا اور اسے اسلام کی اصل تعبیر قرار دیا جاتا ہے۔۔۔ملاحظہ ہو ہفت روزہ "ایشیا" کا اداریہ، وہ اپنی 27 جنوری کی اشاعت میں لکھتا ہے:

"پچھلے دنوں اسلام کے نام پر غیر جماعتی سیاست اور غیر جماعتی انتخابات کو جس طرح حق بجانب اور اسلامی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ کسی طرح بھی مستحسن قرار نہیں دی جا سکتی، اس سے اپبی تعبیر کو زبردستی، اسلام منوانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے، جو دین کے معاملے میں درست نہیں ہے"

گویا ان لوگوں کے نزدیک دین کے معاملے میں صحیح فکر اور اسلام کی اصل تعبیر یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا جائے اور اسے گروہ بندیوں کی بھینٹ چڑھا دیا جائے، جبھی ان کے تحت منعقد ہونے والے انتخابات اسلامی ہو سکتے ہیں۔ ورنہ غیر اسلامی۔۔۔چنانچہ اب جماعتِ اسلامی انہی غیر اسلامی انتخابات میں حصہ لے کر، آخرت میں حسنات کے انبار لگانے کا سامان فراہم کر رہی ہے۔

۔۔۔قارئین کرام کو یاد ہو گا کہ یہ وہی لوگ ہیں، جو چند ماہ پیشتر "تحریکِ اتحادِ ملت" کے پرجوش علمبردار رہے ہیں (اور اس سلسلہ کے ایک پمفلٹ "امتِ مسلمہ میں فرقہ بندی کیوں؟" پر محدث کے انہی صفحات میں ہم نے تبصرہ بھی کیا تھا) ۔۔۔لیکن جب میں اور اب میں نمایاں فرق یہ ہے کہ اس وقت جمہوریت کی بحالی کے لیے "اتحادِ ملت" کی ضرورت تھی، اور آج جبکہ یہ ضرورت پوری ہو چکی ہے، "اتحاِ ملت" کے معانی یکسر بدل دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔۔۔ چنانچہ یہ بھی ملک میں جمہوریت بحال ہو جانے کا ایک اور ثبوت ہے، کیونکہ جمہوری سیاست میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔

۔۔۔سچ فرمایا اللہ رب العزت نے:

﴿قُل هَل نُنَبِّئُكُم بِالأَخسَر‌ينَ أَعمـٰلًا ﴿١٠٣﴾ الَّذينَ ضَلَّ سَعيُهُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَهُم يَحسَبونَ أَنَّهُم يُحسِنونَ صُنعًا ﴿١٠٤﴾... سورةالكهف

"(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) آپ فرما دیجئے، کیا میں تمہیں اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والوں کی خبر نہ دوں؟ ۔۔۔یہ وہی لوگ ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی تمام تر کوششیں رائیگاں چلی گئیں (تاہم) وہ یہی گمان کرتے ہیں کہ وہ بڑے اچھے اچھے کام کر رہے ہیں"

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

انسان بنیادی طور پر الہامی تعلیمات کا محتاج ہے، اور ان تعلیمات سے الگ رہ کر اپنے لیے کوئی راہِ عمل منتخب کرنے والے ہمیشہ نقصان و خسران سے دو چار رہے ہیں، اور آئندہ بھی رہیں گے۔ جبکہ ان تعلیمات کو حرزِ جان بنا لینے والے ہی ان نامرادیوں سے مامون و مصئون رہ سکتے ہیں۔۔۔ یہی حقیقت قرآن مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے:

﴿وَالعَصرِ‌ ﴿١﴾ إِنَّ الإِنسـٰنَ لَفى خُسرٍ‌ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ وَتَواصَوا بِالحَقِّ وَتَواصَوا بِالصَّبرِ‌ ﴿٣﴾... سورةالعصر

قرآن مجید نے اس حقیقت کی نقاب کشائی کے لیے "عصر" یعنی زمانہ کو بطورِ شاہد پیش کیا ہے۔۔۔چنانچہ ہم نے بھی۔۔۔"چہرہ روشن انروں چنگیز سے تاریک تر" ۔۔ کی مصداق، مغربی جمہوریت کے مفاسد کی تصویر تازہ ترین حالات کی روشنی میں کھینچی ہے۔ تاکہ جمہوریت پرستوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی توفیق میسر آ سکے۔۔۔عوامی تائید کو صحیفہ آسمانی اور ملک و ملت کی نجات کا باعث بتلانے والے نہ جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ صحیفہ آسمانی تو قرآن مجید ہے، اور قرآن مجید نے عوامی تائید کی بجائے آسمانی تعلیمات میں فلاح کا راز مضمر بتلایا ہے۔۔۔جبکہ کثرتِ رائے کو معیار حق تسلیم کرنے والوں کے برعکس قرآن کریم نے اسے راہِ الہی سے انحراف کا باعث، بلکہ ضلالت سے تعبیر فرمایا ہے:

﴿وَإِن تُطِع أَكثَرَ‌ مَن فِى الأَر‌ضِ يُضِلّوكَ عَن سَبيلِ اللَّـهِ...﴿١١٦﴾... سورة الانعام

کہ "(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپ اکثریت کی بات مانیں گے تو یہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے"

علاوہ ازیں قرآن مجید میں تقریبا 91 آیات ایسی ہیں، جن کی رو سے اکثریت ظالم، فاسق، جاہل اور مشرک وغیرہ بھی ہو سکتی ہے۔۔۔گویا یہاں، نہ صرف یہ کہ کثرتِ رائے کو معیارِ حق نہیں بتلایا گیا، بلکہ "﴿وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾" کا اعلان بھی ہو رہا ہے کہ: "میرے شکر گزار بندے تھوڑے (ہوا کرتے) ہیں"

جبکہ جمہوری نظام کثرت رائے کے اصول کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔۔اور قلت رائے اس کے نزدیک اس قدر مضغوب علیہ ہے کہ اکثریت حاکم ہے اور اقلیت محکوم، خواہ اس کثرت اور قلت میں اکیاون اور انچاس کی نسبت ہی کیوں نہ ہو۔۔۔اقبال نے بھی تو یہی کہا تھا
گریز از طرزِ جمہوری غلامِ پختہ کارے شو
کہ از مغزِ دو صد خر فکرِ انسانی نمی آید

۔۔لیکن اقبال کو حکیم الامت کہنے والوں، ان کی برسیاں منانے والوں کو یہی جمہوریت اس قدر عزیز ہے کہ ان کی یہ بات سننے کے بھی روادار نہیں ہیں۔۔۔

سچ ہے جن لوگوں نے قرآن کی پرواہ نہیں کی، وہ اقبال سے انصاف کیسے کر سکیں گے؟

حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کو اسلام سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔۔۔قرآن مجید نے اعلان فرمایا ہے:

﴿أَفَمَن كانَ مُؤمِنًا كَمَن كانَ فاسِقًا لا يَستَوۥنَ ﴿١٨﴾... سورةالسجدة

کہ "مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے"

لیکن جمہوریت میں مومن اور فاسق، عالم اور جاہل کے ووٹ کے قدر و قیمت یکساں ہے۔

۔۔۔اسلام میں طلبِ امارت ایک مذموم فعل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

"بکریوں کے ریوڑ میں دو بھوکے بھیڑئیے اتنا تباہی نہیں مچاتے، جتنی انسان کی حرصِ جاہ و مال اس کے دین کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے" (ترمذی، عن کعب بن مالک)

لیکن جمہوریت کی بنیاد ہی اقتدار پرستی اور طلبِ امارت پر قائم ہے۔

۔۔۔اسلام میں مقتدرِ اعلیٰ صرف اللہ کی ذات ہے، لیکن جمہوریت عوام کی حاکمیت کی قائل ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

﴿اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾

کہ "برے گمان سے بچو، کہ بعض گمان، گناہ ہیں"

لیکن جمہوریت برسرِ عام، لاؤڈ سپیکر پر اپنے مخالف امیدوات کو یہ دھمکی دیتی ہے کہ:

"زیادہ مت اچھلو، ورنہ اصل باپ کا نا بتلا دوں گا'

۔۔۔اسلام کا مادہ "(سلم)" یعنی "سلامتی" ہے اور "(اسلم تسلم)"۔۔۔یعنی "اسلام لے آؤ، سلامتی میں داخل ہو جاؤ گے" ۔۔۔ کا نعرہ لگاتا ہے، لیکن جمہوریت تخریب کاری، فساد فی الارض اور ہڑبونگ مچانے کا دوسرا نام ہے۔

۔۔۔اسلام عورت کا یہ حکم دیتا ہے:

﴿وَقَر‌نَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّ‌جنَ تَبَرُّ‌جَ الجـٰهِلِيَّةِ...﴿٣٣﴾... سورةالاحزاب

کہ "(باعزت طریقے سے) گھروں میں بیٹھو اور زمانہ جاہلیت کی طرح بن سنور کر نہ نکلو"

لیکن جمہوریت کے نزدیک عورت کا جلسہ گاہوں میں تقریریں کرنا، اسمبلیوں میں بن سنور کر جانا اور غیر مردوں سے بے حجابانہ گفتگو ہی اس کی عوامی نمائندگی کی دلیل ہے۔

۔۔۔اسلام فرماتا ہے کہ:

﴿فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُ‌دّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سولِ...﴿٥٩﴾... سورةالنساء

"اگر کسی معاملہ میں تمہارا آپس میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دو (یعنی اس کو دور کرنے کے لیے کتاب و سنت کی طرف رجوع کرو)"

لیکن جمہوریت یوں گویا ہوتی ہے کہ:

"ہم پاکستان کو ایک رجعت پسند مذہبی ریاست بنانا پسند نہیں کرتے"

۔۔۔اسلام گانے بجانے کو حرام قرار دیتا ہے لیکن جمہوریت گویوں کو بھی قومی راہنما تسلیم کر لیتی ہے۔

۔۔۔اسلام اولاد کو یہ حکم دیتا ہے کہ والدین کے لیے اپنی آغوشِ رحمت وا کر دے، لیکن جمہوریت باپ کے مقابلے میں بیٹے کو بھی میدان میں لے آتی ہے۔

۔۔۔اسلام اتحاد و اتفاق کا درس دیتا ہے اور افتراق و انتشار کو مشرکین کا شیوہ بتلاتا ہے، لیکن اسلامی جمہوریت کے علمبرداروں کے نزدیک جماعتی گروہ بندیاں ہی عین اسلام ہے۔

۔۔۔اسلام دھوکہ باز سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے، لیکن جمہوریت میں جو جتنا بڑا دھوکہ باز ہوتا ہے، اتنا ہی بڑا وہ سیاسی لیڈر ہوتا ہے اور اسی قدر ووٹوں کی اکثریت سے وہ جیت جاتا ہے۔

۔۔۔اسلام سادگی، قناعت اور کفایت شعاری کا حکم دیتا ہے اور اسراف و تبذیر سے روکتا ہے، لیکن جمہوریت انتخابی مہم میں، خود لُٹ جانے اور انتخاب کے بعد کامیابی کی صورت میں، دوسروں کو لوٹ لینے سے عبارت ہے۔

۔۔اسلام ایفائے عہد کی سختی سے تلقین کرتا ہے ، لیکن جمہوریت
وہ وعدہ کیا جو وفا ہو گیا
 
کی مصداق ہے

۔۔اسلام جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیتا ہے، لیکن جمہوریت فساد فی سبیل الجمہوریۃ کا درس دیتی ہے۔

۔۔اسلام "(سيدالقوم خادمهم)" کا فلسفہ بتلاتا ہے لیکن جمہوریت عوام کو، آزادی کے پردوں میں بدترین آمریت کی دعوت دیتی ہے
ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیز از نوائے قیصری

۔۔افسوس، اس جمہوری نظام کے شیدائیوں نے، اس کے بنیادی خطوط کو قائم رکھتے ہوئے، اس کے ساتھ 'اسلام" کا لفظ چسپاں کر کے اسے "اسلامی جمہوریت" کے نام سے متعارف کروا دیا ہے، حالانکہ اسلام سے اس کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔ حد یہ کہ ان لوگوں نے اب خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے دور حکومت میں بھی جمہوریت کی تلاش شروع کر دی ہے، جبکہ اس سے قبل آمریت کو بھی اسلامی روح کے زیادہ قریب بتلایا گیا ہے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کا نظامِ خلافت اپنی امتیازی بنیادوں پر قائم ہوا۔ لیکن اگر کوئی اس نظام کی مرکزیت سے آمریت، یا خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم پر عام لوگوں کی تنقید سے، جمہوریت کی مزعومہ آزادی کشید کرتا ہے، تو بعض پہلوؤں سے کسی دیگر نظام کی اسلام سے اتفاقیہ ہم آہنگی کی بنا پر نہ تو آمریت اسلامی بن سکتی ہے اور نہ اسلامی جمہوریت ایسی کوئی مضحکہ خیز اصطلاح استعمال کرنا دانشمندی کی دلیل بن سکتی ہے۔۔۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا مشرکین نے اپنے بتوں کے نام بعض خدائی صفات کے حامل رکھ دئیے تھے، لیکن قرآن مجید نے وضاحت فرمائی کہ:

﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ...إِن هِىَ إِلّا أَسماءٌ سَمَّيتُموها أَنتُم وَءاباؤُكُم ما أَنزَلَ اللَّـهُ بِها مِن سُلطـٰنٍ... ﴿٢٣﴾... سورةالنجم

"اللہ کی مثل کوئی دوسری چیز نہیں ہے"۔۔۔"یہ تو بس چند نام ہیں جن کو تم نے اور تمہارے آباؤ و اجداد نے گھڑ لیا ہے، لیکن جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری"

چنانچہ جس طرح خالقِ ارض و سماء کی ہمسر اور مثل کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی، بالکل اسی طرح، اس خالقِ ارض و سماء کے مقرر کردہ دین کا بھی کوئی دوسرا وضعی نظام مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَن يَبتَغِ غَيرَ‌ الإِسلـٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ ... ﴿٨٥﴾... سورةآل عمران

"جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اپنے لیے تلاش کرنا چاہتا ہے تو یہ (دین) ہرگز ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔

۔۔اور اس کی زد ہماری دنیوی زندگی پر ہی نہیں پڑتی، بلکہ آخرت میں بھی یہ بات ہمارے لیے خسران و ذلت کا باعث ہے، اعاذناللہ منہ

پاکستان میں ملت اسلامیہ کا قافلہ گزشتہ سینتیس (37) سال سے تاریکیوں میں بھٹک رہا ہے۔۔۔وہ کبھی جمہوری نظام میں اسلام کی تلاش کرتا ہے تو کبھی صدارتی نظام میں، لیکن اسلام کو بحیثیت اسلام قبول کرنا، اسے گوارا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے اور تو سب کچھ ملا، پر اسلام نہ مل سکا۔ لے دے کے موجودہ حکومت کے دور میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب یہ اسلام ایسی نعمتِ عظمیٰ سے ہمکنار ہو سکے گا، لیکن نہ جانے کن مجبوریوں نے اسلام کی علمبردار اس حکومت کو جمہوریت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا کر، پاکستان کو جدید جمہوری ریاست بنانے کے شوق میں مبتلا کر دیا ہے؟۔۔۔ اور نتیجہ اسلام سے ہم پھر ایک مرتبہ دور دھکیل دئیے گئے ہیں۔

۔۔۔ہم علی وجہ البصیرت یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغربی جمہوریت دورِ حاضر کا وہ بت ہے، جس کو گرائے بغیر پاکستان میں نفاذِ اسلام ممکن نہیں۔۔۔جی ہاں، حالات کی ستم ظریفی نے ہمیں یہی بتلایا ہے کہ پاکستان میں اگر خیر و شر کے پیمانوں کو ماپنے کا یہی انداز رہا تو اسلام کے نام پر شاید ہم، ہر لغت کو گلے لگا لینے کے لیے تیار ہو جائیں گے، لیکن اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت میں خدانخواستہ ہمیں اسلام ہی نہ مل سکے گا۔۔۔بلکہ جمہوریت کے اس ہڑبونگ میں پاکستان پھر ایک مرتبہ حقیقتا بحران کی زد میں ہے، اور کوئی نہیں جانتا، اس کا انجام کیا ہو گا؟۔۔۔ہم صرف دعا کر سکتے ہیں کہ اے اللہ، اس قوم کو اس کی روٹھی ہوئی منزل واپس دلا دے۔۔۔

(اللهم وفقنا لماتحب وترضى امين

(واخر دعوينا ان الحمدالله رب العالمين)