خدا کاشکر جو حکمتوں کاالہام کرنےوالا اور نعمتیں بخشنے والا ہے۔ اور صلوۃ وسلام ہو عرب وعجم کےسردار پر اورآپ کےاصحابہ پر امابعد فقیر اللہ عفی عنہ یہ چند کلمات پیش کرتا ہےجن سے میں اپنے احباب اوراولاد کووصیت کررہاہوں۔اس تحریر کاکانام میں مقالہ وصیت فی النصحیۃ ولوصیۃ تجویز کیا ہے۔ خدا کافی ہے اوربہتر کارساز ہےوہی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرنےوالا ہا۔

وصیت اول:

اس فقیر کی پہلی وصیت اعتقاد اور عمل میں کتاب وسنت کے ساتھ سحتی سے تمسک کرنا ہے ۔ اور ان دو میں ہمیشہ غور وفکر کرتےرہنا اور ہروز ان ہر دو میں سے کچھ نہ کچھ حصہ پڑھنا ۔اگر پڑھ نہ سکے تو ان دونوں میں سے چند اوراق کاترجمہ سننا۔اور متقدمین مذاہب اہل سنت کےعقائد کو اختیار کرنا اور ان باتوں کی تفصیل وتفتیش سے بچںا جن میں سلف صالحین نےتفتیش نہیں کی ۔ اور خام کار عقل پر ستوں کی شکوک پرستیون کی طرف توجہ نہ دینا۔اورفروعات میں ان علمائے محدثین کی پیروی کرنا جو فقہ ارو حدیث کے جامع ہیں نیز قفہی تفریعات (فروعی مسائل ) کوہمیشہ کتاب وسنت کی روشنی میں دیکھنا ۔ جو کتاب وسنت کے موافق ہوں انہیں قبول کرلینا اور جو موافق نہ ہوں انہیں کلا لائے بدبریش خاوند (1)قرار دےکر چھوڑدین یہ درست ہے کہ اجتہاد ی مسائل کوکتاب وسنت کےمطابق پیش کرنےیا کتاب وسنت کی روشنی میں ان مسائل کو حل کرنےکی بغیر امت کوکسی وقت چارہ کار نہیں تاہم ان فقہا ء کی بے مغز اوربے بنیاد باتوں کوجنھوں نے ایک دنیا کی تقلید ہی کو اپنی دستاویز (سند) بنارکھا ہے اور سنت کی پیروی کوترک کرچکے ہیں نہ سننا چاہیے ان کی طرف توجہ نہ دینا چاہیے اورخدا کاقرب ان کی دوری میں تلاش کرناچاہیے۔

دوسری وصیت:

امر بالمعروف کی حد جیسی کہ اس فقیر کےدل میں ڈال دی گئی ہےیہ کہ فرائض کبیرہ گناہوں اورشعائر اسلام کےسلسلہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیک کاموں کا حکم دینا اوربرےکاموں سے روکنا) پوری سختی کےساتھ کرناچاہیے اور ان لوگوں کےساتھ میل جول نہیں رکھنا چاہیے جو اس معاملہ میں سستی اختیار کرتے ہوں۔ بلکہ ان کادشمن بن چاہیے اورتما امور میں بالخصوص ان معاملات میں جہاں متقدمین یا متاخرینی نےاختلاف کیا ہو وہاں امر بالمعروف اورنہی عن المنکر یہی کافی ہےکہ اس بات کاذکر کردیا جائے اس میں زیادہ سختی کرنااچھا نہیں۔

تیسری وصیت:

یہ ہے کہ اس زمانہ کےمشائخ کےہاتھ میں ہاتھ ہرگز نہ دینا چاہیے نہ ان کی بیعت کرنا چاہیے عوام کےہجوم اورکرامات کادھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ عوام کاہجوم رسمی ہوتا اور رسم کا حقیقت کے مقابلے میں کوئی وزن نہیں ۔اس زمانہ کے کرامات فروش (الاماشاء اللہ ) طلسمات اورفریب سازیوں کوکرامات سمجھےہوئے ہیں ۔اسی اجمال کی تفصیل یہ ہےکہ خرق عادت یا کرامات کی مشہور قسمیں اشراف (دوسرے کےدلوں کیے ارادوں کومعلوم کرنا) اورآئندہ کےواقعات کاانکشاف ہےاور اس اشراف انکشاف کےبیشمارطریقے ہیں۔

ازا،جملہ نجوم اور رمل کاعلم بھی ہے۔تم نہیں جانتے کہ علم نجوم میں حکم لگاناتویے البیوت (خانوں کی برابری ) پر موقوف ہے۔اور رمل کےلیے زائچہ درکار ہوتا ہے۔

ہمارا تجربہ ہےکہ علم نجوم کاماہر جب معلو م کرلیتا ہےکہ دن کس ساعتوں میں سے اب کونسی ساعت ہےتو یہاں سے اس کاذہن طائع کی کرف منتقل ہوتاہے اورتمام خانے اور ستاروں کی جگہیں اس کےذہن میں متصور ہوجاتی ہیں۔ایسی کہ گویا خانوں کی برابری اس کےسامنے کھڑی ہے ۔ ایسے ہی رمل کےفن کاماہر کبھی اپنے دل میں متعین کرلیتا ہےکہ فلاں انگلی کومیں لحیان(رمل کی ایک شکل یعنی مترجم) قرار دےلیاا ہےاورفلاں انگلی کو فلاں شکل ....... تب اس کے ذہن میں آجاتا ہے کہ ان شکلوں سےکونسی شکل پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کازائچہ سامنے آجاتا ہے۔اور ازاں جملہ مختلف قسموں میں کہانت بھی ہے اوریہ فن بہت وسیع ہے کبھی جنوں کی حاضر سے اور کبھی ان کی حاضری کےبغیر بھی۔ اورازاں جملہ ایک طلسم کاباب بھی ہے جوستاروں کی قوتوں کوایک صورت میں بند کرتے ہیں اور ان سے اشراف (دوسروں کےدلوں کاحال معلوم کرنا) حاصل ہوجاتا ہے اور جوگ کےعمل بھی ہیں کہ جوگیوں کی بعض نظروں میں اشراف اورکشف کے سلسلہ میں پوری خاصیت ہے۔ جوشخص ان معاملات میں تحقیق چاہتا اسے ان فنون کی کتابوں کی طرف رجوع کرناچاہئے ۔کسی کام پر توجہ دینا کسی مہیب شکل میں ظاہر ہوتا اپنے دل کادباؤ کسی کے دل پر ڈالنا اورطالب کو مسخر کرنا یہ سب فریب آفرین فنون میں سے ہیں۔ایسی چند نگاہیں اور ملاحظات ہیں جواس مقام تک پہنچادیتے ہیں ۔صلاح وفساد سعادت وشقاوت اور مقبول یامردود ہونا یہاں کوئی فرق پیدا نہیں کرتا ۔ اورایسے ہی حاضرین میں وجد اور شوق بیقراری اورمسرت بھی کوئی وزن نہیں رکھتی۔ ان کوائف کامنشا ء اورمحرک قوت بہیمیہ (حیوانیت) ہے ۔لہذا جس کی حیوانیت قوی تر ہے اس کاوجد بھی پرجوش ہوتا ہے۔البتہ یہ اعمال اورایسے افعال بعض نیک لوگ نیت کی بناء بر کترتے ہیں۔ اوریہ چیز ان اعمال کوکرامات نہیں بنادیتی ۔جیساکہ پوشیدہ نہیں! ہم نےبہت سے سادہ لوحوں کےدیکھا ہےکہ جب ایسے اعمال کسی شیخ میں دیکھ باتے تو ان عین کرامت یقین کرلیتے ہیں۔صحیح چارہ کاریہی ہےکہ حدیث کی کتابیں مثلا صحیح بخاری مسلم سنن ابی داؤد اورترمذی اور پھر فقہ حنفی اورشافعی کی کتابیں پڑھی جائیں۔اورظاہر سنت پر عمل کیاجائے اوراگر حق سبحانہ تعالی دل میں سچا شوق عنایت فرمائے اور اس راہ کی طلب غالب ہوتو کتاب عوارق میں سے نماز روزہ اوردیگر اذکار سے اپنے اوقات کورونق بخشے ۔نقشبندیوں کےرسائل طریقت میں رہنمائی حاصل کرنےمیں مفید ہیں۔ ان بزرگوں نے ان ہر دوباب کوایسے طریقے سےروشن کردیا ہے کہ کسی مرشد کی تلقین کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی۔

جب عبادت کےنور کی کیفیت اوریاداشت کی نسبت حاصل ہوجائے اس پر مواظبت یعنی مسلسل عمل کیا جائے اوراگر اس اثناء میں میں کوئی بزرگ مل جائے جس کی صحبت تاثیر لوگوں میں اثر کرتی ہو تواس کی صحبت اختیار کرلے۔یہاں تک کہ مطلوبہ حالت ملکہ بن کر طبیعت میں راسخ ہوجائے اس کےبعد گوشہ میں بیٹھ جائے اورملکہ راسخہ میں مشغول رہے ۔اس زمانہ میں ایسا کوئی نہیں۔الاماشاء اللہ جو من کل الوجو کمال رکھتا ہو اگر کسی ایک وجہ سےباکمال ہےتودوسری وجہ سے خالی ہوگا۔پس جوکمال موجود ہےوہی حاصل کرلینا چاہیے اوردوسری چیزوں سےچشم پوشی کرلینی چاہیے۔خذ ماصفا ودع ماكدر(جوصفات ہے لے لو اورجوگدلا ہے اسے چھوڑدو)

صوفیائے کرام کی نسبت بہت بڑی غنیمت ہے اور اس کی رسمیں لاشے محض ہیں۔

یہ بات اکثر لوگوں کےدلوں ضرور گراں گزرے گی لیکن مجھے ایک کام پر مامور فرمایا گیا ہے ۔مجھے اس کےمطابق کہنا ہےاورکسی عمر وزید کے کہے پر انحصار اورتوقف نہیں کرناچاہیے۔

چوتھی وصیت:

جاننا چاہیےکہ ہمارے اوراس زمانہ کےمشائخ کےدرمیان اختلاف ہے۔ صوفی منش لوگ کہتے ہیں کہ اصل مطلوب شے فنا اوربقا اور استہلاک (طلاب ہلاکت) اور انسلا خ (خودی کاترک)ہے ....... اور معاشی مسائل کی نگہداشت اوربدنی اطاعتوں کاقائم رکھنا جن کاشریعت نےحکم دے رکھا ہے صرف اس لیے ہےکہ ہر کوئی اس اصل مذکورہ حقیقت تک پہنچ نہیں سکتا۔ ملايدرك كله لايترك كله( جوشے پوری نہ حاصل ہوسکتی ہو وہ ساری کی ساری چھوڑ بھی ن دینی چاہیے)۔علم کلام والے کہتے ہیں کہ جوکچھ شرع میں آچکا ہےاس کے سوا کوئی چیز مطلوب نہیں۔اور ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کی صورت نوعیہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے شرع کےبغیر کوئی چیز سرے سے مطلوب نہیں اورشارع نےاس اصل کوپورا پورا خاص وعام کےلیے بیان فرمادیا ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان نوع اسی وجہ پر پیدا ہوتی ہےکہ یہ ملکی قوت اور بہیمی (حیوانی) قوت کی جامع ہے۔اس کی سعادت ملکی قوت کومدددینے میں ہے اور اس کی شقاوت وبدبختی بہیمی قوت کو تقویت پہنچانےمیں ۔یہ ایسی صورت میں پیدا ہوا ہےکہ اس کا نقش اعمال اوراخلاق کےرنگوں کوقبول کرکے انہیں اپنے اندر محفوظ کرلیتا ہے اور موت کےبعد انہیں پنےہمراہ لےجاتا ہے ۔بالکل اسی طرح جس طرح اس کاجسم غذا کی کفیتوں کولے کر جز وبدان بنالیتاہے اور اسی وجہ سےبدہضمی اورتپ وغیرہ جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اورجس دوسری روحانی وجہ پر انسان پیدا ہوا ہوسکتاہےکہ فرشتوں کےمقام (خطیرہ القدس) سےاس کا الحاق ہوجائے اور وہاں سے الہام حاصل کرلے ارو پھر وہ کچھ بھی جو الہام کےضمن میں آسکتا ہے اگر ملائکہ کی طرف میل رکھتا ہوگا توسرور راحت حاصل کرے گا اوراگر ان سےنفرت کی کیفیت رکھتا ہوگا تو تنگی اورمحشت۔غرض چونکہ انسان نوع اسی وجہ پر ظہور میں آئی تھی کہ اگر انسان کوانسان کے حال پر ہی چھوڑ دیاجاتا تونفسانی بیماریاں اکثر افراد کودکھ دیتیں ۔ اس لیے حق سبحانہ وتعالیٰ نےمحض اپنے فضل وکرم ان کی کایازی فرمائی اوران کےنجات کی ایک راہ متعین کردی اور لسان غیب کےترجمان حضرت پیغمبر کو ان ہی میں سےان کی طرف بھیج دیا ۔تاکہ نعمت پوری ہووہ الوہیت الہیہ جوشروع میں ان کےپیدا کرنےکی منشاء تھی اوردوسری بار ان کے ہاتھ لگ جائے ۔پس ان کی صورت نوعیہ نےاپنی زباں حال سے شرع کےمبداء فیاض سے مانگ لیا۔اورچونکہ انسان میں صورت نوعیہ سرایت کیے ہوئے ہے اس لیے اس کا حکم تمام افراد نوع کےلیے لازم ہے۔اس میں افراد تنہائی کے انتہائی غلو میں پیداہوتے ہیں اورخدا تعالیٰ ان کی راہ دکھا دیتا ہےاوریہ شریعتوں کاحکم نہیں بلکہ اس خاص فرد کی زباں حال نےاس کی انفرادی خصوصیت کی وجہ سےیہ تقاضا کیا ہے شارع کاکلام ہرگز اس پر محمول نہیں نہ تصریحا اور اشارۃ۔ایک گروہ نےان مطالب کوشارع کاکلام سمجھ رکھاہے۔اس شخص کی طرح جس طرح ایک آدمی لیلیٰ مجنوں کاقصہ سنتا ہےاورہربات کو اپنی ذات پر محمول کرتا چلاجاتا ہے۔اور اسےان لوگوں کے عرف میں اعتبار کہتے ہیں۔غرض انسلاخ اوراسہلاک کے مقدمات میں افراط کی حد کو پہنچنا اور ان میں ہر کس وناکس کامشغول ہوجانا ملت مصطفویہ میں پرانی بیمار ی ہے۔اللہ رحم کرے ہر اس شخص پر جو ان نیکیوں کے جمع کرنے میں کوشش کرتا ہے ۔خواہ وہ بعض کے لیے ذاتی استعداد ہی رکھتے ہوں۔ہرچند یہ بات ہمارے زمانہ میں بعض صوفیوں پر گراں ہی گزےتی ہو لیکن مجھے جوحکم دیا گیا ہے اس کےمطابق کہہ رہاہوں۔ مجھے عمور وزید سے کوئی سروکار نہیں ۔

پانچویں وصیت:

یہ ہےکہ آنحضرتﷺ کےصحابہ کےحق میں اچھاعقیدہ رکھنا چاہیے اوران کومناقب کےسوازبان نہ کھولنی چاہیے۔ اس مسئلہ میں دوجماعتوں نے غلطی کی ہے ۔ایک گروہ نےخیال کیا ہے کہ یہ باہم صاف دل تھےاوران وہم وخیال میں بھی کبھی جھگڑوں پر گواہ ہیں۔ اوران متواتر احادیث کاانکار نہیں کیا جاسکتا۔اور دوسرے گروہ نےجب ان باتوں کو ان کی طرف منسوب دیکھا تو لعن وطعن کی زباں کھول دی۔ اورہلاکت کی وادی میں گمراہ ہوگئے ۔اس فقیر کے دل میں ڈلا گیا ہے کہ اگرچہ اصحاب معصوم نہ تھے اور ان کےبعض عوام سےممکن ہےکہ کئی چیزیں ایسی وقوع میں آئی ہوں کہ دوسرے سےاگر ان جیسی ظہور میں آئیں تو طعن اورجرح موجب بن جائیں لیکن ایک مصلحت کی پایندی تحت ان کی برائیاں بیان کرنےسے روک رکھنے پر مامو ہیں اور ان کی جرح اورطعن سےمنع کردیے گئےہین۔ اور وہ مصلحت یہ ہے کہ اگر ان کےحق میں جرح کادروازہ کھل جائے تو حضرت پغیمبر ﷺ کی طرف روایت منقطع ہوجاتی ہے ۔ اورسوای کے منقطع ہوجانےمیں ملت کی تباہی ہے اورجب ہرصحابی سے روایت لے لی جائے تواکثر حدیثیں متواتر بن جاتی ہیں اورامت کی پابندی حکم کے لیے ایک حجت قائم ہوجاتی ہےاوربعض پر اس نقل میں خلل پیدا کردیتی ہے۔

اس فقیر نے آنحضرت ﷺ کی روح بر فتوح سے سوال کیا کہ حضور شیعہ کےباب میں کیا فرماتے ہیں جواہل بیت کی محبت کےمدعی ہیں او رصحابہ کوبرا کہتے ہیں؟ آنحضرتﷺ نے روحانی کلام کی ایک قسم کے ذریعے القا فرمایا کہ ان کا مذہب باطل ہے اور ان کے مذہب کا باطل ہونا امام کے لفظ سے معلوم ہوجاتا ہے۔

جس اس حالت سے افاقہ حاصل ہوا میں نے امام کے لفظ میں غور کیا۔ معلوم ہوا کہ امام ان کی اصطلاح میں ' معصوم مفترض الطاعۃ منصوب للخلق' (معصوم جس کی اطاعت فرض ہو اور خلق پر مقرر کیا گیا )ہے۔اور باطنی وحی کو امام کے حق میں تجویز کرتے ہیں ۔ پس فی الحقیقت یہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔ گوزبان سے آنحضرتﷺ کو خاتم الانبیاء کہتے ہیں۔

اور جیسا کہ صحابہ ؓ کے حق میں نیک عقیدہ رکھنا چاہیے، ایسے ہی اہل بیت کے حق میں بھی معتقد رہنا چاہیے اوران میں سے صالحین کو مزید تعظیم سےمخصوص سمجھنا چاہیے۔''قد جعل الله لكل شئ قدرا"(خدا نے ہر اکی شے کی ایک قدر مقرر کر رکھی ہے)

اس فقیر کو معلوم ہوا ہے کہ دوازدہ امام بعض نسبتوں سے نسبتی قطب ہیں اور تصوف کو ان کی مدت ختم ہونے کے بعد رواج حاصل ہوا ہے ۔ لیکن شریعت اور عقیدے کو پیغمبرؐ کی حدیث کے سوا کہیں سے نہیں لیا جاسکتا ہے۔ ان کی قطبیت ایک باطنی معاملہ ہے۔ شرعی تکلیف سے ا س کا کوئی تعلق نہیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک کا حکم اور اشارہ دوسرے( بعد میں) آنے والے پر اسی قطبیت کے اعتبار سے ہے اور امامت کے رموز بھی جوان لوگوں کے بیان کردہ ہیں، اسی قطبیت کی طرف راجع ہیں۔

جن پر اپنے بعض خالص یاروں کو انہوں نے مطلع کیا ہے۔ پھر کچھ مدت بعد ایک گروہ نے زیادہ غور تعمق سے کا م لیا اور ان کی باتوں کو کسی اور سانچے میں ڈھال لیا۔ واللہ المستعان

چھٹی وصیت

یہ ہے کہ علم حاصل کرنے کے طریقہ میں، جیسا کہ تجربہ میں ثابت ہوچکاہے، یہ ہے کہ سب سے پہلے صرف ونحو کےمختصر رسالے پڑھیں۔ہر ایک تین تین یا چار چار طالب علم کے ذہن کے مطابق۔ اس کے بعد تاریخ یا حکمت عملی کی کوئی کتاب، جو عربی زبان میں ہو، یاد کریں۔ اور اس اثناء میں تلاش وجستجو کرطریقے پر لغت کی کتابیں دیکھیں اور مشکل کو اس کی جگہ سے حل کرنے کی استعداد پیدا کریں۔ جب عربی زبان پر قدرت حاصل ہوجائے تو کتاب مؤطا بروایت یحی بن یحی مصمودی پڑھیں اور اس بات کو ہرگز نہ بھولیں کہ اصل شے حدیث کا علم ہےاوراس علم کو پڑھنا بہت نفع رکھتا ہے۔ ہمیں ان سب کا سماع مسلسل حاصل ہے۔

بعد ازاں قرآن ایسے طریقے سے پڑھے کہ قرآن کے حروف ترجمہ اور تفسیر کے بغیر ہوں اور جوبات مشکل نظر آئے علم نحو اور شانِ نزول پر توجہ دیں اور غور کریں۔ درس سے فارغ ہونے کے بعد تفسیر جلالین کو درس کے انداز کے مطابق پڑھیں۔

اس طریقے سے بڑے فیض حاصل ہوں گے۔

اس کے بعد ایک وقت صحیح بخاری اور مسلم وغیرہ حدیث کی کتابیں اور فقہ ، عقائد اورسلوک کی کتابیں پڑھیں جائیں اور دوسرے وقت میں علم معقول کی کتابیں مثلاً شرح ملا اور قطبی وغیرہ۔ اگر میسر ہوسکتے توایک دن مشکوٰۃ اور دوسرے دن اسی قدر شرح طیبی پڑھیں۔ یہ بہت مفید رہے گا۔

ساتویں وصیت

ہم عربی لوگ ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد مسافرت کے صورت میں سرزمین ہند میں وارد ہوئے۔ نسل کی عربیت اور زبان کی عربیت ، دونوں پر ہمیں فخر و نازہے۔ کیونکہ یہ دونوں نسبتیں ہمیں سید اولین و آخرین افضل انبیاء والمرسلین ، فخر موجودات علیہ وعلی آلہ الصلاۃ والتسلیمات کے ساتھ قرابت کا اعزاز بخشتی ہے۔ اس نعمت عظمی کا شکریہ یہی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو نہ بھولیں۔

جب عرب جہاد کے سلسلہ میں عجم (دوسرے ممالک) میں پھیلے تو حضرت عمرؓ کو خطرہ پیدا ہوا کہ یہ لوگ عجمیوں کی رسموں کو اختیار کرلیں گے اور عرب کی طرززندگی کو بھول جائیں گے۔ سوا نہیں فرمان لکھا کہ:

''تہبند باندھو اور چادر پہنو۔ جوتا پہنو اور جرابیں چھوڑ دو۔ پاجامے پہننے ترک کردو اور اپنے باپ اسماعیل کے لباس کو لازم پکڑے رکھو۔ اور اپنے آپ کو عجمیوں کی شکل و صورت اور آرام طلبیوں ، ناز پروریوں اور نعمت پرستیوں سے دور رکھو۔ دھوپ میں بیٹھنا لازم رکھو۔ بیشک سورج عربوں کا حمام ہے اور معد کی قوم کے طریقے پر قائم رہو۔ درشت لباس پہننے والے اور جفاکش بنے رہو۔ کہنہ پوشی کی عادت نہ بھولو اور اونٹوں کو قابو میں رکھو یعنی پکڑو اور خوب کام میں لاؤ۔ اور گھوڑوں پر جست لگا کر سوار ہو اور تیر نشانوں پر چھوڑو۔''

ہندوؤں کی بری رسموں میں سے ایک یہ ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا ہے ،اسے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ طریقہ عرب میں ہرگز نہ تھا۔ نہ آنحضرتﷺ سے پہلے اور نہ آپؐ کےوقت میں اور نہ آنحضرت ﷺ کے بعد۔ اللہ تعالی اس پر رحم کرے جو اس بری رسم کو مٹادے اورلاشئے کردے۔ اور اگر عوام الناس میں سے اس کا مٹانا ممکن نہ ہوتو کم از کم اپنی قوم میں عرب کی اس رسم کو رواج ضرور دے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس کی عادت کو برا ضرور سمجھے اور دل سے اس کا دشمن رہے ۔ کیونکہ نہی عن المنکر کا کم سے کم درجہ یہی ہے۔

ہم لوگوں کی بری عادتوں میں سے دوسری یہ ہے کہ مہر بہت زیادہ مقرر کرتے ہیں آنحضرتﷺ نے جن کا وجود ہی اس دین ودنیا کی عزت کی انتہا ہے، اپنےاہل بیت ، جوسب لوگوں سے بہترین لوگ ہیں، ان کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ مقرر فرمایا ہے اور یہ پانچ صددرہم بنتا ہے۔

ہم لوگوں کی بری رسموں میں سے ایک ، شادی میں فضول خرچی ہے اور اس میں بہت فضول رسمیں ادا کرنا۔

شادیوں کے سلسلہ میں آنحضرتﷺ نے دوشادیوں کا تقرر فرمایا ہے۔ ایک ولیمہ اور دوسرے عقیقہ ان دونوں کو اختیار کرلینا چاہیے اور ان کے علاوہ سب کو چھوڑ دینا چاہیے یا ان کے التزام میں اہتمام نہ کرنا چاہیے۔

اور پھر ہم لوگوں کی بری عادتوں اور رسموں میں سے ماتموں میں اسراف ہے۔ تیسرا (قل) چالیسواں (چہلم) اور شش ماہہ اور سالانہ فاتحہ خوانی، ان سب رسموں کا پہلے عربوں میں نام تک نہ تھا۔ مصلحت یہ ہے کہ میت کے وارثوں کی غمخواری اورماتم پرسی تین دن تک ہواور ان کو ایک رات دن کا کھانا کھلانے کو سوا کوئی رسم ادا نہ کی جائے۔ تین دن کے بعد قبیلے کی عورتیں جمع ہوں اور میت کے گھر کی عورتوں کے لباس میں خوشبو استعمال کریں اور اگر میت کی بیوی ہے تو عدت کی مدت ختم ہونے پر سوگ ختم کردے۔

ہم میں سے نیک اور سعادتمند وہی ہے جو عربی زبان ، صرف ونحو اورادب کی کتابوں سے مناسبت پیدا کرے اور قرآن وحدیث کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ فارسی ہندی کتابوں، شعروسخن اور علم معقول اور جوکچھ غیر ضروری پیدا کردیا گیا ہے اور بادشاہوں کی تاریخوں اور سرگزشتوں کا مطالعہ اور صحابہ کے جھگڑے ، یہ سب تہ بتہ گمراہی اور ضلالت محض ہے۔

اگرزمانے کی رسم کے مطابق اور علوم میں دخل دینا پڑے تو کم از کم یہ ضروری ہے کہ اس کو صرف دنیا کاعلم جانے اوراس سے متنفررہے۔ استغفار کرتارہے اور ندامت محسوس کرے۔

آٹھویں حدیث

حدیث میں آیا ہے:

«من أدرك منكم عيسى ابن مريم فليقرئه مني السلام »

'' جوشخص تم میں سے عیسیٰ بن مریمؐ کے عہد کو پائے انہیں میری طرف سے سلام کہے''

یہ فقیرپوری آرزو رکھتا ہے کہ اگر حضرت روح اللہ کے زمانے کو پاؤں توجو سب سے پہلے سلام پہنچائے وہ میں ہوں اوراگر میں ان کو نہ پاؤں تو جو شخص میری اولاد اور اس فقیر کے پیروؤں میں آپؐ کے مسرت انگیز مبارک زمانے کو پائے گا سلام پہنچانے میں پوری کوشش کریگا۔ تاکہ حضور اکرمﷺ کے لشکروں کے آخری دستے میں شامل ہو۔

والسلام على من اتبع الهدى
حاشیہ

1.براسامان برى سامان والى كے منہ بر دے مارو فارسی زبان کاایک محاورہ ہےجوعطائے توبہ لقائے تم کی طر ح استعمال ہوتا ہے

2. 1رسائل نقشبندیہ جیساکہ کلمات قدسیہ بہاؤ الدین نقشبند اور فقرات عبداللہ احرار اوردوشرے کلمات باقی باللہ اورمکتوبات حضرت مجدد الف ثانی ﷫ اور ایسے ہی دیگر رسائل سبیل الرشاد وغیرہ