آئینہ رو برو کیجئے
پھر کوئی نقد فرمائیے
اک ذرا سی خوشی کے لیے
کتنے غم ہم نے اپنا لیے
مہر سے کوئی شکوہ نہیں
ماہ نے جسم جھلسا دیے
راہزن بن گئے راہبر
کتنے شاعر ہیں بہروپئے
مجرمِ حق ہوں میں شہر میں
بخشئے یا سزا دیجئے
دیکھ کر ان کے در کی طرف
کیوں کوئی اور در دیکھئے
آپ تابش سے ہیں بدگماں
بندہ پرور ذرا سوچئے