میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حضرت الامام السید مولانا عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1331ھ)

1268ھ میں غزنوی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے بھائی مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1293ھ) اور مولانا احمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے اور شیخ الکل حضرت مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1320ھ) سے حدیث کی سند حاصل کی۔ 20 سال کی عمر میں تمام علومِ متداولہ سے فارغ ہو گئے۔ بہت ذہین تھے۔ مطالعہ بہت کرتے تھے۔ فہم و فراست میں حسہ وافر ملا تھا۔ اپنے والد بزرگوار کی طرح اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے تھےاور مخلوق کو اللہ کی طرف بلانے میں مشغول رہتے۔ آپ بہت بڑے عالم، فاضل، جامع معقول و منقول تھے۔ حضرت مولانا سید عبداللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہجرت کے ساتھی تھے۔

توحید و سنت کی اشاعت میں بہت حصہ لیا اور امرتسر پنجاب میں توحید و سنت کا خوب بولا بالا ہوا۔

1319ھ میں مدرسہ غزنویہ نویہ المعروف تقویۃ الاسلام کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے مدرسہ کا نام نہیں تھا۔ مگر تدریس جاری تھی۔ اس پہلے دور میں مولانا محمد حسین بٹالوی (م 1338ھ) اور حضرت الامام صاحب مدرس تھے۔ تلامذہ میں جملہ اصحاب غزنویہ، ابنائے حضرت عبداللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ و ابنائے حضرت الامام غزنوی رحمۃ اللہ علیہ شامل تھے۔

درس و تدریس میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ جو بھی آپ کا درس سنتا عش عش کر اٹھتا۔

وفات:

27 رمضان المبارک 1331ھ جمعۃ المبارک کے دن امرتسر میں وفات پائی۔

مولانا عبدالاول غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (1313ھ)

مولانا عبدالاول غزنوی رحمۃ اللہ علیہ مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند تھے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ غزنویہ میں، جس میں حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی (م 1338ھ) اور حضرت الامام مولانا عبدالجبار غزنوی (1331ھ) مدرس تھے، حاصل کی۔

امرتسر میں تکمیلِ تعلیم کے بعد دہلی جا کر حضرت شیخ الکل میاں صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث پڑھی اور سند و اجازہ حاصل کیا۔ دہلی میں تکمیلِ تعلیم کے بعد امرتسر واپس آئے اور اپنے آبائی مدرسہ غزنویہ میں درس و تدریس کی ابتداء کی۔ جب آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ جاری کیا، یہ دور دورِ ثانی کہلاتا ہے۔ اور اس دور میں حضرت عبداللہ بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1269ھ) حضرت الامام مولانا عبدالجبار غزنوی (م 1221ھ) حضرت مولانا عبدالرحیم غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1342ھ) مدرس تھے۔ آپ نے بھی ان کے ساتھ درس و تدریس شروع کی۔

تلامذہ میں ابنائے مولانا عبدالرحیم غزنوی، اور ابنائے مولانا عبدالواحد غزنوی اور بہت سے دوسرے حضرات شامل تھے۔

درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اشاعتِ حدیث میں بھی گرانقدر علمی خدمات انجام دیں۔

مشکوٰۃ المصابیح اور ویاض الصالحین کا اردو ترجمہ لکھا اور اس کے ساتھ حواشی لکھے یہ دونوں کتابیں مطبوع ہیں۔ 1313ھ میں امرتسر میں وفات پائی۔ اللہم الغفرلہ وارحمہ

مولانا عبدالغفور غزنوی رحمۃ اللہ علیہ 1353ھ

مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے لڑکے اور مولانا عبدالاول غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ غزنویہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی جا کر حضرت شیخ الکل میاں صاحب مرحوم و مغفور سے حدیث پڑھی اور سند و اجازہ حاصل کیا۔ تکمیلِ تعلیم کے بعد اپنے خاندانی مدرسہ میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری کیا اور آپ سے بے شمار علمائے کرام نے استفادہ کیا۔

حدیث کی نشر و اشاعت میں گرانقدر علمی خدمات سر انجام دیں۔ قرآن مجید کے حواشی لکھے جو حمائل غزنوی کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ حدیث کی کئی کتابیں شائع کیں۔ خاص کر اپنے برادر بزرگ مولانا عبدالاول غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ مشکوٰۃ اور ریاض الصالھین مترجم شائع کی۔ 1353ھ میں امرتسر میں انتقال کیا۔

لکھوی خاندان:

برصغیر پاک و ہند میں لکھوی خاندان نے اسلام کی جو خدمت کی ہے اس سے شاید ہی کوئی پڑھا لکھا آدمی ناواقف ہو۔ لکھوی خاندان کے بانی حضرت مولانا حافظ محمد بن بارک اللہ (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں۔ لکھو کے ضلع فیروز پور (مشرقی پنجاب) میں ایک قصبہ ہے جو پنجاب کا اولین ادارہ علم و عمل ہے۔

مولانا حافظ محمد لکھوی رحمۃ اللہ علیہ (1311ھ)

مولانا حافظ محمد بن بارک اللہ بہت بڑے عالم، نیک اور متقی تھے۔ ان کے ہاں اولادِ نرینہ نہ تھی۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور عہد کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں لڑکا عطا فرمائے تو وہ اس کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لڑکا عطا کیا۔ انہوں نے اس کا نام محی الدین رکھا۔ حضرت حافظ صاحب نے اپنے اس لڑکے کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا۔ جب بڑے ہوئے تو حضرت حافظ صاحب نے انہیں حضرت عبداللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں غزنی بھیجا۔ حضرت عبداللہ صاحب نے ان کا نام عبدالرحمن رکھ دیا۔ مولانا محی الدین (عبدالرحمان) نے حضرت عبداللہ صاحب سے اکتسابِ فیض کیا۔

مولانا حافظ محمد لکھوی رحمۃ اللہ علیہ نے 1310ھ میں لکھو کے میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی۔ اور اس مدرسہ میں آپ نے خود اور آپ کے صاجزادگانِ گرامی مولانا محی الدین عبدالرحمن (م 1312ھ) مولانا عبد القادر (م 1342ھ) مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عطاءاللہ لکھوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اپنے وقت میں توحید و سنت کا غلغلہ بلند کرتے رہے اور یہ تمام افراد آفتاب علم و ماہ تابِ عمل تھے۔ سینکڑوں افراد نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا اور اس مدرسہ فیضیاب ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1382ھ) مولانا حافظ عبداللہ روپڑی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ (م 1384ھ) اور مولانا محمد عطاءاللہ حنیف بھوجیانی مدظلہ العالی انہی حضرات کے فیض یافتہ ہیں۔

مولانا حافظ محمد لکھوی رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغ و تدریس کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیر پنجابی نظم میں بعنوان "تفسیر محمدی" لکھی۔

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"آپ کی تصانیف اور خاندان کی برکت سے کتاب سنت کی اشاعت کو جو فائدہ پہنچا ہے، وہ پوشیدہ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

استاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری رحمۃ اللہ علیہ (م 1337ھ)

جن کی ذات پر علم کو فخر اور عمل کو ناز تھا۔ تدریس جن کے دم سے زندہ تھی اور اساتذہ جن پر اس قدر نازاں کہ حضرت شیخ الکل میاں سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1320ھ) فرمایا کرتے تھے:

"میرے درس میں دو عبداللہ آئے ہیں، ایک عبداللہ غزنوی، دوسرے عبداللہ گازی پوری۔"

سئہ 1260ھ میں موضع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ والدین غریب اور نادار تھے۔ اس لئے کم سنی میں محنت مزدوری بھی کرتے اور حفظِ قرآن بھی۔ 12 برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا۔ حفظِ قرآن سے فارغ ہو کر ابتدائی کتابیں مولوی محمد قائم سوی سے پڑھیں، ابھی عربی فارسی کی تعلیم کی ابتداء ہی ہوئی تھی کہ غدر کا ہنگامہ بپا ہوا، جس کا آپ کا قصبہ مئو بھی آ گیا۔ چنانچہ آپ کے والد جناب عبدالرحیم صاحب ترکِ وطن پر مجبور ہو کر آپ کو غازی پور لے آئے۔ جب کچھ سکون حاصل ہوا، تو آپ کو آپ کے والد نے مدرسہ چشمہ رحمت غازی پور میں داخل کرا دیا۔ جہاں آپ نے مولانا محمد فاروق چڑیا کوئی (م 1327ھ) مولانا رحمت اللہ لکھنوی اور مولانا نعمت اللہ بانی مدرسہ سے درسیات کی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد جون پور تشریف لے گئے۔ اور بقیہ نصاب کی تکمیل مولانا محمد یوسف بن محمد اصغر سے کی۔

فنون سے فراغت کے بعد دہلی کا سفر کیا اور مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر دورہ حدیث کیا اور سندِ فراغت حاصل کی۔ سئہ 1297ھ میں حجاز، مقدس گئے اور وہاں علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذِ رشید شیک معمر عباس بن عبدالرحمن بن محمد بن الحسین ابن القاسم الیمنی سے حدیث کی سند حاصل کی۔

حرمین شریفین سے واپسی کے بعد ہندستان لوٹے اور غازی پور میں سکونت اختیار کی۔ پھر غازی پور میں مدرسہ چشمہ رحمت میں تدریس کا کام سر انجام دینے لگے اور اس درس گاہ کے مدرسِ اعلیٰ کے رتبے پر فائز ہوئے۔

مولانا سید عبدالحی (م 1341ھ) لکھتے ہیں:

"آپ کی برکت سے "چشمہ رحمت" حقیقی معنوں میں فیضان اور رحمت کا سرچشمہ بن گیا جن سے طلبا اپنی تشنگی بجھانے کے لیے دور دور سے چل کر آتے رہے۔ آپ نے بدعات اور محدثات کے خلاف بڑی قوت سے آوازہ بلند کیا اور تمام وہ سنتیں جو مدفون اور مستور ہو چکی تھیں، انہیں از سر نو زندہ کیا۔ اتباعِ سنت کے حرم کی پاداش میں انہیں ایذائیں دی گئیں۔ حتیٰ کہ انہیں اللہ کی خاطر غازی آباد کو خیر باد کہنا پڑا۔"

1304ھ (1886ء) کو مولانا محمد ابراہیم آروی رحمۃ اللہ علیہ (م 1319ھ) اور مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ (م 1336ھ) کے اصرار پر مدرسہ محمویہ آریہ کی قیادت منظور فرمائی۔ یہاں 20 سال تک یہ دولتِ علم لٹاتے رہے۔ مولانا محمد ابراہیم کی رحلت کے بعد آپ کا قیام آرہ میں نہ رہ سکا اور آپ آرہ سے دہلی چلے آئے۔ دہلی میں آپ کا قیام 8 سال تک رہا۔ اس کے بعد لکھنؤ چلے گئے۔ یہاں بھی آپ کا فیضان جاری رہا اور لکھنؤ میں ہی یہ آفتابِ علم 21 صفر 1337ھ بمطابق 26 نوبمر 1918ء کو روپوش ہو گیا۔

مولانا سید عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ (م 1241ھ) لکھتے ہیں:

"وہ سر برآوردہ فقیہ تھے اور اس قدر تبحر علمی کے باوجود اور درس و تدریس میں اس قدر مشغول ہونے کے باوصف نہایت متقی اور پرہیزگار تھے۔

تلامذہ

آپ علومِ دینیہ کے بہتے ہوئے دریا تھے۔ ایک دنیا آپ سے فیضیاب ہوئی۔ آپ کے حلقہ درس سے بڑے بڑے اہل علم و فضل پیدا ہوئے مثلا مولانا شاہ عین الحق پھلواروی (م 1333ھ) مولانا محمد سعید بنارسی (م 1322ھ) مولانا حافظ عبدالمنان بقا (م 1337ھ) مولانا عبدالسلام مبارک پوری صاحب سیرۃ البخاری (م 1342ھ) مولانا حافظ عبدالرحمن مبارک پوری صاحب، تحفۃ الاحوذی (م 1353ھ) مولانا سید محمد داؤد رحمۃ اللہ علیہ (م 1383ھ) رحمہم اللہ۔

تصانیف:

مقدمہ صحیح المسلم کی شرح بزبانِ عربی (غیر مطبوعہ)

استدراک:

شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ (م 1367ھ) نے حضرت حافظ صاحب کو یوں خراج، تحسین پیش کیا:

"آہ عبداللہ، میری آنکھوں نے تیرے جیسا کامل عالم نہیں دیکھا،
سننے میں تو بہت آئے آہ
شنیدہ کے بود مانند دیدہ

مولانا عبدالمجید خادم سوہدروی رحمۃ اللہ علیہ (م 1379ھ) لکھتے ہیں:

"آپ جامع العلوم نہیں، بلکہ بحر العلوم تھے۔ جماعتِ اہل حدیث کے مایہ ناز عالم، بقیۃ السلف اور حجۃ الخلف تھے، حلیم الطبع، منکر المزاج، کم گو، کم خوراک، متین، امین، عابد و زاہد، جفاکش اور فنا فی السنۃتھے۔ بے غرض اور بے نفس ایسے کہ کسی کو ستانا اور بُرا کہنا تو درکنار، انتقام تک نہ لیتے تھے۔ تہجد اور نماز باجماعت کے تو گویا عاشق تھے۔ تبلیغ کا شوق بھی حد سے زیادہ تھا۔"

مولانا حبیب الرحمن قاسمی لکھتے ہیں:

"مولانا عبداللہ جملہ علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ علمی تبحر کے ساتھ زہد و تقویٰ کی صفت سے بھی متصف تھے۔ البتہ ترکِ تقلید میں بڑا غلو رکھتے تھے۔"

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طنیت را
حوالہ جات

1. داؤد غزنوی ص234

2. سیرۃ ثنائی ص368

3. ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات ص174

4. سیرت ثنائی ص368

5. ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات ص174

6. ایضا، ص46

7. ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات ص175

8. ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات ص172

9. تاریخ اہل حدیث ص439

10. تراجم علمائے حدیث ہند ص455

11. نزہۃ الخواطر میں 1261ھ ہے۔

12. تذکرہ علمائے الاعظم گڑھ ص970

13. تراجم علمائے حدیث ہند ص456

14. داؤد غزنوی ص242

15. نزہۃ الخواطر ج8 ص287

16. داؤد غزنوی ص243

17. نزہۃ الخواطر، ج8 ص287

18. تراجم علمائے حدیث ہند ص463

19. اخبارِ اہل حدیث امرتسر نومبر 1918

20. سیرۃ ثنائی ص232

21. تذکرہ علمائے اعظم گڑھ ص198