حسیں دنیا ہے اور دل ناتواں ہے
الہی کتنا مشکل امتحاں ہے
کسے آواز دوں راہِ فنا میں
کوئی ہمدم نہ کوئی رازداں ہے
خطاؤں پر عطاؤں کی نوازش
میرا اللہ کتنا مہرباں ہے
جو غرق فکرِ آخرت ہیں
گناہوں کی انہیں فرصت کہاں ہے
گیا بچپن ہوئی رخصت جوابی
اب اس کے بعد کیا ہو گا، عیاں ہے
ہے بالوں سے ہویدا، صبحِ پیری
مگر تیری ہوس اب بھی جواں ہے
چڑھا اور ڈھل گیا سورج مگر تو
ابھی تک کشتہ خوابِ گراں ہے
خدا کی یاد سے غافل جو گزرا
وہ لمحہ لمحہ تیرا رائیگاں ہے
ہے جس کے پاس زادِ راہِ عقبیٰ
بشر خوش بخت ہے وہ کامراں ہے
بہاروں سے نہ ہو مانوس عاجز
بہاروں میں نہاں دورِ خزاں ہے