ریفرنڈم میں شاندار کامیابی کے بعد، اب پاکستان کے منتخب عوامی صدر جناب جنرل محمد ضیاءالحق کی ذمہ داریاں اطاعتِ شریعت کے سلسلہ میں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ان کے لیے ناممکن نہ ہو گا۔ کیونکہ رنفرنڈم کی حمایتی مہم میں جو نعرہ سرِ فہرست رہا ہے، اور عوام کی اس میں دلچسپی اور جوش و خروش نے عین ریفرنڈم کے دن جو رنگ اختیار کیا ہے، وہ مطالبہ اقامتِ دین اسلام کے سوا اور کچھ نہیں۔۔۔ ریفرنڈم کا مجوزہ سوال اگرچہ اسلام کے علاوہ 12 اگست کے بحالی جمہوریت کے پروگرام پر بھی مستمل تھا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ عوام کے نزدیک اس پروگرام کی حیثیت ثانوی بھی نہیں رہی، اور عوام کے مثبت جواب کا سارا وزن اب اسلام کے پلڑے میں ہے۔۔۔پھر صدر صاحب اس حقیقت سے بھی یقینا نا آشنا نہ ہوں گے کہ اپنی 22 دسمبر کی نشری تقریر میں جن ائمہ و خطباء مساجد کا انہوں نے اس لیے شکریہ ادا کیا ہے کہ ان ائمہ و خطباء نے محراب و منبر سے ان کی حمایت میں آواز بلند کی تھی، تو صدر صاحب کے لیے، عوام سے ان کی یہ حمایت طلبی بھی، اسلام ہی کے نام پر تھی اور ریفرنڈم کے دن یہی ائمہ و خطباء پولنگ بوتھوں پر عوام کی یہ دھمکیاں سن چکے ہیں کہ "ووٹ تو ہم نے تمہارے کہنے پر" "ہاں" کے پلڑے میں ڈال دیے ہیں، اب ہم تم سے اسلام لے کر رہیں گے" ۔۔۔لہذا بے جا نہ ہو گا، اگر اس موقع پر ہم مطالبہ اقامتِ دین اسلام کے ساتھ ساتھ، اس سلسلہ کی سابقہ ساڑھےسات سالہ کوششوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے صدر صاحب کی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذول کرائیں کہ ان کی مذکورہ نشری تقریر کے مطابق آئندہ پانچ سالوں کے لیے بھی ان کوششوں ہی کے عزم کا اظہار اطاعتِ شریعت کے تقاضوں کو کماحقہ پورا نہ کر سکے گا۔۔۔کیونکہ یہ کوششیں اگرچہ بلاشبہ مخلصانہ تھیں، تاہم ان کے عملی نتائج قوم کے سامنے نہیں آ سکے۔۔۔ چنانچہ حدود آرڈی نینس کا اعلان بے شک ہوا، لیکن آج تک کسی ایک شرعی حد پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔۔۔اسی طرح نظامِ صلوۃ کے حق میں یہ آواز تو خوب ہے کہ مسجدیں نمازیوں سے بھر گئی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کی اکثریت آج بھی بے نماز ہے۔۔۔ زکوٰۃ و عشر آرڈیننس پر عمل درآمد ہو رہا ہے، لیکن بایں طور کہ ٹیکسوں کی وصولی بھی بدستور جاری ہے۔۔۔جبکہ قاضی کورٹس کا معاملہ ابھی تک عزائم و اعلانات تک محدود ہے۔۔۔دراصل اس ساری مصیبت کی اصل وجہ ہے کہ اقامتِ دین کی ان کوششوں کا قبلہ ابھی تک درست نہیں ہو سکا اور بغیر کسی بنیاد کے اسلام کی عمارت تعمیر کرنے کی کاوشیں ہوتی رہی ہیں۔۔۔ شریعت کی عملداری کی اصل بنیاد کتاب و سنت ہے، جس کی دستوری حیثیت کو اگرچہ اس حد تک اہمیت تو دی گئی ہے کہ 73ء کے دستور کے دیباچہ کی بجائے، اسے اس دستور کے متن میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ کتاب و سنت کے ذکر کو اس دستور کے متن میں شامل کیا جائے، بلکہ کتاب و سنت کی موجودگی میں کسی دستور سازی کی سرے سے گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔۔۔ مسلمانوں کا دستور 73ء کا دستور نہیں، بلکہ ان کا دستور قرآن مجید ہے اور سنتِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی متعین تعبیر۔۔۔ لہذا مسئلہ کا حل یہ ہے کہ اقامتِ دین کی جملہ کوششوں کا قبلہ درست کرنے کے لیے کتاب و سنت کو آج بھی وہی حیثیت دی جائے جو خلفائے راشدین (رضوان اللہ علیھم اجمعین) کے دور میں اسے حاصل تھی۔ اور جب تک کتاب و سنت کو یہ حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس وقت تک نہ تو اسلام کے نام پر بنائی جانے والی کوئی حکومت اسلامی کہلانے کی حقدار ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

پس صدر صاحب، وقت کی آواز کو پہچانیں اور خلوص و للہیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کتاب و سنت کی بنیادوں پر اطاعتِ شریعت کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کریں۔۔۔انہیں آج سے ہی یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کا حکم دیا ہے، اسے وہ بہرحال دوسروں سے منوا کر رہیں گے، اور جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع رمایا ہے، اس کی بیخ کنی ہی ان کا اولین فریضہ ہے۔۔۔ کہ یہی ارشاد ربانی ہے:

﴿وَما ءاتىٰكُمُ الرَّ‌سولُ فَخُذوهُ وَما نَهىٰكُم عَنهُ فَانتَهوا ۚ... ﴿٧﴾... سورةالحشر

اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔۔۔ آمین