معاشرے احوال وظروف کےبدلنے کےساتھ ساتھ اقوام عالم اپنےتجارتی انداز ڈھنگ بھی بدلتی رہتی ہیں۔ہردور کےاپنے ذرائع پیداور اور کشش سامان ہوتے ہیں زمانہ قبل ازاسلام عربوں کےہاں تجارت جیسی تھی؟ عربوں کابرگزیدہ قبیلہ قریش ان کی تجارت میں کس مقام پر فائز تھا؟اس دور میں منڈیاں کیسی تھیں؟دیگر ممالک کےساتھ ان کےتجارتی روابط کیسے تھے؟ مختلف موسموں میں وہ کونسے تجارتی سفر کرتے تھے؟ منڈیوں میں لیں دین کےانداز اورقدریں کیاتھیں؟کس کاسامان تجارت تھا؟ اس قسم کےبہت سے سوالات ہیں جن کےبارے میں جدید ذہن سوچتا ہے۔

آج عربوں کی تجارت معدنی وسائل کےسبب ہے۔واقعات عالم ان کےتیل کی کمی وبیشی کےسبب تشکیل پارہےہیں۔زیر نظر مقالہ میں راقم نےممکنہ حوالوں سےدور جاہلیت اور اوردور اسلام کےذرائع پیداور میں سے اہم ذرائع پرخامہ فرسائی کی ہے اوراس دور کی تجارت میں خاصہ طور پر قبیلہ قریش کامقام متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔قبیلہ قریش کی تجارت میں مکہ مکرمہ کےمحل وقوع کوخاص اہمیت حاصل ہے۔

مکہ مکرمہ کامحل وقوع:

بحر احمر کےبالمقابل یمن اورفلسطین کےمابین گزرنے والی تجارتی شاہراہ کےوسط میں ساحل سےاسی کلومیٹر کےفاصلہ پر پہاڑوں سے گھرے ہوئے درہ میں مکہ مکرمہ واقع ہے۔تین طرف بحری سواحل واقع ہیں۔مغرب میں بحرین اورعمان خلیج فارس پر شمال میں حضر موت اوریمن بحر عرب پر مشرق میں عرب کاجوحصہ زرخیز ہے۔مثلا یمامہ نجد اور خیبر وغیرہ یہاں کاشتکاری ہوتی ہے۔عرب کےیہ ساحل صوبے دنیا کےبڑے بڑے ممالک کےآمنےےسامنے واقع ہیں۔عمان بحرین عراق اورایران سےمتعلق ہیں۔یمن اورحضرموت کوافریقہ اورہندوستان سےتعلق ہے۔حجار کےسامنےمصر ہے۔اورشام کا ملک اس کے بازو پر ہے۔اس جغرافیائی تحدید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طبعی سہولتوں کےلحاظ سےعرب کے کسی صوبہ کے دنیا کےکسی بھی زرخیز خطہ سےتجارتی تعلقات قائم ہوسکتے ہیں۔(1)

قبیلہ قریش:

قریش عرب کامشہور ترین قبیلہ تھا۔آں حضرتﷺ کاتعلق اسی قبیلہ سےتھا۔اس قبیلہ کی عظمت کاانداز آں حضرت ﷺ کےاس ارشاد گرامی سےبخوبی ہوسکتا ہےکہ:

اللہ تعالیٰ نےاولاد اسماعیل میں کنانہ کواورکنانہ میں قریش کواورقریش میں سے بنی ہاشم کاانتخاب کیا اوربنی ہاشم میں مجھے برگزیدہ فرمایا۔(2)

آں حضرت کاارشاد یوں ہے:

انا افصح العرب بيداتى من قريش ونشات فى بنى سعد(3)

میں عربوں میں سےسب سےفصیح ہوں کیونکہ میں قریش سےہوں اورمیں نے بنی سعد میں پرورش پائی ہے۔

آپﷺ کاایک اور ارشاد ان الفاظ میں ہے:

انااعربكم انا من قريش ولسانى لسان بني سعد بن بكر(4)

میں آپ سب سےزیادہ فصیح ہوں میں قریش میں سےہوں اورمیری زبان بنی سعد بن بکر کی زبان ہے۔

قریش کی وجہ تسمیہ:

قریش کی وجہ تسمیہ کےمتعلق مختلف اقوال ہیں:

1۔آں حضرت ﷺ کےآباؤ اجداد میں ایک شخص کانام قریش تھا ۔اس کی اولاد کی سب شاخیں قریش کہلائیں(5)

2۔فراء نےکہا قریش تقریش سےماخوذ ہےجس کےمعانے کمانے کیے ہیں۔یہ لقب ان کو تجارت کی وجہ سےدیاگیا۔(6)

3۔قریش کے معنی کمانے اورجمع کرنے کےہیں۔ اس قبیلے کی اجتماعیت کے پیش نظر انہیں یہ لقب دیاگیا۔

4۔قریش قرش کی تصغیر ہے۔یہ ایک دریائی درندہ ہے جوباقی تمام دریائی جانوروں کاسردار ہے۔یہ ہر دبلی اور موٹی چیز کاشکار کرتا ہے۔حضرت ابن عباس نےاس تاویل کوپسند فرمایا کیونکہ قریش عربوں کےسردار تھے۔

5۔قریش کامادہ قرش ہے جس کے معنی کمانا کےعلاوہ تفتیش کرنااورجستجو کرنابھی ہیں ۔فہربن ماملک نےاسےاپنے استیلاء اورغلبہ کےاظہار کےلیے اختیار کیا۔وہ ضرورت مندوں کوتلاش کرکے ان کی حاجات پوری کرتا غریبوں کودولت دیتا اورخوف زدہ لوگوں کاخوف دور کرتا ۔اس کےعظیم اورصاف کی وجہ سےاس کے قبیلے کانام اس کے نام پر پڑگیا(9)

قبیلہ قریش چھوٹے چھوٹے دس خاندان میں منقسم تھا۔

بنی ہاشم بنی امیہ بن نوفل بنی عبدالدار بنی اسد بن تمیم بنی مخزوم بنی عدی بن جہم بنی سہم(10)

عربوں کےمختلف قوموں اورملکوں سےتجارتی تعلقات:

عربوں کےتجارتی تعقات بہت سے ممالک کےساتھ تھے۔ہندوستان چین وسط افریقہ اوریورپ کےغیر مشہور ممالک سویڈن اورڈنمارک کےساتھ ان کی تجارت ہوتی تہی ان کےعلاوہ جیش ایران عراق بابل شام مصر اوریونان کےساتھ بھی ان کےتجارتی تعلقات تھے۔ یہ تمام ممالک عرب کےچاروں طرف اس طرح واقع ہیں عرب اس دائرہ کانقطہ بن گیا ہے۔اسی وجہ سےمکہ مکرمہ کوام القری کےنام سے یادکیاگیا ہے۔قرآن مجید میں ہے:

﴿لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا﴾(12)

تاکہ آپ بستیوں کےمرکز (مکہ مکرمہ) اور اس کےاطراف میں رہنےوالوں کومتنبہ کریں۔

تجارتی راستے

قدیم تجارتی راستوں کاتاریخ میں ذکر ملتا ہے ۔سکنداعظم کو325ق خلیج فارس اورسواحل عرب کاعلم ہوا۔اسکندریہ اورخلیج فارس میں اس کواکثر عرب تاجروں سے واقفیت کاموقع ملا۔قلعہ ناعط جوسلاطین یمن کےپہاڑ کی چوٹی پرتعمیر کیاتھا۔اسلام سےپندرہ سو برس قبل تعمیر ہے۔وہب بن منبہ (جنہوں نےصحابہ کازمانہ پایا) نےاس کاایک کتبہ پڑھا وہ یہ ہے:

یہ ایوان اس وقت تعمیر کیاگیا جبکہ ہمارے لیے مصر سےغلہ آتا تھا۔وہب کابیان ہے

''میں نے جب حساب کباتو معلوم ہواکہ اس کوسولہ سربرس سےزیادہ عرصہ گزرچکا ہے۔(13)

مکہ کےمتعلق مولانا ندوی نےقدیم نےقدیم مؤرخین سےنقل کیاہے۔حضرت مسیح سے ڈھائی ہزار برس قبل یہ کاروان تجارت کی ایک منزل گاہ تھا(14) عہد قدیم میں مغربی ممالک کےدیگر سےتجارت کےلیے تین راستے تھے۔ ان میں سے دوعرب میں سے گزرتےتھے۔پہلا راستہ دریائے سندھ سےدریائے فرات تک جاتا تھا۔اس مقام پرجہاں انطاکیہ اورمشرقی بحرروم کی بندرگاہوں کوجانے والی سڑکیں الگ ہوتی تھیں۔یہ راستہ بہت اہم تھا مگر سلطنت بابل روم کےساتھ اس کوترک کردیاگیا۔دوسرا راستہ ہندکےساحل سےلے کر حضرموت اور پھر وہاں سےبحر احمر کےساتھ ساتھ شام تک آتا تھا(15) سبا کے تجارتی قافلے جس راستے سےگزرتے تھے اس کےرہنے والے لوگ بہت خوشحال تھے۔قرآن مجید میں ہے:

﴿وَجَعَلنا بَينَهُم وَبَينَ القُرَ‌ى الَّتى بـٰرَ‌كنا فيها قُرً‌ى ظـٰهِرَ‌ةً وَقَدَّر‌نا فيهَا السَّيرَ‌ سير‌وا فيها لَيالِىَ وَأَيّامًا ءامِنينَ ﴿١٨﴾... سورةسبا

''اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی چند بستیاں اور (آباد) رکھی تھیں جو برسرراه ﻇاہر تھیں، اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں ان میں راتوں اور دنوں کو بہ امن وامان چلتے پھرتے رہو''(16)

یہ جوشاہراہ حجاز ہوکر یمن سے شام جاتی تھی اصحاب الایکہ اور حضرت لوط کاقصبہ بحرمیت کےقریب دونوں اسی راستوں پر آباد تھے قرآن مجید میں ہے:

﴿وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ﴾(17)''دونوں بستیاں شاہراہ پر واقع ہیں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کےقصہ میں ایک قافلہ کاذکر﴿وَجَاءَتْ سَيَّارَةٌ ﴾''ایک قافلہ آیا'' وہ اسی راستہ پرگزرا تھا۔تورات کےالفاظ یہ ہیں:

ناگاہ یوسف کےبھائیوں نےدیکھاکہ اسماعیلیوں کاقافلہ جلعاد کی طرف سےآرہا تھا اورمصر جارہا تھا(19)

تمدن عرب میں ہے عربوں کے یورپ کےساتھ تجارتی تعقات کےکئی راستے تھے۔ایک راستہ پر میز پر سےتھا۔دوسرا بحر متوسط سےتیسرا راستہ وہ ہےجوروس سےہوکر دریائے والگاپر سےشمال یورپ کوجاتا (20) چین سےعرب بری اوربحری دونوں راستے جاتے تھے۔

انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں ہے:یہ بات یقینی ہےکہ عرب بہت قدیم زمانہ سےسرلنکا سےواقف تھےاورظہور اسلام سےقبل ہی انہوں نےیہاں اپنےتجارتی مرکز قائم کرلیے تھے(21)سندھ پرمحمد بن قاسم کے حملہ کی وجہ یہ تھی کہ سیلون کےحکمران نے مسلمان تاجروں کےیتیم بچوں کوبھیجا تھا جنھیں دیبل کےبحری قزاقوں نےلوٹ لیا تھا۔گویا اس جزیرہ(سرلنکا)میں مسلمان تاجر پہلے سےموجود تھے(22) قدیم کتب تاریخ کاجائزہ لینے سےاس حقیقت تجارتی تعلقات تھے۔مشرق ومغرب درمیان تجارتی تعلقات کی تویہ لوگ ایک سیرھی تھے۔بری اور بحری دونوں راستوں سےتجارت کرتے تھے۔

سامان تجارت:

عام طور پر تجارتی چیزوں کاسرمایہ تین چیزوں پر مشتمل تھا۔

1۔کھانے کامصالحہ اورخوشبو دارچیزیں۔

2۔سونا جواہرات اورلوہا۔

3۔چمڑا کھال زین پوش بھیڑاوربکریاں۔

مختلف ممالک کی چیزیں لاکر ان کودیگر ممالک کےساتھ بدل لیتے تھے۔مثلا عدن میں چین اورہندوستان کی پیداور مصر اورحبش کی پیداورا سےبدل جاتی تھی۔یعنی نوبہ کےغلام ہاتھی دانت سونے کر برادے چین کےحریر چینی کےبرتن کشمیر کی شال مصالحہ عطریات اوربیش بہا لکڑیوں کاباہم بدل ہوتا تھا(23)

عرب تاجر ہندوستان سےجواشیاء لےجاتے ان میں سےعطر گرم مصالحے اورگرم کپڑے شامل ہیں۔یہاں سےلی جانے والی چیزیں کےنام قدرتی طور پر ہندوستان کی زبان سےہی انہوں نےلے لیے تھے۔چنانچہ فل فل ہیل زنجیل جائفل ناریل لیموں اورتنبوں وغیرہ ہندی زباں کےمعرب الفاظ ہیں بعض چیزیں جن کے نام عربی میں موجود تھے ان کےساتھ ہندی کااضافہ کرکے نئے نام بنالیے گئے۔مثلا عود ہندی قسط ہندی تمرہندی۔تمرہندی انگریز ی میں تمڑنڈبن گیا۔ہند کےبنے ہوئے کپڑے یمن اورہاں سےحجاز جاتے تھے(24)اسی طرح عربی کےالفاظ شاش (ململ) پشت چھینٹ)فوطہ (چار خانہ تہمند) اس زباں میں داخل ہوگئے(25)لونگ الائچی سیاہ مرچ دار چینی اورہلدی سبھی جنوبی ہند کی پیداوار تھیں جوعرب میں پہنچے تھیں۔چین میں عرب لوگ جواہرات گھوڑے اورسوتی کپڑے اوراس کے بدلے میں اطلس کمخواب چینی کےبرتن اورکئی قسم کی ادویات لاتے تھے(26)

دوہزار قبل مسیح میں جوعرب تاجر باربار مصر جاتے ان کاسامان تجارت یہ تھا۔بلسان صنوبر لوبان اوردیگر خوشبودار چیزیں(27)ایک ہزار قبل مسیح میں حضرت داؤد سبا کاسونا مانگتے تھے(28)950ق م میں حضرت سلیمان کےدربار میں ملکہ سبا بلقیس کاتحفہ خوشبودار چیزیں سونا اوربیش قیمتی جواہرات تھے(29)

کتاب مقدس میں حزقی ایل کےستائیسویں باب میں عرب کی تجارت کےمتعلق بہت سی مفید باتیں ہیں۔یروشلم کوخطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ودان اوربادان ازدال سےتیرے بازار میں آتے تھے۔آبدار فولاد تیزپات اورمصالحہ وغیرہ وہ تیرے بازار میں بیچتے ودان تیرا سواگر تھا وہ بکری اورمینڈھےلے کر تیرے ساتھ تجارت کرتے تھےسبا اروعماۃ کےسوداگر تیرے ساتھ سوداگری کرتے تھے۔وہ ہرقسم کےنفیس اورخوشبو دار مصالحے اورہرطرح کے قیمتی کھال کی تجارت بہت زیادہ تھی۔طائف میں دیاغت بہت عمدہ ہوتی تھی اس وجہ سے اسے بلدالدباغ کہاجانےلگا(31) ہجرت حبشہ کےبعد مسلمانوں تعاقب میں قریش کاجو وفد نجاشی شاہ حبشہ کےپاس نذر کوطور پر تخائف لے کر گیا ان میں کھال بھی تھی(32)شراب غلہ ہتھیار اوردیگر سامان آرائش مثلا آئینہ عرب بھی درآمد کرتے تھے۔غلہ اورشرٰاب شام سےآتے تھے(33)جمعہ کےخطبہ میں جس تجارتی قافلہ کی طرف لوگ دوڑے تھے وہ شامی قافلہ تھا۔ اس کاذکر قرآن میں موجود ہے(34)غرض جوچیز عرب میں ہوتی اس کووہ باہر لے جاتے اورجس کی انہیں ضرورت ہوتی اسے وہ وہاں سےملک میں لے آتے۔

قریش کازمانہ:

قریش منصہ شہود پر کب نمایاں ہوئے ؟اوراس خاندان کی بنیاد کب پڑی؟ مؤرخین اس کاذکر نہیں کرتے البتہ عبدلمطلب کا چھٹی صدی عیسوی میں موجود ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہےسید سلیمان ندوی نےتاریخ ارض القرآن میں عبدالمطلب سےفہر یاقریش تک دس پشتوں کےزمانوں کےسنین کاتعین پیس برس فی پشت کیاہے۔جواگرچہ تاریخ نویسی کےمعیار پر انہیں اترتا ۔تاہم انداز کرنےکےلیے اچھی کوشش ہےندوی صاحب کاتعین اس اندازسےہے۔

نمبر شمار نام سن وجو تقریبا عیسوی

1 فہریاقریش 325

2 غالب 250

3 لوی 375

4 کعب 400

5 مرہ 425

6 کلاب 450

7 قصی 475

8 عبدمناف 500

9 ہاشم 525

10 عبدالمطلب 550ء

ارباب تاریخ کے اس بیانت سےندوی صاحب کی تحقیق کی تائید ہوتی ہے۔قصی منذر بن نعمان شاہ حیرۃ(431ءتا473) کامعاصرتھا(36) قصی بن کلاب نہ صرف تاریخ قریش بلکہ تاریخ عرب میں بہت اہم شخصیت ہے۔اس نے قریش کی منتشر قوت کواکھٹا کیااورچند لڑائیون کےبعد مکہ میں قریش کی ایک حکومت قائم کردی جوتاریخ میں شہری مملکت مکہ کےنام سےمشہور ہے(37)

قریش کی تجارت:

قبیلہ قریش کےآدمی تجارت کوباعث فخر سمجھتے تھے بلکہ ذراعت جیسے معزز زیشہ کوبہتر سمجھتے ہوئے اہل مدینہ کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔کیونکہ وہ کاشتکار تھے یہانتک کہ جنگوں میں ان سےلڑنا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے(38) ظہور اسلام سےسوبرس قبل یمن اورشام کےممالک میں سیاسی انقلابات پے درپے آتے رہے تھے ان حالات کودیکھ کر قصی اورہاشم نےکاروان تجارت کومنظم کیا۔کلبی کےمطابق ہاشم بن عبد مناف شخص ہےجوگندم اوراونٹ لےکر شام گیا(39)

ہاشم نےاپنےاثررسوخ کی بناء پر قیصر اورنجاشی سے قریش کی تجارتی کارواں بے روک ٹوک آنےجانےکی اجازت حاصل کرلی ۔ملک عرب میں عام بدامنی تھی قافلے لوٹ لیے جاتے لیکن قریش کوخانہ کعبہ کامحافظ ہونے سے معزز سمجھا جاتا تھا۔اس وجہ سےان کےقافلے بےخوف وخطر سفر کرتے قرآن مجید میں تجارتی سفروں کوان الفاظ میں بیان کیاگیاہے:

﴿لِإيلـٰفِ قُرَ‌يشٍ ﴿١﴾ إۦلـٰفِهِم رِ‌حلَةَ الشِّتاءِ وَالصَّيفِ ﴿٢﴾ فَليَعبُدوا رَ‌بَّ هـٰذَا البَيتِ ﴿٣﴾ الَّذى أَطعَمَهُم مِن جوعٍ وَءامَنَهُم مِن خَوفٍ ﴿٤﴾... سورةالقريش

''قریش کے مانوس کرنے کے لئے () (یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے۔ (اس کے شکریہ میں) () پس انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں (3) جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا''(40)

ایک تو تجارتی قافلے پر امن سفر کرتے اورپھر گھر بیٹھے بھی ان کوتجارتی نفع حاصل ہوتا ۔

ان تجارتی قافلے ذیقعدہ میں بلوٹ آتے تھے(41) اورقیام کرتے۔ذیقعدہ کےمعنی بیٹھناکے ہیں ۔شائد اسی وجہ سے اس مہینہ کوذی قعدہ یعنی بیٹھنےکامہینہ کہاجانےلگا اورپھر یہی نام پڑگیا۔اس کےبعد ذوالحجہ آتا جس مین ان کاموجود ہوناضروری تھا۔ قریش امن واطمینان کےمعاوضہ میں دیگر قبائل سےیہ بدسلوک کرتے ان کی ضرورت کی چیزیں ان کےپاس لےجاتے تھے۔ اورمختلف موسموں میں مختلف علاقوں کاسفر اختیار کرتے تفسیر کشاف میں ہے

وكانت لقريش رحلتان: يرحلون في الشتاء إلى اليمن، وفي الصيف إلى الشام، فيمتارون ويتجرون، وكانوا في رحلتيهم آمنين(42)

قریش دوسفر کرتےتھے۔سردی میں یمن جاتے تھے اورگرمی میں شام جاتے اوروہ تجارت کرتے اپنے دونوں سفروں میں بے خوف تھے۔

تفسیر قاسمی میں یہ ہے وہ تجارت کےلیے گرمی میں شام اورسردی میں یمن کاسفر کرتھے(43)

تفسیر روح المعان میں الایلف سےمراد عہود بینھم(44) ان کےدرمیان معاہدے ہیں اصحاب الایلف بنی عبد مناچار بھائی تھے۔ہاشم شام کوپسند کرتا تھا۔

مطلب کسریٰ کو عبدالشمس اورنوافل مصر اورحبشہ کی طرف رجحان رکھتے تھے(45) تمام بادشاہ ان کوعزت کی نگاہ سےدیکھتے ۔عرب اپنا سامان تجارت لے کر وہاں جاتے ان کوسفروں کی بے خوفی کےمتعلق اللہ تعالیٰ نے آں حضرت ﷺسےخطاب فرمایا:

لا يَغُرَّ‌نَّكَ تَقَلُّبُ الَّذينَ كَفَر‌وا فِى البِلـٰدِ ﴿١٩٦﴾ مَتـٰعٌ قَليلٌ ثُمَّ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ وَبِئسَ المِهادُ ﴿١٩٧﴾... سورةآل عمران(46)

''تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے،  یہ تو بہت ہی تھوڑا فائده ہے، اس کے بعد ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہے اور وه بری جگہ ہے''

ان کی تجارت کی شہرت ملک میں پھیل گئی۔تاجراانہ ترقی کی انتہا یہ تھی کہ بیوہ عورتیں تک اپناسرمایہ تجارت میں لگاتیں۔ حضرت خدیجہ قبیلہ قریش کی ایک بیوہ خاتون تھیں جن کا تجارتی سامان مختلف لوگ شام کولےجاتے تھے(47) جوان ہوکر آں حضرت ﷺ نے اس باعزت پیشہ کو اپنایا۔حضرت خدیجہ کامال لیکر آں حضرت ﷺشام گئے۔

آں حضرت ﷺ کےعلاوہ قریش کےدیگر معروف آدمی بھی تاجر تھے۔حضرت ابوبکر صدیق تاجر تھےخود۔بصرٰی تک تجارتی سامان لے کرجاتے تھے۔مقام سخ پر ان کاکارخانہ تھا(50)خلیفہ بننے کےبعد شغل تجارت کوجاری رکھا۔صحابہ کرام نےمملکت کی دیگر ذمہ داریوں کی بناء پر اس کوچھوڑنے پر مجبور کیا اوربیت المال سےبقدر کفایت وظیفہ مقرر کردیا۔حضرت عمر فاروق نےخود اسی باعزت پیشہ کو اپنائے رکھا(51)

حضرت عثمان بہت بڑے تاجر تھے۔ان کی تجارت اورسخاوت کےواقعات بہت مشہور ہیں ۔جیش العسرت یعنی تبوک یعنی میں انہوں نےتین سواونٹ بمع سازوسامان خدمت نبویﷺ میں پیش کیئے توآں حضرت ﷺنےفرمایا:

ماضرعثمان ماعمل بعداليوم (مرتين)(52)

آج كے بعد عثمان کوئی عمل نہ بھی کرے توکوئی حرج نہیں۔

یہ دونوں دفعہ ارشاد فرمایا

صحابہ میں قریش اکثر تجارت کرتے تھے۔حضرت عمر فاروق کےزریں دور میں جب ایران وشام اورمصر مسلمانوں کاوظیفہ مقرر کرناچاہا اس پر حضرت ابو سفیان کےالفاظ قابل غور ہیں:

اديوان مثل ديوان بني الاصغر فاكلو على الديوان وتركوا التجارة-

رومیوں کی طرح رجسٹروں میں نام درج کرناچاہتے ہو انہوں نےوظیفہ لے کر تجارت کوچھوڑ دیاتھا۔

گویاتجارت کاپیشہ انہیں اتناپسند تھاکہ گھر بیٹھے تنخواہ لینا بھی مناسب سمجھے نہ سمجھتے تھے۔آں حضرت ﷺ نےدیانت دارتاجر کودنیا کےساتھ آخرت کی کامیابی کی بشارت دی ہے:

التاجر الصدوق الامين مع النبين والصديقين والشهداء(53)

راست باز اورديانت دار تاجر قيامت كےدن نبیوں صدیقوں اورشہیدوں کے ساتھ ہوگا۔
حوالہ جات

1۔ہیکل محمد حسین سیرت الرسول ترجمہ محمد وارث کامل مکتبہ کارواں کچہری روڈ لاہورسن 1975

2۔مسلم مسلم بن حجاج قشیری الجامع الصحیح المسلم جلد ثانی سن253کتاب الفضائل باب فضل نسب النبیﷺ

3عیاض ابوالفضل عیاض بن موسٰی الیحصبی الاندلسی ۔الشفاء جلد اول ص47مصر سن 1950 ۔

4۔ابن سعد طبقات الکبری جلد اول ص113مطبوعہ بیروت 1960

5۔ابن حزم ابو محمد علی بن سعید بن حزم جمہرۃ انساب العرب ص11مصر 1922

6۔آلوسی ابوالفضل شہاب الدین آلوسی تفسیر روح المعانی جلد 30ص239سورۃ القریش

7۔جوہری اسماعیل بن حمادجوہری الصحاح تاج اللغۃ وصحاح االعربیۃ جزء ثالث ص1048

آلوسی مذکورہ تفسیرروح المعانی جلد30ص239

10۔تاریخ اسلام جلد اول ص22معین الدین ندوی ۔محمد سعید اینڈ سنز کراچی طبع 1974

11۔بلگرامی سید علی بلگرامی تمدن عرب ص589 مقبول اکیڈمی لاہور 1960

12۔قرآن مجید االانعام آیت92

13۔یاقوت حموی۔شہاب الدین ابوعبداللہ معجم البلدان جلد 5ص253ذکر ناعط ۔بیروت

14۔ندوی سید سلیمان ندوی تاریخ ارض القرآن جلداول ص98

15۔ انسائیکلوپیڈیا برٹا نیکا جلد 2ص26 گیارھویں ایڈیشن۔

16۔قرآن مجید السباء آیت18

17۔قرآن مجید الحجر آیت 79

18۔یوسف آیت19

19۔کتاب مقدس المعہد العتیق سفرتکوین ص 24عربی بیروت 1937۔

20۔بلگرامی ۔علی بلگرامی تمدن عرب ص590۔

21۔انسائیکلو پیڈیا آف اسلام ص538۔

22۔بلاذری۔احمد بن یحییٰ بن جابر بلاذری فتوح البلدان جلد2ص218

23۔تمدم عرب590

24۔ادبیات پاک وہند کاحصہ ص 31تا35۔ڈاکٹر زبید احمد ترجمہ شاہد حسین رزاتی

25۔زبیدی تاج العروس من جواہر القاموس جلد 5ص200محمد مرتضیٰ زبیدی۔

26۔تمدن عرب ص591

27۔کتاب مقدس المعہد العتیق جلد اول ص24تکوین فصل 37 آیت 26بیروت عربی

28۔کتاب مقدس زبور 72ص598۔پاکستان بائیبل سوسائٹی لاہور۔

29۔کتاب مقدس االعہد العتیق۔

30۔ کتاب مقدس یعنی پرانا اور نیا عہد نامہ حزتی ایل باب 27آیت 19تا24

31۔ہمدانی صفۃ جزیرہ االعرب بحوالہ تاریخ ارض القرآن ص338اول سن 1975ندوی۔

32۔ابن ہشام ۔ابومحمد عبدالمالک بن ہشام السیرۃ النبویہ جلد اول ص204ملتان 1977

33۔ابن حجر حافظ احمد بن حجر عسقلانی ۔فتح الباری جلد 8ص209

34۔قرآن مجیدسورۃ الجمعہ آیت 11۔

35۔ندوی سید سلیمان ندوی تاریخ ارض القرآن جلددوم ص325کراچی 1975ء

36۔یاقوت حموی شہاب الدین ابوعبداللہ معجم البلدان جلد 5ص186 لفظ مکہ

37۔ابو حیان اشیر الدین ابو عبداللہ محمدبن یوسف تفسیر بحر المحیط جلد8ص513

37۔البخاری الجامع الصحیح جلد 2ص573کتاب المغازی ذکر قبل ابی جہل ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری۔

39۔ علاؤ الدین علی بن محمدبن ابراہیم بغدادی تفسیر خازن المسمی الباب التاویل فی معانی التنزیل جلد 7ص298 طبع مصر75

40۔قرآن مجید سورہ قریش

41۔اسباب النزول ص44جلال الدین سیوطی ۔مصر

42 زمخشری ابوالقاسم محمود جار اللہ بن عمر زمخشری خوارزمی تفسیر عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل جلد3ص60

43۔قاسمی محمد جمال الدین تفسیر قاسمی المسمیٰ محاسن التاویل جلد 17ص2670

44۔آلوسی ۔روح المعانی جلد30ص238

45۔ابن حبیب کتاب المجرص 142محمدبن حبیب

46۔قرآن مجید آل عمران آیت 194'197۔

47۔ابن ہشام ابو محمد عبدالمالک بن ہشام ۔السیرۃ االنبویہ جلد اول ص122 مع روض الانف السہیلی۔

48۔...ص127........

49۔.........ص122...................

50۔ابن سعد طبقات جلد 3صفحہ 178بیروت

51۔البخاری ۔جامع الصحیح جلد اول ص277 کتاب البیوع الخروج الی التجارۃ

52۔ مسند احمد بحوالہ مشکوۃ المصابیح ص 560باب مناقب عثمان ۔

53۔ترمذی ابو عیسی محمدبن عیسی جامع الترمذی جلد اول ص 179 ابواب البیوع باب ماجاء فی التجارۃ