آپ نے اکثر شام کے وقت غروب آفتاب کامنظر دیکھاہوگا..... اتنابڑا سورج جوآپ کی زمیں سے بھی کئی گنابڑا ہے اپنے دن بھر کے سفر کےبعد مغرب کے رخ دور بہت دور درختوں مکانون پہاڑیوں یا بادل کے چند ٹکڑوں کی اوٹ میں اتنی سعادتمندی سے چھپ جاتا ہے جھک جاتاہے اس تیزی سے زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے یوں جیسے کہ کسی بہت ہی مقتدر اور اعلیٰ تیزی زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے یوں جیسے کہ کسی بہت ہی مقتدر اور اعلیٰ ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کےلیے بیتاب ہو... اور پھر چند گھنٹوں کے بعد افق مشرق سے یوں نمودار ہوتا ہے جیسے کہ اس افق سے دوربار ہ طلوع ہونے کی اجازت مل جانے پر خوشی سے مسکراتا پھولانہ سماتا ہو.. یہ عمل مدتوں سے جاری ہےتو پھر کیا ایسا نہیں ہوسکتا ایک دن ایسا بھی آئے جب اسے دوبارہ طلوع کی اجازت ملنے کی بجائے واپسی کاحکم مل جائے؟ تب وہ ناچار مغربی افق سے نمودار ہو.... اور پھر وہ وقوعہ رونما ہو جائے جسے واقع ہوکر رہنا ہے...﴿إِذا وَقَعَتِ الواقِعَةُ ﴿١﴾... سورةالواقعة"...يہ زمیں جس کو مدتوں سے قرار حاصل ہے زلزلوں زد میں آجائے ..... پہاڑ جو میخوں کی طرح اس میں گڑے ہوئے ہیں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں اورگردوغبار کو منتشر ہوجائیں... بھک سے اڑ جائیں.....سورج تاریک ہوجائے ...تارے جھڑجائیں.......﴿ إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ﴾ ......کاآواز بلند ہو.........

﴿قُل إِنَّ الأَوَّلينَ وَالـٔاخِر‌ينَ ﴿٤٩﴾ لَمَجموعونَ إِلىٰ ميقـٰتِ يَومٍ مَعلومٍ ﴿٥٠﴾... سورةالواقعة

کی گھڑی سرپر آن پہنچے......﴿ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ﴾.... کامنظر سامنے آجائے......

﴿وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ﴾....... کےلیے میزان نصب ہوجائے..........﴿فَمَن يَعمَل مِثقالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيرً‌ا يَرَ‌هُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعمَل مِثقالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ ﴿٨﴾... سورةالزلزال"کے حسب وعدہ ایک ایک رائی برابر اعمال بھی سامنے آجائیں.... پھر اعمال نامہ ہاتوں میں پکڑادیا جائے او رصورت حال یہ ہوکہ جس کانامہ اعمال اس کےداہنے ہاتھ میں دے گیا تو وہ مسرت کے سمندر میں غوطہ زن پکار پکار کرکہے لوگوں آؤ میر رزلٹ کارڈ دیکھو کہ مجھے امتیاز ی حیثیت حاصل ہوگئی...... ﴿أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ﴾........مجھے اللہ نےاپنی مقربین میں شامل کر لیا...... یا مجھے فرسٹ ڈویژن ملی یا کم ازکم کامیابی کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا گیا....﴿وَأَمّا إِن كانَ مِن أَصحـٰبِ اليَمينِ ﴿٩٠﴾ فَسَلـٰمٌ لَكَ مِن أَصحـٰبِ اليَمينِ ﴿٩١﴾... سورةالواقعة"... ہر طرف سے سلامتی کی آوازیں ...جھکے ہوئے میوے...... رسیلے پھل دودھ اور شہد کی نہریں... اونچے محل... مخملیں فرش.... آرام دہ بستر ... خدام باادب .... خوشی سے باچھیں کھلی ہوئی او رزبان بر سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ اللہ رب العزت کی تسبیح وتقدیس کےترانے ..... لیکن اگر رزلٹ کا رڈ بائیں ہاتھ میں پکڑا دیا گیا تو .... ﴿يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ﴾...... کی نامراد تمنائیں.... حسرتیں ہی حسرتیں ...چہرے پر مردنی چھائی ہوئی ... منہ کےبل گرا ہوا گھسٹتا ہواجہنم کی نذر کردیا جائے... تب آگ کےدہکتے ہوئے الاؤ .... غضبناک شعلے ... شعلے بار لپٹیں ... اونٹوں کی جسامت کی چنگاریاں .. پینے کو گرم پانی... کھانے کوزقوم اورزخمیوں کی پیپ ... دھوئیں کاسایہ ہر طرف چیخ پکار ......﴿ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي﴾ ... ...کے پچھتاوے.... ﴿يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا﴾..... کی جگر سوز آہیں ...

﴿يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا﴾..... کی ناکام حسرتیں...آتشیں ستونوں سے بندھا ہوا ستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں جکڑا ہوا... بے یارو مدد گار اس قدر کہ موت بھی منہ چھپالے.... چمڑوں پر چمڑےسے بدلے جارہے ..... ہیں ایک جلا پگھلا جل کر راکھ ... دوسرا پھر آموجود..... آس پر بھی..... ﴿هَلْ مِنْ مَزِيدٍ﴾.....کی جہنمی شوخیاں.....کلیجے پھٹ بھی آجائیں گے تو کیا فرق پڑے گا........ وہ وحدہ لاشریک کی صرف وہی اس مصیبت میں کام آسکتا ہے.... لیکن اسی طرف سے ......﴿ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾... کےآٹل فیصلے ۔بارگاہ صمدیت کی بے نیازیاں کی دروازے بھی بند تاکہ اب تمہاری فریاد بھی کوئی نہ سنے.....﴿ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ﴾....... کی دھمکیاں اس پر مستزاد!..... کہ ظالم تونے دنیا کی کھیتی برباد کر ڈالی .. میر عبادت کی بجائے محض مال وزو عیش وعشرت عزوجاہ اور صرف تسخیر کائنات او رارتقائے خودی کوحاصل زندگانی سمجھ لیا تھا.... میرے قرآن سے اتنی وضاحتوں اتنی تفصیلات کےباوجود تم نےاگر فکر آخرت کامفہوم کچھ سے کچھ بنا لیا تھا... تم نےمحض عقلی گھوڑے دوڑائے.... میرےرسول ﷺ کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا بلکہ اس سے اعراض کرتے ہوئے... ﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّ‌سولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ‌ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ وَساءَت مَصيرً‌ا ﴿١١٥﴾... سورة النساء"..... کامصداق تھرا لہذا﴿ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ﴾ کےتحت تیری اس زباں کوگرم لوہوں سے داغا جاتا رہے گا جس سے تو زندگی بھر خلق خدا کوگمرا کرتا رہا.. ..... اب تیرے لیے نہ کوئی حمایتی ہے نہ مدد گار .... دیکھ لے خوب سمجھ لے ... کیا اب تجھے یقین نہیں آیا؟....... ﴿هَذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾...... کہ جہنم تو ایک اٹل حقیقت ہے... اور یہی وہ جہنم ہے جس کاتو وعدہ دیاگیاتھا لیکن جس کی حقیقت کوتونے کچھ او رہی معنی پہنالیے تھے!
........................................................

پس اے بندگان خدا گواہ رہو کہ ایک پکارنےوالے نےتمہار ی زندگی کامقصود ومطلوب تمہیں سمجھادیا.... اس کے روشن او رتاریک پہلو تمہیں سمجھادیے.....ایک طرف نیک اعمال کےبدلے میں جنت کی بہاریں ہیں او ردسروی طرف برے اعمال کی پاداش میں گرچتا ہواجہنم ..... یہ فیصلہ کرنااب تمہارا کام ہے کہ تم بے عملیوں او ربدعملیوں میں مبتلارہ کر دنیاوی عیش وعشرت میں مستغرق مبئس المصیر او ربئس المہاد کاانتخاب کرتے ہو... یا اس چند روز ہ زندگی کی غنیمت جان کر اللہ تعالیٰ او راس کےرسول ﷺ کی اطاعت کو اپناشعار بناکر اعمال صالحہ سے مزین روشن چہروں اور مطمئن دلوں کےساتھ اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ... جہاں کی اس کی رضا اوررحم وکرم سے سوتے پھوٹ رہے ہیں اس کی جنت تمہارا انتظار رکررہی ہے.... اور جہاں یہ مسحور کن صدا کانوں کوفرحت بخش رہی ہے....

﴿يـٰأَيَّتُهَا النَّفسُ المُطمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ ار‌جِعى إِلىٰ رَ‌بِّكِ ر‌اضِيَةً مَر‌ضِيَّةً ﴿٢٨﴾ فَادخُلى فى عِبـٰدى ﴿٢٩﴾ وَادخُلى جَنَّتى ﴿٣٠﴾... سورةالفجر

واخر دعونا ان الحمدالله رب العالمين!