نام کتاب: 'برصغیر کا اسلامی اَدب ؛ چند نامور شخصیات'
تصنیف: پروفیسر ڈاکٹر محمد مجیب الرحمٰن بنگالی
ناشر: نقوش، اُردو بازار، لاہور،صفحات:189، قیمت: 400 روپے
تبصرہ نگار: حافظ طاہر الاسلام عسکری
ڈاکٹر مجیب الرحمٰن کا شمار ان اہل علم میں ہوتا ہے جو علومِ قدیم وجدید کی جامعیت سے بہرہ مند ہیں۔ایک طرف وہ 'جامعہ محمدیہ'(اوکاڑہ) اور 'جامعہ سلفیہ' (فیصل آباد) جیسی معروف دینی درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں تو دوسری طرف یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں۔اسی طرح تدریس کے میدان میں ڈاکٹر صاحب موصوف کو نہ صرف 'جامعہ اہل حدیث' (چوک دالگراں) لاہور میں عربی ادب پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی بلکہ بنگلہ دیش کے 'چپائی نواب گنج کالج' اور 'راج شاہی یونیورسٹی' میں بھی مسندِ درس پر متمکن ہونے کا موقع ملا۔
ڈاکٹر صاحب موصوف معلّم اور محقق ہونے کے علاوہ ایک صاحب ِجذبہ شخصیت ہیں۔ ان کا آبائی وطن بنگال اور مادری زبان بنگلہ ہے،اس لیے اُنھوں نے زیادہ تر بنگلہ زبان ہی میں لکھا ہے اور اب تک محدثین کی حیات وخدمات،تاریخ ادبِ عربی، اعجاز القرآن اور دیگر اسلامی مضامین پر ان کی متعدد کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بنگلہ زبان میں قرآنِ کریم کا ترجمہ بھی کیا ہے جو معروف طباعتی ادارے 'دار السلام' (الریاض) کے زیر اہتمام طبع ہو ا ہے۔ علاوہ ازیں اُنہیں 'تفسیر ابن کثیر' کو بنگلہ زبان میں ڈھالنے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔یہ حسن اتفاق ہے کہ ان سے قبل قرآن شریف کی اس شہرۂ آفاق تفسیر کو عربی زبان سے اُردو میں منتقل کرنے والے برصغیر کے نامور خطیب اور عالم دین مولانا محمد صاحب جونا گڑھیؒ تھے جو ڈاکٹر صاحب موصوف کے خسر تھے۔علامہ قاضی سلیمان منصور پوری کی سیرت پاک پر بے مثال کتاب 'رحمۃ للعالمینﷺ' بھی ہمارے ممدوح ڈاکٹر صاحب کے قلم حق رقم سے بنگلہ زبان کے قالب میں ڈھل چکی ہے، جو بے شبہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔
بنگلہ کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے اُردو زبان میں بھی تحریرو و اِنشا کے جوہر دکھائے ہیں جس کا ایک نمونہ زیر تبصرہ کتاب ہے جو 'برصغیر کا اسلامی ادب:چند نامور شخصیات'کے عنوان سے چھپ کر منصّۂ شہو د پر آئی ہے۔ زیر نظر کتاب میں برصغیر کے جن علمی وادبی ہستیوں کا مختصر اور جامع تذکر ہ کیا گیا ہے، ان کے اسماے گرامی یہ ہیں:
امام صاغانی لاہوری، علامہ نواب صدیق حسن خان، مولانا محمد جونا گڑھی دہلوی، مولانا محمد اکرم خان، احسن احمد اشک، مولانا محی الدین احمد قصوری، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور محمد اسحٰق بھٹی؛ مؤخر الذکر کے سوا تمام حضرات دار ِفنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر چکے ہیں۔
اس کتاب کا'پیش لفظ' مصنف کے فرزندِ ارجمند پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف صدیق کے قلم سے ہے ۔ڈاکٹر محمد یوسف صدیق بھی اپنے والدِ گرامی کی طرح مصنّف ومحقق ہیں اور ادارۂ علوم اسلامیہ، جامعہ پنجاب میں HECکی طرف سے بطورِ پروفیسر تدریسی وتحقیقی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ بھی ہےجو دہلی کی معروف درس گاہ 'دار الحدیث' کے تاریخی پس منظر اور تعارف پر مشتمل ہے۔اس درس گاہ کی تاسیس مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادیؒ کی تجویز پر ہوئی۔1921ء میں اس مدرسہ کی تعمیر مکمل ہوئی جس پر اس زمانے میں ایک لاکھ روپیہ کی خطیر رقم صرف ہوئی تھی۔یہاں سے بڑے نامور علما فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کا تعلیمی نظام ونصاب محدث روپڑیؒ اور ان کے برادرِ اصغر شیخ التفسیر حافظ محمد حسین روپڑی ؒ کے ہاتھ رہا اور امتحانات کی ذمہ داری اوّل تا آخر برصغیر کے علمی خانوادے روپڑی حضرات کے پاس رہی۔بالآخر تقسیم ہند کے ساتھ ہی اس اعلیٰ درسگاہ کی بندش کا حادثۂ فاجعہ پیش آ گیا۔