1. ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہایت ایمان افروز اِداریہ لکھنے پر مبارک قبول فرمائیں، اللہ مزید ہمت عطا فرمائے۔
[سلیم منصور خالد، رکن مجلس اِدارت ماہنامہ 'ترجمان القرآن']
2. جناب ِمحترم مدیر صاحب
السلام علیکم! جنوری 2011ء کے محدث میں جناب محمد عطا ء اللہ صدیقی کا مقالہ ' قانونِ توہینِ رسالت اورعاصمہ جہانگیرکا کردار'نظرسے گزرا۔اس موضوع پر یہ ایک بہترین علمی مقالہ ہے اور مقالہ نویس نے موضوع کا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں اور آپ کو جزائے خیر دے۔ میں اپنی رائے کا اظہار اس لیے تاخیر سے کر رہا ہوں کہ جنوری کا شمارہ قدرے تاخیر سے میرے ہاتھ آیا۔حامد میر کا کالم بھی اچھا تھا۔
خدا کرے آپ بخیر ہوں۔ والسلام
[رفیع الدین ہاشمی، صدر ادارۂ معارفِ اسلامی، منصورہ]

3. محترم و مکرم جناب ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب
سلام و رحمت ۔ مزاجِ گرامی؟ آپ کا گراں قدر علمی تحفہ ماہنامہ 'محدث' شمارہ فروری 2011ء باصرہ افروز ہوا۔ شکریہ!
1. سلمان تاثیر کے قتل سے پیدا ہونے والے سوالات
2. توہین رسالت کی سزا،قرآن و حدیث کی نظر میں
3. توہین رسالت کی سزا، بعض اہم سوالات
4. گستاخِ رسول کی سزا اور فقہائے احناف
5. اللہ کے ہاں مقدمہ لکھا جاچکا ہے!
6. گورنر کا جنازہ ،عبرت آموز حقائق
یہ تمام مضامین لائق قدر او رقابل صدتحسین ہیں۔ صاحبانِ قلم نے انتہائی خلوص ومحبت سے اپنے قلبی تاثرات کو قارئین تک پہنچانے کی مساعی فرمائیں۔ ایسے مقالات کی اشاعت وقت کی اہم ضرورت ہے جو آپ بہ احسن وجوہ پوری فرما رہے ہیں۔ اللہ کرے آپ کا یہ مشن ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔ جامعہ نعیمیہ میں آپ کے کلمات سننے کا موقع میسر آیا،ملاقات بھی ہوئی۔ ایسی مجالس سے موافقت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ عزیز القدر مولانا تصدق حسین میرے راشد تلامذہ سے ہیں۔ یہ جامعہ نظامیہ رضویہ کے ممتاز فضلا میں شمار ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر اس شمارہ کے مضامین عمدہ ہیں ایک آدھا مضمون ہی محل نظر ہے۔
باقی حالات لائق صد شکر ہیں۔ رفقاے ادارہ سے سلام مسنون۔ والسلام!
[مولانا محمد منشا تابش قصوری،مدرّس جامعہ نظامیہ رضویہ، لوہاری دروازہ ]

4. عزیز محترم ڈاکٹر حافظ حسن مدنی السلام علیکم
'محدث 'کا تازہ شمارہ بابت فروری 2011ء پڑھنے کا موقع ملا، شمارے کے تمام مضامین دیکھے اور امر واقعہ ہے کہ ان مضامین کے مطالعے سے ایمان تازہ ہوا۔ بالخصوص آپ کی ادارتی تحریر اور نوید شاہین ایڈوکیٹ کا مضمون پڑھ کر دِلی مسرت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے رفقا کو یونہی دین کی خدمت کی توفیق مرحمت فرماتا رہے۔والسلام
[مولانا عبد المالک مجاہد، دار السلام پبلشرز، الریاض]

5. ناموسِ رسالت پر زوردار اور ایمان افروز اِداریہ لکھنے پر دلی مبارکباد قبول فرمائیں۔ 'محدث' نے اس بار بھی حسب ِسابق دینی صحافت کی بہترین نمائندگی کی۔
[محمدخلیل الرحمٰن قادری، نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ، ٹھوکر نیاز بیگ، لاہور]

6. محترم جناب ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ

محدث،شمارہ دسمبر 2010ء میں آپ کا اداریہ پیش نظر ہے، اس کے حوالے سے عرض ہے کہ ''اگر 1986ء تا 2009ء کل 986 کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے 479 کا تعلق مسلمانوں سے اور صرف 119 کا تعلق عیسائیوں سے ہے تو باقی 388 کا تعلق کس سے ہے؟وضاحت فرما کر شکر گزار فرمائیں۔
جنوری 2011ء کے محدث کے مطابق 1986ء تا 2009ء کل 986 کیس سامنے آئے،لیکن فروری 2011ء کے محدث کے ص 9 پر آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ''پاکستان کی تاریخ میں اس قانون کی تاریخ نفاذ 1992ء سے اب تک توہین رسالت کے 986 کیس درج ہوئے ہیں۔ '' یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ کل 986 کیس 1986ء تا 2009ء درج ہوئے ہیں یا 1992ء سے اب تک (یعنی جنوری 2011ء تک)؟
روزنامہ 'ایکسپریس' لاہور مؤرخہ 15جنوری میں کالم نگار عباس اطہر صاحب کے کالم بعنوان 'دنیا ایسی نہیں ہوتی!' میں لکھا ہے:
''1927ء سے لے کر 1986ء تک 295 کا صرف ایک مقدمہ درج ہوا تھا۔1986ء سے اب تک 1200 سے زائد مقدمات کا اندراج ہو چکا ہے جن میں سے 1050 سے زائد پنجاب کے حصے میں آئے۔اب تک 38 افراد قتل ہو چکے ہیں جن میں 15 مسلمان، 16 کرسچن، 5 احمدی اور 2 ہندو ہیں۔عدالتیں 80 سے زائد ملزموں کو بری کر چکی ہیں۔''
ظاہر ہے کہ آپ کے دئیے ہوئے اور عباس اطہر صاحب کے دئیے ہوئے اعداد وشمار میں بہت فرق ہے۔براہِ مہربانی اس فرق کی وضاحت فرما کر شکر گزار فرمائیں۔
آپ کا خیر اندیش [محمد اکرم راٹھور،مینیجر بزم طلوعِ اسلام،لاہور]
جوابی وضاحت :مراسلہ نگار نے پہلا سوال یہ کیا ہے کہ 986 میں سے 479 کا تعلق مسلمانوں سے اور 119 کا تعلق عیسائیوں سے تھا تو باقی 388 کیسز کا تعلق کن سے تھا؟
1) آپ کی خدمت میں اعداد وشمار کی مزید وضاحت کے لئے 'نیشنل کمیشن براے انصاف وامن' کی باقاعدہ رپورٹ کا متعلقہ متن پیش خدمت ہے:
''1986ء سے ۲۰۰۹ء تک اس قانون کے حوالے سے پاکستان میں کُل ۹۶۴ مقدمات زیرسماعت آئے جن میں ۴۷۹ کا تعلق مسلمانوں ، ۳۴۰ کا احمدیوں سے، ۱۱۹ کا عیسائیوں سے، ۱۴ کا ہندوؤں سے اور ۱۲ کا دیگر مسالک کے پیروکاروں سے تھا۔ ان تمام مقدمات میں سے کسی ایک میں بھی اس قانون کے تحت عملاً کسی کو سزاے موت نہیں دی گئی۔''
2) عباس اطہر کے حوالے سے آپ کا سوال ہے کہ 1927ء سے 1986ء تک 295 کا صرف ایک ہی مقدمہ درج ہوا تھا۔ اب اتنے زیادہ مقدمات کیوں کر ہیں؟
ظاہر ہے کہ جب 295بی اورسی کا قانون ہی موجود نہ تھااور عوام الناس اس قانون کا مطالبہ کررہے تھے، دوسری طرف اس دوران کئی ایک واقعات گواہ ہیں کہ اس عرصہ میں کئی بار اہانت ِرسول کا ارتکاب کیا جاتا رہا تھا، تو معلوم ہوتا ہے کہ عوام توہین رسالت کا مقدمہ قانون نہ ہونے کے سبب یا تو درج نہ کراسکتے تھے یا قانون پر عدم اعتماد اور اس کے ناکافی کے سبب درج کرانے کو فضول امر سمجھتے تھے۔
3) جہاں تک عباس اطہر اور راقم کے دیے ہوئے اعداد وشمار میں فرق کا تعلق ہے کہ میں نے 986 کیسز [درست تعداد964] ذکر کئے ہیں او رعباس اطہر نے 1200 سے زائد کیسز کا تذکرہ کیا ہے ، دونوں میں فرق کیوں ہے؟
تو راقم کی معلوما ت کا انحصار پاکستان میں عیسائی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم 'نیشنل کمیشن برائے امن وانصاف' کی باضابطہ رپورٹ ہے۔ یادر ہے کہ یہ تنظیم پاکستان کیتھولک چرچ کے پشپ حضرات کے زیر نگرانی 1985ء میں قائم کی گئی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کو قانونی معاونت مہیا کرنا اس تنظیم کا بنیادی ہدف ہے۔تنظیم کے بارے مزید تفصیلات انٹرنیٹ پر آپ خود ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔
مسئلہ توہین رسالت کے بارے میں کیسوں کی یہی تعداد حقیقت کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ بی بی سی نے بھی اس تعداد کو 950 کے قریب رپورٹ کیا ہے۔ میرے خیال میں اعداد وشمار میں یہ فرق کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا، تاہم یہ امر ضرور قابل توجہ ہے کہ کیا پاکستانی عدالتوں نے اس بنا پر کسی ایک مرتکبِ جرم کو قانون کے عین مطابق سزائے موت سنا کر نافذ کی ہے یا نہیں؟ عباس اطہر نے جن 38/افراد کے مقتول ہونے کا ذکر کیا ہے تو واضح رہے کہ یہ عوام کے ماورائے عدالت قتل ہیں۔ یہ امر بہر طور ثابت شدہ ہے کہ دسمبر 2010ء تک 24 سال کے عرصے میں نفاذِ قانون کے بعد کسی کوبھی اس جرم کی بنا پر پاکستان میں سزائے موت نہیں دی گئی۔ اس سے زیادہ اس قانون سازی کے غیرمؤثر ہونے کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے؟
معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار جنوری2011ء کے پہلے ہفتہ میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے توہین رسالت کے ایک مرتکب کی سزائے موت کو کنفرم کیا ہے، لیکن تاحال اپیل اور نفاذ سزا کے مراحل باقی ہیں۔اگر کسی قانون کو نافذ ہی نہ کیا جائے تو اس کے اثرات معاشرے پرخاک پڑیں گے، بلکہ اُلٹا مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوگی، یہی وجہ کہ پاکستان میں ا س نوعیت کے جرائم روز افزوں ہیں۔